Al-An'aam 6:30

Al-An'aam · from ayah 30

6:30

وَلَوْ تَرٰۤی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّهِمْ ؕ— قَالَ اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّ ؕ— قَالُوْا بَلٰی وَرَبِّنَا ؕ— قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ۟۠وَلَوۡ تَرٰٓى اِذۡ وُقِفُوۡا عَلٰى رَبِّهِمۡ‌ ؕ قَالَ اَلَـيۡسَ هٰذَا بِالۡحَـقِّ‌ ؕ قَالُوۡا بَلٰى وَرَبِّنَا‌ ؕ قَالَ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

— Fateh Muhammad Jalandhari

If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say, "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will [then] say, "So taste the punishment because you used to disbelieve."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 3 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:30

کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا "کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟" یہ کہیں گے "ہاں اے ہمارے رب! یہ حقیقت ہی ہے" وہ فرمائے گا "اچھا! تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کاش تم (ان کو اس وقت) دیکھو جب یہ اپنے پروردگار کےسامنے کھڑے کئے جائیں گے اور وہ فرمائےگا کیا یہ (دوبارہ زندہ ہونا) برحق نہیں تو کہیں گے کیوں نہیں پروردگار کی قسم (بالکل برحق ہے) خدا فرمائے گا اب کفر کے بدلے (جو دنیا میں کرتے تھے) عذاب (کے مزے) چکھو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر آپ اس وقت دیکھیں جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اللہ فرمائے گا کہ کیا یہ امر واقعی نہیں ہے؟ وه کہیں گے بےشک قسم اپنے رب کی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو اب اپنے کفر کے عوض عذاب چکھو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر تم وہ وقت دیکھو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ وہ کہے گا : کیا یہ (دوسری زندگی) حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے : بیشک ہمارے رب کی قسم ! اللہ کہے گا : تو پھر چکھو عذاب کا مزہ، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کبھی تم دیکھو جب اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، فرمائے گا کیا یہ حق نہیں کہیں گے کیوں نہیں، ہمیں اپنے رب کی قسم، فرمائے گا تو اب عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر آپ (انہیں اس وقت) دیکھیں جب وہ اپنے رب کے حضور کھڑے کئے جائیں گے، (اور انہیں) اﷲ فرمائے گا: کیا یہ (زندگی) حق نہیں ہے؟ (تو) کہیں گے: کیوں نہیں! ہمارے رب کی قسم (یہ حق ہے، پھر) اﷲ فرمائے گا: پس (اب) تم عذاب کا مزہ چکھو اس وجہ سے کہ تم کفر کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کاش ! تو دیکھے جب وہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے، وہ فرمائے گا کیا یہ حق نہیں ؟ کہیں گے کیوں نہیں ! ہمارے رب کی قسم ! فرمائے گا پھر چکھو عذاب اس کے بدلے جو تم کفر کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کاش ! آپ وہ وقت بھی دیکھیں جب انہیں اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : بتاؤ کیا یہ دن حقیقت نہیں ؟ وہ کہیں گے : کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اچھا پھر تم جو اس کا انکار کرتے تھے تو اب عذاب کا مزا چکھو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے، وہ ان سے پوچھے گا، کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے ؟ وہ جواب دیں گے، ہاں، ہمارے رب کی قسم، یہ امر واقعہ ہے ! فرمائے گا پس چکھو اپنے کفر کی پاداش میں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اگر تم دیکھ سکو (حال اس وقت کا) جب کہ ان لوگوں کو کھڑا کردیا گیا ہوگا ان کے رب کے حضور (تو تم بڑا ہی عجیب اور عبرتناک منظر دیکھو) وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو یہ کہیں گے ہاں کیوں نہیں، قسم ہے ہمارے رب کی تب وہ فرمائے گا کہ اچھا تو اب چکھو تم لوگ مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر (وانکار) کے بدلے میں جو تم زندگی بھر) کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر آپ اس وقت دیکھتے ہوں جب یہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اور وہ ان سے ارشاد کرے گا کیا یہ (قیامت) ۔ امر واقعی نہیں ؟ یہ کہیں گے بیشک ہے قسم ہے ہمیں اپنے پروردگار کی وہ ارشاد کرے گا اچھا تو عذاب (کامزہ) چکھو اس کفر کے بدلہ میں جو تم کیا کرتے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور کاش کہ تم دیکھ سکتے جبکہ یہ کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔ (اس وقت) وہ پوچھے گا کیا یہ حق نہیں ہے ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں ہمارے رب کی قسم (کہ یہ حق ہے) ! تو وہ کہے گا کہ اب مزا چکھو عذاب کا اپنے کفر کی پاداش میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کاش ! وہ منظر آپ دیکھ سکو جب یہ لوگ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے اس و قت ان کا رب ان سے پوچھے گا کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ یہ کہیں گے ہاں ہمارے رب ! یہ حقیقت ہی ہے۔ وہ فرمائے گا اچھا ! تو اب اپنے انکارِ حق کی سزا کا مزا چکھو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say: 'Is not this the truth?' They will say: 'Yes indeed, by our Lord.'Whereupon He will say: 'Taste the chastisement, then, for your denying the Truth.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

If only you could see when they will be made to stand before their Lord! He will say, :Is this not true? They will say, :Of course, by our Lord, it is. He will say, :Then, taste the punishment, for you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani

If only you could see when they will be made to stand before their Lord! He will say, :Is this not true? They will say, :Of course, by our Lord, it is. He will say, :Then, taste the punishment, for you used to disbelieve.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

If you could but see when they will stand before their Lord! He will say: "Is not this the truth" They will say: "Yes, by our Lord!" He will then say: "So taste you the torment because you used not to believe."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

If thou couldst see when they are set before their Lord! He will say: Is not this real? They will say: Yea, verily, by our Lord! He will say: Taste now the retribution for that ye used to disbelieve.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

If you could but see when they will be made to stand before their Lord. He will say, "Is this not the truth?" They will say, "Yes, by our Lord." He will [then] say, "So taste the punishment because you used to disbelieve."

— Saheeh International

Would that you could see them standing before their Lord who would ask them, "Is not the Resurrection true?" They would reply, "Yes, Lord, there is a Resurrection." The Lord would then say, "For your disbelief, suffer the torment."

— Muhammad Sarwar

And could you see when they are made to stand before their Lord. He will say: Is not this the truth? They will say: Yea! by our Lord. He will say: Taste then the chastisement because you disbelieved.

— Muhammad Habib Shakir

And couldst thou see what time they shall be held before their Lord? He will say: is this not real? They will say: aye! by our Lord! He will say: taste then the torment for ye have been disbelieving.

— Abdul Majid Daryabadi

If thou couldst but see when they are confronted with their Lord! He will say: "Is not this the truth?" They will say: "Yea, by our Lord!" He will say: "Taste ye then the penalty, because ye rejected Faith."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 27–30

کفار کا واویلا مگر سب بےسود کفار کا حال اور ان کا برا انجام بیان ہو رہا ہے کہ جب یہ جہنم کو وہاں کے طرح طرح کے عذابوں وہاں کی بدترین سزاؤں طوق و زنجیر کو دیکھ لیں گے اس وقت ہائے وائے مچائیں گے اور تمنا کریں گے کہ کیا اچھا ہو کہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تاکہ وہاں جا کر نیکیاں کریں اللہ کی باتوں کو نہ جھٹلائیں اور پکے سچے موحد بن جائیں، حقیقت یہ ہے کہ جس کفر و تکذیب کو اور سختی و بےایمانی کو یہ چھپا رہے تھے وہ ان کے سامنے کھل گئی، جیسے اس سے اوپر کی آیتوں میں گزرا کہ اپنے کفر کا تھوڑی دیر پہلے انکار تھا اب یہ تمنا گویا اس انکار کے بعد کا اقرار ہے اور اپنے جھوٹ کا خود اعتراف ہے اور یہ بھی ہوسکتا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–31

سورة الْاَنْعَام 19 یعنی ان کا یہ قول درحقیقت عقل و فکر کے کسی صحیح فیصلے اور کسی حقیقی تبدیلی رائے کا نتیجہ نہ ہوگا بلکہ محض مشاہدہ حق کا نتیجہ ہوگا جس کے بعد ظاہر ہے کہ کوئی کٹے سے کٹا کافر بھی انکار کی جرأت نہیں کرسکتا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 29–30

تیسری آیت میں جو یہ ارشاد فرمایا وَقَالُوْٓا اِنْ هِىَ اِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِيْنَ ، اس کا عطف عادوا پر ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کو دوبارہ بھی دنیا میں لوٹا دیا جائے تو پھر دنیا میں پہنچ کر یہی کہیں گے کہ ہم تو اس دنیا کی زندگی کے سوا کسی دوسری زندگی کو نہیں مانتے بس یہیں کی زندگی زندگی ہے، دوبارہ ہم کو زندہ نہیں کیا جائے گا۔ یہاں ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ جب قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کو اور پھر حساب کتاب و جزاء و سزاء کو آنکھوں سے دیکھ چکیں گے تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ پھر یہاں آکر اس کا انکار کردیں۔ جواب یہ ہے کہ انکار کرنے کے لئے یہ لازم نہیں ہے کہ واقع…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–32

29 تا 32: ان آیات میں کوئی ادبی یا نحوی اشکال نہیں ہے۔ مکذبین قرآن کے بعد اب یہ مکذبین قیامت کا انجام بیان کیا جا رہا ہے جو اس دنیا کی زندگی ہی کو زندگی سمجھتے تھے اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کے یا تو قائل ہی نہ تھے یا اس کو بہت ہی بعید از قیاس و امکان چیز سمجھتے تھے۔ فرمایا کہ اگر تم اس وقت کو دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ ایک دن یہ سب اپنے رب کے حضور لا کھڑے کیے جائیں گے اور ان سے سوال ہوگا کہ کیوں یہ دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اور قیامت کا آنا ایک امر واقعہ ثابت ہوا یا نہیں ؟ اس وقت وہ کہیں گے ہاں ہمارے رب کی قسم ! یہ تو ایک امر واقعہ ہے۔ حکم ہوگا کہ پھر اب اس دن کے انکار کی پاداش میں چکھو مزا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30۔ 1 یعنی آنکھوں سے مشاہدہ کرلینے کے بعد تو وہ اعتراف کرلیں گے کہ آخرت کی زندگی واقعی برحق ہے۔ لیکن وہاں اس اعتراف کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ اب تو اپنے کفر کے بدلے عذاب کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–31

7: شروع میں تو وہ بوکھلاہٹ کے عالم میں جھوٹ بول جائیں گے، لیکن پھر قرآن کریم ہی نے سورة یس (65:36) اور سورة حم السجدہ (21:41) میں بیان فرمایا ہے کہ خود ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے، اور ان کا سارا جھوٹ کھل جائے گا۔ اس موقع کے لیے سورة نساء (42:4) میں پیچھے گذرا ہے کہ وہ کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے۔ اور آگے اسی سورت کی آیت نمبر 130 میں آرہا ہے کہ وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وَلَوْ تَرَی إِذْ وُقِفُواْ عَلَی رَبِّہِمْ قَالَ أَلَیْْسَ ہَذَا بِالْحَقِّ قَالُواْ بَلَی وَرَبِّنَا قَالَ فَذُوقُواْ العَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْفُرُونَ (30) ۔ ” کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رب کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے ۔ اس وقت ان کا رب ان سے پوچھے گا ” کیا یہ حقیقت نہیں ہے ؟ “ یہ کہیں گے ” ہاں اے ہمارے رب ‘ یہ حقیقت ہی ہے ۔ “ وہ فرمائے گا ” اچھا تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ۔ “ یہ ہے ان لوگوں کا انجام جو کہتے تھے : ۔ ” جو کچھ ہے بس ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ۔ “ یہ ایک نہایت ہی برا ‘ توہین آمیز اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی جب حقیقت آنکھوں کے سامنے آجائے گی اور " بعث بعد الموت " وغیرہ کے اقرار سے چارہ نہ رہے گا، تب کہا جائے گا کہ انکار حقیقت اور " کفر با المعاد " کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 29–30

آیت 29 وَ قَالُوْٓا اِنْ ہِیَ الاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا وَمَا نَحْنُ بِمَبْعُوْثِیْنَ ۔ جیسے آج کل کفر و الحاد کے مختلف shades ہیں ‘ اس زمانے میں بھی ایسا ہی تھا۔ آج ایسے لوگ بھی دنیا میں موجود ہیں جو اللہ کو تو مانتے ہیں ‘ آخرت کو نہیں مانتے۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ اور آخرت کو مانتے ہیں ‘ لیکن رسالت کو نہیں مانتے ہیں۔ کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو بالکل ملحد اور مادہ پرست ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ہم خود ہی پیدا ہوتے ہیں اور خود ہی اپنی طبعی موت مرجاتے ہیں ‘ اور ہماری زندگی صرف یہی ہے ‘ مرنے کے بعد اٹھنے والا کوئی معاملہ نہیں۔ اسی طرح اس دور میں بھی کفر و شرک کے مختلف shades موجود تھے۔ قریش کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 یعنی جب انہیں دنیا میں کیے ہوئے اعمال کی باز پرس اور حساب کتاب کے لیے اللہ کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور سب حقائق ان کی آنکھوں کے سامنے آجائیں گے تو پھر انکار کی مجال ہی نہ رہے گی۔ اس وقت وہ حسرت و یاس کے عالم میں کہیں گے کہ ہم دنیا میں کیسے غلط انداز سے سوچتے رہے اور آج کے دن کے لیے کچھ بھی نہ کرسکے۔ اس دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے پوچھیں گے کہ بتاؤ اب بھی تمہیں اس آخرت کے بارے میں کچھ شک و شبہ باقی رہ گیا ہے ؟ کیا یہ جزا و سزا کا عمل ایک ٹھوس حقیقت بن کر تمہارے سامنے نہیں آگیا ؟ وہ کہیں گے ہمارے پروردگار ! اب ہمیں کیا شک ہوسکتا ہے جبکہ ہم یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45 ۔ (تو آپ کو ایک بڑا عجب منظر نظر آئے) عربی اسلوب بیان میں ایسے موقع پر لو کا جواب محذوف کرنے سے اس کی عظمت واہمیت کا اظہار مقصود ہوتا ہے۔ و جواب لو محذوف لعظم شان الوقوف (قرطبی) (آیت) ” علی ربھم “۔ علی یہاں عند کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اور رب سے مراد ملائکہ رب سے لی گئی ہے۔ حکم الہی بھی مراد لی گئی ہے۔ قیل علی بمعنی عند ای ملائکتہ وجزاۂ (قرطبی) بمعنی علی حکم اللہ وقضاۂ (ابن جریر) (آیت) ” وقفوا علی ربھم “۔ سے بعض اہل باطل نے حق تعالیٰ کی تجسیم پر استدلال کرنا چاہا ہے۔ 46 ۔ (یا اب بھی اس کی واقعیت سے انکار ہے جیسا کہ دنیا میں تھا ؟ ) 47 ۔ (آیت) ” بما کنتم تکفرون “۔ یہ عذاب کفر کے بدلہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 26–30

شان نزول : وھم یِنْھَوْنَ عنہُ الخ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے کہ خواجہ ابو طالب یوں تو آپ ﷺ کی ہمہ وقت حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آپ کو ایذاء نہ پہنچائے، مگر آنحضرت ﷺ جب خوابہ ابو طالب کو کوئی ہدایت کی بات کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قمیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے اسلئے یہ روایت معتبر ہے، صحیح بخاری میں ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ ایک روز آپ ﷺ کے روبرو خوابہ ابو طالب کا ذکر آیا آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولو تری اذ وقفوا علی ربہم اور اگر (اے محمد ﷺ آپ دیکھیں اس حالت کو جب ان کو ان کے مالک کے سامنے۔ سوال اور سرزنش کے لئے روکا جائے گا (تو آپ کے سامنے عجیب منظر آئے گا) رب کے سامنے کھڑے کئے جانے سے مراد مجازی معنی ہے یعنی سوال اور سرزنش کے لئے روکا جائے گا۔ علی ربہمکا معنی فیصلۂ رب اور جزاء رب بھی کہا گیا ہے یا یہ مطلب ہے کہ اس وقت کامل طور پر وہ خدا کو پہچان لیں گے۔ قال وہ یعنی اللہ کہے گا یا باجازت الٰہی دوزخ کے کارندے کہیں گے گویا ایک محذوف سوال کا یہ جواب ہے کلام مذکورسن کر کوئی شخص پوچھ سکتا تھا کہ مذکورہ بالا کلام کا ان کو جواب کیا ملے گا تو جواب دیا گیا اللہ فرمائے گا۔ الیس ہذا بالحق کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) اور محمد ﷺ اگر آپ ان کو اس وقت دیکھیں، جب کہ وہ اپنے رب کے سامنے حاضر کیے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ یا فرشتے ان سے کہیں گے کیا یہ عذاب اور مرنے کے بعد زندہ ہونا حق نہیں ہے یہ کہیں گے بیشک جیسا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا یہ یقینی اور حق ہے تو اب موت کے بعد دوبارہ اٹھنے کے انکار کے مزہ میں اللہ کے عذاب کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا۔۔ : پچھلی آیت میں کفار کا وہ قول بیان کیا ہے جو وہ دنیا میں کہا کرتے تھے اور اب آخرت میں ان کی حالت کا ذکر ہے۔ ۭقَالَ اَلَيْسَ هٰذَا بالْحَقِّ ۭ۔۔ : کاش ! آپ وہ منظر دیکھیں جب انھیں آگ کے سامنے کھڑا کر کے ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا یہ (آخرت اور جزا و سزا) حق نہیں ہے۔ اب وہ اپنا قول بالکل ہی بدل لیں گے اور قسم کھا کر قیامت کے دن کے حق ہونے کا اقرار کریں گے، مگر اس وقت کا اقرار انھیں کچھ فائدہ نہیں دے گا، بلکہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ پھر اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو۔ قرآن مجید میں قیامت کے دن ان کی اس خواہش کا اور اسے ٹھکرا دیے جانے کا کئی جگہ ذکر ہے۔ دیکھیے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 30 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولو تری اذ وقفوا علی ربھم، وقفوا کا معنی ہے روکے جائیں گے علی ربھم جو ان کے بارے میں اللہ کا حکم ہوگا اس پر۔ بعض علماء نے فرمایا : علی بمعنی عند ہے یعنی ملائکہ کے پاس اور جزا کے پاس اور جہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی بادشاہی نہ ہوگی۔ تو کہتا ہے : وقفت علی فلان یعنی عندہ میں فلاں کے پاس ٹھہرا۔ لو کا جواب وقوف کی۔۔ کی بڑائی کے لیے حذف کیا گیا ہے۔ آیت : قال الیس ھذا بالحقیہ تقریر اور تو بیخ ہے یعنی کیا یہ دوبارہ اٹھنا حق نہیں ؟ قالوا بلی وہ کہیں گے کیوں نہیں ؟ اپنے اعتراض کو قسم کے ساتھ مؤکد کریں گے۔ بعض علماء نے فرمایا : ملائکہ انہیں اللہ کے حکم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 30–31

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حسرت سے ندامت مراد ہے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور خطیب نے سند صحیح کے ساتھ ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ آیت یحسرتنا کے بارے میں فرمایا کہ وہ حسرۃ جس کو دوزخ والے اپنی جنت کی منزلوں کو جنت میں دیکھیں گے (اور حسرت کریں گے) تو یہ حسرت ہوگی۔ قبر میں خوفناک شکل ظاہر ہونا (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت یحسرتنا یعنی ہمارے ندامت لفظ آیت علی ما فرطنا فیھا یعنی ہم نے جنت کی عمر کو ضائع کردیالفظ آیت وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم یعنی کوئی ظالم آدمی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْتَرٰٓي [ اور اگر تو دیکھے ] اِذْ وُقِفُوْا [ جب وہ ٹھہرائے جائیں گے ] عَلٰي رَبِّهِمْ ۭ [ ان کے رب کے سامنے ] قَالَ [ وہ (یعنی رب ) کہے گا ] اَلَيْسَ هٰذَا [ کیا یہ نہیں ہے ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق ] قَالُوْا [ وہ لوگ کہیں گے ] بَلٰى [ کیوں نہیں ] وَرَبِّنَا ۭ [ ہمارے رب کی قسم ہے ] قَالَ [ وہ کہے گا ] فَذُوْقُوا [ تو تم لوگ چکھو ] الْعَذَابَ [ عذاب کو ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ [ تم لوگ کفر کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ لَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بالْحَقِّ قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا) (اگر آپ اس منظر کو دیکھیں جبکہ وہ قیامت کے دن اپنے رب کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے اور اس وقت اللہ جل شانہٗ وعم نوالہ کا سوال ہوگا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ اس پر وہ جواب میں کہیں گے ہاں ! ہمارے رب کی قسم یہ حق ہے) لیکن اس وقت کی تصدیق کچھ کام نہ دے گی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ) کہ اپنے کفر کی وجہ سے عذاب چکھ لو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 22–32

بیان انجام وحال مجادلین ومعاندین۔ قال اللہ تعالی، ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔۔ الی۔۔۔ افلاتعقلون۔ ربط) ۔ گذشتہ آیت میں مشرکین کانہ فلاح مذکور تھا اب ان آیات میں مشرکین مکہ کے جدال اور عناد کا کچھ حال بیان کرتے ہیں یہ بتلاتے ہیں کہ قیامت کے دن ان ظالموں کو اپنی امیدوں کے خلاف ایسی درد انگیز حسرتیں دیکھنی پڑیں گی جو بیان سے باہر ہیں چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس دن کو کہ جب ہم سب عابدوں اور معبودوں کو میدان حشر میں جمع کریں گے اور پھر مشرکین سے بطور توبیخ وسرزنش یہ کہیں گے کہ تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم یہ دعوی کرتے تھے کہ وہ خدا کے شریک ہیں جن کو تم اپنا مددگار اور کارساز سمجھتے تھے آج…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

34 یہ جواب شکوہ ہے مع تخویف اخروی۔ قیامت کے دن جب مشرکین خدا کے سامنے کھڑے ہوں گے اس وقت فرشتے بطور تبکیت ان سے سوال کریں گے کہ کیا یہ قیامت اور عذاب برھق نہیں ؟ قَالُوْا بلی الخ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں خدا کی قسم یہ سب کچھ برحق ہے۔ پھر انہیں عذاب میں مبتلا کردیا جائیگا اور ان سے کہا جائیگا کہ اپنے کفر و شرک کی وجہ سے آج عذاب چکھو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 27–30

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی اور قیامت میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کیا ‘ یعنی جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ فرمایا اس موقع پر شرک کا انکار کردیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت بیان فرمائی ‘ اللہ نے ان کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی کہ جب خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا انکار یہ کہہ کردیتے ہیں کہ یہ تو پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ لوگ خود بھی قرآن پاک اور پیغمبر اسلام سے دور رہتے ہیں ‘ اور دوسروں کو بھی قریب…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلٰي رَبِّہِمْ۝ 0ۭ قَالَ اَلَيْسَ ہٰذَا بِالْحَقِّ۝ 0ۭ قَالُوْا بَلٰى وَرَبِّنَا۝ 0ۭ قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ۝ 30ۧ هذا ( ذَاكَ ذلك) وأما ( ذا) في (هذا) فإشارة إلى شيء محسوس، أو معقول، ويقال في المؤنّث : ذه وذي وتا، فيقال : هذه وهذي، وهاتا، ولا تثنّى منهنّ إلّا هاتا، فيقال : هاتان . قال تعالی: أَرَأَيْتَكَ هذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ [ الإسراء/ 62] ، هذا ما تُوعَدُونَ [ ص/ 53] ، هذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ [ الذاریات/ 14] ، إِنْ هذانِ لَساحِرانِ [ طه/ 63] ، إلى غير ذلك هذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِها…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد خداوندی ہے۔ وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْا عَلٰی رَبِّھِمْ ط قَالَ اَلَیْسَ ھٰذَا بِالْحَقِّ ط قَالُوْا بَلٰی وَ رَبِّنَا ط قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا کُنْتُمْ تَکْفُرُوْنَ ۔ (الانعام : 30) (اور اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو ‘ جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے ‘ وہ ان سے پوچھے گا ! کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے ؟ وہ جواب دیں گے ‘ ہاں ہمارے رب کی قسم ‘ یہ امر واقعہ ہے۔ (اللہ) فرمائے گا ! پس چکھو عذاب اپنے کفر کی پاداش میں) اس آیت کے پہلے جملے کے الفاظ تو نہایت مختصر ہیں جس کا ترجمہ ہم نے یہ کیا ہے کہ ” اگر تم دیکھ پاتے اس وقت کو ‘ جب یہ اپنے رب کے حضور کھڑے کیے جائیں گے “ لیکن اگر ہم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–31

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کی اللہ کے حضور پیشی اور اس کی بارگاہ میں سوال و جواب۔ قرآن مجید بار بار انسان پر یہ حقیقت عیاں کرتا ہے کہ اسے مرنے کے بعد اپنے کیے کا جواب دینا ہے۔ جس کی ابتدا قبر کی کوٹھڑی سے ہوگی۔ جب میت کو دفنایا جاتا ہے ابھی اس کے اعزاء و اقرباء قبر پر مٹی ڈال کر رخصت ہی ہوتے ہیں کہ منکر نکیر مرنے والے سے تین سوال کرتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے ؟ تو محمد ﷺ کے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ اور تیرا دین کونسا ہے ؟ قبر سے اٹھنے کے بعد محشر کے میدان میں جب لوگ اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہوں گے تو ان سے سوال کیا جائے گا کہ کیا مرنے کے بعد اٹھ کر حشر کے میدان میں رب کی بارگاہ میں حاضر ہونا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بعثت کے منکر اقراری بن جائیں گے : آیت 30 : وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ وُقِفُوْْا عَلٰی رَبِّہِمْ یہ سوال اور تو بیخ کے لیے روکنے سے مجاز ہے جیسا کہ مجرم غلام کو آقا کے سامنے سزا کے لیے لایا جائے یا ان کو اپنے رب کی جزاء کے پاس کھڑا کیا جائے گا۔ قَالَیہ سوال مقدر کا جواب ہے گویا اس طرح فرمایا ان کا رب انہیں کیا کہے گا جبکہ ان کو اس کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا۔ تو کہا گیا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔ اَلَیْسَ ہٰذَا کیا یہ بعث نہیں ہے۔ بِالْحَقِّجو واقع میں موجود ہے اور یہ بعث کے جھٹلانے پر ان کو عار دلائی جارہی ہے۔ اور کفار کے اس قول پر عار دلائی جا رہی ہے کہ جب وہ بعث کے متعلق سن پاتے تو یہ کہتے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 27–30

آیت نمبر 30, 29, 28, 27 تفسیر : (ولو تریٰ اذ وقفوا علی النار) کہا گیا ہے کہ آگ پر پیش کیے جائیں گے اور ’ د لو “ کا جواب محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ان کو اس حالت میں دیکھیں تو بڑا عجیب منظر دیکھیں گے ( فقالوا لیتا نرد) دنیا کی طرف لولا لکذب بایت ربما ونکون من المومنین) (بل بدالھم) یعنی معاملہ ویسا نہیں جیسا یہ کہتے ہیں کہ اگر ان کو وہاں بھیج دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے بلکہ ظاہر ہوگیا ان کے لیے (ما کانوا یحفون من قبل) دنیا میں اپنا کفر اور گناہ ( ولو ردرا) دنیا میں ان کے کفر اور معصیت کی طرف اور ماکانو یحفون سے مراد ہیں رسول اللہ ﷺ کے وہ خصوصی اوصاف جو اہل کتاب جانتے تھے مگر ان صفا تکو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 27–30

(27 ۔ 30) ۔ اوپر سے جن منکر حشر مشرک لوگوں کا ذکر چلا آتا ہے ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں لیکن جب دوزخ میں ڈالنے کے لئے اللہ کے فرشتے ان کو گھیر کر دوزخ کے کنارہ پر لے جاویں گے اور دوزخ کی آگ ان کو نظر آوے گی اس وقت ان کا حال دیکھنے کے قابل ہے کہ یہ اپنے کئے پر کس قدر پچھتاویں گے اور پھر دوبارہ دنیا میں آنے اور ایماندار بن کر دنیا سے اٹھنے کی کیسے آرزو کریں گے۔ پھر فرمایا کہ یہ آرزو ان کی کچھ دل سے نہ ہوگی بلکہ دوزخ کی آگ سے بدحواس ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 30 (ولو تری) ” اور اگر آپ دیکھیں “ یعنی اگر آپ کافروں کو دیکھیں (اذ وقفوا علی ربھم) ” جبکہ انہیں ان کے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا “ تو آپ بہت بڑا معاملہ اور بہت ہولناک منظر دیکھیں گے۔ (قال) اللہ تعالیٰ ان کو زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرمائے گا : (الیس ھذا بالحق) ” کیا یہ برحق نہیں ؟ “ یعنی وہ عذاب جو تم دیکھ رہے ہو، کیا یہ سچ نہیں ؟ (قالوا بلی وربنا) ” وہ کہیں گے کیون نہیں، قسم ہے ہمارے رب کی ! “ پس وہ اقرار اور اعتراف کریں گے جبکہ یہ اعتراف انہیں کوئی فائدہ نہ دے گا (قال قذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون ) ” اللہ فرمائے گا : پس چکھو اس عذاب کا مزا جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

42 کفار و مشرکین کی تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کو ان کے رب کے حضور کھڑا کیا جائے گا اور وہ ان سے پوچھے گا کہ کیا یہ حق نہیں ہے ؟ تو یہ کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں۔ قسم ہے ہمارے رب کی تب وہ ان سے فرمائے گا کہ اب تم لوگ چکھو اور چکھتے رہو مزہ اس عذاب کا اپنے اس کفر وانکار کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے دنیا میں۔ سو ان سے کہا جائیگا کہ اب چکھو تم لوگ مزہ اس عذاب کا کہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا ہی کیا کرایا ہے جس کا بھگتان اب تم کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور چونکہ دنیاوی زندگی کی اپنی پوری فرصت کو تم لوگوں نے کفر و انکار کے اندھیروں میں گزارا، اس لئے اب تم ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 25–30

مشرکین کا انجام تشریح : ان آیات میں مشرکین اور کفار مکہ کا حال بیان کیا گیا ہے۔ آج کل کے مسلمان کا حال کافی حد تک ان سے ملتا جلتا ہے۔ وہ تو قرآن سنتے تھے آج کا مسلمان نہ قرآن پڑھتا ہے نہ غور کرتا ہے اور نہ عمل کرتا ہے۔ کچھ لوگ اب بھی ایسے ہیں جو اللہ کو دل و جان سے مانتے ہیں قرآن مجید پڑھتے ہیں، غور و فکر کرتے ہیں اور پھر عمل بھی کرتے ہیں لیکن ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اگر ہم غور کریں تو شرک صرف یہی نہیں کہ بت، آگ، چاند، سورج، ستاروں کو پوجا جائے بلکہ شرک کی بیشمار صورتیں ہیں۔ مسلمان ہوتے ہوئے کلمہ پڑھتے ہوئے بھی انسان شرک کرتا ہے اور یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب انسان صرف اس دنیا کی زندگی کو ہی سب…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–30

رکوع نمبر 3 ۔ آیات 21 تا 30: اسرار و معارف : اور یہ تو بدبختی کے اس درجہ پر پہنچ چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کردی اور اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے یا دولت حاصل کرنے کے لیے وہ کچھ لکھ دیا جو اللہ نے نہیں فرمایا تھا اور جو اللہ کا حکم تھا اسے چھپا دیا یا مٹا دیا جو شخص اپنی خواہشات کا اس قدر اسیر ہو کہ اللہ کی ذات پر جھوٹ بولنے سے نہ چوکے وہ بھلا کسی اور کو معاف کردے گا یا نبی اور رسول کے ساتھ سچ بولے گا ایسے آدمی سے اس کی امید رکھنا ہی فضول ہے کہ سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھا جائے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا وہ اللہ کے نام سے کہا جائے یعنی فتوی فروشی کہ حق پہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 تو ایک عجیب تماشا یا بڑا سانحہ دیکھے گا پہلی آیت میں ان کے انکار حشر ونشر کو بیان کیا تھا اب اس آیت میں قیامت کے دن ان کی حالت کا ذیر ہے۔ ( کبیر )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:30) الیس ھذا بالحق۔ الاشارۃ الی البعث۔ دوبارہ اٹھائے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ کیا یہ حق نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 27–30

لغات القرآن : آیت نمبر 27 تا 30 : وقفوا (وہ کھڑے کئے گئے) ‘ یلتنا (اے کاش کہ ہم) ‘ نرد (ہم واپس کئے جائیں گے) ‘ بدا (ظاہر ہوگیا ) ‘ یخفون (وہ چھپاتے ہیں) عادوا (وہ پلٹ گئے) نھوا (وہ منع کئے گئے) ‘ حیاتنا (ہماری زندگی) مبعوثین (بھیجے گئے۔ اٹھائے گئے) ‘ بلی ( جی ہوں۔ کیوں نہیں) ‘ ذوقوا (چکھو) ۔ تشریح : آیت نمبر 27 تا 30 : جھوٹ کس طرح ناقابل اصلاح حد تک دل کو سیاہ کردیتا ہے اس کی ایک بہت بڑی مثال ان آیات میں دی گئی ہے۔ کفار و مشرکین و منافقین جن کی فطرت ہر دم جھوٹ بولنے پر پختہ ہوچکی ہے۔ جب قیامت میں دوزخ کی آگ کے سامنے جھونکے جانے کو کھڑے کئے جائیں گے تو چلا چلا کر یہ وعدہ کریں گے کہ اگر ہم پھر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 27–30

ان آیتوں میں بھی انہیں لوگوں کا قیامت کے دن کا ایک حال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جتلایا ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ اب تو دنیا میں یہ لوگ سرکشی سے جنت دوزخ اور عقبیٰ کی باتوں کو جھٹلا رہے ہیں، لیکن دوزخ کے کنارے پہنچ کر حکم ہوگا کہ ٹھرو یہ ٹھرنے کا حکم سن کر کافروں کو توقع ہوگی کہ شاید ان کو دنیا میں پھر بھیجا جاوے۔ اور اگر اب کے ہمیں دنیا میں پھر بھیجا گیا تو ہم اس مرتبہ یقینا کفر نہ کریں گے بلکہ ایمان لاویں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس واسطے ان کو نہ ٹھرایا بلکہ اس تدبیر سے ان کے من سے اقرار کرا لیا کہ بیشک ہم نے کفر کیا تھا۔ حالانکہ پہلے منکر ہوئے تھے اور بول اٹھے تھے کہ ہم تو شرک نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 29–35

[14] نبی ﷺ کی بڑی خواہش تھی کہ تمام کفار اسلام لے آئیں۔ جو لوگ اسلام سے محروم رہتے ان کی محرومی آپ پر بہت شاق گزرتی۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو ارادہ و اختیار کی قوت دی گئی ہے اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ روش اختلاف باقی رہے ورنہ اللہ چاہتا تو سب کو مومن پیدا کردیتا پھر رسولوں کو بھیجنے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ لہذا ایسی روشن حقیقت سے بیخبر رہنا نادانی ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 29–30

(ف 1) یہ قول ان میں سے ان لوگوں کا ہے جن پر یاس ومادیت کا غلبہ ہے یعنی وہ صرف اس زندگی پر قانع ہیں ، آخرت پر ایمان ہے اور نہ بھروسہ ۔ یا حکایت حال مقصود ہے غرض یہ ہے کہ ان کے اعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ آخرت پر بالکل ایمان نہیں رکھتے ، یعنی ہر قسم کی نافرمانی اور معصیت کو جائز قرار دیتے ہیں ہتک محادم میں بےباق ہیں ، مظالم ڈھانے میں پیش پیش ہیں ، خیانت عذر ، اور دھوکا ان کے نزدیک بلا تامل درست ہے ، ان لوگوں کو اس وقت معلوم ہوگا جب دنیا ان کو چھوڑ دے گی اور رب قدیر کے سامنے یہ جواب دہ ہوں گے ، حل لغات : یخفون : مادہ اخفا ، چھپانا ، پوشیدہ رکھنا ۔ رد : پھیرنا ، واپس کرنا ، وقف : ڈھیل دینا ، کھڑا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-30 اور اے پیغمبر کاش آپ اس وقت کو دیکھ سکتے جب یہ دوبارہ زندہ ہونے کے منکر اپنے پروردگار کے حضور کھڑے کئے جائیں گے اور وہ ان سے پوچھے گا کیا یہ دوسری زندی اور دوبارہ زندہ ہونا حق اور امر واقعی نہیں ہے ؟ وہ منکر جواب دیں گے کیوں نہیں ہمارے پروردگار کی قسم یہ زندگی ضرور حق اور امر واقعی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا اچھا تو اب تم اس کفر کے باعث جو تم کیا کرتے تھے اس کی پاداش میں عذاب کا مزہ چکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 28–30

ف 6۔ مراد اس چیز سے عذاب ہے جس کی وعید کفر و تکذیب پر ان کو کی جاتی تھی اور دبانے سے مراد انکار ہے۔ 7۔ اوپر توحید و رسالت و قرآن کے انکار پر سزاوں کا بیان تھا آگے انکار بعث اور اس کی سزا کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان کی حالت دیدنی ہوگی جب وہ اس دن رب جبار کے سامنے کھڑے ہوں گے : 45: قرآن کریم کے بیان کردہ بنیادی اصول تین ہیں توحید ، رسالت اور آخرت میں دوبارہ زندہ ہونے کا یقین ۔ باقی سارے عقائد انہی بنیادی اصولوں کے گرد گھومتے ہیں۔ اس دنیا کے باسیوں کو سب سے زیادہ تعجب اس تیسرے اصول پر ہوتا ہے کہ یہ دوبارہ جی اٹھنا کیا ہے ؟ ان کو کم ہی یقین آتا ہے کہ یہ بات صحیح ہے ۔ جو لوگ زبان سے اس کے اقراری ہیں وہ بھی صرف زبان کے اقرار تک ہی اس کو سمجھتے ہیں اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ الاماشاء اللہ۔ اور یہی تیسرا اصول وہ ہے جو انسان کو اس کی اپنی حقیقت اور مقصد زندگی سے روشناس کر کے اس کی زندگی میں انقلاب پیدا کرتا ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 29–30

As for the statement in the third verse (29): وَقَالُوا إِنْ هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا (And they say, "There is nothing real but this worldly life of ours" ), it reverts back to the word, عَادُوا (` adu: would again go for) in verse 28. Thus, it means that should they be returned to the world, then, once they reach there, they will still say that they do not accept any life other than the life of this world. Life here is the life and they were not going to be raised again. A question arises here: When they have seen their return to life on the day of Qiyamah - and reckoning and…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–31

19. At that moment such a statement on their part would not be indicative of either any true change of heart or of any genuinely revised judgement based on serious reflection and reasoning. It would rather be the result of direct observation of reality at a time when even the staunchest unbeliever would find it impossible to deny it.

Read the full tafseer →