Al-An'aam 6:15

Al-An'aam · from ayah 15

6:15

قُلْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟قُلۡ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:15

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ بھی) کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ میں اگر اپنے رب کا کہنا نہ مانوں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہہ دو کہ : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے کہ بیشک میں (تو) بڑے عذاب کے دن سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں (سو یہ کیسے ممکن ہے؟)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز آپ کہئے : اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو کہ میں تو بہر حال ڈرتا ہوں ایک بڑے (ہی ہولناک) دن کے عذاب سے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کرلوں،

— مولانا اسحاق مدنی

کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے خوف ہے ایک بڑے (ہولناک) دن کے عذاب کا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہو، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say: 'Surely do I fear, if I disobey my Lord, the chastisement of an awesome Day.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :If I disobey my Lord, I fear the punishment of a momentous day.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :If I disobey my Lord, I fear the punishment of a momentous day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I fear, if I disobey my Lord, the torment of a Mighty Day."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I fear, if I rebel against my Lord, the retribution of an Awful Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

(Muhammad), say, "Because of the torment of the Great Day, I am afraid to disobey my Lord".

— Muhammad Sarwar

Say: Surely I fear, if I disobey my Lord, the chastisement of a grievous day.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily fear, if disobey my Lord, the torment of a Mighty Day.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I would, if I disobeyed my Lord, indeed have fear of the penalty of a Mighty Day.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 12–16

ہر چیز کا مالک اللہ ہے آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْاَنْعَام 10 اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں اپنے رب کا کہنا نہ مانوں (کہ اسلام و ایمان کے حکم کی تعمیل نہ کروں یا شرک میں مبتلا ہوجاؤ ں) تو میں ایک بڑے دن (یعنی قیامت) کے عذاب سے ڈرتا ہوں (یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ معصوم ہیں، اسلام و ایمان کے خلاف شرک و معصیت کا صادر ہونا آپ سے ممکن نہیں، مگر یہاں سنانا عام امت کو ہے، کہ نبی معصوم بھی اللہ کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں، پھر فرمایا کہ وہ عذاب ایسا ہے کہ) جس شخص سے اس روز کا عذاب ہٹا دیا گیا اس پر اللہ تعالیٰ نے بڑا رحم کیا اور یہ (عذاب کا ہٹ جانا اور اللہ کی رحمت کا متوجہ ہوجانا) صریح کامیابی ہے (اس میں اس رحمت کا بیان بھی ہوگیا جس کا ذکر اس سے پہلے كَتَبَ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ الایہ : یعنی جب مجھے حکم یہ ملا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں تو میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں اپنے رب کے اس حکم کی نافرمانی کروں ؟ اگر میں نافرمانی کروں تو میں اس ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جس سے ہر نافرمانی کرنے والے کو سابقہ پیش آنا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 یعنی اگر میں نے بھی رب کی نافرمانی کرتے ہوئے اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو معبود بنا لیا تو میں بھی اللہ کے عذاب سے نہیں بچ سکوں گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 15–16

(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16) ” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔ آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔ حضور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یہ آپ پر رکھ کر اوروں کو سنایا گیا ہے یعنی بفرض محال اگر خدا کے معصوم و برگزیدہ ترین بندے سے بھی کسی طرح کا عصیان سرزد ہو تو عذاب الہٰی کا اندیشہ ہوتا ہے پھر کسی دوسرے کو کب لائق ہے کہ باوجود شرک و کفر اور تکذیب انبیاء وغیرہ ہزاروں طرح کے جرائم میں مبتلاء ہونے کے عذاب الہٰی سے بےفکر اور مامون ہو کر بیٹھ رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ۔ میں بھی اللہ کی عبادت سے مستثنیٰ نہیں ہوں ‘ میں بھی اللہ کا بندہ ہوں۔ جیسے میں آپ لوگوں سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی بندگی کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی حکم ہے ‘ مجھے بھی اللہ کی بندگی کرنی ہے۔ جیسے میں تم سے کہہ رہا ہوں کہ اللہ کی فرمانبرداری کرو ‘ ویسے ہی مجھے بھی اس کی فرمانبرداری کرنی ہے۔ اور جیسے میں تمہیں بتارہا ہوں کہ اگر اللہ کی نافرمانی گرو گے تو پکڑے جاؤ گے ‘ ایسے ہی میں بھی اگر بالفرض نافرمانی کروں گا تو مجھے بھی اللہ کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ یہ بہت اہم آیات ہیں ‘ ان پر بہت غور وفکر کرنے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 رسول اللہ کی ذات سے اللہ کی نافرمانی ہونا ناممکنات سے ہے دراصل یہ دوسرے لوگوں کو تنبیہ و تہدید کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر رسول بھی اللہ کی نافرمانی کرے تو قیامت کے دن اس سے بھی باز پرس ہوسکتی ہے پھر دوسرے لوگ اپنا انجام خود سوچ لیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22 ۔ یعنی مجھ جیسا نبی معصوم بھی قانون الہی کی ہمہ گیری سے باہر نہیں۔ (آیت) ” عذاب یوم عظیم “۔ روز قیامت کو روز عظیم ان واقعات عظیم کے لحاظ سے کہا ہے کہ جو اس روز واقع ہو کر رہیں گے۔ ای عذاب یوم القیامۃ وعظمہ بعظم ما یقع فیہ (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم آپ کہہ دیجئے مجھے بڑے دن یعنی روز قیامت کے عذاب کا خوف ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا یعنی اس کے سوا کسی اور کی عبادت کروں گا تو قیامت کے دن وہ مجھے عذاب دے گا۔ پُر زور طرز کلام کے ساتھ کافروں کے خیال کا استیصال کردیا اور درپردہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کردیا کہ کفر و نافرمانی کی وجہ سے تم لوگ عذاب کے مستحق ہو تم کو ضرور عذاب ہوگا۔ عَذَابَ یَوْمٍ اَخَافُ کا مفعول ہے اور اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُکی جزاء نہیں ہے بلکہ جزاء محذوف ہے یعنی اِنْ عَصیتُ رَبی عَذَّبْنِیْچونکہ جملہ جزاء محذوف پر دلالت کر رہا ہے اس لئے اس کے ذکر کی ضرورت نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) آپ فرما دیجیے کہ اگر بالفرض میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کروں اور تمہارے دین کی طرف لوٹ آؤں تو مجھے آنے والے دن کے بڑے عذاب کا ڈر ہے یا یہ کہ بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ۔۔ : رسول اللہ ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروا کر دوسرے سب لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ اگر بفرض محال ہمارے معصوم اور سب سے زیادہ نیک بندے سے بھی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا، پھر دوسروں کے لیے کیسے ممکن ہے کہ انبیاء کو جھٹلانے جیسے جرائم کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔ مزید دیکھیے سورة انعام (81 تا 88 اور سورة زمر (64، 65)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 13–16

آیت نمبر 13 تا 16 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولہ ما سکن فی الیل و النھار یعنی جو ثابت ہے یہ بھی مشرکوں کے خلاف حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں کہ جو تم کرتے ہو اس پر تمہیں کوئی چیز نہیں ابھارتی مگر حاجت پس ہم تمہارے لیے مال جمع کرتے ہیں حتی کہ تو ہمارے غنی لوگوں میں ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب ! انہیں بتائیے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ مجھے غنی کرنے پر قادر ہے۔ سکن کا معنی پرسکون ہونا اور ٹھہرنا ہے مراد ہے جو ساکن ہے اور جو متحرک ہے سامع کے علم کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ساکن کو خصوصی طور پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْٓ [ کہ ] اَخَافُ [ میں ڈرتا ہوں ] اِنْ [ اگر ] عَصَيْتُ [ میں نافرمانی کروں ] رَبِّيْ [ اپنے رب کی ] عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ [ ایک عظیم دن کی عذاب سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ) (آپ فرما دیجیے ! کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے) بڑے دن سے قیامت کا دن مراد ہے،

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 15–16

18 یہ تیسرا طریق تعلیم ہے۔ یعنی تم لوگ تو اللہ کی معرفت اور اس کی پہچان سے بےبہرہ ہو اس لیے دن رات اس کی نافرمانیوں میں منہمک ہو اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں اس کے عذاب کا کوئی ڈر خطرہ نہیں لیکن مجھے تو خطرہ ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں گا تو اسکے سخت عذاب کی لپیٹ میں آجاؤں گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–18

گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ 15 خوف الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57] ( خ و) الخوف ( س ) کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 12–16

ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔ تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (الانعام : 15) ” کہہ دو ! اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی ‘ تو میں ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں “۔ توحید کے مختلف گوشوں کو مستحکم کرنے اور شرک کے ہر ممکن خطرے سے بچانے کے لیے ‘ جن جن ہدایات کی ضرورت تھی ‘ وہ ایک ایک کر کے عطا کی جا رہی ہیں اور اس طرح عقیدہ توحید کو ایک جامع اور کامل شکل دی جا رہی ہے۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ بار بار اس کا واسطہ ذات رسالت مآب ﷺ کو بنایا جا رہا ہے حالانکہ اللہ کے یہاں ان کا جو مقام و مرتبہ ہے ‘ اس کی گہرائی اور گیرائی کو سمجھنا بندوں کے لیے تو ویسے ہی ممکن نہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 14–16

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین اور کفار سے دوسرا سوال اور اس کا جواب : جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر کسی کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق روزی پہنچانے والا ہے اور سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں تو ایسے خالق، مالک اور رازق کو چھوڑ کر اس کے سوا کسی دوسرے کو کس طرح اپنا خیر خواہ سمجھوں ؟ اگر وہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ نہ کرے تو باپ کی شفقت اور ماں کا رحم بھی آدمی کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کروں اور مشرکوں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کروں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اگر میں بھی نافرمانی کروں تو عذاب کا خطرہ اتم ہے : آیت 15 : قُلْ اِنِّیْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ یعنی مجھے خطرہ ہے بڑے دن کے عذاب کا اور وہ قیامت ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔ : پس شرط فاعل اور مفعول بہٖ کے درمیان آرہی ہے اور جو اب شرط محذوف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 14–17

آیت نمبر 17, 16, 15, 14 تفسیر :(قل اغیر اللہ اتخذ ولیا) جب نبی کریم ﷺ کو آپ کے آبائواجداد کے دین کی طرف بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے محمد ! ( ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا کسی کو میں اپنا رب اور معبود اور مدد گار بنائوں ؟ (فاطرالسموت والارض) یعنی ان کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے۔ ( وھوا یطعم والا یطعم) یعنی وہ رزق دیتا ہے اس کو رزق نہیں دیا جاتا۔ جیسا کہ خود دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ ( قل انی امرت انی اکون اول من اسلم) یعنی اس امت میں سے اور اسلام یہاں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکانے کے معنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–18

(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–20

آیت 13 معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 14–16

22 کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز بنا لوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسا کرنا عقل و نقل کے بھی سراسر خلاف ہے اور انصاف کے بھی منافی۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی کارساز اور حاجت روا ہے ہی نہیں اور اس کی بیحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود دوسروں کو کارساز ماننا بڑا ظلم بھی ہے اور نہایت بےانصافی بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کارساز و کارفرما اس ساری مخلوق کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–21

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 آنحضر ﷺ کی زبان مبارک سے اعلان کر واکر دوسروں کو بتایا گیا کہ اگر بفرض محال معصوم اور نیک ترین بندے سے بھی کسی نافرمانی کا ارتکاب ہوجائے تو وہ بھی ہمارے عذاب سے نہیں بچ سکتا پھر دوسرے کے لے کہ کیونکر ممکن ہے کہ تکذیب انبیا ( علیہ السلام) جیسے جرائم کا ارتکان کرنے کے باوجود ہمارے عذاب سے بےفکر ہو کر بیٹھ رہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 14–15

(6:14) فاطر السموت والارض ۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ ولا تکونن۔ فعل نہی بانون ثقلیہ۔ تو ہرگز نہ ہو۔ لا تکونن سے قبل وقیل لی محذوف ہے۔ یعنی مجھ سے یہ بھی کہا گیا کہ تم شرک کرنے والوں میں سے ہرگز نہ بننا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–20

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 : عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 : ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–19

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 13–16

(ف 1) دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی بادشاہت میں داخل ہے وہی سنتا ہے اور وہی دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے ، آسمانوں کو اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے تمام مخلوق کو کھانا دیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے اسے ایک حبہ کی ضرورت نہیں ، اس لئے عبادت اور ستائش کے لئے بھی وہی زیبا ہے ، (آیت) ” اول من اسلم سے مراد پہلا نہیں بلکہ وہ جو اسلام کا مطحی نمائندہ ہو ، یعنی م ” یرؤن الہ الاسلام : حل لغات : فاطر : پیدا کرنے والا ، مادہ فطرت معنی پیدائش تخلیق بعض علماء لغت کے نزدیک فطرت کے معنی بلا ذرائع طبعی کے کسی چیز کو پیدا کرنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اور آسمانوں کو…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-15 اے پیغمبر آپ ان منکرین سے کہہ دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایسا کس طرح کرسکتا ہوں کیونکہ میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا اور خوف کھاتا ہوں ینی قیامت کے عذاب کا جس کو ڈر ہو وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان کس طرح ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میں نافرمانی کروں ، تو پھر مجھے اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا ؟ : 25: یہ اعلان کس سے کرایا جا رہا ہے ؟ خود نبی کریم ﷺ سے تاکہ شرک کی جڑ اکھڑ جائے اور انبیائے کرام کو حاجت روا اور مشکل کشا بنانے اور اولیاء کرام کا ساجھی اور شریک ٹھہرانے والوں کی آنکھیں بھی کھلیں اور وہ اس کھلے شرک سے باز آجائیں اور اس طرح وہ دلیوں اور بزرگوں کے نام کو وظیفہ بنانے کی بجائے اللہ کے نام اور اس کے کلام ہی کو ورد زبان بنائیں اور شرم کھائیں کہ جس چیز سے اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو منع فرمایا حالانکہ آپ ﷺ کا ان چیزوں میں مبتلا ہونے کا کوئی خطرہ ہی موجود نہ تھا پھر آپ ﷺ کو مخاطب کر کے جب آپ ﷺ کی پوری امت کو یہ سبق سکھایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary In the previous verses, the command given was to shun Shirk and believe in the perfect power of Allah Jalla Sha'nuhu mentioned there-in. In the first of the present verses (15), the punishment for the contravention of this command has been mentioned in a particularly endearing manner, that is, the Holy Prophet ﷺ has been ` commanded' that he should tell the people that should he too (God forbid) come to contravene the command of His Lord, then, he too has the fear of the punishment of the day of Qiyamah. It is obvious that the noble Messenger of Allah is (Divinely) protected from…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

10. This remark contains a subtle sarcasm. Far from providing sustenance to their followers, the beings whom the polytheists set up as deities beside the true God were dependent upon them for their sustenance. No Pharaoh can maintain the pomp and splendour connected with his godhead unless his subjects pay their tax dues and make him other offerings. No deity can attract worshippers unless some of its devotees make an idol, place it in some magnificent temple, and decorate it lavishly. All these counterfeit gods are totally dependent upon their own servants. It is the Lord of the Universe…

Read the full tafseer →