Al-An'aam 6:14

Al-An'aam · from ayah 14

6:14

قُلْ اَغَیْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ ؕ— قُلْ اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۟قُلۡ اَغَيۡرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَهُوَ يُطۡعِمُ وَلَا يُطۡعَمُ‌ؕ قُلۡ اِنِّىۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَكُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَسۡلَمَ‌ وَلَا تَكُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Is it other than Allah I should take as a protector, Creator of the heavens and the earth, while it is He who feeds and is not fed?" Say, [O Muhammad], "Indeed, I have been commanded to be the first [among you] who submit [to Allah] and [was commanded], 'Do not ever be of the polytheists.' "

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:14

کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سر پرست بنا لوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے؟ کہو، مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سر تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہو کیا میں خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو مددگار بناؤں کہ (وہی تو) آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہی (سب کو) کھانا دیتا ہے اور خود کسی سے کھانا نہیں لیتا (یہ بھی) کہہ دو کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا ہوں اور یہ کہ تم (اے پیغمبر!) مشرکوں میں نہ ہونا

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہیے کہ کیا اللہ کے سوا، جو کہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے واﻻ ہے اور جو کہ کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی کھانے کو نہیں دیتا، اور کسی کو معبود قرار دوں، آپ فرما دیجئے کہ مجھ کو یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں اور تو مشرکین میں ہرگز نہ ہونا

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو رکھوالا بناؤں ؟ (اس اللہ کو چھوڑ کر) جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے، کسی سے کھاتا نہیں ؟ کہہ دو کہ : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ فرمانبرداری میں سب لوگوں سے پہل کرنے والا میں بنوں۔ اور تم مشرکوں میں ہرگز شامل نہ ہونا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ کیا اللہ کے سوا کسی اور کو والی بناؤں وہ اللہ جس نے آسمان اور زمین پیدا کیے اور وہ کھلاتا ہے اور کھانے سے پاک ہے تم فرماؤ مجھے حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے گردن رکھوں اور ہرگز شرک والوں میں سے نہ ہونا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: کیا میں کسی دوسرے کو (عبادت کے لئے اپنا) دوست بنا لوں (اس) اﷲ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب کو) کھلاتا ہے اور (خود اسے) کھلایا نہیں جاتا۔ فرما دیں: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں (اس کے حضور) سب سے پہلا (سرجھکانے والا) مسلمان ہوجاؤں اور (یہ بھی فرمادیا گیا ہے کہ) تم مشرکوں میں سے ہرگز نہ ہوجانا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے کیا میں اللہ کے سوا کوئی دوست بناؤں جو آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا ہے، حالانکہ وہ کھلاتا ہے اور اسے نہیں کھلایا جاتا۔ کہہ بیشک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا شخص بنوں جو فرماں بردار بنا، اور تو ہرگز شریک بنانے والوں سے نہ ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے : کیا میں اس اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو سرپرست بناؤں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور سب کو کھانا کھلاتا تو ہے لیکن کسی سے کھانا لیتا نہیں ؟ آپ ان سے کہئے : مجھے یہی حکم ہوا ہے کہ میں سب سے پہلے سرتسلیم خم کروں اور شرک کرنے والوں میں شامل نہ ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہو کیا میں اللہ کے سوا، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، کسی اور کو اپنا کارساز بناؤں اور وہ کھلاتا ہے کھاتا نہیں، کہہ دو مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کیا میں اس اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا سرپرست (و کارساز) بنالوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین (کی اس پوری کائنات) کا ؟ اور وہ روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ؟ کہو مجھے تو قطعی طور پر یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اس کا فرمانبردار ہوجاؤں، نیز یہ کہ تم ہرگز کبھی مشرکوں میں سے نہیں ہونا،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہیے کہ کیا میں اللہ کے سوا جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ (سب) کو کھلاتا ہے (خود) اس کو کھلایا نہیں جاتا کسی (اور) کو کار ساز قرار دے لوں ؟ ۔ آپ کہہ دیجیے کہ مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام قبول کروں اور (یہ کہ) تم کہیں مشرکوں میں نہ ہوجانا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے کہیے کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا ولی بنا لوں جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ؟ اور وہ کھانا کھلاتا ہے اسے کھلایا نہیں جاتا (اے نبی ﷺ ! ڈنکے کی چوٹ) کہہ دیجیے مجھے تو حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلا فرمانبردار میں خود بنوں اور تم ہرگز نہ ہونا مشرکین میں سے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سر پرست بنا لوں ؟ اس رب کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق (بنا نے و الا) ہے، اور جو سب کو کھلاتا ہے خود کسی سے کھاتا نہیں ؟ کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اسی کے آگے سر جھکائوں اور کبھی بھی مشرکوں میں شامل نہ ہوجاؤں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'Shall I take for my guardian anyone other than Allah - the Originator of the heavens and earth; He Who feeds and Himself is not fed?' Say: 'Surely I have been commanded to be the first among those who submit (to Allah) and not to be one of those who associate others with Allah in His divinity (even though others may do so).'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Would I take as guardian someone other than Allah Who is the Creator of the heavens and the earth, and Who feeds others, and is not fed by anyone? Say, :I have been asked to be the first to submit (to Him) and never to be one of those who ascribe partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Would I take as guardian someone other than Allah Who is the Creator of the heavens and the earth, and Who feeds others, and is not fed by anyone? Say, :I have been asked to be the first to submit (to Him) and never to be one of those who ascribe partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Shall I take as a guardian any other than Allah, the Creator of the heavens and the earth And it is He Who feeds but is not fed." Say: "Verily, I am commanded to be the first of those who submit. "And be not you of the idolators.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Shall I choose for a protecting friend other than Allah, the Originator of the heavens and the earth, Who feedeth and is never fed? Say: I am ordered to be the first to surrender (unto Him). And be not thou (O Muhammad) of the idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Is it other than Allah I should take as a protector, Creator of the heavens and the earth, while it is He who feeds and is not fed?" Say, [O Muhammad], "Indeed, I have been commanded to be the first [among you] who submit [to Allah] and [was commanded], 'Do not ever be of the polytheists.' "

— Saheeh International

(Muhammad), ask them, "Should I take a guardian other than God, the Originator of the heavens and the earth, who feeds everyone and who needs no food Himself?" Say, "I have been commanded to be the first Muslim (submitted to the will of God). Thus, people, do not be pagans."

— Muhammad Sarwar

Say: Shall I take a guardian besides Allah, the Originator of the heavens and the earth, and He feeds (others) and is not (Himself) fed. Say: I am commanded to be the first who submits himself, and you should not be of the polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: Shall I take for a patron any other than Allah, the Maker of the heavens and the earth! And He feedeth, and is not fed. Say thou: I am commanded that I be the first who submitteth himself, and that: be thou not of the associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Shall I take for my protector any other than Allah, the Maker of the heavens and the earth? And He it is that feedeth but is not fed." Say: "Nay! but I am commanded to be the first of those who bow to Allah (in Islam), and be not thou of the company of those who join gods with Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–16

ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْاَنْعَام 10 اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

وَلَهٗ مَا سَكَنَ فِي الَّيْلِ وَالنَّهَارِ ۭ، یہاں یا تو سکون سے مراد استقرار ہے، یعنی جو چیز جہاں کے لیل و نہار میں موجود ہے وہ سب اللہ ہی کی ملک ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد سکون و حرکت کا مجموعہ ہو، یعنی ماسکن وما تحرک اور ذکر صرف سکون کا کیا گیا حرکت جو اس کے بالمقابل ہے وہ خودبخود سمجھ میں آسکتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، یہ اس مسلمہ حقیقت کا، جو اوپر مذکور ہوئی، دوسرا لازمی نتیجہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جب سب کچھ خدا ہی کا ہے، آسمان و زمین سب کا خالق وہی ہے تو تم خواہ کتنا ہی زور لگاؤ، لیکن میرے لیے کس طرح روا ہے کہ خدائے فاطر السموات والارض کے سوا کسی اور کو اپنا مولی و مرجع بناؤں۔ هُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ ، یہ خدا کی ربوبیت اور پر ودگاری کی طرف اشارہ بھی ہے اور مشرکین کے بتوں پر ایک نہایت لطیف تعریض بھی۔ مطلب یہ ہے کہ مولیٰ و مرجع بنائے جانے کا سزوار تو وہ ہے جو آسمان و زمین کا عدم سے وجود میں لانے والا بھی ہے اور جس کے فضل و کرم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 ولی سے مراد یہاں معبود ہے جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے ورنہ دوست بنانا تو جائز ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 14 تا 18۔ یہ مسئلہ کہ اللہ وحدہ ولی ہے لفظ ولی کے تمام معنوں میں ہے ۔ یعنی وہ وحدہ رب ہے ۔ وہ وحدہ معبود ہے ۔ تمام لوگ اسی کی بندگی کرتے ہیں اور تمام اس کے اقتدار اعلی کے تابع ہیں ۔ وہ عبادت بھی اس کی کرتے ہیں اور عبادت کے مراسم بھی اس کے سامنے ادا کرتے ہیں ۔ صرف اسی کو ناصر اور مددگار سمجھتے ہیں ‘ اسی پر اعتماد کرتے ہیں ‘ مصائب میں اسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ۔ یہ اسلام کا اساسی عقیدہ ہے ۔ انسان اگر صرف اللہ کو اپنی ولی سمجھے گا ‘ ان تمام مفہومات کے ساتھ تو پھر وہ مسلمان ہوگا اور اگر اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی ولی بنائے گا تو پھر وہ مشرک ہوگا ۔ شرک اور اللہ وحدہ کی ولایت ایک دل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 13–14

6 قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں مکان کی تعمیم تھی وَلَہ، مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَار میں زمانہ کے اعتبار سے تعمیم ہے یعنی ہر جگہ اور ہر وقت اسی کی حکومت اور قبضہ و اقتدار ہے۔ ہر وہ چیز جو رات میں یا دن میں آرام سے زندگی بسر کرتی اور کتنے معلوم و نامعلوم دشمنوں سے مامون و محفوظ رہتی ہے۔ یہ اسی کی رحمت کاملہ کے آثار میں سے ہے (قُلْ مَنْ يَّـكْلَـؤُكُمْ بالَّيْلِ وَالنَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ ) 41 ۔ الانبیآء :42) وہ ہی ہے جو دن کے شورو غل اور رات کے اندھیرے اور سناٹے میں ہر ایک کی پکار سنتا ہے اور سب کی حوائج و ضروریات کو بخوبی جانتا ہے۔ پھر تم ہی بتاؤ کہ ایسے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ تم بھی مانتے ہو کہ زمین و آسمان اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا وہی اللہ ہے ‘ تو ایسے خالق ‘ مالک ‘ مولا اور کار سازکو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا ولی اور حمایتی بنا لوں ؟ یہ تو بڑی حماقت کی بات ہے ‘ بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔ وَہُوَ یُطْعِمُ وَلاَ یُطْعَمُ ط تم بتوں کے سامنے نذریں اور حلوے مانڈے پیش کرتے ہو۔ اللہ کو تو ایسی چیزوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ وہ تو پوری مخلوق کا رب ہے ‘ سب کو کھلاتا ہے ‘ سب کا رازق ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

15 الٰہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت کسی کا محتاج نہ ہونا ہے :۔ یعنی اللہ کے حقیقی الٰہ ہونے کا ایک معیار تو یہ ہے کہ تمام کائنات کو اسی نے پیدا کیا ہے۔ کائنات کی تخلیق میں چونکہ کسی بھی دوسرے الٰہ کا حصہ نہیں لہذا وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ اور دوسرا معیار یہ ہے کہ وہ سب دوسروں کو کھلاتا ہے لیکن خود کسی سے کچھ نہیں کھاتا۔ اس کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ جو کھانا کھاتا ہے وہ کبھی الٰہ نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ کھانے کا محتاج ہے اور اللہ کھانے کا محتاج نہیں ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ دوسرے سب لوگ کھانے تک کے لیے اس کے دست نگر ہیں۔ یعنی جو محتاج ہے الٰہ نہیں ہوسکتا۔ حقیقی الٰہ وہی ہوسکتا ہے جو کسی کا دست نگر اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

20 ۔ (جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے قرار دے لیا ہے) (آیت) ” فاطر السموت والارض “۔ آسمان و زمین اور ساری کائنات کو محض اپنے ارادہ سے بغیر روح، مادہ، ہیولی کے سہارے کے نیست سے ہست میں لانے والا، فاطر کا لفظ اس ساری مشرک ونیم مشرک قوموں کی تردید کررہا ہے، جو اللہ کو محض ایک صانع کی حیثیت دیتے ہیں۔ فاطر کے معنی مبدع کے ہیں اور فعل فطر ابتداء کرنے کے لئے آتا ہے، فطرای ابدع وفطرنا ای ابدعنا واوجدنا (راغب) وعن ابن عباس ؓ قال ما عرفت فاطر السموت حتی اتانی اعرابیان یختصمان فی بئر فقال احدھما انا فطرتھا ای ابتدا تھا (کبیر) ای خالقھا ومبدعھا ومبتدءھا (معالم) (آیت) ” السموت والارض “۔ آسمان و زمین کا خصوصیت سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل اغیر اللہ اتخذوا ولیا آپ کہہ دیں کہ اللہ کے علاوہ کیا کسی دوسرے کو میں مددگار معبود قرار دوں۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی اللہ کے سوا دوسروں کو کارساز بنانے کا انکار ہے محض ولی بنانے کا انکار نہیں ہے اسی لئے ہمزہ کے بعد اتخذ سے پہلے مفعول کو ذکر کیا ہے۔ فاطر السموات والارض اللہ تو ایسا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا خالق و موجد ہے فاطر کی اضافت معنویہ ہے (یعنی آسمان و زمین فاطر کا مفعول ہے) مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے۔ وہو یطعم ولا یطعم اور وہی کھانے کو دیتا ہے اس کو کوئی کھانا نہیں دیتا طعام سے مراد ہے رزق (کھانا کپڑا اور تمام چیزیں) کھانے کا ضرورت مند انسان زیادہ ہوتا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) اور اے محمد ﷺ آپ کا رب کفار کی باتوں کو سننے والا اور ان کے انجام اور مخلوق کے روزی دینے کو جاننے والا ہے اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کیا ایسے اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود بناؤں جو کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ تمام مخلوق کو کھانے کو دیتا ہے اور اس کو کوئی بوجہ عدم ضرورت کھانے کو نہیں دیتا اور نہ ہی یہ ہوتا ہے کہ مخلوق کو روزی دینے میں اس کو کسی سے مددلینا پڑتی ہے۔ اے محمد ﷺ آپ کفار مکہ سے یہ فرما دیجیے کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ سب سے پہلے میں اسلام قبول کروں یا اپنے زمانہ والوں میں سب سے پہلے خلوص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی توحید اور عبادت بجا لاؤں اور دیکھو ! تم مشرکین کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اَغَيْرَ اللّٰهِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا : ”ولی“ کا معنی دوست بھی آتا ہے، مالک و مدد گار اور معبود و کارساز بھی، یہاں اس کا معنی مالک و مدد گار اور معبود و کارساز ہے، یعنی وہ زمان و مکاں کا خالق ہی نہیں بلکہ اسے باقی رکھنے والا اور چلانے والا بھی وہی ہے، اسے کسی سے کچھ لینے کی ضرورت نہیں، باقی سب اسی کا دیا ہوا کھانے والے اور ہر لحاظ سے اس کے محتاج ہیں۔ اس ایک جملے سے مشرکین نے اللہ کے سوا جتنے معبود بنا رکھے تھے، ان سب کی نفی ہوجاتی ہے۔ مزید دیکھیے سورة ذاریات (56 تا 58)۔ قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ۔۔ : کیونکہ میں اس کا رسول ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ تمام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–16

آیت نمبر 13 تا 16 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولہ ما سکن فی الیل و النھار یعنی جو ثابت ہے یہ بھی مشرکوں کے خلاف حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں کہ جو تم کرتے ہو اس پر تمہیں کوئی چیز نہیں ابھارتی مگر حاجت پس ہم تمہارے لیے مال جمع کرتے ہیں حتی کہ تو ہمارے غنی لوگوں میں ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب ! انہیں بتائیے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ مجھے غنی کرنے پر قادر ہے۔ سکن کا معنی پرسکون ہونا اور ٹھہرنا ہے مراد ہے جو ساکن ہے اور جو متحرک ہے سامع کے علم کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ساکن کو خصوصی طور پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اَ [ کیا ] غَيْرَاللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ (کسی ) کو ] اَتَّخِذُ [ میں بناؤں ] وَلِيًّا [ کارساز ] فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ جو زمین اور آسمانوں کو وجود بخشنے والا ہے ] وَهُوَ [ اور وہ ] يُطْعِمُ [ کھلاتا ہے ] وَلَا يُطْعَمُ ۭ [ اور اس کو کھلایا نہیں جاتا ] قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْٓ [ کہ ] اُمِرْتُ [ مجھ کو حکم دیا گیا ] اَنْ [ کہ ] اَكُوْنَ [ میں ہوجاؤں ] اَوَّلَ مَنْ [ اس کا پہلا جو ] اَسْلَمَ [ فرمانبردارہوا ] وَ [ اور (یہ کہ )] لَا تَكُوْنَنَّ [ تم ہرگز مت ہونا ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شرک کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَ لِیًّا) جو لوگ مشرک تھے وہ اپنے شرک کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ دعوت توحید چھوڑدیں اور ہمارے دین میں شامل ہوجائیں، اور یہ بات نئی نہیں تھی آنحضرت ﷺ سے پہلے جو انبیاء کرام (علیہ السلام) تشریف لائے تھے ان کی امتوں نے بھی یہی بات کہی تھی۔ (وَ قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا) اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت رسول اکرم ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان سے فرما دیں کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا ولی بنا لوں ؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ آسمانوں کا اور زمین کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

16 یہ پہلا طریق تعلیم ہے۔ وَلِیًّا یعنی کارساز فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ یہ اللہ کی صفت ہے یعنی ہر چیز کو ابتداءً پیدا کرنے والا۔ آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان مشرکین کو جواب دیں جو آپ کو اپنے عاجز معبودوں کی عبادت کی دعوت دیتے ہیں کہ کیا میں اس اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو کارساز مان لوں جو ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور سب کا روزی دینے والا ہے اور خود سب سے بےنیاز ہے۔ 17 یہ دوسرا طریق تعلیم ہے۔ لَاتَکُوْنَنَّ سے پہلے قیل لی محذوف ہے یعنی مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں اللہ کے سامنے سب سے پہلا سر جھکانے والا ہوں۔ نیز مجھے حکم دیا گیا ہے کہ مشرکین کے نظریات و اعمال میں سے کچھ بھی قبول نہ کروں۔ اَوَّلَ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–18

گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اَغَيْرَ اللہِ اَتَّخِذُ وَلِيًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَہُوَيُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ۝ 0ۭ قُلْ اِنِّىْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 14 غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–16

ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔ تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلْ اَغَیْرَ اللہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَھُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ ط قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ (الانعام : 14) (کہو ! کیا میں اللہ کے سوا ‘ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے ‘ کسی اور کو اپنا کارساز بنائوں ؟ اور وہ کھلاتا ہے ‘ کھاتا نہیں۔ کہہ دو ! مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو) سوال یہ کیا جا رہا ہے کہ تم اس بات کو مان چکے ہو کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور حاکم حقیقی صرف اللہ ہے اور یہ بھی تسلیم کرتے ہو کہ رات اور دن کی تاریکی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار سے دوسرا سوال اور اس کا جواب : جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر کسی کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق روزی پہنچانے والا ہے اور سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں تو ایسے خالق، مالک اور رازق کو چھوڑ کر اس کے سوا کسی دوسرے کو کس طرح اپنا خیر خواہ سمجھوں ؟ اگر وہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ نہ کرے تو باپ کی شفقت اور ماں کا رحم بھی آدمی کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کروں اور مشرکوں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کروں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نحو و قراءت۔ میرا کارساز وہی ہے اور میں اس کا فرمانبردار : آیت 14 : قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا۔ (ـکیا میں اللہ کے سوا کسی (اور) کو مددگار بنا لوں) ولی کا معنی ناصر و معبود ہے۔ یہ اَتَّخِذُ کا مفعول ثانی ہے اور پہلا مفعول اَغَیْرَ ہے۔ یہاں ہمزہ استفہام کو اتخذ کے مفعول پر داخل کیا گیا ہے۔ خود اتخذ پر نہیں۔ کیونکہ انکار غیر اللہ کو کار ساز بنانے کا ہے۔ ولی بنانے کا انکار نہیں۔ اسلئے اسکو شروع میں لانا زیادہ مناسب تھا۔ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ان میں جو پڑھا جائیگا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ یعنی وہ انکا ایجاد کرنے والا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ مجھے فاطر کا معنی اچھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 14–17

آیت نمبر 17, 16, 15, 14 تفسیر :(قل اغیر اللہ اتخذ ولیا) جب نبی کریم ﷺ کو آپ کے آبائواجداد کے دین کی طرف بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے محمد ! ( ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا کسی کو میں اپنا رب اور معبود اور مدد گار بنائوں ؟ (فاطرالسموت والارض) یعنی ان کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے۔ ( وھوا یطعم والا یطعم) یعنی وہ رزق دیتا ہے اس کو رزق نہیں دیا جاتا۔ جیسا کہ خود دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ ( قل انی امرت انی اکون اول من اسلم) یعنی اس امت میں سے اور اسلام یہاں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکانے کے معنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–18

(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–20

آیت 13 معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–16

22 کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز بنا لوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسا کرنا عقل و نقل کے بھی سراسر خلاف ہے اور انصاف کے بھی منافی۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی کارساز اور حاجت روا ہے ہی نہیں اور اس کی بیحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود دوسروں کو کارساز ماننا بڑا ظلم بھی ہے اور نہایت بےانصافی بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کارساز و کارفرما اس ساری مخلوق کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–21

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی منافع اسی کی ذات سے ہیں اور وہ کسی سے انتقاع کا محتاج نہیں اس ایک جملہ سے اللہ کے سوا جنتے بھی معبود بنا رکھے تھے سب کی نفی ہوجاتی ہے (رازی۔ قر طبی)3 کیونکہ میں اس کا رسول ﷺ ہوں اور رسول کا کام یہ ہے کہ تمام بندوں سے پہلے اور بڑھ کر اپنے مالک کے احکام کا مانے۔4 یعنی مجھے خالص اللہ کا فرما نبر دار ہو کر رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور شرک سے دور رہنے کا یہ کام نہیں کہ اس لعنت میں پڑنے کا خیال بھی اپنے ذہن میں لائیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 14–15

(6:14) فاطر السموت والارض ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ولا تکونن۔ فعل نہی بانون ثقلیہ۔ تو ہرگز نہ ہو۔ لا تکونن سے قبل وقیل لی محذوف ہے۔ یعنی مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ تم شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ بننا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 12–14

لغات القرآن : آیت نمبر 12 تا 14 : علی نفسہ (اپنی ذات پر) لیجمعن (البتہ وہ ضرور جمع کرے گا) ‘ خسروا (نقصان میں پڑگئے) ‘ سکن ( وہ ٹھہرا) اللیل (رات) ‘ النھار (دن) فاطر (پیدا کرنے والا) ‘ یطعم (وہ کھلاتا ہے) لایطعم (وہ نہیں کھلایا جاتا۔ یعنی وہ نہیں کھاتا) امرت (مجھے حکم دیا گیا ہے) ۔ ان اکون ( یہ کہ میں ہوں) اسلم (گردن کھادی۔ اسلام قبول کیا) ‘ لاتکونن (تم ہرگز نہ ہونا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 12 تا 14 : سارے انسان مانتے ہیں کہ یہ کائنات اللہ ہی نے بنائی اور اسی کے حکم پر چل رہی ہے۔ وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ انسان کا خالق ومالک اللہ ہی ہے۔ اگر ان کفار سے پوچھا جائے تو وہ یہی جواب دیں گے کہ ان تمام…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–19

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

(ف 1) دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی بادشاہت میں داخل ہے وہی سنتا ہے اور وہی دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے ، آسمانوں کو اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے تمام مخلوق کو کھانا دیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے اسے ایک حبہ کی ضرورت نہیں ، اس لئے عبادت اور ستائش کے لئے بھی وہی زیبا ہے ، (آیت) ” اول من اسلم سے مراد پہلا نہیں بلکہ وہ جو اسلام کا مطحی نمائندہ ہو ، یعنی م ” یرؤن الہ الاسلام : حل لغات : فاطر : پیدا کرنے والا ، مادہ فطرت معنی پیدائش تخلیق بعض علماء لغت کے نزدیک فطرت کے معنی بلا ذرائع طبعی کے کسی چیز کو پیدا کرنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اور آسمانوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14 اے پیغمبر آپ ان سے فرمائیں کیا میں اس اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر جو آسمان و زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور جو سب کو خوراک دیتا اور سب کو کھانا کھلاتا ہے اور اس کو کوئی نہیں کھلاتا کسی اور کو اپنا معبود اور مددگار بنالوں یعنی وہ سب کو غذا دیتا ہے اور کھانے کو دیتا ہے اور چونکہ وہ غذا کا محتاج نہیں اس لئے اس کو کوئی نہیں کھلاتا آپ فرما دیجیے مجھ کو تو یہی حکم ملا ہے کہ میں سب لوگوں سے پہلے اسلام لائو اور فرمانبردار بنوں اور مجھ کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ آپ شرک کرنے والوں میں سے اور اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرانے والوں میں سے ہرگز نہ ہوں ینی جن لوگوں کو قرآن کریم کے ذریعہ توحید پہونچائی جائے ان سب…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں اللہ کے سوا اپنا کوئی کار ساز بنا لوں ؟ : 23: ” کیا میں بنا لوں ؟ “ اس کو استفہام انکاری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے مطلب یہ ہے کہ میں ایسا نہیں کرسکتا۔ تعلیم کا یہ طریقہ اپنے اندر بہت گہرائی رکھتا ہے۔ ولیا یعنی کار ساز۔ ” آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا “ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے یعنی اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا نہیں جو زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا یا ان کے کسی حصہ ہی میں شریک ہو۔ خطاب دنیا کے سارے مشرکین سے ہے۔ آپ ﷺ کے وقت میں آپ ﷺ کو پوچھنے کا حکم اور آپ ﷺ کے بعد ہر موحد کو ہر مشرک سے پوچھنے کا یہ حق ہے کہ یہ جو تم اپنے عاجز معبودوں کی عبادت کی دعوت دیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 13–14

The word, ` sukun' appearing in verse 13: وَلَهُ مَا سَكَنَ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ‌ (And to Him belongs what finds rest in the night and the day) could either mean the state of being still or at rest, in which case, the verse would mean that Allah is the Master of everything present in the night and the day. Or, it is also possible that the sense could be that of a combined state of stillness and movement (which would amount to saying - what tarries and what moves), but what was mentioned here is the state of sukun or rest only - because, movement which stands in contrast to it can be…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

10. This remark contains a subtle sarcasm. Far from providing sustenance to their followers, the beings whom the polytheists set up as deities beside the true God were dependent upon them for their sustenance. No Pharaoh can maintain the pomp and splendour connected with his godhead unless his subjects pay their tax dues and make him other offerings. No deity can attract worshippers unless some of its devotees make an idol, place it in some magnificent temple, and decorate it lavishly. All these counterfeit gods are totally dependent upon their own servants. It is the Lord of the Universe…

Read the full tafseer →