Explained with ayahs 22–26
قیامت کے دن مشرکوں کا حشر
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کا حشر اپنے سامنے کرے گا پھر جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کی پرستش کرتے تھے انہیں لا جواب شرمندہ اور بےدلیل کرنے کے لئے ان سے فرمائے گا کہ جن جن کو تم میرا شریک ٹھہراتے رہے آج وہ کہاں ہیں ؟ سورة قصص کی آیت (وَيَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ اَيْنَ شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ) 28۔ القصص :62) میں بھی یہ موجود ہے۔ اس کے بعد کی آیت میں جو لفظ فتنتھم ہے اس کا مطلب فتنہ سے مراد حجت و دلیل، عذرو معذرت، ابتلا اور جواب ہے۔ حضرت ابن عباس سے کسی نے مشرکین کے اس انکار شرک کی بابت سوال کیا تو آپ نے جواب دیا کہ ایک وقت یہ ہوگا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة الْاَنْعَام 17
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانون فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرماتا ہے، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرین حق کا سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہ سننا اور داعی حق کی کسی بات کا ان کے دل میں نہ اترنا ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانون فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اتر آتا ہے اور بےتعصبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے…
Read the full tafseer →وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ عائمہ مفسرین ضحاک رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ، محمد بن حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک یہ آیت عام کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو لوگوں کو قرآن سننے اور اس کا اتباع کرنے سے منع کرتے تھے۔ اور خود بھی اس سے دور دور رہتے تھے، اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت رسول اللہ ﷺ کے چچا ابو طالب اور دوسرے ان چچاؤں کے متعلق ہے جو لوگوں کو آپ ﷺ کی ایذاء رسانی سے روکتے اور آپ کی حمایت کرتے تھے، مگر نہ قرآن پر ایمان لاتے نہ اس پر عمل کرتے، اس صورت میں يَنْهَوْنَ عَنْهُ کی ضمیر بجائے قرآن کے نبی کریم ﷺ کی طرف راجع ہوگی (مظہری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25 تا 26: وَجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا۔ اکنۃ، کن اور کنان کی جمع ہے۔ اس کے معنی پردہ اور ڈھکنے کے ہیں۔ ‘ وقر ’ بوجھ، ثقل اور گرانی کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے وہ گرانی مراد ہے جو کانوں کو بہرہ کردے۔ یہ جس حجاب اور جس بہرے پن کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ وہ معنوی اور روحانی حجاب اور گرانی ہے جو دلوں اور کانوں کو سننے اور سمجھنے کی اس صلاحیت سے محروم کردے جو انسانیت کا اصلی خاصہ ہے، جس سے محروم ہو کر انسان چوپایہ بلکہ چوپائے سے بھی بد تر ہوجاتا ہے۔ انسان پر یہ محرومی اس کی اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں مسلط ہوتی ہے جس کا ایک مخصوص ضابطہ ہے۔ اس ضابطہ…
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی عام لوگوں کو آپ سے اور قرآن سے روکتے ہیں تاکہ وہ ایمان نہ لائیں اور خود بھی دور دور رہتے ہیں۔
26۔ 2 لیکن لوگوں کو روکنا اور خود بھی دور رہنا، اس سے ہمارا یا ہمارے پیغمبر ﷺ کا کیا بگڑے گا ؟ اس طرح کے کام کر کے وہ خود ہی بےشعوری میں اپنی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْأَوْنَ عَنْہُ وَإِن یُہْلِکُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (26)
” وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “
وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن کریم محض پرانے لوگوں کے قصوں پر مشتمل نہیں ہے اور اس کا پرانے قصوں کے ساتھ کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ اگر لوگ قرآن کریم کو سنتے رہے تو اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ قریش کے بڑے بڑے دانشور تو خود…
Read the full tafseer →6 یعنی ان میں نہ فہم رہا ہے نہ انصاف ایمان لانا اور ہدایت ربانی سے منتفع ہونا تو کجا، ان کی غرض تو حضور ﷺ کی خدمت میں آنے سے صرف مجادلہ (جھگڑنا) اور پھبتیاں اڑانا ہے۔ چناچہ قرآنی حقائق و بیانات کو معاذ اللہ اساطیر الاولین کہتے ہیں۔ پھر اس تکذیب اور جدل و تمسخر پر اکتفا نہیں، کوشش یہ ہے کہ دوسروں کی طرف بھی اپنی بیماری کا تعدیہ کریں، چناچہ لوگوں کو حق سے روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں تاکہ انہیں دیکھ کر دوسرے قبول حق سے نفور و بیزار ہوجائیں۔ مگر ان تمام ناپاک کوششوں سے نہ بحمد اللہ دین حق کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے وہ تو غالب ہو کر رہے گا اور نہ رسول اللہ ﷺ کو، کہ ان کی عصمت و رفعت…
Read the full tafseer →آیت 26 وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْءَوْنَ عَنْہُ ج۔
یہاں آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ ایک کا مادہ ’ ن ہ ی ‘ ہے اور دوسرے کا ’ ن ء ی ‘ ہے۔ نَھٰی یَنْھٰی روکنا تو معروف فعل ہے اور نہی کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا یَنْہَوْنَ عَنْہُ کے معنی ہیں وہ روکتے ہیں اس سے۔ کس کو روکتے ہیں ؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہوجائیں گے تو ان کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کو اپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈروں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہ ہدایت…
Read the full tafseer →30 گویا وہ دہرے مجرم ہیں اور جو لوگ ان کی کوششوں کی وجہ سے راہ حق سے دور رہتے ہیں۔ ان کے گناہوں میں سے حصہ رسدی گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں لہذا ایسے لوگوں کی ہلاکت کس قدر شدید ہوگی ؟ اور اس بات کی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کیسے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ؟
Read the full tafseer →40 ۔ کیا ٹھکانا ہے ان کی حماقت وغباوت کا ! (آیت) ” وما یشعرون “۔ اہل علم نے لکھا ہے کہ نفی شعور کا درجہ نفی علم سے بھی ہوا ہے۔ گویا ذرا سا بھی احساس نہیں رکھتے۔ حالانکہ احساس تو جانور تک رکھتے ہیں۔ ونفی الشعور عنھم باھلاکھم انفسھم ابلغ فی نفی العلم اذا البھائم تشعرو تحس (بحر) ونفی الشعور ابلغ من نفی العلم کانہ قیل وما یدرکون ذلک اصلا (روح) (آیت) ” وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ “۔ یعنی قرآن مجید سے دوسروں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکے رہتے ہیں۔ (آیت) ” عنہ “ کی ضمیر دونوں موقعوں پر قرآن کی جانب ہوگی۔ والضمیر علی قول قتادہ للقران (قرطبی) ھؤلاء المشرکون المکذبون بایات اللہ ینھون الناس عن اتباع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت…
Read the full tafseer →وہم ینہون عنہ وینون عنہ اور یہ لوگ قرآن سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دوررہتے ہیں۔ یہ ترجمہ محمد بن حنفیہ اور قتادہ کے قول کے مطابق کیا گیا ہے دونوں بزرگوں کے نزدیک اس آیت کا نزول مکہ کے ان کافروں کے حق میں ہوا تھا جو رسول اللہ ﷺ کے اتباع اور قرآن سے دوسروں کو روکتے تھے اور خود بھی دور رہتے تھے لیکن حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر آیت کا نزول ابو طالب ؓ کے حق میں ہوا جو مشرکوں کو رسول اللہ ﷺ : کو تکلیف دینے سے روکتے تھے لیکن رسول اللہ ﷺ جو دین و قرآن لے کر آئے تھے اس کو نہیں مانتے تھے خود اس سے دور رہتے تھے۔ کذا اخرج الحاکم وغیرہ اس صورت میں جمع کی ضمیر ابو طالب ؓ اور ان کے رفقاء کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) حارث بن عامر نے آپ سے دلائل نبوت کا مطابلہ کیا، اس پر فرمان الہی نازل ہوا کہ اگر یہ لوگ تمام دلائل کو بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قرآن کے نازل ہونے کے بارے میں پوچھتے ہیں اور جب انکو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے تو خصوصا نضر بن حارث کہتا ہے کہ محمد ﷺ جو کچھ بیان کرتے ہیں یہ تو بس گزرے ہوئے لوگوں کے کچھ جھوٹے افسانے ہیں اور ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکتے اور دور رہتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ابوطالب لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے روکتے ہیں مگر خود آپ کی پیروی…
Read the full tafseer →وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ ۚ: یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے سے اور لوگوں کو آپ ﷺ کے پاس جانے سے بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میں سے بہت سے شرک و بدعت میں مبتلا مولوی بھی اہل توحید کی تقریریں سننے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی نہیں سنتے، بلکہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں حق واضح ہوجانے کے بعد اسے قبول کر کے ہمارے چنگل سے نہ نکل جائیں۔
وَاِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ : یعنی ایسا کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، بلکہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 26 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وھم ینھون عنہ وینعون عنہ، النھی کا معنی روکنا ہے اور النای کا معنی دور کرنا ہے۔ یہ تمام کفار کو شامل ہے یعنی وہ حضرت محمد ﷺ کی اتباع سے منع کرتے ہیں اور خودبھی دور بھاگتے ہیں۔
یہ حضرت ابن عباسؓ اور حسن سے مروی ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ ابو طالب کے ساتھ خاص ہے، وہ حضرت محمد ﷺ کو اذیت دینے سے کفار کو منع کرتے تھے اور خود آپ پر ایمان لانے سے دور ہوتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ اہل سیرت نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک دن کعبہ کی طرف نکلے اور نماز پڑھنے کا ارادہ کیا، جب نماز میں داخل ہوئے، ابوجہل لعنہ اللہ نے کہا : کون اس شخص کی طرف جائے گا اور…
Read the full tafseer →(1) امام فریابی، عبد الرزاق، سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ، حاکم اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ یعنی (یہ آیت) ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ مشرکین کو روکتے تھے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے۔ اور خود اس دین سے دور بھاگتے۔ جس کو آپ ﷺ لے کر آئے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابو الشیخ نے قاسم بن مخیمرۃ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وھم ینھون عنہ وینؤن عنہ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی۔ لوگوں کو…
Read the full tafseer →وَهُمْ [ اور وہ ] يَنْهَوْنَ [ روکتے ہیں ] عَنْهُ [ اس سے ] وَيَنْــــَٔـوْنَ [ اور دور ہوتے ہیں ] عَنْهُ ۚ [ اس سے ] وَاِنْ [ اور نہیں ] يُّهْلِكُوْنَ [ ہلاک کرتے وہ ] اِلَّآ [ مگر ] اَنْفُسَهُمْ [ اپنے آپ کو ] وَ [ اس حال میں کہ ] مَا يَشْعُرُوْنَ (26) [ وہ شعور نہیں رکھتے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ ھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْھَوْنَ عَنْہُ ) (وہ لوگ آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں اور خود بھی دور ہوتے ہیں) دو ہرے جرم کے مرتکب ہیں بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ ایذاء پہنچانے والوں کو روکتے ہیں اور آپ تک پہنچنے نہیں دیتے اور خود آپ کی دعوت توحید سے دور رہتے ہیں۔ اگر یہ معنی مراد ہوں تو اس سے آپ کے چچا ابو طالب اور دوسرے اقرباء مراد ہیں ان کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچائیں لیکن آپ کے دین کو بھی قبول نہ کرتے تھے۔
قال صاحب معالم التنزیل 2 ص 91 نرلت فی ابی طالب کان یَنْھی الناس عن اذی النبی ﷺ و یمنعھم وَیَنْھٰی عن الایمان بہٖ و فی تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 127…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔
قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…
Read the full tafseer →30 یہاں کافروں کی دو بری خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ لوگوں کو قرآن سے روکتے ہیں اور انہیں اس کے سننے سے منع کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ خود بھی قرآن سے دور بھاگتے ہیں وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ الخ مگر اس طرح وہ پیغمبر (علیہ السلام) کا، قرآن کا اور مسلمانوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے الٹا اپنے آپ ہی کو ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم…
Read the full tafseer →وَہُمْ يَنْہَوْنَ عَنْہُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْہُ 0ۚ وَاِنْ يُّہْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ 26
نهى
النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10]
( ن ھ ی ) النهي
کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔
(ينهون)
، فيه إعلال بالحذف، أصله ينهاون، جاءت الألف والواو ساکنتین، حذفت الألف لالتقاء الساکنين، وزنه يفعون .
(ينأون)
، فيه إعلال جری مجری ينهون .
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
1 ؎ یعنی جب تو قرآن پڑھتا ہے سنتے ہیں مگر ان کے دلوں پر پردے پڑے ہیں سمجھتے نہیں اور جو کوئی سمجھائے تو کانوں میں ٹیٹیاں ہیں اس کی سنتے ہیں۔ اور جو آنکھوں سے اس کی قدرت کی نشانیاں دیکھتے ہیں تو ایمان نہیں لاتے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →فرمایا :
وَھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہٗ وَ یَنْئَوْنَ عَنْہٗ ج وَاِنْ یُّھْلِکُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ۔ (الانعام : 26)
(اور یہ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی گریز کرتے ہیں اور یہ درحقیقت اپنے آپ ہی کو تباہ کر رہے ہیں ‘ لیکن احساس نہیں کر رہے)
قوموں کے عروج وزوال میں اخلاقی عوامل کا بڑا کردار ہے
بجائے اس کے کہ وہ قرآن کریم کی نصیحت ‘ اس کے طرز استدلال اور معذب قوموں کے انجام سے کوئی سبق سیکھتے ‘ ان کا حال یہ ہے کہ وہ خود بھی اسلام کی طرف آنے سے اعراض کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس سے بدگمان کر کے یا بالجبر روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے جو بھی ان سے بن پڑتا ہے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فہم القرآن
ربط کلام : کفارکا شہادت حق سے انکار، مشرکوں کے شرک اور منافقوں کی منافقت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھنے اور ہدایت کے لیے سننے کے بجائے کہتے ہیں کہ یہ ہماری سماعت پر ایک بوجھ ہیں۔ اور ہم انہیں پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں سمجھتے ہیں۔
قرآن مجید نے ہدایت پانے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے یہ اصول بیان کیا ہے کہ سننے والا پوری توجہ دل کی حاضری اور ہدایت پانے کے لیے بات سنے تو یقیناً اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے بہرہ مند کرتا ہے۔
(إِنَّ فِی ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیدٌ)[ قٓ : 37]
” اس میں اس شخص کے لیے عبرت ہے جو…
Read the full tafseer →دہرے گناہ کے مرتکب :
آیت 26 : وَہُمْ یعنی مشرکین یَنْہَوْنَ عَنْہُوہ لوگوں کو قرآن سے منع کرتے ہیں یارسول اللہ اسے روکتے ہیں۔ آپ کی اتباع اور ایمان سے روکتے ہیں۔ وَیَنْئَوْنَ عَنْہُ اور اپنے نفوس کو دور کرتے ہیں۔ پس خود گمراہ ہوتے ہیں اور کرتے ہیں۔ وَاِنْ یُّہْلِکُوْنَاس کے ساتھ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ یعنی نقصان ان سے دوسروں کی طرف تعدی نہیں کرے گا۔ اگرچہ ان کے اپنے خیال میں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد ابو طالب ہے۔ کیونکہ وہ قریش کو آپ ﷺ پر تعرض کرنے سے روکتا۔ مگر وہ آپ پر ایمان نہ لاتا۔ بلکہ ایمان سے دور ہٹتا۔ تفسیر اول زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
آیت نمبر 26, 25
تفسیر :(ومنھم من یستمع الیک) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ ابو سفیان بن حرب، ابو جہل بن ہشام، ولید بن مغیرہ ، نضر بن حارث، عتبہ اور شبیہ ربیعہ کے بیٹے اور امیہ اور ابی خلف کے بیٹے اور حارث بن عامر۔
قرآن مجید کو کان لگاکر سنتے تھے تو انہوں نے نضر کو کہا اے ابو قتیبہ محمد ( ﷺ) کیا کہہ رہے ہیں ؟ وہ کہکنے لگا معلوم نہیں کیا کہتے ہیں میرا خیال یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو حرکت دے رہے ہیں اور پہلے لوگوں کی کہانیاں پڑھ رہے ہیں جیسے میں تمہیں پہلی امتوں کے قصے سناتا ہوں اس نضر کو پہلی امتوں کے بہت سے واقعات یاد تھے تو ابو سفیان نے کہا میرا خیال ہے کہ محمد ﷺ کی بعض باتیں حق ہیں تو ابوجہل کہنے…
Read the full tafseer →طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ابو طالب یوں تو ہر وقت حضرت کی حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آنحضرت کو ایذا نہ دیوے مگر آنحضرت جب ابو طالب کو کوئی بات ہدایت کی کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی 2 ؎ طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے 3 ؎ اس لئے یہ شان نزول کی روایت معتبر ہے بخاری میں ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت کے روبرو ابو طالب کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت کچھ نفع تخفیف عذاب پہنچادے 4 ؎۔ اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
آیت 26
(وھم) ” اور وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں۔ وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انہیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون) ” وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں “ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
36 بدنیتی کا سننا مفید نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کان لگا کر اور پوری طرح غور کے ساتھ آپ کی بات سنتے ہیں۔ مگر ان کا وہ سننا چونکہ حق کو ماننے اور قبول کرنے کی نیت سے نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہی ارادوں سے ہوتا ہے کہ تاکہ اس سے اعتراض اور خوردہ گیری کا کوئی بہانہ ہاتھ آسکے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ بدنیتی کا سننا مفید نہیں بلکہ الٹا محرومی کا باعث ہے۔ سننا وہی مفید اور معتبر ہے جو کہ صدق نیت اور صحیح ارادے سے ہو۔ جس کے ذریعے حق کو سننا سمجھنا اور اپنانا اور قبول کرنا مقصود ہو ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْق لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ ۔ نیز اس سے یہ حقیقت بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
مشرکین کا انجام
تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…
Read the full tafseer →ف 8 یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے اور آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے سے دوسرے لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں (کذافی الکبیر) بہت سے بدعت پرست علما اپنے مانے والوں کو اس لیے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ کہیں وہ عشق وجذب۔ باگل پن کی بھول بھلیوں سے نکل کر وہابی نہ بن جائیں لا حول ولا وقوۃ الا باللہ العلی العظیم،9 حضرت ابن عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کفر غلو اور تمادی کے سبب اپنے آپ کو ہلاکت کر گڑھے میں ڈال رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھے س کفر و معصیت کا انجام دوزخ ہوگا۔ (کبیر )
Read the full tafseer →(6:26) ینھون عنہ۔ مضارع جمع مذکر غائب نہی مصدر (باب فتح) وہ منع کرتے ہیں۔ وہ روکتے ہیں۔ عنہ سے مراد عن اتباع الرسول ۔ ﷺ ۔
ینئون عنہ۔ دور رہتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نای مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
لغات القرآن : آیت نمبر 22 تا 26 :
این (کہاں ؟ ) ‘ تزعمون (تم گھمنڈرکھتے ہو۔ دعویٰ رکھتے ہو) ‘ ماکنا ( ہم نہ تھے) ‘ یستمع (وہ کان لگاتا ہے۔ وہ غو سے سنتا ہے) ‘ اکنۃ (پردہ) ان یفقھو ہ ( یہ کہ وہ اس کو سمجھیں) ‘ وقر (ڈاٹ۔ بوجھ) ‘ ان یروا (اگر وہ دیکھیں) ‘ یجادلون ( وہ جھگڑتے ہیں) ‘ اساطیر (کہانیاں) ‘ ینھون ( وہ روکتے ہیں) ینئون ( وہ خود رکتے ہیں۔ دور بھاگتے ہیں) ‘ یھلکون (وہ ہلاک کرتے ہیں) ‘ مایشعرون ( وہ سمجھتے نہیں ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 22 تا 26 :
میدان حشر میں سب کو اکٹھا کرنے اور مشرکوں سے پوچھنے کے درمیان ایک کشمکش وقفہ ہوگا۔ یہ وقفہ سینکڑوں ہزاروں سال بلکہ زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔…
Read the full tafseer →میلاد النبی ﷺ پر خوشی کا پھل - عذاب میں کمی
یہ آیت ابو لہب کے حق میں نازل ہوئی جس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عباس ؓ نے ابولہب کو خواب میں دیکھا کہ بری حالت میں ہے۔ جب حضرت عباس ؓ نے ابولہب سے حال پوچھا تو اس نے کہا کہ جب سے مرا ہوں ہمیشہ بری حالت میں رہتا ہوں لیکن پیر کے دن محمد ﷺ کے پیدا ہونے کی خبر سن کو میں نے اس خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اس لئے اس روز مجھ کو ذرا اس تکلیف سے راحت ہوجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ عقلمند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے عقبیٰ کا کچھ سامان کرلیوے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔
[13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ ناقابل اصلاح گروہ ہے ، ان کے لد بےحس ہوچکے ہیں فطرتیں بگڑ چکی ہیں ، اب بالکل صلاحیت موجود نہیں کہ قرآن کے اثر کو قبول کریں ،
عذر یہ ہے کہ اساطیر اور قصص ہیں جن میں کوئی جدت وصداقت موجود نہیں ، مگر دلوں میں ڈر اس قدر ہے کہ قرآن کے نزدیک نہیں پھٹکتے خود رکتے ہیں ، مجالس وعظ میں نہیں آتے ، قرآن سننے کی کوشش نہیں کرتے ، دوسروں کو روکتے ہیں کہ مبادا اس کا جادو چل جائے اور یہ متاثر ہوجائیں ، جب حالت یہ ہو تو اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ،
حل لغات :
اساطیر : جمع اسطورۃ ، فسانہ کہانی ، بات بےحقیقت ۔
ینھون : مادہ فھی معنی وہ منع بھی کرتے ہیں
لیت : کاش ، فسوس ۔
Read the full tafseer →-26 اور یہ منکر امر حق پر ایمان لانے سے اور قرآن کریم کو ماننے سے دوسروں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں اور یہ لوگ ان حرکات سے اپنے آپ کو ہی تباہ اور ہلاک کر رہے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اپنی تباہی اور بربادی کا شعور اور احساس تک نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی مشرکین میں سے۔
5۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے حجاب ڈال رکھے ہیں تو یہ تمثیل ہے گومتعارف حجاب وغیرہ نہ ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہونے سے نہ یہ معذور ہوسکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام آسکتا ہے کیونکہ اس حجاب وغیرہ کا سبب ان کا عراض اختیاری ہے اور نسبت کرنا باعتبار تخلیق کے ہے۔
Read the full tafseer →یہ لوگ قرآن کریم سے دور بھاگتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں :
41: ” یتنؤں “ وہ دور بھاگتے ہیں۔ اس کی اصل ن ا ی ہے نئی دور بھاگنا ۔ الگ ہونا ۔ فرمایا کفار مکہ اور یہود و نصاریٰ نے جو رویہ قرآن کریم اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ روا رکھا وہ بڑا ہی عجیب ہے کفار مکہ آپ ﷺ کے خاندان اور برادری کے لوگ تھے وہ آپ ﷺ کی بچین سے لے کر جوانی تک کی حالت کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپ ﷺ کی سچائی کی مثالیں بیان کیا کرتے تھے۔ اس طرح اہل کتاب آپ کے حسن اخلاق اور زندگی کے دوسرے مختلف واقعات سے آپ ﷺ کی نبوت کو اچھی طرح پہچانتے تھے لیکن ان سب کو کیا ہوا کہ آپ ﷺ نے جب اللہ کے دین کی دعوت پیش کی تو سارے کے سارے مخالف…
Read the full tafseer →The verse: وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ (And from it they prevent - 26), according to early commentators Dahhak, Qatadah and Muhammad ibn Hanafiyah, was revealed about the common disbelievers of Makkah who prevented people from listening to the Qur'an and following it - and saw to it that they themselves stayed away from it. It has also been reported from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas ؓ that this verse concerns the Holy Prophet's ﷺ respected uncle, Abu Talib , as well as other uncles who stopped people from causing pain to him, even supported him, but would not believe in the Qur'an nor follow…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
17. It is noteworthy that God attributes to Himself all that happens in the world as a result of the laws of nature. Since these laws were made by God Himself, the effects which result from their operation are also ultimately due to the will and permission of God. The refusal on the part of unbelievers to heed the call of the Truth even when it is clear and audible stems from their obstinacy, prejudice, mental rigidity and inertia. It is a law of nature that when a man is not prepared to rise above prejudice in his quest for the Truth, his heart closes to every truth which is opposed to his…
Read the full tafseer →