Al-An'aam 6:29

Al-An'aam · from ayah 29

6:29

وَقَالُوْۤا اِنْ هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۟وَقَالُوۡۤا اِنۡ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنۡيَا وَمَا نَحۡنُ بِمَبۡعُوۡثِيۡنَ

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And they say, "There is none but our worldly life, and we will not be resurrected."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:29

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہتے ہیں کہ ہماری جو دنیا کی زندگی ہے بس یہی (زندگی) ہے اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کئے جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یہ کہتے ہیں کہ صرف یہی دنیاوی زندگی ہماری زندگی ہے اور ہم زنده نہ کئے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ تو یوں کہتے ہیں کہ جو کچھ ہے بس یہی دنیوی زندگی ہے اور ہم مر کر دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بولے وہ تو یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہمیں اٹھنا نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ (یہی) کہتے رہیں گے (جیسے انہوں نے پہلے کہا تھا) کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا (اور) کوئی (زندگی) نہیں اور ہم (مرنے کے بعد) نہیں اٹھائے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں ہے یہ (زندگی) مگر ہماری دنیا کی زندگی اور ہم ہرگز اٹھائے جانے والے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ تو یہ کہتے ہیں کہ : زندگی بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور (مر جانے کے بعد) ہمیں اٹھایا نہیں جائے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے، اور مرنے کے بعد ہم اٹھائے نہیں جانے کے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کہتے ہیں کہ ہماری زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور بس ہم نے دوبارہ نہیں اٹھنا

— مولانا اسحاق مدنی

اور یہ کہتے ہیں کہ زندگی تو بس ہماری اسی دنیا کی زندگی ہے اور ہم زندہ اٹھائے جانے والے نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ کہتے ہیں کہ نہیں ہے مگر بس ہماری دنیا ہی کی زندگی اور ہم (مرنے کے بعد) پھر زندہ نہیں کیے جائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہی ہے اور ہم (مرنے کے بعد) ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They say now: 'There is nothing but the life of this world, and we shall not be raised from the dead.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They say, :There is nothing but this worldly life of ours, and we are not going to be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani

They say, :There is nothing but this worldly life of ours, and we are not going to be raised again.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And they said: "There is no (other life) but our (present) life of this world, and never shall we be resurrected."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And they say: There is naught save our life of the world, and we shall not be raised (again).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And they say, "There is none but our worldly life, and we will not be resurrected."

— Saheeh International

They have said that this life is the only life and that there will be no Resurrection.

— Muhammad Sarwar

And they say: There is nothing but our life of this world, and we shall not be raised.

— Muhammad Habib Shakir

And they say: there is naught but our life of the world, nor are we to be raised.

— Abdul Majid Daryabadi

And they (sometimes) say: "There is nothing except our life on this earth, and never shall we be raised up again."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–30

کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة الْاَنْعَام 19 یعنی ان کا یہ قول درحقیقت عقل و فکر کے کسی صحیح فیصلے اور کسی حقیقی تبدیلی رائے کا نتیجہ نہ ہوگا بلکہ محض مشاہدہ حق کا نتیجہ ہوگا جس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی کٹے سے کٹا کافر بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–30

تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ، اس کا عطف عادوا پر ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کو دوبارہ بھی دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر دنیا میں پہنچ کر یہی کہیں گے کہ ہم تو اس دنیا کی زندگی کے سوا کسی دوسری زندگی کو نہیں مانتے بس یہیں کی زندگی زندگی ہے، دوبارہ ہم کو زندہ نہیں کیا جائے گا۔ یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کو اور پھر حساب کتاب و جزاء و سزاء کو آنکھوں سے دیکھ چکیں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پھر یہاں آکر اس کا انکار کردیں۔ جواب یہ ہے کہ انکار کرنے کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ واقع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–32

29 تا 32: ان آیات میں کوئی ادبی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ مکذبین قرآن کے بعد اب یہ مکذبین قیامت کا انجام بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا کی زندگی ہی کو زندگی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے یا تو قائل ہی نہ تھے یا اس کو بہت ہی بعید از قیاس و امکان چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ ایک دن یہ سب اپنے رب کے حضور لا کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے سوال ہوگا کہ کیوں یہ دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور قیامت کا آنا ایک امر واقعہ ثابت ہوا یا نہیں ؟ اس وقت وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم ! یہ تو ایک امر واقعہ ہے۔ حکم ہوگا کہ پھر اب اس دن کے انکار کی پاداش میں چکھو مزا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

29۔ 1 یہ بعث بعد الموت (مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) کا انکار ہے جو ہر کافر کرتا ہے اور اس حقیقت سے انکار ہی دراصل ان کے کفر و عصیان کی سب سے بڑی وجہ ہے ورنہ اگر انسان کے دل میں صحیح معنوں میں اس عقیدہ آخرت کی صداقت راسخ ہوجائے تو کفر و جرم کے راستے سے فوراً تائب ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–31

7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 29 تا 32۔ قیامت کی جزا وسزا اور دار آخرت کا عقیدہ اسلامی عقائد ونظریات کی اساس ہے اور ہمیشہ یہ عقیدہ صرف اسلام نے پیش کیا ہے اور عقیدہ توحید کے بعد اسلامی نظام کا ڈھانچہ اسی پر استوار ہے ۔ دین اسلام کے عقائد ونظریات ‘ اخلاق وطرز عمل ‘ قانون ودستور صرف اسی صورت میں قائم اور استوار ہو سکتے ہیں جب لوگوں کے اندر آخرت کی جوابدہی کا احساس پیدا ہوجائے ۔ یہ دین جسے اللہ نے مکمل فرمایا ہے ‘ اور اس دین کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر اپنی نعمتوں کو مکمل کردیا ہے اسے اللہ نے مسلمانوں کے نظام حیات کے طور پر پسند کرلیا ہے ۔ جیسا کہ قرآن کریم خود یہ کہتا ہے کہ یہ دین درحقیقت زندگی کا ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی خوب مزے اڑا لو۔ دنیاوی عیش کو خواہ مخواہ فکر آخرت سے منغص مت کرو۔ یہ ہی حال آج کل یورپ کے مادہ پرستوں کا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–30

آیت 29 وَ قَالُوْٓا اِنْ ہِیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں ‘ اس زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں ‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ لیکن رسالت کو نہیں مانتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مرجاتے ہیں ‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے ‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔ قریش کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 تخلیق کائنات کے مختلف نظریئے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی اور آخرت کے متعلق مختلف نظریات :۔ وجود باری تعالیٰ کے متعلق وحی سے بےنیاز ہو کر محض عقل و خرد سے کائنات کی تخلیق کی گتھی سلجھانے والے لوگ بھی ایک رائے پر متفق نہیں ہو سکے ایک گروہ کا خیال یہ ہے کہ یہ کائنات مادہ سے بنی ہے۔ اور مادہ اور اتفاقات کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ اصل چیز مادہ ہے اور وہی ازلی ابدی ہے۔ کائنات میں انسان کی وہی حیثیت ہے جو سمندر میں ایک بلبلہ کی ہے جو ہوا کی لہروں سے پیدا ہوتے اور پھر سمندر ہی میں مدغم ہوجاتے ہیں اسی طرح ہم پیدا ہوتے اور مرجاتے ہیں یہ لوگ وجود باری تعالیٰ کے بھی منکر اور آخرت کے بھی منکر ہوتے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

44 ۔ عرب میں جہاں شرک بہ کثرت پھیلا ہوا تھا، وہاں الحادبھی اس معنی میں شائع تھا کہ لوگ علی العموم جزاء وسزا، حشر ونشر کے قائل ہی نہ تھے۔ آج کل کے مادیین کی طرح اسی دنیا کو سب کچھ جانتے تھے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزیھی ضمیر حیاۃ کی طرف ہے۔ الضمیر للحیاۃ (بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–30

شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وقالوا ان ہی الا حیوتنا الدنیا وما نحن بمبعوثین اور وہ کہتے ہیں کہ جینا اور کہیں نہیں یہی فی الحال کا جینا ہے اور ہم زندہ نہ کئے جائیں گے ہِیَضمیر حیات کی طرف راجع ہے۔ دنیا ادنیٰ کا مؤنث ہے اس کا مادہ دنو ہے اور دنو کا معنی ہے قرب۔ قالوا کا عطف لعادوا پر ہے یعنی اگر بالفرض ان کو دنیا میں لوٹا کر بھیج دیا جائے تو ممنوعات کا ارتکاب کریں گے اور یہ بات کہیں گے۔ یا لکاذبون پر عطف ہے یعنی یہ کاذب ہیں اور انہوں نے دنیا میں یہ بات کہیں تھی۔ یا نَہُوْا پر عطف ہے یعنی اگر دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ انہی امور کا ارتکاب کریں گے جن کی ممانعت کردی گئی اور اسی بات کی طرف لوٹیں گے۔ یا نیا جملہ ہے (واو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا۔۔ : یعنی زندگی بس وہی ہے جو دنیا میں ہم گزار رہے ہیں، کوئی آخرت نہیں، نہ کچھ ثواب و عذاب ہے، یہ محض لوگوں کو الّو بنانے کے لیے ڈھکوسلا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 29 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا ان ھی حیاتنا الدنیا یہ مبتداخبر ہیں۔ ان نافیتہ ہے اور نحن، ما کا اسم ہے اور بمبعوثین اس کی خبر ہے۔ یہ ان کے متعلق خبر دینے کی ابتدا ہے جو کچھ انہوں نے دنیا میں کہا تھا۔ ابن زید نے کہا : یہ آیتـ: ولو ردوا لعادوا لما نھو عنہ کے تحت داخل ہے۔ اور انہوں نے کہا : نہیں ہے کوئی زندگی بجز ہماری اس دنیاوی زندگی کے، یعنی وہ کفر کی طرف لوٹ گئے اور دنیا کی لذت میں مشغول ہوگئے۔ یہ ہٹ دھرمی پر محمول ہوگا جیسا کہ ہم نے ابلیس کی حالت کے بارے میں بیان کیا ہے یا اس پر محمول ہوگا کہ اللہ تعالیٰ عرفان کے بعدان پر ملتبس فرما دے گا۔ یہ عقلا شائع اور عام ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 27–29

(1) امام ابو عبید اور ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یلیتنا نردولا نکذب فاء کے ساتھ یعنی اس میں واو کی جگہ لفظ آیت فلا نکذب ہے۔ (2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت بل بدالھم ماکانوا یخفون من قبل یعنی ان کے وہ اعمال ظاہر ہوں گے جن کو چھپاتے تھے اور فرمایا لفظ آیت ولو ردوا لعادوا لما نھوا عنہ یعنی اگر اللہ تعالیٰ ان کو پہنچا دیں دنیا میں جیسے ان کے لئے وہ دنیا تھی جس میں وہ تھے تو وہ لوٹ جائیں گے۔ اپنے اعمال کی طرف یعنی برے اعمال کی طرف جس سے وہ پہلے ہی منع کئے جاتے ہیں۔ (3) امام ابن جریر، ابن…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَقَالُوْٓا [ اور انہوں نے کہا ] اِنْ [ نہیں ہے ] هِىَ [ یہ ] اِلَّا [ مگر ] حَيَاتُنَا الدُّنْيَا [ ہماری دنیا کی زندگی ] وَمَا نَحْنُ [ اور نہیں ہیں ہم ] بِمَبْعُوْثِيْنَ اٹھائے جانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ قَالُوْٓا اِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَ مَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ) (اور وہ یوں کہتے ہیں کہ اجی اور کوئی زندگی نہیں ہے بس یہی دنیا والی زندگی ہے) انہوں نے رسولوں کی بات کو نہ اب مانا نہ جب مانیں گے۔ پھر فرمایا

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

یہ شکوی ہے اور ” لعادوا “ پر معطوفہ ہے۔ یعنی اگر انہیں دنیا میں دوبارہ بھیج دیا جائے تو یہ حسب سابق توحید کے ساتھ بعث بعد الموت کا بھی انکار کریں گے اور کہیں کہ بس یہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے اور اس کے بعد کوئی قیامت اور حشر و نشر وغیرہ نہیں۔ یا ” انہم لکاذبون “ پر عطف ہے یا استیناف ہے یعنی یہ لوگ دنیا میں ایسا کہا کرتے تھے۔ عطف علی لعادوا یعنی لو ردوا قالوا و علی انہم لکاذبون یعنی وھم الذین قالوا ذالک فی الدنیا او استیناف بذکر ما قالوہ فی الدنیا (مظہری ص 356 ج 3)

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی اور قیامت میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کیا ‘ یعنی جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ فرمایا اس موقع پر شرک کا انکار کردیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت بیان فرمائی ‘ اللہ نے ان کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی کہ جب خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا انکار یہ کہہ کردیتے ہیں کہ یہ تو پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ لوگ خود بھی قرآن پاک اور پیغمبر اسلام سے دور رہتے ہیں ‘ اور دوسروں کو بھی قریب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَقَالُوْٓا اِنْ ہِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ۝ 29 حيى الحیاة تستعمل علی أوجه : الأوّل : للقوّة النّامية الموجودة في النّبات والحیوان، ومنه قيل : نبات حَيٌّ ، قال عزّ وجلّ : اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِها[ الحدید/ 17] ، الثانية : للقوّة الحسّاسة، وبه سمّي الحیوان حيوانا، قال عزّ وجلّ : وَما يَسْتَوِي الْأَحْياءُ وَلَا الْأَمْواتُ [ فاطر/ 22] ، الثالثة : للقوّة العاملة العاقلة، کقوله تعالی: أَوَمَنْ كانَ مَيْتاً فَأَحْيَيْناهُ [ الأنعام/ 122] والرابعة : عبارة عن ارتفاع الغمّ ، وعلی هذا قوله عزّ وجلّ : وَلا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 28–29

3 ؎ یعنی ان کی حسرت وہاں بھی ایمان کی رغبت سے نہ ہوگی بلکہ برے کاموں کا نتیجہ دیکھ کر ڈریں گے اور اس سے بچنے کے لیے یہ آرزو کریں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہے : وَقَالُوْٓااِنْ ھِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ (الانعام : 29) (کہتے ہیں کہ زندگی تو بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور مرنے کے بعد ‘ ہم اٹھائے نہیں جائیں گے) آخرت کا انکار ہی اصل میں ہمیشہ سے انسانی بگاڑ کی بنیادی وجہ رہی ہے یعنی اہل مکہ اور باقی انسانوں کے بگاڑ کے نتیجے میں ان کے ہولناک انجام کی وجہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں۔ یہ شب و روز کا سلسلہ جو چل رہا ہے موت اس کا اختتام ہے اور زندگی کی اس شام کے بعد کسی اور صبح کے طلوع ہونے کا تصور بھی محال ہے اور اگر کچھ لوگ اس کو کسی حد تک مانتے بھی تھے تو یقین انھیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–29

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ دنیا میں قرآن مجید کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ ہمارے کانوں کے لیے بوجھ ہے وہ جہنم کے کنارے کھڑے ہو کر آیات ربانی کی حقیقت کا اعتراف اور دنیا میں حق کی شہادت نہ دینے کے جرم کا اعتراف کریں گے۔ “ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال پر محیط ہوگا اور اس میں مختلف مراحل ہوں گے۔ جو ہزاروں سال پر مشتمل ہوں گے۔ قیامت کا ہر مرحلہ مجرموں کے لیے سخت سے سخت تر ہوگا۔ پہلے مرحلہ پر مجرم شرک اور اپنے جرائم کا انکار کریں گے اس کے بعد ان کی زبانوں پر مہر ثبت کردی جائے گی تو ان کے اعضاء بول بول کر ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ اس کے ساتھ ہی جہنم کو ستر ہزار فرشتے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 29 : وَقَالُوا اس کا عطف لعادوا پر ہے یعنی اگر ان کو دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے تو ضرور کفر اختیار کریں گے اور کہیں گے۔ اِنْ ہِیَ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَاجیسا کہ وہ قیامت کا معائنہ کرنے سے پہلے کیا کرتے تھے۔ (یا اس کا عطف وانہم لکاذبون پر ہے یعنی یہ ہر چیز میں وہ جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو یہ کہا کرتے ہیں کہ ان ہی الاحیاتنا الدنیا کہ صرف ہماری یہی دنیا کی زندگی ہے۔ اور ہی یہ حیاۃ سے کنایہ ہے یا یہ ضمیر قصہ ہے : وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 27–30

آیت نمبر 30, 29, 28, 27 تفسیر : (ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار) کہا گیا ہے کہ آگ پر پیش کیے جائیں گے اور ’ د لو “ کا جواب محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں گے ( فقالوا لیتا نرد) دنیا کی طرف لولا لکذب بایت ربما ونکون من المومنین) (بل بدالھم) یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو وہاں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لیے (ما کانوا یحفون من قبل) دنیا میں اپنا کفر اور گناہ ( ولو ردرا) دنیا میں ان کے کفر اور معصیت کی طرف اور ماکانو یحفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے مگر ان صفا تکو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–30

(27 ۔ 30) ۔ اوپر سے جن منکر حشر مشرک لوگوں کا ذکر چلا آتا ہے ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں لیکن جب دوزخ میں ڈالنے کے لئے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر کر دوزخ کے کنارہ پر لے جاویں گے اور دوزخ کی آگ ان کو نظر آوے گی اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے کئے پر کس قدر پچھتاویں گے اور پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور ایماندار بن کر دنیا سے اٹھنے کی کیسے آرزو کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ آرزو ان کی کچھ دل سے نہ ہوگی بلکہ دوزخ کی آگ سے بدحواس ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 29 اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مشرکین کے حال اور جہنم کے سامنے ان کو کھڑے کئے جانے کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (ولو تری اذ وقفوا علی النار) ” اگر آپ دیکھیں جس وقت کھڑے کئے جائیں گے وہ دوزخ پر “ تاکہ ان کو زجر و توبیخ کی جائے۔۔۔ تو آپ بہت ہولناک معاملہ اور ان کا بہت برا حال دیکھتے نیز آپ یہ دیکھتے کہ یہ لوگ اپنے کفر و فسق کا اقرار کرتے ہیں اور تمنا کرتے ہیں کہ کاش ان کو دنیا میں پھر واپس بھیجا جائے (فقالوا یلیتنا نرد ولا نکذب بایت ربنا ونکون من المومنین) ” پس وہ کہیں گے، اے کاش ! ہم پھر بھیج دیئے جائیں اور ہم نہ جھٹلائیں اپنے رب کی آیتوں کو اور ہوجائیں ہم ایمان والوں میں سے۔ “ (بل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

40 منکرین و مشرکین پرلے درجے کے جھوٹے ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر بالفرض ان کو واپس دنیا میں بھیج دیا جائے تو بھی انہوں نے وہی کچھ کرنا ہے جو اس سے پہلے کرتے رہے تھے اور جس سے ان کو روکا اور منع کیا گیا تھا اور یہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں کہ زندگی بھر کفر و تکذیب اور بدی و بدتمیزی اور شر انگیزی و فتنہ سامانی کی خباثت و نجاست ان لوگوں کے رگ وریشہ میں سرایت کرچکی ہے۔ اور یہاں آ کر انہوں نے پھر وہی کچھ کرنا ہے جو یہ پہلے کرتے رہے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو لوگوں کو خیر کی راہ پر ڈالنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق حق و ہدایت کو اپنانے کا عادی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–30

مشرکین کا انجام تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30: اسرار و معارف : اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی کوئی آخرت کا ثواب و عقاب نہیں ہے یہ محض لوگوں کو الو بنانے کے لیے ایک ڈھکو سلا ہے اس زندگی کے جو چند دن ملے ہیں ان میں خوب مزے اڑالو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:29) ان نافیہ ہے۔ مبعوثین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ اٹھائے جانے والے۔ دوبارہ زندہ کئے جانے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 : وقفوا (وہ کھڑے کئے گئے) ‘ یلتنا (اے کاش کہ ہم) ‘ نرد (ہم واپس کئے جائیں گے) ‘ بدا (ظاہر ہوگیا ) ‘ یخفون (وہ چھپاتے ہیں) عادوا (وہ پلٹ گئے) نھوا (وہ منع کئے گئے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) مبعوثین (بھیجے گئے۔ اٹھائے گئے) ‘ بلی ( جی ہوں۔ کیوں نہیں) ‘ ذوقوا (چکھو) ۔ تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 : جھوٹ کس طرح ناقابل اصلاح حد تک دل کو سیاہ کردیتا ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال ان آیات میں دی گئی ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین جن کی فطرت ہر دم جھوٹ بولنے پر پختہ ہوچکی ہے۔ جب قیامت میں دوزخ کی آگ کے سامنے جھونکے جانے کو کھڑے کئے جائیں گے تو چلا چلا کر یہ وعدہ کریں گے کہ اگر ہم پھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–30

ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں، لیکن دوزخ کے کنارے پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھرو یہ ٹھرنے کا حکم سن کر کافروں کو توقع ہوگی کہ شاید ان کو دنیا میں پھر بھیجا جاوے۔ اور اگر اب کے ہمیں دنیا میں پھر بھیجا گیا تو ہم اس مرتبہ یقینا کفر نہ کریں گے بلکہ ایمان لاویں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس واسطے ان کو نہ ٹھرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے من سے اقرار کرا لیا کہ بیشک ہم نے کفر کیا تھا۔ حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے اور بول اٹھے تھے کہ ہم تو شرک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–35

[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

(ف 1) یہ قول ان میں سے ان لوگوں کا ہے جن پر یاس ومادیت کا غلبہ ہے یعنی وہ صرف اس زندگی پر قانع ہیں ، آخرت پر ایمان ہے اور نہ بھروسہ ۔ یا حکایت حال مقصود ہے غرض یہ ہے کہ ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت پر بالکل ایمان نہیں رکھتے ، یعنی ہر قسم کی نافرمانی اور معصیت کو جائز قرار دیتے ہیں ہتک محادم میں بےباق ہیں ، مظالم ڈھانے میں پیش پیش ہیں ، خیانت عذر ، اور دھوکا ان کے نزدیک بلا تامل درست ہے ، ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگا جب دنیا ان کو چھوڑ دے گی اور رب قدیر کے سامنے یہ جواب دہ ہوں گے ، حل لغات : یخفون : مادہ اخفا ، چھپانا ، پوشیدہ رکھنا ۔ رد : پھیرنا ، واپس کرنا ، وقف : ڈھیل دینا ، کھڑا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-29 اور یہ منکر اسلام یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے علاوہ اور کوئی زندگی نہیں ہے اور ہماری زندگی صرف یہی دنیا کی زندگانی ہے اور اس کے بعد ہم دوبارہ نہیں اٹھائیں جائیں گے اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–30

ف 6۔ مراد اس چیز سے عذاب ہے جس کی وعید کفر و تکذیب پر ان کو کی جاتی تھی اور دبانے سے مراد انکار ہے۔ 7۔ اوپر توحید و رسالت و قرآن کے انکار پر سزاوں کا بیان تھا آگے انکار بعث اور اس کی سزا کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آج ہاتھ جوڑنے والے کل تک تو اس دن کو تسلیم نہیں کرتے تھے : 44: قوم کے سرداروں کا حافظہ بڑا کمزور ہوتا ہے اگر یہ بات درست نہیں تو پھر وہ پر لے درجے کے ڈھیٹ ہوتے ہیں اور ان کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے منہ پر ان کو کوئی ڈھیٹ نہیں کہے گا اور پیٹھ پیچھے جو ہو سو ہوتا رہے اور دراصل یہی ان کے ڈھیٹ ہونے کی نشانی ہے ۔ انبیائے کرام کی زندگیوں کا مطالعہ کرو تم دیکھو گے ہر پیغمبر کی مخالفت کے لئے اٹھنے والے اصل لوگ وہ تھے جنہیں قوم کی سرداری حاصل تھی ۔ ان سب کی مشترک گمراہی یہ تھی کہ وہ آخرت کے منکر تھے اس لئے خدا کے سامنے کسی ذمہ داری اور جواب دہی کا انہیں اندیشہ نہ تھا اور اسی لئے وہ دنیا کی اس زندگی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

As for the statement in the third verse (29): وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا (And they say, "There is nothing real but this worldly life of ours" ), it reverts back to the word, عَادُوا (` adu: would again go for) in verse 28. Thus, it means that should they be returned to the world, then, once they reach there, they will still say that they do not accept any life other than the life of this world. Life here is the life and they were not going to be raised again. A question arises here: When they have seen their return to life on the day of Qiyamah - and reckoning and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

19. At that moment such a statement on their part would not be indicative of either any true change of heart or of any genuinely revised judgement based on serious reflection and reasoning. It would rather be the result of direct observation of reality at a time when even the staunchest unbeliever would find it impossible to deny it.

Read the full tafseer →