Explained with ayahs 27–30
کفار کا واویلا مگر سب بےسود
کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
سورة الْاَنْعَام 17
یہاں یہ بات ملحوظ رہے کہ قانون فطرت کے تحت جو کچھ دنیا میں واقع ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب فرماتا ہے، کیونکہ دراصل اس قانون کا بنانے والا اللہ ہی ہے اور جو نتائج اس قانون کے تحت رونما ہوتے ہیں وہ سب حقیقت میں اللہ کے اذن و ارادہ کے تحت ہی رونما ہوا کرتے ہیں۔ ہٹ دھرم منکرین حق کا سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہ سننا اور داعی حق کی کسی بات کا ان کے دل میں نہ اترنا ان کی ہٹ دھرمی اور تعصب اور جمود کا فطری نتیجہ ہے۔ قانون فطرت یہی ہے کہ جو شخص ضد پر اتر آتا ہے اور بےتعصبی کے ساتھ صداقت پسند انسان کا سا رویہ اختیار کرنے پر تیار نہیں ہوتا، اس کے دل کے دروازے ہر اس صداقت کے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر آپ ﷺ (ان کو) اس وقت دیکھیں (تو بڑا ہولناک واقعہ نظر آئے) جب کہ (منکرین) دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے (اور قریب ہوگا کہ جہنم میں ڈال دئیے جاویں) تو (ہزاروں تمناؤں کے ساتھ) کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہوتی کہ ہم (دنیا میں) پھر واپس بھیج دیئے جاویں اور اگر ایسا ہوجاوے تو ہم (پھر) اپنے رب کی آیات (مثل قرآن وغیرہ) کو کبھی جھوٹا نہ بتادیں اور ہم (ضرور) ایمان والوں میں سے ہوجاویں (حق تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی یہ تمنا اور وعدہ سچی رغبت اور قصد اطاعت سے نہیں) بلکہ (اس وقت ایک مصیبت میں پھنس رہے ہیں کہ) جس چیز کو اس سے پہلے (دنیا میں) دبایا (اور مٹایا) کرتے تھے، وہ آج ان کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
27 تا 28۔ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا، یہاں تمنی کا جواب فنصدق یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے اور ولا نکذب اسی محذوف پر معطوف ہے اس وجہ سے مضارع خفیف کی شکل میں آیا ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں اس سے پہلے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ مثالیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ مذکورہ بالا تمنا کے جواب میں فنصدق یا اس کے ہم معنی کسی لفظ کا آنا بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کردیا اور ولا نکذب میں جو حرف عطف ہے اس کے ذریعہ سے محذوف کا پتا دے دیا۔ ‘ ولا نکذب ’ کے اظہار میں جو بلاغت ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ان کی حسرت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور اعتراف…
Read the full tafseer →27۔ 1 یہاں لَوْ کا جواب محذوف ہے تقدیری عبارت یوں ہوگی ' تو آپ کو ہولناک منظر نظر آئے گا۔
27۔ 2 لیکن وہاں سے دوبارہ دنیا میں آنا ممکن ہی نہیں ہوگا کہ وہ اپنی اس آرزو کی تکمیل کرسکیں۔ کافروں کی اس آرزو کا قرآن نے متعدد مقامات پر ذکر کیا ہے۔ مثلاً (رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ 17 قَالَ اخْسَـُٔـوْا فِيْهَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ 18) 23:17، 18 اے ہمارے رب ہمیں اس جہنم سے نکال لے اگر ہم دوبارہ تیری نافرمانی کریں تو یقیناً ظالم ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اسی میں ذلیل و خوار پڑے رہو مجھ سے بات نہ کرو (رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–31
7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَلَوْ تَرَیَ إِذْ وُقِفُواْ عَلَی النَّارِ فَقَالُواْ یَا لَیْْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِآیَاتِ رَبِّنَا وَنَکُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (27)
” کاش تم اس وقت ان کی حالت دیکھ سکتے کہ جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں ۔ “
اس دنیا کے مختصر منظر کے بالمقابل دنیائے اخروی کا یہ منظر ہے ۔ نہایت ہی رسواکن ‘ شرمساری اور یاس و حسرت کا منظر ۔ دنیا میں تو وہ سرکشی کرتے ‘ جھگڑتے اور اسلام کے قریب آنے سے لوگوں کو روکتے اور لمبے چوڑے وعدے…
Read the full tafseer →7 یعنی آیات اللہ کی تکذیب و استہزا وغیرہ ساری فوں فاں اس وقت تک ہے جب تک خدائی سزا کا ہولناک و ہوشربا منظر سامنے نہیں۔ جس وقت دوزخ کی ذرا سی ہوا بھی لگ جائے گی تو ساری شیخی کر کری ہو کر رہ جائے گی اور بہزار تمنا یہ درخواست کریں گے کہ ہم کو دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تاکہ آئندہ کبھی اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے ایماندار بن کر رہیں۔ " الان قد ندمت وما ینفع الندم "
Read the full tafseer →آیت 27 وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا
یہاں پر نُرَدُّ کے بعد فَنُصَدِّقُ مخذوف مانا جائے گا ‘ کہ اگر ہمیں لوٹا دیا جائے تو ہم تصدیق کریں گے اور اپنے رب کی آیات کو جھٹلائیں گے نہیں۔ کاش کسی نہ کسی طرح ایک دفعہ پھر ہمیں دنیا میں واپس بھیج دیا جائے۔
Read the full tafseer →31 یعنی اس وقت تک ان ہٹ دھرموں کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں آئیں گے جب تک یہ دوزخ کے عذاب کو دیکھ نہ لیں۔ اس وقت ان کی سب شیخیاں کر کری ہوجائیں گی۔ اس وقت وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش انہیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع میسر ہو تو ہم یقینا اللہ کے فرمانبردار بندے بن کے رہیں گے۔
Read the full tafseer →41 ۔ یہ سب حسرتیں جہنم کے ہول وہیبت کے بعد ہی ان کی زبان پر آنے لگیں لگی۔ (آیت) ” ولوتری “۔ یعنی اگر آپ دیکھیں تو آپ ﷺ کو بڑا ہولناک منظر نظر آئے، لوکا جواب عربی اسلوب میں اظہار عظمت واہمیت کے لیے یا علم مخاطب کی بنا پر اکثر حذف کردیا جاتا ہے۔ قد حذف تفخیما الامر وتعظیما للشان وجاز حذفہ لعلم المخاطب بہ واشباھہ کثیرۃ فی القران والشعر (کبیر) (آیت) ” علی النار “۔ علی، کے معنی، ب، کے بھی لیے گئے ہیں۔ اور فی کے بھی یعنی دوزخ کے قریب بھی اور دوزخ کے اندر کے بھی۔ قیل علی بمعنی الباء ای اتقوا بقربھاوھم یعاینونھا (قرطبی) علی بمنعی فی ای ای اتقوا فی النار (قرطبی) یعنی فی النار فوضعت علی موضع فی (ابن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت…
Read the full tafseer →ولو تری اذ وقفوا علی النار اور اگر آپ (کافروں کی) وہ حالت دیکھیں جب ان کو دوزخ پر روکا جائے گا تو عجیب دہشت ناک حالت دیکھیں گے یعنی جب دوزخ کے معاینہ یا اس میں داخل کرنے کے لئے کافروں کو روکا جائے گا تو وہ منظر عجیب ہولناک ہوگا۔
فقالوا یلیتنا نردو ولا نکذب بایت ربنا ولکون من المومنین اور وہ کہیں گے کاش ہم کو (دنیا کی طرف جو دارالعمل ہے) لوٹا دیا جائے اس صورت میں ہم اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں گے اور مؤمنوں میں سے ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(26۔ 27) حارث بن عامر نے آپ سے دلائل نبوت کا مطابلہ کیا، اس پر فرمان الہی نازل ہوا کہ اگر یہ لوگ تمام دلائل کو بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قرآن کے نازل ہونے کے بارے میں پوچھتے ہیں اور جب انکو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے تو خصوصا نضر بن حارث کہتا ہے کہ محمد ﷺ جو کچھ بیان کرتے ہیں یہ تو بس گزرے ہوئے لوگوں کے کچھ جھوٹے افسانے ہیں اور ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکتے اور دور رہتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ابوطالب لوگوں کو رسول اکرم ﷺ کو تکلیف پہنچانے سے روکتے ہیں مگر خود آپ کی پیروی…
Read the full tafseer →وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ۔۔ : جب قیامت کا عذاب دیکھ لیں گے تو اس کی ہلاکت اور تباہی سے بچنے کے لیے اس خواہش کا اظہار کریں گے کہ اے کاش ! ہمیں دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع ملے تو ہم اس تکذیب سے جس کی بنا پر ہم عذاب سے دو چار ہو رہے ہیں، باز آجائیں اور توحید و نبوت پر یقین کرلیں، لیکن یہ ان کی محض ایک خواہش ہوگی جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ اس لیے اگلی آیت میں بتادیا کہ وہ اس خواہش میں جھوٹ بول رہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 27 :۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : و لو تری اذ وقفوا علی النار یعنی کل جب کھڑے کیے جائیں گے، کیونکہ اذ کبھی اذا کی جگہ استعمال ہوتا ہے اور کبھی اذا، اذ کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ مستقبل کا امر گویا ہوچکا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کبر حق اور سچ ہے، اسی وجہ سے ماضی کے صیغہ کے ساتھ تعبیر فرمایا۔ اور اذ وقفوا کا معنی ہے جب وہ روک لیے جائیں گے کہا جاتا ہے : وقفتہ وقفا فوقف وقوفا۔ ابن السمیقع نے اذ وقفوا واو اور قاف کے فتحہ کے ساتھ وقوف سے مشتق کر کے پڑھا ہے۔
علی النار یعنی وہ پل صراط کے اوپر ہوں گے اور آگ ان کے نیچے ہوگی۔ بعض علماء نے فرمایا : علی بمعنی با ہے یعنی جب وہ اس کے قریب ٹھہریں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
(1) امام ابو عبید اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یلیتنا نردولا نکذب فاء کے ساتھ یعنی اس میں واو کی جگہ لفظ آیت فلا نکذب ہے۔
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل یعنی ان کے وہ اعمال ظاہر ہوں گے جن کو چھپاتے تھے اور فرمایا لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو پہنچا دیں دنیا میں جیسے ان کے لئے وہ دنیا تھی جس میں وہ تھے تو وہ لوٹ جائیں گے۔ اپنے اعمال کی طرف یعنی برے اعمال کی طرف جس سے وہ پہلے ہی منع کئے جاتے ہیں۔
(3) امام ابن جریر، ابن…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] تَرٰٓي [ تو دیکھے ] اِذْ [ جب ] وُقِفُوْا [ وہ لوگ ٹھہرائے جائیں گے ] عَلَي النَّارِ [ آگ پر ] فَقَالُوْا [ تو کہیں گے ] يٰلَيْتَنَا [ اے کاش ] نُرَدُّ [ ہم لوٹائے جاتے ] وَ [ اور ] لَا نُكَذِّبَ [ ہم نہ جھٹلاتے ] بِاٰيٰتِ رَبِّنَا [ اپنے رب کی نشانیوں کو ] وَ [ اور ] نَكُوْنَ [ ہم ہوجاتے ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ (27) [ ایمان لانے والوں میں سے ]
Read the full tafseer →کافروں کا دنیا میں دو بارہ آنے کی آرزو کرنا
ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے کافروں کا حال بیان فرمایا ہے اور روز محشر کا ایک منظر بتایا ہے فرمایا کہ اگر آپ ان لوگوں کا وہ حال دیکھیں جب وہ دوزخ پر کھڑے کیے جائیں گے تاکہ اس میں داخل کیے جائیں اور اپنی آنکھوں سے وہاں کا عذاب دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ کاش ! ہم دینا میں واپس کردیئے جاتے اور اب وہاں جا کر اپنے رب کی آیتوں کو نہ جھٹلاتے۔ آپ یہ دیکھیں گے تو عجب منظر ہوگا۔
اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ ایمان کی رغبت اور محبت کی وجہ سے دنیا میں واپس جانے کی آرزو کر رہے ہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جو کچھ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ یعنی کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–32
بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔
قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔
ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…
Read the full tafseer →31 یہ تخویف اخروی ہے۔ یٰلَیْتَنَا حرف نداء یہاں محض اظہار حسرت کے لیے ہے اس سے کسی کو خطاب مقصود نہیں۔ حرف نداء یا جس طرح نداء اور استغاثہ کے لیے آتا ہے۔ اسی طرح ندب، تعجب، شوق، حسرت اور محبت کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے جیسا کہ صحیح مسلم قبیل باب التفسیر میں ہے کہ جبحضور ﷺ مدینہ طیبیہ تشریف لے گئے تو چھوٹی بچیاں گلی کوچوں میں یا محمداہ یا محمداہ کہتی پھر رہی رہی تھیں۔ اس سے ان کا مقصد نداء اور پکار نہ تھا بلکہ وہ محض عقیدت اور محبت کے اظہار کے طور پر یہ کہہ رہی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی اور قیامت میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کیا ‘ یعنی جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ فرمایا اس موقع پر شرک کا انکار کردیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت بیان فرمائی ‘ اللہ نے ان کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی کہ جب خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا انکار یہ کہہ کردیتے ہیں کہ یہ تو پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ لوگ خود بھی قرآن پاک اور پیغمبر اسلام سے دور رہتے ہیں ‘ اور دوسروں کو بھی قریب…
Read the full tafseer →وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 27
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
رأى
والرُّؤْيَةُ…
Read the full tafseer →2 ؎ یعنی اب تو بڑے اتراتے پھرتے ہیں مگر جب لے جاکر جہنم کے کناروں پر کھڑے کردیے جائیں گے اور اس وقت حسرت سے کہیں گے کاش ہم کو پھر دنیا میں بھیجا جائے کہ وہاں جاکر ہم اپنی رب کی آیات نہ جھٹلائیں اور ایمان لے آئیں اس وقت اسی پیغمبر تو ان کو دیکھے تو ان کی حقیقت معلوم ہو کہ کیا حالت ہوگی۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ بَلْ بَدَالَھُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ط وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہٗ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُونَ ۔ (الانعام : 27۔ 28)
(اور اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے ‘ جب یہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کیے جائیں گے۔ پس کہیں گے کہ کاش ! ہم پھر واپس کیے جائیں کہ مانیں اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور ایمان والوں میں سے بنیں۔ بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے ‘ جو وہ اس سے پہلے اپنے دل میں چھپاتے تھے اور اگر یہ لوٹائے جائیں تو وہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–29
فہم القرآن
ربط کلام : جو لوگ دنیا میں قرآن مجید کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے کانوں کے لیے بوجھ ہے وہ جہنم کے کنارے کھڑے ہو کر آیات ربانی کی حقیقت کا اعتراف اور دنیا میں حق کی شہادت نہ دینے کے جرم کا اعتراف کریں گے۔ “
جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا اور اس میں مختلف مراحل ہوں گے۔ جو ہزاروں سال پر مشتمل ہوں گے۔ قیامت کا ہر مرحلہ مجرموں کے لیے سخت سے سخت تر ہوگا۔ پہلے مرحلہ پر مجرم شرک اور اپنے جرائم کا انکار کریں گے اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہر ثبت کردی جائے گی تو ان کے اعضاء بول بول کر ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جہنم کو ستر ہزار فرشتے…
Read the full tafseer →تکذیب پر قیامت میں افسوس :
آیت 27: وَلَوْ تَرٰٓی اس کا جواب محذوف ہے اگر تم دیکھو۔ تو ایک عظیم چیز کا مشاہدہ کرو۔ اِذ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِوہ آگ ان کو دکھائی جائے گی۔ یہاں تک کہ جب اس کا معائنہ کرلیں گے یا ان کو پل صراط پر آگ کے اوپر ہی روک لیا جائے گا۔ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّدنیا کی طرف۔ وہ دنیا میں واپسی کی تمنا ایمان لانے کے لئے کریں گے اور اگر ان کی تمنا پوری ہوئی پھر وہ یہ کہتے ہوئے ابتداء کریں گے۔ وَلَا نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَنَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اس حال میں کہ وہ ایمان کا وعدہ کرنے والے ہونگے۔ گویا کہ انہوں نے کہا کہ ہم تکذیب نہ کریں گے۔ بلکہ ایمان لائیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
آیت نمبر 30, 29, 28, 27
تفسیر : (ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار) کہا گیا ہے کہ آگ پر پیش کیے جائیں گے اور ’ د لو “ کا جواب محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں گے ( فقالوا لیتا نرد) دنیا کی طرف لولا لکذب بایت ربما ونکون من المومنین)
(بل بدالھم) یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو وہاں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لیے (ما کانوا یحفون من قبل) دنیا میں اپنا کفر اور گناہ ( ولو ردرا) دنیا میں ان کے کفر اور معصیت کی طرف اور ماکانو یحفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے مگر ان صفا تکو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(27 ۔ 30) ۔ اوپر سے جن منکر حشر مشرک لوگوں کا ذکر چلا آتا ہے ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں لیکن جب دوزخ میں ڈالنے کے لئے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر کر دوزخ کے کنارہ پر لے جاویں گے اور دوزخ کی آگ ان کو نظر آوے گی اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے کئے پر کس قدر پچھتاویں گے اور پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور ایماندار بن کر دنیا سے اٹھنے کی کیسے آرزو کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ آرزو ان کی کچھ دل سے نہ ہوگی بلکہ دوزخ کی آگ سے بدحواس ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
آیت 26
(وھم) ” اور وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں۔ وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انہیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون) ” وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں “ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
39 اہل دوزخ کی ایک حسرت بھری پکارکا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو دوزخ کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا تو یہ مارے حسرت کے کہیں گے کہ اے کاش ہمیں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے دنیا میں تو ہم کبھی نہیں جھٹلائیں گے اپنے رب کی آیتوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں میں سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز لوگ اس طرح کہیں گے کہ کاش کہ ہمیں کسی طرح واپس لوٹا دیا جائے۔ یعنی اس دنیا میں جس کو ہم چھوڑ آئے ہیں اور جس کی زندگی اور اس میں ملنے والی اس بیش بہا فرصت کی ہم نے اس وقت کوئی قدر نہ پہچانی۔ مگر اب اس کا کوئی موقع کہاں ؟ سو اہل دوزخ اس طرح حسرت بھرے انداز میں وہاں چیخ و پکار تو کریں گے مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–30
مشرکین کا انجام
تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30:
اسرار و معارف :
اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
ف 1 اس سے قبل (یعنی آخرت میں ہی) جس شرک وکفر اور نفاق کو رہ جھوٹی قسمیں کھاکر چھپانے کی کوشش کریں گے اس کی حقیقت کھل جائے گی اور ان کے اپنے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دیں گے اس وقت وہ محض ندامت کر مارے یہ آرزو کریں گے بعض نے من قبل سے دنیا چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے یا اس سے روسا کفار مراد ہیں۔ یعنی وہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی صدقت کو جانتے تھے مگر اپنے اتباع سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے اتباع پر کھل جائے اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ (ابن کثیر۔ کبیر )
2 یعنی پھر شرک اور کفر ونفاق کی روش اختیار کریں گے کیونکہ ان کی یہ…
Read the full tafseer →(6:27) وقفوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ وقف او وقوف۔ مصدر۔ (باب ضرب) جب ان کو روک کر کھڑا کیا جائے گا۔
اذوقفوا علی النار۔ جب وہ دوزخ کے کنارے لاکھڑے کئے جاویں گے (ماضی بمعنی مضارع) اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں جب وہ دوزخ کے متعلق مطلع کئے جاویں گے۔ یا دوزخ کے کنارے پیش کئے جائیں گے۔ یا علی بمعنی فی ہے اور مطلب اس کا یہ ہے کہ جب وہ نار جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
مثال اس کی علی ملک سلیمان ای فی ملک سلیمان (2:102) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے عہد حکومت ہیں۔
یلیتنا۔ یا۔ حروف تنبیہ۔ یا حرف نداء جس کا منادی محذوف ہے۔ لیت حرف مشبہ بفعل تمنا کے لئے مستعمل ہے۔ نا اسم ۔ اے کاش ہم۔ نرد۔ مضارع مجہول جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 :
وقفوا (وہ کھڑے کئے گئے) ‘ یلتنا (اے کاش کہ ہم) ‘ نرد (ہم واپس کئے جائیں گے) ‘ بدا (ظاہر ہوگیا ) ‘ یخفون (وہ چھپاتے ہیں) عادوا (وہ پلٹ گئے) نھوا (وہ منع کئے گئے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) مبعوثین (بھیجے گئے۔ اٹھائے گئے) ‘ بلی ( جی ہوں۔ کیوں نہیں) ‘ ذوقوا (چکھو) ۔
تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 :
جھوٹ کس طرح ناقابل اصلاح حد تک دل کو سیاہ کردیتا ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال ان آیات میں دی گئی ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین جن کی فطرت ہر دم جھوٹ بولنے پر پختہ ہوچکی ہے۔ جب قیامت میں دوزخ کی آگ کے سامنے جھونکے جانے کو کھڑے کئے جائیں گے تو چلا چلا کر یہ وعدہ کریں گے کہ اگر ہم پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں، لیکن دوزخ کے کنارے پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھرو یہ ٹھرنے کا حکم سن کر کافروں کو توقع ہوگی کہ شاید ان کو دنیا میں پھر بھیجا جاوے۔ اور اگر اب کے ہمیں دنیا میں پھر بھیجا گیا تو ہم اس مرتبہ یقینا کفر نہ کریں گے بلکہ ایمان لاویں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس واسطے ان کو نہ ٹھرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے من سے اقرار کرا لیا کہ بیشک ہم نے کفر کیا تھا۔ حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے اور بول اٹھے تھے کہ ہم تو شرک نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–28
[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔
[13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ ناقابل اصلاح گروہ ہے ، ان کے لد بےحس ہوچکے ہیں فطرتیں بگڑ چکی ہیں ، اب بالکل صلاحیت موجود نہیں کہ قرآن کے اثر کو قبول کریں ،
عذر یہ ہے کہ اساطیر اور قصص ہیں جن میں کوئی جدت وصداقت موجود نہیں ، مگر دلوں میں ڈر اس قدر ہے کہ قرآن کے نزدیک نہیں پھٹکتے خود رکتے ہیں ، مجالس وعظ میں نہیں آتے ، قرآن سننے کی کوشش نہیں کرتے ، دوسروں کو روکتے ہیں کہ مبادا اس کا جادو چل جائے اور یہ متاثر ہوجائیں ، جب حالت یہ ہو تو اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ،
حل لغات :
اساطیر : جمع اسطورۃ ، فسانہ کہانی ، بات بےحقیقت ۔
ینھون : مادہ فھی معنی وہ منع بھی کرتے ہیں
لیت : کاش ، فسوس ۔
Read the full tafseer →-27 اور اے پیغمبر کاش آپ ان کی وہ حالت دیکھ سکتے جس وقت یہ منکر جہنم کی آگ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گیت و اس وقت کہیں گے ہائے کسی طرح ہم کو دنیا میں پھر واپس بھیج دیا جائے اور دوبارہ واپس ہونے کے بعد ہم اپنے رب کی آیتوں کی تکذیب نہ کریں اور ہم ایمان لانے والوں میں شامل ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
ف 4۔ یعنی مشرکین میں سے۔
5۔ یہ جو فرمایا کہ ہم نے حجاب ڈال رکھے ہیں تو یہ تمثیل ہے گومتعارف حجاب وغیرہ نہ ہوں اور خدا تعالیٰ کی طرف اس کی نسبت ہونے سے نہ یہ معذور ہوسکتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ پر کوئی الزام آسکتا ہے کیونکہ اس حجاب وغیرہ کا سبب ان کا عراض اختیاری ہے اور نسبت کرنا باعتبار تخلیق کے ہے۔
Read the full tafseer →ان لوگوں کو جب آگ کے کنارے کھڑا کیا جائے گا اور یہ اپیلیں کر رہے ہوں گے ذرا اس کا تصور بھی کرو :
42: یہ مضمون قرآن کریم میں متعدد مقامات پر آیا ہے کہ مجرمین موت کی سرحد میں داخل ہونے کے وقت سے لے کر آخرت میں واصل جہنم ہونے تک بلکہ اس کے بعد بھی باربار یہی درخواستیں کرتے رہیں گے کہ ہمیں بس ایک دفعہ دنیا میں اور بھیج دیا جائے۔ اب ہماری توبہ ہے ۔ ہماری ماں مرے جو آئندہ ایسا کریں۔ اب ہم کبھی نافرمانی نہیں کریں گے۔ اب ہم سیدھی راہ چلیں گے۔ چناچہ دوسری جگہ فرمایا :
” پھر کیا یہ لوگ اس بات کے انتظار میں ہیں کہ اس کا مطلب وقوع میں آجائے جس دن اس کا مطلب وقوع میں آئے گا اس دن وہ لوگ کہ اسے پہلے بھولے…
Read the full tafseer →Commentary
There are three basic principles of Islam: Tauhid (Oneness of Allah), Risalah (Prophethood) and 'Akhirah (Belief in the Hereafter). All other articles of faith fall under these three. These are principles which tell human beings who they are and what is the purpose of their life. This understanding brings a revolution in their lives by showing them the straight path. Out of these, the Belief in the 'Akhirah, the belief that there is a reckoning of deeds to come when good shall be rewarded and evil punished, has pragmatically the most revolutionary effects, as it channels every…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
17. It is noteworthy that God attributes to Himself all that happens in the world as a result of the laws of nature. Since these laws were made by God Himself, the effects which result from their operation are also ultimately due to the will and permission of God. The refusal on the part of unbelievers to heed the call of the Truth even when it is clear and audible stems from their obstinacy, prejudice, mental rigidity and inertia. It is a law of nature that when a man is not prepared to rise above prejudice in his quest for the Truth, his heart closes to every truth which is opposed to his…
Read the full tafseer →