Explained with ayahs 80–83
مشرکین کا توحید سے فرار
ابراہیم ؑ کی سچی توحید کے دلائل سن کر پھر بھی مشرکین آپ سے بحث جاری رکھتے ہیں تو آپ ان سے فرماتے ہیں تعجب ہے کہ تم مجھ سے اللہ جل جلالہ کے بارے میں جھگڑا کر رہے ہو ؟ حالانکہ وہ یکتا اور لا شریک ہے اس نے مجھے راہ دکھا دی ہے اور دلیل عطا فرمائی ہے میں یقینا جانتا ہوں کہ تمہارے یہ سب معبود محض بےبس اور بےطاقت ہیں، میں نہ تو تمہاری فضول اور باطل باتوں میں آؤں گا نہ تمہاری دھمکیاں سچی جانوں گا، جاؤ تم سے اور تمہارے باطل معبودوں سے جو ہو سکے کرلو۔ ہرگز ہرگز کمی نہ کرو بلکہ جلدی کر گزرو اگر تمہارے اور ان کے قبضے میں میرا کوئی نقصان ہے تو جاؤ پہنچا دو۔ میرے رب کی منشا بغیر کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
سورة الْاَنْعَام 54
اصل میں لفظ تَذَکُّر استعمال ہوا ہے جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص جو غفلت اور بھلاوے میں پڑا ہوا ہو وہ چونک کر اس چیز کو یاد کرلے جس سے وہ غافل تھا۔ اسی لیے ہم نے اَفَلَا تَتَذَکَّرُوْنَ کا یہ ترجمہ کیا ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو، تمہارا اصلی و حقیقی رب اس سے بیخبر نہیں ہے، اس کا علم ساری چیزوں پر وسیع ہے، پھر کیا اس حقیقت سے واقف ہو کر بھی تمہیں ہوش نہ آئے گا ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
تبلیغ و دعوت میں حکمت و تدبیر سے کام لینا سنت انبیاء ہے
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا، یعنی ایک رات میں جب تاریکی چھاگئی اور ایک کو کب یعنی ستارہ پر نظر پڑی تو اپنی قوم کو سنا کر کہا کہ یہ ستارہ میرا رب ہے، مطلب یہ تھا کہ تمہارے خیالات و عقائد کی رو سے یہی میرا اور تمہارا رب یعنی پالنے والا ہے، اب تھوڑی دیر میں اس کی حقیقت دیکھ لینا۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو قوم پر حجت قائم کرنے کا واضح موقعہ ہاتھ آیا، اور فرمایا لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ، آفلین کا یہ لفظ افول سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں غروب ہونا۔
مطلب یہ ہے کہ میں غروب ہوجانے والی چیزوں سے…
Read the full tafseer →وَحَاۗجَّهٗ قَوْمُهٗ :۔ قوم کی طرف سے ڈراوے اور حضرت ابراہیم کا جواب :، جب یہ بات یہاں تک پہنچ گئی، حضرت ابراہیم نے صاف صاف نہ صرف توحید کا بلکہ شرک اور شرکاء سے اپنی براءت کا بھی اعلان کردیا تو ان کی قوم ان سے بحث وجدال کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی اور شرک کی بنیاد، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چونکہ تمام تر خوف اور وہم پستانہ اندیشوں پر ہوتی ہے اس وجہ سے قوم کے لوگوں نے طرح طرح سے ان کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا کہ معبودوں سے نفرت و بغاوت کا اعلات کرتے ہو تو ان کی پکڑ میں آجاؤ گے، اندھے ہوجاؤ گے، اپاہج ہوجاؤ گے، تم پر بجلی گرے گی، بری موت مروگے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے جواب میں فرمایا کہ تم خدا کے باب میں مجھ…
Read the full tafseer →80۔ 1 جب قوم نے توحید کا یہ وعظ سنا جس میں ان کے خود ساختہ معبودوں کی تردید بھی تھی تو انہوں نے بھی اپنے دلائل دینے شروع کیے جس سے معلوم ہوا کہ مشرکین نے بھی اپنے شرک کے لیے کچھ نہ کچھ دلائل تراش رکھے تھے جس کا مشاہدہ آج بھی کیا جاسکتا ہے جتنے بھی مشرکانہ عقائد رکھنے والے گروہ ہیں سب نے اپنے اپنے عوام کو مطمئن کرنے اور رکھنے کے لیے ایسے سہارے تلاش کر رکھے ہیں جن کو وہ دلائل سمجھتے ہیں یا جن سے کم از کم دام تزویر میں پھنسے ہوئے عوام کو جال میں پھنسائے رکھا جاسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
29: سیاق وسباق سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ سے حجت کرتے ہوئے ان کی قوم نے دو باتیں کہیں، ایک یہ کہ ہم برسوں سے اپنے باپ داداؤں کو ان بتوں اور ستاروں کی پوجا کرتے دیکھ رہے تھے، ان سب کو گمراہ سمجھنا ہمارے بس سے باہر ہے، حضرت ابراہیم ؑ نے اس کا جواب پہلے جملے میں یہ دیا ہے کہ ان باپ داداؤں کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی وحی نہیں آئی تھی اور مذکورہ بالا عقلی دلائل کے علاوہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آئی ہے، لہذا اللہ کی دی ہوئی ہدایت کے بعد میں شرک کو کیسے درست تسلیم کرسکتا ہوں، دوسری بات ان کی قوم نے یہ کہی ہوگی کہ اگر تم نے ہمارے بتوں اور ستاروں کی خدائی سے انکار کیا تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(آیت) ” نمبر 80 تا 81۔
جب انسان کی فطرت راہ سلامتی سے ہٹ جاتی ہے تو وہ گمراہ ہو کر غلط راستوں پر پڑجاتی ہے ۔ وہ ان راستوں پر بہت دور نکل جاتی ہے ۔ اب زاویہ کشادہ ہوتا چلا جاتا ہے اور اس کے بازو ایک دوسرے سے دور ہوتے جاتے ہیں ۔ جس نقطے سے یہ فطرت راہ مستقیم سے ہٹ جاتی ہے وہ دور رہ جاتا ہے ۔ خود انسان اس راہ سے اتنا دور نکل جاتا ہے کہ اس کے لئے لوٹنا مشکل ہوجاتا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس قوم کو دیکھو ‘ یہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی پرستش کررہے ہیں لیکن وہ اس تبدیلی اور تغیر کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں نمودار ہوئی ۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →3 یعنی جس کو خدا سمجھا چکا اور ملکوت السّمٰوٰت والارض کی علیٰ وجہ البصیرت سیر کرا چکا کیا اس سے یہ امید رکھتے ہو کہ وہ تمہارے جھگڑنے اور بیہودہ جدل و بحث کرنے سے بہک جائے گا۔ کبھی نہیں۔
4 حضرت ابراہیم کی قوم کہتی تھی کہ تم جو ہمارے معبودوں کی توہین کرتے ہو۔ ڈرتے رہو کہیں اسکے وبال میں تم معاذ اللہ مجنون اور پاگل نہ بن جاؤ یا کسی اور مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ۔ اس کا جواب دیا کہ میں ان سے کیا ڈروں گا جن کے ہاتھ میں نفع و نقصان اور تکلیف و راحت کچھ بھی نہیں۔ ہاں میرا پروردگار کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو اس سے دنیا میں کون مستثنیٰ ہے وہ ہی اپنے علم محیط سے جانتا ہے کہ کس شخص کو کن حالات میں رکھنا…
Read the full tafseer →آیت 80 وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ ط۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے آپ علیہ السلام سے حجت بازی شروع کردی کہ یہ تم نے کیا کہہ دیا ہے ‘ تمام دیوی دیوتاؤں کی نفی کردی ‘ سارے ستاروں اور چاند سورج کی ربوہیت سے انکار کردیا ! اب ان دیوی دیوتاؤں اور ستاروں کی نحوست تم پر پڑے گی۔ اب تم انجام کے لیے تیار ہوجاؤ ‘ تمہاری شامت آنے ہی والی ہے۔
قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰہِ وَقَدْ ہَدٰنِط وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْءًا ط۔
ہاں اگر اللہ چاہے کہ مجھے کوئی تکلیف پہنچے ‘ کوئی آزمائش آجائے تو ٹھیک ہے ‘ کیونکہ وہ میرا خالق اور میرا رب ہے ‘ لیکن اس کے علاوہ مجھے کسی کا…
Read the full tafseer →83 نجوم پرست کی مخالفت :۔ اس قوم کے ہر ایک فرد کی رگ رگ میں یہ بات رچی ہوئی تھی کہ انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات انفرادی طور پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں اور اجتماعی طور پر بھی۔ پھر انہیں سیاروں کی ارواح کے خیالی مجسمے مندروں میں نصب کر کے ان کی پرستش کی جاتی تھی، انہیں نفع و نقصان کا مالک سمجھنے کی وجہ سے ان کے آگے نذریں اور قربانیاں پیش کر کے انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اور اسی نظام سے ان کی سر سے پاؤں تک کی زندگی وابستہ ہوچکی تھی، ان کے سامنے سیدنا ابراہیم کا ان تمام بتوں اور مجسموں سے بےزاری کا اظہار کرنا اور پوری قوم کو گمراہ قرار دینا بھڑوں کے چھتہ کو چھیڑنے کے مترادف تھا۔ لہذا…
Read the full tafseer →119 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مقولہ کو حیرت واستعجاب کے لہجہ میں پڑھا جائے گا جب مفہوم پوری طرح واضح ہوگا، آپ (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کی شان “ ! تم مجھ سے بحث وجدل کرنے توحید کے مسئلہ میں چلے ہو، جو میرے اوپر بالکل کھل چکا ہے اور مجھے ہدایت علم الیقین کیا معنی عین الیقین کے ساتھ مل چکی ہے “ ! (آیت) ” حآجہ قومہ “۔ بجائے اس کے کہ قوم ابراہیم (علیہ السلام) حضرت کی صاف، سیدھی، فطری تعلیم کو مان لیتی الٹی آپ کے سر ہوگئی اور طرح طرح کی کج بحثیاں کرنے لگی، جیسا کہ ہر غبی، جاہل، مشرک قوم کا شیوہ ہے۔ (آیت) ” حآج ‘۔ کے معنی علمی مناظرہ کے نہیں، بلکہ لڑنے جھگڑنے کے ہیں،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا…
Read the full tafseer →وحآجہ قومہ اور ابراہیم (علیہ السلام) سے اس کی قوم نے حجت کرنی شروع کردی یعنی توحید اور نفئ شرک کے مسئلہ میں جھگڑنے لگے جب استدلال صحیح کے مقابلہ سے عاجز اور لاجواب ہوگئے تو جھگڑے پر اتر آئے کہنے لگے ہمارے معبودوں سے ڈر ‘ کہیں تجھے کسی دکھ میں مبتلا کردیں اور نمرود سے بھی ڈر تارہ کہیں تجھے قتل کر دے یا جلا دے۔
قال اتحاجونی فی اللہ وقد ہدین ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا (اللہ کی ہستی اور توحید پر قطعی استدلال کے بھی خواہ نخواہ) تم اللہ کے معاملہ میں مجھ سے جھگڑتے ہو حالانکہ اسی نے مجھے ہدایت کردی یعنی باوجودیکہ میں کم عمر اور ان پڑھ ہوں مگر اس نے مجھے حق اور استدلال کا راستہ بتادیا۔
ولا اخاف…
Read the full tafseer →(80) ان کی قوم نے ان سے فضول حجت کرنا شروع کی اور ان معبودان باطل سے ڈرایا تاکہ حضرت ابراہیم ؑ دین الہی کو چھوڑدیں۔
حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کیا تم اپنے بتوں کی وجہ سے توحید خداوندی میں مجھ سے باطل حجت کرتے ہو اور مجھے ان بتوں سے ڈراتے ہو کہ میں اللہ کے دین کو چھوڑ دوں ؟ حالانکہ میرے پروردگار نے مجھے صحیح راستہ دکھا دیا ہے۔ البتہ اگر اللہ تعالیٰ میرے دل سے اپنی معرفت نکال لے، تب تو میں تمہارے ان بتوں سے ڈروں، میرا پروردگار اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ تم حق پر نہیں ہو کیا اتنا کچھ کلام حق سننے کے بعد بھی نصیحت نہیں حاصل کرتے ؟
Read the full tafseer →وَحَاۗجَّهٗ قَوْمُهٗ۔۔ : قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے اپنے عقیدے کے صحیح ہونے کے بہت سے دلائل پیش کیے، مثلاً انھوں نے ایک دلیل یہ پیش کی : (اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّةٍ) [ الزخرف : 22 ] ”بیشک ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقے پر پایا ہے۔“ نیز ابراہیم ؑ کو دھمکی دی کہ یہ بت تمہیں آفات اور مصیبتوں میں مبتلا کردیں گے۔ ابراہیم ؑ نے یہ فرما کر ”ّٰوَقَدْ هَدٰىنِ ۭ“ (اللہ نے مجھے سیدھا راستہ بتادیا ہے) ان کی پہلی دلیل کا جواب دیا کہ یقینی دلیل کے مقابلے میں تمہارے باپ دادا کا دین بےمعنی ہے اور ان کی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچنی ہو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
آیت نمبر 79
قولہ تعالیٰ آیت : انی وجھت وجھی یعنی میں نے اپنی عبادت اور توحید سے اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک کا قصد کیا۔
آیت میں الوجہ کا ذکر کیا کیونکہ چہرہ ان اعضاء میں سے زیادہ ظاہر ہے جن سے انسان پہچانا جاتا ہے۔ حنیفا اس کا معنی ہے حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے۔ آیت : وما انا من المشرکین یہ ما کا اسم اور خبر ہے۔ اور جب تو وقف کرے تو کہے : انا تو تو نے بیان حرکت کے لیے الف کا اضافہ کردیا اور یہی صحیح لغت ہے۔ اور اخفش نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أن۔ اور کسائی نے کہا ہے : عربوں میں سے بعض کہتے ہیں : أنہ یہ تین لغات ہیں۔
اور حالت وصل میں تین لغات ہیں کہ درج کلام میں الف کو حذف کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(1) امام ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وحاجہ قومہ یعنی آپ کی قوم آپ سے جھگڑنے لگی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قال اتحاجونی یعنی کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو۔
(3) امام عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا لفظ آیت اتحاجونی نون مشدد کے ساتھ۔
(4) امام ابن منذر اور ابو الشیخ نے ابن جریج (رح) سے لفظ آیت وحاجہ قومہ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارا اور پھر فرمایا لفظ آیت وحاجہ قومہ قال اتحاجونی فی اللہ وقد ھدن یعنی میں نے اپنے رب کو پہچان لیا انہوں نے آپ کو اپنے معبودوں کے ذریعہ ڈرایا کہ ان…
Read the full tafseer →وَحَاۗجَّهٗ [ اور ان سے حجت بازی کی ] قَوْمُهٗ ۭ [ ان کی قوم نے ] قَالَ [ انہوں نے کہا ] ا [ کیا ] اَتُحَاۗجُّوْۗنِّىْ [ تم لوگ حجت بازی کرتے ہو مجھ سے ] فِي اللّٰهِ [ اللہ (کے بارے ) میں ] وَ [ اس حال میں کہ ] قَدْ هَدٰىنِ ۭ [ وہ ہدایت دے چکا ہے مجھ کو ] وَلَآ اَخَافُ [ اور میں نہیں ڈرتا ] مَا [ اس سے ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ] بِهٖٓ [ جس کو ] اِلَّآ اَنْ [ سوائے اس کے کہ ] يَّشَاۗءَ [ چاہے ] رَبِّيْ [ میرا رب ] شَـيْــــًٔـا ۭ [ کچھ (تکلیف دینا )] وَسِعَ [ کشادہ ہوا ] رَبِّيْ [ میرا رب ] كُلَّ شَيْءٍ [ ہرچیز پر ] عِلْمًا ۭ [ بلحاظ علم کے ] اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ…
Read the full tafseer →قوم کی حجت بازی کا جواب :
باوجود یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ پرستوں کو دلیل سے عاجز کردیا۔ اور بتادیا کہ جس کے قبضہ قدرت میں ان چھوٹے بڑے ستاروں کا تصرف ہے جس کے حکم سے یہ طلوع غروب ہوتے ہیں صرف وہی عبادت اور پرستش کے لائق ہے اور کسی بھی مخلوق کی عبادت کرنا یہ خالق ومالک کے ساتھ شرک کرنا ہے جو عقلی طور پر بھی بد ترین چیز ہے، اور اپنے بارے میں موحد ہونے اور شرک سے بیزار ہونے کا اعلان فرما دیا تب بھی ان کی قوم نے حجت بازی جاری رکھی۔ وہ کہنے لگے کہ تم کیسے کہتے ہو یہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں۔ ہم تو اپنے باپ دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے دیکھتے آئے ہیں، تم ہم سے ہمارا دین چھڑوانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →85 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ کی طرف سے مامور ہو کر شرک کی مذمت کی تو ان کی مشرک قوم ان سے جدال و مخاصمت پر اتر آئی تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم اللہ کی توحید کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرتے ہو۔ حالانکہ مجھے تو اللہ تعالیٰ نے دلائل ثلثہ یعنی عقلی، نقلی توحید کی سیدھی راہ دکھائی ہے فِی اللہِ یہاں مضاف محذوف ہے۔ ای فی توحیدہ وقد ھدانی الی التوحید (مدارک ج 2 ص 16) ای بالدائل الثلاثۃ۔
86 یہ سوال مقدر کا جواب ہے مشرکین نے دوران مخاصمت یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے معبودوں کی مخالفت چھوڑ دو ورنہ وہ تمہیں نقصان پہنچائیں گے تو اس کا جواب دیا کہ جن کو تم کارساز اور متصرف سمجھ کر اللہ کی عبادت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
ربط آیات
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے سلسلے میں اپنے والد اور قوم کے سامنے ستارے ‘ چاند اور سورج کے تغیر و تبدل کو بطور دلیل پیش کیا ‘ اور فرمایا غائب ہوجانے والی چیزیں الہ نہیں بن سکتیں لہٰذا میں شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں معبود تو وہ ہو سکتا ہے جو ازلی ‘ ابدی ‘ قائم اور دائم ہو اور وہ صرف ذات باری تعالیٰ ہے جن چیزوں کی تم پرستش کرتے ہو وہ تو مخلوق ہیں ‘ ان کو زوال آتا ہے مگر تم ان کو معبودمشکل کشا اور حاجت رو ا مان کر …شرک کا ارتکاب کرتے ہو ‘ میں اس معاملہ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا میں نے تو اپنا رخ یعنی جسم و جان اس مالک الملک کی طرف پھیرلیا ہے جو زمین و آسمان…
Read the full tafseer →وَحَاۗجَّہٗ قَوْمُہٗ 0ۭ قَالَ اَتُحَاۗجُّوْۗنِّىْ فِي اللہِ وَقَدْ ہَدٰىنِ 0ۭ وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ رَبِّيْ شَـيْــــًٔـا 0ۭ وَسِعَ رَبِّيْ كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا 0ۭ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ 80
حاجَّة
والمُحاجَّة : أن يطلب کلّ واحد أن يردّ الآخر عن حجّته ومحجّته، قال تعالی: وَحاجَّهُ قَوْمُهُ قالَ : أَتُحاجُّونِّي فِي اللَّهِ [ الأنعام/ 80] ، فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جاءَكَ [ آل عمران/ 61] ، وقال تعالی: لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْراهِيمَ [ آل عمران/ 65] ، وقال تعالی: ها أَنْتُمْ هؤُلاءِ حاجَجْتُمْ فِيما لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو
1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ
2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًا ج قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ھٰذَآ اَکْبَرُ ج فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 76۔ 77۔ 78)
(پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔
مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…
Read the full tafseer →میرا ربّ نفع و نقصان پر قدرت رکھتا ہے جبکہ تمہارے معبود کچھ بھی نہیں ‘ اسلئے میں ان سے نہیں ڈرتا :
آیت 80 : وَحَآجَّہٗ قَوْمُہٗ اللہ تعالیٰ کی توحید کے متعلق اور اس سے شرکاء کی نفی کے متعلق قَالَ اَتُحَآجُّوْنِّیْ فِی اللّٰہِاس کی توحید کے متعلق قراءت : اتحا جونی تخفیف نون کے ساتھ مدنی اور ابن ذکوان نے پڑھا ہے۔ وَقَدْ ہَدٰنِاپنی توحید کی طرف ابو عمرو نے یاؔ میں وصل کے ساتھ پڑھا۔ وَقَدْ ہَدٰنِ جب انہوں نے ابراہیم ( علیہ السلام) کو دھمکایا کہ ان کے معبود اس کو تکلیف پہنچائیں گے تو فرمایا۔ وَلَآ اَخَافُ مَا تُشْرِکُوْنَ بِہٖٓ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ رَبِّیْ شَیْئًاج وَسِعَ رَبِّیْ کُلَّ شَیْئٍ…
Read the full tafseer →(80) (وحاجۃ قومہ ط قال اتحآ جونی فی اللہ وقد ھدن) جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کی طرف واپس آگئے اور آپ اتنے نوجوان ہوگئے تھے کہ والد کو ذبح کرنے والوں کا خوف نہ رہا تو اپنے ساتھ پر لگا دیا۔ آزر بت بناتے اور ابراہیم (علیہ السلام) کو دیتے کہ ان کو بیچ آئو تو ابراہیم (علیہ السلام) آواز لگاتے کون شخص ایسی چیز خریدے گا جو نہ اس کو نفع دے گا اور نہ نقصان تو ان سے کوئی بت نہ خریدتا اور ابراہیم (علیہ السلام) ان کو نہر پر لے جا کر ان کا سر پانی میں ڈبو کر کہتے کہ پانی پی لو یہ کام قوم سے استہزاء کے لئے کرتے تھے اور ان کی گمراہی کو واضح کرنے کے لئے جب ان کے استہزاء کی خبر قوم میں پھیل گئی تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
(80 ۔ 81) ۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور پانی قوم کے روبرو ستارہ پرستی اور بت پرستی کی مذمت کی تو ان لوگوں کو یہ بات بری لگی اور ان لوگوں نے اس بات پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنا شروع کیا کیونکہ ان ستارہ پرست بت پرستوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جس طرح انسان میں جسم اور روح دو چیزیں ہیں اسی طرح زحل مشتریٰ مریخ عطارد ‘ زہرہٗ سورج ‘ چاند میں بھی روح اور جسم دوچیزیں ہیں تمام دنیا کا انتظام ان ہی روحوں کی تدبیر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق چلتا ہے لیکن ہم لوگوں کی رسائی ان روحوں تک نہیں ہے اس لیے ان ستاروں کی مورتیں بنا کر ان روحوں سے مدد لینے کے لیے ان مورتوں کی ہم تعظیم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–83
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق
قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
141 اس کائنات کا خالق ہی معبود برحق ہے : سو حضرت ابراہیم نے اعلان فرمایا کہ بیشک میں نے اپنا رخ موڑ دیا اس معبود برحق کی طرف جس نے پیدا فرمایا آسمانوں اور زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کو۔ اور جب اس کی حکمتوں بھری اس کائنات کی پیدائش میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے ہوسکتا ہے ؟ پس معبود برحق وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ بہرکیف اس موقع پر پہنچ کر حضرت ابراہیم نے صاف اور صریح طور پر اپنی قوم سے براءت اور بیزاری کا اعلان کردیا کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →ف 1 قوم کے ساتھ یہ مناظرہ ہوا تو ان کی قوم نے عقیدہ کی صحت پر بہت سے دلائل پیش کئے مثلا انہوں نے ( انا وجد نا ابائ علی امتہ) کی دلیل پیش کی نیز حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) دھمکی دی کہ بت تمہیں آفات وبلیات میں مبتلا کردیں گے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) و قد ھدان سے پہلی لیل کا جواب دیا کہ دلیل یقینی کے مقابلے میں تمہارا دین آبا نے معنی ہے اور انکی دھمکی کے جواب میں فرمایا کہ پروردگار کی طرف سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اور بات ہے مگر یہ تمہارے بت اور جھوٹے پروردگار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ (رازی)2 کہ یہ بےجان بت کچھ حقیقت نہیں رکھتے، (ابن کثیر )
Read the full tafseer →(6:80) حاجہ۔ محاجۃ (مفاعلۃ) سے باہم حجت کرنا۔ دلیل بازی کرنا ۔ الحجۃ اس دلیل کو کہتے ہیں جو صحیح مقصد کی وضاحت کرے۔ اور دو متناقض امور میں سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو۔ حاج اس نے حجت بازی کی۔ اس نے جھگڑا کیا۔
ھدان۔ اصل میں ھدانی ہے اس نے مجھے ہدایت دی۔ مجھے ہدایت یافتہ کیا۔ ھدایۃ سے (باب ضرب)
الا ان یشاء ربی شیئا۔ اللہ میرا رب ہے کوئی تکلیف مجھے پہنچانا چاہے تو۔ (ورنہ میں ان سے نہیں ڈرتا۔ جن کو تم رب کا شریک ٹھہراتے ہو) ۔ افلا تتذکرون۔ مضارع منفی جمع مذکر حاضر۔ ہمزہ استفہامیہ۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑو گے۔ تم نصیحت کیوں نہیں پکڑتے (باب تفعل) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–83
لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 83 :
حاج (جھگڑا کیا) اتحآ جونی (کیا تم مجھ سے جھگڑتے ہو) ھدن (اس نے مجھے ہدایت دی۔ (یہاں ” ی “ گر گئی) کیف اخاف (میں کیوں ڈروں) ‘ لم ینزل (نازل نہیں کی گئی) سلطان ( دلیل۔ وجہ ۔ سبب) ای الفریقین (دونوں جماعتوں میں سے کونسی ؟ ) احق ( زیادہ حق دار ہے) ‘ لم یلبسوا ( انہوں نے نہیں ملایا) نرفع ( ہم بلند کرتے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر 80 تا 83 :
ہر نظام کسی عقیدے پر قائم ہوتا ہے۔ اگر وہ عقیدہ ہی ہل جائے تو ویں سمجھ لیا جائے کہ کسی عمارت کے نیچے سے بنیادی پتھر کھینچ لیا گیا۔ نمرودی نظام میں بہت سے مصنوعی معبود تھے جن میں سب سے زیادہ اہمیت خود باشاہ وقت نمرود کی تھی۔ (یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر اور اپنی قوم کے روبرو ستارہ پرست اور بت پرستی کی مذمت کی تو ان لوگوں کو یہ بات بری لگی تو ان لوگوں نے اس بات پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنا شروع کیا۔ کیونکہ ان ستارہ پرست بت پرستوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جس طرح انسان میں جسم اور روح دو چیزیں ہیں، اسی طرح ستاروں اور چاند سورج میں بھی دو چیزیں ہیں۔ تمام دنیا کا انتظام انہی کی تدبیر سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق چلتا ہے لیکن ہماری رسائی ان تک نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان ستاروں کی مورتیں بنا کر ان سے مدد لیتے ہیں، اور ان کی پوجا کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کا یہ جواب دیا کہ اے لوگو !…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–82
[28] یہاں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
سیر ملکوت :
(ف 1) ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے انتقالات ذہنی یا واردات توحید کا بیان کیا گیا ہے ، یعنی یہ کہ کیونکر وہ توحید کے راز تک پہنچے جبکہ ان کے گروہ پیش شرک وبت پرستی کی آندھیاں چل رہی تھیں ، یہ واضح رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کے لئے بھی چاند اور تاروں کو معبود نہیں مانا ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) فطرتا سلجھے ہوئے دماغ کے آدمی تھے ، وہ فورا بھانپ گئے کہ چمکتے تاروں اور درخشان ‘ مہتاب وجہانتاب میں کوئی بھی خدا ہونے کا استحقاق نہیں رکھتا ، کیونکہ یہ سب افول وزوال سے دوچار ہوتے ہیں البتہ صرف ایک ذات ہے جسے اللہ کے پروقار لفظ سے تعبیر…
Read the full tafseer →-80 اور ان دلائل واضحہ اور براہین قاطعہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کج بحثی اور بےہودہ حجت بازی اور جھگڑنا شروع کردیا یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے بتوں سے ڈرایا اور خوف دلایا اور باپ دادا کا نام لے کر اپنے طریقہ کو درست بتایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کے بارے میں تم مجھ سے کج بحثی اور جھگڑا کرتے ہو اور مناظرہ سے شکست کھا کر اب مکابرہ اور مجادلہ پر اتر آئے ہو حالانکہ اس اللہ تعالیٰ نے مجھ کو صحیح طریقہ بتادیا ہے اور میری صحیح رہنمائی فرمائی ہے اور میں ان چیزوں کے ضرر سے بالکل نہیں…
Read the full tafseer →ف 6۔ غرض قدرت وعلم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں اور تمہارے الہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے۔
Read the full tafseer →قوم کی ابراہیم (علیہ السلام) سے رد وکد اور آپ کی طرف سے مسکت جواب :
126: اب قوم سمجھی کہ یہ کیا ہوا کہ ابراہیم نے ہمارے تمام ہتھیار بےکار اور ہمارے تمام دلائل پامال کر کے رکھ دیئے۔ اب ہم اس کے ان مضبوط ومحکم دلائل کا کس طرح رد کریں اور اس کی روشن دلیلوں کا کیا جواب دیں ؟ وہ اس کے لئے بالکل عاجز و درماندہ تھے جب کچھ سمجھ میں نہ آیا اور کوئی بس نہ چلا تو قائل ہونے اور صدائے حق کو قبول کرلینے کے بجائے ابراہیم (علیہ السلام) سے جھگڑنے اور ردوکد کرنے لگے اور اپنے معبودان باطل سے ڈرانے لگے کہ وہ تیری توہین کا تجھ سے ضرور انتقام لیں گے اور تجھ کو اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ ابھی دیکھ کیا ہوتا ہے تیرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
Using Wisdom and Strategy in Tabligh and Da'wah is the Way of Prophets
Let us begin with verse 76 which opens with the words: رَأَىٰ كَوْكَبًا So, when the night enveloped him, he saw a star. Then, beaming at his people, he said: This is my Lord. The sense in which he said it was: Is it not, as you think and believe, my Lord and your Lord, the Rabb of both of us who nurtures, nourishes and sustains us? In a little while you will find out how real that is. Then, after some time, the star vanished. This gave Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) a good occasion to drive his argument home against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
54. The word used here is tadhakkur which conveys the sense that somebody who had been either heedless or negligent of something suddenly wakes up to its true meaning. The purpose of Abraham's statement was to recall them to their senses by reminding them that their true Lord was not uninformed about their deeds, for His knowledge encompasses everything.
Read the full tafseer →