Al-An'aam 6:18

Al-An'aam · from ayah 18

6:18

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ؕ— وَهُوَ الْحَكِیْمُ الْخَبِیْرُ ۟وَهُوَ الۡقَاهِرُ فَوۡقَ عِبَادِهٖ‌ ؕ وَهُوَ الۡحَكِيۡمُ الۡخَبِيۡرُ

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And He is the subjugator over His servants. And He is the Wise, the Acquainted [with all].

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:18

وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہ دانا اور خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وہی اللہ اپنے بندوں کے اوپر غالب ہے برتر ہے اور وہی بڑی حکمت واﻻ اور پوری خبر رکھنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ اپنے بندوں کے اوپر مکمل اقتدار رکھتا ہے، اور وہ حکیم بھی ہے، پوری طرح باخبر بھی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہی غالب ہے اپنے بندوں پر، اور وہی ہے حکمت والا خبردار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے، اور وہ بڑی حکمت والا خبردار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے اور وہی کمال حکمت والا، ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ اپنے بندوں پر پورا اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور خبر رکھنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہی (وحدہ لاشریک) ہے غالب (اور کنٹرول رکھنے والا) اپنے بندوں پر، اور وہی ہے حکمتوں والا، پورا باخبر،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ غالب ہے اپنے بندوں کے اوپر اور وہ بڑا صاحب حکمت ہے بڑا باخبر ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح سے غالب ہے اور وہ ہے کمال حکمت والا اور ہر شے کی خبر رکھنے والا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ اپنے بندوں پر پورے اختیارات رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He has the supreme hold over His servants. He is All-Wise, All-Aware.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He is Dominant over His servants, and He is the All-Wise, the All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

He is Dominant over His servants, and He is the All-Wise, the All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And He is the Irresistible, above His servants, and He is the All-Wise, Well-Acquainted with all things.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He is the Omnipotent over His slaves, and He is the Wise, the Knower.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And He is the subjugator over His servants. And He is the Wise, the Acquainted [with all].

— Saheeh International

He is Wise, Well Aware and Dominant over all His creatures.

— Muhammad Sarwar

And He is the Supreme, above His servants; and He is the Wise, the Aware.

— Muhammad Habib Shakir

He is the Supreme above His creatures; and He is the Wise, the Aware.

— Abdul Majid Daryabadi

"He is the irresistible, (watching) from above over His worshippers; and He is the Wise, acquainted with all things."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–21

قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–18

سورة الْاَنْعَام 10 اس میں ایک لطیف تعریض ہے۔ مشرکوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا خدا بنا رکھا ہے وہ سب اپنے ان بندوں کو رزق دینے کے بجائے الٹا ان سے رزق پانے کے محتاج ہیں۔ کوئی فرعون خدائی کے ٹھاٹھ نہیں جما سکتا جب تک اس کے بندے اسے ٹیکس اور نذرانے نہ دیں۔ کسی صاحب قبر کی شان معبودیت قائم نہیں ہو سکتی جب تک اس کے پرستار اس کا شاندار مقبرہ تعمیر نہ کریں۔ کسی دیوتا کا دربار خداوندی سج نہیں سکتا جب تک اس کے پجاری اس کا مجسمہ بنا کر کسی عالی شان مندر میں نہ رکھیں اور اس کو تزئین و آرائش کے سامانوں سے آراستہ نہ کریں۔ سارے بناؤٹی خدا بیچارے خود اپنے بندوں کے محتاج ہیں۔ صرف ایک خداوند عالم ہی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آخر آیت میں فرمایا وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قادر ہے، اور سب اس کے تحت قدرت اور محتاج ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول مقرب ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ ہو اپنے ہر ارادہ میں کامیاب نہیں ہوتا، اور اس کی ہر مراد پوری نہیں ہوتی۔ وہ حکیم بھی ہے کہ اس کے تمام افعال عین حکمت ہیں، اور ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے، اس میں لفظ ”قاہر“ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اور لفظ ”حکیم“ سے اس کے علم محیط کا بیان کرکے بتلا دیا کہ تمام صفات کمال علم وقدرت میں منحصر ہیں اور اللہ تعالیٰ ان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ، قہر، کا لفظ عربی میں اس معنی میں بالکل نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار اور قابو، حکومت اور تسلط میں رکھنے کے آتے ہیں۔ انگریزی میں لفظ Control کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم عربی میں اس لفظ کا ہے۔ اسی سے لفظ ‘ قہار ’ مبالغہ کا صیغہ ہے جو اسمائے حسنی میں سے ہے جس کے معنی Contrller کے ہیں۔ یعنی تمام جہان اور اس کے تمام بندے ہر آن اس کی مٹھی اور اس کے قابو میں ہیں۔ وہ ان کو قابو میں رکھنے کے لیے نہ کسی مددگار کا محتاج ہے اور نہ اس امر کا اندیشہ ہے کہ جب وہ ان کو پکڑنا چاہے یا اکٹھا کرنا چاہے تو کوئی اس کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ آگے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی تمام گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں، بڑے بڑے جابر لوگ اس کے سامنے بےبس ہیں، وہ ہر چیز پر غالب ہے اور تمام کائنات اس کی مطیع ہے وہ اپنے ہر کام میں حکیم ہے اور ہر چیز سے باخبر ہے، پس اسے معلوم ہے کہ اس کے احسان و عطا کا کون مستحق ہے اور کون غیر مستحق۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18) ” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “ وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 17–18

3 دنیا یا آخرت میں جو تکلیف یا راحت خدا کسی کو پہنچانا چاہے نہ کوئی مقابلہ کر کے روک سکتا ہے اور نہ اس کے غلبہ و اقتدار کے نیچے سے نکل کر بھاگ سکتا ہے۔ وہ پوری طرح خبردار ہے کہ کس بندے کے کیا حالات ہیں اور ان حالات کے مناسب کس قسم کی کاروائی قرین حکمت ہوگی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہ ٖط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ وہ زور آور ہے ‘ اس کا اقتدار پوری کائنات پر محیط ہے ‘ اس کی مخلوقات میں سے کوئی بھی اس کے قابو سے باہر نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 یعنی کوئی شخص غلبہ و اقتدار کے پنجے سے نکل نہیں سکتا، نہ کہیں بھاگ کر جاسکتا ہے۔ لہذا بندوں کے لئے بہتر روش یہی ہے کہ اسکے آگے سر تسلیم خم کردیں۔ وہ بندوں کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ ان کے لئے کونسی کارروائی مناسب ہوگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

25 ۔ ربوبیت کے لیے جن اوصاف کی ضرورت ہے۔ وہ سب صرف اسی کی ذات میں جمع ہیں۔ یہ کیسی شدید حماقت ہے کہ ایسی ذات کامل الصفات کے ساتھ کسی کی شرکت روا رکھی جائے، وھو القاھر یفید الحصر ومعناہ انہ لا موصوف بکمال القدرۃ و کمال العلم الاالحق سبحانہ وتعالیٰ (کبیر) (آیت) ” ھو القاھر فوق عبادہ “۔ قدرت وقوت کے لحاظ سے وہی ساری مخلوقات پر غالب ہے۔ قھر کے معنی غلبہ حاکمانہ کے ہیں۔ القھر الغلبۃ والقاھر الغالب وفی القھر معنی زائد لیس فی القدرۃ وھو منع غیرہ عن بلوغ المراد (قرطبی) القاھر والغلبۃ علیھم ای ھم تحت تسخیرہ لافوقیۃ مکان (قرطبی) وجب حمل تلک الفوقیۃ علی فوقیۃ القدرۃ لاعلی فوقیۃ الجھۃ (کبیر) (آیت) ”…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وہو القاہر اور وہی غالب ہے۔ قہر اس غلبہ کو کہتے ہیں جس میں مغلوب کا عاجز ہونا بھی سمجھ میں آتا ہو اور قدرت کا معنی ہے قادر کے ارادہ کے خلاف ارادہ کرنے والے کو اس کے مقصد سے روک دینا۔ قدرت کے مفہوم سے قہر کے معنی میں کچھ بیشی ہے (کیونکہ قدرت کے مفہوم سے مقدور کا عجز ظاہر نہیں ہوتا اور قہر کے مفہوم میں مقہور کا عجز لازم ہے) فوق عبادہ وہی اپنے بندوں سے بالا ہے۔ یہ دوسری خبر ہے (اوّل خبر القاہر ہے) لفظ فوق سے قاہر اور برتر ہونے کی تصویر کشی ہو رہی ہے۔ وہو الحکیم اور وہی حکمت والا ہے۔ اپنے حکم کی حکمت سے واقف ہے۔ الخبیر .(ہر چیز سے) باخبر ہے کوئی شے اس سے مخفی نہیں۔ کلبی نے بیان کیا ہے کہ کچھ مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

(17۔ 18) اور اے لوگو ! تمہیں اگر اللہ تعالیٰ کسی سختی یا تنگی میں مبتلا کردیں تو ان کے علاوہ کوئی اور اسے دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ کوئی نعمت عطا کریں تو وہ سختی اور تنگی نعمت ومالداری پر قدرت رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہیں اور ان کے امور وقضا میں بڑی حکمت والے اور مخلوق اور ان کے اعمال سے پوری طرح آگاہ ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ۔۔ : یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے۔ (رازی) مطلب یہ ہے کہ سب لوگ، خواہ بڑے سے بڑے جابر ہوں، اس کے سامنے بےبس ہیں، تمام گردنیں اس کے آگے جھکی ہوئی ہیں، وہ ہر ایک پر غالب ہے اور ساری کائنات اس کی مطیع ہے۔ صفات کمال دو ہیں، قدرت اور علم، پہلے جملے (وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور دوسرے جملے (وَهُوَ الْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ) سے کمال علم ثابت ہوتا ہے، یعنی وہ اپنے احکام میں کمال حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات کی پوری خبر رکھنے والا ہے۔ (رازی) اس لیے غلبہ و تسلط کے باوجود اپنی مخلوق کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 18–19

آیت 18 تا 19 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت ؛ وھو القاھرفوق عبادہ، القھر کا معنی غلبہ ہے۔ القاھر کا معنی غالب ہے۔ اقھر الرجل بولا جاتا ہے جب کوئی مجبور کر کے ذلیل کیا جائے۔ شاعر نے کہا۔ تمنی حصین ان یسود جذاعہ فامسی حصین قد اذل و اقھرا قھر کا معنی ہے مغلوب کیا گیا۔ فوق عبادہ غلبہ کے ساتھ فوقیت مراد ہے، یعنی تمام بندے اس کے حکم کے تحت مسخر ہیں۔ فوقیت سے مراد فوقیت مکانی مراد نہیں ہے، جیسے تو کہتا ہے : السلطان فوق رعیتہ یعنی سلطان منزل و رفعت کے اعتبار سے رعیت سے بلند ہے۔ قہر میں ایک زائد معنی ہے جو قدرت میں نہیں ہے وہ ہے کسی کو مراد حاصل کرنے سے روک دینا۔ وھو الحکیم وہ اپنے امر میں حکیم ہے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 13–18

(1) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ولہ ما سکن فی الیل والنھار کے بارے میں فرمایا جو رات میں یا دن میں ساکن ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت قل اغیر اللہ اتخذ ولیا کے بارے میں فرمایا کہ یہاں سے ولی سے مراد ایسا ولی ہے جسے ولی بنا کر اس کی ربوبیت کا اقرار کیا جائے۔ (آپ فرما دیجئے کیا میں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا رب بنالوں) (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت فاطر السموت والارض یعنی بغیر نمونے کے پیدا کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کو۔ (3) امام ابو عبید نے فضائل میں، ابن جریر اور ابن الانباری…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَهُوَ [ اور وہ ] الْقَاهِرُ [ غالب ہے ] فَوْقَ عِبَادِهٖ ۭ [ اپنے بندوں پر ] وَهُوَ [ اور وہ ] الْحَكِيْمُ [ حکمت والا ہے ] الْخَبِيْرُ [ باخبر ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ ) (اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور حکمت والا ہے باخبر ہے، وہ جسے جس حال میں رکھے اسے اختیار ہے وہ حکیم ہے سب کچھ اس کی حکمت کے موافق ہے اور وہ خبیر بھی ہے سب کے احوال و اعمال کا اسے علم ہے جس کے ساتھ جو بھی معاملہ ہے حکمت کے موافق ہے اور علم کے مطابق ہے۔ )

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–18

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل لمن ما فی السماوات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں توحید کا بیان تھا اب پھر اس کی طرف عود فرماتے ہیں اور توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال کرتے ہیں اور یہ بتلاتے ہیں کہ تمام مکانیات اور تمام زمانیات سب اللہ ہی کی ملک ہیں قل لمن ما فی السماوات والارض سے ظرف مکان کی تمام مظر وفات کی ملکیت کو بیان کیا ہے مطلب یہ ہوا کہ سب کون ومکان اور زمین وزمان سب اسی کی ملک ہیں چناچہ فرماتے ہیں اے نبی کریم آپ ان معاندین سے بطور الزام واتمام حجت یہ پوچھیے کہ کس کی ملک ہیں جو کچھ آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے اول تو وہ خود ہی یہ جواب دیں گے کہ یہ سب اللہ کی ملک ہے۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

20 یہ بھی دلیل ہی کا حصہ ہے اور وہ کسی کے سامنے عاجز و مغلوب نہیں ہوسکتا۔ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ اور وہی حکمت والا اور وہی ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ تینوں صفتوں کے صیغوں پر الف لام افادہ حصر کیلئے ہے واللام ھنا و فیما تقدم للقصر (ص 117 ج 7) اس عقلی دلیل سے اللہ تعالیٰ کا کمال قدرت اور کمال علم ثابت ہوگیا۔ لہذا جب اس کے سوا کوئی قادر مطلق اور غیب دان نہیں تو اس کے سوا کارساز بھی کوئی نہیں۔ وَھُوَالْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ اشارۃ الی کمال القدرۃ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْر اشارۃ الی کمال العلم (بحر ج 4 ص 89) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 12–18

گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہُوَالْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ۝ 0ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ۝ 18 قهر القَهْرُ : الغلبة والتّذلیل معا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَهُوَ الْقاهِرُ فَوْقَ عِبادِهِ [ الأنعام/ 18] ، وقال : وَهُوَ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [ الرعد/ 16] ، فَوْقَهُمْ قاهِرُونَ [ الأعراف/ 127] ، فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلا تَقْهَرْ [ الضحی/ 9] أي : لا تذلل، وأَقْهَرَهُ : سلّط عليه من يقهره، والْقَهْقَرَى: المشي إلى خلف . ( ق ھ ر ) القھر ۔ کے معنی کسی پر غلبہ پاکر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور ان دنوں ( یعنی غلبہ اور تذلیل ) میں ستے ہر ایک معنی میں علیدہ علیدہ بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَهُوَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–19

ترکیب : وان یمسسک شرط فلا کاشف جواب ھو مبتدا القاھر خبر فوق یا خبر ثانی ہے یا بدل ہے خبر سے یا حال ہے۔ ای شیء مبتداء اکبر شہادۃ تمیز اللّٰہ مبتداء خبر محذوف ای اکبر شہادۃ۔ تفسیر : واضح ہو کہ انسان جو خدا کے سوا کسی اور معبود کو پوجتا ہے تو اس کو نافع و ضار سمجھ کر اور طبائعِ عامہ میں جو بت پرستی نے رواج پایا تو اسی امید نفع و خوف نقصان سے کہ یہ معبود ہم کو اولاد و تندرستی و فراخدستی دیتے ہیں اور جو ان کی نذر و نیاز نہیں کرتا تو اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھر اس پر جاہلوں میں سینکڑوں جھوٹے افسانے جو ان کے خیال کے مؤیّد ہیں ٗ مشہور ہوتے ہیں یا کسی کے اندر ایسے کمالات ذاتیہ صفاتیہ تصور کرکے جو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اسی بات کی تائید ‘ استحکام اور مزید وضاحت کے لیے ارشاد فرمایا : وَھُوَ القَاھِرُ فَوْقَ عَبَادِہٖ ط وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (الانعام : 18) (اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم وخبیر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ہی اپنے سب بندوں پر غالب و قاد رہے۔ سب اس کے قبضہ اختیار اور اس کے کنٹرول میں ہے ‘ سب اس کی قدرت کے تحت اور محتاج ہیں یہی وجہ ہے کہ دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا انسان خواہ اللہ کا رسول ہو اور خواہ وہ دنیا کا شہنشاہِ اعظم ہو ‘ اپنے ہر ارادہ میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا اور اس کی ہر مراد کبھی پوری نہیں ہوتی۔ آیت میں قاھر کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کو سمجھ لینا چاہیے۔ قہر کا لفظ عربی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–18

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ آخرت کے دن ہی جزا و سزا اور رحم و کرم کا مالک نہیں بلکہ دنیا میں بھی خیر و شر کا اختیار رکھنے والا ہے۔ خیر و شر کے اختیار کا ذکر کرتے ہوئے براہ راست نبی ﷺ کو مخاطب کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی ہستی نہیں جو نقصان سے آپ کو بچا سکے۔ اگر اللہ تعالیٰ آپ کو بھلائی اور بہتری عطا کرنا چاہے تو زمین و آسمان میں کوئی طاقت نہیں جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے آپ کو براہ راست مخاطب کرنے کا معنی یہ ہے کہ جب رسول معظم ﷺ اپنے نفع و نقصان کے مالک نہیں تو دنیا میں کون ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا سکے۔ یہ ایسا عقیدہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

نحوی ترکیب : آیت 18 : وَہُوَ الْقَاہِرُ یہ مبتداء اور خبر ہے۔ یعنی غالب و مقتدر ہے۔ فَوْقَ عِبَادِہٖیہ دوسری خبر ہے یعنی ان پر قدرت سے غالب ہے۔ القہر مراد کو پالینا۔ جبکہ دوسرا اس کو پالینے میں رکاوٹ ہو۔ وَہُوَ الْحَکِیْمُ اپنے مقصد کے نفاذ میں۔ الْخَبِیْرُ اپنے بندوں میں سے اہل قہر کو جاننے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 18–20

آیت نمبر 20, 19, 18 تفسیر : (وھوالقاھر فوق عبادہ) وہ غالب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تدبیر میں منفرد ہے۔ مخلوق کو اپنی تدبیر پر مجبور کرتا ہے۔ فوق عبادہ یہ غلب کی صفت ہے جو تنہا اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کے معنی میں قدرت کے معنی سے زیادتی ہے۔ اس کا معنی دوسرے کو مراد کے پہنچنے سے روکنا ( وھوالحکیم) اپنے کاموں میں (الخبیر) اپنے بندوں کے اعمال کی۔ (قل ای شیء اکبر شھادۃ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ والے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہمیں وہ شخص دکھائیں جو یہ گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں کیونکہ ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ک وہ آپ کی تصدیق کرتا ہو اور ہم نے آپ کے بارے میں یہود و نصاریٰ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–18

(12 ۔ 18) ۔ اوپر ذکر تھا کہ آسمان زمین انسان اور اس کی ضرورت کی چیزیں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں کوئی اس کا شریک نہیں لیکن یہ مشرک لوگ زبر دستی سوا اللہ تعالیٰ کے بلا استحقاق اوروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہرا کر اس کی تعظیم اور عبادت میں ان کو شریک کرتے ہیں۔ ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے دریافت تو کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ انہوں نے اپنے بتوں سے رات دن مینہ برسنے کی التجا کی اور ایک بوند نہ پڑی آخر اے رسول اللہ کے جب تمہارے دعا سے اللہ نے اپنا رحم کیا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–20

آیت 13 معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

27 " القاہر " سے مقصود و مراد ؟ : یعنی قہر سے یہاں پر ظلم و زیادتی والا قہر مراد نہیں، جیسا کہ ہمارے محاورے میں بولا اور سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح کے ہر قہر اور ظلم و زیادتی کے ہر شائبہ سے وہ ربِّ غفور و رحیم پاک اور بلند وبالا ہے۔ بلکہ قہر سے یہاں پر مراد ہے غلبہ و کنٹرول کہ وہ اپنے بندوں پر پوری طرح غالب اور حاوی اور ان پر کنٹرول رکھنے والا ہے۔ وہ ان کی جملہ حوائج و ضروریات کا کفیل اور قیوم ہے۔ اور اس کا غلبہ و کنٹرول اپنے سب بندوں اور تمام مخلوق پر ہے اور پوری طرح ہے۔ نہ کوئی اس کے غلبہ و کنٹرول سے نکل سکتا ہے اور نہ کوئی اس کے کسی حکم و ارشاد کو ٹال سکتا ہے اور نہ ہی کسی میں اس کی مشبت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 12–21

تبلیغ کے فائدے اور طریقے تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔ اسرار و معارف : ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو ولی نہیں بنانا چاہیے (رازی) یعنی عرش معلی ٰ پر جر تمام مخلوقات سے بالا ہے اہل حدیث اللہ تعالیٰ کے فق الفوق ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں احادیث صحیحہ میں بھی اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا بیان ہے اور یہ عرش آسمانوں کے اوپر ہے۔ ( وحیدی) صفات کمال دوہی ہیں قدرت اور علم پہلے جملہ وھو القاھر فمق عبادہ) میں کمال قدرت کی طرف اشارہ ہے اور (الحکیم الخبیر) سے کمال علم کا ثبات مقصود ہے۔ (رازی) ج یعنی اپنے احکام دینے میں حکمت والا اور اپنے بندوں کے معاملات اور ضروریات سے باخبر ہے !

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:18) القاھر۔ القھر کے معنی کسی پر غلبہ پا کر اسے ذلیل کرنے کے ہیں اور تذلیل و غلبہ ہر دو کے معنی میں علیحدہ علیحدہ بھی استعمال ہوتا ہے۔ آیت ہذا میں معنی یہ ہوں گے۔ وہ اپنے بندوں پر غالب ہے۔ واما الیتیم فلا تقھر (93:9) تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرو۔ یعنی اسے ذلیل نہ کرو القاھر خبر ہے ھو مبتدا کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–20

لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 : عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔ تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 : ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–18

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے ذرا دریافت کرو کہ آخر ان کے نزدیک آسمان و زمین میں کس کی بادشاہت ہے۔ مکہ کے قحط کے وقت یہ تو ان لوگوں کو اچھی طرح تجربہ ہوچکا ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے آسمان و زمین میں کسی ار کی بادشاہت نہیں ہے ؟ اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان لوگوں کے قائل کرنے کے طور پر ہی ان سے کہ دو کہ آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے جس میں تم لوگوں کے بتوں کی کچھ شرکت نہیں۔ وہ بت ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آتے تو پھر اللہ کی بادشاہت میں اوروں کو کیوں شریک کرتے ہو، اور رہی بات کہ ان لوگوں پر ناگہانی آفت جلدی سے کیوں نہیں آتی تو اس کا سبب یہی ہے کہ اللہ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 13–19

[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔ [8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔ [9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–18

کاشف ضر صرف اللہ ہے : (ف 1) تمام بندوں پر اللہ کی حکومت ہے سب کے مصالح سے وہ آگاہ ہے ، اس کی طرف سے جب کوئی تکلیف آئے تو پھر کسی شخص کی مجال نہیں کہ اسے دور کرسکے ، اور جب وہ کسی کو آزمائش وابتلا میں ڈال دے تو پھر کون ہے جو اسے ابتداء وآزمائش سے نکال باہر کرسکے ۔ اس لئے مسلمانوں کو ادہام سے بچنا چاہئے اور یہ مضبوط عقیدہ رکھنا چاہئے کہ ہر خیر اور ہر شر اللہ کی جانب سے ہے ،

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-18 اور وہی اپنے بندوں پر ہر اعتبار سے غالب اور قادر ہے اور بڑی حکمت والا اور اپنے بندوں کے احوال سے پوری طرح باخبر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–19

ف 1۔ اوپر توحید و رسالت کے باب میں جداجدا کلام ہوا ہے آگے دونوں میں مجتمعا کلام ہے چناچہ انکم لتشھدون میں توحید کی بحث ہے اور قل اللہ شھید بینی میں رسالت کی بحث ہے شان نزول بھی دو واقعے دونوں مسئلوں کے متعلق ہیں چناچہ کلبی نے روایت کیا ہے کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرکہا کہ کیا خدا تعالیٰ کو آپ کے سوا کوئی رسول نہیں ملا ہم تو نہیں سمجھتے کہ آپ کے دعوے کی کوئی تصدیق کرسکتا ہے اور ہم نے تو یہود و نصاری سے پوچھ کر دیکھ لیا ہے وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں آپ کا ذکر ہی نہیں ہے سو ہم کو کوئی بتلائیے جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریر نے…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ تعالیٰ ہی سب سے زور آور اور حکمت و دانش والا ہے : 28: بہت سے الفاظ ایسے ہیں جو عربی اور اردو دونوں زبانوں میں استعمال ہوتے ہیں لیکن مفہوم کے لحاظ سے ان میں بہت فرق ہوتا ہے انہی الفاظ میں سے لفظ ” قہر “ بھی ہے ” قہر “ کا لفظ عربی زبان میں اس معنی میں نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے مینا اختیار ، حکومت اور تسلط رکھنے کے آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ وہ ذات ہے جو قدرت و قوت کے لحاظ سے ساری مخلوقات پر غالب ہے اور کوئی جو اس پر غالب آئے اور ربوبیت کے لئے جن اوصاف کے ضرورت ہے وہ سب صرف اسی کی ذات میں جمع ہیں پھر یہ کتنی حماقت کی بات ہے کہ ایسی ذات کامل الصفات کے ساتھ کسی دوسرے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

At the end of verse 18, it was said: وَهُوَ الْقَاهِرُ‌ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ‌ ﴿18﴾ (And He is dominant over His slaves, and He is the Ali-Wise, the All-Aware). It means that the mastery of Allah Ta` ala prevails over His servants in the absolute sense and that everyone remains under His power and control all the time. This is the reason why no human being, no matter how great, whether a prophet close to Allah, or the most powerful ruler of the world, nine of them come out successful in everything they do, nor is every wish of theirs granted. And then, He is Wise…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–18

10. This remark contains a subtle sarcasm. Far from providing sustenance to their followers, the beings whom the polytheists set up as deities beside the true God were dependent upon them for their sustenance. No Pharaoh can maintain the pomp and splendour connected with his godhead unless his subjects pay their tax dues and make him other offerings. No deity can attract worshippers unless some of its devotees make an idol, place it in some magnificent temple, and decorate it lavishly. All these counterfeit gods are totally dependent upon their own servants. It is the Lord of the Universe…

Read the full tafseer →