Explained with ayahs 17–21
قرآن حکیم کا باغی جہنم کا ایندھن
اللہ تعالیٰ خبر دے رہا ہے کہ نفع و نقصان کا مالک وہی ہے اپنی مخلوق میں جیسی وہ چاہے تبدیلیاں کرتا ہے اس کے احکام کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کے فیصلوں کو کوئی رد نہیں کرسکتا اسی آیت جیسی آیت (مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ للنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۚ وَمَا يُمْسِكْ ۙ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ ۭ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ) 35۔ فاطر :2) ہے یعنی اللہ مقتدر اعلی جسے جو رحمت دینا چاہے اسے کوئی روک نہیں سکتا، اور جس سے وہ روک لے اسے کوئی دے نہیں سکتا، اس آیت میں خاص اپنے نبی کو خطاب کر کے بھی یہی فرمایا، صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
سورة الْاَنْعَام 15
یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے، یا کم از کم یہ کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔
سورة الْاَنْعَام 16
اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آخری آیت میں ان لوگوں کے اس قول کی تردید ہے کہ ہم نے یہود و نصاریٰ سے سب سے تحقیق کرلی، کوئی بھی آپ ﷺ کی سچائی اور نبوت کی گواہی نہیں دیتا، اس کے متعلق ارشاد فرمایااَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ یعنی یہود و نصاریٰ تو محمد مصطفیٰ ﷺ کو ایسا پہنچاتے ہیں جیسے اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں۔
وجہ یہ ہے کہ تورات و انجیل میں رسول کریم ﷺ کا پورا حلیہ شریف آپ ﷺ کے وطن اصلی پھر وطن ہجرت کا، اور آپ ﷺ کے عادات و اخلاق اور آپ ﷺ کے کارناموں کا ایسا تفصیلی ذکر ہے کہ اس کے بعد کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی، بلکہ صرف آنحضرت ﷺ ہی کا ذکر نہیں، آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے حالات کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
20 تا 21: اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَاۗءَهُمْ ، اس ٹکڑے پر تفصیلی بحث بقرہ کی تفسیر میں آیت 146 کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ اس سے مراد صالحین اہل کتاب ہیں۔ قرآن میں اچھے اہل کتاب کا ذکر بالعموم بصیغہ معروف ہی ہوا ہے۔ یعرفونہ میں ضمیر منصوب کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر واوحی الی ھذا القرآن میں گزر چکا ہے۔ اس سے نبی ﷺ کو بھی مراد لیا گیا ہے لیکن چونکہ یہاں سیاق کلام نبی ﷺ سے خطاب کا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے ضمیر غائب موزوں نہیں ہے۔ ویسے باعتبار مدعا کوئی فرق واقع نہیں ہوگا اس لیے کہ نبی اور قرآن دونوں لازم و ملوم ہیں اور ایسے لازم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
21۔ 1 یعنی جس طرح اللہ پر جھوٹ گھڑنے والا (یعنی نبوت کا جھوٹا دعوا کرنے والا) سب سے بڑا ظالم ہے، اس طرح وہ بھی بڑا ظالم ہے جو اللہ کی آیات اور اس کے سچے رسول کی تکذیب کرے۔ جھوٹے دعوے نبوت پر اتنی سخت وعید کے باوجود یہ واقعہ ہے کہ متعدد لوگوں نے ہر دور میں نبوت کے جھوٹے دعوے کیئے ہیں اور یوں یقینا نبی کی پیش گوئی کی تیس جھوٹے دجال ہونگے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ گزستہ صدی میں بھی قادیاں کے ایک شخص نے نبوت کا دعوا کیا اور آج اس کے پیروکار اس لئے سچا نبی اور بعض مسیح معبود مانتے ہیں کہ اسے ایک قلیل تعداد نبی مانتی ہے۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا کسی جھوٹے کو سچا مان لینا، اس کی سچائی کی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–22
6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔
بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا…
Read the full tafseer →1 یعنی نبی نہ ہو اور خدا پر افتراء کر کے دعویٰ نبوت کر بیٹھے یا سچے نبی سے جس کی صداقت کے دلائل واضحہ موجود ہوں خدائی پیام سن کر تکذیب پر کمر بستہ ہوجائے۔ ان دونوں سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ہوسکتا اور سنت اللہ یہ ہے کہ ظالم کو انجام کار کامیابی اور بھلائی نصیب نہیں ہوتی۔ پس اگر فرض کرو معاذاللہ میں مفتری ہوں تو ہرگز کامیاب نہ ہوں گا اور تم مکذب ہو جیسا کہ دلائل سے ظاہر ہے تو تمہاری خیریت نہیں۔ لہذا حالات میں غور کر کے اور انجام سوچ کر عاقبت کی فکر کرو۔ اور اس دن سے ڈرو جس کا ذکر آگے آتا ہے۔ ابن کثیر نے آیت کے یہی معنی لئے ہیں اور بعض مفسرین نے افتِرائً عَلی اللہ سے مشرکین کا شرک مراد لیا جیسا…
Read the full tafseer →آیت 21 وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
یعنی یہ دو عظیم ترین جرائم ہیں جو شناعت میں برابر کے ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانا یا کوئی شے خودگھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
23 شرکیہ عقائد کی قسمیں :۔ مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف کے اختیارت بعض اولیاء اللہ کو بھی دے رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کے متعلق عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا و فریاد کب سنتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی فریاد کسی بزرگ کو سنائیں اور وہ ہماری فریاد اللہ تک پہنچا دے۔ یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کے ساتھ دوسری بھی بہت سی ہستیاں اس کائنات کی خدائی میں اس کی شریک اور ممد و معاون ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارا فلاں بزرگ قیامت کے دن ہماری سفارش کر کے ہمیں اللہ کی گرفت اور عذاب الٰہی…
Read the full tafseer →32 ۔ یہ فلاح کی نفی آخرت میں تو مادی ومعنوی ہر حیثیت سے ہوکر رہے گی، باقی دنیا میں بھی اہل کفر، مومن کی سی حقیقی راحت قلب و سکون ضمیر سے محروم ہی رہتے ہیں۔ (آیت) ” افتری علی اللہ کذبا “۔ اللہ پر افتراء کذب یہ کہ جن چیزوں سے نفی و انکار واجب ہے، ان کا اقرار و اثبات کرنے لگے۔ مثلا دیویوں دیوتاؤں کا، خدا کے بیٹوں بیٹیوں کا، روح یا مادہ کی قدامت، آواگون کا چکر، اوتاروں کا وجود۔ (آیت) ” کذب بایتہ “۔ تکذیب آیات الہی یہ کہ جن باتوں کا اقرار و اثبات واجب ہے، ان سے انکار کرنے لگے ، (آیت) ” مثلا توحید، رسالت، یوم جزاء حقانیت قرآن وغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور اس سے بڑھ کرنا انصاف کون ہوگا ؟ جو اللہ پر اس کی طرف شریک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگائے ؟ کوئی نہیں، یا اس کی آیتوں (یعنی) قرآن کو جھٹلائے یقینی بات ہے کہ اس قسم کے ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ان مشرکوں سے سرزنش کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر (جواب) باقی نہ رہے گا کہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم مشرک نہیں تھے، (تکن) تاء اور یاء، کے ساتھ ہے، (اور) (فِتْنَتُھم) نصب اور رفع کے ساتھ ہے (اور فتنۃٌ) کے…
Read the full tafseer →ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اور جس نے اللہ پر دروغ بافی کی اس سے زیادہ بےانصاف کون ہوگا۔ یعنی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور باوجودیکہ اس کے پاس اللہ نے وحی نہیں بھیجی مگر وہ وحی کا مدعی بن بیٹھا۔
او کذب بایتہ یا اللہ کی آیات کی اس نے تکذیب کی۔ یعنی قرآن میں اللہ نے جو آیات نازل فرمائی ہیں اور معجزات جو توحید پر دلالت کرتے ہیں اور رسول کی صداقت ان سے ثابت ہوتی ہے ان کو نہیں مانا۔ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر کوئی ناانصاف نہیں (ظالم کا ترجمہ بےجا حرکت کرنے والا بھی ہے اس لئے ” اظلم “ کا ترجمہ سب سے بڑا بےجا حرکت کرنے والا بھی ہوسکتا ہے۔ مترجم) ۔
اس تشریح کی بناء پر آیت میں رسول…
Read the full tafseer →(21) اور اس سے بڑھ کر بھلا بےانصاف کون ہوگا جو توحید خداوندی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے بتوں کو شریک کرے یا رسول اللہ ﷺ اور قرآن کریم کی تکذیب کرے، یقیناً ظالموں اور مشرکوں کو عذاب خداوندی سے کسی طرح چھٹکارا حاصل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچایا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گناہ گار کوئی نہیں، پس اپنی فکر کرو۔ (موضح) اب اس آیت میں ان کے خسارے کا سبب بیان فرمایا۔ (رازی) خسارے کا پہلا سبب افتراء علی اللہ، یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا قرار دیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی جھوٹ گھڑنے پر تھی۔ بتوں کو اللہ کا شریک قرار دینا، فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہنا اور بحیرہ و سائبہ وغیرہ کو حرام قرار دینا، یہ سب چیزیں جھوٹ گھڑنے پر مبنی تھیں۔ اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افترا شامل ہوگئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت نمبر 21 تا 22 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن ظلم مبتدا اور خبر ہیں یعنی کوئی زیادہ ظالم نہیں۔ ممن افتری جس نے بہتان باندھا (1) (المحررالوجیز، جلد، 2، صفحہ 277) آیت : علی اللہ کذبااو کذب بایتہ مراد قرآن اور معجزات ہیں۔ آیت : انہ لا یفلح الظالمون بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے، پھر نئی کلام شروع فرمائی فرمایا : آیت : ویوم نحشرھم جمیعا اس کا معنی ہے یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ظالم دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے اور اس دن جس میں ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ اس تقدیر الظالمون پر وقف نہیں ہوگا، کیونکہ یہ متصل ہے۔ بعض علماء نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(1) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نضر نے کہا اور وہ بنو عبدالدار میں سے ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو میرے لئے لات اور عزی شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون
Read the full tafseer →وَمَنْ [ اور کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [ گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] كَذَّبَ [ جس نے جھٹلایا ] بِاٰيٰتِهٖ ۭ [ اس کی نشانیوں کو ] اِنَّهٗ [ بیشک حقیقت یہی ہے کہ ] لَا يُفْلِحُ [ مراد نہیں پاتے ] الظّٰلِمُوْنَ (21) [ ظلم کرنے والے ]
Read the full tafseer →قیامت کے دن مشرکین سے سوال فرمانا اور ان کا مشرک ہونے کا انکار کرنا
مشرکین کا یہ طریقہ تھا کہ شرک بھی کرتے تھے اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ پاک کے باغی مت بنو۔ توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار نہ کرو تو کہہ دیتے تھے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اور جو آیات بینات نبیوں کے واسطہ سے ان تک پہنچی تھیں انہیں جھٹلا دیتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ یہ ظالم سمجھتے ہیں کہ ہم منہ زوری کر کے جو گمراہی پر جمے ہوئے ہیں اور نبی کی بات کو قبول نہیں کرتے یہ کامیابی کی بات ہے۔ ان کا یہ سمجھنا جہالت اور سفاہت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
اثبات توحید و رسالت۔
قال اللہ تعالی، قل ای شئی اکبر شھادۃ۔۔۔۔ الی۔۔۔ الظالمون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیات میں توحیدورسالت کو فردا فردا بیان فرمایا اب ان آیات میں توحید و رسالت کو مجتمعا بیان فرماتے ہیں مشرکین مکہ نے کہا اے محمد ہم کسی کو نہیں دیکھتے کہ جو آپ کو سچا جانے اور آپ کی نبوت کی شہادت دے اور ہم نے علماء یہود ونصاری سے بھی تیری بابت دریافت کیا انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہادت نہیں دی اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جو آپ کی نبوت و رسالت پر شہادت اور گواہی طلب کرتے ہیں آپ ان سے یہ کہہ دیجئے کہ علاوہ ازیں خدا تعالیٰ میری نبوت کا گواہ ہے جس سے بڑھ کر کوئی گواہ نہیں یہ قرآن کریم…
Read the full tafseer →25 زجر ہے مشرکین کے لیے اور استفہام انکار کے لیے ہے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے اور اللہ کے نیک بندوں کو خدا کے ساتھ شریک بناتا ہے اور توحید کی آیتوں اور توحید کے دلائل کا انکار کرتا ہے وہ سب سے بڑا ظالم ہے۔ اِنَّہٗ لَایُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ اور ظالم لوگ جو توحید کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں اور جو دن رات شرک کرتے ہیں آخرت میں ان کی نجات نہیں ہوگی تو جو اظلم (یعنی سب سے بڑے ظالم) ہو ان کی بدرجہ اولیٰ نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
گواہی بحق رسالت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں تردرد تھے اور فرشتہ اترنے اور لکھی لکھائی کتاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مگر اللہ نے ان کے مطالبہ کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کہہ دی جائے تب بھی یہ اسی شک میں پڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔ منجملہ دیگر اعتراضات کے مشرکین مکہ یہ بھی سوال کرتے تھے کہ حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کی گواہی کون دیتا ہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ای ئی اکبر شھادۃ سب سے بڑی گواہی کس کی ہو سکتی ہے ؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا قل اللہ وقف آپ کہہ دیں کہ سب…
Read the full tafseer →وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ 0ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ 21
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
1 ؎ یعنی رسول اللہ ﷺ کو خوب پہچانتے ہیں۔ ان نشانیوں اور علامات سے جو ان کتابوں میں یا زبانی منقول تھیں۔ 12 منہ
1 ؎ یہ دوسرا جو بیان فرمایا اس سے کل اہل کتاب مراد نہیں بلکہ وہی جو اس جاننے کے قابل تھے۔ بہت یہودیوں نے اقرار کیا کہ محمد ﷺ کی نبوت ہماری کتابوں سے ثابت ہے۔ موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) انہیں کی خبر دے گئے ہیں۔ 12 منہ
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَمَنْ اَظلَمَ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ۔
(الانعام : 21)
(اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ‘ جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا اس کی آیات کی تکذیب کی۔ بیشک یہ ظالم فلاح پانے والے نہیں)
مشرک سب سے بڑا ظالم ہے
یعنی جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ کی گواہی یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اہل کتاب پہلی آسمانی کتابوں کی گواہی سے قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی صداقت کی گواہی دے چکے۔ تو ان دونوں گواہیوں کے مکمل ہونے کے بعد اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور نامراد کون ہوسکتا ہے ‘ جو اس گواہی کے خلاف اللہ پر جھوٹ باندھے اور یہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منکرین حق کا نبی ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا، اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور اپنے باطل نظریات کی تائید کے لیے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنا ظلم ہے۔
شریعت کی نظر میں جھوٹ بولنا انتہائی قبیح گناہ ہے۔ اس جرم کی سنگینی میں اس وقت بےپناہ اضافہ ہوجاتا ہے جب کوئی شخص اپنے باطل نظریات کو اللہ تعالیٰ کے ذمہ لگا کر اسے حق ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ ایسا شخص نہ صرف پرلے درجے کا کذّاب شمارہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین ظالم سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ذات حق پر جھوٹ بول کر لوگوں کو گمراہی کا راستہ دکھانا انتہائی سنگین جرم ہے۔ ایسے ظالم آخرت میں ہر قسم کی مدد سے محروم ہوں گے…
Read the full tafseer →یہ ظالم دو باطل باتیں جمع کرنے والے ہیں :
آیت 21 : وَمَنْ اَظْلَمُ یہ استفہام نفی کے معنی کو متضمن ہے۔ یعنی ان سے بڑھ کر اپنے نفس پر ظلم کرنے والا کوئی نہیں۔ الظلم کسی چیز کو اپنے مقام سے ہٹا کر دوسرے مقام پر رکھنا۔ اور سب سے بدترین ظلم یہ ہے کہ مخلوق کو معبود بنادیا جائے۔ مِمَّنِ افْتَرٰیجس نے جھوٹ باندھا۔ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًاوہ اس کی ایسی صفت بیان کرتا ہے جو اس کے لائق نہیں۔ اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖقرآن اور معجزات کو۔ اِنَّہٗ ۔ ضمیر شان ہے۔ بیشک معاملہ اور شان یہ ہے کہ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ انہوں نے دو باطل باتیں جمع کرلیں پس اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات جھوٹ لگائی جس کی کوئی دلیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت نمبر 24, 23, 22, 21
تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔
(ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔
(ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
(19 ۔ 21) ۔ معتبر سند سے ابن جریر اسن اسحاق اور کلبی نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہو کر آنحضرت کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ کون سی گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں ہم نے یہود و نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کونسی گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے اللہ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ…
Read the full tafseer →آیت 21
یعنی ظلم اور عناد میں اس شخص سے بڑھ کر کوئی نہیں جس میں ان دونوں اوصاف میں سے کوئی ایک صوف ہو، چہ جائیکہ جس میں دونوں ہی جمع ہوں :
(1) اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹ گھڑنا۔ (2) اور اس کی آیات کو جھٹلانا جنہیں رسول لے کر آئے ہیں۔
یہ شخص سب سے بڑا ظالم ہے اور ظالم کبھی فلاح نہیں پاتا۔
اس آیت کریمہ کی وعید میں وہ تمام لوگ داخل ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں افترا پردازی کرتے ہوئے اس کے شریک اور معاون ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنا جائز ہے یا اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کوئی بیوی یا بیٹا بنایا ہے اور اس وعید میں وہ تمام لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے…
Read the full tafseer →32 اللہ پر افترا باندھنا سب سے بڑا ظلم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو جھوٹا بہتان باندھے اللہ پر۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ جو اپنے آپ کو خدا کے بیٹے اور پیارے بتاتے تھے اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کو یہ لوگ خدا کے بیٹے مانتے تھے۔ اور جیسا کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَائَ الجنَّ } ۔ (الانعام : 101) نیز فرمایا گیا ۔ { وَیَجْعَلُُوْنَ لِلّٰہِ الْبَنَاتِ سُبْحَانَہٗ } ۔ (النحل : 57) ۔ نیز جیسا کہ بےحیائی کا ارتکاب کرنے والوں کا کہنا تھا کہ اس بےحیائی کے ارتکاب کا حکم ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–21
تبلیغ کے فائدے اور طریقے
تشریح : ان تمام آیات میں آنحضرت ﷺ کو نذیر اور بشیر یعنی ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا بتایا گیا ہے۔ ان کو گمراہی دور کرنے اور نیکی پھیلانے کے لیے اللہ رب العزت نے منتخب کر کے آخری نبی کی صورت میں لوگوں کی طرف بھیجا اور پھر مختلف طریقوں سے خود نبی ﷺ کی رہنمائی فرمائی اور یوں فرمایا۔ سب سے پہلے اللہ کا مالک کل ہونا ثابت کیا پھر قیامت کے دن کی سچائی اور سختی سے آگاہ کیا۔ پھر اللہ کے رحیم و کریم ہونے کی خبر دی اللہ واقعی بڑا ہی رحم کرنے والا ہے۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا تو ایک نوشتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…
Read the full tafseer →ف 2 یعنی اگر میں نے جھوٹ بولا تو مجھ سے بدتر کوئی کوئی نہیں اور اگر میں نے سچ پہنچا یا اور تم نے جھٹلایا تو تم سے زیادہ گنہگار کوئی نہیں بس اپنی فکرو۔ (موضح) اوپر کی آیات میں منکرین پر خسران کا حکم لگا یا اب اس آیت میں اس خسران کا سبب بیان فرمادیا، (رازی) چناچہ خسران کا پہلا سبب افتر ال علی اللہ قرار دیا ہے او اہل علم جانتے ہیں کہ کفار مکہ کے دین کی بنیاد ہی افترا پر تھی بتوں کو شراکا اللہ قرار دینا فرشتوں کو بنات اللہ کہنا اور بحیرہ سائبہ وغیرہ کی تحریم وغیرہ سب چیزیں افتر پر مبنی تھیں اسی طرح یہود و نصاریٰ کے دین میں بہت سے افزا شامل ہوئے تھے مثلام تورات وانجیل کو ناقابل نسخ وتغییر مانتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(6:20) یعرفونہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے رسول اللہ ﷺ مراد ہیں ۔ کہ آپ کا حلیہ مبارک ۔ شمائل۔ صفات تورات اور انجیل میں مذکور ہیں۔
خسروا انفسھم۔ اہلکوا انفسھم۔ او بقوا انفسھم۔ (جنہوں نے) اپنے نفسوں کو ہلاکت اور گھاٹے میں ڈال دیا۔ بانکارھم نبوۃ محمد ﷺ ۔ حضرت محمد ﷺ کی نبوت سے انکار کرکے۔
فھم لا یؤمنون۔ ای لا یؤمنون بہ۔ وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لائیں گے۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 21 :
من اظلم ممن (اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا) ‘ لایفلح (کامیابی نہ پائے گا) ‘
تشریح، آیت نمبر 21 :
گزشتہ آیت میں فرمایا ہے (بلکہ اس سے پہلے بھی) کہ وہی لوگ ایمان نہیں لائیں گے جو اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں۔ ایمان نہ لانا۔ اپنے آپ پر سب سے بڑا ظلم کرنا ہے۔ مشرکین مکہ کے وفد کو خاص طور پر مخاطب کیا گیا ہے کہ اللہ کی ذات اور صفات میں اللہ کے بندوں کو شریک کرنا اللہ پر بھی اور اس کے پیغمبروں پر بھی سب سے بڑا الزام ہے۔ چناچہ اللہ کا فیصلہ ہے۔ ظالم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ ایک اور جگہ کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ظالموں پر لعنت بھیجتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
مشرکین کا اعتراض نبوت پر : شان نزول : حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ چند مشرکین جمع ہوکر آنحضرت ﷺ کے پاس آئے اور کہہنے لگے کہ کون سے گواہی پر ہم آپ کو اللہ کا رسول جانیں، ہم نے یہود اور نصاریٰ سے پوچھا تو وہ کہتے کہ ان کی کتابوں میں بھی آپ کی نبوت کی کوئی تصدیق نہیں ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان منکرین نبوت سے پوچھا جاوے کہ کون سے گواہی تم کو تصدیق نبوت کی درکار ہے ۔ اگر وہ کچھ جواب دیویں تو خیر ورنہ اللہ سے بڑھ کر کوئی گواہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی نبوت کا گواہ ہے اور اللہ کی گواہی کی نشانی یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔
[13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
آفتاب نبوت کی درخشانی :
(ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔
یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ،
(آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ…
Read the full tafseer →-21 اور اس شخص سے زیادہ اور بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے اور اللہ تعالیٰ پر بہتان لگائے یا اس کی آیات اور اس کی نشانیوں کی تکذیب کرے اور اللہ تعالیٰ کیآیات کو جھلائے واقعہ یہ ہے کہ ایسے ظالم اور ناانصاف فلاح نہیں پاتے اور اس قسم کے ظالموں کو فلاح نصیب نہیں ہوتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
ف 1۔ اوپر کفار کا فلاح نہ پانا مذکور ہوا ہے آگے اس فلاح نہ پانے کی کچھ کیفیت مذکور ہے مشرکین کی تو تصریحا کہ مکہ میں جو محل نزول سورت ہے مشرکین زیادہ تھے اور دوسرے کفار کی مقایسة کیونکہ اصل علت عدم فلاح کی یعنی کفر سب میں مشترک ہے۔
Read the full tafseer →اس سے زیادہ کون ظالم ہے جس نے اللہ ، اللہ کے رسول اور اللہ کی کتاب کو جھٹلادیا :
34: زیر نظر آیت قرآن کریم میں کم و بیش چودہ بار آئی ہے جن میں سے چار بار تو اس سورة الانعام میں موجود ہے مطلب اس کا اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دعوائے رسالت کیا اور کچھ لوگوں نے اس کو جھٹلادیا۔ اب معاملہ دو حال سے خالی نہیں ہو سکتا اگر نبی کریم ﷺ نے اللہ کا نام لے کر جھوٹا دعویٰ کیا ہے تو اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے یعنی کوئی نہیں ہوسکتا اور اگر جن لوگوں نے سچے نبی کی تکذیب کی ہے تو پھر تکذیب کرنے والوں سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر ظاہر ہے کہ جب اللہ کا رسول ﷺ ہر لحاظ سے سچا ہے تو باقی کیا بات رہ گئی ؟
ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
In verse 20, there is a refutation of the saying of those who had said that they had checked with the Jews and the Christians and none of them were ready to attest to his truth as a Messenger of Allah. About that it was said: الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمُ ; (That is, as for the Jews and Christians, they recognize Muhammad al-Mustafa as they would recognize their sons.
The reason is that there is, in the Torah and Injil, a full description of the physical features of the Holy Prophet ﷺ ، of his home city and then his post-emigration place of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
15. This refers to those who asserted that there were also other beings which shared with God in His godhead, were possessed of divine attributes and powers, and rightly deserved to claim from man worship and absolute service. It is also a slander to claim that God has selected certain beings to be His chosen intimates and that lie has commanded - or is at least agreeable to the idea - that they should he considered to possess divine attributes, and that people should serve and revere them as they would serve and revere God, their Lord.
16. By 'signs of God' are meant the signs found within…
Read the full tafseer →