Explained with ayahs 17–21
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 11
یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کی طرف سے مامور ہوں اور جو کچھ کہہ رہا ہوں اسی کے حکم سے کہہ رہا ہوں۔
سورة الْاَنْعَام 12
کسی چیز کی شہادت دینے کے لیے محض قیاس و گمان کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے علم ہونا ضروری ہے جس کی بنا پر آدمی یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ ایسا ہے۔ پس سوال کا مطلب یہ ہے کہ کیا واقعی تمہیں یہ علم ہے کہ اس جہان ہست و بود میں خدا کے سوا اور بھی کوئی کار فرما حاکم ذی اختیار ہے جو بندگی و پرستش کا مستحق ہو ؟
سورة الْاَنْعَام 13
یعنی اگر تم علم کے بغیر محض جھوٹی شہادت دینا چاہتے ہو تو دو ، میں تو ایسی شہادت نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →پانچویں آیت کا ایک خاص واقعہ نزول عامہ مفسرین نے نقل کیا ہے، کہ ایک مرتبہ اہل مکہ کا ایک وفد نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، اور کہنے لگا کہ آپ جو رسول اللہ ﷺ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اس پر آپ کا گواہ کون ہے ؟ کیونکہ ہمیں کوئی آدمی ایسا نہیں ملا جو آپ کی تصدیق کرتا ہو، حالانکہ ہم نے یہود سے نصاریٰ سے اس کی تحقیق میں پوری کوشش کی۔
اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً یعنی آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوگی، جس کے قبضہ میں کل جہان اور سب کا نفع و ضرر ہے، پھر آپ کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے، اور اللہ تعالیٰ کی گواہی سے مراد وہ معجزات اور آیات…
Read the full tafseer →لِاُنْذِرَكُمْ بِهٖ وَمَنْۢ بَلَغَ ، عام طور پر مفسرین نے وَمَنْۢ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔ یہ گویا اس ذمہ داری کی یاد دہانی ہے جس کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے فَلَوْلا نَفَرَ مِنْ كُلِّ…
Read the full tafseer →19۔ 1 یعنی اللہ ہی اپنی واحدنیت اور ربوبیت کا سب سے بڑا گواہ ہے اس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں۔
19۔ 2 ربیع بن انس کہتے ہیں اب جس کے پاس بھی قرآن پہنچ جائے اگر وہ سچا مطیع رسول ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی لوگوں کو اللہ کی طرف اسی طرح بلائے جس طرح رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی اور اسطرح ڈرائے جس طرح آپ نے لوگوں کو ڈرایا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” 19۔
” ان سے پوچھو کس کی گواہی بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی شریک ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔
بات کا جگہ جگہ رکنا ‘ اور پھر موثر آغاز اور ایک ہی آیت میں یہ زیروبم ایک عجیب انداز کلام ہے ۔ ایک لفظ میں ایک موقف بیان ہوجاتا ہے ‘ ایک ایک لفظ ایک منظر کو پیش کرتا ہے جس سے شبہات وخلجانات اور ان کی نوعیت کا بھی پتہ…
Read the full tafseer →4 جب یہ فرمایا کہ خدا ہی سب نفع و ضرر کا مالک، تمام بندوں پر غالب و قاہر اور رتی رتی سے خبردار ہے تو اس کی شہادت سے زبردست اور بےلوث شہادت کس کی ہوسکتی ہے، پس میں بھی اپنے تمہارے درمیان اسی کو گواہ ٹھہراتا ہوں۔ کیونکہ میں نے دعویٰ رسالت کر کے جو کچھ اس کے پیغامات تم کو پہنچائے اور جو کچھ تم نے اس کے جواب میں میرے ساتھ اور خود پیغام ربانی کے ساتھ برتاؤ کیا وہ سب اس کی آنکھ کے سامنے ہے۔ وہ خود اپنے علم محیط کے موافق میرا اور تمہارا فیصلہ کر دے گا۔
5 یعنی اگر سمجھو تو میرے صدق پر خدا کی یقینی اور کھلی ہوئی شہادت یہ قرآن موجود ہے جو اپنے کلام الہٰی ہونے پر خود ہی اپنی دلیل ہے۔
ع آفتاب آمد دلیل…
Read the full tafseer →آیت 19 قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ط قُلِ اللّٰہُ قف شَہِیْدٌم بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْ قف
یہ گویا اس سورة کے عمود کا عکس ہے۔ میں پہلے بتاچکا ہوں کہ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر ہم کسی قسم کا حسی معجزہ نہیں دکھائیں گے ‘ کیونکہ اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اے نبی ﷺ ہم نے آپ پر یہ قرآن اتار دیا ‘ آپ تبشیر ‘ انذار اور تذکیر کے فرائض اسی قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔ جس کے اندر صلاحیت ہے ‘ جو طالب حق ہے ‘ جو ہدایت چاہتا ہے ‘ وہ ہدایت پالے گا۔ باقی جس کے دل میں کجی ہے ‘ ٹیڑھ ہے ‘ تعصب ‘ ضد اور ہٹ دھرمی ہے ‘ حسد اور تکبر ہے ‘ آپ ﷺ اس کو دس لاکھ معجزے دکھا دیجیے وہ نہیں مانے…
Read the full tafseer →20 اللہ کی شہادت سب سے بڑھ کر کیسے ؟ شہادت دو طرح سے ہوتی ہے ایک آنکھوں دیکھا حال کسی قاضی، جج یا حکم کے سامنے بیان کرنا جسے انگریزی میں (WITNESS) کہتے ہیں۔ دوسرے یقین کامل کی بنا پر شہادت جسے انگریزی میں (E VIDENCE) کہتے ہیں۔ ہم مسلمان اپنے یقین کامل کی بنا پر یہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ شہادت آنکھوں دیکھی شہادت نہیں۔ نہ ہم عینی شاہد یا چشم دید گواہ ہیں کیونکہ ہم نے اللہ کو دیکھا ہے اور نہ رسول کو بلکہ ہم یہ گواہی اپنے یقین کامل یا ایمان کی بنا پر دیتے ہیں اور اللہ کی گواہی اس لحاظ سے سب سے بڑھ کر سچی ہے کہ اس میں شہادت کے دونوں پہلو…
Read the full tafseer →26 ۔ (میری رسالت اور قرآن کے برحق ہونے کے باب میں) اللہ کہ شہادت زبان حال سے خود اس قرآن کا معجز وبے نظیر ہونا ہے اپنی تعلیمات کے لحاظ سے۔ شیء کا یہاں لفظی ترجمہ ” چیز “۔ سے کرنا مناسب نہیں۔ شیء یہاں ذات حق کے لیے ہے۔ لفظ شیء ھنا واقع موقع اسم اللہ تعالیٰ المعنی اللہ اکبر شھادۃ ای انفرادہ بالربوبیۃ و قیام البراھین علی توحیدہ اکبر شھادۃ و اعظم (قرطبی) متکلمین کے ہاں یہ ایک معرکہ کی بحث ہے کہ شیء کا اطلاق ذات باری تعالیٰ پر جائز ہے یا نہیں، جمہور کا فیصلہ ہے کہ جائز ہے اور اس فیصلہ کی سند یہی آیت ہے۔ احتج الجمھور علی تسمیۃ اللہ تعالیٰ بالشیء بھذہ الایۃ (کبیر) وفی المواقف وشرحہ والشیء عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…
Read the full tafseer →قل ای شی اکبر شہادۃ آپ کہئے کہ سب سے بڑھ کر چیز گواہی دینے کے لئے کون ہے۔ ہر موجود کو شئ کہتے ہیں پوری تشریح سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ یہاں شئ سے مراد ہے شاہد (گواہ) اکبر سے مراد ہے عظمت والا۔ مطلب یہ کہ اللہ کی شہادت سے بڑی کس شاہد کی شہادت ہے۔ اب اگر وہ جواب دیں تو خیر ورنہ
قل اللہ آپ خود ہی کہہ دیں کہ سب سے بڑا شاہد اللہ ہے۔ اللہ مبتدا ہے اور قرینہ کی وجہ سے خبر کو حذف کردیا گیا ہے۔
شہید بینی وبینکم وہی میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے شہیدٌ خبر ہے ہُوَ مبتدا محذوف ہے۔ یا اللہ مبتدا ہے اور شہیدخبر اور پورا جملہ قلکا مفعول کیونکہ اللہ جب گواہ ہے تو وہی سب سے بڑا شاہد ہوگا۔
یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →(19) اب آگلی آیت کفار کے مقولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے آکر کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو اپنی نبوت پر کوئی گواہ لائیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آپ ان سے فرما دیجیے کہ سب سے بڑھ کر اور پسندیدہ چیز گواہ کے لیے کون سی ہے اگر یہ آپ کی بات کا جواب دیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان سے فرمائیے کہ بس اللہ تعالیٰ اس بات کا گواہ ہے کہ میں اس کا رسول ہوں اور قرآن کریم اس کا کلام برحق ہے۔
اور جبریل امین کے ذریعے یہ قرآن حکیم مجھ پر نازل کیا گیا تاکہ میں تمہیں اور جس کو یہ قرآن کی خبر پہنچے اس کو برے انجام سے ڈراؤں۔
اے اہل مکہ کیا تم پھر بھی بتوں کے متعلق گواہی دو گے ؟ اور ان کو خدا کی…
Read the full tafseer →قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَهَادَةً ۭ۔۔ : کفار مکہ کے بعد جب یہود و نصاریٰ کی اکثریت نے بھی آپ کو جھٹلا دیا تو کفار کہنے لگے، بتاؤ اب تمہاری رسالت کی گواہی کون دیتا ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ آپ ان کافروں سے کہیے کہ اللہ کی ہستی سے بڑی ہستی کون سی ہے ؟ جب کوئی نہیں تو بتاؤ سب سے بڑا شہادت دینے والا کون ہوگا ؟ آپ خود ہی ان کے سامنے واضح فرما دیجیے کہ وہ تو اللہ ہی ہے اور اللہ تعالیٰ کی گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر قرآن اتارا، جو قیامت تک کے لیے زندہ معجزہ ہے کہ کوئی بھی اس کی کسی ایک سورت جیسی کوئی سورت نہیں لاسکا اور نہ لاسکے گا۔ یہ قرآن معجزہ ہونے کے اعتبار سے میرے سچے نبی ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
آیت 18 تا 19 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت ؛ وھو القاھرفوق عبادہ، القھر کا معنی غلبہ ہے۔ القاھر کا معنی غالب ہے۔ اقھر الرجل بولا جاتا ہے جب کوئی مجبور کر کے ذلیل کیا جائے۔ شاعر نے کہا۔
تمنی حصین ان یسود جذاعہ فامسی حصین قد اذل و اقھرا
قھر کا معنی ہے مغلوب کیا گیا۔ فوق عبادہ غلبہ کے ساتھ فوقیت مراد ہے، یعنی تمام بندے اس کے حکم کے تحت مسخر ہیں۔ فوقیت سے مراد فوقیت مکانی مراد نہیں ہے، جیسے تو کہتا ہے : السلطان فوق رعیتہ یعنی سلطان منزل و رفعت کے اعتبار سے رعیت سے بلند ہے۔ قہر میں ایک زائد معنی ہے جو قدرت میں نہیں ہے وہ ہے کسی کو مراد حاصل کرنے سے روک دینا۔ وھو الحکیم وہ اپنے امر میں حکیم ہے۔…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نحام بن زید قروم بن کعب اور بحری بن عمرو، خدمت عالی میں آئے اور عرض کیا یا محمد کیا تو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں جانتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اسی کی تبلیغ میں بھیجا گیا ہوں۔ اور اس کی طرف میں بلاتا ہوں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت قل ای شیء اکبر شھادۃ (الآیہ)
(2) امام آدم بن ابی ایاس، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابو الشیخ اور امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت اکبر شھادۃ…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اَيُّ شَيْءٍ [ کون سی چیز ] اَكْبَرُ [ سب سے بڑی ہے ] شَهَادَةً ۭ [ بطور گواہی کے ] قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ ڐ [ (کہ ) اللہ ] شَهِيْدٌۢ [ (وہ ) گواہ ہے ] بَيْنِيْ [ میری درمیان ] وَبَيْنَكُمْ ۣ [ اور تمہارے درمیان ] وَاُوْحِيَ [ اور وحی کیا گیا ] اِلَيَّ [ میری طرف ] هٰذَا الْقُرْاٰنُ [ اس قرآن کو ] لِاُنْذِرَكُمْ [ تاکہ میں وارننگ دوں تم لوگوں کو ] بِهٖ [ اس سے ] وَمَنْۢ [ اور اس کو جس کو ] بَلَغَ ۭ [ وہ پہنچے ] اَىِٕنَّكُمْ [ کیا واقعی تم لوگ ] لَتَشْهَدُوْنَ [ سچ مچ گواہی دیتے ہو ] اَنَّ [ کہ ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اٰلِهَةً اُخْرٰي ۭ [ کچھ دوسرے الہ (بھی ) ہیں ]…
Read the full tafseer →اللہ کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے
تفسیر لباب النقول میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ نحام بن زید، قروم بن کعب اور بحری بن عمرو (مشرکین) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے اے محمد ! کیا تم اللہ کے سوا کسی دوسرے کو معبود جانتے ہو ؟ آپ نے فرمایا (لَا اِلٰہَ الاَّ اللّٰہ) (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) میں اسی کو لے کر بھیجا گیا ہوں اور اسی کی طرف دعوت دیتا ہوں، اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت شریفہ (قُلْ اَیُّ شَیْءٍ اَکْبَرُ شَھَادَۃً ) نازل فرمائی۔ کہ آپ فرما دیجیے کون سی چیز شہادت کے اعتبار سے بڑی ہے۔ پھر خود ہی جواب دیجیے کہ اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے اس سے بڑھ کر کسی کی گواہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اثبات توحید و رسالت۔
قال اللہ تعالی، قل ای شئی اکبر شھادۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں توحیدورسالت کو فردا فردا بیان فرمایا اب ان آیات میں توحید و رسالت کو مجتمعا بیان فرماتے ہیں مشرکین مکہ نے کہا اے محمد ہم کسی کو نہیں دیکھتے کہ جو آپ کو سچا جانے اور آپ کی نبوت کی شہادت دے اور ہم نے علماء یہود ونصاری سے بھی تیری بابت دریافت کیا انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہیں دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی نبوت و رسالت پر شہادت اور گواہی طلب کرتے ہیں آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ علاوہ ازیں خدا تعالیٰ میری نبوت کا گواہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں یہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →21 یہ گذشتہ چاروں عقلی دلیلوں سے متعلق ہے۔ شہادۃً تمییز بمعنی قسم ہے۔ یعنی کونسی چیز بڑی ہے ازروئے قسم کے یہاں شہادت بمعنی گواہی ہے۔ یعنی سب سے بڑی گواہی کس کی ہے۔ قُلِ اللہُ الخ آپ فرما دیں سب سے بڑی گواہی تو اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے گذشتہ عقلی دلائل سے اور آگے دلیل وحی سے بیان فرما دیا ہے کہ غیب دان اور متصرف و مختار وہی ہے اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ 22 یہ نفی شرک فی التصرف پر دلیل وحی کی طرف اشارہ ہے۔
23 یہ مذکورہ چاروں عقلی دلائل کا ثمرہ ہے۔ شَہادۃً سے یہاں شہادت عقلی مراد ہے۔ یعنی اے مشرکین کیا ان مذکورہ عقلی دلائل کی موجودگی میں تمہاری عقل اس بات کو مانتی ہے کہ اللہ کے ساتھ کچھ اور معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
گواہی بحق رسالت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں تردرد تھے اور فرشتہ اترنے اور لکھی لکھائی کتاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مگر اللہ نے ان کے مطالبہ کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کہہ دی جائے تب بھی یہ اسی شک میں پڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔ منجملہ دیگر اعتراضات کے مشرکین مکہ یہ بھی سوال کرتے تھے کہ حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کی گواہی کون دیتا ہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ای ئی اکبر شھادۃ سب سے بڑی گواہی کس کی ہو سکتی ہے ؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا قل اللہ وقف آپ کہہ دیں کہ سب…
Read the full tafseer →قُلْ اَيُّ شَيْءٍ اَكْبَرُ شَہَادَۃً 0ۭ قُلِ اللہُ 0ۣۙ شَہِيْدٌۢ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ 0ۣ وَاُوْحِيَ اِلَيَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَكُمْ بِہٖ وَمَنْۢ بَلَغَ 0ۭ اَىِٕنَّكُمْ لَتَشْہَدُوْنَ اَنَّ مَعَ اللہِ اٰلِہَۃً اُخْرٰي 0ۭ قُلْ لَّآ اَشْہَدُ 0ۚ قُلْ اِنَّمَا ہُوَاِلٰہٌ وَّاحِدٌ وَّاِنَّنِيْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ 19ۘ
أيا
أَيُّ في الاستخبار موضوع للبحث عن بعض الجنس والنوع وعن تعيينه، ويستعمل ذلک في الخبر والجزاء، نحو : أَيًّا ما تَدْعُوا فَلَهُ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الإسراء/ 110] ، وأَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ فَلا عُدْوانَ عَلَيَّ [ القصص/ 28]
( ا ی ی ) ای ۔
جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ترکیب : وان یمسسک شرط فلا کاشف جواب ھو مبتدا القاھر خبر فوق یا خبر ثانی ہے یا بدل ہے خبر سے یا حال ہے۔ ای شیء مبتداء اکبر شہادۃ تمیز اللّٰہ مبتداء خبر محذوف ای اکبر شہادۃ۔
تفسیر : واضح ہو کہ انسان جو خدا کے سوا کسی اور معبود کو پوجتا ہے تو اس کو نافع و ضار سمجھ کر اور طبائعِ عامہ میں جو بت پرستی نے رواج پایا تو اسی امید نفع و خوف نقصان سے کہ یہ معبود ہم کو اولاد و تندرستی و فراخدستی دیتے ہیں اور جو ان کی نذر و نیاز نہیں کرتا تو اس کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ پھر اس پر جاہلوں میں سینکڑوں جھوٹے افسانے جو ان کے خیال کے مؤیّد ہیں ٗ مشہور ہوتے ہیں یا کسی کے اندر ایسے کمالات ذاتیہ صفاتیہ تصور کرکے جو…
Read the full tafseer →تمہید
گزشتہ آیات میں جو سلسلہ مضامین چل رہا ہے ‘ اس میں توحید پر زور دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہو رہی ہیں۔ بالخصوص جن صفات کا تعلق انسانیت سے زیادہ گہرا ہے ‘ اس کو سوالات کی صورت دے کر دل و دماغ میں اتارنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ پوچھا جا رہا ہے کہ ذرا بتائو ‘ زمین و آسمان کس کے قبضے میں ہیں اور ان کا مالک اور حاکم حقیقی کون ہے ؟ بتائو اس زمین و آسمان کا پیدا کرنے والاکون ہے ؟ بتائو اس پوری کائنات کو رزق کون دے رہا ہے ؟ ذرا غور کرو ! اس پوری کائنات پر کس کا غلبہ اور کنٹرول ہے اور گہری نظر سے دیکھو کہ نفع و ضرر کا مالک کون ہے ؟ ان تمام باتوں کا جواب آخر اس کے سوا کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ ہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں نبی ﷺ کی نبوت پر کفار کے اعتراضات کا جواب، اس کے دلائل اور اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور قوت وسطوت ثابت کرنے کے آفاقی اور طبعی دلائل دیے ہیں۔ جو شہادت کا درجہ رکھتے ہیں یاد رہے اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کسی کی شہادت نہیں ہوسکتی۔ توحید کی گواہی سب سے پہلی اور سب سے بڑی گواہی ہے۔
اب ان دلائل پر شہادت قائم کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سے بڑھ کر کوئی شہادت نہیں ہوسکتی۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا۔ وہی اس کی ابتدا اور انتہا کو جانتا ہے۔ وہ ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور اس پر اقتدار اور اختیار رکھتا ہے۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ اس کی شہادت سے…
Read the full tafseer →قرآن کے وحی ہونے پر اللہ کی شہادت کافی ہے… نحوی تحقیق :
آیت 19 : قُلْ اَیُّ شَیْئٍ اَکْبَرُ شَہَادَۃً ای شیْ ئٍمبتداء اور اَکْبَرُ اس کی خبر ہے۔ شہادۃ تمییز ہے۔ ایّ یہ ایک ایسا کلمہ ہے کہ اس سے مضاف الیہ کا بعض مراد ہوتا ہے۔ جب یہ استفہام کے لیے ہو تو اس کا جواب مضاف الیہ کے نام سے موسوم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ قُلِ اللّٰہُیہ ای کا جواب ہے یعنی اللہ اکبر شہادۃ کہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی ہے پس لفظ اللہ مبتداء اور خبر محذوف ہے۔
نکتہ : اس میں دلیل ہے کہ شیٔ کے لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا جاسکتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ شیٔ موجود کو کہتے ہیں اور شیٔ معدوم پر بولا ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 20, 19, 18
تفسیر : (وھوالقاھر فوق عبادہ) وہ غالب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تدبیر میں منفرد ہے۔ مخلوق کو اپنی تدبیر پر مجبور کرتا ہے۔ فوق عبادہ یہ غلب کی صفت ہے جو تنہا اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کے معنی میں قدرت کے معنی سے زیادتی ہے۔ اس کا معنی دوسرے کو مراد کے پہنچنے سے روکنا ( وھوالحکیم) اپنے کاموں میں (الخبیر) اپنے بندوں کے اعمال کی۔
(قل ای شیء اکبر شھادۃ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ والے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہمیں وہ شخص دکھائیں جو یہ گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں کیونکہ ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ک وہ آپ کی تصدیق کرتا ہو اور ہم نے آپ کے بارے میں یہود و نصاریٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19 ۔ 21) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اسن اسحاق اور کلبی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہو کر آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کون سی گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کونسی گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے اللہ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
آیت 13
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…
Read the full tafseer →28 اللہ کی گواہی پیغمبر کی حقانیت کیلئے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے پوچھو کہ کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے۔ کہو کہ اللہ ہی سب سے بڑا اور سچا گواہ ہے میرے اور تمہارے درمیان۔ اور اس نے میری صداقت و حقانیت کی گواہی دے دی اور کئی طرح سے دے دی ہے۔ جن میں سب سے بڑی گواہی قرآن حکیم کا یہ معجزہ کبریٰ ہے جو اس نے مجھ پر نازل فرمایا۔ اور جس کے مقابلے سے دنیا ساری عاجز ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے مختلف معجزات کے ذریعے بھی اس نے میری صداقت و حقانیت کی گواہی دی ہے اور گزشتہ انبیاء و رسل اور ان کی کتابوں کے ذریعے بھی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس وحدہٗ لاشریک نے میری صداقت و حقانیت کے بارے میں قولی اور فعلی ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
تبلیغ کے فائدے اور طریقے
تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…
Read the full tafseer →ف 10 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت روسا اہل مکہ کے جواب میں ہے انہوں نے آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ اپنے صدق بنوت کی شہادت پیش کریں کیونکہ اہل کتاب کہتے ہیں کہ توراۃ میں تمہارے آخری رسول ہونے کا کوئی ذکر نہیں ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ اس بات کا اللہ گواہ ہے کہ اس نے مجھے تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا ہے اللہ تعالی، کی گواہی یہ ہے کہ اس نے مجھ پر قرآن اتارا ہے جو اپنے معجز ہونے کے اعتبار سے میرے سچے نبی ہونے کی صریح دلیل ہے اسی کے پیش نظر فرمایا واوحی الی ھذالقرآن الخ (رازی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یہاں گواہی فرمایا قسم کو یعنی میں قسم کھاتا ہوں اللہ کی اس سے زیادہ کیا قسم ہوگی۔ (…
Read the full tafseer →(6:19) قل ای شیء اکبر شھادۃ۔ ای شیء مبتدا اکبر خبر شھادۃ تمیز (اے) رسول ﷺ ) کہہ کہ گواہی کے لحاظ سے کونسی چیز سب سے بڑی (معتبر) ہے۔
یہ اس سوال کے جواب میں ہے کو کلبی کی روایت کے مطابق کفار مکہ نے کیا تھا۔ ارنا من تشھد انک رسول اللہ۔ آپ نے ان سے پوچھا جواب میں کہ کونسی شہادت سب سے معتبر ہے اور پھر فرمان خداوندی کے مطابق ان کو بتایا۔ اللہ شھید بینی وبینکم میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے۔
بعض کے نزدیک اللہ پر وقف ہے اور یہ پہلے سوال ای شیء اکبر شھادۃ کا جواب ہے اور شھید بینی وبینکم نیا جملہ ہے۔ اور اس سے پہلے وھو محذوف سمجھا جائیگا۔
لانذرکم۔ انذر۔ انذار سے مضارع ہے اور بوجہ عمل لام منصوب ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 :
عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 :
ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مشرکین کا اعتراض نبوت پر : شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہوکر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہہنے لگے کہ کون سے گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں، ہم نے یہود اور نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کون سے گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے ۔ اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ کی گواہی کی نشانی یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–19
[7] یعنی اس بات پر گواہ ہے کہ میں اس کا بھیجا ہوا رسول ہوں اور قرآن جیسی فصیح وبلیغ اور اپنی تعلیمات کے لحاظ سے بےنظیر کتاب کا مجھ پر نازل ہونا اللہ کی طرف سے میرے رسول ہونے کی شہادت ہے۔
[8] یعنی آپ ﷺ کی رسالت قیامت تک آنے والے تمام جن و انس کے لئے ہے۔
[9] یعنی کیا تمہارے پاس ایسا علم ہے جس کی بنا پر تم گواہی دو ؟
Read the full tafseer →(ف 2) قصد یہ ہے کہ قرآن حکیم کا نزول اس لئے ہوا ہے ، تاکہ اس کی ہدایات کو عالمگیر کیا جائے ، اور ہر شخص تک اس کے پیغام پہنچایا جائے ،
ھذا القران ۔ سے مراد جلب التفات ہے ، نزول ووحی کا حصر نہیں ۔
یعنی مقصود یہ نہیں کہ قرآن کے علاوہ اور کوئی چیز وحی والہام نہیں ، بلکہ یہ ہے کہ یہ قرآن وحی کی صورت میں نازل اس لئے ہوا ہے تاکہ سب تک پہنچے ۔
حل لغات :
تشھدون : مادہ شہادت ۔ گواہی دینا ، اعتراف کرنا ، ماننا ، یہاں مقصود اقرار کرنا ہے ، اس لئے جوابا فرمایا ،
قل لا اشھد : یعنی کہ دو ، میں نہیں مانتا ۔
Read the full tafseer →-19 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے کہئے کہ گواہی دینے کے لحاظ اور اعتبار سے کو نسی چیز سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر ہے ظاہر ہے کہ اس کا جواب یہی ہوگا کہ خدا سے بڑھ کر کون سی چیز ہوسکتی ہے آپ فرما دیجیے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور یہ قرآن میری جانب اسی لئے وحی کیا گیا ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے تم کو اور جس جس کو یہ قرآن پہونچے ان کو ڈرا دوں اور یہ بات بتادوں کہ جو شخص توحید و رسالت کا منکر ہ گا اس کا انجام کیا ہوگا کیا اللہ تعالیٰ کی اس صاف وصریح شہادت کے بعد تم لوگ واقعی اب بھی اس بات کی گواہی دو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور دوسرے معبود بھی ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1۔ اوپر توحید و رسالت کے باب میں جداجدا کلام ہوا ہے آگے دونوں میں مجتمعا کلام ہے چناچہ انکم لتشھدون میں توحید کی بحث ہے اور قل اللہ شھید بینی میں رسالت کی بحث ہے شان نزول بھی دو واقعے دونوں مسئلوں کے متعلق ہیں چناچہ کلبی نے روایت کیا ہے کہ کفار مکہ نے نبی ﷺ کی خدمت میں آکرکہا کہ کیا خدا تعالیٰ کو آپ کے سوا کوئی رسول نہیں ملا ہم تو نہیں سمجھتے کہ آپ کے دعوے کی کوئی تصدیق کرسکتا ہے اور ہم نے تو یہود و نصاری سے پوچھ کر دیکھ لیا ہے وہ تو یوں کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں آپ کا ذکر ہی نہیں ہے سو ہم کو کوئی بتلائیے جو اس بات کی گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور ابن جریر نے…
Read the full tafseer →وہ کون ہے جس کی گواہی سب سے بڑی ہے ؟ ” اللہ “ بس وہی میرا گواہ ہے :
29: اے پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھئے کہ اللہ سے بڑھ کر کس کی شہادت ہوگی جس کے قبضہ قدرت میں کل جہان اور کل جہان کا نفع و ضرر ہے۔ چونکہ یہ سوال ایسا تھا کہ اس کا ایک اور صرف ایک ہی جواب ہوسکتا تھا اس لئے ارشاد فرمایا کہ اے رسول ﷺ ! آپ ﷺ ہی اس کا جواب بھی دے دیجئے اس لئے کہ اس جواب سے کوئی مشرک بھی انکار نہیں کرتا کہ ” سب سے بڑی گواہی تو اللہ تعالیٰ ہی کی گواہی ہے ۔ “ اور پھر ان سے برملا کہہ دیجئے کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ رہی یہ بات کہ یہ گواہی کس بات پر طلب کی گئی تو بات بالکل واضح ہے کہ آپ ﷺ کی رسالت پر۔ مخالفین…
Read the full tafseer →A particular event which is the cause of the revelation of this verse has been generally reported by commentators. It is said that once a deputation of the people of Makkah came to the Holy Prophet ﷺ . They said: ` You claim to be a Messenger of Allah. Who is your witness on this? We have yet to see a man who attests to its truth, although we have tried our best to confirm it from the Jews and Christians.'
Thereupon, the verse: قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً which means: You tell them whose witness could be greater than that of Allah, within whose power lies the gain and loss of…
Read the full tafseer →11. God Himself witnesses that the Prophet (peace be on him) has been designated by Him and that what he communicated was by His command.
12. In order to bear witness to something, mere guesswork and imagination are not sufficient. What is required is knowledge on the basis of which a person can state something with full conviction. Hence. the question means: Did they really have knowledge of anyone other than God who could lay claim to man's worship and absolute service by dint of being the omnipotent sovereign, the one whose will prevailed throughout the universe?
13. The interlocutor is…
Read the full tafseer →