Al-An'aam 6:17

Al-An'aam · from ayah 17

6:17

وَاِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ ؕ— وَاِنْ یَّمْسَسْكَ بِخَیْرٍ فَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۟وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ‌ؕ وَاِنۡ يَّمۡسَسۡكَ بِخَيۡرٍ فَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him. And if He touches you with good - then He is over all things competent.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:17

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر خدا تم کو کوئی سختی پہنچائے تو اس کے سوا اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر نعمت (وراحت) عطا کرے تو (کوئی اس کو روکنے والا نہیں) وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے واﻻ سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں۔ اور اگر تجھ کو اللہ تعالیٰ کوئی نفع پہنچائے تو وه ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اگر اللہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے تو خود اس کے سوا اسے دور کرنے والا کوئی نہیں، اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر تجھے اللہ کوئی برائی پہنچائے تو اس کے سوا اس کا کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر تجھے بھلائی پہنچائے تو وہ سب کچھ کرسکتا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر اﷲ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں، اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس تکلیف کو اس کے سوا کوئی دور نہیں کرسکتا اور اگر کوئی بھلائی کرنا چاہے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر اللہ تمہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کو دور کرسکے اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو کوئی اسے روکنے والا نہیں، کہ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر اللہ تجھے کوئی دکھ پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا (بھی کوئی) نہیں بجز (خود) اسی کو اور اگر وہ تجھے کوئی بھلائی پہنچائے تو وہ ہر شے پر پوری قدرت رکھنے والا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے پہنچا دی جائے کوئی تکلیف تو کوئی نہیں ہے اس کا دور کرنے والا سوائے اس کے اور اگر اس کی طرف سے کوئی خیر تمہیں پہنچا دی جائے تو یقیناً وہ ہرچیز پر قادر ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اللہ کے سوا کوئی بھی تمہیں اس نقصان سے بچا نہیں سکتا اور اگر وہ تمہیں کوئی بھلائی عطا کرے تو وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Should Allah touch you with affliction, there is none to remove it but He; and should He touch you with good, He has the power to do everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If Allah causes you harm, there is no one to remove it except He Himself; and if He causes you good, then He is powerful over everything.

— Muhammad Taqi Usmani

If Allah causes you harm, there is no one to remove it except He Himself; and if He causes you good, then He is powerful over everything.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if Allah touches you with harm, none can remove it but He, and if He touches you with good, then He is able to do all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If Allah touch thee with affliction, there is none that can relieve therefrom save Him, and if He touch thee with good fortune (there is none that can impair it); for He is Able to do all things.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And if Allah should touch you with adversity, there is no remover of it except Him. And if He touches you with good - then He is over all things competent.

— Saheeh International

(Muhammad), if God afflicts you with hardship, no one besides Him will be able to relieve you. If He bestows a favor on you, know that He has power over all things.

— Muhammad Sarwar

And if Allah touch you with affliction, there is none to take it off but He; and if He visit you with good, then He has power over all things.

— Muhammad Habib Shakir

If Allah touch thee with hurt there is no reverser thereof but he, and if he touch thee with good, then He is over everything Potent.

— Abdul Majid Daryabadi

"If Allah touch thee with affliction, none can remove it but He; if He touch thee with happiness, He hath power over all things.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–21

قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْاَنْعَام 10 اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں اسلام کا ایک بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر نفع اور نقصان کا مالک در حقیقت صرف اللہ جل شانہ ہے، کوئی شخص کسی کو حقیقت کے اعتبار سے نہ ادنیٰ نفع پہنچا سکتا ہے نہ ادنیٰ نقصان، اور ظاہر میں جو کسی کو کسی کے ہاتھ سے نفع یا نقصان پہنچتا نظر آتا ہے وہ صرف ایک ظاہری صورت اور حقیقت کے سامنے ایک نقاب سے زائد کوئی حقیقت نہیں رکھتا کار زلف تست مشک اثسائی امّا عاشقاں مصلحت راتہمتے برآ ہوئے چیں بستہ اند ؛ یہ عقیدہ بھی اسلام کے ان انقلابی عقائد میں سے ہے جس نے مسلمانوں کو ساری مخلوق سے بےنیاز اور صرف خالق کا نیاز مند بنا کر ان کی ایک ایسی بےمثال البیلی جماعت تیار کردی جو فقر و فاقہ اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ میں خطاب اگرچہ لفظاً بصیغہ واحد ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ بات اوپر والی بات ہی کی توضیح مزید کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نفع و ضرر دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہیں۔ اگر وہ کسی کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو کوئی نہیں ہے جو اس کو دور کرسکے۔ اسی طرح اگر وہ کسی کو کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو جس خیر سے چاہے بہرہ مند کردے، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کے ارادے میں مزاحم ہوسکے۔ پھر کسی اور کو مولی و مرجع بنانے اور کسی اور سے دعا و استرحام کی ضرورت کیا باقی رہی ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

17۔ 1 یعنی نفع و ضرر کا مالک، کائنات میں ہر طرح کا تصرف کرنے والا صرف اللہ ہے اور اس کے حکم و قضا کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ ایک حدیث میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد (صحیح بخاری، مسلم) جس کو تو دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے تو اس کو کوئی دینے والا نہیں اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں نفع نہیں پہنچا سکتی ' نبی ﷺ ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18) ” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “ وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

3 دنیا یا آخرت میں جو تکلیف یا راحت خدا کسی کو پہنچانا چاہے نہ کوئی مقابلہ کر کے روک سکتا ہے اور نہ اس کے غلبہ و اقتدار کے نیچے سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ وہ پوری طرح خبردار ہے کہ کس بندے کے کیا حالات ہیں اور ان حالات کے مناسب کس قسم کی کاروائی قرین حکمت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17 وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہٗٓ الاَّ ہُوَ ط اب یہ توحید کا بیان ہے۔ تکلیف میں پکارو تو اسی کو پکارو ‘ کسی اور کو نہ پکارو۔ وَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اٰخَرَ القصص : 88۔ وہی مشکل کشا ہے ‘ وہی حاجت روا ہے اور وہی تمہاری تکلیفوں کو رفع کرنے والا ہے۔ وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ کوئی اس کا ہاتھ روکنے والا نہیں ہے۔ اسے اپنے کسی بندے کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے کسی اور سے منظوری لینے کی حاجت نہیں ہوتی۔ وہ تو عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

18 اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ درد کو دور کرنے والا اور فائدہ پہنچانے والا صرف اللہ ہی ہے تو وہ کسی دوسرے کو کیوں پکارے گا یا اس کی نذر و نیاز کیوں دے گا ؟ یا اس کے آگے سر تسلیم خم کیوں کرے گا ؟ کیونکہ انسان جب بھی شرک کرتا ہے تو انہی دو باتوں کی خاطر کرتا ہے ایک فائدہ کے حصول کی خاطر دوسرے دفع مضرت۔ اگر ان دونوں باتوں کا مالک و مختار اللہ کو ہی سمجھ لے گا تو اسے شرک کی ضرورت پیش آ ہی نہیں سکتی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

24 ۔ آفرینش کا مسئلہ تو طے ہوچکا کہ اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک وسہیم نہیں۔ یہاں بیان اس کا ہورہا ہے کہ علاوہ آفرنیش کے اور سارے تصرفات واختیار ات بھی ہر وقت نفع وضرر، تکلیف و راحت کے تمام اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں۔ کوئی اس کے ارادہ میں حائل نہیں ہوسکتا۔ اور نہ کسی کو کوئی دخل و تصرف، واقعات کائنات و حوادث دہر میں ہے۔۔ بڑے چھوٹے دیوتاؤں، خدائی کے سارے شریکوں کی نفی اس میں آگئی ہے۔ (آیت) ” ان یمسسک اللہ بضر “۔ یہ امساس ضرر اپنے مطلق معنی میں ہے دنیا میں ہو خواہ آخرت میں بہ طور جزاء ہو یا تکوینی مصلحت سے۔ یمسسک۔ کاشف۔ امساس اور کشف دونوں یہاں حق تعالیٰ کے سلسلہ میں اپنے مجازی معنی میں ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ہو اور اگر تجھ کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا دور کرنے والا سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں ضُرّبمعنی شدت جیسے مفلسی ‘ بیماری ‘ عذاب فلا کاشف سے یہ مراد ہے کہ اس کو دور کرنے پر کوئی قادر نہ ہوگا (یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی تکلیف کو سوائے اس کے کوئی دوسرا دور نہیں کرسکتا) ورنہ خدا کی کمزوری لازم آئے گی اور کمزوری ‘ الوہیت اور واجب الوجود ہونے کے منافی ہے۔ وان یمسسک بخیر فہو علی کل شی قدیر اور اگر تجھ کو اللہ کوئی نفع پہنچائے تو وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔ خیر۔ بھلائی خواہ عافیت ہو صحت ہو دولت ہو یا کچھ اور۔ یعنی اللہ کے قابو میں سب کچھ ہے پس خیر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

(17۔ 18) اور اے لوگو ! تمہیں اگر اللہ تعالیٰ کسی سختی یا تنگی میں مبتلا کردیں تو ان کے علاوہ کوئی اور اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ کوئی نعمت عطا کریں تو وہ سختی اور تنگی نعمت ومالداری پر قدرت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہیں اور ان کے امور وقضا میں بڑی حکمت والے اور مخلوق اور ان کے اعمال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ۔۔ : اس آیت سے شرک کی جڑ کٹ گئی۔ کیونکہ جس انسان کا یہ عقیدہ پختہ ہوجائے کہ دکھ اور تکلیف کو دور کرنے والا اور ہر قسم کی خیر کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر وہ دوسروں کے آگے سجدے کرنا اور ان کی قبروں پر نذرانے چڑھانا اور سمجھنا کہ وہ حاجتیں پوری کرسکتے ہیں، بہت بڑی حماقت سمجھے گا۔ قرآن نے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ ہر قسم کا نفع و ضرر اللہ کے ہاتھ میں ہے، اس پر عقیدہ پختہ ہوجائے تو انسان شرک میں مبتلا نہیں ہوتا۔ مزید دیکھیے سورة اعراف (188) ، یونس (104 تا 107) ، فاطر (2) ، سورة زمر (38) اور سورة جن (21)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 17 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و ان یمسسک اللہ بضرفلاکاشف لہ الا ھو، المس اور الکشف، اجسام کی صفات سے ہیں یہاں مجازا استعمال ہوا ہے معنی یہ ہے کہ اے محمد ﷺ ! آپ پر فقریا مرض کی شدت نازل ہو تو اللہ تعالیٰ کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر آپ کو عافیت، خوشحالی، نعمت ملے تو اللہ تعالیٰ خیر اور شر پر قادر ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے فرمایا : میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا، آپ ﷺ نے فرمایا :" اے غلام ! یا فرمایا : اے میرے بیٹے ! کیا میں تجھے ایسے کلات نہ سکھائوں جن کے ساتھ تجھے اللہ تعالیٰ نفع دے "۔ میں نے کہا : ضرور کرم فرمایئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا :" اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِنْ [ اور اگر ] يَّمْسَسْكَ [ چھوئے تجھ کو ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِضُرٍّ [ کسی تکلیف سے ] فَلَا كَاشِفَ [ تو کوئی بھی دور کرنے والا نہیں ہے ] لَهٗٓ [ اس کو ] اِلَّا [ مگر ] هُوَ ۭ [ وہی ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّمْسَسْكَ [ وہ چھوئے تجھ کو ] بِخَيْرٍ [ کسی بھلائی سے ] فَهُوَ [ تو وہ ] عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ [ ہر چیز پر ] قَدِيْرٌ [ قدرت رکھنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ضرر اور خیر صرف اللہ تعالیٰ ہی پہنچا سکتا ہے : اس کے بعد فرمایا (وَ اِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ ) (الآیۃ) کہ اے مخاطب ! اگر اللہ تجھے کوئی ضرر دکھ یا تکلیف پہنچا دے تو اسے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی بھی دور کرنے والا نہیں۔ اور اگر وہ کوئی خیر (صحت و غناء وغیرہ) پہنچا دے تو اسے کوئی روکنے والا نہیں (فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِہٖ ) اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اسے چھوڑ کر جو غیروں کی عبادت کرتے ہو۔ انہیں تو خیر و شر پہنچانے کی کچھ بھی قدرت نہیں ہے۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ رکوع سے سر اٹھا کر جو اللہ کی حمد ثنا بیان کرتے تھے اس میں یہ بھی تھا۔ (اَللّٰھُمَّ لَا مَانِعًا لِمَآ اَعْطَیْتَ وَ لَا مُعْطِیً…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19 یہ مسئلہ توحید پر چوتھی عقلی دلیل ہے ضُرٌّ سے مراد ہر تکلیف ہے۔ مثلاً بیماری، تنگدستی، مصیبت وغیرہ اسی طرح خیر سے ہر وہ بھلائی مراد ہے جس سے انسان کو خوشی اور سرور حاصل ہو۔ مثلاً تندرستی، دولت، آرام و راحت وغیرہ۔ آیت میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن مراد ہر مخاطب ہے۔ یعنی اگر اللہ کی طرف سے کوئی مصیبت یا تکلیف آجائے تو اللہ کے سوا کوئی اسے دور نہیں کرسکتا نہ کوئی پیغمبر، نہ ولی اور نہ کوئی فرد اور جن اور اگر اللہ تعالیٰ آرام و راحت پہنچانا چاہے تو اسے بھی کوئی نہیں روک سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ تکلیف پہنچانے پر بھی اور خیر پہنچانے پر بھی۔ فَھُوَ عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–18

گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِنْ يَّمْسَسْكَ اللہُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ہُوَ۝ 0ۭ وَاِنْ يَّمْسَسْكَ بِخَيْرٍ فَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۝ 17 مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–19

ترکیب : وان یمسسک شرط فلا کاشف جواب ھو مبتدا القاھر خبر فوق یا خبر ثانی ہے یا بدل ہے خبر سے یا حال ہے۔ ای شیء مبتداء اکبر شہادۃ تمیز اللّٰہ مبتداء خبر محذوف ای اکبر شہادۃ۔ تفسیر : واضح ہو کہ انسان جو خدا کے سوا کسی اور معبود کو پوجتا ہے تو اس کو نافع و ضار سمجھ کر اور طبائعِ عامہ میں جو بت پرستی نے رواج پایا تو اسی امید نفع و خوف نقصان سے کہ یہ معبود ہم کو اولاد و تندرستی و فراخدستی دیتے ہیں اور جو ان کی نذر و نیاز نہیں کرتا تو اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھر اس پر جاہلوں میں سینکڑوں جھوٹے افسانے جو ان کے خیال کے مؤیّد ہیں ٗ مشہور ہوتے ہیں یا کسی کے اندر ایسے کمالات ذاتیہ صفاتیہ تصور کرکے جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللہ ُ بِضُرِّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗٓ اِلَّا ھُوَ ط وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍ فَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ۔ (الانعام : 17) (اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘) کامیاب زندگی گزارنے کی کنجی جو بات اس آیت کریمہ میں کہی گئی ہے کہ آدمی اپنے نفع و ضرر کا مالک صرف اللہ ہی کو سمجھے۔ یہ عقیدہ توحید کی آخری بات ہے اور اس کے قبول کرنے اور اسے اختیار کرلینے کے بعد زندگی مکمل تبدیل ہوجاتی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسے قبول کرنے میں تو شاید…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ہی جزا و سزا اور رحم و کرم کا مالک نہیں بلکہ دنیا میں بھی خیر و شر کا اختیار رکھنے والا ہے۔ خیر و شر کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو نقصان سے آپ کو بچا سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو بھلائی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے آپ کو براہ راست مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب رسول معظم ﷺ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکے۔ یہ ایسا عقیدہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نفع و ضرر پر اختیار اسی کو ہے : آیت 17 : وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ۔ ضر سے مراد مرض یا فقر یا اور اسی قسم کی آزمائش فَـلَا کَاشِفَ لَہٓٗ اِلاَّ ہُوَکوئی اس کے سوا اس کو دور کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔ وَاِنْ یَّمْسَسْکَ بِخَیْرٍجیسے عنایت اور صحت۔ فَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌتو وہ اس کے دوام اور ازالہ پر قدرت رکھتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 14–17

آیت نمبر 17, 16, 15, 14 تفسیر :(قل اغیر اللہ اتخذ ولیا) جب نبی کریم ﷺ کو آپ کے آبائواجداد کے دین کی طرف بلایا گیا تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے محمد ! ( ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا کسی کو میں اپنا رب اور معبود اور مدد گار بنائوں ؟ (فاطرالسموت والارض) یعنی ان کا خالق اور ایجاد کرنے والا ہے۔ ( وھوا یطعم والا یطعم) یعنی وہ رزق دیتا ہے اس کو رزق نہیں دیا جاتا۔ جیسا کہ خود دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، میں ان سے کسی رزق کا ارادہ نہیں کرتا اور نہ یہ ارادہ کرتا ہوں کہ وہ مجھے کھانا کھلائیں۔ ( قل انی امرت انی اکون اول من اسلم) یعنی اس امت میں سے اور اسلام یہاں اللہ کے حکم کے آگے سرجھکانے کے معنی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–18

(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–20

آیت 13 معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

26 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ پس وہ جو چاہے اور جب چاہے کرے۔ اور جہاں اور جیسے چاہے کرے۔ نہ کوئی اس کو روکنے والا نہ پوچھنے والا کہ اس کی شان ہے ۔ { لا یُسْْأَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَہُمْ یُسْْئَلُوْنَ } مگر اس کا ہر کام کمال علم وحکمت پر مبنی ہوتا ہے کہ وہ قاہر ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم اور خبیر بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ پس مومن صادق کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اپنا تکیہ اور بھروسہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ ہر چیز اسی سے مانگے اور ہر حال میں اسی سے مانگے کہ وہ جو دینا چاہے کوئی اس کو اس سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–21

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 پھر دوسروں کے آگے سجدے کرنا اور ان کی قبروں پر نذرانے چڑھانا اور سمجھنا کہ وہ حاجات پوری کرسکتے ہیں بہت بڑی حماقت ہے قرآن نے اس بات پر خصوصیت کے ساتھ زوردیا ہے کہ ہر قسم کا نفع وضرر اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر عقیدے پختہ ہو تو انسان شرک میں مبتلا نہیں ہوتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:17) یمسک۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان۔ واحد مذکر غائب مس سے (باب سمع) لگائے۔ پہنچائے۔ المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہے لیکن مس کا لفظ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب حاسۂ لمس کے ساتھ اس کا ادراک بھی ہو۔ ۔۔ عورت سے مجامعت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے انی یکون لی ولد ولم یمسسنی بشر (3:47) میرے ہاں بچہ کیونکر ہوگا حالانکہ کسی انسان نے ہاتھ تو لگایا نہیں (یعنی میرے ساتھ مجامعت نہیں کی) آیت ہذا کے معنوں میں مستھم الباساء والضراء (2:214) ان کو بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کاشف۔ اسم فاعل مفرد۔ کاشفون اور کاشفین جمع قیاسی۔ کشف کھولنا۔ ظاہر کرنا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–20

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 : عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 : ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–19

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

کاشف ضر صرف اللہ ہے : (ف 1) تمام بندوں پر اللہ کی حکومت ہے سب کے مصالح سے وہ آگاہ ہے ، اس کی طرف سے جب کوئی تکلیف آئے تو پھر کسی شخص کی مجال نہیں کہ اسے دور کرسکے ، اور جب وہ کسی کو آزمائش وابتلا میں ڈال دے تو پھر کون ہے جو اسے ابتداء وآزمائش سے نکال باہر کرسکے ۔ اس لئے مسلمانوں کو ادہام سے بچنا چاہئے اور یہ مضبوط عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ہر خیر اور ہر شر اللہ کی جانب سے ہے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-17 اور اے انسان اگر اللہ تعالیٰ تجھ کو کوئی سختی اور تکلیف پہونچائے تو اس کو سوائے اس کے کوئی اور دور کرنے والا اور کھولنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تجھ کو کوئی بھلائی پہونچائے اور کس فائدے سے تجھ کو نوازے تو وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے یعنی کوئی اس کے فضل کو رد نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 9–17

ف 5۔ یعنی اس فرشتہ کو بشر سمجھ کر پھر وہی اعتراض کرتے غرض نزول ملک سے ان کا نفع تو کچھ نہ ہوتا کیونکہ ان کا شباہ بحالہ باقی رہتا اور انکاضرور ہوتا کہ ہلاک کردیے جاتے اس لیے ہم نے اس طرح نازل نہیں کیا خلاصہ یہ کہ غایت عناد سے ایسی باتیں کرتے ہیں جو ہدایت وضوح حق کا طریق نہیں اور جو اس کا طریق ہے کہ آیات و معجزات موجودہ میں غور کرنا اس سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دکھ اور سکھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور وہی قادرمطلق ہے : 27: جب تک انسان ہے نفع وضرر بھی لازم ہے پھر انسان کا پیدا کرنے والا وہی نفع و ضرور کا خالق ہے ۔ انسان کو چونکہ ایک حد تک اختیار دیا گیا ہے اس لئے وہ جس کو چاہتا ہے نفع کا مالک قرار دے دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نقصان کا لیکن فی نفسہ نفع و ضرر کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا کہ ” نفع “ جس کو چاہے اس کو جا پکڑے اور ” ضرر “ جس کو چاہئے اس کو چھولے۔ نہیں وہ اللہ کے حکم کا ہر لحاظ سے پابند ہے اس لئے وہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور اس نے اس کیلئے جو قانون بنا دیا ہے وہ اس قانون کے مطابق کام کر رہا ہے وہ جس کو دکھ پہنچا دے اس کو کوئی سکھ نہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

All Gain and Loss Comes from Allah: A Cardinal Muslim Belief In the third verse (17), a basic article of faith in Islam has been described - that it is Allah, in reality, who is the Master-Dispenser of all gain and loss. No one can ` really' bring the least benefit to anyone, nor cause the least harm. As for the outward manifestation of gain or loss, benefit or harm, seen coming from one person to the other, is no more than a matter of appearances. Seen in the full flash of reality, this does not hold out any more than a ready-to-vanish curtain. So succinctly the idea was put in a Persian…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

10. This remark contains a subtle sarcasm. Far from providing sustenance to their followers, the beings whom the polytheists set up as deities beside the true God were dependent upon them for their sustenance. No Pharaoh can maintain the pomp and splendour connected with his godhead unless his subjects pay their tax dues and make him other offerings. No deity can attract worshippers unless some of its devotees make an idol, place it in some magnificent temple, and decorate it lavishly. All these counterfeit gods are totally dependent upon their own servants. It is the Lord of the Universe…

Read the full tafseer →