Al-An'aam 6:79

Al-An'aam · from ayah 79

6:79

اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ ۟ۚاِنِّىۡ وَجَّهۡتُ وَجۡهِىَ لِلَّذِىۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضَ حَنِيۡفًا‌ وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ‌ۚ‏

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, inclining toward truth, and I am not of those who associate others with Allah."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 9 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:79

میں نے تویکسو ہو کر اپنا رخ اُس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں نے سب سے یکسو ہو کر اپنے تئیں اسی ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا یکسو ہو کر، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں نے تو پوری طرح یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے ایک اسی کا ہوکر اور میں مشرکین میں نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک میں نے اپنا رُخ (ہر سمت سے ہٹا کر) یکسوئی سے اس (ذات) کی طرف پھیر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بے مثال پیدا فرمایا ہے اور (جان لو کہ) میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک میں نے اپنا چہرہ اس کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، ایک (اللہ کی) طرف ہو کر اور میں مشرکوں سے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں نے تو اپنا چہرہ یکسو ہو کر اس ذات کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں تو اپنا رخ بالکل یکسو ہو کر اس کی طرف کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں تو مشرکوں میں نہیں ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک میں نے موڑ دیا اپنا رخ اس (معبود حقیقی) کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین (کی اس حکمتوں بھری کائنات) کو، یکسو ہو کر اور میرا کوئی لگاؤ نہیں مشرکوں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

یقیناً میں نے تو اپنا رخ یکسو ہو کر اس کی طرف کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں نے سب سے ایک طرف ہو کر اپنے آپ کو اسی ذات کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Behold, I have turned my face in exclusive devotion to the One Who originated the heavens and the earth, and I am certainly not one of those who associate others with Allah in His divinity.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I have, indeed, turned my face straight towards the One who created the heavens and the earth, and I am not one of those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani

I have, indeed, turned my face straight towards the One who created the heavens and the earth, and I am not one of those who associate partners with Allah.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, I have turned my face towards Him Who has created the heavens and the earth, Hanifan, and I am not of the idolators."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! I have turned my face toward Him Who created the heavens and the earth, as one by nature upright, and I am not of the idolaters.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, inclining toward truth, and I am not of those who associate others with Allah."

— Saheeh International

I have up-rightly submitted myself to the One who has created the heavens and the earth and I am not an idol worshipper."

— Muhammad Sarwar

Surely I have turned myself, being upright, wholly to Him Who originated the heavens and the earth, and I am not of the polytheists.

— Muhammad Habib Shakir

Verily I have set my countenance towards Him who hath created the heavens and the earth, upright, and am not of the associaters.

— Abdul Majid Daryabadi

"For me, I have set my face, firmly and truly, towards Him Who created the heavens and the earth, and never shall I give partners to Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:79

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–79

ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة الْاَنْعَام 53 ”یہاں حضرت ابراہیم ؑ کے اس ابتدائی تفکر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ان کے لیے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک صحیح الدماغ اور سلیم النظر انسان، جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں، اور جسے توحید کی تعلیم کہیں سے حاصل نہ ہوسکی تھی، کس طرح آثار کائنات کا مشاہدہ کر کے اور ان پر غور و فکر اور ان سے صحیح استدلال کر کے امر حق معلوم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اوپر قوم ابراہیم ؑ کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–81

تبلیغ و دعوت میں حکمت و تدبیر سے کام لینا سنت انبیاء ہے فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا، یعنی ایک رات میں جب تاریکی چھاگئی اور ایک کو کب یعنی ستارہ پر نظر پڑی تو اپنی قوم کو سنا کر کہا کہ یہ ستارہ میرا رب ہے، مطلب یہ تھا کہ تمہارے خیالات و عقائد کی رو سے یہی میرا اور تمہارا رب یعنی پالنے والا ہے، اب تھوڑی دیر میں اس کی حقیقت دیکھ لینا۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو قوم پر حجت قائم کرنے کا واضح موقعہ ہاتھ آیا، اور فرمایا لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ، آفلین کا یہ لفظ افول سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں غروب ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ میں غروب ہوجانے والی چیزوں سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اعلان براءت اور توحید کا زندہ جاوید کلمہ : اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ، یہ اس اعلانِ براءت کی تعبیر اور اس کا کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں نے تمام معبودان باطل سے کٹ کر اور بالکل یکسو ہو کر اپنا رخ اس رب کی طرف کرلیا ہے جو تمام آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔ اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔ لِلَّذِيْ کا ‘ ل ’ اس بات پر دلیل ہے کہ وَجَّهْتُ کا لفظ اَسْلَمْتُ کے مضمون پر بھی مشتمل ہے۔ یعنی میں نے اپنے آپ کو بالکلیہ آسمان و زمین کے خالق ومالک کے حوالہ کردیا۔ یہ توحید اور اسلام کی عظیم آیت اور ملت ابراہیمی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

79۔ 1 رخ یا چہرے کا ذکر اس لئے کیا ہے کہ چہرے سے ہی انسان کی اصل شناخت ہوتی ہے مراد اس سے شخص ہی ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میری عبادت اور توحید سے مقصود اللہ عزوجل ہے جو آسمان اور زمین کا خالق ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–79

28: حضرت ابراہیم ؑ عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا، حضرت ابراہیم ؑ شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے اور شرک سے بیزار تھے، لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور وفکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی، مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں پروردگار ہے، آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں ؟ چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی اور آخر میں سورج بھی تو ہر موقع…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–79

(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ ہَـذَا أَکْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (78) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (79) ” پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی ساری مخلوق سے یک سو ہو کر صرف خالق جل و علیٰ کا دروازہ پکڑ لیا ہے جس کے قبضہ اقتدار میں سب علویات و سفلیات ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 77–79

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔ گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 77–79

82 انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ :۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

118 ۔ (آیت) ” وجھت وجھی “۔ توجیہ وجہ یارخ کے یکسو کرنے سے مراد طاعت ہے نہ کہ لفظی معنی۔ توجیہ الوجہ الیہ کنایۃ عن الطاعۃ (کبیر) (آیت) ” للذی “۔ عام قاعدہ کا مقتضا تھا کہ یہاں الی الذی ہوتا۔ لیکن الی سے معنی سمت وجہت اور مادی مرکزیت کے پیدا ہوتے ہیں، اور حق تعالیٰ جسمیت اور جہت سے ماوراء ومنزہ ہے اس لئے بجائے الی کے صرف، ل، لایا گیا، ترک کلمۃ الی ھنا والا کتفاء بحرف اللام دلیل ظاھر علی کون المعبود متعالیا عن الحیز والجھۃ (کبیر) (آیت) ” فطر “۔ یعنی انہیں عدم سے وجود میں لایا۔ ومعنی فطر اخرجھما الی الوجود (کبیر) (آیت) ” حنیفا “۔ حنیف وہ ہے جو اور ہر معبود سے یکسو ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف جھک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انی وجہت وجہی للذی فطر السموت والارض حنیفا وماانا من المشرکین : میں سب کو چھوڑ کر اپنا منہ اس کی طرف موڑتا ہوں جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا اور میں اس کے ساتھ کسی اور کو ساجھی قرار دینے والوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی آسمان اور اس کی ساری کائنات اور زمین اور اس کی تمام موجودات اپنے وجود میں ایسی واجب الوجود ہستی کی محتاج ہیں جو ان کو عدم سے وجود میں لانے والی ہیں میں نے اسی کی طرف اپنا رخ پھیرلیا اور تمام مذاہب کو چھوڑ کر اسی کی اطاعت اختیار کرلی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(79) غار سے آپ سترہ سال کی عمر میں آئے تھے، آپ نے آسمان و زمین کی طرف دیکھا اور فرمایا کہ میرا پروردگار تو وہی ہے کہ جس نے ان کو پیدا کیا، پھر اپنی قوم کے پاس گزر ہوا تو وہ بتوں کی پوجا میں مصروف تھے تو ان سے فرمایا کہ علی الاعلان میں تمہارے شرک سے علیحدگی ظاہر کرتا ہوں، قوم نے کہا تو پھر ابراہیم تم کس کی عبادت کرتے ہو، فرمایا میں اپنے اعتقاد اور عمل کو خالص اسی ذات کے لیے کرتا ہوں جو کہ آسمان و زمین کا خالق ہے اور تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 76–79

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ۔۔ : ابراہیم ؑ کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی، جن میں بت، سورج، چاند اور ستارے بھی تھے بلکہ بادشاہ بھی ان کا رب تھا۔ ابراہیم ؑ نے ان سب چیزوں کے معبود نہ ہونے کے ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بتوں کے معبود نہ ہونے کو انھوں نے بت توڑ کر ثابت کیا۔ بادشاہ سے ایسی مدلل بات کی کہ آخر وہ ”فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ“ بالکل لاجواب ہوگیا۔ یہاں زیر تفسیر آیات میں ان کا اپنی قوم کے ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کے معبود نہ ہونے پر مناظرے کا ذکر ہے۔ چناچہ ایک رات ابراہیم ؑ نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا : ”یہ میرا رب ہے۔“ یقیناً وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 79–80

آیت نمبر 79 قولہ تعالیٰ آیت : انی وجھت وجھی یعنی میں نے اپنی عبادت اور توحید سے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کا قصد کیا۔ آیت میں الوجہ کا ذکر کیا کیونکہ چہرہ ان اعضاء میں سے زیادہ ظاہر ہے جن سے انسان پہچانا جاتا ہے۔ حنیفا اس کا معنی ہے حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ آیت : وما انا من المشرکین یہ ما کا اسم اور خبر ہے۔ اور جب تو وقف کرے تو کہے : انا تو تو نے بیان حرکت کے لیے الف کا اضافہ کردیا اور یہی صحیح لغت ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أن۔ اور کسائی نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أنہ یہ تین لغات ہیں۔ اور حالت وصل میں تین لغات ہیں کہ درج کلام میں الف کو حذف کردیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–79

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض سے مراد سورج چاند اور ستارے ہیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ کھول دیا گیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تھا یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھا ایک چٹان اور وہ چٹان ایک مچھلی پر تھی اور یہ مچھلی وہی ہے جس میں سے لوگوں کا کھانا ہے اور مچھلی ایک زنجیر میں تھی اور زنجیر عزت والی انگوٹھی میں ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنِّىْ [ بیشک میں نے ] وَجَّهْتُ [ رخ کیا ] وَجْهِيَ [ اپنے چہرے کا ] لِلَّذِيْ [ اس کی طرف جس نے ] فَطَرَ [ وجود بخشا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] حَنِيْفًا [ یکسوہوتے ہوئے ] وَّمَآ اَنَا [ اور میں نہیں ہوں ] مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ [ شریک کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–79

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو مختلف عنوانات سے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اس کے ذیل میں ستارہ پرستوں سے بھی خطاب فرمایا۔ علامہ ابن کثیر دمشقی البدایہ والنہایہ ج 1 ص 401 میں لکھتے ہیں کہ دمشق اور اس کے آس پاس کے لوگ کو اکب سبعہ (سات ستاروں) کی عبادت کیا کرتے تھے۔ دمشق کے سات دروازے تھے اور وہاں میلے لگاتے تھے۔ اور بھینٹ اور نذرانے چڑھاتے تھے۔ (کو اکب سبعہ سے شمس۔ قمر۔ زحل۔ عطارد۔ مریخ۔ مشتری۔ اور زہرہ مراد ہیں) ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جو یہاں قرآن مجید میں مذکور ہے۔ اپنے علاقے سے ہجرت کرنے کے بعد دمشق کے آس پاس کہیں پیش آیا واقعہ یہ ہے کہ ان کو ایک چمکدار ستارہ نظر آیا صاحب روح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–90

ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔ قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

84 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ سورج نکل آیا ہے تو فرمایا یہ ان سب سے بڑا ہے کیا میرا رب ہے ؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اب میری حجت تم پر قائم ہوچکی اور تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے معبود کس قدر ناپائیدار ہیں اسلیے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ الخ میں تو اس سے پہلے باطل معبودوں سے منہ موڑ کر اپنا چہرہ اس منزہ صفات کی طرف پھیر چکا تھا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں نے کبھی مشرکین کا عقیدہ قبول نہیں کیا۔ فائدہ : مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے ابتداء میں اپنی بعض کتابوں میں لکھا تھا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور اس دلیل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے شرک کی تردید میں مشرکین کے سامنے پیش کی۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور مسلک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے پھر اگلی آیات میں قوم سے جھگڑا کرنے کا ذکر ہوگا۔ پھر انبیاء کا مسلک بیان ہوگا جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا مسلک ہے۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کو دھیان میں لائو ‘ جب انہوں نے اپنے والد آزر سے کہا تھا کہ کای تو بتوں کو الٰہ بناتا ہے۔ میں تجھے اور تیری قوم کے لوگوں کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنِّىْ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ۝ 79ۚ وجه أصل الوجه الجارحة . قال تعالی: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] ( و ج ہ ) الوجہ کے اصل معیج چہرہ کے ہیں ۔ جمع وجوہ جیسے فرمایا : ۔ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ [ المائدة/ 6] تو اپنے منہ اور ہاتھ دھو لیا کرو ۔ فطر أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا، يقال : فَطَرَ فلان کذا فَطْراً ، وأَفْطَرَ هو فُطُوراً ، وانْفَطَرَ انْفِطَاراً. قال تعالی: هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] ، أي : اختلال ووهي فيه، وذلک قد يكون علی سبیل الفساد، وقد يكون علی سبیل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–82

ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو 1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ 2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 76–81

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًا ج قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ھٰذَآ اَکْبَرُ ج فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 76۔ 77۔ 78) (پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–80

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مثبت انداز میں تذکرئہ توحید : آیت 79 : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔ یعنی اس ذات کے لیے کہ یہ محدثات دلالت کرتے ہیں کہ وہی ان کا بنانے والا ہے۔ حَنِیْفًایہ حال ہے یعنی تمام ادیان سے اسلام کی طرف مائل ہونے والا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو اس کی مخلوقات میں سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–79

(74 ۔ 79) ۔ مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار رہ کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیونکر بتلاسکتے ہیں۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار تارے مشتری یا زہرہ کو اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربی جو کہا یہ قول انکا اس بچے پنے کے زمانہ کا ہے جس وقت تک ان کو توحید اور احکام شرع معلوم نہ تھے یا بڑی عمر میں اپنے باپ اور قوم کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–83

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔ (وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 76–82

ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 79–80

141 اس کائنات کا خالق ہی معبود برحق ہے : سو حضرت ابراہیم نے اعلان فرمایا کہ بیشک میں نے اپنا رخ موڑ دیا اس معبود برحق کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو۔ اور جب اس کی حکمتوں بھری اس کائنات کی پیدائش میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ بہرکیف اس موقع پر پہنچ کر حضرت ابراہیم نے صاف اور صریح طور پر اپنی قوم سے براءت اور بیزاری کا اعلان کردیا کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 74–81

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–83

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83: اسرار و معارف : جن مسلط ہونا : امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 11 س سے منہ موڑ کر کسی اور کے در پر بیٹھ رہنے میں جہالت گمراہی اور دنیا و آخرت کی تباہی کو سوا کچھ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:79) وجھت۔ ماضی معروف واحد متکلم ۔ توجیہ مصدر (باب تفعیل) میں نے اپنا رخ پھیرلیا۔ فطر۔ فطر مصدر۔ وہ عدم سے وجود میں لایا۔ اس نے پیدا کیا۔ فطر کے اصل معنی پھاڑ دینے کے ہیں یعنی عدم کے پردہ کو پھاڑ کر وجود میں لایا۔ حنیفا۔ الحنف کے معنی گمراہی سے استقامت کی طرف مائل ہونے کے ہیں۔ الحنیف بروزن (فعیل) جو باطل کو چھوڑ کر حق و استقامت کی طرف آجائے۔ اس کی جمع حنفاء ہے۔ حنیف حنف سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–79

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 : نری (ہم دکھائیں گے) ملکوت ( نظام کائنات) الموقنین ( یقین کرنے والے) ‘ جن (چھا گیا) را ( اس نے دیکھا) ‘ کوکبا (ستارہ) ‘ وجھت ( میں نے چہرہ کرلیا۔ میں نے رخ کرلیا) ‘ فطر (اس نے بنایا۔ اس نے پیدا کیا) حنیفا (سب سے الگ۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 : ستارے ‘ چاند اور سورج۔ ان کے باری باری آنے اور غروب ہونے کا انداز کوئی انوکھا یا نیا نہیں ہے۔ ہر شخص ہر شب و روز دیکھا تا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ مگر ایک خاص وقت پر ہی یہ کھٹک کیوں ؟ اس کا ایک جواب تو شروع آیت ہی میں دیدیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–79

پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 78–80

سیر ملکوت : (ف 1) ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے انتقالات ذہنی یا واردات توحید کا بیان کیا گیا ہے ، یعنی یہ کہ کیونکر وہ توحید کے راز تک پہنچے جبکہ ان کے گروہ پیش شرک وبت پرستی کی آندھیاں چل رہی تھیں ، یہ واضح رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کے لئے بھی چاند اور تاروں کو معبود نہیں مانا ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) فطرتا سلجھے ہوئے دماغ کے آدمی تھے ، وہ فورا بھانپ گئے کہ چمکتے تاروں اور درخشان ‘ مہتاب وجہانتاب میں کوئی بھی خدا ہونے کا استحقاق نہیں رکھتا ، کیونکہ یہ سب افول وزوال سے دوچار ہوتے ہیں البتہ صرف ایک ذات ہے جسے اللہ کے پروقار لفظ سے تعبیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-79 اچھی طرح جان لو کہ میں تمام ادیان باطلہ اور معبود ان فاسدہ سے یک سو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کرچکا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے یعنی سب سے کٹ کر صرف اسی کا ہوچکا ہوں جس نے آسمان و زمین کو بنایا اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں یعنی اجرا م علوی ہوں یا سفلی ہوں یہ سب اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اور اس کے حکم کے تابع ہیں اور میں اپنا رخ اس کی جانب متوجہ کرچکا ہوں جو ان سب کا خلاق اور مالک سے تو ایسی حالت میں میرے لئے شرک کی گنجائش کہاں ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–79

ف 4۔ چونکہ اس معمورہ میں جس میں بابل وحلب بھی داخل ہے جو کہ بقول مورخین موقع تھا اس گفتگو کا ایک شب میں بروئے رفتار معتاد کواکب کے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماہتاب کا طلوع اپنے افق سے سیارہ کے غروب کے بعد ہو اور پھر طلوع شمس سے پہلے غروب ہوجائے۔ اس لیے یہ تینوں واقعے ایک شب کے نہیں ہوسکتے یا تو دو شب کے ہیں یا تین شب کے پس دونوں جگہ فلما رای میں جو فاء ہے وہ تعقیب واقتران عرفی کے لیے نہ کہ حقیقی کے لیے۔ 5۔ یعنی برات ظاہر کرتا ہوں یوں اعتقاد تو ہمیشہ سے بیزاری تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

میری قوم کے لوگو ! میرا رب تو وہی ہے جو آسمان و زمین بنانے والا ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں : 125: ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کے سارے معبودان باطل خواہ وہ ارضی ہوں یا سماوی ایک ایک کا نام بنام رد کردیا اور ثابت کیا کہ یہ سارے کے سارے پرستش کے قابل نہیں۔ نہ نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد آپ نے اپنے معبود حقیقی کی پہچان کرانا شروع کی کہ میرا رب کون ہے ؟ اور میں کس ہستی کو پروردگار مانتا اور تسلیم کرتا ہوں ؟ فرمایا میں صرف اس ہستی کو اپنا مالک سمجھتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے جس نے مجھ کو پیدا کیا اور سیدھی راہ دکھائی۔ جو مجھ کو کھلاتا ، پلاتا اور روزی دیتا ہے یعنی جس کی پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–81

Using Wisdom and Strategy in Tabligh and Da'wah is the Way of Prophets Let us begin with verse 76 which opens with the words: رَ‌أَىٰ كَوْكَبًا So, when the night enveloped him, he saw a star. Then, beaming at his people, he said: This is my Lord. The sense in which he said it was: Is it not, as you think and believe, my Lord and your Lord, the Rabb of both of us who nurtures, nourishes and sustains us? In a little while you will find out how real that is. Then, after some time, the star vanished. This gave Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) a good occasion to drive his argument home against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

53. Here some light is thrown on the mental experience through which Abraham passed in the beginning and which led him to an understanding of the Truth before prophethood was bestowed on him. This experience shows how a right-thinking and sound-hearted man, who had opened his eyes in a purely polytheistic environment and had received no instruction in monotheism, was ultimately led to discover the Truth by careful observation of, and serious reflection on the phenomena of the universe. The account of the conditions prevailing among the people of Abraham shows that when he began to think…

Read the full tafseer →