Al-An'aam 6:28

Al-An'aam · from ayah 28

6:28

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ؕ— وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَاِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ ۟بَلۡ بَدَا لَهُمۡ مَّا كَانُوۡا يُخۡفُوۡنَ مِنۡ قَبۡلُ‌ؕ وَلَوۡ رُدُّوۡا لَعَادُوۡا لِمَا نُهُوۡا عَنۡهُ وَاِنَّهُمۡ لَـكٰذِبُوۡنَ‏

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But what they concealed before has [now] appeared to them. And even if they were returned, they would return to that which they were forbidden; and indeed, they are liars.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:28

در حقیقت یہ با ت وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آ چکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے)

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہاں یہ جو کچھ پہلے چھپایا کرتے تھے (آج) ان پر ظاہر ہوگیا ہے اور اگر یہ (دنیا میں) لوٹائے بھی جائیں تو جن (کاموں) سے ان کو منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگیں۔کچھ شک نہیں کہ یہ جھوٹے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

بلکہ جس چیز کو اس کے قبل چھپایا کرتے تھے وه ان کے سامنے آگئی ہے اور اگر یہ لوگ پھر واپس بھیج دیئے جائیں تب بھی یہ وہی کام کریں گے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یقیناً یہ بالکل جھوٹے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

حالانکہ (ان کی یہ آرزو بھی سچی نہ ہوگی) بلکہ دراصل وہ چیز (یعنی آخرت) ان کے سامنے کھل کر آچکی ہوگی جسے وہ پہلے چھپایا کرتے تھے (اس لیے مجبورا یہ دعوی کریں گے) ورنہ اگر ان کو واقعی واپس بھیجا جائے تو یہ دوبارہ وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں روکا گیا ہے، اور یقین جانو یہ پکے جھوٹے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بلکہ ان پر کھل گیا جو پہلے چھپاتے تھے اور اگر واپس بھیجے جائیں تو پھر وہی کریں جس سے منع کیے گئے تھے اور بیشک وہ ضرور جھوٹے ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اس اقرار میں کوئی سچائی نہیں) بلکہ ان پر وہ (سب کچھ) ظاہر ہوگیا ہے جو وہ پہلے چھپایا کرتے تھے، اور اگر وہ (دنیا میں) لوٹا (بھی) دیئے جائیں تو (پھر) وہی دہرائیں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اور بیشک وہ (پکے) جھوٹے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلکہ ان کے لیے ظاہر ہوگیا جو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے اور اگر انھیں واپس بھیج دیا جائے تو ضرور پھر وہی کریں گے جس سے انھیں منع کیا گیا تھا اور بلاشبہ وہ یقینا جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(بات یوں نہیں) بلکہ اس سے بیشتر جو کچھ وہ چھپا رہے تھے وہ ان پر ظاہر ہوجائے گا اور اگر انہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا بھی جائے تو پھر بھی وہی کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ یہ دراصل ہیں ہی جھوٹے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے اپنے دل میں چھپاتے تھے۔ اور اگر یہ لوٹائے جائیں تو وہی کریں گے جس سے روکے گئے۔ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(مگر یہ کوئی اطاعت کی نیت سے نہیں) بلکہ (اس لئے کہیں گے کہ) ظاہر ہوجائے گا ان کے سامنے وہ کچھ جسے یہ اس سے پہلے (زندگی بھر) چھپاتے رہے تھے، اور اگر (بالفرض) ان کو واپس بھیج بھی دیا جائے تو بھی انہوں نے یقیناً پھر وہی کچھ کرنا ہے جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

ہاں اب ان پر وہ چیز ظاہر ہوکررہی جسے اس کے قبل چھپایا کرتے تھے۔ اور اگر یہ واپس بھیج دیئے جائیں جب بھی یہ پھر وہی کریں جس سے یہ روکے گئے تھے اور یقیناً یہ (بالکل) جھوٹے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے جو اس سے پہلے (اپنے دل میں) چھپائے ہوئے تھے اور اگر (بالفرض) انہیں لوٹا بھی دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے انہیں روکا جا رہا تھا اور یقیناً وہ جھوٹے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اصل میں یہ بات وہ صرف اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت کھل کر ان کے سامنے آچکی ہوگی، ورنہ اگر انہیں پچھلی زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو وہ پھر وہی کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے، وہ تو ہیں ہی جھوٹے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

No! They will say this merely because the Truth which they had concealed will become obvious to them; or else if they were sent back, they would still revert to what was forbidden to them. (So this plea of theirs would be a lie too) for they are just liars.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

In fact, what they were concealing earlier will become clear to them. If they were sent back, they would again go for what they were forbidden from, as they are sheer liars.

— Muhammad Taqi Usmani

In fact, what they were concealing earlier will become clear to them. If they were sent back, they would again go for what they were forbidden from, as they are sheer liars.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay, what they had been concealing before has become manifest to them. But if they were returned (to the world), they would certainly revert to that which they were forbidden. And indeed they are liars.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but that hath become clear unto them which before they used to hide. And if they were sent back they would return unto that which they are forbidden. Lo! they are liars.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But what they concealed before has [now] appeared to them. And even if they were returned, they would return to that which they were forbidden; and indeed, they are liars.

— Saheeh International

Whatever they had concealed will be revealed to them. If they were to return to (the worldly life), they would again worship idols, for they are liars.

— Muhammad Sarwar

Nay, what they concealed before shall become manifest to them; and if they were sent back, they would certainly go back to that which they are forbidden, and most surely they are liars.

— Muhammad Habib Shakir

Yea! manifest hath become unto them that which they were erst wont to hide. And were they sent back they would surely return to that which was prohibited to them, and verily they are perfect liars.

— Abdul Majid Daryabadi

Yea, in their own (eyes) will become manifest what before they concealed. But if they were returned, they would certainly relapse to the things they were forbidden, for they are indeed liars.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–30

کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة الْاَنْعَام 19 یعنی ان کا یہ قول درحقیقت عقل و فکر کے کسی صحیح فیصلے اور کسی حقیقی تبدیلی رائے کا نتیجہ نہ ہوگا بلکہ محض مشاہدہ حق کا نتیجہ ہوگا جس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی کٹے سے کٹا کافر بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں علیم وخبیر احکم الحاکمین نے ان کی اس گھبرائی ہوئی تمنا کا پول اس طرح کھولا کہ ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ جیسے ہمیشہ سے جھوٹ کے عادی تھے وہ اپنے اس قول اور تمنا میں بھی جھوٹے ہیں، اور بات اس کے سوا نہیں ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ جو حقائق ان کے سامنے لائے گئے تھے اور یہ لوگ ان کو جاننے پہچاننے کے باوجود محض ہٹ دھرمی سے یا دنیا کی طمع خام کی وجہ سے ان حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کیا کرتے تھے آج وہ سب ایک ایک کرکے ان کے سامنے آگئے، اللہ جل شانہ، کی یکتائی اور قدرت کاملہ کے مظاہر آنکھوں سے دیکھے، انبیاء (علیہم السلام) کی سچائی کا مشاہدہ کیا۔ آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے کا مسئلہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 27–28

27 تا 28۔ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا، یہاں تمنی کا جواب فنصدق یا اس کا ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے اور ولا نکذب اسی محذوف پر معطوف ہے اس وجہ سے مضارع خفیف کی شکل میں آیا ہے۔ اس قسم کے حذف کی مثالیں اس سے پہلے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔ مثالیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، چونکہ مذکورہ بالا تمنا کے جواب میں فنصدق یا اس کے ہم معنی کسی لفظ کا آنا بالکل واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کردیا اور ولا نکذب میں جو حرف عطف ہے اس کے ذریعہ سے محذوف کا پتا دے دیا۔ ‘ ولا نکذب ’ کے اظہار میں جو بلاغت ہے وہ یہ ہے کہ اس سے ان کی حسرت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور اعتراف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

28۔ 1 بَلْ جو إِضْرَاب (یعنی پہلی بات سے گریز کرنے) کے لیے آتا ہے۔ اس کے کئی مفہوم بیان کئے گئے ہیں (1) ان کے لئے وہ کفر اور عناد و تکذیب ظاہر ہوجائے گی، جو اس سے قبل وہ دنیا یا آخرت میں چھپاتے تھے۔ یعنی جس کا انکار کرتے تھے، جیسے وہاں بھی کہیں گے ما کنا مشرکین (ہم تو مشرک ہی نہ تھے (2) یارسول اللہ ﷺ اور قرآن کی صداقت کا علم جو ان کے دلوں میں تھا۔ لیکن پیروکاروں سے چھپاتے تھے۔ وہاں ظاہر ہوجائے گا (3) یا منافقین کا نفاق وہاں ظاہر ہوجائے گا جسے وہ دنیا میں اہل ایمان سے چھپاتے تھے (تفسیر ابن کثیر)۔ 28۔ 2 یعنی دوبارہ دنیا میں آنے کی خواہش ایمان لانے کے لئے نہیں، صرف عذاب سے بچنے کے لئے ہے، جو ان…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–31

7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” بَلْ بَدَا لَہُم مَّا کَانُواْ یُخْفُونَ مِن قَبْلُ وَلَوْ رُدُّواْ لَعَادُواْ لِمَا نُہُواْ عَنْہُ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ (28) ۔ درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بےنقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی ‘ ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں گے جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ‘ وہ تو ہیں ہی جھوٹے ۔ یہاں اب ان کے بارے میں بات ختم ہوجاتی ہے اور وہ اس بری حالت میں ایک جھوٹے انسان کے طور پر حقارت کے ساتھ پس منظر میں چلے جاتے ہیں ۔ اب ایسے لوگوں کے بارے میں ان کے کچھ مزید رخ سامنے آتے ہیں اور ان کے اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی اب بھی دنیا میں واپس جانے کی تمنا عزم صحیح اور ایمانی رغبت و شوق سے نہیں بلکہ جب مجازات و مکافات عمل کا وہ منظر سامنے آگیا جسے باوجود وضوح ادلہ انکار کے پردہ میں چھپایا کرتے تھے، عذاب الہٰی کو آنکھوں سے دیکھ لیا، تمام اعمال شنیعہ کا جو چھپ چھپ کر کئے جاتے تھے راز فاش ہوگیا، ابھی ابھی جو ( وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ ) 6 ۔ الانعام :23) کہہ چکے تھے اس جھوٹ کی بھی قلعی کھل گئی غرضیکہ بدی کے جو اثرات مخفی اور غیر مرئی طور پر اندر ہی اندر ان نالائقوں کے دلوں میں پرورش پا رہے تھے وہ دردناک عذاب کی صورت میں ممثل ہو کر سامنے آگئے، تو محض جان بچانے کیلئے دوبارہ دنیا میں جانے کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 بَلْ بَدَا لَہُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ط۔ ایسا نہیں تھا کہ انہیں حقیقت کا علم نہیں تھا۔ حق پہلے ہی ان پر واضح تھا ‘ بات ان پر پوری طرح کھل چکی تھی ‘ لیکن اس وقت ان پر حسد ‘ بغض اور تکبر کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَکٰذِبُوْنَ ۔ دنیا میں جا کر پھر وہاں کے تقاضے سامنے آجائیں گے ‘ دنیا کے مال و دولت اور اولاد کی محبت اور دوسری نفسیاتی خواہشات پھر انہیں اسی راستے پر ڈال دیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

32 یعنی ایسے دلائل جن سے حق واضح ہوتا تھا، ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کوئی ان دلائل کو سن بھی نہ سکے اور ان پر پردہ ہی پڑا رہے۔ وہ حق آج ظاہری صورت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو دوبارہ دنیا میں جانے کی آرزو اور فرماں بردار بن کر رہنے کا جو وعدہ کریں گے وہ وعدہ چونکہ شوق ورغبت کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ جہنم کے عذاب کو دیکھ کر اضطراری وعدہ ہوگا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کم بخت اب بھی جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج بھی دیا جائے تو یہ بدبخت پھر بھی وہی کچھ کریں گے جو پہلے دنیا میں کرتے رہے۔ پھر یہ دنیا کی رنگینیوں میں منہمک ہو کر اللہ کی نافرمانیوں پر اتر آئیں گے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

42 ۔ یعنی ان کے اعمال کی زشتی وکراہت جو دنیا میں ان پر چھپی رہتی ہے۔ اب علانیہ وبے نقاب نظر آنے لگے گی، من قبائحھم وفضائحھم فی صحفھم وبشھادۃ جوار حھم علیہم (کشاف) مبردلغوی سے منقول ہے کہ مضاف وبال یہاں محذوف ہے۔ قال المبرد بدالھم وبال عقائدھم واعمالھم وسوء عاقب تھا وذلک لان کفرھم ماکان بادیا ظاھرا لھم لان مضارکفرھم کانت خفیۃ (کبیر) 43 ۔ یعنی مشاہدۂ عذاب پر بھی ان کی توبہ صادق ومخصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ (آیت) ” لکذبون “ میں ل تاکید کا ہے، ترجمہ میں اسی لئے ” بالکل “ بڑھا دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–30

شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

بل بدالہم ما کانوا یخفون من قبل بلکہ (وجہ یہ ہے کہ) جس چیز کو پہلے چھپایا کرتے تھے وہ ان کے سامنے آگئی (ہو گی) ۔ تمنا سے سمجھا جاتا تھا کہ عذاب دیکھنے کے وقت کافروں کے دلوں میں ایمان کا پختہ ارادہ پیدا ہوجائے گا لفظ بل سے اس کی نفی فرما دی اور بطور اعتراض فرمایا کہ یہ بات نہیں بلکہ (پچھلا کیا دھرا اور سینوں میں چھپایا ہوا) ان کے سامنے آگیا ہوگا اس سے تنگ آکر ایسا کلمہ زبان سے نکال دیں گے۔ من قبل سے مراد ہے دنیا میں اور ماکانوا یخفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے اور ان صفات کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ : کو اس قدر یقین کے ساتھ پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولاد کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) بلکہ دنیا میں جو کفر وشرک کو چھپایا کرتے تھے، اس کا انجام اب ظاہر ہوگیا اور اگر ان کی خواہش کے مطابق ان کو دنیا میں بھیج دیا جائے تب بھی یہ کفر وشرک نہیں چھوڑیں گے اور ہرگز ایمان قبول نہیں کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَلْ بَدَا لَهُمْ مَّا كَانُوْا۔۔ : اس سے پہلے (اللہ تعالیٰ کے سامنے) جس کفر و شرک اور نفاق کو وہ جھوٹی قسمیں کھا کر چھپانے کی کوشش کر رہے تھے، اس کی حقیقت کھل جائے گی۔ بعض نے ”مِنْ قَبْلُ“ سے دنیا میں چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے، یا پھر اس سے کفار کے سردار مراد ہیں، یعنی وہ قرآن اور رسول اللہ ﷺ کا سچا ہونا جانتے تھے، مگر اپنے پیروکاروں سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے پیروکاروں پر کھل جائے گی اور انھیں معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکا دیتے رہے ہیں۔ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ : یعنی پھر کفر و شرک اور نفاق کی راہ اختیار کریں گے،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 28 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل ان کی تمنی اور ایمان کے دعوی سے اضراب ہے کہ اگر انہیں واپس بھیجا جائے۔ بدالھم کے معنی میں علماء کے مختلف اقوال ہیں اس تعیین کے بعد کہ مراد کون ہیں۔ بعض علماء نے کہا : اس سے مراد منافقین ہیں، کیونکہ کفر کا اسم ان کو بھی شامل ہے پس ضمیر بعض مذکورین کی طرف راجع ہے۔ نحاس نے کہا : یہ انتہائی شیریں اور فصیح کلام ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد کفار ہیں، انہیں جب نبی کریم ﷺ وعظ کرتے تھے تو وہ ڈرتے تھے اور اس خوف کو چھپاتے تھے تاکہ ان کے ضعیف اور کمزور لوگ پہچان نہ لیں پس یہ قیامت کے روز ظاہر ہوگا (1) (المحررالوجیز، جلد 2،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

(1) امام ابو عبید اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یلیتنا نردولا نکذب فاء کے ساتھ یعنی اس میں واو کی جگہ لفظ آیت فلا نکذب ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل یعنی ان کے وہ اعمال ظاہر ہوں گے جن کو چھپاتے تھے اور فرمایا لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو پہنچا دیں دنیا میں جیسے ان کے لئے وہ دنیا تھی جس میں وہ تھے تو وہ لوٹ جائیں گے۔ اپنے اعمال کی طرف یعنی برے اعمال کی طرف جس سے وہ پہلے ہی منع کئے جاتے ہیں۔ (3) امام ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

بَلْ [ بلکہ ] بَدَا [ نمایاں ہوا ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يُخْفُوْنَ [ وہ لوگ چھپاتے تھے ] مِنْ قَبْلُ ۭ [ اس سے پہلے ] وَلَوْ [ اور اگر ] رُدُّوْا [ وہ لوٹائے جائیں ] لَعَادُوْا [ تو ضرور دوبارہ کریں گے ] لِمَا [ اس کو ] نُهُوْا [ انہیں روکا گیا ] عَنْهُ [ جس سے ] وَاِنَّهُمْ [ اور بیشک یہ لوگ ] لَكٰذِبُوْنَ [ یقینا جھوٹ کہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اگر دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو پھر بغاوت کریں گے : مزید ارشاد ہوگا (وَ لَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَانُھُوْا) اور اگر ان کو دنیا میں دو بارہ بھیج دیا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے منع کیا گیا ہے۔ (اِنَّھُمْ لَکٰذِبُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اپنی اسی بات میں جھوٹے ہیں کہ ہم آیات کی تکذیب نہ کریں گے۔ اور مومن بن جائیں گے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

32 بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہاں یُخْفُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ ان کے وہ گندے عقیدے جنہیں وہ دنیا میں چھپاتے پھرتے تھے لیکن اس پر یہ شبہ وارد ہوتا ہے کہ وہ تو اپنے عقیدے کو اعلانیہ ظاہر کرتے تھے۔ حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں کہ یہاں باب افعال وجدان کے لیے ہے۔ اور یخفون کے معنی ہیں یجدونہ مخفیا یعنی جس چیز کو دنیا میں وہ نہیں دیکھ سکتے تھے بلکہ اسے پوشیدہ پاتے تھے وہ چیز قیامت کے دن ظاہر ہو کر ان کے سامنے آجائے گی اور اس سے مراد جہنم کی آگ ہے۔ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہُ ۔ قیامت کے دن مشرکین خواہش کریں گے کہ انہیں واپس دنیا میں لوٹا دیا جائے تو وہ سچے مومن بن جائیں گے اور شرک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی اور قیامت میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کیا ‘ یعنی جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ فرمایا اس موقع پر شرک کا انکار کردیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت بیان فرمائی ‘ اللہ نے ان کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی کہ جب خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا انکار یہ کہہ کردیتے ہیں کہ یہ تو پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ لوگ خود بھی قرآن پاک اور پیغمبر اسلام سے دور رہتے ہیں ‘ اور دوسروں کو بھی قریب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

بَلْ بَدَا لَہُمْ مَّا كَانُوْا يُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ۝ 0ۭ وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْا عَنْہُ وَاِنَّہُمْ لَكٰذِبُوْنَ۝ 28 بدا بَدَا الشیء بُدُوّاً وبَدَاءً أي : ظهر ظهورا بيّنا، قال اللہ تعالی: وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] ( ب د و ) بدا ( ن ) الشئ یدوا وبداء کے معنی نمایاں طور پر ظاہر ہوجانا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَبَدا لَهُمْ مِنَ اللَّهِ ما لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ [ الزمر/ 47] اور ان کیطرف سے وہ امر ظاہر ہوجائے گا جس کا ان کو خیال بھی نہ تھا ۔ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–29

3 ؎ یعنی ان کی حسرت وہاں بھی ایمان کی رغبت سے نہ ہوگی بلکہ برے کاموں کا نتیجہ دیکھ کر ڈریں گے اور اس سے بچنے کے لیے یہ آرزو کریں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–28

وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلَی النَّارِ فَقَالُوْا یٰلَیْتَنَا نُرَدُّ وَلاَ نُکَذِّبَ بِاٰیٰتِ رَبِّنَا وَ نَکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ بَلْ بَدَالَھُمْ مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ مِنْ قَبْلُ ط وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُھُوْا عَنْہٗ وَاِنَّھُمْ لَکٰذِبُونَ ۔ (الانعام : 27۔ 28) (اور اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے ‘ جب یہ دوزخ کے کنارے پر کھڑے کیے جائیں گے۔ پس کہیں گے کہ کاش ! ہم پھر واپس کیے جائیں کہ مانیں اور اپنے رب کی آیات کی تکذیب نہ کریں اور ایمان والوں میں سے بنیں۔ بلکہ یہ تو ان پر وہی حقیقت ظاہر ہوئی ہے ‘ جو وہ اس سے پہلے اپنے دل میں چھپاتے تھے اور اگر یہ لوٹائے جائیں تو وہی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ دنیا میں قرآن مجید کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے کانوں کے لیے بوجھ ہے وہ جہنم کے کنارے کھڑے ہو کر آیات ربانی کی حقیقت کا اعتراف اور دنیا میں حق کی شہادت نہ دینے کے جرم کا اعتراف کریں گے۔ “ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا اور اس میں مختلف مراحل ہوں گے۔ جو ہزاروں سال پر مشتمل ہوں گے۔ قیامت کا ہر مرحلہ مجرموں کے لیے سخت سے سخت تر ہوگا۔ پہلے مرحلہ پر مجرم شرک اور اپنے جرائم کا انکار کریں گے اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہر ثبت کردی جائے گی تو ان کے اعضاء بول بول کر ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جہنم کو ستر ہزار فرشتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 28 : بَلْ جس چیز کی انہوں نے تمنا کی۔ اس کے پورا کرنے سے اضراب و اعراض کے لیے ہے۔ بَدَالَہُمْان کے لیے ظاہر ہوا۔ دُنیا کی رسوائیاں سامنے آگئیں : مَّا کَانُوْا یُخْفُوْنَ لوگوں سے مِنْ قَبْلُدنیا میں اپنی برائیاں اور وہ رسوائیاں جو ان کے صحائف میں ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہ منافقین کے متعلق ہے۔ اور یہ کہ ان کا وہ نفاق کھل جائے گا جو وہ چھپاتے تھے۔ یا اہل کتاب کے متعلق ہے کہ ان کے سامنے ظاہر ہوجائے گی نبوت محمد رسول اللہ ﷺ کی صحت جو دنیا میں چھپایا کرتے تھے۔ وَلَوْ رُدُّوْا آگ پر کھڑا کرنے کے بعد دنیا کی طرف ان کو لوٹا دیا جائے۔ لَعَادُوْا لِمَا نُہُوْاعَنْہُیعنی کفر وَاِنَّہُمْ لَـکٰذِبُوْنَجو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 27–30

آیت نمبر 30, 29, 28, 27 تفسیر : (ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار) کہا گیا ہے کہ آگ پر پیش کیے جائیں گے اور ’ د لو “ کا جواب محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں گے ( فقالوا لیتا نرد) دنیا کی طرف لولا لکذب بایت ربما ونکون من المومنین) (بل بدالھم) یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو وہاں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لیے (ما کانوا یحفون من قبل) دنیا میں اپنا کفر اور گناہ ( ولو ردرا) دنیا میں ان کے کفر اور معصیت کی طرف اور ماکانو یحفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے مگر ان صفا تکو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–30

(27 ۔ 30) ۔ اوپر سے جن منکر حشر مشرک لوگوں کا ذکر چلا آتا ہے ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں لیکن جب دوزخ میں ڈالنے کے لئے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر کر دوزخ کے کنارہ پر لے جاویں گے اور دوزخ کی آگ ان کو نظر آوے گی اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے کئے پر کس قدر پچھتاویں گے اور پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور ایماندار بن کر دنیا سے اٹھنے کی کیسے آرزو کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ آرزو ان کی کچھ دل سے نہ ہوگی بلکہ دوزخ کی آگ سے بدحواس ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–28

آیت 26 (وھم) ” اور وہ “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول ﷺ کی تکذیب کرنے والے لوگ گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کی صفات کے جامع ہیں۔ وہ لوگوں کو بھی اتباع حق سے روکتے ہیں، انہیں حق سے ڈراتے ہیں اور خود اپنے آپ کو بھی حق سے دور رکھتے ہیں۔ وہ اپنے ان کرتوتوں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے مومن بندوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (وان یھلکون الا انفسھم وما یشعرون) ” وہ اپنے آپ ہی کو ہلاک کرتے ہیں اور سمجھتے نہیں ہیں “ یعنی ان کو اس کا شعور نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 27–28

39 اہل دوزخ کی ایک حسرت بھری پکارکا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کو دوزخ کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا تو یہ مارے حسرت کے کہیں گے کہ اے کاش ہمیں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے دنیا میں تو ہم کبھی نہیں جھٹلائیں گے اپنے رب کی آیتوں کو اور ہم ہوجائیں گے ایمانداروں میں سے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز لوگ اس طرح کہیں گے کہ کاش کہ ہمیں کسی طرح واپس لوٹا دیا جائے۔ یعنی اس دنیا میں جس کو ہم چھوڑ آئے ہیں اور جس کی زندگی اور اس میں ملنے والی اس بیش بہا فرصت کی ہم نے اس وقت کوئی قدر نہ پہچانی۔ مگر اب اس کا کوئی موقع کہاں ؟ سو اہل دوزخ اس طرح حسرت بھرے انداز میں وہاں چیخ و پکار تو کریں گے مگر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–30

مشرکین کا انجام تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30: اسرار و معارف : اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 1 اس سے قبل (یعنی آخرت میں ہی) جس شرک وکفر اور نفاق کو رہ جھوٹی قسمیں کھاکر چھپانے کی کوشش کریں گے اس کی حقیقت کھل جائے گی اور ان کے اپنے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دیں گے اس وقت وہ محض ندامت کر مارے یہ آرزو کریں گے بعض نے من قبل سے دنیا چھپانا مراد لیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں ہے یا اس سے روسا کفار مراد ہیں۔ یعنی وہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کی صدقت کو جانتے تھے مگر اپنے اتباع سے چھپاتے تھے۔ قیامت کے دن یہ حقیقت ان کے اتباع پر کھل جائے اور ان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ ہمیں دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ (ابن کثیر۔ کبیر ) 2 یعنی پھر شرک اور کفر ونفاق کی روش اختیار کریں گے کیونکہ ان کی یہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

بل۔ للاضراب عن الوفاء بما تمنوا۔ ان کے ایفائے تمنا کے رد میں آیا ہے یعنی ان کی یہ تمنا یا آرزو کہ اگر وہ واپس دنیا میں لوٹائے جائیں تو وہ تکذیب قرآن سے باز رہیں گے اور ومن بن جائیں گے۔ بالکل غلط اور جھوٹ ہے بلکہ وہ یہ اس لئے کہہ رہے ہیں کہ اب بدالہم ما کانوا یخفون من قبل۔ ان کے راز افشا ہوگئے ہیں۔ ان کی جھوٹی قسموں کی حقیقت کھل گئی ہے۔ اور سوائے یہ کہنے کے انہیں کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ بدا۔ ظاہر ہوگیا (باب نصر) بدو اور بداء سے جس کے معنی کھلم کھلا ظاہر ہوجانے کے ہیں۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ کانوا یخفون۔ ماضی استمراری۔ یخفون مضارع جمع مذکر غائب۔ اخفاء سے وہ چھپایا کرتے تھے۔ لعادوا۔ لام جو اب…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 : وقفوا (وہ کھڑے کئے گئے) ‘ یلتنا (اے کاش کہ ہم) ‘ نرد (ہم واپس کئے جائیں گے) ‘ بدا (ظاہر ہوگیا ) ‘ یخفون (وہ چھپاتے ہیں) عادوا (وہ پلٹ گئے) نھوا (وہ منع کئے گئے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) مبعوثین (بھیجے گئے۔ اٹھائے گئے) ‘ بلی ( جی ہوں۔ کیوں نہیں) ‘ ذوقوا (چکھو) ۔ تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 : جھوٹ کس طرح ناقابل اصلاح حد تک دل کو سیاہ کردیتا ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال ان آیات میں دی گئی ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین جن کی فطرت ہر دم جھوٹ بولنے پر پختہ ہوچکی ہے۔ جب قیامت میں دوزخ کی آگ کے سامنے جھونکے جانے کو کھڑے کئے جائیں گے تو چلا چلا کر یہ وعدہ کریں گے کہ اگر ہم پھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–30

ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں، لیکن دوزخ کے کنارے پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھرو یہ ٹھرنے کا حکم سن کر کافروں کو توقع ہوگی کہ شاید ان کو دنیا میں پھر بھیجا جاوے۔ اور اگر اب کے ہمیں دنیا میں پھر بھیجا گیا تو ہم اس مرتبہ یقینا کفر نہ کریں گے بلکہ ایمان لاویں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس واسطے ان کو نہ ٹھرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے من سے اقرار کرا لیا کہ بیشک ہم نے کفر کیا تھا۔ حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے اور بول اٹھے تھے کہ ہم تو شرک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–28

[12] اس سے پہلے آیات 23-22 میں مذکور ہوچکا ہے کہ مشرکین سے جب پوچھا جائے گا کہ تمہارے شریک کہاں ہیں تو وہ اپنا کفر چھپائیں گے اور قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک نہ تھے۔ لیکن جب دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے تو اقرار جرم کرلیں گے اور اس طرح ان کا کفر ظاہر ہوجائے گا۔ [13] یعنی مشاہدہ عذاب پر بھی ان کی توبہ مخلصانہ نہیں محض جان بچانے کو ہے۔ یہ اگر دنیا میں واپس بھیج دیئے جائیں تو بدی اور شرارت کی جو قوتیں ان میں ہیں پھر انہی کو کام میں لائیں گے اور جس مصیبت سے گھبرا کر واپس جانے کی تمنا کر رہے ہیں اسے خواب و خیال کی طرح فراموش کردیں گے جیسا کہ بسا اوقات دنیوی مصائب میں پھنس کر آدمی انابت و توبہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 25–28

(ف 1) مقصد یہ ہے کہ یہ ناقابل اصلاح گروہ ہے ، ان کے لد بےحس ہوچکے ہیں فطرتیں بگڑ چکی ہیں ، اب بالکل صلاحیت موجود نہیں کہ قرآن کے اثر کو قبول کریں ، عذر یہ ہے کہ اساطیر اور قصص ہیں جن میں کوئی جدت وصداقت موجود نہیں ، مگر دلوں میں ڈر اس قدر ہے کہ قرآن کے نزدیک نہیں پھٹکتے خود رکتے ہیں ، مجالس وعظ میں نہیں آتے ، قرآن سننے کی کوشش نہیں کرتے ، دوسروں کو روکتے ہیں کہ مبادا اس کا جادو چل جائے اور یہ متاثر ہوجائیں ، جب حالت یہ ہو تو اصلاح کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ، حل لغات : اساطیر : جمع اسطورۃ ، فسانہ کہانی ، بات بےحقیقت ۔ ینھون : مادہ فھی معنی وہ منع بھی کرتے ہیں لیت : کاش ، فسوس ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-28 درحقیقت یہ تمنا محض الئے کریں گے کہ جن حقائق کو وہ اب سے پہلے چھپایا کرتے تھے اور جن باتوں کا انکار کیا کرتے تھے وہ سب باتیں ان پر کھل گئیں اور ظاہر ہوگئیں اور اگر ان لوگوں کو دوبارہ دنیا میں واپس بھی بھیج دیا جائے تو یہ پھر وہی کام کریں گے جس سے ان کو روکا گیا تھا اور منع کیا گیا تھا اور یقین جانو یہ بالکل جھوٹے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–30

ف 6۔ مراد اس چیز سے عذاب ہے جس کی وعید کفر و تکذیب پر ان کو کی جاتی تھی اور دبانے سے مراد انکار ہے۔ 7۔ اوپر توحید و رسالت و قرآن کے انکار پر سزاوں کا بیان تھا آگے انکار بعث اور اس کی سزا کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پہلے کئے کا بدلہ تو نمودار ہوگیا اگر دوبارہ لوٹائے جائیں تو وہی کریں جس سے روکے گئے تھے : 43: ان کا یہ کہنا کہ اگر ہم دوبارہ دنیا میں لوٹائے جائیں تو ہم کبھی وہ کچھ نہ کریں جو آج تک کرتے رہے تھے بلکہ اس کے برعکس انبیائے کرام کے پروگرام کی تصدیق کریں اور اچھے اعمال کرنے والے بن جائیں ۔ ان کے اس بیان پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرما رہا ہے جو سارے انسانوں کے دلوں کے رازوں تک سے واقف ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! یہ لوگ اپنے اس اعتراف میں بھی جھوٹے ہیں اگر وہ لوٹا بھی دیئے جائیں تو وہی کچھ کریں گے جس سے وہ روکے گئے تھے اس لئے کہ ان کی تکذیب کی علت یہ نہیں تھی کہ اصل حقیقت ان پر واضح نہیں تھی ۔ وہ جانتے تھے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the second verse (28), Almighty Allah, who is All-Knowing and All-Aware, exposes the reality of their wish, which would be nothing but the compulsion of circumstances, by making it clear that these people have always been addicted to lying and that they were liars even in their present wish under trial. The root of the problem with them was that they did not relish the realities brought before them by the prophets of Allah. They knew that the prophets were true, yet they raised dust to keep such realities unmanifested either because of their chronic obstinacy or worldly greed. But, in the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

19. At that moment such a statement on their part would not be indicative of either any true change of heart or of any genuinely revised judgement based on serious reflection and reasoning. It would rather be the result of direct observation of reality at a time when even the staunchest unbeliever would find it impossible to deny it.

Read the full tafseer →