Explained with ayahs 22–26
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
سورة الْاَنْعَام 15
یعنی یہ دعویٰ کرے کہ خدا کے ساتھ دوسری بہت سی ہستیاں بھی خدائی میں شریک ہیں، خدائی صفات سے متصف ہیں، خداوندانہ اختیارات رکھتی ہیں، اور اس کی مستحق ہیں کہ انسان ان کے آگے عبدیت کا رویہ اختیار کرے۔ نیز یہ بھی اللہ پر بہتان ہے کہ کوئی یہ کہے کہ خدا نے فلاں فلاں ہستیوں کو اپنا مقَرَّبِ خاص قرار دیا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے، یا کم از کم یہ کہ وہ اس پر راضی ہے کہ ان کی طرف خدائی صفات منسوب کی جائیں اور ان سے وہ معاملہ کیا جائے جو بندے کو اپنے خدا کے ساتھ کرنا چاہیے۔
سورة الْاَنْعَام 16
اللہ کی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں بھی ہیں جو انسان کے اپنے نفس اور ساری کائنات میں پھیلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آخر آیت میں ارشاد فرمایااُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، اس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ دیکھئے کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا ہے، اور جو کچھ وہ اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے آج سب غائب ہوگیا، اپنی جانوں پر جھوٹ بولنے سے مراد یہ ہے کہ وبال اس جھوٹ کا انہی کی جانوں پر پڑنے والا ہے، اور افتراء سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ان کو اللہ کا سہیم و شریک ٹھہرانا ایک افتراء تھا، آج حقیقت سامنے آکر اس افتراء کی قلعی کھل گئی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افتراء سے مراد جھوٹی قسم ہے جو محشر میں کھائی تھی، پھر ہاتھوں پیروں اور…
Read the full tafseer →اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ، میں انظر تصویر حال کے لیے ہے تاکہ مستقبل کا ایک ماجرا چشم تصور کے سامنے آجائے كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ کے معنی ہیں انہوں نے اپنے اوپر جھوٹی گواہی دی، یعنی دنیا میں جس شرک کی حمایت میں لڑتے مرتے رہے آخر میں پہلے ہی قدم پر، قسم کھا کر اس کا انکار کریں گے۔ اس میں یہ لطیف تعریض بھی ہے کہ دنیا میں یہ خدا کے خلاف جھوٹی گواہی دیتے رہے، جیسا کہ آیت 19 میں مذکور ہے۔ اور آخرت میں اپنے اوپر جھوٹی گواہی دیں گے۔
ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہوگا کہ دنیا میں خدا پر جھوٹ باندھ کر جن کو شرکا و شفعا کا درہم دیا گیا تھا اور…
Read the full tafseer →24۔ 1 لیکن وہاں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جس طرح بعض دفعہ دنیا میں انسان ایسا محسوس کرتا ہے اسی طرح ان کے معبودان باطل بھی، جن کو اللہ کا شریک اپنا حمائتی و مددگار اور سفارشی سمجھتے تھے، غائب ہونگے اور وہاں ان پر شرکا کی حقیقت واضح ہوگی، لیکن وہاں اس کے ازالے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
(آیت) ” نمبر 21 تا 24۔
بات کی مناسب سے اب مشرکین کے سامنے وہ حقیقت رکھی جاتی ہے جس پر وہ دنیا میں قائم تھے ۔ اس کی روشنی میں ان کے موقف اور عمل کو خدا تعالیٰ کے پیمانوں سے ناپا جاتا ہے ۔ سب سے پہلے ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ذرا وہ اپنے رویے پر غور کریں کہ وہ اللہ پر افترا پردازی کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ وہ اس دین پر ہیں جس کے ساتھ حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے تھے ۔ اور ان کے مزعومات میں سے یہ بھی تھا کہ وہ خود جن چیزوں کو حلال اور حرام قرار دیتے تھے ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے جیسا کہ اس سورة کے آخر میں لفظ بزعمہم سے اس کا…
Read the full tafseer →4 یعنی اس صریح جھوٹ سے مشرکین کی انتہائی بد حواسی اور شرکاء کی غایت بےچارگی اور درماندگی کا اظہار ہوگا۔ کاش مشرکین اس رسوا کن انجام کو دنیا ہی میں سمجھ لیں۔
Read the full tafseer →آیت 24 اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلآی اَنْفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔
ان کے یہ دعوے کہ فلاں دیوی بچائے گی اور فلاں دیوتا سفارش کرے گا ‘ سب نسیاً منسیاً ہوجائیں گے۔ عذاب کو دیکھ کر اس وقت ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے
Read the full tafseer →27 یعنی اس دن کی دہشت اور اپنی بےبسی اور درماندگی کی بنا پر اپنے بچاؤ کی یہی راہ انہیں سجھائی دے گی کہ اس سے صاف مکر جائیں اور دنیا میں وہ جو کچھ کرتے رہے تھے دہشت کی وجہ سے سب بھول جائیں گے انہیں یہ یاد ہی نہ پڑے گا کہ وہ دنیا میں کس کس کو پوجتے اور کس کس قسم کا شرک کیا کرتے تھے ؟
Read the full tafseer →35 ۔ یعنی جو جو باطل امیدیں اور آرزوئیں وہ پالے ہوئے تھے وہ عین وقت پر انہیں کیسا جواب دے گئیں اور ان کے معبود اور شافعین کچھ بھی ان کے کام نہ آئے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور اس سے بڑھ کرنا انصاف کون ہوگا ؟ جو اللہ پر اس کی طرف شریک کی نسبت کرکے جھوٹا بہتان لگائے ؟ کوئی نہیں، یا اس کی آیتوں (یعنی) قرآن کو جھٹلائے یقینی بات ہے کہ اس قسم کے ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاسکتے اس دن کو یاد کرو کہ جس دن ہم سب کو جمع کریں گے پھر ان مشرکوں سے سرزنش کے طور پر پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے بارے میں تم یقین رکھتے تھے کہ وہ اللہ کے شریک ہیں پھر ان کے پاس اس کے سوا کوئی عذر (جواب) باقی نہ رہے گا کہ یہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ہم مشرک نہیں تھے، (تکن) تاء اور یاء، کے ساتھ ہے، (اور) (فِتْنَتُھم) نصب اور رفع کے ساتھ ہے (اور فتنۃٌ) کے…
Read the full tafseer →انظر کیف کذبوا علی انفسہم (اے مخاطب) ذرا دیکھ تو انہوں نے اپنے اوپر کیسا جھوٹ بولا۔
کذبوا کی ضمیر فاعل سے کیفحال ہے۔ چونکہ استفہام صدارت کو چاہتا ہے اس لئے کیف کو پہلے ذکر کیا۔
وضل عنہم ما کانوا یفترون اور جو کچھ دروغ بندیاں کرتے تھے وہ ان سے غائب ہوگئیں دروغ بندی سے مراد ہے بعض احکام کو خود حرام حلال بنانا اور اللہ کی طرف سے ان کی حرمت و حلت کی نسبت کرنا اور بتوں کو اپنا سفارشی قرار دینا۔
کلبی نے بیان کیا ایک بار ابو سفیان بن حرب ‘ ابوجہل بن ہشام ‘ ولید بن مغیرہ ‘ نضر بن حارث ‘ عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ امیہ بن خلف ‘ ابی بن خلف اور حارث بن عامر جمع ہو کر رسول اللہ ﷺ سے قرآن سننے لگے۔…
Read the full tafseer →(24) اے محمد ﷺ ذرا دیکھیے تو یا یہ کہ فرشتوں ان کی ڈھٹائی دیکھو تو سہی کس طرح ان لوگوں نے کھلم کھلا جھوٹ بول کر اپنے اوپر خود عذاب کو مسلط کرلیا۔
اور جن باطل چیزوں کی یہ پوجا کرتے تھے ان کے نفس خود ان سے متنفر ہوجائیں گے اور یا یہ کہ ان کے جھوٹ کا بالآخر خاتمہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا۔۔ : یعنی وہاں ان کا شرک ان کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کے بنائے ہوئے حاجت روا اور مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 24 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : انظرکیف کذبوا علی انفسھم مشرکوں کا اپنا قول انہیں جھٹلائے گا کہ بتوں کی عبادت انہیں اللہ تعالیٰ کا قرب عطا کرے گی، بلکہ انہوں نے یہ گمان کیا اور ان کا گمان غلط تھا ان سے معذرت قبول کرنے کا باعث نہیں تھا اور ان سے جھوٹکا اسم زائل نہیں ہوتا اور منافقوں کا عذر باطل کے ساتھ جھوٹ بولنا ہے اور ان کا انکار ان کا انفاق ہے۔
آیت : وضل عنھم ما کانوا یفترون یعنی دیکھو کی سے ان کا افراء لاھیٔ ہوگیا اور اپنے خداؤں سے شفاعت کا گمان کیسے باطل ہوگیا ؟ بعض علماء نے فرمایا : آیت : وضل عنھم ما کانوا یفترون کا مطلب ہے جو وہ غیر اللہ کی عبادت کرتے تھے وہ ان سے جدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(1) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی معذرت
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم یعنی ان کی حجت لفظ آیت الا ان قالوا واللہ ربنا ما کنا مشرکین یعنی منافقین اور مشرکین نے کہا اور وہ آگ میں ہوں گے۔ آجاؤ چاہئے کہ ہم جھوٹ بول لیں شاید کہ ہم نفع دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت انظر کیف کذبوا علی انفسھم وضل عنھم قیامت میں (پھر فرمایا) لفظ آیت ما کانوا یفترون یعنی وہ جھوٹ بولتے تھے دنیا میں۔
(3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت ثم لم تکن فتنتھم…
Read the full tafseer →اُنْظُرْ [ دیکھو ] كَيْفَ [ کیسا ] كَذَبُوْا [ انہوں نے جھوٹ بولا ] عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ [ اپنے آپ پر ] وَضَلَّ [ اور گمراہ (یعنی گم ہوا)] عَنْهُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ (24) [ وہ لوگ گھڑا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے فرمایا (اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) (دیکھو اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا اور وہ سب کچھ غائب ہوا جو وہ جھوٹ بنایا کرتے تھے) قیامت کے دن مشرکین کے اقوال مختلف اوقات میں مختلف ہوں گے۔ اوّلا تو صاف صریح جھوٹ بول دیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے کہ شاید اسی جھوٹ سے کام چل جائے اور عذاب میں داخل ہونے سے چھٹکارا ہوجائے، پھر جب ان کے خلاف گواہیاں ہوں گی اور خود ان کے اعضاء بھی ان کے خلاف گواہی دیں گے تو اپنے جرم کا اقرار کرلیں گے۔ (فَا عْتَرَ فْنَا بِذُنُوْبِنَا فَھَلْ الیٰ خُرُوْجٍ مّنْ سَبِیْلٍ )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔
قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
27 فِتنَۃٌ کے معنی گمراہی کے ہیں اور یہاں اس سے مشرکین کا جواب مراد ہے۔ چونکہ مشرکین کا جواب صریح جھوٹ ہوگا اس لیے اسے فتنۃ سے تعبیر فرمایا ثم لم یکن جو ابھم الا ان قالوا نسفی فتنۃ لانہ کذب (مدارک ج 2 ص 6 فی البحر ج 4 ص 95 والقرطبی ج 6 ص 401 یقرب منہ) ۔ حضرت شیخ قدس سرہ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ کا ترجمہ اس طرح فرماتے تھے پھر نہیں ہوگا گندا جواب ان کا۔ مشرکین جب اپنے کو بےبسی اور بیچارگی کے عالم میں پائیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ دنیا میں شرک کرنے کا سرے سے انکار ہی کردیں۔ شاید اس طرح عذاب سے بچ جائیں۔ اس خیال پر وہ یہ جھوٹ بولیں گے اور اللہ کے نام کی قسم کھا کر یہ جھوٹا جواب دیں گے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم…
Read the full tafseer →اُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِہِمْ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 24
كيف
كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ترکیب : فتنتہم کو مرفوع بھی پڑھا ہے تکون کا اسم بنا کر وان قالوا خبر و جازا لعکس۔ ان یفقہوہ مفعول لہ ہے اے کر اہۃ ان یفقہواو قرا معطوف ہے اکنۃ پر حتیٰ اذا اپنے جواب یقول سے مل کر محل نصب میں ہے حتیٰ کا اس جگہ لفظوں میں کچھ عمل نہیں صرف معنی غایۃ دیتا ہے۔ یجادلونک حال ہے ضمیر فاعل جاؤک سے والاساطیر جمع ہے بعض کہتے ہیں اس کا واحد اسطورۃ ہے۔ بعض کہتے ہیں اسطارۃ اور بعض اسطار جو سطر متحرک الطاء کی جمع ہے اور سطر بسکون الطاء کی جمع سطور آتی ہے اور اسطر بھی۔ ولوتریٰ کا جواب محذوف ہے ای لتری امرا عظیما۔
تفسیر : اہل کتاب کو مشرکین عرب پڑھا لکھا قابل سند سمجھا کرتے تھے اور وہ بجز چند اہل انصاف کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ارشاد ہوتا ہے :
وَیَوْمَ نَحْشُرُھُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْٓا اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ ۔ ثُمَّ لَمْ تَکُنْ فِتْنَتُھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوْا وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (الانعام : 22)
(یاد کرو اس دن کو) جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ پھر پوچھیں گے ان شریک ٹھہرانے والوں سے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں ‘ جن کو تم ہمارا شریک گمان کرتے تھے ؟ پھر ان کے فریب کا پردہ چاک ہوجائے گا ‘ مگر یہ کہ وہ کہیں گے ! ہمارے رب اللہ کی قسم ‘ ہم مشرک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ، منکرین حق کا قیامت کے دن اپنا انجام دیکھ کر جھوٹی قسمیں اٹھانا۔ جو گواہی کی بد ترین قسم ہے۔
” قیامت کا دن پچاس ہزار سال کا ہوگا۔ “ (المعارج، آیت : 4) اس میں مختلف مراحل ہوں گے اور ہر مرحلہ ہزاروں سال پر محیط ہوگا۔ ان مراحل میں ایک مرحلہ ایسا بھی آئے گا کہ معبودان باطل اور ان کے عابدوں کو ایک دوسرے کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تاکہ دنیا میں ایک دوسرے سے امیدیں رکھنے والے لوگوں کے عقیدہ کی قلعی کھل جائے۔ البقرہ آیت 165 تا 167 میں بیان ہوا ہے کہ جب یہ لوگ جہنم کا عذاب دیکھیں گے تو انھیں یقین ہوجائے گا کہ ہر قسم کی قوت وسطوت اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اس…
Read the full tafseer →اپنے مُنہ اپنی تکذیب :
آیت 24 : اُنْظُرْ یعنی محمد ﷺ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْیہ بات کہہ کر کہ ہم مشرک نہ تھے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ مخلوق کو جمع کرے گا اور مشرکین اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت ملاحظہ کریں گے اور مسلمانوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کی شفاعت اور اسی طرح مومنین کی دوسرے مومنوں کے متعلق شفاعت دیکھیں گے تو وہ ایک دوسرے کو کہیں گے۔ آئو شرک چھپائیں شاید کہ ہم بھی اہل توحید کے ساتھ نجات پاجائیں۔ پس اس وقت ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نداء دی جائے گی۔ اَیْنَ شُرَکَآؤُکُمُ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ (انعام : 22) تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
آیت نمبر 24, 23, 22, 21
تفسیر : (ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا) ظلم سے مراد کفر ۔ کذبا سے مراد اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے ( اوکذب بایتہ) کو (انہ لایفلح الظلمون) کافروں کو۔
(ویوم فحشرھم جمیعا) یعنی عابد اور معبود سب کو قیامت کے دن۔ یعقوب نے یہاں اور سورة سباء میں ” یحشرھم “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اور حفص نے ان کی موافقت سورة سباء میں کی ہے اور باقی حضرات نے نون کے ساتھ پڑھا ہے۔ ( ثم تقول للذین اشرکوا این شرکائو کم الذین کنتم تزعمون ) کہ وہ تماری سفارش کریں گے تمہارے رب کے سامنے۔
(ثم لم تکن فتنتھم ) حمزہ، کسائی اور یعقوب نے ” یکن “ یاء کے ساتھ پڑھا ہے اس لیے کہ فتنہ افتنان کے معنی میں ہے تو فعل کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
(22 ۔ 24) ۔ اوپر جن لوگوں کے حق میں یہ فرمایا کہ لوگ کبھی فلاح کو نہ پہنچیں گے ان لوگوں کی تنبیہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے کہ دنیا میں ان لوگوں نے بتوں کو خدا کا شریک جو ٹھہرا رکھا ہے اس آیت کا مضمون سمجھ کر اس سے یہ لوگ باز آویں حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سب خلائق کو اپنے سامنے سوال جواب اور حساب کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں اللہ کا شریک اور اپنا معبود ٹھہرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز، روزہ نے انکا چھٹکارہ کرایا ہے وہ تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
آیت 22
اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے روز اہل شرک کے انجام کے بارے میں آگاہ فرمات ہے، ان سے اس شرک کے بارے میں پوچھا جائے گا اور ان کو زجر و توبیخ کی جائے گی اور ان سے کہا جائے گا (این شرکآؤ کم الذین کنتم تزعمون) ” تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کو تم شریک گمان کرتے تھے ؟ یعنی اللہ تعالیٰ کا تو کوئی شریک نہیں، یہ محض زعم باطل اور تمہاری افترا پردازی ہے جو تم نے اللہ تعالیٰ کے شریک ٹھہرا دیئے۔ (ثم لم تکن فتنتھم) ” پھر نہ رہے گا ان کے پاس کوئی فریب “ یعنی جب ان کو آزمایا جائے گا اور مذکورہ سوال کیا جائے گا تو ان کا جواب اس کے سوا کوئی نہیں ہوگا کہ وہ اپنے شرک کا ہی انکار کردیں گے اور قسم اٹھا کر کہیں…
Read the full tafseer →35 میدان حشر میں مشرکین کی خود اپنی تکذیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز مشرک اس سوال کے جواب میں کہیں گے کہ قسم ہے اللہ کی جو کہ ہمارا رب ہے ہم مشرک تھے ہی نہیں۔ سو اس روز گم ہوجائیں گے ان کے وہ خدا یعنی جن کو وہ جھوٹ موٹ کے طرح طرح کے ناموں سے گھڑا کرتے تھے اور ان کو وہ حاجت روا و مشکل کشا سمجھا کرتے تھے۔ سو وہ ان سے کھو جائیں گے اور اس آڑے وقت میں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکیں گے۔ اور مشرکین اس روز اس قدر سختی سے اپنے اس شرک کا انکار کریں گے اور سب کے سامنے خود اپنی تکذیب کریں گے۔ سو یہ قرآن حکیم کا کس قدر احسان ہے پوری دنیائے انسانیت پر کہ اس نے ان غیبی حقائق کو اس قدر صراحت کے ساتھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
اصل ظالم کون ہے ؟
تشریح : ان آیات میں مشرکوں کی اس پوچھ کا ذکر کیا گیا ہے جو ان سے قیامت کے دن کی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مشرک دنیا میں اپنے اوپر ظلم کرتے رہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے وجود سے انکار کیا، قرآن پاک سے انکار کیا، نبی آخرالزمان ﷺ سے انکار کیا اور اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں کو معبود بنا بیٹھے، یعنی سورج، چاند ستارے، آگ اور اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے بت۔ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات ہے کہ اللہ کو چھوڑ کر اس کی بنائی ہوئی چیزوں کو اللہ بنالیا۔ یہ شرک خود ان کے لیے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی وبال بن گیا۔ کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے جو مشرک اپنے اوپر کرتا ہے۔ قیامت کے دن جب اللہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کفار کے بڑے بڑے سردار جن میں ابو سفیان، ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ بھی شریک تھے آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کی قرآن سننے اور پھر آپس میں اس قسم کا تبصرہ کرنے لگے چناچہ آیت میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی) چونکہ یہ قرآن اور آنحضرت کی رسالت کو برحق جاننے کے باوجود کفر کی روش پر جمے ہوئے ہیں اسی لیے ہم نے ان کو یہ سزا دی۔7 حالا ن کہ قرآن میں تمام اخلاق حکمت اور زشریعت کی باتیں بھری ہوئی ہیں اور اس میں جو قصے بیان کئے گئے ہیں وہ سب سچے واقعات ہیں او صرف عبرت و نصیحیت کے لیے بیان کئے گئے ہیں۔ ، (وحیدی )
Read the full tafseer →(6:24) ضل۔ گم ہوگیا۔ گمراہ ہوگیا۔ ہلاک ہوگیا۔
ما کانوا یفترون۔ جو بت وہ گھڑ کر پوجا کرتے تھے وہ سب بناوٹی معبود گم ہوجائیں گے۔ (یعنی وہ ان کو وہاں نہ پائیں گے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 :
این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 :
میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
مشرکین کو دوبارہ دنیا میں آنے کی آرزو
حاصل مطلب آیت کا یہ ہے کہ قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ سن خلائق کو اپنے سامنے سوال و جواب اور حساب و کتاب کے لئے کھڑا کرے گا تو مشرکوں سے پوچھے گا کہ وہ تمہارے شریک کہاں ہیں جن کو تم نے اپنے گمان میں معبود ٹھرا رکھا تھا ان کو بلاؤ تاکہ جس طرح موحدوں کی توحید اور نماز روزہ نے ان کو چھٹکارا کرایا ہے تمہارے معبود بھی تمہارے چھٹکارا کی کوئی صورت نکالیں۔ اس سوال کے وقت جب مشرکین دیکھیں گے کہ اہل توحید کا چھٹکارا معمولی حساب و کتاب کے بعد جھٹ پٹ ہوتا چلا جاتا ہے تو یہ لوگ جھوٹ بولیں گے کہ ہم بھی دنیا میں ان اہل توحید میں سے تھے، جن کا چھٹکارا ہورہا ہے۔ اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔
[13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–24
آفتاب نبوت کی درخشانی :
(ف 1) اہل کتاب کا جذبہ کتمان حق مشہور ہے اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے ۔
یعنی ان کو سابقہ پیشگوئیوں کی وجہ سے یقین ہے کہ حضور ﷺ خدا کے سچے اور موعود نبی ہیں ، اور یہ علم اس درجہ واثق اور غیر مشکوک ہے ، جب طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے متعلق ، مگر محض ضد اور حبیت نفس کی وجہ سے نہیں مانتے ،
(آیت) ” کما یعرفون ابنآء ھم “ ۔ سے غرض یہ بھی ہے کہ وہ وجدانی طور پر حضور ﷺ کے متعلق قطعی علم رکھتے ہیں اس طرح ایک باپ کو اپنے بیٹے کے لئے یہ یقین کرتا ہے اور وہ اسے بیٹا کہنے کے لئے خارجی دلائل کا محتاج نہیں ہوتا ، بلکہ دل کے اندر ایک پدرانہ محبت اور کشش پاتا ہے جس کی وجہ سے وہ…
Read the full tafseer →-24 ا ے پیغمبر ﷺ ! ذرا دیکھو تو انہوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا اور وہ تمام افترا پردازیاں اور وہتمام باتیں جو یہ گھڑا کرتے تھے سب ان سے گم ہوگئیں اور کھوئی گئیں یعنی بالکل چوکڑی بھول جائیں گے اور سوائے جھوٹ بولنے کے کوئی بات بن نہ پڑے گی۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی ان کے کوئی کام نہ آوے گا۔
Read the full tafseer →دیکھو ان کا جھوٹ کس طرح واضح ہوگیا اور ان کا کیا کرایا اکارت گیا :
37: ” انظر “ دیکھو یہ گویا تصویر حال کے لئے ہے تاکہ مستقبل کا ایک ماجرا چشم تصور کے سامنے آئے ۔ اس طرح کہ خطاب کی شیرینی سے وہی شخص واقف ہو سکتا ہے جس کی عقل کی آنکھیں کھلی ہوں اور وہ ان سے دیکھنے کی عادت رکھتا ہو۔ فرمایا ” دیکھو یہ لوگ کس طرح اپنے اوپر جھوٹ بولنے لگے۔ “ یعنی انہوں نے اپنی ذات پر خود جھوٹی گواہی دے دی اور دنیا میں جس شرک کی حمایت میں لڑتے مرتے رہے آخرت میں پہلے ہی قدم پر قسمیں کھا کھا کر اس کا انکار کرنے لگے ۔ یہ کس بات کا نتیجہ ہوا ؟ اس بات کا کہ دنیا میں یہ لوگ اللہ کے خلاف جھوٹی گواہی دیتے رہے اور آخرت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
In verse 24, it was said: انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ (See how they lied about themselves - and lost to them was all that they used to coin). The address here is to the Holy Prophet ﷺ who has been asked to see how these people have lied against their own selves, and whatever they used to forge and fabricate against Allah (their idols and so-called partners to Allah) is lost to them. The expression translated as ` lied about themselves' means that the curse of this lie is going to fall on their own selves while the word, اِفتَرَاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
15. This refers to those who asserted that there were also other beings which shared with God in His godhead, were possessed of divine attributes and powers, and rightly deserved to claim from man worship and absolute service. It is also a slander to claim that God has selected certain beings to be His chosen intimates and that lie has commanded - or is at least agreeable to the idea - that they should he considered to possess divine attributes, and that people should serve and revere them as they would serve and revere God, their Lord.
16. By 'signs of God' are meant the signs found within…
Read the full tafseer →