Explained with ayahs 22–26
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة الْاَنْعَام 17
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانون فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرماتا ہے، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرین حق کا سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہ سننا اور داعی حق کی کسی بات کا ان کے دل میں نہ اترنا ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانون فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اتر آتا ہے اور بےتعصبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آخر آیت میں ارشاد فرمایااُنْظُرْ كَيْفَ كَذَبُوْا عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، اس میں رسول کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ ﷺ دیکھئے کہ ان لوگوں نے اپنی جانوں پر کیسا جھوٹ بولا ہے، اور جو کچھ وہ اللہ پر افتراء کیا کرتے تھے آج سب غائب ہوگیا، اپنی جانوں پر جھوٹ بولنے سے مراد یہ ہے کہ وبال اس جھوٹ کا انہی کی جانوں پر پڑنے والا ہے، اور افتراء سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دنیا میں ان کو اللہ کا سہیم و شریک ٹھہرانا ایک افتراء تھا، آج حقیقت سامنے آکر اس افتراء کی قلعی کھل گئی، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ افتراء سے مراد جھوٹی قسم ہے جو محشر میں کھائی تھی، پھر ہاتھوں پیروں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25 تا 26: وَجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا۔ اکنۃ، کن اور کنان کی جمع ہے۔ اس کے معنی پردہ اور ڈھکنے کے ہیں۔ ‘ وقر ’ بوجھ، ثقل اور گرانی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے وہ گرانی مراد ہے جو کانوں کو بہرہ کردے۔ یہ جس حجاب اور جس بہرے پن کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ وہ معنوی اور روحانی حجاب اور گرانی ہے جو دلوں اور کانوں کو سننے اور سمجھنے کی اس صلاحیت سے محروم کردے جو انسانیت کا اصلی خاصہ ہے، جس سے محروم ہو کر انسان چوپایہ بلکہ چوپائے سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ انسان پر یہ محرومی اس کی اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں مسلط ہوتی ہے جس کا ایک مخصوص ضابطہ ہے۔ اس ضابطہ…
Read the full tafseer →25۔ 1 یعنی مشرکین آپ کے پاس آکر قرآن تو سنتے ہیں لیکن چونکہ مقصد طلب ہدایت نہیں، اس لئے بےفائدہ ہے۔
25۔ 2 علاوہ ازیں مجازاۃ علی کفرھم ان کے کفر کے نتیجے میں ان کے دلوں پر بھی ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ جس کی وجہ سے ان کے دل حق بات سمجھنے سے قاصر اور ان کے کان حق کو سننے سے عاجز ہیں۔
25۔ 3 اب وہ گمراہی کی ایسی دلدل میں پھنس گئے ہیں کہ بڑے سے بڑا معجزہ بھی دیکھ لیں، تب بھی ایمان لانے کی توفیق سے محروم رہیں گے اور ان کا عناد و جحود اتنا بڑھ گیا ہے کہ وہ قرآن کریم کو پہلے لوگوں کی بےسند کہانیاں کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 25 تا 28۔
اس کی تصویر کے یہ دو رخ ہیں ۔ ایک رخ دنیا سے متعلق ہے جس میں عناد ‘ بغض اور سرکشی کے رنگ بھرے ہوئے ہیں اور دوسرا رخ آخرت سے متعلق ہے اور اس میں حسرت اور ندامت کے رنگ ہیں ۔ قرآن کریم ان دونوں حالتوں کی تصویر کشی نہایت ہی موثر اور اشاراتی انداز میں کرتا ہے ۔ جامد فطرت پگھل جاتی ہے اور اس میں حرکت اور جوش پیدا ہوجاتا ہے ‘ شاید کہ اس کے اوپر جہالت کی جو تہیں چڑھی ہوئی ہیں وہ دور ہوجائیں اور فطرت کے بند دریچے وا ہوجائیں اور قبل اس کے کہ وقت ختم ہو وہ راہ راست پر آجائے ۔
(آیت) ” وَمِنْہُم مَّن یَسْتَمِعُ إِلَیْْکَ وَجَعَلْنَا عَلَی قُلُوبِہِمْ أَکِنَّۃً أَن یَفْقَہُوہُ…
Read the full tafseer →5 یہ ان لوگوں کا ذکر ہے جو بغرض اعتراض و عیب جوئی قرآن کریم اور حضور ﷺ کی باتوں کی طرف کان لگاتے تھے ہدایت سے منتفع ہونا اور حق کو قبول کرنا مقصود نہ تھا۔ نصیحت و ہدایت سے ممتد اعراض اور کانشنس کی مسلسل تعطیل کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ قبول حق کے وسائل و قوی انجام کا رماؤف ہو کر رہ گئے، حق کے سمجھنے سے ان کے دل محروم کردیئے گئے۔ پیغام ہدایت کا سننا کانوں کو بھاری معلوم ہونے لگا، آنکھیں نظر عبرت سے ایسی خالی ہوگئیں کہ ہر قسم کے نشانات دیکھ کر بھی ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اور لطف یہ ہے کہ اس حالت موت پر قانع و مسرور بھی ہیں بلکہ فخر کے لہجہ میں اسکا اعلان کرتے ہیں۔ سورة حم السَّجْدَۃ میں ہے…
Read the full tafseer →آیت 25 وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج۔
مکہ میں قریش کے سرداروں کے لیے جب عوام کو ایمان لانے سے روکنا مشکل ہوگیا تو انہوں نے بھی علماء یہود کی طرح ایک ترکیب نکالی۔ وہ بڑے اہتمام کے ساتھ آکر حضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھتے اور بڑے انہماک سے کان لگا کر آپ ﷺ کی باتیں سنتے۔ وہ یہ ظاہر کرتے تھے کہ ہم سب کچھ بڑی توجہ سے سن رہے ہیں ‘ تاکہ عام لوگ دیکھ کر یہ سمجھیں کہ واقعی ہمارے ذی فہم سردار یہ باتیں سننے ‘ سمجھنے اور ماننے میں سنجیدہ ہیں ‘ مگر پھر بعد میں عوام میں آکر ان باتوں کو ردّ کردیتے۔ عام لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے یہ ان کی ایک چال تھی ‘ تاکہ عوام یہ سمجھیں کہ ہمارے یہ سردار سمجھدار اور…
Read the full tafseer →28 صفات کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ وہ باتیں اس لیے دھیان سے سنتے ہیں کہ دیکھیں وہ کون کونسی بات پر اعتراض کرسکتے ہیں اور کون سی بات کا مذاق اڑا سکتے ہیں ان کی نیت کبھی بخیر نہیں ہوسکتی کہ ہدایت حاصل کرنے کے لیے آئیں۔ لہذا ہدایت کی باتوں کو وہ ایسے سنی ان سنی کردیتے ہیں جیسے ثقل سماعت کی وجہ سے وہ سن ہی نہیں سکے اور جب سنتے ہی نہیں تو اسے سمجھنے کی خاک کوشش کریں گے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی بات کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔ لیکن اس کے مسببات یا ان اسباب سے نتائج پیدا کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ کے اختیار میں…
Read the full tafseer →36 ۔ (لیکن یہ ظاہری استماع چونکہ قبول حق کے ارادہ سے بالکل خالی ہوتا ہے۔ اس لیے نافع نہیں ہوتا اور یہ محروم کے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔ ) (آیت) ” من یستمع “۔ میں، من، لفظا واحد ہے۔ لیکن معنا جمع کا کام دیتا ہے۔
37 ۔ یہ سب نتیجہ تکوینی طور پر ان کے ارادی انکار حق وشدت عناد پر مرتب ہوجاتے ہیں۔ ای فعلنا ذلک بھم مجازاۃ علی کفرھم (قرطبی) (آیت) ” ان یفقھوہ “۔ معنی نفی کے ہیں۔ یعنی ” جس سے وہ نہ سمجھ سکیں “۔ المعنی کراھیۃ ان یفھموہ اولئلا یفھموہ (قرطبی)
38 ۔ یہ بیان ان کی شدت عناد وتعصب کا ہورہا ہے کہ کوئی دلیل، کوئی ثبوت انہیں قبول حق کی جانب نہ لاسکے گا قال ابن عباس ؓ وان یروا کل دلیل وحجۃ…
Read the full tafseer →شان نزول : ومنھم مَنْ یستَمِعُ اِلَیْکَ الخ کلبی اعر ابن جریر نے مجاہد کے قول کے مطابق اپنی تفسیر میں اس آیت کا جو شان نزول بیان کیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان، ابو جہل، ولید بن مغیرہ، نضر بن حارث، عتبہ بن شیبہ، ایک روز سب نے قرآن کی چند آیتیں سنیں، نضر بن حارث پچھلے زمانہ کے قصے بہت جانتا تھا اس لئے ان سب نے نضر بن حارث سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے سنا محمد ﷺ نے کیا پڑھا ؟ نضر بن حارث نے کہا جس طرح میں تم کو پچھلی کہانیاں سنا تارہتا ہوں اسی طرح یہ بھی ایک کہانی ہے ابو سفیان نے کہا باتیں تو اس کلام کی حق معلوم ہوتی ہیں ابو جہل نے کہا ایسی باتوں کے ماننے سے ہم کو موت بہتر ہے، اس قصہ پر…
Read the full tafseer →ومنہم من یستمع الیک اور ان میں سے بعض لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں ‘ یعنی جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو کان لگا کر سنتے ہیں۔
وجعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ اور ہم نے ان کے دلوں پر اس کو سمجھنے سے حجاب ڈال رکھے ہیں۔ اَکِنَّۃٌکنان کی جمع ہے اور کنان کا معنی ہے پردہ۔ یعنی ان کے دلوں پر حجاب ڈال دیئے ہیں تاکہ قرآن کو نہ سمجھیں۔
وفی اذانہم وقرا اور ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے۔ وقرکا معنی گرانی گوش اور ٹھوس پن۔
وان یروا کل ایۃ لا یومنوا بہا اور اگر وہ تمام دلائل کو دیکھ لیں۔ تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔
دلائل سے مراد ہیں معجزات اللہ نے ان کی آنکھوں پر پردے اور دلوں پر حجاب ڈال دیئے ہیں انہی حجابات کی…
Read the full tafseer →(25) اور ان کفار مکہ میں سے بعض لوگ آپ کی طرف سے قرآن کریم کی تلاوت کو سننے کے لیے آپ کی طرف کان لگاتے ہیں جن میں سے ابوسفیان بن حرب، ولید بن صغیرہ، نضربن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف، ابی بن خلف اور حارث بن عامر ہیں، مگر ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے تاکہ آپ کے کلام کو نہ سمجھ سکیں اور ان کے کان بند کردیے ہیں تاکہ حق اور ہدایت کی بات کو نہ سمجھ سکیں اور ایک معنی یہ بھی بیان کیے ہیں کہ سیدھے راستے کو سمجھنے سے ان کے کان عاری ہوگئے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّسْتَمِعُ اِلَيْكَ ۚ۔۔ : یعنی کان لگا لگا کر سنتے ہیں، جب قیامت کے دن گزشتہ کافروں پر گزرنے والے کچھ احوال بیان فرمائے تو موجودہ کافروں کا بھی کچھ حال بیان فرمایا۔ (رازی) فرمایا کہ مشرکین آپ کے پاس آکر بڑے غور سے قرآن سنتے ہیں، لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے ہدایت حاصل کرنا ان کا مقصد ہی نہیں ہوتا، اس لیے انھیں سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے حق کو پہچان کر نہ ماننے اور ان کی بدنیتی کی وجہ سے ہم نے انھیں یہ سزا دی ہے کہ ان کے دلوں پر پردے ڈال دیے ہیں اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیے ہیں، جن کی وجہ سے وہ کان لگا کر سننے کے باوجود نہ سمجھتے ہیں، نہ سنتے ہیں۔ دیکھیے سورة…
Read the full tafseer →آیت نمبر 25 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ومنھم من یستمع الیک لفط، من کا اعتبار کرتے ہوئے مفر دکا صیغہ ذکر فرمایا مراد مشرکین، کفار مکہ ہیں۔ آیت : وجعلناعلی قلوبھم اکنت یعنی ہم نے انہیں ان کے کفر جزا دیتے ہوئے ایسا کیا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سنتے اور سمجھتے نہیں لیکن جو وہ سنتے ہیں اس سے نفع حاصل نہیں کرتے اور وہ حق کی اطاعت نہیں کرتے تو وہ ایسے شخص کی ماند ہوگئے جو نہ سنتا اور نہ سمجھتا ہے۔ اکنتہ پردوں کو کہتے ہیں۔ یہ کنان کی جمع ہے جیسے الا سنتہ جمع ہے سنان کی اور الا عنتہ جمع عنان کی، کننت الشیء فی کنتہ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب تو کسی چیز کو کسی میں محفوظ کرے اکننت الشیء کا مطلب…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید، ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ومنھم من یستمع الیک سے مراد ہیں قریش (اور فرمایا) لفظ آیت وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ سے مراد ایسا پردہ ہے جیسے تیر کے لئے ترکش ہوتا ہے۔
(2) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ وفی اذانھم وقرا سے مراد ہے کہ وہ اس کو سنتے ہیں اپنے کانوں سے اور وہ اس سے کوئی چیز یاد نہیں رکھتے۔ جسے چوپاؤں کی مثال ہے جو آواز کو سنتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے جو کچھ انہیں کہا جاتا ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے سدی…
Read the full tafseer →وَمِنْهُمْ مَّنْ [ اور ان میں وہ بھی ہیں جو ] يَّسْتَمِعُ [ کان لگاتے ہیں ] اِلَيْكَ ۚ [ آپ کی طرف ] وَ [ حالانکہ ] جَعَلْنَا [ ہم نے بنائے ] عَلٰي قُلُوْبِهِمْ [ ان کے دلوں پر ] اَكِنَّةً [ کچھ پردے ] اَنْ [ کہ ] يَّفْقَهُوْهُ [ وہ (نہ ) سمجھیں اسکو ] وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ [ اور ان کے کانوں میں ] وَقْرًا ۭ [ ایک بوجھ ] وَاِنْ [ اور اگر ] يَّرَوْا [ وہ دیکھیں ] كُلَّ اٰيَةٍ [ ساری نشانی ] لَّا يُؤْمِنُوْا [ تب بھی ایمان نہیں لائیں گے ] بِهَا ۭ [ اس پر ] حَتّٰٓي [ یہاں تک کہ ] اِذَا [ جب بھی ] جَاۗءُوْكَ [ وہ آتے ہیں آپ کے پاس ] يُجَادِلُوْنَكَ [ تو بحث کرتے ہیں آپ سے ] يَقُوْلُ الَّذِيْنَ […
Read the full tafseer →مشرکین کا قرآن سے منتفع نہ ہونا اور یوں کہنا کہ یہ پرانے لوگوں کی باتیں ہیں
اس کے بعد فرمایا (وَ مِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ) (اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف کان لگاتے ہیں) (وَ جَعَلْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ اَکِنَّۃً اَنْ یَّفْقَھُوْہُ ) (اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے کردیئے کہ وہ اس کو سمجھیں، یعنی یہ پردے انہیں قرآن سمجھنے نہ دیں گے) (وَ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ وَقْرًا) (اور ان کے کانوں میں بھاری پن کردیا) (جس کی وجہ سے ٹھیک طرح سے سن بھی نہیں سکتے) اور اس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو کان لگاتے ہیں تو سننے اور سمجھنے کے لیے نہیں لگاتے بلکہ بطور تمسخر اور استہزاء کے کان لگاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔
قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…
Read the full tafseer →28 یہ زجر ہے یعنی ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو آپ کی باتیں غور سے سنتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کے دلوں پر اس کا کس کا کچھ اثر نہیں ہوتا کیونکہ ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دئیے ہیں اور ان سے سمجھنے کی قوت سلب کرلی گئی ہے۔ یعنی ان کے دلوں پر مہر جباریت لگا دی گئی ہے اور ان کے کانوں کو ہم نے بہرہ کردیا ہے اور وہ حق بات نہیں سن سکتے وَ اِنْ یَّرَوْا کُلَّ اٰیَۃٍ الخ مہر جباریت کی وجہ سے ان کی آنکھیں بند ہوچکی ہیں۔ اس لیے اگر ان کو تمام معجزات دکھا دئیے جائیں تب بھی وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ 29 حتّٰی انتہائے غایت کے لیے ہے یعنی ماننا تو درکنار وہ اس حد تک پہنچ چکے ہیں کہ جب وہ پیغمبر (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم…
Read the full tafseer →وَمِنْہُمْ مَّنْ يَّسْتَمِــعُ اِلَيْكَ 0ۚ وَجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِہِمْ اَكِنَّۃً اَنْ يَّفْقَہُوْہُ وَفِيْٓ اٰذَانِہِمْ وَقْرًا 0ۭ وَاِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَۃٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِہَا 0ۭ حَتّٰٓي اِذَا جَاۗءُوْكَ يُجَادِلُوْنَكَ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ ہٰذَآ اِلَّآ اَسَاطِيْرُ الْاَوَّلِيْنَ 25
اسْتِمَاعُ
والِاسْتِمَاعُ : الإصغاء نحو : نَحْنُ أَعْلَمُ بِما يَسْتَمِعُونَ بِهِ ، إِذْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [ الإسراء/ 47] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ [ محمد/ 16] ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَسْتَمِعُونَ إِلَيْكَ [يونس/ 42] ، وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنادِ الْمُنادِ [ ق/ 41] ، وقوله :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1 ؎ یعنی جب تو قرآن پڑھتا ہے سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر پردے پڑے ہیں سمجھتے نہیں اور جو کوئی سمجھائے تو کانوں میں ٹیٹیاں ہیں اس کی سنتے ہیں۔ اور جو آنکھوں سے اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہیں تو ایمان نہیں لاتے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →گزشتہ آیات میں اسلام کے بنیادی عقائد بالخصوص توحید پر قرآن کریم نے جس طرح نہایت مثبت دلائل دیئے ہیں ‘ اس سے زچ ہو کر مشرکینِ مکہ نے آخر یہ کہا کہ تم جو کچھ ہم سے کہہ رہے ہو اور جس طرح نبوت کا دعویٰ کر رہے ہو ‘ کیا اس پر تمہارے پاس کوئی شہادت اور کوئی ایسی گواہی موجود ہے کہ جو ہمارے لیے بھی قابل قبول ہو اور ہم اس کے نتیجے میں اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہوجائیں ؟ چناچہ اس کے جواب میں پروردگار نے قرآن کریم کو بطور گواہی کے پیش کیا اور بتایا کہ اللہ کا کوئی شریک ہے یا نہیں ‘ اس کا اصل جواب یا اس کی اصل گواہی تو خود پروردگار کی ذات ہے کیونکہ وہی بتاسکتا ہے کہ اس نے کسی کو اپنے اختیارات میں شریک کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : کفارکا شہادت حق سے انکار، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھنے اور ہدایت کے لیے سننے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ ہماری سماعت پر ایک بوجھ ہیں۔ اور ہم انہیں پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں سمجھتے ہیں۔
قرآن مجید نے ہدایت پانے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے۔
(إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ)[ قٓ : 37]
” اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو…
Read the full tafseer →آیت 25 : وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ جبکہ آپ ﷺ قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں۔ روایت میں ہے کہ ابو سفیان ٗ ولید ٗ نضر اور ان کے ہم مثل جمع ہوئے۔ اور رسول اللہ ﷺ کی تلاوت کو سننے لگے۔ ان تمام نے نضر کو کہا محمد ﷺ کیا کہتے ہیں۔ تو اس نے کہا کہ اللہ کی قسم مجھے معلوم نہیں۔ کہ محمد کیا کہتے ہیں۔ مگر یہ کہ وہ اپنی زبان کو حرکت دیتے ہیں۔ اور پہلے لوگوں کی کہانیاں بتلاتے ہیں۔ جیسا کہ میں گزشتہ زمانے کی حکایات تمہیں سناتا ہوں۔ ابو سفیان نے کہا کہ میں اس کو سچا خیال کرتا ہوں۔ اس پر ابوجہل نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہرگز نہیں پس یہ آیت نازل ہوئی۔
قرآن کو اساطیر الاولین کہنے والوں کے دلوں پر پردے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 26, 25
تفسیر :(ومنھم من یستمع الیک) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام، ولید بن مغیرہ ، نضر بن حارث، عتبہ اور شبیہ ربیعہ کے بیٹے اور امیہ اور ابی خلف کے بیٹے اور حارث بن عامر۔
قرآن مجید کو کان لگاکر سنتے تھے تو انہوں نے نضر کو کہا اے ابو قتیبہ محمد ( ﷺ) کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہکنے لگا معلوم نہیں کیا کہتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو حرکت دے رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی کہانیاں پڑھ رہے ہیں جیسے میں تمہیں پہلی امتوں کے قصے سناتا ہوں اس نضر کو پہلی امتوں کے بہت سے واقعات یاد تھے تو ابو سفیان نے کہا میرا خیال ہے کہ محمد ﷺ کی بعض باتیں حق ہیں تو ابوجہل کہنے…
Read the full tafseer →کلبی نے اور ابن جریر نے مجاہد کے قول کے موافق اپنی تفسیر میں جو شان نزول اس آیت کی بیان کی اس کا حاصل یہ ہے کہ ابو سفیان ابو جہل ولید بن مغیرہ نضر بن حارث عتبہ بن شیبہ ایک دن ان سب نے اکٹھے ہو کر چند آیتیں قرآن مجید کی سنیں ان میں نضر بن حارث پچھلے زمانہ کے قصے بہت جانتا تھا اس لئے ان سب نے نضر بن حارث سے مخاطب ہو کر کہا کہ تم نے سنا محمد ﷺ نے کیا پڑھا نضر بن حارث نے کہا جس طرح میں تم کو پچھلی کہانیاں سناتا رہتا ہوں اسی طرح یہ بھی ایک کہانی ہے ابو سفیان نے کہا باتیں تو اس کلام کی حق معلوم ہوتی ہیں ابو جہل نے کہا ایسی باتوں کے ماننے سے ہم کو موت بہتر ہے اس سب قصہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل…
Read the full tafseer →آیت 25
یعنی ان مشرکین میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کو ان کے بعض داعیے بسا اوقات سننے پر آمادہ کردیتے ہیں مگر یہ سننا قصد حق اور اس کی اتباع سے عاری ہوتا ہے بنا بریں وہ اس سننے سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، کیونکہ ان کا ارادہ بھلائی کا نہیں ہوتا (وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ) ” اور ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں “ تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو نہ سمجھیں اور اللہ تعالیٰ کا کلام اس قسم کے لوگوں سے محفوظ رہے (وفی اذانھم وقراً ) ” اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کردیا ہے۔ “ یعنی ان کے کانوں میں بہرا پن اور گرانی ہے، وہ اس طرح نہیں سن سکتے جس سے ان کو کوئی فائدہ پہنچے۔ (وان یروا کل ایۃ لایومنوا بھا) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
36 بدنیتی کا سننا مفید نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کان لگا کر اور پوری طرح غور کے ساتھ آپ کی بات سنتے ہیں۔ مگر ان کا وہ سننا چونکہ حق کو ماننے اور قبول کرنے کی نیت سے نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہی ارادوں سے ہوتا ہے کہ تاکہ اس سے اعتراض اور خوردہ گیری کا کوئی بہانہ ہاتھ آسکے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ بدنیتی کا سننا مفید نہیں بلکہ الٹا محرومی کا باعث ہے۔ سننا وہی مفید اور معتبر ہے جو کہ صدق نیت اور صحیح ارادے سے ہو۔ جس کے ذریعے حق کو سننا سمجھنا اور اپنانا اور قبول کرنا مقصود ہو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
مشرکین کا انجام
تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ کفار کے بڑے بڑے سردار جن میں ابو سفیان، ولید بن مغیرہ اور ابو جہل وغیرہ بھی شریک تھے آنحضرت ﷺ کی مجلس میں حاضر ہو کی قرآن سننے اور پھر آپس میں اس قسم کا تبصرہ کرنے لگے چناچہ آیت میں اسی صورت حال کی طرف اشارہ ہے۔ ( قرطبی) چونکہ یہ قرآن اور آنحضرت کی رسالت کو برحق جاننے کے باوجود کفر کی روش پر جمے ہوئے ہیں اسی لیے ہم نے ان کو یہ سزا دی۔7 حالا ن کہ قرآن میں تمام اخلاق حکمت اور زشریعت کی باتیں بھری ہوئی ہیں اور اس میں جو قصے بیان کئے گئے ہیں وہ سب سچے واقعات ہیں او صرف عبرت و نصیحیت کے لیے بیان کئے گئے ہیں۔ ، (وحیدی )
Read the full tafseer →(6:25) یستمع الی۔ کان لگا کر سنتے ہیں۔ اکنۃ۔ کنان کی جمع ۔ پردے۔ غلاف۔
وقرا۔ اسم مصدر۔ منصوب۔ ثقل ۔ گرانی۔ بہرہ پن۔ مطلب یہ ہے کہ ان مشرکین و کفار میں سے بعض تیری باتوں کو کان لگا کر سنتے ہیں لیکن ان کی ہٹ دھرمی۔ ضد۔ تعصب اور جمود کی وجہ سے ان کے دلوں پر پردے اور ان کے کانوں میں بہرہ پن ہوگیا ہے کہ سننے کے باوجود نہ وہ کچھ سمجھ پاتے ہیں اور نہ کچھ ان کے پلے پڑتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ان چیزوں کو اپنی طرف منسوب کرنے کہ وجہ یہ ہے کہ گو اصل سبب ان کی محرومی کا تو ان کا متواتر اعراض و انکار ہے لیکن سبب پر مسبب کا مترتب ہونا یا مؤخر پر اثر کا مترتب ہونا اس قانون فطرت کے تحت ہے جو خدا نے بنایا ہے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 :
این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 :
میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔…
Read the full tafseer →حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ اپنے علم ازلی کے موافق اللہ تعالیٰ کو جس کی ہدایت منظور ہوتی ہے وہ خود اس کا دل حق بات کے ماننے کی طرف مائل کردیتا ہے اور علم ازلی الہی میں جو شخص گمراہ ٹھر چکا اس کے دل پر حق بات کی طرف سے پردہ پڑجاتا ہے۔ چناچہ ان لوگوں میں سے ابوجہل تھا جس کے دل پر پردہ پڑجانے کے سبب سے اس کے منہ سے یہ بات نکلی تھی کہ '' ایسی حق باتوں سے موت بہتر ہے '' اور وہ حالت کفر میں بدر کی لڑائی میں مارا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔
[13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ ناقابل اصلاح گروہ ہے ، ان کے لد بےحس ہوچکے ہیں فطرتیں بگڑ چکی ہیں ، اب بالکل صلاحیت موجود نہیں کہ قرآن کے اثر کو قبول کریں ،
عذر یہ ہے کہ اساطیر اور قصص ہیں جن میں کوئی جدت وصداقت موجود نہیں ، مگر دلوں میں ڈر اس قدر ہے کہ قرآن کے نزدیک نہیں پھٹکتے خود رکتے ہیں ، مجالس وعظ میں نہیں آتے ، قرآن سننے کی کوشش نہیں کرتے ، دوسروں کو روکتے ہیں کہ مبادا اس کا جادو چل جائے اور یہ متاثر ہوجائیں ، جب حالت یہ ہو تو اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ،
حل لغات :
اساطیر : جمع اسطورۃ ، فسانہ کہانی ، بات بےحقیقت ۔
ینھون : مادہ فھی معنی وہ منع بھی کرتے ہیں
لیت : کاش ، فسوس ۔
Read the full tafseer →-25 اور ان منکرین میں کچھ ایسے ہیں جو آپ کی طرف جب آپ قرآن کریم پڑھتے ہیں تو کان لگا کر سنتے ہیں اور پوری توجہ کے ساتھ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ وہ اس کلام کو سمجھ نہ سکیں اور ہم نے ان کے کانوں میں ثقل اور گرانی پیدا کردی ہے یعنی ان کی بد اعمالی کے باعث صحیح فہوم اور سننے کی صحیح صلاحیت ہی سلب کرلی گئی ہے۔ اب اگر یہ لوگ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان نشانیوں پر ایمان نہ لائیں گے ان کی مخالفت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ جب یہ آپ کے پاس آتے ہیں اور آپ سے جھگڑا کرنے لگتے ہیں تو قرآن کریم کے متعلق یوں کہتے ہیں کہ یہ قرآن کریم کچھ نہیں صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی مشرکین میں سے۔
5۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے حجاب ڈال رکھے ہیں تو یہ تمثیل ہے گومتعارف حجاب وغیرہ نہ ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہونے سے نہ یہ معذور ہوسکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام آسکتا ہے کیونکہ اس حجاب وغیرہ کا سبب ان کا عراض اختیاری ہے اور نسبت کرنا باعتبار تخلیق کے ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جن کے دلوں پر غلاف چڑھ گئے اور کانوں میں گرانی آگئی وہ سنتے ، سمجھتے نہیں :
38: ” اَكِنَّةً “ کی اصل ک ن ن ہے جو کن اور کنان کی جمع ہے جس کے معنی پردہ اور کسی ڈھانپ لینے والی چیز کے ہیں ۔ اسی طرح وقر کی اصل وق رہے جس کے معنی بوجھ ، ثقل اور گرانی کے ہیں۔ اس جگہ ” پردہ “ یا ” گرانی “ کا مطلب وہ پردہ اور وہ گرانی ہے جو معنوی اور روحانی ہے نہ کہ حسی۔ یہ وہی چیز ہے جو انسان کے دل اور کانوں کو سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم کردیتی ہے جو انسانیت کے لئے لازم وضروری ہے ۔ جس سے محروم ہو کر انسان چوپائے سے بھی بدتر ہوجاتا ہے ۔ انسان پر یہ محرومی اس کی اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں مسلط ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
In verse 24, it was said: انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ ۚ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ (See how they lied about themselves - and lost to them was all that they used to coin). The address here is to the Holy Prophet ﷺ who has been asked to see how these people have lied against their own selves, and whatever they used to forge and fabricate against Allah (their idols and so-called partners to Allah) is lost to them. The expression translated as ` lied about themselves' means that the curse of this lie is going to fall on their own selves while the word, اِفتَرَاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
17. It is noteworthy that God attributes to Himself all that happens in the world as a result of the laws of nature. Since these laws were made by God Himself, the effects which result from their operation are also ultimately due to the will and permission of God. The refusal on the part of unbelievers to heed the call of the Truth even when it is clear and audible stems from their obstinacy, prejudice, mental rigidity and inertia. It is a law of nature that when a man is not prepared to rise above prejudice in his quest for the Truth, his heart closes to every truth which is opposed to his…
Read the full tafseer →