Explained with ayahs 12–16
ہر چیز کا مالک اللہ ہے
آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں ہے، سب اللہ کا ہے، اس نے اپنے نفس مقدس پر رحمت لکھ لی ہے، بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو جب پیدا کیا تو ایک کتاب لکھی جو اس کے پاس اس کے عرش کے اوپر ہے کہ میری رحمت غضب پر غالب ہے، پھر اپنے پاک نفس کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کو قیامت کے دن ضرور جمع کرے گا اور وہ دن یقینا آنے والا ہے شکی لوگ چاہے شک شبہ کریں لیکن وہ ساعت اٹل ہے، حضور سے سوال ہوا کہ کیا اس دن پانی بھی ہوگا ؟ آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس دن پانی ہوگا، اولیاء اللہ ان ہوضوں پر آئیں گے جو انبیاء کی ہوں گی۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
سورة الْاَنْعَام 10
اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ…
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی روز محشر کا عذاب انتہائی ہولناک اور سخت ہے، جس شخص سے یہ عذاب ٹل گیا تو سمجھئے کہ اس پر اللہ کی بڑی رحمت ہوگئی، وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ یعنی یہی بڑی اور کھلی کامیابی ہے، یہاں کامیابی سے مراد دخول جنت ہے، اس سے معلوم ہوا کہ عذاب سے نجات اور جنت کا داخلہ لازم و ملزوم ہیں۔
Read the full tafseer →مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَهٗ ، یعنی ڈرنے کی اصل چیز یہ خوفناک دن اور اس کا عذاب ہی ہے، جو اس سے محفوظ رہا، درحقیقت وہی ہے جس پر خدا کا رحم ہوا اور چاہے کی اصل چیز اس دن کی رحمت ہی ہے اس لیے کہ جو اس رحمت کا سزاوار قرار پایا درحقیقت وہی ہے جس نے اصل کامیابی حاصل کی۔ اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی کامیابیوں ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے آخرت کی فوز مبین کو بھول بیٹھے ہیں انہیں اپنی بدبختی اور محرومی کا اندازہ کل ہوگا۔
Read the full tafseer →16۔ 1 جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا ' جو آگ سے دور اور جنت میں داخل کردیا گیا، وہ کامیاب ہوگیا اس لئے کامیابی، خسارے سے بچ جانے اور نفع حاصل کرلینے کا نام ہے۔ جنت سے بڑھ کر نفع کیا ہوگا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
(آیت) ” قُلْ إِنِّیَ أَخَافُ إِنْ عَصَیْْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ (15) مَّن یُصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہُ وَذَلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ (16) (6ـ15۔ 16)
” اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی ۔ اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے ۔
آپ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اس معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی کا اعلان کردیں اور یہ کہہ دیں کہ اگر وہ سرموانحراف بھی کریں تو خود ان پر عذاب الہی نازل ہو سکتا ہے ۔ خصوصا اسلام اور توحید کے معاملے میں اس طرح خود اہل شرک کے دلوں میں خوف اور رعب پیدا ہوگا ۔
حضور…
Read the full tafseer →2 جنت اور رضائے الہٰی کے اعلیٰ مدارج کا حاصل کرنا تو بہت اونچا مقام ہے۔ اگر آدمی سے قیامت کے دن کا عذاب ٹل جائے تو یہ ہی بہت بڑی کامیابی سمجھو۔ کما قال عمر ؓ کفافاً لالی ولاعلی۔
Read the full tafseer →آیت 16 مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ط وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ۔ ۔
دُنیا کی بڑی سے بڑی کامیابیاں اس دن کی کامیابی کے سامنے ہیچ ہیں۔ اس کامیابی کے سامنے دنیوی دولت ‘ وجاہت ‘ عزت ‘ شہرت ‘ اقتدار وغیرہ ساری چیزیں عارضی اور فانی ہیں۔ اصل الْفَوْزُ الْمُبِیْن تو آخرت کی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →17 یعنی جنت میں اعلیٰ درجات تو دور کی بات ہے اگر کوئی شخص اس دن دوزخ کے عذاب سے نجات بھی پا جائے تو سمجھے کہ اس نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے اور اللہ نے اس پر اپنا خاص فضل و کرم کیا ہے۔
Read the full tafseer →23 ۔ (آیت) ” یعنی یہی نجات کامل یا دفع عذاب، یا رحم الہی۔ اے النجاۃ البینۃ (قرطبی) ای الصرف بعد الرحمۃ (بیضاوی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…
Read the full tafseer →من یصرف عنہ یومئذ فقد رحمہ جس شخص سے اس روز عذاب ہٹا دیا جائے گا تو یہ اس پر اللہ کی رحمت ہی ہوگی کہ محض اپنی مہربانی سے اس کو عذاب سے بچا لے گا ورنہ عذاب سے محفوظ رہنے والے کا اللہ پر کوئی واجب الادا حق نہیں ہوگا۔ یَوْمَءِذٍفتح پر مبنی ہے۔ عاصم اور یعقوب کی قرأت میں یَصْرِفْہے اس کا فاعل اللہ ہے اور عذاب مفعول محذوف ہے۔ مشہور قرأت یُصْرَفْہے جس کا فاعل عذاب ہے۔
وذلک الفوز المبین اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ قاموس میں ہے کہ فوزکا معنی ہے نجات کامیابی۔ ہلاکت۔
ہلاکت تو بہرحال مراد نہیں ہے سیاق کلام کے خلاف ہے اور نجات بھی مراد نہیں ہے کیونکہ عذاب کا ہٹنا خود ہی نجات ہے (تو یہ معنی ہوجائے گا کہ نجات…
Read the full tafseer →(16) اور قیامت کے دن جس شخص سے عذاب ہٹا دیا جائے گا تو وہ محفوظ ہوجائے گا اور اس کی مغفرت ہوجائے گی اور مغفرت انسان کی اعلی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →مَنْ يُّصْرَفْ عَنْهُ۔۔ : یعنی بلند مقام حاصل کرنا تو بہت بڑی بات ہے، اگر کسی سے آخرت کا عذاب ہی ٹل جائے تو اپنی جگہ یہی بہت واضح کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
آیت نمبر 13 تا 16 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولہ ما سکن فی الیل و النھار یعنی جو ثابت ہے یہ بھی مشرکوں کے خلاف حجت ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ آیت نازل ہوئی، کیونکہ انہوں نے کہا تھا ہم جانتے ہیں کہ جو تم کرتے ہو اس پر تمہیں کوئی چیز نہیں ابھارتی مگر حاجت پس ہم تمہارے لیے مال جمع کرتے ہیں حتی کہ تو ہمارے غنی لوگوں میں ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے محبوب ! انہیں بتائیے کہ تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی ہیں وہ مجھے غنی کرنے پر قادر ہے۔ سکن کا معنی پرسکون ہونا اور ٹھہرنا ہے مراد ہے جو ساکن ہے اور جو متحرک ہے سامع کے علم کی وجہ سے حذف کیا گیا۔ بعض علماء نے فرمایا : ساکن کو خصوصی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–18
(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں)
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔
(3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…
Read the full tafseer →مَنْ [ جو ] يُّصْرَفْ [ ہٹا لیا گیا ] عَنْهُ [ اس سے ] يَوْمَىِٕذٍ [ اس دن ] فَقَدْ رَحِمَهٗ ۭ [ تو اس نے رحم کیا ہے اس پر ] وَذٰلِكَ [ اور یہ ] الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ [ کھلی کامیابی ہے ]
Read the full tafseer →اس دن کا عذاب بہت بڑا ہے (مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ) جس سے اس دن عذاب ٹل گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر رحم فرما دیا (وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ) اور اس دن عذاب کا ٹل جانا واضح اور کھلی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
18 یہ تیسرا طریق تعلیم ہے۔ یعنی تم لوگ تو اللہ کی معرفت اور اس کی پہچان سے بےبہرہ ہو اس لیے دن رات اس کی نافرمانیوں میں منہمک ہو اور اس کے ساتھ شرک کرتے ہو اور تمہارے دلوں میں اس کے عذاب کا کوئی ڈر خطرہ نہیں لیکن مجھے تو خطرہ ہے کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں گا تو اسکے سخت عذاب کی لپیٹ میں آجاؤں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…
Read the full tafseer →مَنْ يُّصْرَفْ عَنْہُ يَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ 0ۭ وَذٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِيْنُ 16
صرف
الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152]
( ص ر) الصرف
کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے :
ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
ترکیب : ما بمعنی الذی مبتدا لمن خبر قل اللّٰہ ای ہو اللہ لیجمعنکم کلام مستانف یا الرحمۃ سے بدل اور لام جواب قسم محذوف الذین خسروا مبتدا فہم لا یؤمنون اس کی خبر اور چونکہ مبتداء میں معنی شرط تھے اس لئےخبر میں آئی لا تکونن عطف علی امرت ای قیل لی لاتکونن او علی قل ان عصیت شرط جواب محذوف یدل علیہ اخاف عذاب یوم مفعول اخاف والشرط معترض۔
تفسیر : پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں پھر کر دیکھو کہ انبیاء کے جھٹلانے والوں کا کیا انجام کار ہوا۔ نینوا اور بابل اور صمورا اور صمیدا کیسے کیسے شہر تھے ‘ ان کے لوگ کس لطف و آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دولت و حشمت کیسی تھی۔ ان کے تجملات دنیا کیا کیا تھے۔ پھر ان…
Read the full tafseer →مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہٗ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ ط وَ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُ ۔ (الانعام : 16)
(جو شخص اس دن ‘ اس (عذاب) سے دور رکھا گیا ‘ در حقیقت وہی ہے ‘ جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے ‘
اللہ کی نظر میں انسان کی اصل کامیابی
قرآن کریم نے اور بھی کئی جگہ انسان کی اس کامیابی کی خبر دی ہے کہ اقتدار کا حصول ‘ عزت و شہرت یا دولت مندی درحقیقت یہ کامیابیاں نہیں ہیں۔ یہ تو زندگی کی ضرورتوں کی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں۔ حقیقی کامیابی تو یہ ہے کہ ایک مسلمان زندگی اس طرح گزارے جس کے نتیجے میں وہ عذاب جہنم سے بچ جائے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہو اور اللہ خوش ہو کر جنت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین اور کفار سے دوسرا سوال اور اس کا جواب :
جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق اور ملکیت اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر کسی کو اس کے ماحول اور ضرورت کے مطابق روزی پہنچانے والا ہے اور سب کو کھلاتا پلاتا ہے۔ جبکہ وہ خود کھانے پینے کا محتاج نہیں تو ایسے خالق، مالک اور رازق کو چھوڑ کر اس کے سوا کسی دوسرے کو کس طرح اپنا خیر خواہ سمجھوں ؟ اگر وہ کسی کے ساتھ خیر کا ارادہ نہ کرے تو باپ کی شفقت اور ماں کا رحم بھی آدمی کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ اس لیے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے تابع کروں اور مشرکوں کے ساتھ لاتعلقی کا اظہار کروں۔ اگر اللہ تعالیٰ کے…
Read the full tafseer →آیت 16 : مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یعنی عذاب یَوْمَپذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗرحم کیا اللہ تعالیٰ نے بڑا عظیم رحم اور وہ ظاہری نجات ہے۔
قراءت : من یصرف معروف پڑھا حمزہ علی اور ابوبکر نے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس سے عذاب پھیر دیا۔ وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْمُبِیْنُاور یہ بڑی کامیابی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
آیت نمبر 17, 16, 15, 14
تفسیر :(قل اغیر اللہ اتخذ ولیا) جب نبی کریم ﷺ کو آپ کے آبائواجداد کے دین کی طرف بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے محمد ! ( ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا کسی کو میں اپنا رب اور معبود اور مدد گار بنائوں ؟ (فاطرالسموت والارض) یعنی ان کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے۔ ( وھوا یطعم والا یطعم) یعنی وہ رزق دیتا ہے اس کو رزق نہیں دیا جاتا۔ جیسا کہ خود دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ ( قل انی امرت انی اکون اول من اسلم) یعنی اس امت میں سے اور اسلام یہاں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکانے کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
آیت 13
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
22 کارساز و کارفرما سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو اپنا ولی و سرپرست اور کارساز بنا لوں ؟ جو کہ پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا ؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایسا کرنا عقل و نقل کے بھی سراسر خلاف ہے اور انصاف کے بھی منافی۔ کیونکہ اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی کارساز اور حاجت روا ہے ہی نہیں اور اس کی بیحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوجود دوسروں کو کارساز ماننا بڑا ظلم بھی ہے اور نہایت بےانصافی بھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کارساز و کارفرما اس ساری مخلوق کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
تبلیغ کے فائدے اور طریقے
تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی مراتب عالیہ کا حصول تربہت اونچا مقام ہے اگر کسی سے آخرت کا عذاب ہی ٹل جائے تو یہی اپنی جگہ بڑی کامیابی ہے
Read the full tafseer →(6:16) یصرف (ضرب) صرف۔ مصدر۔ مضارع مجہول مجزوم واحد مذکر غائب۔ صرف یصرف صرف۔ وہ ہٹا لیا جائے گا۔ وہ بچا لیا جائے گا۔ اس سے تال دیا جائیگا۔
عنہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب۔ عذاب کی طرف راجع ہے۔
فقد رحمۃ۔ تو یقینا رحم فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس پر ہ کی ضمیر من کی طرف راجع ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 :
عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 :
ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔
[8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔
[9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(ف 1) دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ کی بادشاہت میں داخل ہے وہی سنتا ہے اور وہی دل کی گہرائیوں سے آگاہ ہے ، آسمانوں کو اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے تمام مخلوق کو کھانا دیتا ہے ، اپنی ذات کے لئے اسے ایک حبہ کی ضرورت نہیں ، اس لئے عبادت اور ستائش کے لئے بھی وہی زیبا ہے ، (آیت) ” اول من اسلم سے مراد پہلا نہیں بلکہ وہ جو اسلام کا مطحی نمائندہ ہو ، یعنی م ” یرؤن الہ الاسلام :
حل لغات :
فاطر : پیدا کرنے والا ، مادہ فطرت معنی پیدائش تخلیق بعض علماء لغت کے نزدیک فطرت کے معنی بلا ذرائع طبعی کے کسی چیز کو پیدا کرنے کے ہیں ، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ زمین اور آسمانوں کو…
Read the full tafseer →-16 اس دن جس کے سر سے وہ عذاب ٹ گیا تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اس پر بڑا رحم اور اس پر بڑی مہربانی فرمائی اور یہ کھلی اور نمایاں کامیابی ہے یعنی جس پر سے اس دن عذاب ٹل گیا اور وہ اس دن کے عذاب سے محفوظ رہا تو اس کو حقیقت کامیابی نصیب ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–17
ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔
Read the full tafseer →اس دن جس کے سر سے عذاب ٹل گیا وہ یقیناً کا میاب ہوگیا :
26: اگر اس دنیا میں عذاب آتے آتے کسی سے ٹل جائے تو وہ اللہ کی رحمت بےپایاں کا مستحق ٹھہرتا ہے تو اس کے مقابلہ میں جو شخص کہ اس سے عذاب دوزخ ٹل گیا اس کی کامیابی کے کے کیا کہنے بلاشبہ وہ تو مبارکباد کا مستحق ہوگیا۔ ” اس روز جس کے سر سے عذاب ٹل گیا تو اس پر اللہ نے رحم کیا اور بڑی سے بڑی کامیابی یہی ہے “ کہ وہ دوزخ کے عذاب سے بچالیا گیا ۔ اس طرح کفار مکہ کو بھی ان کے کلام کا جواب دے دیا گیا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دنیا کے مال کا لالچ دے کر دنیا کا ایک مالدار آدمی بنا دینے کا کہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ” مجھے دولت کی آرزو نہیں اور نہ ہی دولت و…
Read the full tafseer →After that, it was said: مَّن يُصْرَفْ عَنْهُ يَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمَهُ (Whoever is spared from it that day is, indeed, blessed with His mercy). It means that the punishment of the day of Resurrection (al-Mahshar) is extremely horrendous and harsh. Whoever finds this removed from him or her should know that it was great mercy from Allah. This has been further strengthened by saying:' وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْمُبِينُ that is success, open and clear). The word, اَلفَوزُ : ` al-fawz' (success) means being admitted in Jannah (Paradise). This tells us that deliverance from punishment and…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–18
10. This remark contains a subtle sarcasm. Far from providing sustenance to their followers, the beings whom the polytheists set up as deities beside the true God were dependent upon them for their sustenance. No Pharaoh can maintain the pomp and splendour connected with his godhead unless his subjects pay their tax dues and make him other offerings. No deity can attract worshippers unless some of its devotees make an idol, place it in some magnificent temple, and decorate it lavishly. All these counterfeit gods are totally dependent upon their own servants. It is the Lord of the Universe…
Read the full tafseer →