Al-An'aam 6:23

Al-An'aam · from ayah 23

6:23

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ ۟ثُمَّ لَمۡ تَكُنۡ فِتۡـنَـتُهُمۡ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشۡرِكِيۡنَ

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then there will be no [excuse upon] examination except they will say, "By Allah, our Lord, we were not those who associated."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:23

تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشر ک نہ تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو ان سے کچھ عذر نہ بن پڑے گا (اور) بجز اس کے (کچھ چارہ نہ ہوگا) کہ کہیں خدا کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم شریک نہیں بناتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان کے شرک کا انجام اس کے سوا اور کچھ بھی نہ ہوگا کہ وه یوں کہیں گے کہ قسم اللہ کی اپنے پروردگار کی ہم مشرک نہ تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس وقت ان کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہوگا، سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے : اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم تو مشرک نہیں تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ان کی کچھ بناوٹ نہ رہی مگر یہ کہ بولے ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ان کی (کوئی) معذرت نہ رہے گی بجز اس کے کہ وہ کہیں (گے): ہمیں اپنے رب اﷲ کی قَسم ہے! ہم مشرک نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان کا فریب اس کے سوا کچھ نہ ہوگا کہ کہیں گے اللہ کی قسم ! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر انہیں کوئی بہانہ میسر نہ آئے گا الا یہ کہ یہ کہہ دیں : اے اللہ ہمارے پروردگار ! تیری ذات کی قسم ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا مگر یہ کہ وہ کہیں گے کہ اللہ اپنے رب کی قسم ! ہم مشرک نہیں تھے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ان کا کوئی (عذر اور) بہانہ نہ ہوگا سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے کہ ہمیں قسم ہے اللہ کی، جو کہ رب ہے ہمارا کہ ہم مشرک نہیں تھے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہ ہوگا کہ وہ یوں کہیں گے کہ قسم اللہ اپنے پروردگار کی کہ ہم مشرک نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر نہیں ہوگی ان کی کوئی اور چال سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے کہ اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ہم مشرک نہیں تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر یہی کہ کہیں گے اے ہمارے پر ورگار ! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then they will be able to play no mischief but will say (falsely): 'By Allah, our Lord, we associated none (with You in Your divinity).'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then, they will have no other mischievous move but that they will say, :By Allah, our Lord, we ascribed no partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

Then, they will have no other mischievous move but that they will say, :By Allah, our Lord, we ascribed no partners to Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

There will then be (left) no Fitnah for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others (in worship with Allah)."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then will they have no contention save that they will say: By Allah, our Lord, we never were idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then there will be no [excuse upon] examination except they will say, "By Allah, our Lord, we were not those who associated."

— Saheeh International

Attempting to answer, they will say, "Lord, we swear by Your Name that we were not pagans".

— Muhammad Sarwar

Then their excuse would be nothing but that they would say: By Allah, our Lord, we were not polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Then they will have no excuse but to say: by God our Lord, we have not been associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

There will then be (left) no subterfuge for them but to say: "By Allah our Lord, we were not those who joined gods with Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:23

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 22–26

قیامت کے دن مشرکوں کا حشر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–24

سورة الْاَنْعَام 15 یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے، یا کم از کم یہ کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔ سورة الْاَنْعَام 16 اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ یہ ہے کہ اس سب سے بڑی امتحان گاہ میں اول تو ایک عرصہ دراز ایسا گزرے گا کہ امتحان شروع ہی نہ ہوگا، یہاں تک کہ یہ لوگ تمنا کرنے لگیں گے کہ کسی طرح امتحان اور حساب جلد ہوجائے، انجام کچھ بھی ہو، یہ تردّد اور تذبذب کی تکلیف تو جائے، اسی طول قیام اور عرصہ دراز کی طرف اشارہ کرنے کے لئے لفظ ثُمَّ کے ساتھ فرمایا ثُمَّ نَقُولُ ، اسی طرح دوسری آیت میں مشرکین کی طرف سے جو جواب مذکور ہے وہ بھی لفظ ثُمَّ کے ساتھ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ بھی بڑے وقفہ کے بعد بہت غور و فکر اور سوچ بچار کرکے یہ جواب دیں گے کہ واللّٰہ ربنا ما کنا مشرکین ”یعنی اللہ رب العالمین کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم تو مشرک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُهُمْ : لفظ فتنہ کی تحقیق دوسرے مقام میں گزر چکی ہے۔ اگر اس کو اس معنی میں لیا جائے جس معنی میں مال و اولاد، دنیا اور زخارف دنیا کو قرآن میں فتنہ کہا گیا ہے تب تو یہ اپنے مفول کی طرف مضاف ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ جس فتنہ شرک اور جن جھوٹی اور موہوم آرزوؤں میں آج یہ مبتلا ہیں اس کے پردے اٹھ جائیں گے اور ان کو نظر آجائے گا کہ جن سہاروں پر وہ جی رہے ہیں وہ محض فریب تھے۔ اس وقت ان کو اس کے سوا کوئی چاہ کار نظر نہیں آئے گا کہ جس طرح آج خدا پر جھوٹ باندھ رہے ہیں اسی طرح اپنے اوپر جھوٹ بولیں۔ اور اگر اس لفظ کو ظلم و تشدد سے دین سے پھیرنے کے معنی میں لیا جائے تو یہ اپنے فاعل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

23۔ 1 فتنہ کے ایک معنی حجت اور ایک معنی معذرت کے کئے گئے ہیں، بالآخر یہ حجت یا معذرت پیش کر کے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہم تو مشرک ہی نہ تھے۔ اور امام ابن جریر نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں۔ ثم لم یکن قیلھم عند فتنتنا ایاھم اعتذارا مما سلف منھم من الشرک باللہ۔ (جب ہم انھیں سوال کی بھٹی میں جھونکیں گے تو دنیا میں جو انہوں نے شرک کیا، اس کی معذرت کے لئے یہ کہے بغیر ان کے لئے کوئی چارا نہ ہوگا کہ ہم تو مشرک ہی نہ تھے) یہاں یہ اشکال پیش نہ آئے کہ وہاں تو انسانوں کے ہاتھ پیر گواہی دیں گے اور زبانوں پر تو مہریں لگا دی جائیں گی پھر یہ انکار کس طرح کریں گے ؟ اس کا جواب حضرت ابن عباس ؓ نے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–31

7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–24

(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔ بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی بجز انکار واقعات کے کچھ کرتے دھرتے نہ بن پڑے گی۔ باطل معبودین کی جس عقیدت و محبت میں مفتون ہو رہے تھے، اس کی حقیقت صرف اتنی رہ جائے گی کہ ساری عمر کے عقیدے اور تعلق سے بھی انکار کر بیٹھیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 22–23

آیت 22 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ تمہارا گمان تھا کہ وہ تمہیں ہماری پکڑ سے بچا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

26 مشرکین مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے کہ اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی اور ہماری بازپرس بھی ہوئی تو ہمارے یہ لات و عزیٰ ہمیں بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس دن تو دہشت ہی اس قدر ہوگی کہ نہ عابد اپنے معبود کو پہچان سکے گا اور نہ معبود عابد کو، حالانکہ عابد و معبود سب وہاں حاضر ہوں گے۔ اس وقت جب اللہ مشرکوں سے پوچھے گا کہ بتاؤ تمہارے معبود کدھر ہیں۔ جنہیں تم میرا شریک بنایا کرتے تھے ؟ اس وقت وہ اپنے شرکیہ اعمال سے صاف مکر جائیں گے اور قسمیں اٹھا کر کہہ دیں گے کہ ہم نے تو کبھی کسی کو تیرا شریک بنایا ہی نہ تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

34 ۔ یعنی وہاں کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کرکے بدحواسی میں یوں بھی پکار اٹھیں گے (آیت) ” لم تکن فتنتھم “۔ یعنی ان کے کفر وشرک کا وبال یہی ہونا ہے۔ فتنۃ کے معنی اس سیاق میں انجام کفر کے کیے گئے ہیں۔ والمعنی ثم لم تکن عاقبۃ کفرھم (کشاف) قال الحسن ومعنی فتنتھم عاقبۃ فتنتھم ای کفرھم (قرطبی) دوسرے معنی رد جواب کے بھی کیے گئے ہیں۔ ای عذرھم وجوابھم (ابن عباس ؓ ویجوزان یراد ثم لم یکن جو ابھم (کشاف) الفتنۃ الاختبار ای لم یکن جو ابھم حین اختبروا بھذا السؤال (قرطبی) قال قتادۃ معناہ معذرتھم (قرطبی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 21 تا 30 ترجمہ : اور اس سے بڑھ کرنا انصاف کون ہوگا ؟ جو اللہ پر اس کی طرف شریک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگائے ؟ کوئی نہیں، یا اس کی آیتوں (یعنی) قرآن کو جھٹلائے یقینی بات ہے کہ اس قسم کے ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ان مشرکوں سے سرزنش کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر (جواب) باقی نہ رہے گا کہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم مشرک نہیں تھے، (تکن) تاء اور یاء، کے ساتھ ہے، (اور) (فِتْنَتُھم) نصب اور رفع کے ساتھ ہے (اور فتنۃٌ) کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم لم تکن فتنتہم پھر ان کے شرک کا انجام اور کچھ نہ ہوگا۔ لفظ ثمبتا رہا ہے کہ مدت تک تامل کرنے کے بعد وہ جواب دیں گے۔ فتنہ سے مراد کفر ہے یعنی انجام کفر یہ ہوگا کہ طویل تامل و ندامت کے بعد وہ کہیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ اور قتادہ ؓ نے فتنہ کا ترجمہ عذر کیا ہے ان کا عذر ان کے لئے فتنہ ہوگا کیونکہ وہ معذرت کو رہائی اور بچاؤ کا ذریعہ سمجھ رہے ہوں گے حالانکہ اس جواب سے ان کو رہائی نہ ہو سکے گی۔ فتنت الذہب میں نے سونے کو میل کچیل سے الگ کردیا۔ عربی کا محاورہ ہے۔ یا فتنۃ سے مراد ہے جواب۔ جواب چونکہ جھوٹا ہوگا اس لئے اس کو فتنہ فرمایا۔ بعض علماء نے فتنہ کا ترجمہ تجربہ کیا ہے چونکہ سوال ان کے اندرونی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 22–23

(22۔ 23) او قیامت کے دن ہم تمام لوگوں کو جمع کرلیں گے، پھر ان معبودان باطل کے بچاریوں سے کہیں گے کہ جن معبودوں کی تم عبادت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں انہیں لے کر آؤ وہ آج کدھر ہیں۔ پھر ان کا عذر اور جواب اپنی بےگناہی کے عذر کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 22–23

وَيَوْمَ نَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا۔۔ : اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ قیامت کے دن جب ان سے ان کے بنائے ہوئے شریکوں سے متعلق باز پرس ہوگی تو ان کے پاس کوئی بہانہ یا فریب اس کے سوا نہ ہوگا کہ وہ قسم کھا کر اپنے شرک کرنے ہی سے انکار کردیں گے۔ دیکھیے سورة مجادلہ (18)۔ دوسری آیت میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ دیکھیے سورة نساء (42) دونوں باتوں میں تطبیق یہ ہے کہ پہلے وہ اہل توحید کو جنت میں داخل ہوتا دیکھیں گے تو اپنے شرک کا انکار کریں گے، پھر جب ان کے مونہوں پر مہر لگے گی اور ان کے ہاتھ، پاؤں اور جسم کا ہر حصہ بول کر گواہی دے گا تو پھر ان کی کوئی بات چھپ نہیں سکے گی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 23 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ثم لم تکن فتنتھم الفتنۃ سے مراد پرکھنا اور آزمائش کرنا ہے یعنی ان کے پاس جواب نہ ہوگا جب انہیں اس سوال سے آزمایاجائے گا اور وہ حقائق دیکھ لیں گے اور اس کے دعاوی اٹھ جائیں گے۔ آیت : الاان قالواو اللہ ربناما کنامشرکین وہ شرک سے برأت کریں گے اور شرک سے نفی کریں گے جب وہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور درگزر دیکھیں گے۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا : اخلاص والوں کے اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر دے گا اور اس پر کسی گناہ کو بخشنا بڑا نہیں ہے۔ جب مشرکین یہ دیکھیں گے تو وہ کہیں گے : ہمارا رب گناہوں کو بخشتا ہے اور شرک کو نہیں بخشتا تم آؤ ہم کہیں ہم گناہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 23–24

(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی معذرت (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی حجت لفظ آیت الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین یعنی منافقین اور مشرکین نے کہا اور وہ آگ میں ہوں گے۔ آجاؤ چاہئے کہ ہم جھوٹ بول لیں شاید کہ ہم نفع دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت انظر کیف کذبوا علی انفسھم وضل عنھم قیامت میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ما کانوا یفترون یعنی وہ جھوٹ بولتے تھے دنیا میں۔ (3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ [ پھر ] لَمْ تَكُنْ [ نہیں ہوگی ] فِتْنَتُهُمْ [ ان کی گمراہی ] اِلَّآ [ مگر ] اَنْ [ (یہ ) کہ ] قَالُوْا [ وہ کہیں گے ] وَاللّٰهِ [ اللہ کی قسم ] رَبِّنَا [ جو ہمارا رب ہے ] مَا كُنَّا [ ہم نہیں تھے ] مُشْرِكِيْنَ (23) [ شرک کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

ان کا فریب یہی ہوگا کہ وہ کہیں گے (وَ اللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ) (کہ اللہ کی قسم ہم تو شرک کرنے والے نہ تھے) وہاں کا عذاب دیکھیں گے تو جھوٹ بول کر عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے جیسا کہ دنیا میں بعض مرتبہ اپنے افعال و اعمال کا انکار کر کے دنیاوی حاکموں کے سامنے چھٹکارا پالیتے تھے۔ آخرت کے دن اللہ تعالیٰ قاضی ہوگا وہ علیم وخبیر سمیع بصیر ہے اس کے سامنے جھوٹ نہ چل سکے گا لیکن یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے اپنے قصور کا انکار ہی کردیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 23–24

27 فِتنَۃٌ کے معنی گمراہی کے ہیں اور یہاں اس سے مشرکین کا جواب مراد ہے۔ چونکہ مشرکین کا جواب صریح جھوٹ ہوگا اس لیے اسے فتنۃ سے تعبیر فرمایا ثم لم یکن جو ابھم الا ان قالوا نسفی فتنۃ لانہ کذب (مدارک ج 2 ص 6 فی البحر ج 4 ص 95 والقرطبی ج 6 ص 401 یقرب منہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ کا ترجمہ اس طرح فرماتے تھے پھر نہیں ہوگا گندا جواب ان کا۔ مشرکین جب اپنے کو بےبسی اور بیچارگی کے عالم میں پائیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ دنیا میں شرک کرنے کا سرے سے انکار ہی کردیں۔ شاید اس طرح عذاب سے بچ جائیں۔ اس خیال پر وہ یہ جھوٹ بولیں گے اور اللہ کے نام کی قسم کھا کر یہ جھوٹا جواب دیں گے کہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 22–26

ربط آیات گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ لَمْ تَكُنْ فِتْنَتُہُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللہِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ۝ 23 فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] (ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 23–24

ترکیب : فتنتہم کو مرفوع بھی پڑھا ہے تکون کا اسم بنا کر وان قالوا خبر و جازا لعکس۔ ان یفقہوہ مفعول لہ ہے اے کر اہۃ ان یفقہواو قرا معطوف ہے اکنۃ پر حتیٰ اذا اپنے جواب یقول سے مل کر محل نصب میں ہے حتیٰ کا اس جگہ لفظوں میں کچھ عمل نہیں صرف معنی غایۃ دیتا ہے۔ یجادلونک حال ہے ضمیر فاعل جاؤک سے والاساطیر جمع ہے بعض کہتے ہیں اس کا واحد اسطورۃ ہے۔ بعض کہتے ہیں اسطارۃ اور بعض اسطار جو سطر متحرک الطاء کی جمع ہے اور سطر بسکون الطاء کی جمع سطور آتی ہے اور اسطر بھی۔ ولوتریٰ کا جواب محذوف ہے ای لتری امرا عظیما۔ تفسیر : اہل کتاب کو مشرکین عرب پڑھا لکھا قابل سند سمجھا کرتے تھے اور وہ بجز چند اہل انصاف کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 22–24

ارشاد ہوتا ہے : وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام : 22) (یاد کرو اس دن کو) جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں ‘ جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟ پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا ‘ مگر یہ کہ وہ کہیں گے ! ہمارے رب اللہ کی قسم ‘ ہم مشرک نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 22–24

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔ ” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ “ (المعارج، آیت : 4) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت 165 تا 167 میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کفر کا بےوقت انکار : آیت 23 : ثُمَّ لَمْ تَکُنْ : قراءت : حمزہ اور علی نے یکن یا سے پڑھا ہے۔ فِتْنَتُہُمْان کا کفرالَّآ اَنْ قَالُوْا وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَیعنی پھر ان کے اس کفر کا انجام جس کو انہوں نے ساری عمر لازم پکڑا اور اس پر لڑائیاں کیں اور بیزاری ہوگی اور اس کو اختیار کرنے کی نفی ہوگی۔ پھر ان کا یہ جواب ہوگا (واللّٰہ ربنا ماکنا مشرکین) پس اس جواب کو فتنہ اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ جھوٹ ہے۔ قراءت : الفتنۃ کو مکی نے مرفوع پڑھا ہے اور اسی طرح شامی اور حفص نے بھی۔ جن قراء نے تکن تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور فتنہ کو رفع دیا۔ تو انہوں نے اس کو لم تکن کا اسم قرار دیا۔ اور ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 21–24

آیت نمبر 24, 23, 22, 21 تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔ (ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔ (ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 22–24

(22 ۔ 24) ۔ اوپر جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا کہ لوگ کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے ان لوگوں کی تنبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے بتوں کو خدا کا شریک جو ٹھہرا رکھا ہے اس آیت کا مضمون سمجھ کر اس سے یہ لوگ باز آویں حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سب خلائق کو اپنے سامنے سوال جواب اور حساب کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز، روزہ نے انکا چھٹکارہ کرایا ہے وہ تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 22–24

آیت 22 اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرمات ہے، ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا (این شرکآؤ کم الذین کنتم تزعمون) ” تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمہاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ (ثم لم تکن فتنتھم) ” پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب “ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کردیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 22–23

34 میدان حشر میں مشرکین سے سوال ان کی تذلیل و تحقیر کیلئے : سو میدان حشر میں مشرکوں سے پوچھا جائیگا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ شریک جن کے بارے میں تمہارا کہنا اور ماننا تھا کہ وہ ہمیں برے وقت میں کام آئیں گے۔ اور عذاب و مصائب سے چھڑالیں گے کہ ہم نے ان کا لڑ پکڑ رکھا ہے وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو وہ آج کہاں گئے۔ انکو بلاؤ تو سہی تاکہ اس سب سے بڑے مشکل و قت میں وہ تمہارے کچھ کام آسکیں۔ سو یہ سب کچھ فرمانا ان لوگوں کی تقبیح و تذلیل کے لئے ہوگا۔ اور قیامت کے اس ہولناک دن میں پیش آنے والے ان ہولناک وقائع کو قرآن ِ حکیم نے اس دنیا میں اور اس صراحت و وضاحت سے بیان فرما دیا تاکہ دنیا ہو ش کے ناخن…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 22–24

اصل ظالم کون ہے ؟ تشریح : ان آیات میں مشرکوں کی اس پوچھ کا ذکر کیا گیا ہے جو ان سے قیامت کے دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مشرک دنیا میں اپنے اوپر ظلم کرتے رہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے وجود سے انکار کیا، قرآن پاک سے انکار کیا، نبی آخرالزمان ﷺ سے انکار کیا اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو معبود بنا بیٹھے، یعنی سورج، چاند ستارے، آگ اور اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت۔ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ بنالیا۔ یہ شرک خود ان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وبال بن گیا۔ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے جو مشرک اپنے اوپر کرتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30: اسرار و معارف : اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی وہاں نا کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا،5 یعنی کان لگالگا کر سنتے ہیں جب قیامت کے دن کفار کے کچھ اوحوال بیان فرمائے و اب بتایا کہ ان کے ایمابن لانے کے امید نہیں ہے (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:23) فتنۃ۔ اس کا لغوی معنی پرکھنا اور آزمائش کرنا ہے لیکن یہاں فتنہ سے مراد عذر اور بہانہ ہے۔ ثم لم تکن ۔۔ مشرکین۔ پھر ان کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا بکز اس کے کہ وہ (جھوٹ کا سہارا لے کر) کہیں گے۔ اللہ کی قسم جو ہمارا پالنے والا ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 22–26

لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 : این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 : میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 22–24

مشرکین کو دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سن خلائق کو اپنے سامنے سوال و جواب اور حساب و کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں معبود ٹھرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز روزہ نے ان کو چھٹکارا کرایا ہے تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارا کی کوئی صورت نکالیں۔ اس سوال کے وقت جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید کا چھٹکارا معمولی حساب و کتاب کے بعد جھٹ پٹ ہوتا چلا جاتا ہے تو یہ لوگ جھوٹ بولیں گے کہ ہم بھی دنیا میں ان اہل توحید میں سے تھے، جن کا چھٹکارا ہورہا ہے۔ اس وقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–28

[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔ [13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 20–24

آفتاب نبوت کی درخشانی : (ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔ یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ، (آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-23 پھر ان کے کفر کا انجام سوائے اس کے کچھ نہ ہوگا کہ یہ مشرک یوں کہیں گے اور یہ جواب دیں گے قسم اللہ تعالیٰ کی جو ہمارا پروردگار ہے ہم نے شرک کا ارتکاب نہیں کیا اور ہم مشرک نہیں تھے یعنی یہ عذر کریں گے کہ ہم نے کبھی شرک ہی نہیں کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ یعنی جس کے حق ہونے کا آج دعوی ہے اس کا انجام یہ ہوگا کہ خود ہی اس کو باطل سمجھنے لگیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرکین کی اس شررات کا بیان جو اتنے نازک وقت میں بھی وہ کرنے سے باز نہیں آئیں گے : 36: برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ڈالا گیا۔ یہی حالت ان مشرکین کی ہوگی جو میدان حشر میں اکٹھے کئے جائیں گے فرمایا پہلے تو ان پر قیامت کا روز ہی اتنا بھاری تھا گویا ہزاروں سال بیت گئے اور یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کسی طرح حساب جلد ہوجائے انجام کچھ بھی ہو یہ تذبذب اور تردد کی تکلیف تو رفع ہو ۔ پھر جب امتحان شروع ہوگا اور انکو کہا جائے گا فوراً ان شریکوں کو بلاؤ جن کے آسروں اور وسیلوں پر تم جیا کرتے تھے اور جن کے متعلق تمہارا گمان تھا کہ یہ لوگ ہم کو میدان حشر کی سختیوں سے بچا لیں گے توا سوقت وہ دائیں بائیں دیکھیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In short, on this venue of the great trial, a long period of time will pass for the trial to begin, so much so, that these people will wish that reckoning comes so that they can be relieved from their state of uncertainty, no matter what happens in the end. It is to indicate this length of stay that, as indicated earlier, the word, ثُمَّ (then) was prefixed to ثُمَّ (then We shall say). Similarly, the answer given by the disbelievers mentioned in the second verse (23) also appears with the word, نَقُول ; (then), which indicates that they too will come up with their answer after having…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 21–24

15. This refers to those who asserted that there were also other beings which shared with God in His godhead, were possessed of divine attributes and powers, and rightly deserved to claim from man worship and absolute service. It is also a slander to claim that God has selected certain beings to be His chosen intimates and that lie has commanded - or is at least agreeable to the idea - that they should he considered to possess divine attributes, and that people should serve and revere them as they would serve and revere God, their Lord. 16. By 'signs of God' are meant the signs found within…

Read the full tafseer →