Al-An'aam 6:13

Al-An'aam · from ayah 13

6:13

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّهَارِ ؕ— وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۟وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِى الَّيۡلِ وَالنَّهَارِ‌ؕ وَهُوَ السَّمِيۡعُ الۡعَلِيۡمُ

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:13

رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہوا ہے، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو مخلوق رات اور دن میں بستی ہے سب اسی کی ہے اور وہ سنتا جانتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اللہ ہی کی ملک ہیں وه سب کچھ جو رات میں اور دن میں رہتی ہیں اور وہی بڑا سننے واﻻ بڑا جاننے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور رات اور دن میں جتنی مخلوقات آرام پاتی ہیں، سب اسی کے قبضے میں ہیں اور وہ ہر بات کو سنتا، ہر چیز کو جانتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی کا ہے جو بستا ہے رات اور دن میں اور وہی ہے سنتا جانتا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (ساری مخلوق) جو رات میں اور دن میں آرام کرتی ہے، اسی کی ہے، اور وہ خوب سننے والا جاننے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی کا ہے جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

رات اور دن میں جو کچھ آباد ہے سب اسی کا ہے اور وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے اور وہ سمیع وعلیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی (وحدہ لاشریک) کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ساکن ہوتا ہے رات (کے اندھیرے) میں، اور (جو متحرک ہوتا ہے) دن (کے اجالے) میں اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا، سب کچھ جانتا

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی کی ملک ہے جو کوئی بھی رات اور دن میں رہتا ہے اور وہ بڑا سننے والا ہے بڑا جاننے والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی کا ہے جو کچھ ساکن ہوجاتا ہے رات میں اور (متحرک ہوجاتا ہے) دن کے وقت۔ اور وہ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

رات کے اندھیرے اور دن کے اجالے میں جو کچھ موجود ہے سب اللہ کا ہے اور وہ (اللہ) سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And to Him belongs all that dwells in the night and the day. He is All-Hearing, All-Knowing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

To Him belongs all that dwells in the night and the day. He is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani

To Him belongs all that dwells in the night and the day. He is All-Hearing, All-Knowing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And to Him belongs whatsoever exists in the night and the day, and He is the All-Hearing, the All-Knowing."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Unto Him belongeth whatsoever resteth in the night and the day. He is the Hearer, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And to Him belongs that which reposes by night and by day, and He is the Hearing, the Knowing.

— Saheeh International

To Him belongs all that rests during the night and the day. He is All-hearing and All-knowing."

— Muhammad Sarwar

And to Him belongs whatever dwells in the night and the day; and He is the Hearing, the Knowing.

— Muhammad Habib Shakir

His is whatsoever dwelleth in the night and the day; and He is the Hearer, the Knower.

— Abdul Majid Daryabadi

To him belongeth all that dwelleth (or lurketh) in the night and the day. For he is the one who heareth and knoweth all things."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–16

ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 12–13

سورة الْاَنْعَام 9 یہ ایک لطیف انداز بیان ہے۔ پہلے حکم ہوا کہ ان سے پوچھو، زمین و آسمان کی موجودات کس کی ہیں۔ سائل نے سوال کیا اور جواب کے انتظار میں ٹھیر گیا۔ مخاطب اگرچہ خود قائل ہیں کہ سب کچھ اللہ کا ہے، لیکن نہ تو وہ غلط جواب دینے کی جرأت رکھتے ہیں، اور نہ صحیح جواب دینا چاہتے ہیں، کیونکہ اگر صحیح جواب دیتے ہیں تو انہیں خوف ہے کہ مخالف اس سے ان کے مشرکانہ عقیدہ کے خلاف استدلال کرے گا۔ اس لیے وہ کچھ جواب نہیں دیتے۔ تب حکم ہوتا ہے کہ تم خود ہی کہو کہ سب کچھ اللہ کا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ، یہاں یا تو سکون سے مراد استقرار ہے، یعنی جو چیز جہاں کے لیل و نہار میں موجود ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد سکون و حرکت کا مجموعہ ہو، یعنی ماسکن وما تحرک اور ذکر صرف سکون کا کیا گیا حرکت جو اس کے بالمقابل ہے وہ خودبخود سمجھ میں آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 12–13

تفیسر آیت 12-13 سوال و جواب کا ایک خاص اسلوب : قرآن میں جہاں جہاں سوال کر کے مخاطب کے جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا ہے۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں اصل جواب سے مخاطب کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ اگر اس کا کوئی عقیدہ یا عمل اس کے خلاف ہے تو وہ خود اس کے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ جواب میں سبقت سے اس امر کا بھی اظہار ہوجاتا ہے کہ بہرحال اصل حقیقت کا اظہار کردیا جائے قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کے جواب میں کیا ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود آسمان و زمین کا خالق ومالک خدا ہی کو مانتے تھے۔ اس کی وضاحت دلائل کے ساتھ ہم دوسرے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 12–13

12۔ 1 جس طرح حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا تو عرش پر لکھ دیا اِنَّ رَحمَتِی تَغْلِبُ غَضَبِیْ ـ " یقینا میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے " لیکن یہ رحمت قیامت والے دن صرف اہل ایمان کے لئے ہوگی، کافروں کے لئے رب سخت غضب ناک ہوگا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو اس کی رحمت یقینا عام ہے، جس سے مومن اور کافر نیک اور بد فرماں دار اور نافرمان سب ہی فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کی بھی روزی نافرمانی کی وجہ سے بند نہیں کرتا، لیکن اس کی رحمت کا یہ اہتمام صرف دنیا کی حد تک ہے۔ آخرت میں جو کہ دار الجزا ہے وہاں اللہ کی صفت عدل کا کامل ظہور ہوگا، جس کے نتیجے میں اہل ایمان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–13

درس نمبر 57 تشریح آیات : 12۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ 19 ۔ (آیت) ” نمبر 12 تا 13۔ یہاں خطاب بیان اور فیصلے کے لئے ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ ان مشرکین سے مخاطب ہوں جو اچھی طرح جانتے ہیں اللہ ہی خالق ہے لیکن یہ جانتے ہوئے بھی خالق کا ہمسر ان لوگوں کو بناتے ہیں جو بذات خود مخلوق ہیں ۔ اور پھر بزعم کود اپنی زندگی کے تصرفات میں ان شرکاء کو بھی دخیل کرتے ہیں۔ سوال یہ کیا جاتا ہے کہ تم مانتے ہو کہ اللہ خالق ہے تو یہ بتاؤ کہ تخلیق کے بعد پھر مالک کون ہے ؟ یعنی اس پوری کائنات اور زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ (مافی السموت والارض) کا مالک کون ہے ؟ اور پھر اس سوال کا جواب خود ہی دے دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

6 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں مکان کی تعمیم تھی وَلَہ، مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَار میں زمانہ کے اعتبار سے تعمیم ہے یعنی ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور قبضہ و اقتدار ہے۔ ہر وہ چیز جو رات میں یا دن میں آرام سے زندگی بسر کرتی اور کتنے معلوم و نامعلوم دشمنوں سے مامون و محفوظ رہتی ہے۔ یہ اسی کی رحمت کاملہ کے آثار میں سے ہے (قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ) 41 ۔ الانبیآء :42) وہ ہی ہے جو دن کے شورو غل اور رات کے اندھیرے اور سناٹے میں ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور سب کی حوائج و ضروریات کو بخوبی جانتا ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 13 وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِط وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ یہاں سَکَنَ کے مقابل لفظ تَحَرَّکَ محذوف ہے۔ ایسے مقابل کے الفاظ کو عام طور پر قرآن مجید میں حذف کردیا جاتا ہے تاکہ آدمی خودس مجھے۔ جیسے یہاں رات کے ساتھ سکون کا لفظ آیا ہے اور اس کے ساتھ ہی دن کا ذکر کردیا گیا ہے ‘ جبکہ دِن کا وقت سکون کے لیے نہیں ہے۔ لہٰذا بات اس طرح واضح ہوجاتی ہے : وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَمَا تَحَرَّ کَ فِی النَّھَار اور اسی کا ہے جو کچھ رات کے وقت سکون پکڑتا ہے اور دن کے وقت متحرک ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–13

12 اس سوال کا جواب اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس لیے دیا ہے کہ مشرکین اس سوال کا جواب دینا نہیں چاہتے تھے وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ عقیدتاً اس بات کے قائل تھے کہ ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے اب اگر وہ اس بات کا اقرار کرتے تو اس اقرار سے استدلال ان کے خلاف پڑتا تھا اور اگر انکار کرتے تو یہ بات ان کے عقیدہ کے خلاف تھی لہذا جب انہوں نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی تو اللہ نے خود ہی اس کا جواب دے دیا۔ اور یہ جواب ایسا تھا جو ان کے نزدیک بھی مسلم تھا۔ 13 ویسے تو انسان کا تربیت اور پرورش پانا بھی اللہ کی رحمت کے بغیر ممکن نہیں۔ ایک ایک قدم پر اللہ کی رحمت شامل ہو تو تب ہی وہ زندہ رہ سکتا ہے مزید برآں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19 ۔ صفت السمیع کا تعلق انسان کے ظاہر اوراقوال سے ہے۔ صفت العلیم کا تعلق انسان کے باطن اور احوال قلب سے ہے۔ (آیت) ” ما سکن فی الیل والنھار “۔ ابھی اوپر (آیت) ” ما فی السموت والارض “۔ میں سارے موجودات کائنات کا ذکر وجود مکانی کے اعتبار سے آچکا ہے۔ اب ذکر وجود زمانی کے اعتبار سے ہے۔ موجودات کے لیے ظرف دوہی ہیں۔ ظرف مکان وظرف زمان۔ ظرفیت مکانی کا ذکر ابھی آچکا تھا۔ ظرفیت زمانی کا ذکر اب آگیا۔ لیس المراد من ھذا السکون ماھو ضد الحرکۃ بل المراد السکون بمعنی الحلول کما یقال فلان یسکن بلد کذا اذا کان محلہ فیہ (کبیر) یہ سکون حرکت کی ضد نہیں، بلکہ حرکت کو شامل ہے۔ اور محض استقرار کے معنی میں ہے۔ معناہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولہ ما سکن فی اللیل والنہار اور اسی کا ہے وہ سب کچھ جو رات اور دن (کے دور) میں رہتا ہے۔ سکن سکنی سے مشتق ہے اس کے بعد ظرف مکان آتا ہے جس سے پہلے فی ہوتا ہے (جیسے فی البیت فی المسجد وغیرہ) لیکن اس جگہ زمان (اللیل والنہار) کا ذکر بطور اتساع کیا (گویا زمان کو مکان کا قائم مقام قرار دیا اور یہ ظاہر کیا کہ مکان کی طرح زمان بھی قابل سکونت چیز ہے) دوسری آیت میں (سکنتم فی مساکن الذین ظلموا انفسہم) آیا ہے (اور فی کے بعد مکان کا ذکر ہے) یہاں ما سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن پر روز و شب کا دور ہوتا ہے۔ یا لفظ سکنسکون سے ماخوذ ہے مراد یہ ہے کہ اللہ ہی کا ہے جو دن رات کے چکر میں ساکن رہتا ہے یا حرکت کرتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) اور کفار نے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ ہمارے دین کی طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں مالا مال کردیں گے اور تمہاری بہترین جگہ پر شادی بھی کرا دیں گے اور تمہیں عزت دیں گے اور اپنا رہبر بنائیں گے اس پر یہ آیات نازل ہوئیں، آپ کے وطن میں رات دن میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ۔۔ : گزشتہ آیت : (قُلْ لِّمَنْ مَّا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ) میں مکان (جگہ) کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کے ہر جگہ بادشاہ ہونے کا بیان تھا، اس آیت میں زمان اور وقت کے اعتبار سے اس کی بادشاہی عام ہونے کا ذکر ہے۔ کیونکہ آسمان و زمین کے سوا کوئی مکان (جگہ) نہیں اور رات اور دن کے سوا کوئی زمانہ (وقت) نہیں، گویا ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور اسی کا قبضہ و اقتدار ہے۔ پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام جگہوں اور تمام اوقات اور زمانوں کا مالک ہے، فرمایا : (وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ) یعنی وہ ہر چیز کی دعا اور پکار سنتا ہے۔ ”الْعَلِيْمُ“…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–16

آیت نمبر 13 تا 16 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولہ ما سکن فی الیل و النھار یعنی جو ثابت ہے یہ بھی مشرکوں کے خلاف حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں کہ جو تم کرتے ہو اس پر تمہیں کوئی چیز نہیں ابھارتی مگر حاجت پس ہم تمہارے لیے مال جمع کرتے ہیں حتی کہ تو ہمارے غنی لوگوں میں ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب ! انہیں بتائیے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ مجھے غنی کرنے پر قادر ہے۔ سکن کا معنی پرسکون ہونا اور ٹھہرنا ہے مراد ہے جو ساکن ہے اور جو متحرک ہے سامع کے علم کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ساکن کو خصوصی طور پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَهٗ [ اور اس کا ہی ہے ] مَا [ وہ جو ] سَكَنَ [ ٹھہرا ] فِي الَّيْلِ [ رات میں ] وَالنَّهَارِ ۭ [ اور دن میں ] وَهُوَ [ اور وہ ] السَّمِيْعُ [ ہر حال میں سننے والا ہے ] الْعَلِيْمُ [ ہر حال میں جاننے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رات اور دن میں جو کچھ سکونت پذیر ہے سب اللہ ہی کا ہے پھر فرمایا (وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ النَّھَارِ ) (اور اللہ ہی کے لئے ہے جو ساکن ہے رات اور دن میں) سکن ٹھہرنے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو کچھ رات اور دن میں ٹھہرا ہوا ہے وہ اللہ ہی کی مخلوق ہے ساکن غیر متحرک ہونے کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے یعنی جو چیزیں رات اور دن میں غیر متحرک ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں یہ چیزیں بھی (مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ ) میں داخل ہیں لیکن پھر بھی الگ سے ان کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ چیزیں ہر وقت مخاطبین کے سامنے ہیں اور خود مخاطبین بھی اس میں شامل ہیں جو کچھ نظر کے سامنے ہو اس کو دیکھ کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

15 یہ تیسری عقلی دلیل ہے یہ آیت از قبیل التفہا تبنا و ماء باردا ہے کیونکہ سکون تو صرف رات میں ہوتا ہے۔ دن میں لوگ اپنے کاروبار میں مصروف ہوتے ہیں اس لیے النھار سے پہلے اس سے مناسب فعل محذوف ہے اصل میں تھا وَ لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَ مَا نَشَرَ فِی النَّھَارَ نُشُوْراً ۔ تقدیم ظرف مفید حصر ہے۔ یعنی رات دن میں جو بھی ساکن و متحرک ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے اور کسی کا نہیں۔ وَ ھُوَ السَّمِیْع ای لکل شیء اَلْعَلِیْمُ ای بکل شیء یعنی ہر چیز کا سننے والا اور ہر چیز کا جاننے والا اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں۔ یہاں تعریف خبر مفید حصر ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–18

گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَہٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّہَار۝ 0ۭ وَہُوَالسَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ۝ 13 سكن السُّكُونُ : ثبوت الشیء بعد تحرّك، ويستعمل في الاستیطان نحو : سَكَنَ فلان مکان کذا، أي : استوطنه، واسم المکان مَسْكَنُ ، والجمع مَسَاكِنُ ، قال تعالی: لا يُرى إِلَّا مَساكِنُهُمْ [ الأحقاف/ 25] ، وقال تعالی: وَلَهُ ما سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهارِ [ الأنعام/ 13] ، ولِتَسْكُنُوا فِيهِ [يونس/ 67] ، فمن الأوّل يقال : سکنته، ومن الثاني يقال : أَسْكَنْتُهُ نحو قوله تعالی: رَبَّنا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي [إبراهيم/ 37] ، وقال تعالی: أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ [ الطلاق/ 6] ( س…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–16

ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔ تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ط وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ۔ (الانعام : 13) (اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے۔ وہ سمیع وعلیم ہے) یعنی لوگوں کو یہ شبہ ہے کہ ایک ایک آدمی کے عمل سے اللہ تعالیٰ کیسے باخبر ہوسکتے ہیں ؟ اس لیے انھیں بتایا جا رہا ہے کہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ شب کی تاریکیوں میں جو چیز ساکن ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں جو چیز بھی متحرک ہوتی ہے ‘ سب اللہ ہی کے اختیار ‘ اسی کے قبضہ قدرت اور اسی کے کنٹرول میں ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی چیز ‘ اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو سکے اور اس کے اذن کے بغیر اپنی جگہ سے سرک سکے۔ رات کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : صرف زمین و آسمان اللہ کی ملکیت نہیں بلکہ ان کی گردش کے نتیجہ میں رات اور دن کا وجود اور ظہور، تاریکیوں اور روشنیوں میں رہنے والی ہر چیز اس کی ملکیت اور اس کے اختیار میں ہے۔ مشرکین مکہ کے الزامات میں نبی ﷺ کی ذات پر ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ اور توحید کا پرچار اس لیے کیا ہے تاکہ آپ اس کے بدلے میں دنیا کا مال و متاع جمع کرسکیں۔ اس کے لیے ایک موقع پر انھوں نے آپ کو پرکشش مراعات پیش بھی کی تھیں۔ جن میں آپ کو حاکم تسلیم کرنا، نکاح کے لیے خوبصورت لڑکی پیش کرنے کے ساتھ انھوں نے آپ کے حسب منشاء دولت جمع کرنے کا عندیہ بھی دیا تھا۔ کچھ مفسرین کے خیال کے مطابق یہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جب وہ مدبر کائنات ہے تو ہر حرکت و سکون کا مالک بھی وہی ہے : آیت 13 : وَلَہٗ اس کا عطف للہ پر ہے۔ مَاسَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّہَارِنمبر 1۔ یہ السکنٰی سے لیا گیا ہے تاکہ ساکن و متحرک دونوں کو شامل رہے۔ یا نمبر 2۔ السکون سے ہے مطلب اس طرح ہے کہ ماسکن و تحرک فیہما جو دن رات میں سکون و حرکت کرتا ہے ضدین میں ایک کا تذکرہ کافی ہے۔ جیسا فرمایا تقیکم الحر۔ النحل آیت 81۔ توالحر ٗ البرد مراد ہیں۔ اسی طرح سکون کو ذکر کیا کیونکہ یہ حرکت سے زیادہ ہے۔ اس میں مشرکین کے خلاف دلیل دی گئی ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کو خالق الکل ہونے کا اقرار کرتے تھے۔ اور اس کو دابر الامور بھی مانتے تھے۔ وَہُوَ السَّمِیْعُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 12–13

آیت نمبر 13, 12 تفسیر : (قل لمن مافی السموت والارض) اگر جواب دیں تو ٹھیک ورنہ آپ خود کہہ دیں ( قل للہ کتب) فیصلہ کیا ( علی نفسہ الرحمۃ) یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفقت کا اظہار ہے ان لوگوں کے لیے جو اس سے پیٹھ پیھر رہے ہیں تاکہ وہ اس پر متوجہ ہوں اور خبر ہے کہ اللہ بندوں پر مہربان ہے جلدی سزا نہیں دیتا اور توبہ اور رجوع کو قبول کرتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور ایک تحریر لکھی جو اللہ کے پاس عرش کے اوپر ہے کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے دوسری روایت ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا میری رحمت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–18

(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–20

آیت 13 معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ساکت ہوتا ہے رات کے اندھیروں میں اور جو متحرک ہوتا ہے دن کے اجالے میں۔ اور وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا۔ سو یہاں پر ضدین میں سے ایک پر اکتفاء کرتے ہوئے دوسرے کو ذکر نہیں فرمایا گیا۔ لیکن معنیٰ میں وہ بہرحال مراد ہے۔ (جامع، محاسن، جواہر وغیرہ) ۔ اور یہ بلاغت وبیان کا ایک عظیم اسلوب ہے۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی کو واضح اور ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات ہست و بود میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے کہ اس سب کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–21

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 آیت قل لمن مافی السمٰوٰ ت والا رض میں مکان جگہ کے اعتبار سے تعمیم تھا اذلامکان سوا ھما اور اس آیت میں تعمیم باعتبار زمان ہے کیونکہ رات دن کے علاوہ اور کوئی زمان (وقت) نہیں ہے گویا ہر جگہ اور ہر وقت اس کو حکومت اور اسی کا قبضہ وقتدار ہے۔ (رازی) یاد رہے کہ یہاں سکون بمعنی حلول ہے یعنی رہنا اور سکون جو حرکت کی ضد ہے وہ مراددنہی ہے پھر یہ ثابت کرنے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ تمام مکا نیات کا مالک ہے۔ اسمیع العلیم فرماکر اللہ تعالیٰ کے فاعل مختار ہونے کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس سے ایجاب بالذات کی تردید ہوتی ہے (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:13) سکن وہ ٹھہرا، وہ بسا، وہ رہا۔ اس نے آرام پکڑا۔ سکون جس میں حرکت کرنے کی صلاحیت ہو اس کے حرکت نہ کرنے کا نام ہے

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 14 : علی نفسہ (اپنی ذات پر) لیجمعن (البتہ وہ ضرور جمع کرے گا) ‘ خسروا (نقصان میں پڑگئے) ‘ سکن ( وہ ٹھہرا) اللیل (رات) ‘ النھار (دن) فاطر (پیدا کرنے والا) ‘ یطعم (وہ کھلاتا ہے) لایطعم (وہ نہیں کھلایا جاتا۔ یعنی وہ نہیں کھاتا) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے) ۔ ان اکون ( یہ کہ میں ہوں) اسلم (گردن کھادی۔ اسلام قبول کیا) ‘ لاتکونن (تم ہرگز نہ ہونا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 14 : سارے انسان مانتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ ہی نے بنائی اور اسی کے حکم پر چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انسان کا خالق ومالک اللہ ہی ہے۔ اگر ان کفار سے پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ ان تمام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–19

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

(ف 1) دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی بادشاہت میں داخل ہے وہی سنتا ہے اور وہی دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے ، آسمانوں کو اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے تمام مخلوق کو کھانا دیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے اسے ایک حبہ کی ضرورت نہیں ، اس لئے عبادت اور ستائش کے لئے بھی وہی زیبا ہے ، (آیت) ” اول من اسلم سے مراد پہلا نہیں بلکہ وہ جو اسلام کا مطحی نمائندہ ہو ، یعنی م ” یرؤن الہ الاسلام : حل لغات : فاطر : پیدا کرنے والا ، مادہ فطرت معنی پیدائش تخلیق بعض علماء لغت کے نزدیک فطرت کے معنی بلا ذرائع طبعی کے کسی چیز کو پیدا کرنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اور آسمانوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-13 اور رات کی تاریکی اور دن کی روشنی میں جو بھی رہتا ہے اور جو بھ سکوتن رکھتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی ملک ہے اور وہ ہی بڑا سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی رات اور دن جس پر اثر انداز ہوتے ہیں اور جن پر رات و دن کا گذر ہوتا ہے وہ سب خدا تعالیٰ کی مملوک ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جو کچھ رات اور دن میں ہے سب اللہ ہی کے لئے ہے وہ دیکھتا اور سنتا ہے : 22: زیر نظر آیت بھی گذشتہ آیات کی طرح توحید الٰہی کی کتنی بڑی دلیل ہے کہ زمین و آسمان جس طرح ظرف مکان ہیں بالکل اسی طرح رات اور دن “ ظرف زمان “ ہیں۔ پہلے فرمایا تھا کہ بلندی اور پستی میں جو کچھ ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کا ہے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ زمانے کے پیمانے میں جو کچھ ہے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے تو جب سب مکانیات اور زمانیات اس کی پیدا کردہ ہیں اور اس کے قبضہ قدرت میں ہیں تو پھر ان میں سے کوئی انسان خواہ وہ کون ہو اور کوئی پتھر خواہ وہ کسی کی طرف منسوب کیا گیا ہو اور کوئی چیز حیوانات ، نباتات اور جمادات میں سے خواہ کوئی ہو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

The word, ` sukun' appearing in verse 13: وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ (And to Him belongs what finds rest in the night and the day) could either mean the state of being still or at rest, in which case, the verse would mean that Allah is the Master of everything present in the night and the day. Or, it is also possible that the sense could be that of a combined state of stillness and movement (which would amount to saying - what tarries and what moves), but what was mentioned here is the state of sukun or rest only - because, movement which stands in contrast to it can be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–13

9. The subtlety of this expression should not go unnoticed. The unbelievers are asked to whom belongs whatever exists in either the heavens or on the earth. The inquirer then pauses to wait for the answer. Those questioned are themselves convinced that all belongs to God, yet while they dare not respond falsely, they are nevertheless not prepared to give the correct answer. Fearing that their response may be used as an argument against their polytheistic beliefs, they keep quiet. At this, the inquirer is told to answer the question himself and to say that all belongs to God.

Read the full tafseer →