Explained with ayahs 80–83
مشرکین کا توحید سے فرار
ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
سورة الْاَنْعَام 55
یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات والارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اول تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جو اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی، اور ان کو لاجواب کردیا، یہ ہمارا ہی انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل بتلا دئیے، کسی کو اپنی عقل و فہم یا تقریر اور زور خطابت پر ناز نہ ہونا چاہئے بغیر خدا تعالیٰ کی امداد و اعانت کے کسی کا بیڑا پار نہیں ہوتا، نری عقل انسانی ادراک حقائق کیلئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا ہے، کہ بڑے بڑے ماہر فلاسفر گمراہی کے راستہ پر پڑجاتے ہیں اور بہت سے اَن پڑھ جاہل صحیح عقیدہ اور نظریہ کے پابند ہوجاتے ہیں، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا
بے عنایاتِ حق و…
Read the full tafseer →تِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰهَآ اِبْرٰهِيْمَ عَلٰي قَوْمِهٖ ، یہ اشارہ توحید کی اس دلیل کی طرف ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم پر قائم فرمائی اور جو اوپر تفصیل سے مذکور ہوئی۔ اس کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ یہ ہے ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابل میں عطا فرمائی، اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جو لوگ اس کو حضرت ابراہیم ؑ کا فکری ارتقا سمجھتے ہیں ان کا خیال قرآن کے بالکل خلاف ہے یہ حضرت ابراہیم کے فکر کا ارتقا نہیں بلکہ اس کو کہہ سکتے ہیں تو ان کی دعوت کا ارتقا کہہ سکتے ہیں۔ اگر یہ حضرت ابراہیم کے فکر کا ارتقاء بیان ہوا ہوتا تو ‘ علی قومہ ’ کے الفاط کی ضرورت نہیں تھی۔
یہاں چند اور…
Read the full tafseer →83۔ 1 یعنی توحید الٰہی پر ایسی حجت اور دلیل، جس کا کوئی جواب ابراہیم ؑ کی قوم سے بن نہ پڑا۔ اور وہ بعض کے نزدیک یہ قول تھا (وکیف اخاف ما اشرکتم ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطنا فای الفریقین احق بالامن) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول کی تصدیق فرمائی اور کہا (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ) 6۔ الانعام :82)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 83۔
قبل اس کے کہ ہم آیات زیر بحث کو چھوڑ کر آگے بڑھیں ‘ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ صحابہ کرام ؓ اجمعین کی زندگی کے کچھ خوشگوار واقعات ناظرین کے سامنے رکھو ۔ ان پر قرآن کریم باران رحمت کی طرح اثر کر رہا تھا اور ان کے نفوس اس سے خوب سیراب ہو رہے تھے ۔ وہ اس قرآن کے ساتھ زندہ تھے اور قرآن کے لئے زندہ تھے ۔ وہ اپنی زندگی کو قرآن کریم کے اشاروں ‘ اس کے مفہومات ومدلولات کے ساتھ بدلتے اور ہم آہنگ کرتے چلے جاتے تھے ۔ اس کے تقاضوں کو پورے کرتے چلے جاتے تھے اور وہ نہایت ہی سنجیدگی ‘ نہایت ہی فہم و فراست اور نہایت ہی سختی کے ساتھ اسے لیتے تھے ۔ قرآن کریم کی خوبصورتی ‘ اثر آفرینی عملیت اور…
Read the full tafseer →7 یعنی ابراہیم کو ایسی دلائل قاہرہ دیکر ان کی قوم پر غالب فرمانا اور دنیا و آخرت میں سر بلند کرنا اسی علیم و حکیم کا کام ہوسکتا ہے جو ہر شخص کی استعداد و قابلیت کو جانتا ہے اور اپنی حکمت سے ہر چیز کو اس کے مناسب موقع و مقام پر رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 83 وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط
اسی آیت کا حوالہ موضوع کے آغاز میں آیا تھا۔ پوری سرگزشت بیان کرنے کے بعد اب فرمایا کہ یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم علیہ السلام کو اس کی قوم کے خلاف عطا کی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم سے جس انداز سے محاجہ کر رہے تھے اس کو توریہکہتے ہیں۔ توریہ سے مراد ایسا انداز گفتگو ہے جس میں جھوٹ بولے بغیر مخاطب کو مغالطے میں مبتلا کردیا جائے۔ مثلاً حضرت شیخ الہند رض کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک زمانے میں انگریز حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ شریف حسین والی مکہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
86 ابراہیم نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی ؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔ (نیز دیکھئے سورة بقرہ کی آیت نمبر 258 کا حاشیہ)
Read the full tafseer →123 ۔ ( اور اپنی انہی صفات حکمت کامل وعلم محیط کے ماتحت، جو کمال جس کے حال و استعداد کے مناسب ہوتا ہے، وہی اس کو عطا کرتا ہے) (آیت) ” تلک “۔ یعنی یہی مکالمہ ابراہیمی جو اوپر گزر چکا، اشارہ الی کلام تقدم (کبیر) اشارۃ الی جمیع ما احتج بہ ابراھیم (علیہ السلام) علی قومہ (کشاف) (آیت) ” علی قومہ “۔ یہ نہیں ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دلیل خود ان کے مقابلہ میں سجھائی گئی۔ بلکہ یہ ہے کہ ان کی قوم کے مقابلہ میں بتائی گئی، علی قومہ ہے علی نفسہ نہیں ہے، یہ بجائے خود اس امر کی تائید میں ہے کہ آپ شروع ہی سے موحد تھے، شرک کے خلاف کسی دلیل ضرورت آپ کو نہیں، آپ کی قوم کو تھی۔ (آیت) تلک حجتنا…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83 تا 90
ترجمہ : یہ ہماری حجت ہے جو ہم نے ابراہیم کو عطا کی (یعنی) ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حجت کی جانب رہنمائی کی جس سے ابراہیم نے اللہ کی وحدانیت پر تاروں کے غروب پونے اور مابعد سے استدلال کرکے اپنی قوم پر حجت قائم کی، تلک مبدل منہ اور حجتنا بدل ہے، بدل مبدل منہ سے ملکرمبتداء ہے اور آتینا ابراہیم مبتداء کی خبر ہے اور ہم جس کو چاہتے ہیں علم و حکمت میں درجات بلند کردیتے ہیں، (ترفع درجات) اضافت (یعنی بغیر تنوین) اور تنوین کے ساتھ ہے، بیشک تیرا رب اپنی صنعت میں باحکمت (اور) اپنی مخلوق کے حالات سے باخبر ہے، اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب ابن اسحاق دیا اور ہم نے ان میں سے ہر…
Read the full tafseer →وتلک اور یہ تلک سے فلما جن علیہ الَّیل سے مہتدونتک جس مضمون کو بیان کیا ہے اس کی طرف اشارہ ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو ستارے اور چاند سورج کو رب قرار دیا اور ان کے زوال کو دیکھ کر ان کی ربوبیت سے گریز کیا یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے اطمینان کے لئے مقام تفکر نہ تھا نفوس قدسیہ کو ان فکری استدلالات کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ قوم کو غلطی پر متنبہ کرنے کے لئے تھا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ تلک سے اس دلیل کی طرف اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم نے نمرود کے مقابلہ میں پیش کی تھی جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا ہے مگر یہ قول بعید از قرینہ ہے اوّل تفسیر ہی صحیح ہے۔
حجتنا…
Read the full tafseer →(83) یہ ہماری حجت تھی جو غیبی طور پر ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو دی جس کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا اور ہم تو قدرت منزلت اور حجت اور علم توحید جیسے امور میں جو اس کا اہل ہوتا ہے، اسے یہ فضائل عطا کردیتے ہیں اور آپ کا پروردگار اپنے اولیاء کو حجت کا الفاظ فرمانے میں حلیم اور اپنے اولیاء کی حجت اور اپنے دشمنوں کی سزا کے بارے میں خوب جاننے والا ہے۔
Read the full tafseer →وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ۔۔ : اس حجت سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو قوم کے مقابلے میں ابراہیم ؑ نے پیش کیے، یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلے میں ابراہیم ؑ کو عطا فرمائے تھے۔ اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ باتیں ان کے بچپن کے زمانے کی نہیں کہ آپ شرک سے درجہ بہ درجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں، کیونکہ اللہ کا نبی اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔
نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی چونکہ ابراہیم ؑ نے اپنی جان کی پروا نہیں کی اور اپنے آپ کو توحید کی دعوت دینے کے لیے وقف کردیا، اس لیے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانات فرمائے۔ دنیا ہی میں انھیں یہ انعام دیا کہ بڑھاپے میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
قولہ تعالیٰ : آیت : وتلک حجتنا اتینھا ابراھیم اس میں تلک آپ کے تمام دلائل کی طرف اشارہ ہے، یہاں تک کہ آپ نے ان کے ساتھ جھگڑا کیا اور آپ دلیل کے ساتھ ان پر غالب رہے۔ اور مجاہد نے کہا ہے : اس سے مراد آپ کا یہ قول ہے : آیت : الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم۔ (تفسیر طبری)
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آپ کی ان کے خلاف وہ دلیل ہے کہ جب انہوں نے آپ کو کہا : کیا آپ ڈرتے نہیں اس سے کہ ہمارے الٰہ آپ کو ہلاک کر دین گے اس لیے کہ آپ انہیں سب و شتم کرتے ہیں ؟ تو آپ نے ان کو جواب دیا : کیا تم ان سے ڈرتے نہیں جب کہ تم عبادت اور تعظیم میں چھوٹے اور بڑے کو مساوی قرار دیتے ہو، کہ بڑا غضب…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ربیع بن انس سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراھیم علی قومہ یعنی یہ آیت اس جھگڑے کے بارے میں ہے جو ابراہیم اور ان کی قوم کے درمیان تھا۔ اور یہ وہی جھگڑا ہے جو آپ کے اور اس جابر و سرکش حکمران نمرود کے درمیان تھا۔
(2) امام ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراہیم علی قومہ (اور وہ ہمارے) دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دی تھی ان کی قوم پر یعنی ان کے جھگڑا کرنے والوں پر۔
(3) امام ابو الشیخ نے مالک بن انس کے طریق سے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وتلک حجتنا اتینھا ابراہیم علی قومہ یعنی (یہ…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ [ اور یہ ] حُجَّتُنَآ [ ہماری حجت ہے ] اٰتَيْنٰهَآ [ جو ہم نے دی ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] عَلٰي قَوْمِهٖ ۭ [ ان کی قوم پر ] نَرْفَعُ [ ہم بلند کرتے ہیں ] دَرَجٰتٍ [ درجات کے لحاظ سے ] مَّنْ [ اس کو جس کو ] نَّشَاۗءُ ۭ [ ہم چاہتے ہیں ] اِنَّ [ یقینا ] رَبَّكَ [ آپ کا رب ] حَكِيْمٌ [ حکمت والا ہے ] عَلِيْمٌ [ جاننے والا ہے ]
Read the full tafseer →حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کی اقتدا کرنے کا حکم
اوپر حجت بیان کی جو ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ پرستوں کو پیش کی اور انہیں بتایا کہ غروب ہونے والا معبود نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ میں تمہارے معبود ان باطلہ سے نہیں ڈرتا۔ یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتادی اور ان کے دل میں ڈال دی۔ جس سے انہوں نے قوم کو سمجھایا اور قائل کردیا اور جواب سے عاجز کردیا۔ (وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے اس کے بعد فرمایا۔
(نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ) (ہم درجات کے اعتبار سے جس کو چاہیں بلند کردیتے ہیں) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سب ہی درجات عالیہ والے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →89 تِلْکَ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گذشتہ استدلال کی طرف اشارہ ہے۔ اشارۃ الی جمیع ما احتج بہ ابراھیم (علیہ السلام) علی قومہ (مدارک ج 2 ص 17) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے ضمن میں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کیونکہ آپ کی کلدانی اور بابلی پوری قوم مشرک تھی۔ آپ کے والد آزر خود بت تراش اور بت پرست تھے۔ آپ نے اپنے والد اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کے سامنے ستارے چاند اور سورج کی دلیل بھی پیش کی۔ باری باری ان تینوں کے متعلق فرمایا ‘ کیا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گئے تو آپ نے ان سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا ‘ اے میری قوم ! جن چیزوں کو زوال آجائے یا جن میں تغیر و تبدل واقع ہو ‘ وہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں ‘ چاند ‘ سورج اور ستارے طلو ع ہوتے ہیں۔ پھر غروب ہوجاتے ہیں تو میں ایسی چیزوں کو…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰہَآ اِبْرٰہِيْمَ عَلٰي قَوْمِہٖ 0ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ 0ۭ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ 83
حجة
: الدلالة المبيّنة للمحجّة، أي : المقصد المستقیم الذي يقتضي صحة أحد النقیضین . قال تعالی: قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] ، وقال : لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150] ، فجعل ما يحتجّ بها الذین ظلموا مستثنی من الحجة وإن لم يكن حجة، وذلک کقول الشاعر :
104-
ولا عيب فيهم غير أنّ سيوفهم ... بهنّ فلول من قراع الکتائب
ويجوز أنّه سمّى ما يحتجون به حجة، کقوله تعالی: وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–90
ترکیب : تلک مبتداء حجتنا موصوف اتیناھا صفت مجموعہ خبر علی متعلق ہے محذوف سے ای حجۃ علی قومہ درجات بالا ضافۃ والتنوین اول صورت میں یہ مفعول ہے نرفع کا دوسری میں من مفعول ہے اور درجات یا ظرف ہے یا حرف جر محذوف ہے ای الیٰ درجات۔ کلا منصوب ہے ھدینا سے ومن آباء ھم معطوف ہے کلا پر ای و فضلنا کلامن ابائہم او وھدینا کلامن ابائہم۔
تفسیر : فرماتا ہے یہ حجتیں ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں ہم نے دی تھیں۔ ہم جس کو چاہتے ہیں بلند مرتبہ کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے چودہ (14) انبیاء کا ذکر کیا اور ان کے جد امجد نوح (علیہ السلام) کا بھی ذکر کیا تاکہ یہ معلوم…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ذریعے ان کی قوم پر حجت قائم کر دی
وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰھَا اِبْرٰھِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (الانعام : 73)
(یہ ہے ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم پر قائم کرنے کے لیے بخشی ہم جس کو چاہتے ہیں درجے پر درجے بلند کرتے ہیں بیشک تیرا رب حکیم اور علیم ہے )
یہ بات ہم ایک سے زیادہ مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ مکی سورتوں کا موضوع عقائد کی اصلاح ہے اور عقائد میں بھی سب سے زیادہ اور سب سے پہلے عقیدہ توحید پر زور دیا جاتا ہے۔ کیونکہ باقی دونوں عقیدے اسی عقیدے سے پھوٹتے ہیں۔ اگر یہ عقیدہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو میں توحید کو امن کا ضامن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔
ایمان کی ابتدا اور انتہا توحید پر ہے باقی دین کے ارکان توحید کا تقاضا ہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی کو حصہ بنانا اس کی صفات میں کسی کو شریک سمجھنا پر لے درجے کا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا بنیادی معنی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّی ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ “ ” کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا۔ “
کسی ذات کو اللہ تعالیٰ کا حصہ یا جز قرار دینا جس…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) کو دلائلِ قاہرہ ہم نے دیئے :
آیت 83 : وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اس سے ان تمام دلائل کی طرف اشارہ ہے جن سے ابراہیم ( علیہ السلام) نے حجت پکڑی۔ اپنی قوم کے خلاف فلما جن علیہ الّیل سے وہم مہتدون تک۔ ٰاتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ یہ خبر کے بعد خبر ہے۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآئُعلم و حکمت میں۔
قراءت : درجات کو کوفی نے تنوین سے پڑھا ہے۔ اس میں معتزلہ کے اس قول کی تردید ہے کہ جو اصلح کے سلسلہ میں وہ کہتے ہیں۔ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ رفع کے ساتھ عَلِیْمٌ اہلیت کو جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →(83) (وتلک حجتنآ اتینھآ ابرھیم علی قومہ) حتی کہ جب ان سے جھگڑا ہوا تو دلیل میں غالب آگئے (نرفع درجت من نشآئ) علم کے ساتھ اہل کوفہ اور یعقوب رحمہما اللہ نے درجات کو یہاں اور سورة یوسف میں تنوین کے ساتھ پڑھا ہے یعنی درجے بلند کرتے ہیں ہم جس کے چاہیں علم اور سمجھ اور فضیلت اور عقل کے ساتھ جیسا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے درجات بلند کئے حتی کہ وہ ہدایت پا گئے اور توحید کی دلیل میں اپنی قوم پر غالب رہے۔ (ان ربک حکیم علیم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت ﷺ کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–83
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–87
151 عطا و بخشش اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے اور ہوسکتی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم جس کے چاہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ پس بزرگی و کمال دراصل ہماری عطا و بخشش ہی پر موقوف ہے نہ کہ انسان کے اپنے کسب و اختیار پر۔ اور سب سے بڑا درجہ و مرتبہ جو کسی انسان کے لئے ممکن ہوسکتا ہے وہ ہے نبوت و رسالت کا مرتبہ و مقام۔ جو کہ محض اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے وہی بہتر جانتا ہے کہ اس شرف و مرتبہ سے کس کو مشرف و سرفراز فرمائے ۔ { اَللّٰہُ اَعْلُمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ اور انبیاء و رسل اس سب سے بڑے درجہ و مرتبہ سے سرفراز ہونے کے باوجود اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے ہوتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–89
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →ف 2 اس حجت سے مراد وہ دلائل توحید ہیں جو قوم کے مقابلے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے پیش کئے یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلہ میں حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ باتیں عہد طفولیت کی نہیں ہیں کہ آپ شرک سے درجہ بدرجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں کیونکہ اللہ کا نبی معرفت الہی میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ (رازی)7 یعنی چونکہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی جان کو کوئی پروانہ کی اور اپنے آپ ﷺ کو توحید کی دعوت دینے کے لے وقف کردیا اس لئے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانا فرمائے دنیا ہی میں انہیں یہ انعام دیا کہ نیک اولاد سے نوازار اور ان کے بعد ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(6:82) لم یلبسوا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب لبس مصدر۔ انہوں نے نہیں ملایا۔ انہوں نے مخلوط نہیں کیا۔
آیت 82 پر حضرت ابراہیم کا کلام ختم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 83 :
حاج (جھگڑا کیا) اتحآ جونی (کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو) ھدن (اس نے مجھے ہدایت دی۔ (یہاں ” ی “ گر گئی) کیف اخاف (میں کیوں ڈروں) ‘ لم ینزل (نازل نہیں کی گئی) سلطان ( دلیل۔ وجہ ۔ سبب) ای الفریقین (دونوں جماعتوں میں سے کونسی ؟ ) احق ( زیادہ حق دار ہے) ‘ لم یلبسوا ( انہوں نے نہیں ملایا) نرفع ( ہم بلند کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 80 تا 83 :
ہر نظام کسی عقیدے پر قائم ہوتا ہے۔ اگر وہ عقیدہ ہی ہل جائے تو ویں سمجھ لیا جائے کہ کسی عمارت کے نیچے سے بنیادی پتھر کھینچ لیا گیا۔ نمرودی نظام میں بہت سے مصنوعی معبود تھے جن میں سب سے زیادہ اہمیت خود باشاہ وقت نمرود کی تھی۔ (یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو معبود جاننے کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ کے لئے دوزخی ہے، اور جو شخص اس حال میں کہ اس کے اعمال میں شرک نہیں ہے، اگر ایسا شخص شرک کے سوا اور گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں گیا بھی تو آخر کو ایسا شخص جنت میں جاوے گا۔ ظلم کے معنی '' شرک '' کے ہیں۔
مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ علم و عقل کی فضیلت کے ساتھ جسیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درجے بلند کئے کہ انہوں نے نمرود جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا۔ اسی طرح اے رسول اللہ کے ! اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھادے۔…
Read the full tafseer →[29] یعنی وہ الزامی حجت جو اپنی قوم کو قائل و معقول کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتائی تھی اور جس کا بیان اوپر گزر چکا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حجت حق :
(ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے طرز استدلال کی تعریف کی ہے اسے حجت حق اور برہان قرار دیا ہے ، اور پھر یہ بیان فرمایا ہے کہ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ یعنی توحید ہی رفع درجات کا سبب ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ کی تفرید وتجرید بہترین مشغلہ ہے ، وہ شخص جو مشرک ہے ، معرفت کے بام بلند تک اس کی رسائی ناممکن ہے ، کوئی نیکی اور کوئی عبادت اسے خدا تک نہیں پہنچا سکتی ، اور وہ جو توحید کا قائل ہے توحید پر عامل ہے ، اس کے لئے درجات و مراتب ہیں ، تشریف و تقرب ہے ، وہ اس قابل ہے ، کہ اللہ اسے اپنی آغوش رحمت میں لے لے ۔
حل لغات :
حجتنا : حجت کے معنی مضبوط اور ناقابل تردید دلیل کے ہیں ۔
Read the full tafseer →-83 اور توحید باری پر جو حجت اور دلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی اس کی حالت یہ ہے کہ یہ حجت اور یہ طریقہ استدلال ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا اور سکھایا تھا اور یہ ہماری وہ دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے علم و عمل کے درجے بلند کردیتے ہیں بلاشبہ آپ کا پروردگار کمال حکمت اور کمال علم کا مالک ہے یعنی ہر ایک کی صلاحیت اور استعداد کو جانتا ہے اور اسی کے موافق اس کو علمی اور عملی کمالات سے نوازتا ہے اور اس کے مرتبے بلند وبالا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Read the full tafseer →یہ وہ دلائل تھے جو ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کو قوم کے خلاف اللہ نے دیئے تھے :
130: قوم کو شرک کی دلدل سے نکالنے کے لئے یہ وہ عیمے الشان دلیل تھی جو اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے معبود ان باطل خواہ ارضی تھے یا سماوی کے خلاف عطا فرمائی اور اس طرح انہوں نے اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی اور پوری قوم کو لاجواب کردیا۔ فرمایا یہ ہمارا انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل وبراہین بھی بتلا دیئے اور معجزانہ طور پر ان کو روحانی مشاہدہ بھی کرادیا۔ بغیر اللہ تعالیٰ کی امداد و اعانت کے نری عقل انسانی ادراک حقائق کے لئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا…
Read the full tafseer →In the second verse (83), Allah Ta` ala has said that the triumph of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) in his debate against his people and in which he had silenced them was a blessing of Allah alone for He gave him a sound theory to propound and glowing arguments to employ. Let no one wax proud about his or her intelligence and understanding or art of discourse and power of oration as self-sufficient. Nothing crosses the barrier of possibility without the support and help of Allah Ta` ala. Bland human reason is not enough to comprehend realities. This is a matter of common observation in every…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the…
Read the full tafseer →