Al-An'aam 6:22

Al-An'aam · from ayah 22

6:22

وَیَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَیْنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۟وَيَوۡمَ نَحۡشُرُهُمۡ جَمِيۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِيۡنَ اَشۡرَكُوۡۤا اَيۡنَ شُرَكَآؤُكُمُ الَّذِيۡنَ كُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together; then We will say to those who associated others with Allah, "Where are your 'partners' that you used to claim [with Him]?"

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:22

جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جس دن ہم سب لوگوں کو جمع کریں گے پھر مشرکوں سے پوچھیں گے کہ (آج) وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تمہیں دعویٰ تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور وه وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جس روز ہم ان تمام خلائق کو جمع کریں گے، پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وه شرکا، جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے، کہاں گئے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس دن (کو یاد رکھو) جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے، پھر جن لوگوں نے شرک کیا ہوگا ان سے پوچھیں گے کہ : کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کے بارے میں تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدائی میں اللہ کے شریک ہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جس دن ہم سب کو اٹھائیں گے پھر مشرکوں سے فرمائیں گے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کا تم دعویٰ کرتے تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کرتے تھے: تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم (معبود) خیال کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے، پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے شریک بنائے کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جس دن ہم سب لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور شرک کرنے والوں سے پوچھیں گے کہ، تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جنہیں تم اللہ کے شریک سمجھتے تھے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یاد کرو اس دن کو جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جس دن اکٹھا کر لائیں گے ہم ان سب کو، پھر مشرکوں سے ہم (ان تذلیل و توبیخ کے لئے) کہیں گے کہ کہاں ہیں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک جن کا تمہیں بڑا دعویٰ (او گھمنڈ) تھا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(وہ دن یاد رکھو) جس دن ہم ان سب کو اکٹھے کریں گے پھر جو لوگ شرک کرتے رہے ہیں ان سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جس کے لئے تم دعوی کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جس دن ہم جمع کریں گے ان سب کو پھر کہیں گے ان سے جنہوں نے شرک کیا تھا کہاں ہیں تمہارے وہ شرکاء جن کا تمہیں گھمنڈ ہوگیا تھا ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ وہ تمہارے بنائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا رب سمجھتے تھے ؟ تو ان کے پاس کوئی بہانہ نہ رہے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And on the Day when We shall gather them all together, We shall ask those who associated others with -Allah in His divinity: 'Where, now, are your partners whom you imagined (to have a share in the divinity of Allah)?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Be mindful of) the Day We shall gather them together, then We will say to those who associated partners with Allah, :Where are those you claimed to be partners of Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

(Be mindful of) the Day We shall gather them together, then We will say to those who associated partners with Allah, :Where are those you claimed to be partners of Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And on the Day when We shall gather them all together, We shall say to those who joined partners in worship (with Us): "Where are your partners (false deities) whom you used to assert (as partners in worship with Allah)"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And on the day We gather them together We shall say unto those who ascribed partners (unto Allah): Where are (now) those partners of your make-believe?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [mention, O Muhammad], the Day We will gather them all together; then We will say to those who associated others with Allah, "Where are your 'partners' that you used to claim [with Him]?"

— Saheeh International

On the Day of Judgment when We will gather all people together, We will ask the pagans, "Where are those whom you believed to be your gods?"

— Muhammad Sarwar

And on the day when We shall gather them all together, then shall We say to those who associated others (with Allah): Where are your associates whom you asserted?

— Muhammad Habib Shakir

And let them beware the Day whereon We shall gather them all together; then We shall say unto those who associated: where are your associate-gods whom ye have been asserting?

— Abdul Majid Daryabadi

One day shall We gather them all together: We shall say to those who ascribed partners (to Us): "Where are the partners whom ye (invented and) talked about?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–26

قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–24

سورة الْاَنْعَام 15 یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے، یا کم از کم یہ کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔ سورة الْاَنْعَام 16 اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر کیفیت عدم فلاح مشرکین اور وہ وقت بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جس روز ہم تمام خلائق کو (میدان حشر میں) جمع کریں گے، پھر مشرکین سے (بواسطہ یا بلا واسطہ بطور زجر و توبیخ کے) کہیں گے کہ (بتلاؤ) تمہارے وہ شرکاء جن کے معبود ہونے کا تم دعویٰ کرتے تھے کہاں گئے (کہ تمہاری سفارش نہیں کرتے جس پر تم کو بھروسہ تھا) پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی (ظاہر) نہ ہوگا کہ وہ (اس شرک سے خود بیزاری اور نفرت کا اظہار کریں گے اور بدحواسی کے عالم میں) یوں کہیں گے قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہیں تھے (حق تعالیٰ نے فرمایا تعجب کی نظر سے) ذرا دیکھو تو کس طرح (صریح) جھوٹ بولا اپنی جانوں پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا میں جمیعاً کی تاکید نے ان تمام گروہوں کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے جن کا ذکر اوپر کی آیات میں ہوا۔ یعنی ان کو بھی جنہوں نے خدا پر جھوٹ گھڑ کے اس کے لیے شرکاء ایجاد کیے، ان کو بھی جنہوں نے مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور جزا و سزا کا انکار کیا اور ان کو بھی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی۔ اگر یہ تمام جرائم ان تمام مشرکین کے مشترک جرائم تھے تاہم ان کے ذوقی رجحانات کچھ الگ الگ بھی تھے اس وجہ سے آگے کی آیات میں ان کا الگ الگ بھی ذکر ہوا اور ان سب پر ان کے جرائم کی مخصوس نوعیت کے اعتبار سے ضرب لگائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 21–22

21۔ 1 یعنی جس طرح اللہ پر جھوٹ گھڑنے والا (یعنی نبوت کا جھوٹا دعوا کرنے والا) سب سے بڑا ظالم ہے، اس طرح وہ بھی بڑا ظالم ہے جو اللہ کی آیات اور اس کے سچے رسول کی تکذیب کرے۔ جھوٹے دعوے نبوت پر اتنی سخت وعید کے باوجود یہ واقعہ ہے کہ متعدد لوگوں نے ہر دور میں نبوت کے جھوٹے دعوے کیئے ہیں اور یوں یقینا نبی کی پیش گوئی کی تیس جھوٹے دجال ہونگے۔ ہر ایک کا دعویٰ ہوگا کہ وہ نبی ہے۔ گزستہ صدی میں بھی قادیاں کے ایک شخص نے نبوت کا دعوا کیا اور آج اس کے پیروکار اس لئے سچا نبی اور بعض مسیح معبود مانتے ہیں کہ اسے ایک قلیل تعداد نبی مانتی ہے۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا کسی جھوٹے کو سچا مان لینا، اس کی سچائی کی دلیل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 13–22

6: غالباً اشارہ اس طرف ہے کہ رات اور دن کے اوقات میں جب لوگ سوتے ہیں تو دوبارہ بیدار بھی ہوجاتے ہیں، حالانکہ نیند بھی ایک چھوٹی موت ہے جس میں انسان دنیا سے بیخبر اور بالکل بےاختیار ہوجاتا ہے۔ لیکن چونکہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہوترا ہے، اس لیے جب وہ چاہتا ہے اسے بیداری کی دنیا میں واپس لے آتا ہے۔ اسی طرح جب بڑی موت آئے گی تب بھی انسان اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہوگا اور وہ جب چاہے گا اسے دوبارہ زندگی دے کر قیامت کے یوم حساب کی طرف لے جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 جن کی نسبت تم کو دعویٰ تھا کہ وہ خدائی کے حصہ دار اور شدائد میں تمہارے شفیع و مددگار ہیں، آج ایسی سختی اور مصیبت کے وقت کہاں چلے گئے کہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

23 شرکیہ عقائد کی قسمیں :۔ مثلاً یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات میں تصرف کے اختیارت بعض اولیاء اللہ کو بھی دے رکھے ہیں جیسا کہ مشرکین کا اپنے دیوی دیوتاؤں کے متعلق عقیدہ ہوتا ہے کہ وہ ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرسکتے ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ اللہ ہم گنہگاروں کی دعا و فریاد کب سنتا ہے لہذا ضروری ہے کہ ہم اپنی فریاد کسی بزرگ کو سنائیں اور وہ ہماری فریاد اللہ تک پہنچا دے۔ یا یہ دعویٰ کرنا کہ اللہ کے ساتھ دوسری بھی بہت سی ہستیاں اس کائنات کی خدائی میں اس کی شریک اور ممد و معاون ہیں یا یہ عقیدہ رکھنا کہ ہمارا فلاں بزرگ قیامت کے دن ہماری سفارش کر کے ہمیں اللہ کی گرفت اور عذاب الٰہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

33 ۔ (کہ یہ خدائی میں شریک ہیں) سوال ظاہر ہے کہ حصول جواب کی غرض سے نہیں۔ بلکہ تفضیح کے لیے ہوگا۔ المقصود منہ التقریع والتبکیت لا السؤال (کبیر) (آیت) ” یوم نحشرھم “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ واذکریوم نحشرھم۔ علی معنی واذکریوم نحشرھم (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : اور اس سے بڑھ کرنا انصاف کون ہوگا ؟ جو اللہ پر اس کی طرف شریک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگائے ؟ کوئی نہیں، یا اس کی آیتوں (یعنی) قرآن کو جھٹلائے یقینی بات ہے کہ اس قسم کے ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ان مشرکوں سے سرزنش کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر (جواب) باقی نہ رہے گا کہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم مشرک نہیں تھے، (تکن) تاء اور یاء، کے ساتھ ہے، (اور) (فِتْنَتُھم) نصب اور رفع کے ساتھ ہے (اور فتنۃٌ) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و یوم نحشرہم جمیعا اور جس روز ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ یعنی کافروں کو اور ان کے معبودوں کو (بتوں وغیرہ کو) یوممفعول فیہ ہے اس کا فعل محذوف ہے یعنی یاد کرو اس دن کو جب ایسا ایسا ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ کوئی معین فعل ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ روز قیامت کے تمام خطرات اور شدائد و مصائب کی طرف ذہن کا انتقال ہوجائے (اور ہر قسم کی ہیبت ناکیاں نظر کے سامنے آجائیں اگر کوئی معین فعل ذکر کیا جاتا تو صرف اسی فعل کا تصور ہوتا اور دوسرے شدائد کی طرف ذہن کا انتقال نہ ہوتا) گویا یوں فرمایا کہ جس روز ہم سب کو جمع کریں گے اس روز سب پر ایسی دہشت طاری ہوجائے گی کہ ناقابل بیان ہے الفاظ کی حدود کے اندر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) او قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو جمع کرلیں گے، پھر ان معبودان باطل کے بچاریوں سے کہیں گے کہ جن معبودوں کی تم عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں انہیں لے کر آؤ وہ آج کدھر ہیں۔ پھر ان کا عذر اور جواب اپنی بےگناہی کے عذر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 22–23

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا۔۔ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جب ان سے ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے متعلق باز پرس ہوگی تو ان کے پاس کوئی بہانہ یا فریب اس کے سوا نہ ہوگا کہ وہ قسم کھا کر اپنے شرک کرنے ہی سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة مجادلہ (18)۔ دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ دیکھیے سورة نساء (42) دونوں باتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ اہل توحید کو جنت میں داخل ہوتا دیکھیں گے تو اپنے شرک کا انکار کریں گے، پھر جب ان کے مونہوں پر مہر لگے گی اور ان کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کا ہر حصہ بول کر گواہی دے گا تو پھر ان کی کوئی بات چھپ نہیں سکے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 21–22

آیت نمبر 21 تا 22 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن ظلم مبتدا اور خبر ہیں یعنی کوئی زیادہ ظالم نہیں۔ ممن افتری جس نے بہتان باندھا (1) (المحررالوجیز، جلد، 2، صفحہ 277) آیت : علی اللہ کذبااو کذب بایتہ مراد قرآن اور معجزات ہیں۔ آیت : انہ لا یفلح الظالمون بعض علماء نے فرمایا : اس کا معنی ہے دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے، پھر نئی کلام شروع فرمائی فرمایا : آیت : ویوم نحشرھم جمیعا اس کا معنی ہے یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ بعض نے فرمایا : اس کا معنی ہے ظالم دنیا میں فلاح نہیں پائیں گے اور اس دن جس میں ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ اس تقدیر الظالمون پر وقف نہیں ہوگا، کیونکہ یہ متصل ہے۔ بعض علماء نے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 21–22

(1) امام ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نضر نے کہا اور وہ بنو عبدالدار میں سے ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو میرے لئے لات اور عزی شفاعت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اتارا لفظ آیت ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ انہ لا یفلح الظلمون

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَيَوْمَ [ اور اس دن ] نَحْشُرُهُمْ [ ہم جمع کریں گے ان کو ] جَمِيْعًا [ سب کے سب کو ] ثُمَّ [ پھر ] نَقُوْلُ [ ہم کہیں گے ] لِلَّذِيْنَ [ ان سے جنھوں نے ] اَشْرَكُوْٓا [ شرک کیا ] اَيْنَ [ کہاں ہیں ] شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ [ تمہارے وہ شریک (کئے ہوئے ) لوگ جن کا ] كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (22) تم لوگ زعم کیا کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اور ارشاد فرمایا (وَ یَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ) (اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم مشرکین سے کہیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم دعویٰ کرتے تھے کہ وہ بھی معبود ہیں) یہ سن کر وہ شرک سے منکر ہوجائیں گے اور وہاں بھی فریب کاری سے کام لیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26 یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ شُرَکَاءُکُمْ اس سے وہ نیک پیر اور بزرگ مراد ہیں جن کو مشرکین دنیا میں حاجت روا اور سفارشی سمجھ کر پکارا کرتے تھے، یعنی قیامت کے دن جب ہم سب کو میدانِ محشر میں جمع کریں گے تو مشرکین سے کہیں گے کہ آج تمہارے وہ کارساز اور سفارشی کہاں ہیں جن کے معلق تمہارا خیال تھا کہ وہ ہر مشکل اور ہر مصیبت میں تمہارے کام آئیں گے۔ آج تم پر بہت بڑی مصیبت آپڑی ہے آج وہ تمہاری مدد کے لیے کیوں نہیں آئے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَيَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِيْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِيْنَ اَشْرَكُوْٓا اَيْنَ شُرَكَاۗؤُكُمُ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۝ 22 حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 20–22

1 ؎ یعنی رسول اللہ ﷺ کو خوب پہچانتے ہیں۔ ان نشانیوں اور علامات سے جو ان کتابوں میں یا زبانی منقول تھیں۔ 12 منہ 1 ؎ یہ دوسرا جو بیان فرمایا اس سے کل اہل کتاب مراد نہیں بلکہ وہی جو اس جاننے کے قابل تھے۔ بہت یہودیوں نے اقرار کیا کہ محمد ﷺ کی نبوت ہماری کتابوں سے ثابت ہے۔ موسیٰ اور عیسیٰ ( علیہ السلام) انہیں کی خبر دے گئے ہیں۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–24

ارشاد ہوتا ہے : وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام : 22) (یاد کرو اس دن کو) جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں ‘ جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟ پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا ‘ مگر یہ کہ وہ کہیں گے ! ہمارے رب اللہ کی قسم ‘ ہم مشرک نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔ ” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ “ (المعارج، آیت : 4) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت 165 تا 167 میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تمام کا حشر : آیت 22 : وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا یوم نحشرہم مفعول بہٖ ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے اذکر یوم نحشرہم اور جمعیًا حال ہے مفعول کی ضمیر سے ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا شریک کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ غیر کو۔ یہ تو بیخ کے طور پر کہا جائے گا۔ قراءت : یعقوب نے نحشرہم اور نقول میں یحشرہم اور یقول یاءؔ سے پڑھا ہے۔ اَیْنَ شُرَکَآؤُ کُمُیعنی تمہارے وہ معبود جن کو تم نے اللہ کا شریک قرار دیا۔ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ جن کو تم اپنے خیال میں شریک سمجھتے ہو۔ : دونوں مفعولوں کو حذف کردیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 24, 23, 22, 21 تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔ (ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔ (ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–24

(22 ۔ 24) ۔ اوپر جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا کہ لوگ کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے ان لوگوں کی تنبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے بتوں کو خدا کا شریک جو ٹھہرا رکھا ہے اس آیت کا مضمون سمجھ کر اس سے یہ لوگ باز آویں حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سب خلائق کو اپنے سامنے سوال جواب اور حساب کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز، روزہ نے انکا چھٹکارہ کرایا ہے وہ تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–24

آیت 22 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرمات ہے، ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا (این شرکآؤ کم الذین کنتم تزعمون) ” تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمہاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ (ثم لم تکن فتنتھم) ” پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب “ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کردیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–23

34 میدان حشر میں مشرکین سے سوال ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے : سو میدان حشر میں مشرکوں سے پوچھا جائیگا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے بارے میں تمہارا کہنا اور ماننا تھا کہ وہ ہمیں برے وقت میں کام آئیں گے۔ اور عذاب و مصائب سے چھڑالیں گے کہ ہم نے ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ آج کہاں گئے۔ انکو بلاؤ تو سہی تاکہ اس سب سے بڑے مشکل و قت میں وہ تمہارے کچھ کام آسکیں۔ سو یہ سب کچھ فرمانا ان لوگوں کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ اور قیامت کے اس ہولناک دن میں پیش آنے والے ان ہولناک وقائع کو قرآن ِ حکیم نے اس دنیا میں اور اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا تاکہ دنیا ہو ش کے ناخن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–24

اصل ظالم کون ہے ؟ تشریح : ان آیات میں مشرکوں کی اس پوچھ کا ذکر کیا گیا ہے جو ان سے قیامت کے دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مشرک دنیا میں اپنے اوپر ظلم کرتے رہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے وجود سے انکار کیا، قرآن پاک سے انکار کیا، نبی آخرالزمان ﷺ سے انکار کیا اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو معبود بنا بیٹھے، یعنی سورج، چاند ستارے، آگ اور اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت۔ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ بنالیا۔ یہ شرک خود ان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وبال بن گیا۔ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے جو مشرک اپنے اوپر کرتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30: اسرار و معارف : اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرکین قیامت کے دن اپنے شر کا انکار کریں گے اور دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے (نسا 43) اس کی توضیح میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ پہلے تو وہ انکار کرینگے لیکن پھر جب ان کے ہات پاوں بولنے لگے گے تو اس وقت سب حقیقت واضح ہوجائے گی۔ (یٰس :65)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:22) یوم۔ مفعول بہٖ ۔ تقدیر کلام ہے اذا کر یوم نحشرھم جمیعا۔ تزعمون۔ تم دعویٰ کرتے تھے (باب نصر) زعم سے مضارع جمع مذکر حاضر۔ زعم کا استعمال زیادہ تر دعویٰ باطل اور ایسے قول کے بیان کرنے کے متعلق ہوتا ہے جو مظنۂ کذب ہو۔ متحقق نہ ہو۔ بلکہ مشکوک ہو۔ اس لئے قرآن مجید میں جہاں بھی زعم کا استعمال ہوا ہے مذمت کے لئے ہوا ہے۔ کنتم تزعمون۔ ای کنتم تزعمون انھا تشفع لکم عند ربکم۔ جن کے متعلق تمہارا یہ زعم تھا کہ وہ خدا کے ہاں تمہاری سفارش کریں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–26

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 : این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 : میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

مشرکین کو دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سن خلائق کو اپنے سامنے سوال و جواب اور حساب و کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں معبود ٹھرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز روزہ نے ان کو چھٹکارا کرایا ہے تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارا کی کوئی صورت نکالیں۔ اس سوال کے وقت جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید کا چھٹکارا معمولی حساب و کتاب کے بعد جھٹ پٹ ہوتا چلا جاتا ہے تو یہ لوگ جھوٹ بولیں گے کہ ہم بھی دنیا میں ان اہل توحید میں سے تھے، جن کا چھٹکارا ہورہا ہے۔ اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–28

[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔ [13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–24

آفتاب نبوت کی درخشانی : (ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ، (آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-22 اور وہ دن بھی قابل ذکر ہے جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے پھر ہم ان لوگوں سے کہیں گے جو شرک کے مرتکب ہوئے تھے تمہارے وہ معبود اور وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم بزعم خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے مدعی تھے اور یہ دعویٰ کیا کرتے تھے کہ یہ معبود خدا کے شریک ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 21–22

ف 1۔ اوپر کفار کا فلاح نہ پانا مذکور ہوا ہے آگے اس فلاح نہ پانے کی کچھ کیفیت مذکور ہے مشرکین کی تو تصریحا کہ مکہ میں جو محل نزول سورت ہے مشرکین زیادہ تھے اور دوسرے کفار کی مقایسة کیونکہ اصل علت عدم فلاح کی یعنی کفر سب میں مشترک ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کیا ہی دن ہوگا جب ان سب کو اکٹھا کر کے ان کے شریکوں کے متعلق سوال کیا جائے گا : 35: ” اور دیکھو وہ دن جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کر کے ایک جگہ جمع کردیں گے۔ “ وہ دن کونسا دن ہوگا ؟ وہی جس کو ” یوم القیامہ “ اور ” یوم الحشر “ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ” ان سب کو “ یعنی ان کو بھی جنہوں نے اللہ پر جھوٹ اور بہتان گھڑ کر اس کے لئے شرکاء ایجاد کئے ، مشکل اور حاجت روا مقرر کئے اور ان کو بھی جنہوں نے مرنے کے بعد اٹھائے جانے اور جزاء و سزاء کا انکار کیا اور ان کو بھی جنہوں نے اللہ کی آیات کی تکذیب کی اور اللہ کے رسول ﷺ کو ” رسول “ ماننے سے انکار کردیا اگرچہ یہ تمام جرائم ان تمام مشرکین کے مشترک جرائم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Mentioned in the previous verse (21) was that the unjust and the deniers of truth will not receive salvation. Details appear in the present verses. The first (22) and the second (23) verses talk about the great trial to be held on the day of Resurrection before the Lord of all. It was said: وَيَوْمَ نَحْشُرُ‌هُمْ جَمِيعًا (And [ forget not ] the Day We shall gather them together), that is, ` gather all disbelievers and their self-made objects of worship together.' After that, it is said: ثُمَّ نَقُولُ لِلَّذِينَ أَشْرَ‌كُوا أَيْنَ شُرَ‌كَاؤُكُمُ الَّذِينَ كُنتُمْ تَزْعُمُونَ (then…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–24

15. This refers to those who asserted that there were also other beings which shared with God in His godhead, were possessed of divine attributes and powers, and rightly deserved to claim from man worship and absolute service. It is also a slander to claim that God has selected certain beings to be His chosen intimates and that lie has commanded - or is at least agreeable to the idea - that they should he considered to possess divine attributes, and that people should serve and revere them as they would serve and revere God, their Lord. 16. By 'signs of God' are meant the signs found within…

Read the full tafseer →