Explained with ayahs 12–16
ہر چیز کا مالک اللہ ہے
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الْاَنْعَام 9
یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ پہلے حکم ہوا کہ ان سے پوچھو، زمین و آسمان کی موجودات کس کی ہیں۔ سائل نے سوال کیا اور جواب کے انتظار میں ٹھیر گیا۔ مخاطب اگرچہ خود قائل ہیں کہ سب کچھ اللہ کا ہے، لیکن نہ تو وہ غلط جواب دینے کی جرأت رکھتے ہیں، اور نہ صحیح جواب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر صحیح جواب دیتے ہیں تو انہیں خوف ہے کہ مخالف اس سے ان کے مشرکانہ عقیدہ کے خلاف استدلال کرے گا۔ اس لیے وہ کچھ جواب نہیں دیتے۔ تب حکم ہوتا ہے کہ تم خود ہی کہو کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان مخالفین سے بطور الزام حجت کے) کہئے کہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں موجود ہے یہ سب کس کی ملک ہے (اوّل تو وہ بھی یہی جواب دیں گے جس سے توحید ثابت ہوگی، اور اگر کسی وجہ سے مثل خوف مغلوبیت کے جواب نہ دیں تو) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ سب اللہ ہی کی ملک ہے (اور ان سے یہ بھی کہہ دیجئے کہ) اللہ تعالیٰ نے (اپنے فضل سے توبہ کرنے والوں کے ساتھ) مہربانی فرمانا اپنے ذمہ لازم فرما لیا ہے (اور یہ بھی کہہ دیجئے کہ اگر تم نے توحید کو قبول نہ کیا تو پھر سزا بھی بھگتنا پڑے گی، کیونکہ) تم کو خدا تعالیٰ قیامت کے روز (قبروں سے زندہ اٹھا کر میدان حشر میں) جمع کریں گے (اور قیامت کی حالت یہ ہے کہ) اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
تفیسر آیت 12-13
سوال و جواب کا ایک خاص اسلوب : قرآن میں جہاں جہاں سوال کر کے مخاطب کے جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں اصل جواب سے مخاطب کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی عقیدہ یا عمل اس کے خلاف ہے تو وہ خود اس کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ جواب میں سبقت سے اس امر کا بھی اظہار ہوجاتا ہے کہ بہرحال اصل حقیقت کا اظہار کردیا جائے قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کے جواب میں کیا ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود آسمان و زمین کا خالق ومالک خدا ہی کو مانتے تھے۔ اس کی وضاحت دلائل کے ساتھ ہم دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12۔ 1 جس طرح حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر لکھ دیا اِنَّ رَحمَتِی تَغْلِبُ غَضَبِیْ ـ " یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے " لیکن یہ رحمت قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہوگی، کافروں کے لئے رب سخت غضب ناک ہوگا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو اس کی رحمت یقینا عام ہے، جس سے مومن اور کافر نیک اور بد فرماں دار اور نافرمان سب ہی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی بھی روزی نافرمانی کی وجہ سے بند نہیں کرتا، لیکن اس کی رحمت کا یہ اہتمام صرف دنیا کی حد تک ہے۔ آخرت میں جو کہ دار الجزا ہے وہاں اللہ کی صفت عدل کا کامل ظہور ہوگا، جس کے نتیجے میں اہل ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
5: مشرکین عرب شام کے تجارتی سفر کے دوران ثمود اور حضرت لوط ؑ کی قوم کی بستیوں سے گذرا کرتے تھے جہاں ان قوموں کی تباہی کے آثار انہیں آنکھوں سے نظر آتے تھے۔ قرآن کریم انہیں دعوت دے رہا ہے کہ وہ ان قوموں کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
درس نمبر 57 تشریح آیات :
12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔
(آیت) ” نمبر 12 تا 13۔
یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا…
Read the full tafseer →5 جب تمام آسمان و زمین میں اسی خدا کی حکومت ہے جیسا کہ مشرکین کو بھی اقرار تھا تو مکذبین و مستہزئین کو فوری سزا سے کہاں پناہ مل سکتی ہے ؟ یہ صرف اس کی رحمت عامہ ہے کہ جرائم کو دیکھ کر فوری سزا جاری نہیں کرتا اور قیامت کے دن بھی جو بلاشبہ آنے والا ہے محض ان ہی بدبختوں کو بےایمانی کی سزا دے گا جو باختیار خود جان بوجھ کر اپنے کو نقصان و ہلاکت کے گڑھے میں ڈال چکے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 12 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط قُلْ لِّلّٰہِ ط
دراصل یہ کہنا اس اعتبار سے ہے کہ مشرکین مکہ بھی یہ مانتے تھے کہ اس کائنات کا مالک اور خالق اللہ ہے۔ وہ یہ نہیں کہتے تھے کہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ اور ہبل نے دنیا کو پیدا کیا ہے۔ وہ ایسے احمق نہیں تھے۔ اپنے ان معبودوں کے بارے میں ان کا ایمان تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ یہ اللہ کی جناب میں ہماری شفاعت کریں گے۔ سورة العنکبوت آیت 61 میں الفاظ آئے ہیں : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
12 اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس لیے دیا ہے کہ مشرکین اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ عقیدتاً اس بات کے قائل تھے کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اب اگر وہ اس بات کا اقرار کرتے تو اس اقرار سے استدلال ان کے خلاف پڑتا تھا اور اگر انکار کرتے تو یہ بات ان کے عقیدہ کے خلاف تھی لہذا جب انہوں نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی تو اللہ نے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ اور یہ جواب ایسا تھا جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھا۔
13 ویسے تو انسان کا تربیت اور پرورش پانا بھی اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک ایک قدم پر اللہ کی رحمت شامل ہو تو تب ہی وہ زندہ رہ سکتا ہے مزید برآں…
Read the full tafseer →16 ۔ (کہ اس جواب سے ان مشرکوں کو بھی مجال انکار نہیں، یہ تو جو کچھ گھبرا رہے ہیں۔ وہ اس اقرار توحید کے مضمرات اور تفریعات سے) (آیت) ” مافی السموت والارض “۔ یعنی ساری فضائے کائنات کے اندر۔ ای لمن الکائنات جمیعا (روح)
17 ۔ (سو مشرکوں اور منکروں کو اب بھی موقع ہے کہ تائب ہو کر اس کے دامن رحمت کی پناہ میں آجائیں) الرحمۃ لمن ترک التکذیب بالرسل وتاب واناب (کبیر) خدائے اسلام کی صفت ذاتی تو یہی رحیمیت ورحمانیت ہے۔ باقی قہر وغضب جو کچھ ہے، اس کا ظہور تو محض عادی مجرموں کی جرم شعاری کی بنا پر ہوگا۔ کیسے ظالم وناخدا ترس ہیں وہ مسیحی مشزی جنہوں نے قرآن کے خدا کو مہیب اور ڈراؤنا بنا کر پیش کیا ہے۔ نفسہ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…
Read the full tafseer →قل لمن ما فی السموات والارض (اے محمد ﷺ آپ پوچھئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ کس کا ( بنایا ہوا قائم کیا ہوا) ہے ما کا لفظ عام ہے اصحاب عقل (جن و انس و ملائک) اور بےعقل (باقی ساری کائنات) سب کو شامل ہے۔
قل للہ (چونکہ اس کا جواب اختلافی نہیں ہوسکتا اور کوئی یہ جواب نہیں دے سکتا کہ یہ کائنات اللہ کے سوا کسی اور کی ہے اس لئے) آپ ہی کہہ دیجئے کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔
کتب علی نفسہ الرحمۃ اس نے اپنے اوپر رحمت کا ذمہ لے رکھا ہے۔ یعنی اس نے رحمت کرنے کا ذمہ لے رکھا ہے اور محکم ترین وعدہ کرلیا ہے جس کی خلاف ورزی ناممکن ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا فیصلہ…
Read the full tafseer →(12) اے محمد ﷺ آپ ان اہل مکہ سے سوال کریں کہ یہ تمام مخلوقات کس کی ملکیت ہیں اول تو وہ جواب دیں گے اور اگر وہ جواب نہ دے سکیں تو آپ فرما دیجیے کہ اس اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا۔ اور رسول اکرم ﷺ کی امت کی وجہ سے عذاب کو موخر کرکے اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمانا اپنے اوپر لازم فرما لیا ہے اور یقیناً اللہ تعالیٰ ہی قیامت کے دن تم سب کو جمع کریں گے، جس دن کے واقع ہونے میں کسی قسم کا کوئی شبہ نہیں۔
مگر جن لوگوں نے اپنی جسمانی منازل خدام اور بیبیوں کو ضائع کردیا ہے۔ وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ۔۔ : وعظ و نصیحت اور ڈرانے کے بعد انھی تینوں اصولوں (کائنات کی ابتدا، اسے دوبارہ زندہ کرنے اور انبیاء کی نبوت) کو ثابت کرنے پر دلیل قائم کی ہے۔ نبی ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ ان کافروں سے پوچھیے کہ آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے ؟ اس سوال کا مقصد ڈانٹ اور پھٹکار ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ خود ہی جواب دے دیجیے کہ اللہ کے سوا کون ہوسکتا ہے اور یہ جملہ بھی رسول اللہ ﷺ ہی کی زبانی ادا کیا گیا ہے کہ آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحم کرنا لازم کرلیا ہے، وہ توبہ و استغفار قبول کرتا ہے اور اسی صفت رحمت کا تقاضا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
آیت نمبر : 11 تا 12۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل سیروا فی الارض “ یعنی اے پیارے محمد ﷺ ان استہزا کرنے والوں اور جھٹلانے والوں کو کہو کہ زمین میں سفر کرو اور دیکھو اور خبر طلب کرو تاکہ تم جان لو جو عذاب اور عقاب تم سے پہلے کافروں پر اترا ایسا سفر کرنا مستحب ہے جب کہ پہلی امتوں اور اجڑے ہوئے شہروں کے کھنڈرات سے عبرت حاصل کرنے کے لیے ہو اور ان کا آخری انجام دیکھنے کے لیے ہو، یہاں مکذبون سے مراد وہیں جنہوں نے حق اور حق والوں کو جھٹلایا نہ کہ وہ جنہوں نے باطل کو جھٹلایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل لمن مافی السموت والارض “ یہ بھی ان کے خلاف حجت ہے یعنی اے محمد ﷺ آپ سے پوچھئے : کس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
شریعت کا جھٹلانے والوں کا انجام
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل سیروا فی الارض ثم انظروا کیف کان عاقبۃ المکذبین یعنی برا ہے اللہ کی قسم جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردیا۔ اور ان کو ہلاک کرنے کے بعد ان کو دوزخ میں ڈال دیا۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سلمان (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت کتب علی نفسہ الرحمۃ یعنی کہ میں نے تورات میں پایا دو مہربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا پھر مخلوق کے پیدا کرنے سے پہلے سورتیں پیدا فرمائیں پھر مخلوق کو پیدا…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہہ ] لِّمَنْ [ کس کا ہے ] مَّا [ وہ جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ] زمین اور آسمانوں میں ہے ] قُلْ [ آپ کہئے ] لِّلّٰهِۭ [ اللہ کا ہے ] كَتَبَ [ اس نے لکھا ] عَلٰي نَفْسِهِ [ اپنے آپ پر ] الرَّحْمَةَ ۭ [ رحمت کو ] لَيَجْمَعَنَّكُمْ [ وہ لازما جمع کرے گا تم لوگوں کو ] اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ [ قیامت کے دن کی طرف ] لَا رَيْبَ [ کوئی بھی شک نہیں ہے ] فِيْهِ ۭ [ جس میں ] اَلَّذِيْنَ [ جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے نفس کو ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان نہیں لاتے ہیں ]
ط ر : ۔ فطرا ۔ کسی چیز کو پھاڑ کر کسی چیز کو نکالنا ۔ (1) پھاڑنا ۔…
Read the full tafseer →آسمانوں اور زمین میں سب اللہ ہی کا ہے وہ قیامت کے دن سب کو جمع فرمائیگا
ان آیات میں اول تو نبی اکرم ﷺ کو حکم فرمایا گیا کہ آپ ان سے پوچھ لیں کہ بتاؤ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے یہ کس کا ہے ؟ یہ سب کس کی مخلوق ہے ؟ اور کس کی ملکیت ہے ؟ اور ان سب میں کس کا تصرف ہے ؟ پھر فرمایا کہ آپ خود ہی جواب دیدیں کہ یہ سب چیزیں اللہ کی ہیں سب اس کے زیر تصرف ہیں جو بھی کوئی ذرا بہت اختیار اور اقتدار رکھتا ہے وہ سب اسی کا دیا ہوا ہے۔ وہ جب چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ اس نے ان سب کو پیدا فرمایا وہ سب پر مہربان بھی ہے۔ اس نے اپنے اوپر لازم قرار دیا ہے کہ وہ رحمت فرمائے گا۔
مومنین پر تو اس کی رحمت دنیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…
Read the full tafseer →14 یہ مسئلہ توحید پر دوسری عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم یعنی دلیل میں ایک ایسی حقیقت ذکر کی گئی ہے جسے مشرکین بھی مانتے تھے کہ جو کچھ بھی زمین و آسمان میں ہے سب کا مالک اللہ ہی ہے۔ قُلْ لِّلّٰہِ یہاں ہمزہ استفہام تقریری مقدر ہے اصل میں تھا قُلْ اَ لِلّٰہِ ۔ مطلب یہ ہے کہ سب کچھ اللہ ہی کا ہے۔ کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ یعنی اللہ نے اپنی مخلوق پر رحم کرنا اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ لَیَجْمَعَنَّکُمْ الخ اِلیٰ بمعنی فی ہے اور یہ منکرین کیلئے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…
Read the full tafseer →قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 0ۭ قُلْ لِّلہِ 0ۭ كَتَبَ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ 0ۭ لَيَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ لَا رَيْبَ فِيْہِ 0ۭ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 12
كتب ( لکھنا)
الْكَتْبُ : ضمّ أديم إلى أديم بالخیاطة، يقال : كَتَبْتُ السّقاء، وكَتَبْتُ البغلة : جمعت بين شفريها بحلقة، وفي التّعارف ضمّ الحروف بعضها إلى بعض بالخطّ ، وقد يقال ذلک للمضموم بعضها إلى بعض باللّفظ، فالأصل في الْكِتَابَةِ : النّظم بالخطّ لکن يستعار کلّ واحد للآخر، ولهذا سمّي کلام الله۔ وإن لم يُكْتَبْ- كِتَاباً کقوله : الم ذلِكَ الْكِتابُ
[ البقرة/ 1-…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔
تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان…
Read the full tafseer →قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط قُلْ لِّلّٰہِ ط کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ط لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ ط اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 12)
(ان سے پوچھو ! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ‘ وہ کس کا ہے ؟ کہہ دو ! اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا ‘ قیامت کے دن کی طرف ‘ جس میں ذرا شبہ نہیں ‘۔ جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں ‘ جو اس پر ایمان نہیں لاتے)
اللہ کی رحمت کا لازمی تقاضہ ” قیامت کا ظہور ہے “
معذب قوموں کی تاریخ کا آئینہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کو عبرت آموزی کے لیے زمین میں چل پھر کر نشانات عبرت دیکھنے کا حکم دینے کے بعد بتایا گیا ہے کہ جس زمین پر تم چلتے اور آسمان کے نیچے رہتے ہو۔ وہ اللہ کی ملک ہیں۔ لہٰذا کفار اور مشرکین سے چند سوال کیے جاتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ کو ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے اعراض کرنے اور آپ سے استہزاء کرنے والوں سے پوچھیے کہ یہ زمین و آسمان کس کی ملکیت اور کس کے کنٹرول میں ہیں ؟
کیونکہ اہل مکہ کا عقیدہ تھا کہ زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا اور ان پر کلی اختیار رکھنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا ان کے جواب کا انتظار کرنے کے بجائے آپ کو…
Read the full tafseer →آیت 12 : قُلْ لِّمَنْ مَّافِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ : من استفہامیہ ہے اور ماؔ، الذی کے معنی میں ہے۔ ما موضع مبتداء میں مرفوع ہے۔ اور لمن اس کی خبر ہے۔ قُلْ لِّلّٰہِ میں اس بات کو پختہ کیا گیا۔ کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ اس میں میرے اور تمہارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو اللہ تعالیٰ کے سواء کسی اور طرف منسوب نہیں کرسکتے۔
رحمت اپنے ذمہ رحمت سے کرلی :
کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ کتب کا اصل معنی واجب کرنا ہے۔ مگر اس کو ظاہر پر محمول نہیں کرسکتے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر تو بندے کی کوئی چیز لازم نہیں۔ پس مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا پختہ عہد کیا ہے اور وہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت نمبر 13, 12
تفسیر : (قل لمن مافی السموت والارض) اگر جواب دیں تو ٹھیک ورنہ آپ خود کہہ دیں ( قل للہ کتب) فیصلہ کیا ( علی نفسہ الرحمۃ) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفقت کا اظہار ہے ان لوگوں کے لیے جو اس سے پیٹھ پیھر رہے ہیں تاکہ وہ اس پر متوجہ ہوں اور خبر ہے کہ اللہ بندوں پر مہربان ہے جلدی سزا نہیں دیتا اور توبہ اور رجوع کو قبول کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور ایک تحریر لکھی جو اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میری رحمت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…
Read the full tafseer →آیت 12
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول ﷺ سے فرماتا ہے (قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی ان مشرکین سے توحید کا اقرار کرواتے اور ان پر اس کی حجت ثابت کرتے ہوئے کہیے ! (لمن ما فی السموت ولارض) ” کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ؟ “ یعنی جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے کس نے پیدا کیا ؟ کو نان کا مالک اور ان میں تصرف کرنے والا ہے ؟ (قل) ان سے کہہ دیجیے ! (للہ) ” اللہ کا ہے “ وہ اس کا اقرار کرتے ہیں انکار نہیں کرتے، کیا جب وہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ وہ اکیلا ہی کائنات کا مالک اور اس کی تدبیر کرنے والا ہے، تو اس کے لئے توحید اور اخلاص کا اعتراف کیوں نہیں کرتے ؟ (کتب علی نفسہ الرحمۃ) ” اس نے لکھا ہے اپنے نفس…
Read the full tafseer →18 آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : خَلْقًا وَمِلْکًا وَتَصَرُّفًا۔ یعنی اس سب کا خالق ومالک بھی وہی وحدہ لاشریک ہے، اس کا بادشاہ حقیقی اور حاکم مطلق بھی وہی ہے اور اس میں حکم اور تصرف بھی اسی کا اور صرف اسی کا چلتا ہے۔ پس جن لوگوں نے خلاف اسباب اس مالک حقیقی کی اس ملکیت کے حصے بخرے کر رکھے ہیں کہ یہ فلاں کی نگری، اور یہ فلاں کی بستی اور یہ فلاں سرکار کا حصہ و علاقہ ہے وغیرہ وغیرہ تو وہ یقینا ناروا بات اور مشرکانہ حرکت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان منکروں سے پوچھو کہ آسمان و زمین کی یہ عظیم الشان کائنات اور اس کے اندر جو کچھ ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
تبلیغ کے فائدے اور طریقے
تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…
Read the full tafseer →ف 11 وعط و نصیحت اوتحذیر کے بعد اب دوبارہ اصول ثلاثہ (مبدا معاد، نبوات) کے اثبات پر دلیل قائم کی ہے یعنی آسمان و زمین کا خالق اور مالک اللہ ہی ہے اور اس کی ملکیت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ ( رازی)12 اور پھر اس نے محض اپنے فضل و کرم سے سے اپنے بندوں سے رحمت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کو رحمان ورحیم ہونے پر کوئی مجبور نہیں کرسکتا اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کا ذکر بہت ہی احادیث میں بھی مذکور ہے ایک حدیث میں ہے جب اللہ تعالیٰ خلق سے فارغ ہوا تو کتاب میں لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔ (رازی)13 یعنی قیامت کا آنا ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی سمجھ دار آدمی انکار نہیں کرسکتا اس…
Read the full tafseer →(6:12) لمن۔ کس کا ہے۔ من استفہامیہ ہے۔
کتب علی نفسہ الرحمۃ۔ رحمت فرمانے کو اس نے اپنے اوپر لازم اور واجب کرلیا ہے۔ یہاں واجب سے مراد یہ ہے کہ اس نے رحمت کرنے کا وعدہ مؤکدہ کرلیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 14 :
علی نفسہ (اپنی ذات پر) لیجمعن (البتہ وہ ضرور جمع کرے گا) ‘ خسروا (نقصان میں پڑگئے) ‘ سکن ( وہ ٹھہرا) اللیل (رات) ‘ النھار (دن) فاطر (پیدا کرنے والا) ‘ یطعم (وہ کھلاتا ہے) لایطعم (وہ نہیں کھلایا جاتا۔ یعنی وہ نہیں کھاتا) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے) ۔ ان اکون ( یہ کہ میں ہوں) اسلم (گردن کھادی۔ اسلام قبول کیا) ‘ لاتکونن (تم ہرگز نہ ہونا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 12 تا 14 :
سارے انسان مانتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ ہی نے بنائی اور اسی کے حکم پر چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انسان کا خالق ومالک اللہ ہی ہے۔ اگر ان کفار سے پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ ان تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
[5] آپ ہی سوال پوچھنے اور آپ ہی جواب دینے کا مطلب ہے کہ تمہارے سوال کا اور کچھ جواب ہو ہی نہیں سکتا۔ منکرین بھی چاروناچار یہی کہیں گے۔
[6] اس لئے وہ نافرمانوں کو فوراً نہیں پکڑتا بلکہ انہیں توبہ وانابت کا موقع دیتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) اللہ تعالیٰ انتہا درجے کے رحیم ہیں ‘ جب تک کوئی شخص خود جہنم کا کندا بننے کی کوشش نہ کرے ، وہ بخشتے اور معاف کرتے رہیں گے ،
(آیت) ” کتب علی نفسہ الحمۃ “۔ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی فطرت بخشش پسند ہے ،
خسارہ اور گھاٹا ان لوگوں کے لئے ہے جو نعمت ایمان سے محروم ہیں ۔
Read the full tafseer →-12 اے پیغمبر ! ﷺ آپ ان منکرین توحید سے فرمائیے جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں موجود ہے یہ کس کی ملک ہے اور ان سب کا مالک کون ہی آپ جواب میں کہہ دیجیے یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے یعنی اول تو وہ خود ہی اس کا اعتراف کریں گے اور اگر خوف وغیرہ کی وجہ سے جواب میں پہلوتہی کریں تو آپ ہی کہہ دیجیے کہ یہ سب کچھ اس کی ملک ہے او ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے رحم و مہربانی کا برتائو اپنے ذمہ الزم کرلیا ہے یعنی مہربانی اور رحم اس کا عام شیوہ ہے وہ اپنے بندوں پر عذاب میں جلدی نہیں کرتا یقینا وہ تم سب کو قیامت کے دن قبروں سے زندہ کر کے جمع کرے گا اور قیامت کے دن کی حالت یہ ہے کہ اس کے واقع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →مخالفین سے سوال کہ آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اس کا اصل مالک کون ہے ؟ :
19: ” اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھو آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کے لئے ہے ۔ ” بس حسن ترجمہ کے لئے یہ کہہ دیا کہ ” کس کے لئے ہے ؟ “ اصل میں سوال یہ ہے کہ ” کس کا ہے ؟ “ یعنی اس کا مالک کون ہے ؟ یہ سوال مشرکین مکہ سے کیا گیا جن کا شرک آج کل کے مشرکوں سے بہت ہلکا تھا ۔ ممکن ہے کہ ان سے پوچھا جائے تو یہ کسی اور ہی کا نام لے لیں کیونکہ مانگا اس سے جاتا ہے جو ایک چیز کا مالک و مختار ہو اور آج کا مشرک تو برملا اور پکار پکار کہتا ہے کہ۔
اللہ کے پلے میں وحدت کے سوا کیا ہے ۔ جو کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں گے محمد (علیہ…
Read the full tafseer →Commentary
In the opening verse (12), قل لِّمَن مَّا فِي السَّمَاوَاتِ the disbelievers have been asked as to who is the Master of the entire universe and all that it contains. Then, Allah Himself gives the answer through the blessed words of the Holy Prophet ﷺ that Allah is the Master of all. The reason for answering the question, rather than waiting for the disbelievers to answer it, is that the answer given was an accepted fact with the disbelievers of Makkah as well, for they were, though involved with Shirk and idolatry, no deniers of the fact that Allah Al-mighty was the Master of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
9. The subtlety of this expression should not go unnoticed. The unbelievers are asked to whom belongs whatever exists in either the heavens or on the earth. The inquirer then pauses to wait for the answer. Those questioned are themselves convinced that all belongs to God, yet while they dare not respond falsely, they are nevertheless not prepared to give the correct answer. Fearing that their response may be used as an argument against their polytheistic beliefs, they keep quiet. At this, the inquirer is told to answer the question himself and to say that all belongs to God.
Read the full tafseer →