Explained with ayahs 17–21
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 14
یعنی کتب آسمانی کا علم رکھنے والے اس حقیقت کو غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے اور خدائی میں کسی کا کچھ حصہ نہیں ہے۔ جس طرح کسی کا بچہ بہت سے بچوں میں ملا جلا کھڑا ہو تو وہ الگ پہچان لے گا کہ اس کا بچہ کونسا ہے، اسی طرح جو شخص کتاب الہٰی کا علم رکھتا ہو وہ الوہیت کے متعلق لوگوں کے بیشمار مختلف عقیدوں اور نظریوں کے درمیان بلا کسی شک و اشتباہ کے یہ پہچان لیتا ہے کہ ان میں سے امر حق کونسا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آخری آیت میں ان لوگوں کے اس قول کی تردید ہے کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے سب سے تحقیق کرلی، کوئی بھی آپ ﷺ کی سچائی اور نبوت کی گواہی نہیں دیتا، اس کے متعلق ارشاد فرمایااَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ یعنی یہود و نصاریٰ تو محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسا پہنچاتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسول کریم ﷺ کا پورا حلیہ شریف آپ ﷺ کے وطن اصلی پھر وطن ہجرت کا، اور آپ ﷺ کے عادات و اخلاق اور آپ ﷺ کے کارناموں کا ایسا تفصیلی ذکر ہے کہ اس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، بلکہ صرف آنحضرت ﷺ ہی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے حالات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20 تا 21: اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ، اس ٹکڑے پر تفصیلی بحث بقرہ کی تفسیر میں آیت 146 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ اس سے مراد صالحین اہل کتاب ہیں۔ قرآن میں اچھے اہل کتاب کا ذکر بالعموم بصیغہ معروف ہی ہوا ہے۔ یعرفونہ میں ضمیر منصوب کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر واوحی الی ھذا القرآن میں گزر چکا ہے۔ اس سے نبی ﷺ کو بھی مراد لیا گیا ہے لیکن چونکہ یہاں سیاق کلام نبی ﷺ سے خطاب کا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے ضمیر غائب موزوں نہیں ہے۔ ویسے باعتبار مدعا کوئی فرق واقع نہیں ہوگا اس لیے کہ نبی اور قرآن دونوں لازم و ملوم ہیں اور ایسے لازم و…
Read the full tafseer →20۔ 1 یعرفونہ میں ضمیر کا مرجع رسل اللہ ﷺ ہیں یعنی اہل کتاب آپ کو اپنے بیٹوں کی طرح پہچانتے ہیں کیونکہ آپ کی صفات ان کی کتابوں میں بیان کی گئیں تھیں اور ان صفات کی وجہ سے وہ آخری نبی کے منتظر بھی تھے۔ اس لئے اب ان میں سے ایمان نہ لانے والے سخت خسارے میں ہیں کیونکہ یہ علم رکھتے ہوئے بھی انکار کر رہے ہیں۔ فان کنت لا تدری فتلک مصیبۃ وان کنت تدری فالمصیبۃ اعظم اگر تجھے علم نہیں ہے تو یہ بھی اگرچہ مصیبت ہی ہے تاہم اگر علم ہے تو پھر زیادہ بڑی مصیبت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 20۔
قرآن کریم میں اس بات کا ذکر بار بار آتا ہے کہ اہل کتاب یہود ونصاری ‘ قرآن کریم کو بعینہ اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح وہ اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ رسول برحق ہیں اور یہ قرآن کریم ان پر اللہ کی جانب سے نازل ہو رہا ہے ۔ یہ حقیقت اہل کتاب کے ساتھ کلام کرتے ہوئے بھی بیان کی گئی ہے اور مشرکین عرب کے مقابلے میں بھی یہ دلیل دی گئی ۔ اہل کتاب بالمعوم مدینہ میں تحریک اسلامی کے خلاف دشمنی ‘ عناد اور مقابلے کا موقف اختیار کئے ہوئے تھے اور اہل شرک ہر جگہ پر تھے ۔ یہ حقیقت اس لئے لائی گئی کہ مشرکین عرب مانتے تھے کہ اہل کتاب ان کے مقابلے میں زیادہ اہل علم…
Read the full tafseer →6 یعنی اس کے علاوہ کہ میری صداقت کا خدا گواہ ہے اور قرآن کریم اسکی ناطق اور ناقابل تردید شہادت دے رہا ہے۔ وہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ ) بھی جن کی طرف کتب سماویہ کا عالم سمجھ کر تم میرے معاملہ میں رجوع کرتے ہو، اپنے دلوں میں پورا یقین رکھتے ہیں کہ بلاشبہ میں ہی وہ " نبی آخرالزماں " ہوں جس کی بشارت انبیائے سابقین دیتے چلے آئے ہیں۔ ان کو جس طرح بہت سے بچوں میں سے اپنی اولاد کے شناخت کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی، ایسے ہی نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کی صداقت کے معلوم کرنے میں بھی کوئی شبہ اور دھوکہ نہیں ہے۔ البتہ حسد، کبر، تقلید آباء، اور حب جاہ ومال وغیرہ اجازت نہیں دیتے کہ مشرف بایمان ہو کر اپنی…
Read the full tafseer →آیت 20 اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ہُمْ 7
یَعْرِفُوْنَہٗ کی ضمیر مفعولی دونوں طرف جاسکتی ہے ‘ قرآن کی طرف بھی اور حضور ﷺ کی طرف بھی۔ البتہ اس سے قبل یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ قرآن اور رسول ﷺ مل کر ہی بیّنہ بنتے ہیں ‘ یہ دونوں ایک وحدت اور ایک ہی حقیقت ہیں۔ حضور ﷺ خود قرآن مجسم ہیں۔ قرآن ایک انسانی شخصیت اور سیرت و کردار کا جامہ پہن لے تو وہ محمد ﷺ ہیں۔ جیسا کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رض نے فرمایا تھا : کَانَ خُلُقُہُ الْقُرآنَ 1 یعنی حضور ﷺ کی سیرت قرآن ہی تو ہے۔
Read the full tafseer →23 اہل کتاب کا آپ کو پہچانا :۔ عرب میں یہ الفاظ بطور محاورہ بولے جاتے ہیں یعنی اگر کسی شخص کو کسی چیز کے متعلق پختہ یقین ہوتا تو کہتے کہ وہ اسے ایسے پہچانتا ہے جیسے اپنے بیٹے کو۔ یعنی جس طرح ایک باپ بچوں کے اجتماع میں اپنے بیٹے کو فوراً پہچان لیتا ہے بالکل اسی طرح اہل کتاب، اپنی کتاب میں مذکور نشانیوں کے مطابق نبی آخر الزماں کو پہچان چکے تھے کہ وہ فی الواقع وہی نبی ہے جس کی بشارات دی گئی ہیں پھر بھی اگر وہ ایمان نہیں لاتے تو اس کی وجوہ دوسری ہیں مثلاً قومی عصبیت، اپنی اپنی سرداریوں اور گدیوں کا خاتمہ، حسد اور بغض وغیرہ یا یہ عقیدہ کہ موسوی شریعت قیامت تک کے لیے غیر متبدل ہے یا یہ کہ کوئی نبی…
Read the full tafseer →30 ۔ یعنی اپنے ابنائے قوم کو، فرزندان اسرائیل کو پہچانتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ رسول اکرم ﷺ اور نبی آخرالزمان کی بھی شناخت کی ایسی کھلی ہوئی علامتیں ان کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں جیسی خود انہی کے قوم ونسل کے انبیاء کی۔ (آیت) ” الکتب “۔ کتاب آسمانی۔ خصوصا توریت۔ والمراد من الکتاب جنسہ الصادق علی التورۃ والانجیل (روح) (آیت) ” یعرفونہ “۔ ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ ای یعرفون النبی ﷺ عن الحسن وقتادہ وھو قول الزجاج (قرطبی) انہم یعرفونہ بالنبوۃ والرسالۃ (کبیر) یہ بھی جائز ہے کہ ضمیر الکتاب کی طرف راجع کی جائے۔ وقیل الضمیر للکتاب واختارہ ابو البقاء (روح) قیل یعود الی الکتاب (قرطبی) دونوں صورتوں کا ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : آپ ان سے کہیے زمین میں چلو پھرو پھر دیکھو رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا، تاکہ تم عبرت حاصل کرو، آپ ان سے پوچھئے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ اگر وہ اس کا جواب نہ دیں تو کہئے اللہ کا ہے اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی (صحیح) جواب ہی نہیں ہے ازراہ کرم اس نے اپنے اوپر رحمت لازم کرلی ہے اس میں ان کو دعوت دینے میں نرمی ہے تم کو اللہ قیامت کے دن جمع کرے گا تاکہ تم کو تمہارے اعمال کا بدلہ دے اس میں کوئی شک نہیں کہ جن لوگوں نے خود کو عذاب پر پیش کرکے اپنا نقصان کیا ہے یہ ایمان لانیوالے نہیں ہیں (الذین الخ) مبتداء ہے (فھو لا یؤمنون) مبتداء کی خبر…
Read the full tafseer →الذین اتینہم الکتب جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی توریت و انجیل۔
یعرفونہ وہ محمد ﷺ : کو پہچانتے ہیں کہ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ رسول کا جو حلیہ اور اوصاف و اخلاق ان کی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں وہ بعینہٖ محمد ﷺ کے ہیں۔
کما یعرفون ابنآء ہم جس طرح (دوسرے بچوں میں سے) اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
الذین خسروا انفسہم فہم لا یومنون جن لوگوں نے (رسول اللہ ﷺ کے صفات مندرجۂ توریت و انجیل چھپانے کی وجہ سے) اپنے کو ضائع کرلیا ہے (یعنی اللہ نے اپنے علم قدیم میں ان کی نامرادی کا اندازہ کرلیا ہے) وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ یعنی دلوں سے یقین کرنے کے باوجود محض عناد ظلم اور غرور و انانیت کی وجہ سے محمد ﷺ : کی…
Read the full tafseer →(20) جن حضرات کو ہم نے توریت کا علم دیا ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ رسول اکرم ﷺ کو آپ کے اوصاف اور تعریف کے ساتھ اپنے بیٹوں کی طرح جانتے ہیں اور جنہوں نے اپنی دنیا و آخرت کو برباد کردیا ہے جیسا کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھی وہ قرآن حکیم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ۔۔ : یعنی یہود و نصاریٰ کو رسول اللہ ﷺ کے سچے رسول ہونے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ان کی اپنی کتابوں میں رسول اللہ ﷺ کا ذکر خیر موجود ہے۔ دیکھیے سورة بقرہ (146) ، سورة اعراف (157) اور سورة صف (6)۔
کفار مکہ نے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے آپ کی نبوت سے انکار کیا اور کہا کہ تورات و انجیل میں آپ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس پر کفار نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اہل کتاب تو آپ کی نبوت کا انکار کر رہے ہیں، پھر آپ کی نبوت کی شہادت کون دیتا ہے ؟ اس کا جواب اس سے پہلی آیت میں دیا گیا ہے، اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل کتاب جھوٹ بولتے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 20 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : الذین اتینھم الکتاب اس سے مراد یہود اور نصاری ہیں اپنے بیٹوں کو جنہوں نے نبی کریم ﷺ کو پہچانا اور جان بوجھ کر مخالفت کی۔ اس کا مفہوم سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔
الذین مبتدا کی حیثیت سے محل رفع میں ہے۔ یعرفونہ یہ محل خبر میں ہے یعنی نبی کریم ﷺ کو پہنچانتے تھے۔ یہ حسن اور قتادہ سے مروی ہے۔ یہ زجاج کا قول ہے۔ بعضعلماء نے فرمایا : ضمیر کا مرجع الکتاب ہے یعنی وہ اسے پہنچانتے تھے جس پر وہ کتاب دلالت کرتی ہے، آیت : الذین خسروا انفسھم یہ نعت کی جگہ پر ہے اور اس کا مبتدا ہونا اور فھم لا یومنون (20) کا خبر ہونا بھی جائز ہے۔
Read the full tafseer →نصاریٰ کی ہٹ دھرمی
(1) سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت الذین اتینھم الکتب یعرفونہ کما یعرفون ابنآء ھم یعنی ان لوگوں نے نبی ﷺ کو پہچانا جیسا کہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں کیونکہ آپ کی صفات ان کے پاس تورات میں موجود ہیں۔ لفظ آیت الذین خسروا انفسھم فھم لا یومنون کیونکہ انہوں نے پہچاننے کے بعد انکار کیا اس لئے انہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ ] اٰتَيْنٰهُمُ [ ہم نے دی جن کو ] الْكِتٰبَ [ کتاب ] يَعْرِفُوْنَهٗ [ وہ پہچانتے ہیں اس کو ] كَمَا [ جیسا کہ ] يَعْرِفُوْنَ [ وہ پہچانتے ہیں ] اَبْنَاۗءَهُمْ ۘ [ اپنے بیٹوں کو ] اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جنھوں نے ] خَسِرُوْٓا [ گھاٹے میں ڈالا ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے نفوس کو ] فَهُمْ [ تو وہ لوگ ] لَا يُؤْمِنُوْنَ : ایمان نہیں لائیں گے ]
Read the full tafseer →یہود و نصاریٰ کی ہٹ دھرمی :
اس کے بعد یہود و نصاریٰ کی ضد اور ہٹ دھرمی بیان فرمائی اور فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَ ھُمْ ) (کہ جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی وہ ان کو پہنچانتے ہیں کہ وہ واقعی اللہ کے نبی ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہنچاتے ہیں) کیونکہ توریت اور انجیل میں آپ کی آمد کی خبر اور بشارت پڑھ چکے ہیں اور جو صفات و علامات آپ کے بارے میں بتائے گئے تھے انہیں دیکھ چکے ہیں۔ پہچاننے کے باو جود منکر ہو رہے ہیں۔ (اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ) (جن لوگوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے حق کا انکار کیا اور آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اثبات توحید و رسالت۔
قال اللہ تعالی، قل ای شئی اکبر شھادۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں توحیدورسالت کو فردا فردا بیان فرمایا اب ان آیات میں توحید و رسالت کو مجتمعا بیان فرماتے ہیں مشرکین مکہ نے کہا اے محمد ہم کسی کو نہیں دیکھتے کہ جو آپ کو سچا جانے اور آپ کی نبوت کی شہادت دے اور ہم نے علماء یہود ونصاری سے بھی تیری بابت دریافت کیا انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہیں دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی نبوت و رسالت پر شہادت اور گواہی طلب کرتے ہیں آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ علاوہ ازیں خدا تعالیٰ میری نبوت کا گواہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں یہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →24 الکتاب سے تورات اور انجیل اور موصول سے یہود و نصاری دونوں فریق مراد ہیں اور یَعْرِفُونَہ میں ضمیر منصوب سے قول مذکور یعنی کلمہ توحید کی حقانیت مراد ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں ” می شناسد حقیقت ایں قول یعنی کلمہ توحید (فتح الرحمن) اس کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے۔ یَتْلُونَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ ۔ اس معنی کے اعتبار سے اس آیت کا ربط ماقبل کے ساتھ بالکل واضح ہوجاتا ہے۔ عام مفسرین نے ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کی ذات کو قرار دیا ہے لیکن اس صورت میں یہ آیت ماقبل سے الگ ہوجاتی ہے۔ اس مضمون میں ایک حدیث بھی وارد ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس پر موقوف نہیں جیسا کہ سیاق وسباق اس پر شاہد ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
گواہی بحق رسالت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں تردرد تھے اور فرشتہ اترنے اور لکھی لکھائی کتاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مگر اللہ نے ان کے مطالبہ کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کہہ دی جائے تب بھی یہ اسی شک میں پڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔ منجملہ دیگر اعتراضات کے مشرکین مکہ یہ بھی سوال کرتے تھے کہ حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کی گواہی کون دیتا ہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ای ئی اکبر شھادۃ سب سے بڑی گواہی کس کی ہو سکتی ہے ؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا قل اللہ وقف آپ کہہ دیں کہ سب…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰہُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَہٗ كَـمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَہُمْ 0ۘ اَلَّذِيْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَہُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 20ۧ
إِيتاء
: الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247]
الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
1 ؎ یعنی رسول اللہ ﷺ کو خوب پہچانتے ہیں۔ ان نشانیوں اور علامات سے جو ان کتابوں میں یا زبانی منقول تھیں۔ 12 منہ
1 ؎ یہ دوسرا جو بیان فرمایا اس سے کل اہل کتاب مراد نہیں بلکہ وہی جو اس جاننے کے قابل تھے۔ بہت یہودیوں نے اقرار کیا کہ محمد ﷺ کی نبوت ہماری کتابوں سے ثابت ہے۔ موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) انہیں کی خبر دے گئے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنَھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَھُمْ مہ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْآ اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لاَ یُؤْمِنُوْنَ ۔ (الانعام : 20)
(جن کو ہم نے کتاب عطا کی ‘ وہ اس کو پہچانتے ہیں ‘ جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے)
کفار حضور ﷺ کو اپنے بیٹوں سے بڑھ کر پہچانتے ہیں
اے مشرکین مکہ ! تم یہ کہتے ہو کہ اہل کتاب قرآن اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے اور ان کی کتابیں اس سے بالکل خالی ہیں۔ تم اصلاً ان اہل کتاب سے ملتے ہو ‘ جو تمہاری طرح جوشِ تعصب میں بالکل اندھے ہوچکے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : توحید و رسالت پر آفاقی دلائل دینے اور اللہ تعالیٰ کی شہادت کبریٰ کے بعد اہل کتاب کے زندہ ضمیر اور مصنف مزاج لوگوں کی شہادت کا تذکرہ۔
اہل کتاب کے اس اعتراف کے بارے میں مفسرین نے دو مفہوم لیے ہیں۔ امام رازی ؓ اور ان کے ہمنوا مفسرین کا خیال ہے کہ ” ہ “ کی ضمیر نبی ﷺ کی ذات والاصفات اور آپ کی رسالت کے متعلق ہے۔ جیسا کہ سورة البقرۃ آیت 46 میں رسالت کے بارے میں اہل کتاب کا ذکر کیا گیا ہے۔ مولانا مودودی ؓ اور کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ یہاں ” ھو “ کی ضمیر توحید کے متعلق ہے کہ جس طرح اہل کتاب نبی ﷺ کی ذات اور رسالت کو اپنے بیٹوں سے بڑھ کر جانتے تھے۔ اسی طرح وہ اپنے ضمیر میں اللہ…
Read the full tafseer →اہل کتاب پر آپ کی صفات مخفی نہیں :
آیت 20 : اَلَّذِیْنَ ٰاتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یعنی یہود و نصاریٰ اور کتاب سے تورات و انجیل مراد ہیں۔ یَعْرِفُوْنَہٗ یعنی رسول اللہ ﷺ کو آپ کے چہرے اور مہرے اور دونوں کتابوں میں ثابت شدہ صفات کے ساتھ۔ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآئَ ہُمْ ان کے چہروں اور ان کی صفات کے ساتھ۔ یہ اہل مکہ کے سامنے گواہی اور شہادت پیش کی۔ کہ اہل کتاب آپ ﷺ کو جانتے اور آپ کی نبوت کو بھی جانتے ہیں۔ پھر فرمایا۔ اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یعنی مشرکین میں سے اور عنادی اور ضدی اہل کتاب میں سے۔ فَہُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ وہ اس پر ایمان نہ لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
آیت نمبر 20, 19, 18
تفسیر : (وھوالقاھر فوق عبادہ) وہ غالب ہے اور بعض نے کہا ہے کہ وہ تدبیر میں منفرد ہے۔ مخلوق کو اپنی تدبیر پر مجبور کرتا ہے۔ فوق عبادہ یہ غلب کی صفت ہے جو تنہا اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے کے معنی میں قدرت کے معنی سے زیادتی ہے۔ اس کا معنی دوسرے کو مراد کے پہنچنے سے روکنا ( وھوالحکیم) اپنے کاموں میں (الخبیر) اپنے بندوں کے اعمال کی۔
(قل ای شیء اکبر شھادۃ) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مکہ والے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے ہمیں وہ شخص دکھائیں جو یہ گواہی دے کہ آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں کیونکہ ہم نے کسی کو نہیں دیکھا ک وہ آپ کی تصدیق کرتا ہو اور ہم نے آپ کے بارے میں یہود و نصاریٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19 ۔ 21) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اسن اسحاق اور کلبی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہو کر آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کون سی گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کونسی گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے اللہ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–20
آیت 13
معلوم ہونا چاہیے کہ یہ سورة مبارکہ توحید کو متحقق کرنے کے لئے ہر عقلی اور نقلی دلیل پر مشتمل ہے، بلکہ تقریباً تمام سورت ہی توحید کی شان، مشرکین اور انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والوں کے ساتھ مجادلات کے مضامین پر مشتمل ہے۔ ان آیات کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان دلائل کا ذکر فرمایا ہے جن سے ہدایت واضح ہوتی ہے اور شرک کا قلع قمع ہوتا ہے چناچہ فرمایا : (ولہ ماسکن فی الیل والنھار) ” اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ کہ آرام پکڑتا ہے رات میں اور دن میں “ یہ جن و انس، فرشتے، حیوانات اور جمادات سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں۔ یہ سب اللہ کی تدبیر کے تحت ہیں۔ یہ سب اللہ کے غلام ہیں جو اپنے رب عظیم اور…
Read the full tafseer →30 عناد و ہٹ دھرمی باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل کتاب حضرت خاتمی مرتبت نبی اکرم ﷺ کو ایسا پہچانتے ہیں جیسا کہ یہ اپنے بیٹوں کو پہنچانتے ہیں۔ سو جس طرح کسی کو اپنے بیٹے کو پہچاننے میں کوئی دقت اور دشواری نہیں ہوتی اسی طرح ان لوگوں کو بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ آپ وہی نبی برحق ہیں جن سے متعلق پیشگوئیاں ان کی کتابوں میں موجود ہیں آپ ﷺ کی صفات کی بنا پر۔ اور آپ ﷺ سے متعلق ان بشارات سے جو کہ ان کی آسمانی کتابوں میں موجود تھیں اور ہیں۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر یہ لوگ ایمان سے محروم ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عناد و ہٹ دھرمی انسان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
تبلیغ کے فائدے اور طریقے
تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
رکوع نمبر 2 ۔ آیات 11 تا 20 ۔
اسرار و معارف :
ان سے کہیے زمین کا سینہ بھی تو کھلے ہوئے اوراق کی طرح گذشتہ قوموں کے حالات بیان کر رہا ہے ذرا تم بھی چل پھر کر دیکھو یہ اجڑی ہوئی بستیاں اور مسمار شدہ قلعے اپنے بنانے والوں کے گناہوں کی ڈھال نہ بن سکے اور نہ انہیں بچا سکے نہ خود بچ سکے اگر تم تکذیب کا راستہ اختیار کروگے تو سوائے تباہی کے تمہارے حصے میں بھی کچھ نہیں آئے گا۔ ذرا ان سے یہ تو پوچھا چاہئے کہ یہ جو کچھ زمینوں اور آسمانوں میں ہے یہ ہے کس کا اسکا مالک کون ہے پھر انہیں بتا دیجئے کہ یہ صرف اور صرف اللہ کی ملکیت ہے جس نے خود اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے نہ پیدا کرنے میں کسی نے اس…
Read the full tafseer →ف 13 یعنی اسکے سچے رسول ہونے میں انہیں کوئی شبہ نہیں (دیکھئے بقرہ آیت 146)
1 وپر گزر چکا ہے کہ کفار نے یہود و نصاریٰ سے آنحضرت ﷺ کے متعلق جب اتاستفسار کیا تو انہوں نے آپ کی نبوت سے انکار کیا چناچہ ان کے جواب میں قل ای شئی ل الخ۔ نازل ہوئی آپ کو اس آیت میں بتایا گیا کہ اہل کتاب جھوٹ بولتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا ذکر تورات میں نہیں ہے یہ تو آنحضرت ﷺ کے صدق نبوت کو پورے یقین سے جانتے ہیں مگر ضد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر انکار کر رہے ہیں ایسے لوگوں سے ایمان کی امید نہیں ہاں جن لوگوں کے دلوں میں اخلاص ہے وہ ضرور ایمان لے آئیں گے (رازی )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(6:20) یعرفونہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں ۔ کہ آپ کا حلیہ مبارک ۔ شمائل۔ صفات تورات اور انجیل میں مذکور ہیں۔
خسروا انفسھم۔ اہلکوا انفسھم۔ او بقوا انفسھم۔ (جنہوں نے) اپنے نفسوں کو ہلاکت اور گھاٹے میں ڈال دیا۔ بانکارھم نبوۃ محمد ﷺ ۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے انکار کرکے۔
فھم لا یؤمنون۔ ای لا یؤمنون بہ۔ وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
لغات القرآن : آیت نمبر 15 تا 20 :
عصیت ( میں نے نافرمانی کی) یصرف (پھیردیا گیا۔ ہٹادیا گیا) ‘ یومئذ (اس دن) ‘ یمسسک (پہنچائے تجھے) ‘ کاشف (کھولنے والا) ‘ القاھر (زبردست۔ (اللہ کی ایک صفت ہے) ‘ ای شیء ( کونسی چیز) ‘ اکبر (زیادہ بڑا۔ زیادہ بڑی) ‘ اوحی (وحی کی گئی) ‘ الی (میری طرف) ‘ انذر (ڈرایا گیا) ‘ من بلغ (جس کو پہنچا) ‘ اخری ( دوسرے۔ دوسری) ‘ اننی بریء ( بیشک میں دور ہوں۔ میں بیزار ہوں) ‘ یعرفون ( وہ پہچانتے ہیں) ابناء ھم (اپنے بیٹوں کو) ۔
تشریح : آیت نمبر 15 تا 20 :
ان آیات میں عذاب کی ہولناکی کا ذکر ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی زبانی یہ کہلوا کر کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو عذاب دوزخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مشرکین کا اعتراض نبوت پر : شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہوکر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہہنے لگے کہ کون سے گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں، ہم نے یہود اور نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کون سے گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے ۔ اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ کی گواہی کی نشانی یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →[10] یعنی یہود و نصاریٰ ۔
[11] اس لئے کہ ان کی آسمانی کتابوں میں اس پیغمبر کی پیشین گوئی موجود ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
آفتاب نبوت کی درخشانی :
(ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔
یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ،
(آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ…
Read the full tafseer →-20 جن لوگوں کو ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے یعنی یہود و نصاریٰ جن کو تم سے پہلے کتابیں دی تھیں وہ اس پیغمبر کو غیر مشتبہ طور پر ایسا جانتے اور پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو گھاٹے اور نقصان میں ڈال رکھا وہ کبھی ایمان لانے والے نہیں۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی اپنی عقل کو وجود دلالت شہادت مذکورہ پر نظر صحیح کرنے سے معطل کرلیا ہے خواہ وہ اہل کتاب ہوں یا غیر اہل کتاب ہوں۔
Read the full tafseer →اہل کتاب اللہ کے رسول ﷺ کو اس طرح پہنچانتے ہیں جیسے ہر آدمی اپنی اولاد کو :
33: پیچھے گزر چکا ہے کہ اہل مکہ نے اہل کتاب سے بھی نبی اعظم و آخر ﷺ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے متعلق اپنی لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس آیت میں بیان فرما دیا گیا کہ ان کا انکار ان کی لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ محض ہٹ دھری کی وجہ سے ہے کیوں ؟ اس لئے کہ وہ تو رسول اللہ ﷺ کو اس قدر پہچانتے ہیں جس قدر ہر انسان اپنی اولاد کو پہچانتا ہے ۔ آپ ہی غور کریں بیسیوں نہیں سینکڑوں بچے مل کر کھیل رہے ہوں تو کون ہے جو ان میں سے اپنے بچے کو شناخت نہیں کرسکتا۔ آپ ﷺ کی اس شناخت کی وجہ یہ تھی کہ تورات وانجیل میں نبی کریم ﷺ کا پورا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
In verse 20, there is a refutation of the saying of those who had said that they had checked with the Jews and the Christians and none of them were ready to attest to his truth as a Messenger of Allah. About that it was said: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ; (That is, as for the Jews and Christians, they recognize Muhammad al-Mustafa as they would recognize their sons.
The reason is that there is, in the Torah and Injil, a full description of the physical features of the Holy Prophet ﷺ ، of his home city and then his post-emigration place of…
Read the full tafseer →14. Those who have knowledge of the Scriptures know for sure that God is One alone and that no one shares His godhead with Him. It is true that one can spot one's own child even in the midst of a large crowd of children. The same can be said about those well-versed in the Scriptures. Even if the true concept of godhead were interspersed among numerous false beliefs and concepts about God, those well-versed in the scriptural lore would be able to recognize without doubt which doctrine was true.
Read the full tafseer →