Al-An'aam 6:84

Al-An'aam · from ayah 84

6:84

وَوَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ ؕ— كُلًّا هَدَیْنَا ۚ— وَنُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَهٰرُوْنَ ؕ— وَكَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۟ۙوَوَهَبۡنَا لَهٗۤ اِسۡحٰقَ وَيَعۡقُوۡبَ‌ؕ كُلًّا هَدَيۡنَا ‌ۚ وَنُوۡحًا هَدَيۡنَا مِنۡ قَبۡلُ‌ وَمِنۡ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيۡمٰنَ وَاَيُّوۡبَ وَيُوۡسُفَ وَمُوۡسٰى وَ هٰرُوۡنَ‌ؕ وَكَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡمُحۡسِنِيۡنَۙ

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We gave to Abraham, Isaac and Jacob - all [of them] We guided. And Noah, We guided before; and among his descendants, David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the doers of good.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 10 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:84

پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی (وہی راہ راست جو) اس سے پہلے نوحؑ کو دکھائی تھی اور اُسی کی نسل سے ہم نے داؤدؑ، سلیمانؑ، ایوبؑ، یوسفؑ، موسیٰؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی) اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ان کو اسحاق دیا اور یعقوب ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی اور پہلے زمانہ میں ہم نے نوح کو ہدایت کی اور ان کی اوﻻد میں سے داؤد کو اور سلیمان کو اور ایوب کو اور یوسف کو اور موسیٰ کو اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو جزا دیا کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) عطا کیا۔ (ان میں سے) ہر ایک کو اہم نے ہدایت دی، اور نوح کو ہم نے پہلے ہی ہدایت دی تھی، اور ان کی اولاد میں سے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور اسی طرح ہم نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہم نے راہ دکھائی اور ان سے پہلے نوح کو راہ دکھائی اور میں اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو، اور ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان (ابراہیم علیہ السلام) کو اسحاق اور یعقوب (بیٹا اور پوتا علیھما السلام) عطا کئے، ہم نے (ان) سب کو ہدایت سے نوازا، اور ہم نے (ان سے) پہلے نوح ؑ کو (بھی) ہدایت سے نوازا تھا اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسٰی اور ہارون (علیھم السلام کو بھی ہدایت عطا فرمائی تھی)، اور ہم اسی طرح نیکو کاروں کو جزا دیا کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے، ان سب کو ہدایت دی اور اس سے پہلے نوح کو ہدایت دی اور اس کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو اور اسی طرح ہم نیکی کرنے والوں کو جزا دیتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ ہر ایک کو ہم نے سیدھی راہ دکھائی اور نوح کو اس سے پیشتر ہدایت دے چکے تھے اور اس (ابراہیم) کی اولاد میں سے ہم نے داؤد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو ہدایت دی تھی اور ہم نیکو کاروں کو ایسے ہی جزا دیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے۔ ان میں سے ہر ایک کو ہدایت بخشی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی اس سے پہلے اور اس کی ریت میں سے داد، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم ہی نے عطا کیا تھا ابراہیم کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) ان میں سے ہر ایک کو ہم نے سرفراز کیا تھا ہدایت سے اور نوح کو بھی ہم نے اس سے پہلے ہدایت بخشی تھی، اور ان (یعنی ابراہیم) کی اولاد میں سے داؤد، سلیمٰن، ایوب یوسف اور موسیٰ و ہارون کو بھی اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ عطا کئے ہر ایک کو ہم نے ہدایت کی۔ اور نوح ؑ کو ہم ہدایت دے چکے تھے زمانہ ماقبل میں اور ان کی نسل میں سے۔ داؤد ؑ اور سلیمان ؑ اور ایوب ؑ اور یوسف ؑ اور موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اور ہم نیکوکاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اسے (ابراہیم ؑ کو) عطا فرمایا اسحاق ؑ (جیسا بیٹا) اور یعقوب ؑ (جیسا پوتا) ان سب کو ہم نے ہدایت دی۔ اور نوح ؑ کو بھی ہم نے ہدایت دی تھی ان سے پہلے اور اس (ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے داؤد ؑ سلیمان ؑ ایوب ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو بھی (ہدایت بخشی)۔ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں محسنین کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے اور سب کو ہدایت دی اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے دائود، سلیمان، ایوب، یوسف، موسیٰ اور ہارون کو بھی، ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And We bestowed upon Abraham (offspring) Ishaq (Isaac) and Ya'qub (Jacob) and each of them did We guide to the right way as We had earlier guided Noah to the right way; and (of his descendants We guided) Da'ud (David) and Sulayman (Solomon), Ayyub (Job), Yusuf (Joseph), Musa (Moses) and Harun (Aaron). Thus do We reward those who do good.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We bestowed upon him IsHaq and Ya'qub . Each one of them We guided to the right path. Earlier, We guided NuH and, of his progeny, (We guided) Dawud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf (Joseph) and Musa and Harun.__Thus We reward those who are good in deeds__

— Muhammad Taqi Usmani

We bestowed upon him IsHaq and Yaqub . Each one of them We guided to the right path. Earlier, We guided NuH and, of his progeny, (We guided) Dawud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf (Joseph) and Musa and Harun.__Thus We reward those who are good in deeds__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And We bestowed upon him Ishaq and Ya`qub, each of them We guided, and before him, We guided Nuh and among his progeny Dawud, Sulayman, Ayyub, Yusuf, Musa, and Harun. Thus do We reward the good-doers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And We bestowed upon him Isaac and Jacob; each of them We guided; and Noah did We guide aforetime; and of his seed (We guided) David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the good.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We gave to Abraham, Isaac and Jacob - all [of them] We guided. And Noah, We guided before; and among his descendants, David and Solomon and Job and Joseph and Moses and Aaron. Thus do We reward the doers of good.

— Saheeh International

We gave (Abraham) Isaac and Jacob. Both had received Our guidance. Noah received Our guidance before Abraham and so did his descendants: David, Solomon, Job, Joseph, Moses, and Aaron. Thus is the reward for the righteous people.

— Muhammad Sarwar

And We gave to him Ishaq and Yaqoub; each did We guide, and Nuh did We guide before, and of his descendants, Dawood and Sulaiman and Ayub and Yusuf and Musa and Haroun; and thus do We reward those who do good (to others).

— Muhammad Habib Shakir

And We bestowed upon him Is-haq and Ya'qub: each one We guided. And Nuh We had guided afore, and of his progeny Da-ud and Sulaiman and Ayyub and Yusuf and Musa and Harun. And thus We recompense the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

We gave him Isaac and Jacob: all (three) guided: and before him, We guided Noah, and among his progeny, David, Solomon, Job, Joseph, Moses, and Aaron: thus do We reward those who do good:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:84

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 84–90

خلیل الرحمن کو بشارت اولاد اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 82–87

سورة الْاَنْعَام 55 یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات والارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اول تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–88

اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم ؑ کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اس دنیا میں حضرت ابراہیم کے لیے رفع ذکر کی سرفرازی : اوپر کی آیات میں حضرت ابراہیم کی دعوت کے ساتھ ان کے روحانی و ایمانی مدارج کا بیان ہوا۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اس دنیا میں اللہ نے ان کو اور ان کی دعوت کو رفع ذکر اور شہرت دوام کی عزت و سرفرازی عطا فرمائی۔ ان کی ذریت میں بڑے بڑے انبیاء اور بلند مرتبہ صالحین و مجددین ا تھے اور ان سب کا دین وہی دین توحید تھا جس کی دعوت ابراہیم نے اور ان سے پہلے نوح نے دی۔ مطلب یہ ہے کہ یہی تمام انبیاء کا مشترک دین ہے اور تم بھی اسی دین کی دعوت دے رہے ہو۔ اگر تمہاری قوم اس کو قبول نہیں کرنا چاہتی تو تم اس کی پروا نہ کرو۔ اللہ نے دوسروں کو کھڑا کردیا ہے جو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

84۔ 1 یعنی بڑھاپے میں، جب کہ وہ اولاد سے ناامید ہوگئے تھے، جیسا کہ سورة ہود آیت 72، 73 میں ہے پھر بیٹے کے ساتھ ایسے پوتے کی بھی بشارت دی جو یعقوب ؑ ہوگا، جس کے معنی یہ مفہوم شامل ہے کہ اس کے بعد ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اس لئے یہ عقب (پیچھے سے) مشتق ہے۔ 84۔ 2 ذریتہ میں ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح ؑ کو قرار دیا ہے کیونکہ وہی اقرب ہیں یعنی حضرت نوح ؑ کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو قرار دیا ہے کیونکہ وہی اقرب ہیں یعنی حضرت نوح ؑ کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان (علیہما السلام) کو اور بعض نے حضرت ابراہیم ؑ کو اس لیے کہ ساری گفتگو انہی کے ضمن میں ہو رہی ہے لیکن اس…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 82–88

30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 84–90

(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔ (آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87) ” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔ (آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84) ” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔ (آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86) ” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور (آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87) ” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی نہ صرف یہ کہ ہم نے ابراہیم کو ذاتی علم و فضل سے سرفراز کیا بلکہ بڑھاپے میں اسحاق جیسا بیٹا اور یعقوب جیسا پوتا عطا فرمایا۔ یعقوب وہ ہی اسرائیل ہیں جن کی طرف دنیا کی ایک عظیم الشان قوم بنی اسرائیل منسوب ہے جن میں سے ہزاروں نبی اٹھائے گئے بلکہ جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ مذکور ہے ' ابراہیم کے بعد حق تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے ان ہی کی نسل میں نبوت اور پیغمبری رکھ دی۔ 1 پہلے ابراہیم کے بعض فروع کا ذکر تھا اب بعض اصول کو ذکر فرمایا۔ کیونکہ نوح حضرت ابراہیم کے اجداد میں سے ہیں اور جس طرح حضرت ابراہیم کے بعد نبوت کتاب کا انحصار صرف ان کی ذریت میں کردیا گیا تھا۔ اسی طرح نوع کے بعد نوح انسانی کا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 84–87

آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 83–84

86 ابراہیم نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی ؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔ (نیز دیکھئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 258 کا حاشیہ)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

124 ۔ یہ سب کے سب راہ ہدایت پر تھے، مہتدی بھی اور ہادی بھی، اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) کے نام لانے میں تعلیم ہے اہل عرب بنی اسمعیل کو کہ تم کہیں یہود بنی اسرائیل کی بدزبانیوں سے مشتعل ہو کر انکے قبلہ وخاندان کے بزرگوں، ان دونوں پیغمبروں کی شان میں گستاخی نہ کرنے لگنا، اسحاق (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے صاحبزادہ حضرت سارہ ؓ کے بطن سے تھے، (2060 ؁ ق، م۔ تا 1880 ؁ ق، م) (آیت) ” ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب “۔ ہم نے ان کو اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے، ایک کو بیٹا اور دوسرے کو پوتا بنا کر۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 84–90

وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔ ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ووہبنا لہ اسحاق و یعقوب اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بخشا (ایک بیٹا) اسحاق ( علیہ السلام) اور (ایک پوتا) یعقوب۔ کلا ہدینا اور (دونوں میں سے) ہر ایک کو ہدایت دی (یعنی کلاً کی تنوین مضاف الیہ کے عوض ہے) ونوحا ہدینا من قبل اور ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے نوح کو ہدایت عنایت کی۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سلسلہ اجداد میں تھے اس لئے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے ہدایت یافتہ ہونے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے نعمت قرار دیا اس سے معلوم ہوا کہ والد کا شرف اولاد کی طرف اور اولاد کا شرف والد کی طرف منتقل ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں اس صورت میں ممکن نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–86

(84۔ 85۔ 86) اور حضرت ابراہیم ؑ کو ہم نے لڑکا اور پوتا دیا اور ابراہیم ؑ واسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کو نبوت واسلام کے ساتھ اعزاز عطا کیا اور ابراہیم ؑ سے پہلے نوح ؑ کو بھی نبوت واسلام کے ذریعے اعزاز عطا کیا اور ان کی اولاد میں سے بھی یا یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے بھی اخیر تک اور داؤد ؑ سلیمان ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ ہارون ؑ سب کو ہم نے نبوت واسلام عطا کیا، اسی طرح قول وفعل کے ساتھ ہم محسنین یا یہ کہ موحدین کو بدلا دیتے ہیں اور زکریا ؑ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ الیاس ؑ سب ہی کو نبوت واسلام کی دولت عطا کی اور یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھے اور سب ہی رسول تھے۔ اور ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک کو ہم نے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 84–85

كُلًّا هَدَيْنَا ۚ: یعنی ابراہیم ؑ کی راہ پر لگایا اور نبوت عطا کی۔ دیکھیے سورة مریم (49)۔ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ“ ْ ذُرِّيَّتِهٖ میں موجود ضمیر سے مراد نوح ؑ بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ مذکور نبیوں میں سب سے قریب نوح ؑ ہی ہیں، امام ابن جریر ؓ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ یہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور کلام کے سیاق کے پیش نظر اس کو ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر اس کے تحت مذکور انبیاء میں سے لوط ؑ کے ذکر سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے بھتیجے تھے، مگر ہوسکتا ہے کہ بھتیجے کو بھی اولاد میں شمار کرلیا ہو، جیسا کہ سورة بقرہ (133) میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 84–86

آیت نمبر 84۔ 85۔ 86 اس میں تین مسائل ہیں : مسلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب یعنی ہم نے انہیں دین کے بارے میں استدلال کرنے (غلبہ پانے) اور دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کی جزا کے طور پر اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے۔ کلا ھدینا یعنی ان میں سے ہر ایک ہدایت یافتہ ہے۔ اور (ترکیب کلام میں) کلا، ھدینا کی وجہ سے منصوب ہے اور نوحا دوسرے ھدینا کے سبب منصوب ہے۔ ومن ذریتہ مراد حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ کہ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ یہ فراء نے کہا ہے اور طبری اور کئی دیگر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 84–88

(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو الحرب بن ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کی طرف لکھ بھیجا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نبی ﷺ کی اولاد میں سے ہیں اور تو اس کو اللہ کی کتاب میں پاتا ہے۔ اور میں نے اس کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔ مگر میں نے اس کو نہیں پایا۔ تو یحییٰ بن یعمر نے فرمایا کیا تو نے سورة انعام نہیں پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت ویحییٰ و عیسیٰ تک اور فرمایا کیا عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں حالانکہ وہ ان کے باپ نہیں ہیں حجاج نے کہا تو نے سچ کہا ہے۔ (2) امام ابو الشیخ، حاکم اور بیہقی نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَوَهَبْنَا [ اور ہم نے عطا کیا ] لَهٗٓ [ ان کو ] اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ۭ [ اسحاق اور یعقوب ] كُلًّا [ سب کو ] هَدَيْنَا ۚ [ ہم نے ہدایت دی ] وَنُوْحًا [ اور نوح (علیہ السلام) کو (بھی ) ] هَدَيْنَا [ ہم نے ہدایت دی ] مِنْ قَبْلُ [ اس سے پہلے ] وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ [ اور ان کی اولاد میں سے ] دَاوٗدَ [ داود کو ] وَسُلَيْمٰنَ [ اور سلیمان (علیہ السلام) کو ] وَاَيُّوْبَ [ اور ایوب (علیہ السلام) کو ] وَيُوْسُفَ [ اور یوسف (علیہ السلام) کو ] وَمُوْسٰي [ اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَهٰرُوْنَ ۭ [ اور ہارون (علیہ السلام) کو ] وَكَذٰلِكَ [ اور اسی طرح ] نَجْزِي [ ہم جزا دیتے ہیں ] الْمُحْسِنِيْنَ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ذکر کے بعد ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب ( علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور فرمایا (کُلًّا ھَدَیْنَا) کہ ہم نے ان سب کو ہدایت دی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے خود اپنی اولاد کو تعلیم دی۔ ان حضرات نے اس کو اپنایا اور باقی رکھا اور اپنی اولاد کو بھی اسی کی وصیت کی۔ پھر فرمایا (وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ ) اور اس سے پہلے ہم نے نوح کو ہدایت دی، حضرت نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے زمانہ کے طوفان میں ہلاک ہونے کے بعد زمین پر جو دو بارہ آبادی ہوئی وہ ان کی اولاد سے پھیلی، روح المعانی ج 7 ص 211 بحوالہ معجم طبرانی حضرت ابوذر ؓ کا بیان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–90

ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔ قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–86

90 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد اجمالی طور پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ستر پیغمبروں کا ذکر نام لے کر اور باقیوں کا اشارے سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں بھی نہایت ہی عمدہ ترتیب ملحوظ رکھی گئی۔ پہلے چاروں یعنی حضرت ابراہیم، اسحاق یعقوب اور نوح (علیہم السلام) اصول انبیاء میں پھر داود اور سلیمان (علیہما السلام) بہت بڑے بادشاہ تھے، حضرت ایوب اور یوسف (علیہما السلام) کو زندگی میں بڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بڑے بڑے معجزے عطا کیے گئے۔ زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) بہت بڑے عابد و زاہد تھے اور اسمعیل،…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 83–86

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے ضمن میں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کیونکہ آپ کی کلدانی اور بابلی پوری قوم مشرک تھی۔ آپ کے والد آزر خود بت تراش اور بت پرست تھے۔ آپ نے اپنے والد اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کے سامنے ستارے چاند اور سورج کی دلیل بھی پیش کی۔ باری باری ان تینوں کے متعلق فرمایا ‘ کیا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گئے تو آپ نے ان سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا ‘ اے میری قوم ! جن چیزوں کو زوال آجائے یا جن میں تغیر و تبدل واقع ہو ‘ وہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں ‘ چاند ‘ سورج اور ستارے طلو ع ہوتے ہیں۔ پھر غروب ہوجاتے ہیں تو میں ایسی چیزوں کو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ۝ 0ۭ كُلًّا ہَدَيْنَا۝ 0ۚ وَنُوْحًا ہَدَيْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّيَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ وَاَيُّوْبَ وَيُوْسُفَ وَمُوْسٰي وَہٰرُوْنَ۝ 0ۭ وَكَذٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 84ۙ وهب الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی: وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ [إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19] ( و ہ ب ) وھبتہ ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 83–90

ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔ تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَوَھَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ ط کُلّاً ھَدَیْنَا ج وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاؤدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰے وَ ھٰرُوْنَ ط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (الانعام : 74) (اور ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب عطا کیے ‘ ان میں سے ہر ایک کو ہدایت بخشی ‘ اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت بخشی اس سے پہلے اور اس کی ذریت میں سے دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون کو بھی ‘ اور ہم خوب کاروں کو اسی طرح صلہ دیا کرتے ہیں) اولادِ حضرت ابراہیم سب سے پہلے یہاں حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا گیا۔ درحقیقت حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–87

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف دلائل کے اعتبار سے برتری عنایت فرمائی تھی بلکہ رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز کرتے ہوئے انبیاء کی صورت میں نیک اولاد عنایت فرمائی جنھوں نے ان کے مشن کو جاری وساری رکھا تاآنکہ نبی آخر الزمان ﷺ نے دین حنیف کا پھر یرا پوری دنیا میں سربلند فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تن تنہا اپنے باپ، قوم اور حاکم و قت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دلائل کے اعتبار سے انھیں اپنی قوم پر برتری عنایت فرمائی بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ پوری دنیا کی امامت سے سرفراز کیا گیا اور ان کی دعوت کو چار سو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 84 : وَوَہَبْنَا لـَہٗ یعنی ابراہیم ( علیہ السلام) کو۔ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ کُلاًّ ہَدَیْنَایعنی تمام کو۔ کلاًّ پر نصب ہدینا کی وجہ سے ہے یعنی ہدینا نوحاً کہ ہم نے نوح کو ہدایت دی۔ مِنْ قَبْلُابراہیم ( علیہ السلام) سے پہلے۔ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ ہٖ ضمیر نوح ( علیہ السلام) کی طرف جاتی ہے۔ یا ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف۔ پہلا قول زیادہ واضح ہے کیونکہ یونس و لوط ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہ تھے۔ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ہٰرُوْنَتقدیر عبارت یہ ہے و ہدینا من ذریتہٖ ہؤلاء کہ اس کی اولاد میں سے ان کو ہم نے ہدایت دی۔ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(84) (ووھبنا لہ اسحق و یعقوب ط کلا ھدینا ونو حا ھدینا من قبل) ہم نے توفیق دی اور سیدھا راستہ دکھایا اور نوح (علیہ السلام) کو ہم نے ہدایت کی ان سب سے پہلے ) یعنی ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے (ومن ذرینہ) یعنی نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے۔ یہاں ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد مراد نہیں کیونکہ ان میں یونس اور لوط (علیہما السلام) کا بھی تذکرہ ہے اور یہ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ (دائود) یہ دائود بن ایشا ہیں (وسلیمان) یعنی دائود (علیہ السلام) کے بیٹے۔ (وایوب ) یہ ایوب بن اموص بن رازح بن روم ابن عیص بن اسحاق بن ابراہیم (علیہ السلام) ہیں۔ (ویوسف اور یوسف) یہ یوسف بن یعقوب بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 83–89

(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 84–90

آیت 84 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 83–89

قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 83–87

151 عطا و بخشش اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ پس بزرگی و کمال دراصل ہماری عطا و بخشش ہی پر موقوف ہے نہ کہ انسان کے اپنے کسب و اختیار پر۔ اور سب سے بڑا درجہ و مرتبہ جو کسی انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے وہ ہے نبوت و رسالت کا مرتبہ و مقام۔ جو کہ محض اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اس شرف و مرتبہ سے کس کو مشرف و سرفراز فرمائے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلُمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ اور انبیاء و رسل اس سب سے بڑے درجہ و مرتبہ سے سرفراز ہونے کے باوجود اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 82–89

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 84–91

رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔ اسرار و معارف : کمال انبیاء (علیہم السلام) : ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 یعن حضر ابراہیم ( علیہ السلام) ہی کو را پر لگایا اور نبوت عطاکی، ( دیکھئے سورة مریم آیت 49 (ف 9 ضمیر کا مرجع حضرت نوح ( علیہ السلام) ہیں اسلیے کہ وہ مذکورین سے اقراب ہیں۔ ابن جریر (رح) نے اسی کو اختیار کیا ہے، گویہ ضمیر حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور سیاق کلام کے پیش نظر بعض نے اسی کو ترجیح دی ہے لیکن اس کے تحت مذکورین میں حضرت لو ط ( علیہ السلام) کی ذریت میں سے نہ تھے مگر ہوسکتا ہے کہ تغلیبا ان کو ذریت قرار دے دیا ہو ( ابن کثیر )

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 84–88

لغات القرآن : آیت نمبر 84 تا 88 : وھبنا (ہم نے عطا کیا) نجری (ہم بدلہ دیتے ہیں) فضلنا ( ہم نے بڑائی دی) اجتبیان ( ہم نے منتخب کرلیا۔ چن لیا) حبط ( ضائع ہوگیا) تشریح : آیت نمبر 84 تا 88 : حضرت ابراہیم ؐ نے اللہ کے بھروسے دل کے اطمینان سے مسلح ہو کر شرک کی طاقتوں کے خلاف توحید کا پرچم لے کر جس محنت ‘ قربانی اور بےخوفی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انعامات کے علاوہ انہیں پیغمبروں کا جدا مجد بنادیا۔ یہاں پر جن سترہ پیغمبروں کے نا لئے گئے ہیں ان میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ پیغمبر ہونا ‘ پیغمبر کا باپ دادا وغیرہ ہونا ‘ پیغمبر کا بیٹا (بیٹی)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 84–89

نبیوں کی فضیلت کا ذکر یہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا۔ اس ذکر میں نہ ترتیب زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے۔ لیکن عجیب شان سے ذکر فرمائے گئے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے ابراہیم، اسحق، یعقوب، داود، سلیمان، ایوب موسیٰ اور ہارون علیہم الصلوۃ والسلام کو مراتب عطا کئے اور سب کو ہدایے کی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت کی۔ نیکوں کو اسی طرح ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے زکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس علیہم لصلوۃ ولسلام کو ہدایت کی۔ یہ سب کے سب نیک بخت اور صالح تھے اور ہم نے ہدایت کی اسماعیل اور یسع…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 84–89

[30] مطلب یہ ہے کہ اگر کفار و مشرکین اللہ کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کریں۔ اللہ نے اہل ایمان کا ایسا گروہ پیدا کردیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 83–86

حجت حق : (ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز استدلال کی تعریف کی ہے اسے حجت حق اور برہان قرار دیا ہے ، اور پھر یہ بیان فرمایا ہے کہ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ یعنی توحید ہی رفع درجات کا سبب ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی تفرید وتجرید بہترین مشغلہ ہے ، وہ شخص جو مشرک ہے ، معرفت کے بام بلند تک اس کی رسائی ناممکن ہے ، کوئی نیکی اور کوئی عبادت اسے خدا تک نہیں پہنچا سکتی ، اور وہ جو توحید کا قائل ہے توحید پر عامل ہے ، اس کے لئے درجات و مراتب ہیں ، تشریف و تقرب ہے ، وہ اس قابل ہے ، کہ اللہ اسے اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔ حل لغات : حجتنا : حجت کے معنی مضبوط اور ناقابل تردید دلیل کے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-84 اور ہم نے ابراہیم کو بیٹا اسحاق (علیہ السلام) نامی اور پوتا یعقوب (علیہ السلام) نامی عطا فرمائے اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو ہدایت اور توفیق ہدایت عطا کی اور ہم نے اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کو بھی ہدایت سے سرفراز فرمایا تھا اور حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے دائود (علیہ السلام) اور سلیمان (علیہ السلام) اور ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو بھی ہدایت سے نوازا تھا اور جس طرح ہم نے ان لوگوں پر اپنی نواز فرمائی تھی ہم اسی طرح نیکی کرنے والوں کو اپنے صلہ سے نوازا کرتے ہیں اور نکو کاروں کو صلہ دیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ابراہیم (علیہ السلام) کے جدا امجد نوح (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کا تفصیلی بیان : 131: اس آیت 85 سے آیت 89 تک کی پانچ آیتوں میں سترہ انبیاء کرام کی فہرست دی گئی جن میں سے ایک یعنی سیدنا نوح (علیہ السلام) کا تعلق آپ کے آباء سے ہے اور باقی سارے آپ کی اولاد اور اولاد در اولاد ہیں اور ان آیتوں میں ان سب کا ہدایت پر ہونا ، صالحین ہونا ، صراط مستقیم پر ہونا بارن کیا گیا۔ آیت 85 میں آپ کے بیٹے اسحٰق (علیہ السلام) اور آپ کے پوتے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے جدامجد سیدنا نوح (علیہ السلام) کے ذکر کے بعد آپ کی نسل سے متعلق داؤد (علیہ السلام) ، سلیمان (علیہ السلام) ، ایوب (علیہ السلام) ، یوسف (علیہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–88

In the six verses (84-89) appearing after that, there is a list of seventeen blessed prophets, some of whom are the forefathers of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) while most are his progeny, with some being his brothers or nephews. On the one hand, described in these verses is their being Divinely guided, righteous in conduct and firm on the straight path, along with the fact that Allah Ta` ala has chosen and blessed has been stressed them to serve His religion. On the other hand, it has been stressed that, in return for the sacrifice of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who had disassociated…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 82–87

55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the…

Read the full tafseer →