Explained with ayahs 80–83
مشرکین کا توحید سے فرار
ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
سورة الْاَنْعَام 55
یہ پوری تقریر اس بات پر شاہد ہے کہ وہ قوم اللہ فاطر السّمٰوات والارض کی ہستی کی منکر نہ تھی بلکہ اس کا اصلی جرم اللہ کے ساتھ دوسروں کو خدائی صفات اور خداوندانہ حقوق میں شریک قرار دینا تھا۔ اول تو حضرت ابراہیم ؑ خود ہی فرما رہے ہیں کہ تم اللہ کے ساتھ دوسری چیزوں کو شریک کرتے ہو۔ دوسرے جس طرح آپ ان لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے اللہ کا ذکر فرماتے ہیں، یہ انداز بیان صرف انہی لوگوں کے مقابلہ میں اختیار کیا جاسکتا ہے جو اللہ کے نفس وجود سے منکر نہ ہوں۔ لہٰذا ان مفسرین کی رائے درست نہیں ہے جنھوں نے اس مقام پر اور حضرت ابراہیم ؑ کے سلسلہ میں دوسرے مقامات پر قرآن کے بیانات کی تفسیر اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
جو لوگ (اللہ پر) ایمان رکھتے ہیں اور اپنے (اس) ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے، ایسوں ہی کے لئے (قیامت میں) امن ہے اور وہی (دنیا میں) راہ (راست) پر چل رہے ہیں (اور وہ صرف موحدین ہیں بخلاف مشرکین کے کہ گو بالمعنی اللغوی خدا پر ایمان رکھتے ہیں کیونکہ خدا کے قائل ہیں، لیکن شرک بھی کرتے ہیں جس سے ایمان شرعی منفی ہوجاتا ہے، جب موحدین قابل امن ہیں سو اس صورت میں خود تم ڈرو نہ کہ مجھ کو ڈراتے رہو، حالانکہ نہ تمہارے آلہہ ڈرنے کے قابل نہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا اور نہ دنیا کا خوف قابل اعتبار، اور تمہاری حالت تینوں اعتبار سے محل خوف ہے) اور یہ (حجت جو ابراہیم ؑ نے توحید پر قائم کی…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ الایۃ، ظلم سے مراد، جیسا کہ ایک سے زیادہ مقامات میں ہم واضح کر آئے ہیں، شرک ہے۔ اب یہ توحید کے باب میں اصل حقیقت کا بیان ہے کہ خدا کو ماننا صرف وہ معتبر ہے جو شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہو۔ جس ایمان کے اندر شرک کی ملاوٹ ہو وہ ایمان خدا کے ہاں معتبر نہیں۔ تم امن کا ضامن اپنے شرکا کو سمجھتے ہو اور خدا سے بےنیاز ہو حالانکہ امن کے سزوار وہ ہیں جو ہر معاملے میں صرف خدا پر اعتماد رکھتے ہیں اور شرک سے بری ہیں۔ یہی لوگ ہدایت پر ہیں، اس کے سوا ہر راہ گمراہی کی راہ ہے۔
Read the full tafseer →82۔ 1 آیت میں یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ ترجمہ سے واضح ہے حدیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام ظلم کا عام مطلب (کوتاہی اور غلطی، گناہ اور زیادتی وغیرہ) سمجھا، جس سے وہ پریشان ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر کہنے لگے، ہم میں سے کون شخص ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا ' اس ظلم سے مراد وہ ظلم نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ اس سے مراد شرک ہے جس طرح حضرت لقمان ؑ نے اپنے بیٹے کو کہا (اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) 31۔ لقمان :13) یقینا شرک ظلم عظیم ہے (صحیح بخاری)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–88
30: ایک صحیح حدیث میں آنحضرت ﷺ نے اس آیت میں لفظ ”ظلم“ کی تشریح شرک سے فرمائی ہے، کیونکہ ایک دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو ظلم عظیم قرار دیا ہے۔
Read the full tafseer →وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لئے خالص کرلیا اور اس ایمان میں انہوں نے کسی قسم کے شرک کو نہ ملایا ۔ نہ غیر اللہ کی اطاعت کی اور نہ اسلام کے سوا کوئی اور رخ اختیار کیا تو ایسے ہی لوگ مطمئن اور مامون رہیں گے اور صرف ایسے ہی لوگ راہ ہدایت پا سکتے ہیں ۔
یہی وہ محبت تھی جس کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ توفیق دی گئی کہ انہوں نے اپنے ساتھ مجادلہ کرنے والوں کے تمام دلائل کو رد کردیا ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سامنے یہ انکشاف کیا کہ ان کے تمام دلائل بودے ہیں ‘ الہوں کے بارے میں ان کے تمام تصورات غلط ہیں اور ان کا یہ وہم بھی فرضی ہے کہ انکے الہ حضرت ابراہیم…
Read the full tafseer →6 احادیث صحیحہ میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہاں ظلم کی تفسیر شرک سے فرمائی جیسا کہ سورة لقمان میں ہے اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ گویا ظلم کی تنوین تعظیم کے لئے ہوئی تو حاصل مضمون یہ ہوگا کہ مامون و مہتدی صرف وہ ہی لوگ ہوسکتے ہیں جو یقین لائے اس طرح کہ اس میں شرک کی ملاوٹ بالکل نہ ہو ' اگر خدا پر یقین رکھنے کے باوجود شرک کو نہ چھوڑا تو وہ نہ ایمان شرعی ہے نہ اس کے ذریعہ سے امن و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ وَہُوَکَمَا قَالَ (وَمَا يُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ باللّٰهِ اِلَّا وَهُمْ مُّشْرِكُوْنَ ) 12 ۔ یوسف :106) (چونکہ ایمان شرک کا جمع ہونا بظاہر مستعبد تھا اس لئے مترجم محقق قدس سرہ نے بغرض تسہیل…
Read the full tafseer →آیت 82 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ
یہاں لفظ ظلم قابل توجہ ہے۔ ظلم کسی چھوٹے گناہ کو بھی کہہ سکتے ہیں۔ اسی لیے اس لفظ پر صحابہ کرام رض گھبرا گئے تھے کہ حضور کون شخص ہوگا جس نے کبھی کوئی ظلم نہ کیا ہو ؟ اور نہیں تو انسان اپنے اوپر تو کسی نہ کسی حد تک ظلم کرتا ہی ہے۔ گویا اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کوئی شخص بھی اس شرط پر پورا نہیں اتر سکتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ‘ یہاں ظلم سے مراد شرک ہے ‘ اور پھر آپ ﷺ نے سورة لقمان کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں شرک کو ظلم عظیم قرار دیا گیا ہے : وَاِذْ قَالَ لُقْمٰنُ لابْنِہٖ وَہُوَ یَعِظُہٗ یٰبُنَیَّ لَا تُشْرِکْ باللّٰہِط…
Read the full tafseer →85 ظلم معنی شرک :۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ پر بہت گراں گزری (کیونکہ انہوں نے ظلم کو اس کے عام معنوں، معصیت یا زیادتی پر محمول کیا تھا) اور رسول اللہ سے عرض کیا کہ ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے کبھی ظلم نہ کیا ہو ؟ آپ نے انہیں بتایا کہ یہاں ظلم کا لفظ اپنے خاص معنوں یعنی شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسا کہ سورة لقمان میں آیا ہے کہ لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا کبھی شرک نہ کرنا کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر، نیز کتاب الایمان باب ظلم دون ظلم نیز کتاب الانبیائ۔ باب قول اللہ تعالیٰ واتخذ اللہ ابراہیم خلیلا…
Read the full tafseer →122 ۔ (اس دنیا میں بھی) یعنی راست روی صرف اہل توحید کا حصہ ہے، (آیت) ” بظلم “۔ جو معصیت ایمان کے منافی ہے وہ شرک ہے، یوں بھی سب سے بڑا ظلم جو انسان اپنی جان پر، اپنی عقل وضمیر اور روح پر کرسکتا ہے یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ ذات یا صفات میں کسی کو شریک ٹھیرالے۔ قرآن مجید میں بھی اسی کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (سورۂ لقمان) اور یہاں بھی ظلم کے یہی معنی حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت سلمان ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، وغیرہ جلیل القدر صحابیوں اور عکرمہ ؓ ، نخعی، ضحاک، ابن زید، علقمہ، قتادہ، مجاہد وغیرہ بہ کثرت تابعین سے مروی ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ حدیث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا…
Read the full tafseer →الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون جو لوگ (اللہ پر) ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم آمیز یعنی شرک آلود نہیں کیا انہی کے لئے عذاب سے حفاظت ہے اور وہی حق یا جنت کا راستہ پانے والے ہیں۔ حضرت عبداللہ ؓ بن مسعود کا بیان ہے کہ جب یہ آیت اتری تو مسلمانوں پر بڑی شاق گزری انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کون (باوجود مؤمن ہونے کے) اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا (پھر ہمارے محفوظ رہنے کی کیا شکل ہے) حضور ﷺ نے فرمایا ظلم سے مراد) شرک ہے۔ کیا تم نے لقمان کا وہ قول نہیں سنا جو انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا تھا : (یَا بُنَیَّ لاَ تُشْرِک باللّٰہِ اِنَّ الشِّرْکَ…
Read the full tafseer →(82) اگر خبر رکھتے ہو تو بتلاؤ مگر وہ کچھ بھی نہ بتلا سکے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے امن والی جماعت کو بیان فرما دیا کہ جو اپنے ایمان کو شرک ونفاق کے ساتھ نہیں ملاتا، وہ ہی اپنے معبود کی جانب سے امن والے ہیں، یا وہی لوگ قیامت کے دن امن والے ہوں گے اور ان ہی کو صحیح محبت کی طرف رہنمائی حاصل ہوگی۔
شان نزول : (آیت) ”الذین امنوا ولم“۔ (الخ)
اب ابی حاتم ؒ نے بواسطہ عبداللہ بن زجر، بکربن سوادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ دشمنوں کے ایک شخص نے مسلمانوں پر حملہ کیا اور ان میں سے ایک کو شہید کردیا اور پھر دوبارہ حملہ کرکے دوسرے کو شہید کردیا اور تیسری مرتبہ حملہ کیا تو تیسرے شخص کو بھی شہید…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا۔۔ : یہ آیت اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی ہوسکتا ہے اور ابراہیم ؑ کی بات کو مکمل کرنے والا حصہ بھی۔
تنوین اکثر تنکیر کے لیے ہوتی ہے، اس سے لفظ عام ہوجاتا ہے اور اس کا ہر فرد اس میں شامل ہوجاتا ہے، جیسے اس آیت میں مذکور ”بِظُلْمٍ“ کی تنوین کو تنکیر کے لیے لیں تو معنی ہوگا : ”وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو کسی ظلم کے ساتھ نہیں ملایا“ اور بعض اوقات وہ دوسرے معانی کے لیے بھی ہوتی ہے، جن میں سے ایک معنی تعظیم بھی ہے، جس سے اس لفظ کا بڑا فرد مراد ہوتا ہے۔ جیسے اسی آیت میں ”بِظُلْمٍ“ کی تنوین کو تعظیم کے معنی میں لیا جائے تو مطلب ہوگا : ”وہ لوگ جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر 81۔ 82
قولہ تعالیٰ : آیت : وکیف اخاف ما اشرکتم یہاں کیف میں انکار کا معنی ہے۔ یہ ان پر اس بات کا انکار ہے کہ وہ اسے بتوں سے ڈرا سکتے ہیں، حالانکہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے، یعنی میں کیسے ڈروں ان سے جو مردوہ ہیں، حالانکہ تم اس اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتے جو ہر شے پر قادر ہے۔
آیت : مالم ینزل بہ علیکم سلطنا اس میں سلطان کا معنی حجت اور دلیل ہے۔ اس پر بحث پہلے گزر چکی ہے۔ آیت : فای الفریقین احق بالامن یعنی دونوں فریقوں میں سے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن و سلامتی کا کون زیادہ حق دار ہے ؟ کیا موحد یا مشرک۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان فیصلہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا : آیت : الذین امنوا…
Read the full tafseer →(1) امام احمد بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، دارقطنی نے الافراد میں، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے عبد اللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم تو لوگوں پر یہ حکم بھاری گزرا۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہ کیا ہو آپ نے فرمایا یہ وہ نہیں ہے جو تم مراد لیتے ہو۔ کیا تم نے نہیں سنا نیک بندے نے کیا کہا کہ لفظ آیت ان الشرک لظلم عظیم اس سے مراد شرک ہے۔
(2) امام فریابی، ابن ابی شیبہ، حکیم ترمذی نے نوادرالاصول میں، ابن جریر، ابن منذر، ابو الشیخ اور ابن مردویہ نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] اٰمَنُوْا [ ایمان لائے ] وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا [ اور انہوں نے گڈمڈ نہیں کیا ] اِيْمَانَهُمْ [ اپنے ایمان کو ] بِظُلْمٍ [ ظلم کے ساتھ ] اُولٰۗىِٕكَ [ وہ لوگ ہیں ] لَهُمُ [ جن کے لئے ہے ] الْاَمْنُ [ سکون میں ہونا ] وَهُمْ [ اور وہ لوگ ہی ] مُّهْتَدُوْنَ [ ہدایت پانے والے ہیں ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓءِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَ ھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ) حضرت ابراہیم اور ان کی قوم کے ساتھ ان کا مکالمہ اور مباحثہ بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک مستقل قانون بتادیا اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان میں ظلم یعنی شرک کی ملاوٹ نہ کی تو ان کے لیے امن کی ذمہ داری ہے اور ان کے لیے یہ بات طے شدہ ہے کہ وہ امن سے رہیں گے اور یہ بھی طے شدہ ہے کہ وہ ہدایت پر ہیں۔ اہل ایمان کے بارے میں با امن ہونے کی بشارت دیدی جو ایمان اللہ کے ہاں معتبر ہے اس کے علاوہ جو عقائد و اعمال ہوں ان کے بارے میں کوئی کیسا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →88 یہ پہلے سوال کا جواب ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام ہے یا ادخال الٰہی ہے۔ ظلْم سے مراد شرک ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری ج 2 ص 666 میں ہے جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرام نے گھبرا کرحضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا یارسول اللہ ہم میں سے کون ہے جس نے ظلم و زیادتی نہ کی ہو اس پر سورة لقمان کی آیت اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْم نازل ہوئی۔ یعنی امن و سلامتی صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی توحید کو مانا اور پھر اس میں ذرہ برابر شرک کی ملاوٹ نہ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے سلسلے میں اپنے والد اور قوم کے سامنے ستارے ‘ چاند اور سورج کے تغیر و تبدل کو بطور دلیل پیش کیا ‘ اور فرمایا غائب ہوجانے والی چیزیں الہ نہیں بن سکتیں لہٰذا میں شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں معبود تو وہ ہو سکتا ہے جو ازلی ‘ ابدی ‘ قائم اور دائم ہو اور وہ صرف ذات باری تعالیٰ ہے جن چیزوں کی تم پرستش کرتے ہو وہ تو مخلوق ہیں ‘ ان کو زوال آتا ہے مگر تم ان کو معبودمشکل کشا اور حاجت رو ا مان کر …شرک کا ارتکاب کرتے ہو ‘ میں اس معاملہ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا میں نے تو اپنا رخ یعنی جسم و جان اس مالک الملک کی طرف پھیرلیا ہے جو زمین و آسمان…
Read the full tafseer →اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَ 82ۧ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو
1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ
2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…
Read the full tafseer →آیت : 82 اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِکَ لَھُمُ الْاَمْنُ وَھُمْ مُّھْتَدُوْنَ ۔
(جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ‘ وہی لوگ ہیں ‘ جن کے لیے امن اور چین ہے اور وہی راہ یاب ہیں)
توحید کے باب میں یہ آخری بات ہے ‘ جس سے عقیدہ توحید کی نزاکت کا احساس ہوتا ہے کہ خدا کو مان لینا اور اس کی کسی حد تک عبادت بھی کرلینا ‘ اس کا اعتبار اس وقت تک نہیں ہوسکتا اور اللہ کے یہاں اس کی کوئی قدر و قیمت اس وقت تک نہیں ہوسکتی تاوقتیکہ آدمی ہر طرح کے ظلم سے اپنے آپ کو محفوظ نہ رکھے۔ ظلم سے مراد یہاں ہر طرح کی کوتاہی نہیں اور نہ حدود سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی گفتگو میں توحید کو امن کا ضامن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے عقیدۂ توحید کے تقاضے پورے کیے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا۔
ایمان کی ابتدا اور انتہا توحید پر ہے باقی دین کے ارکان توحید کا تقاضا ہیں۔ توحید یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی کو شریک نہ سمجھے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا کسی کو حصہ بنانا اس کی صفات میں کسی کو شریک سمجھنا پر لے درجے کا ظلم ہے۔ کیونکہ ظلم کا بنیادی معنی یہ ہے ” وَضْعُ الشَّی ءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ “ ” کسی چیز کو اس کے اصلی مقام سے ہٹا کر دوسری جگہ رکھنا۔ “
کسی ذات کو اللہ تعالیٰ کا حصہ یا جز قرار دینا جس…
Read the full tafseer →شرک سے بچنے والا مامون ہے :
آیت 82 : اَلَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَہُمْ بِظُلْمٍ شرک کے ساتھ یہ صدیق اکبر ؓ نے تفسیر فرمائی۔ اُولٰٓپکَ لَہُمُ الْاَمْنُ وَہُمْ مُّہْتَدُوْنَابراہیم ( علیہ السلام) کا کلام مکمل ہوا۔
Read the full tafseer →( 82) (الذین امنوا ولم یلبسوآ ایمانھم بظلم) اپنے ایمان میں شرک کو نہیں ملایا (اولئک لھم الامن وھم مھتدون)
ولم یلبسوا ایمانھم بظلم کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ ” الذین امنوا ولم یلبسوا ایمانھم بظلم “ نازل ہوئی تو مسلمان پر یہ بہت گراں گزری اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! (ﷺ ) ہم میں سے کون ایسا ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا آیت میں ظلم سے شرک مراد ہے کیا تم نے وہ نہیں سنا جو لقمان (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا (بینی لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم) (اے میرے بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا، بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے)
Read the full tafseer →اس آیت میں ظلم کی تفسیر خود آنحضرت نے فرمادی ہے کہ ظلم سے مطلب یہاں شرک ہے چناچہ صحیح بخاری ومسلم میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ نے ظلم کے معنے عام گناہ کے سمجھے اور صحابہ پر یہ آیت بہت شاق گذری اور انہوں آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ جب امن ان ایمانداروں کی قیامت کے روز ملے گا جنہوں نے اپنے ایمان میں گناہوں کی آمیزش نہ کی ہو تو ہم میں تو کوئی ایسا نہیں ہے جو گنہگار نہ ہو آپ نے فرمایا جو تم لوگ نے گمان کیا ہے آیت کا وہ مطلب نہیں ہے بلکہ آیت میں ظلم سے مطلب شرک ہے کیا تم نے لقمان کا یہ قول نہیں سنا کہ سب سے بڑا ظلم شرک ہے غرض خود صاحب وحی ﷺ کے فرمانے سے حاصل معنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–83
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق
قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
146 غیر اللہ سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے : سو حضرت ابراہیم نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میں ان بےحقیقت چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے اس خدا کا شریک ٹھہرا دیا ہے جو کہ خالق ومالک، معبود برحق، قادر مطلق اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ تو ایسے میں تمہارے ان خودساختہ شریکوں سے ڈرنا محض توہم پرستی ہے جن کی کوئی حقیقت اور بنیاد سرے سے ہے ہی نہیں۔ بلکہ ڈرنا صرف اس اللہ سے چاہیے جو کہ سب کا خالق ومالک ہے اور جس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور اور ہر قسم کا نفع و نقصان ہے۔ پس ہمارا بھروسہ اسی پر ہے اور ہر مومن کا بھروسہ اسی پر ہونا چاہیے کہ اس ساری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–89
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت، اللہ کی مہربانیاں اور خوشخبری
تشریح : ان آیات میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی تعلیمات، ان کی فضیلت اور پھر ایمان کی برکتیں، ان برکتوں میں سکون قلب کے علاوہ نیک آباؤ اجداد، آل اولاد اور عزیز و اقربا بھی شامل ہیں آخر میں آنحضرت ﷺ کو خوشخبری دی گئی ہے۔
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے بارے میں کچھ معلومات پچھلی آیات میں دی گئی ہیں۔ سب سے بڑی فضیلت جو رب تعالیٰ نے ان کو دی وہ تھی راہ ہدایت کا تحفہ، پھر ان کی تعلیمات جن کی بنیاد توحید، یعنی اللہ کا واحد ہونا۔ اس کے ساتھ کسی بھی چیز، مخلوق یا نباتات و حیوانات کو شریک نہ کرنا۔ اللہ بس ایک ہی ہے ہمیشہ سے ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →ف 5 یہ اللہ تعالیٰ کارشاد بھی ہوسکتا ہے اور حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کے قول کی تکمیل بھی، بخاری ومسلم میں حضرت عبد اللہ ؓ بن مسعود سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نال ہوئی تو صحا بہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ ہم میں ایسا کون ہے جس نے اپنے آپ پر ظلم نہ کیا ہو (یعنی کسی گناہ کا ارتکاب نہ کیا ہو) نبی ﷺ نے فرمایا اس کا مطلب وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو بلکہ ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ان الشرک لظلم عظیم کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے (بخاری) پس یہ شرک ظلم عظیم ہے خواہ وہ دلائل توحید رب العالمین میں یا رسالت سید المر سلین ﷺ میں (سلفیہ بحوالہ ابن کثیر )
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
(6:82) لم یلبسوا۔ مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ صیغہ جمع مذکر غائب لبس مصدر۔ انہوں نے نہیں ملایا۔ انہوں نے مخلوط نہیں کیا۔
آیت 82 پر حضرت ابراہیم کا کلام ختم ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 83 :
حاج (جھگڑا کیا) اتحآ جونی (کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو) ھدن (اس نے مجھے ہدایت دی۔ (یہاں ” ی “ گر گئی) کیف اخاف (میں کیوں ڈروں) ‘ لم ینزل (نازل نہیں کی گئی) سلطان ( دلیل۔ وجہ ۔ سبب) ای الفریقین (دونوں جماعتوں میں سے کونسی ؟ ) احق ( زیادہ حق دار ہے) ‘ لم یلبسوا ( انہوں نے نہیں ملایا) نرفع ( ہم بلند کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 80 تا 83 :
ہر نظام کسی عقیدے پر قائم ہوتا ہے۔ اگر وہ عقیدہ ہی ہل جائے تو ویں سمجھ لیا جائے کہ کسی عمارت کے نیچے سے بنیادی پتھر کھینچ لیا گیا۔ نمرودی نظام میں بہت سے مصنوعی معبود تھے جن میں سب سے زیادہ اہمیت خود باشاہ وقت نمرود کی تھی۔ (یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو معبود جاننے کی حالت میں بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ کے لئے دوزخی ہے، اور جو شخص اس حال میں کہ اس کے اعمال میں شرک نہیں ہے، اگر ایسا شخص شرک کے سوا اور گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں گیا بھی تو آخر کو ایسا شخص جنت میں جاوے گا۔ ظلم کے معنی '' شرک '' کے ہیں۔
مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ علم و عقل کی فضیلت کے ساتھ جسیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درجے بلند کئے کہ انہوں نے نمرود جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا۔ اسی طرح اے رسول اللہ کے ! اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھادے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
[28] یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ ایک صادق الخیال انسان سے بت پرستی کی کوئی توقع نہیں ، کی جاسکتی ، وہ جانتا ہے کہ یہ بےجان عقیدہ ہے ، اور یہ معبود ان باطل کسی طرح کا گزند نہیں پہنچا سکتے ۔
(آیت) ” مالم ینزل بہ علیکم سلطنا “۔ سے غرض یہ ہے ، کہ شرک کی تائید میں عقل وفکر کے لئے قطعا گنجائش نہیں ۔
Read the full tafseer →-82 جو لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے اور اپنے ایمان میں شرک کی آمیزش نہیں کی اور اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو مخلوط نہیں کیا تو یہی لوگ صاحبان امن ہیں اور انہی کے لئے بےخوفی اور دل جمعی ہے اور یہی لوگ راہ یافتہ اور سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں یعنی آخرت میں کوئی خوف و خطر نہیں اور دنیا میں سیدھی راہ اختیار کرنے والے اور صحیح راہ یافتہ ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–89
ف 7۔ مطلب یہ کہ ڈرنا چاہیے تم کو پھر مجھ کو الٹا ڈراتے ہو۔
Read the full tafseer →جو لوگ ایمان لائے اور شرک کی دلدل میں نہ پھنسے راہ انہیں کی درست ہے :
129 : اب ارشاد فرمایا کہ عذاب الٰہی سے مامون و مطمئن صرف وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ پر ایمان لائیں اور پھر اپنے ایمان میں کسی ظلم کی ملاوٹ نہ کریں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوتی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بہت پریشان ہوئے اور نبی اعظم و آخر ﷺ کی خدمت میں عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے کون ہے جس نے آپ پر ظلم نہ کیا ہو ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس جگہ ظلم سے مراد ہر گناہ نہیں بلکہ اس سے مراد (شرک) کا خاص گناہ ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے دوسری جگہ شرک کو ہی ظلم عظیم قرار دیا ہے…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses was the debate Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) had held with his father, 'Azar, and with his entire Nimrudic people. There, after having conclusively refuted their worship of idols and stars, he had addressed his people by telling them in effect: You threaten me that your idols will destroy me if I refuse to accept their authority, although these idols do not have the power to do so, nor have I done anything as a result of which I may be hit by some hardship. In fact, it is you who should be trembling in fear for you have committed a crime as…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–87
55. This entire section shows that those people did not deny the existence of God as the creator of the heavens and earth. Their real guilt was that they associated others in His attributes and His rights over man. In the first place, Abraham himself clearly states that they associated others with God as His partners. In the second place, the way in which Abraham mentions God in addressing these people is suitable only for a people who did not deny the existence of God. We must, therefore, regard as incorrect the opinion of those Qur'anic commentators who try to explain this verse on the…
Read the full tafseer →