Explained with ayahs 84–90
خلیل الرحمن کو بشارت اولاد
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ خلیل الرحمن کو اس نے ان کے بڑھاپے کے وقت بیٹا عطا فرمایا جن کا نام اسحاق ہے اس وقت آپ بھی اولاد سے مایوس ہوچکے تھے اور آپ کی بیوی صاحبہ حضرت سارہ بھی مایوس ہوچکی تھیں جو فرشتے بشارت سنانے آتے ہیں وہ قوم لوط کی ہلاکت کیلئے جا رہے تھے۔ ان سے بشارت سن کر مائی صاحبہ سخت متعجب ہو کر کہتی ہیں میں بڑھیا کھوسٹ ہوچکی میرے خاوند عمر سے اتر چکے ہمارے ہاں بچہ ہونا تعجب کی بات ہے۔ فرشتوں نے جواب دیا اللہ کی قدرت میں ایسے تعجبات عام ہوتے ہیں۔ اے نبی کے گھرانے والو تم پر رب کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں اللہ بڑی تعریفوں والا اور بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
سورة الْاَنْعَام 55
یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات والارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اول تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
اس کے بعد کی چھ آیتوں میں سترہ انبیاء (علیہم السلام) کی فہرست شمار کی گئی ہے جن میں سے بعض حضرات ابراہیم ؑ کے آباء و اجداد ہیں، اور اکثر ان کی اولاد ہیں، اور بعض ان کے بھائی بھتیجے ہیں، ان آیتوں میں ایک طرف تو ان حضرات کا ہدایت پر ہونا، صالحین ہونا، صراط مستقیم پر ہونا بیان فرمایا گیا ہے۔ اور یہ بتلایا گیا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے ہی اپنے دین کی خدمت کے لئے منتخب اور قبول فرما لیا ہے، اور دوسری طرف یہ جتلایا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے اللہ کی راہ میں اپنے باپ اور برادری اور وطن کو چھوڑ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آخرت کے درجات عالیہ اور دائمی اور بےمثال راحتوں سے پہلے دنیا میں بھی ان کو اپنی…
Read the full tafseer →وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى الایہ : انبیاء جن کا مشترک وصف زہد و توکل ہے : زکریا، یحییٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) مشہور پیغمبروں میں سے ہیں۔ الیاس سے مراد توریت کے ایلیا نبی ہیں۔ ان پیغمبروں کی نسبت بھی فرمایا کہ اللہ نے ان کو بھی اسی صراط مستقیم کی ہدایت بخشی جس کی ہدایت ابراہیم اور دوسرے نبیوں کو بخشی۔ یہ بھی توحید اور اسلام ہی کے داعی تھے، کسی اور دین کے داعی نہیں تھے۔ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ ، یہ سب کے سب زمرہ صالحین میں سے تھے۔ اس سے ایک تو وہی بات، نکلی جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ یہ جو کچھ انہیں حاصل ہوا ان کے صلاح وتقوی کی بنا پر حاصل ہوا، دوسری بات یہ نکلی کہ یہ تھے بہرحال خدا کے صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
85۔ 1 عیسیٰ ؑ کا ذکر حضرت نوح ؑ یا حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں اس لئے کہا گیا (حالانکہ ان کا باپ نہیں تھا) کہ لڑکی کی اولاد بھی ذریت رجال میں ہی شامل ہوتی ہے۔ جس طرح نبی ﷺ حضرت حسن (اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کے صاحبزادے) کو اپنا بیٹا فرمایا ان ابنی ھذا سید و لعل اللہ ان یصلح بہ بین فئتین عظمتین من المسلمین (صحیح بخاری) ' (تفصیل کے لئے دیکھئے تفسیر ابن کثیر)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
(آیت) ” نمبر 84 تا 90۔
(آیت) ” وَمِنْ آبَائِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ وَإِخْوَانِہِمْ “۔ (6 : 87)
” اور ان کے آباء ان کی اولاد اور ان کے بھائیوں میں سے ۔ “ اور اس قافلہ ایمان پر جو تبصرے کئے گئے ہیں ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ (84)
” اور ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح جزاء دیتے ہیں ۔
(آیت) ” وَکُلاًّ فضَّلْنَا عَلَی الْعَالَمِیْنَ (6 : 86)
” اور ان سب کو ہم نے تمام جہان والوں پر فضیلت دی ۔ “ اور
(آیت) ” وَإِخْوَانِہِمْ وَاجْتَبَیْْنَاہُمْ وَہَدَیْْنَاہُمْ إِلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (87)
” اور ہم نے انہیں منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی طرف ہدایت کی ۔ “ ان تمام تبصروں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
3 یعنی اپنے اپنے زمانہ کے جہان والوں پر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
آیت 84 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ اِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَط کُلاًّ ہَدَیْنَاج وَنُوْحًا ہَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَمِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَسُلَیْمٰنَ وَاَیُّوْبَ وَیُوْسُفَ وَمُوْسٰی وَہٰرُوْنَط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ
یعنی یہ لوگ ایمان کی اس بلند ترین منزل پر فائز تھے جس کے بارے میں ہم سورة المائدۃ میں پڑھ آئے ہیں : ثُمَّ اتَّقَوْا وَاٰمَنُوْا ثُمَّ اتَّقَوْا وَّاَحْسَنُوْاط واللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ
Read the full tafseer →83 شرک کو ختم کرنا سب سے بڑا جہاد ہے :۔ قرآن میں اکثر مقامات پر جب انبیائے کرام کا ذکر ہوا تو اس میں ترتیب زبانی بھی پائی جاتی ہے لیکن یہاں غالباً اس صفت کو زیادہ تر ملحوظ رکھا گیا ہے کہ ان میں سے کس نے شرک کے خلاف سب سے زیادہ جہاد کیا تھا یا بعض دوسری صفات کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو ان میں سے سرفہرست سیدنا ابراہیم کا ہی ذکر کیا جنہیں اللہ تعالیٰ نے اسی صفت کی بنا پر (اُمَّۃً قَانِۃً ) فرمایا اور اپنا دوست بنایا۔ پھر سیدنا ابراہیم پر انعامات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کے بیٹے اسحاق اور پھر ان کے بیٹے یعقوب کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور آئندہ کے لیے نبوت انہیں کی اولاد سے مختص کردی، بعد ازاں…
Read the full tafseer →127 ۔ یعنی اللہ کے ہاں معزز ومقرب، ان کی اگر دنیا میں بدنامی ہوئی اور بعض گروہوں نے ان کی بدگوئی کو اپنا شعار بنالیا تو اس سے متاثر نہ ہوجانا، قرآن تصدیق کرتا ہے کہ یہ سب صالح تھے، زکریا حضرت مسیح کے خالوہوتے تھے انجیل میں ان کا اور ان کے زوجہ محترمہ کا ذکر خیر تفصیل سے موجود ہے۔ یحٰی بن زکریا، متوفی 30 ء انجیل میں ان کا نام یوحنا آیا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ۔ مشہور ومعروف نبی 29 ء میں دنیا سے تشریف لے گئے۔ الیاس۔ یہ غالبا وہ ہیں جن کا ذکر توریت کے بعض صحیفوں میں ایلیاہ نبی کے نام سے آیا ہے اور ان کے خارق عادت بہت سے دیئے ہیں ( 1 ۔ سلاطین وغیرہ) انگریزی تلفظ میں Elijah اہل کتاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
وَوَھَبْنَا لہ اسحاق ویعقوب، (الآیۃ) یعنی بڑھاپے میں، جب ابراہیم علیہ والصلوٰۃ والسلام اولاد سے ناامید ہوگئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیٹے کے ساتھ پوتے کی بھی بشارت دی جو کہ یعقوب بن اسحاق ہیں لفظ یعقوب میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی اولاد کا سلسلہ چلے گا، اسلئے کہ یعقوب عقب سے مشتق ہے جس کے معنی میں یہ مفہوم شامل ہے۔
ومن ذریتہٖ ، ذریتہٖ کی ضمیر کا مرجع بعض مفسرین نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے اسلئے کہ وہی اقرب ہے، یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی ذریت میں سے حضرت داؤد و سلیمان (علیہما السلام) کو، اور بعض حضرات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو مرجع قرار دیا ہے اسلئے کہ پوری…
Read the full tafseer →و زکریا ویحیی و عیسیٰ والیاس اور زکریا (ابن اذن) کو اور یحییٰ (بن زکریا) کو اور عیسیٰ (بن مریم بنت عمران) کو اور الیاس (بن متی بن فخاص بن عیزار بن ہارون ( علیہ السلام) کو۔ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود نے فرمایا ‘ ادریس ؓ ہی الیاس تھے دونوں نام ایک ہی شخص کے تھے جیسے یعقوب اور بنی اسرائیل۔ لیکن آیت کی رفتار اس کے خلاف ہے۔ ادریس نوح ( علیہ السلام) کی نسل میں سے نہیں تھے بلکہ پدر نوح کے دادا تھے نوح کے باپ لامک ‘ لامک کے باپ متوشلخ۔ متوشلخ کے باپ خنوخ اور خنوخ کے باپ حضرت ادریس تھے اولاد آدم ( علیہ السلام) میں آپ سب سے پہلے نبی تھے اور آپ نے قلمی تحریر ایجاد کی۔
کل من الصلحین (مذکورہ بالا اشخاص میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(84۔ 85۔ 86) اور حضرت ابراہیم ؑ کو ہم نے لڑکا اور پوتا دیا اور ابراہیم ؑ واسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کو نبوت واسلام کے ساتھ اعزاز عطا کیا اور ابراہیم ؑ سے پہلے نوح ؑ کو بھی نبوت واسلام کے ذریعے اعزاز عطا کیا اور ان کی اولاد میں سے بھی یا یہ کہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے بھی اخیر تک اور داؤد ؑ سلیمان ؑ یوسف ؑ موسیٰ ؑ ہارون ؑ سب کو ہم نے نبوت واسلام عطا کیا، اسی طرح قول وفعل کے ساتھ ہم محسنین یا یہ کہ موحدین کو بدلا دیتے ہیں اور زکریا ؑ یحییٰ ؑ عیسیٰ ؑ الیاس ؑ سب ہی کو نبوت واسلام کی دولت عطا کی اور یہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد سے تھے اور سب ہی رسول تھے۔
اور ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک کو ہم نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
كُلًّا هَدَيْنَا ۚ: یعنی ابراہیم ؑ کی راہ پر لگایا اور نبوت عطا کی۔ دیکھیے سورة مریم (49)۔
وَمِنْ ذُرِّيَّتِهٖ دَاوٗدَ وَسُلَيْمٰنَ“ ْ ذُرِّيَّتِهٖ میں موجود ضمیر سے مراد نوح ؑ بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے کہ مذکور نبیوں میں سب سے قریب نوح ؑ ہی ہیں، امام ابن جریر ؓ نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ یہ ضمیر ابراہیم ؑ کی طرف بھی لوٹ سکتی ہے اور کلام کے سیاق کے پیش نظر اس کو ترجیح دی جاسکتی ہے، مگر اس کے تحت مذکور انبیاء میں سے لوط ؑ کے ذکر سے اشکال پیدا ہوتا ہے کہ وہ ابراہیم ؑ کی اولاد میں سے نہیں تھے، بلکہ ان کے بھتیجے تھے، مگر ہوسکتا ہے کہ بھتیجے کو بھی اولاد میں شمار کرلیا ہو، جیسا کہ سورة بقرہ (133) میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
آیت نمبر 84۔ 85۔ 86
اس میں تین مسائل ہیں :
مسلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب یعنی ہم نے انہیں دین کے بارے میں استدلال کرنے (غلبہ پانے) اور دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کرنے کی جزا کے طور پر اسحاق اور یعقوب (علیہما السلام) عطا فرمائے۔
کلا ھدینا یعنی ان میں سے ہر ایک ہدایت یافتہ ہے۔ اور (ترکیب کلام میں) کلا، ھدینا کی وجہ سے منصوب ہے اور نوحا دوسرے ھدینا کے سبب منصوب ہے۔ ومن ذریتہ مراد حضرات ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ کہ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد ہے۔ یہ فراء نے کہا ہے اور طبری اور کئی دیگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
(1) امام ابن ابی حاتم نے ابو الحرب بن ابوالاسود (رح) سے روایت کیا کہ حجاج نے یحییٰ بن یعمر کی طرف لکھ بھیجا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حسن اور حسین ؓ نبی ﷺ کی اولاد میں سے ہیں اور تو اس کو اللہ کی کتاب میں پاتا ہے۔ اور میں نے اس کو اول سے لے کر آخر تک پڑھا ہے۔ مگر میں نے اس کو نہیں پایا۔ تو یحییٰ بن یعمر نے فرمایا کیا تو نے سورة انعام نہیں پڑھی لفظ آیت ومن ذریتہ داؤد وسلیمن سے لے کر لفظ آیت ویحییٰ و عیسیٰ تک اور فرمایا کیا عیسیٰ ابراہیم کی اولاد میں سے نہیں ہیں حالانکہ وہ ان کے باپ نہیں ہیں حجاج نے کہا تو نے سچ کہا ہے۔
(2) امام ابو الشیخ، حاکم اور بیہقی نے عبد المالک بن عمیر (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَزَكَرِيَّا [ اور زکریا (علیہ السلام) کو ] وَيَحْيٰى [ اور یحی (علیہ السلام) کو ] وَعِيْسٰي [ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ] وَاِلْيَاسَ ۭ [ اور الیاس (علیہ السلام) ] كُلٌّ [ یہ سب ] مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ [ صالحین میں سے ہیں ]
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا (وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ ) یہ بھی وَ وَ ھَبْنَا کے ماتحت ہے یعنی یہ حضرات بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذریت سے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی نبوت سے سر فراز فرمایا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے والد تھے۔ اور انہوں نے اللہ پاک سے دعا کی تھی کہ مجھے ذریت طیبہ عطا فرمائیں۔ باوجود ان کے بیوی کے بانجھ ہونے کے اللہ تعالیٰ نے بیٹا عطا فرمایا جس کا نام یحییٰ رکھا۔ حضرت زکریا (علیہ السلام) ہی کے زمانہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ مریم بتول بھی ان کی والدہ کے دعا مانگنے پر پیدا ہوئیں۔ انہوں نے نذر مانی تھی کہ میرے لڑکا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
90 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تفصیل سے ذکر کرنے کے بعد اجمالی طور پر تمام انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر فرمایا ستر پیغمبروں کا ذکر نام لے کر اور باقیوں کا اشارے سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر میں بھی نہایت ہی عمدہ ترتیب ملحوظ رکھی گئی۔ پہلے چاروں یعنی حضرت ابراہیم، اسحاق یعقوب اور نوح (علیہم السلام) اصول انبیاء میں پھر داود اور سلیمان (علیہما السلام) بہت بڑے بادشاہ تھے، حضرت ایوب اور یوسف (علیہما السلام) کو زندگی میں بڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا، موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو بڑے بڑے معجزے عطا کیے گئے۔ زکریا، یحیی، عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) بہت بڑے عابد و زاہد تھے اور اسمعیل،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے ضمن میں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کیونکہ آپ کی کلدانی اور بابلی پوری قوم مشرک تھی۔ آپ کے والد آزر خود بت تراش اور بت پرست تھے۔ آپ نے اپنے والد اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کے سامنے ستارے چاند اور سورج کی دلیل بھی پیش کی۔ باری باری ان تینوں کے متعلق فرمایا ‘ کیا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گئے تو آپ نے ان سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا ‘ اے میری قوم ! جن چیزوں کو زوال آجائے یا جن میں تغیر و تبدل واقع ہو ‘ وہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں ‘ چاند ‘ سورج اور ستارے طلو ع ہوتے ہیں۔ پھر غروب ہوجاتے ہیں تو میں ایسی چیزوں کو…
Read the full tafseer →وَزَكَرِيَّا وَيَحْيٰى وَعِيْسٰي وَاِلْيَاسَ 0ۭ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ 85ۙ
عيسی
عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا
( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔
تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
وَزَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَ ط کُلٌّمِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَاِسْمٰعِیْلَ وَ الیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا ط وَ کُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الانعام : 75۔ 86)
(اور زکریا ‘ یحیٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس کو بھی ‘ یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے اور اسماعیل ‘ یسع ‘ یونس اور لوط کو بھی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے عالم والوں پر فضیلت بخشی)
بنی اسماعیل و بنی اسرائیل کے آبائو اجداد ایک اللہ کو ماننے والے تھے
یہ چاروں اللہ کے مشہور اور عظیم پیغمبر ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) تو عیسائی امت کی وجہ سے بہت ممتا زشخصیت کے مالک ہیں۔ ان کو اللہ نے غیر معمولی معجزات سے نوازا تھا۔ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نہ صرف دلائل کے اعتبار سے برتری عنایت فرمائی تھی بلکہ رہتی دنیا تک امامت کے منصب سے سرفراز کرتے ہوئے انبیاء کی صورت میں نیک اولاد عنایت فرمائی جنھوں نے ان کے مشن کو جاری وساری رکھا تاآنکہ نبی آخر الزمان ﷺ نے دین حنیف کا پھر یرا پوری دنیا میں سربلند فرمایا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تن تنہا اپنے باپ، قوم اور حاکم و قت کے سامنے ڈٹے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف دلائل کے اعتبار سے انھیں اپنی قوم پر برتری عنایت فرمائی بلکہ ایک وقت وہ بھی آیا کہ پوری دنیا کی امامت سے سرفراز کیا گیا اور ان کی دعوت کو چار سو پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →ایک استدلال :
آیت 85 : وَزَکَرِیَّا وَیَحْیٰی وَعِیْسٰی وَاِلْیَاسَ کُلٌّ یہ تمام مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ذکر ان کے ساتھ کر کے ثابت کردیا کہ نسب ماں سے بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ ان کو نوح ( علیہ السلام) کی اولاد سے قرار دیا۔ حالانکہ عیسیٰ ( علیہ السلام) کا ان کے ساتھ اتصال صرف ماں کی طرف سے ہے۔ اسی دلیل کے ساتھ حجاج کو جواب دیا گیا تھا۔ جب اس نے بنو فاطمہ کے بارے میں انکار کیا کہ وہ اولاد النبی ( علیہ السلام) ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
تفسیر :-(85) (وزکریا) یہ زکریا بن اذن ہیں (جو یحییٰ ) زکریا (علیہ السلام) کے بیٹے ہیں (وعیسیٰ ) مریم بنت عمران کے بیٹے ہیں (والیاس) اس سے کون مراد ہیں اس میں مفسرین رحمہما اللہ کا اختلاف ہے۔ ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ یہ ادریس (علیہ السلام) ہیں ان کے دو نام تھے۔ یعقوب اور اسرائیل کی طرح اور صحیح قول یہ ہے کہ الیاس، ادریس (علیہم السلام) کے علاوہ نبی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے الیاس (علیہ السلام) کا ذکر نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں کیا ہے اور ادریس (علیہ السلام) تو نوح (علیہ السلام) کے والد کے دادا ہی۔ الیاس (علیہ السلام) کا نسب نامہ یہ ہے الیاس بن بشیر بن فنحاص بن عیزاربن ہارون بن عمران (علیہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–90
آیت 84
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندے اور خلیل ابراہیم کا اور اپنے اس احسان کا ذکر کیا کہ اللہ نے ان کو علم، دعوت اور صبر سے نوازا تو اب ذکر فرما رہا ہے کہ صالح اور پاک نسل کے ذریعے سے بھی اللہ نے ان کو بڑی تکریم بخشی، اللہ نے مخلوق میں سے منتخب اور چنے ہوئے لوگ حضرت ابراہیم کی نسل میں سے بنائے اور یہ اتنی بڑی منقب اور اتنی زیادہ عزت افزائی ہے کہ اس کی مثال نہیں ملتی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب) ” اور ہم نے عطا کئے اسے اسحاق اور یعقوب “ یعقوب یعنی اسحاق کے فرزند جن کو اسرائیل کہا جاتا ہے۔ ایک بڑے گروہ کے باپ جس کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت بخشی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
151 عطا و بخشش اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ پس بزرگی و کمال دراصل ہماری عطا و بخشش ہی پر موقوف ہے نہ کہ انسان کے اپنے کسب و اختیار پر۔ اور سب سے بڑا درجہ و مرتبہ جو کسی انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے وہ ہے نبوت و رسالت کا مرتبہ و مقام۔ جو کہ محض اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اس شرف و مرتبہ سے کس کو مشرف و سرفراز فرمائے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلُمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ اور انبیاء و رسل اس سب سے بڑے درجہ و مرتبہ سے سرفراز ہونے کے باوجود اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–89
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–91
رکوع نمبر 10 ۔ آیات 84 ۔ تا۔ 91 ۔
اسرار و معارف :
کمال انبیاء (علیہم السلام) :
ایک بہت بڑے مسئلے کو عام فہم زبان میں ایسے مضبوط دلائل کے ساتھ بیان کردینا بھی انعامات باری کی بہت بڑی دلیل ہے اللہ کریم اپنے احسانات میں شمار فرماتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ قوم کو اس طرح لاجواب کردینے وال ازور خطابت ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے عطا فرمایا تھا اور انبیاء کا کمال یہی ہوتا ہے کہ بہ تمشکل بات نہایت آسان الفاظ میں اور دلیل کے ساتھ ارشاد فرما دیتے ہیں ورنہ یوں تو فلاسفہ بڑی بڑی بحثیں لکھتے اور بیان کرتے ہیں مگر نہ آج تک کسی بات کا حتمی جواب دے سکے اور نہ عام آدمی ان کی بات کو سمجھ سکا یہ فرق اہل اللہ…
Read the full tafseer →ف 10 حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کو حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) یا دوسرے قول کے مطابق حضرت نوح ( علیہ السلام) کی ذریت میں شمار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ لڑکیوں کی اولاد بھی آدمی کی ذریت میں شمار ہوتی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کی نسبت صرف ماں کی طرف ہے ان کا باپ نہیں تھا، ( ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(6:84) ذریۃ ذر سے ۔ نسل۔ اولاد۔ ذرۃ ذرہ بھر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
لغات القرآن : آیت نمبر 84 تا 88 :
وھبنا (ہم نے عطا کیا) نجری (ہم بدلہ دیتے ہیں) فضلنا ( ہم نے بڑائی دی) اجتبیان ( ہم نے منتخب کرلیا۔ چن لیا) حبط ( ضائع ہوگیا)
تشریح : آیت نمبر 84 تا 88 :
حضرت ابراہیم ؐ نے اللہ کے بھروسے دل کے اطمینان سے مسلح ہو کر شرک کی طاقتوں کے خلاف توحید کا پرچم لے کر جس محنت ‘ قربانی اور بےخوفی کا مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے دوسرے انعامات کے علاوہ انہیں پیغمبروں کا جدا مجد بنادیا۔ یہاں پر جن سترہ پیغمبروں کے نا لئے گئے ہیں ان میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جد امجد تھے۔ پیغمبر ہونا ‘ پیغمبر کا باپ دادا وغیرہ ہونا ‘ پیغمبر کا بیٹا (بیٹی)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
نبیوں کی فضیلت کا ذکر
یہاں اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیاء کا ذکر فرمایا۔ اس ذکر میں نہ ترتیب زمانہ کے اعتبار سے ہے نہ فضیلت کے۔ لیکن عجیب شان سے ذکر فرمائے گئے ہیں وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی ہر ایک جماعت کو ایک خاص طرح کی کرامت و فضیلت کے ساتھ ممتاز فرمایا ہے۔ یعنی ہم نے ابراہیم، اسحق، یعقوب، داود، سلیمان، ایوب موسیٰ اور ہارون علیہم الصلوۃ والسلام کو مراتب عطا کئے اور سب کو ہدایے کی اور نوح کو بھی ہم نے ہدایت کی۔ نیکوں کو اسی طرح ہدایت کرتے ہیں اور ہم نے زکریا اور یحیٰ اور عیسیٰ اور الیاس علیہم لصلوۃ ولسلام کو ہدایت کی۔ یہ سب کے سب نیک بخت اور صالح تھے اور ہم نے ہدایت کی اسماعیل اور یسع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–89
[30] مطلب یہ ہے کہ اگر کفار و مشرکین اللہ کی ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو کریں۔ اللہ نے اہل ایمان کا ایسا گروہ پیدا کردیا ہے جو اس نعمت کی قدر کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حجت حق :
(ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز استدلال کی تعریف کی ہے اسے حجت حق اور برہان قرار دیا ہے ، اور پھر یہ بیان فرمایا ہے کہ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ یعنی توحید ہی رفع درجات کا سبب ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی تفرید وتجرید بہترین مشغلہ ہے ، وہ شخص جو مشرک ہے ، معرفت کے بام بلند تک اس کی رسائی ناممکن ہے ، کوئی نیکی اور کوئی عبادت اسے خدا تک نہیں پہنچا سکتی ، اور وہ جو توحید کا قائل ہے توحید پر عامل ہے ، اس کے لئے درجات و مراتب ہیں ، تشریف و تقرب ہے ، وہ اس قابل ہے ، کہ اللہ اسے اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔
حل لغات :
حجتنا : حجت کے معنی مضبوط اور ناقابل تردید دلیل کے ہیں ۔
Read the full tafseer →-85 اور نیز ہم نے اس کی اولاد میں سے زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ ابن مریم اور الیاس کو ہدایت سے نوازا تھا اور ان میں سے ہر ایک شائستہ اور نیک لوگوں میں سے تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Read the full tafseer →حضرت یحییٰ ، عیسیٰ اور الیاس (رح) کا تعلق بھی ذریت ابراہیم (علیہ السلام) ہی سے ہے :
132: زیر نظر آیت میں سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت میں شمار کیا گیا ہے۔ اب ذریت باپ سے ہوتی ہے یا ماں سے ؟ قابل غور ہے۔ اگر ذریت کا تعلق باپ سے ہے تو اس سے سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو بےباپ مان کر یا جبریل (علیہ السلام) کو باپ مان کر جیسا کہ علمائے اسلام میں سے اکثر نے تسلیم کیا ہے وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ذریت ابراہیم میں کس طرح داخل کریں گے یہ ان ہی سے پوچھ لیا جائے اور یہ بھی کہ عیسیٰ (علیہ السلام) غیر اسرائیلی ہو کر بنی اسرائیل کی طرف کیسے مبعوث ہوئے ؟ جب کہ عیسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
In the six verses (84-89) appearing after that, there is a list of seventeen blessed prophets, some of whom are the forefathers of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) while most are his progeny, with some being his brothers or nephews. On the one hand, described in these verses is their being Divinely guided, righteous in conduct and firm on the straight path, along with the fact that Allah Ta` ala has chosen and blessed has been stressed them to serve His religion. On the other hand, it has been stressed that, in return for the sacrifice of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) who had disassociated…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the…
Read the full tafseer →