Al-An'aam 6:78

Al-An'aam · from ayah 78

6:78

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّیْ هٰذَاۤ اَكْبَرُ ۚ— فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ۟فَلَمَّا رَاَ الشَّمۡسَ بَازِغَةً قَالَ هٰذَا رَبِّىۡ هٰذَاۤ اَكۡبَرُ‌ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتۡ قَالَ يٰقَوۡمِ اِنِّىۡ بَرِىۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِكُوۡنَ‏

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when he saw the sun rising, he said, "This is my lord; this is greater." But when it set, he said, "O my people, indeed I am free from what you associate with Allah.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 9 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:78

پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیمؑ پکار اٹھا "اے برادران قوم! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا پروردگار یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہنے لگے لوگو! جن چیزوں کو تم (خدا کا) شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر جب آفتاب کو دیکھا چمکتا ہوا تو فرمایا کہ یہ میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وه بھی غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا بےشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب انہوں نے سورج کو چمکتے دیکھا تو کہا : یہ میرا رب ہے۔ یہ زیادہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوا تو انہوں نے کہا : اے میری قوم ! جن جن چیزوں کو تم اللہ کی خدائی میں شریک قرار دیتے ہو، میں ان سب سے بیزار ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو یہ تو ان سب سے بڑا ہے، پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب سورج کو چمکتے دیکھا (تو) کہا: (کیا اب تمہارے خیال میں) یہ میرا رب ہے (کیونکہ) یہ سب سے بڑا ہے؟ پھر جب وہ (بھی) چھپ گیا تو بول اٹھے: اے لوگو! میں ان (سب چیزوں) سے بیزار ہوں جنہیں تم (اﷲ کا) شریک گردانتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب اس نے سورج چمکتا ہوا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ غروب ہوگیا کہنے لگا اے میری قوم ! بیشک میں اس سے بری ہوں جو تم شریک بناتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب سورج کو جگمگاتا ہوا دیکھا تو بولے : یہ میرا رب ہے ؟ یہ تو سب سے بڑا ہے پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہنے لگے : اے میری قوم ! جن (سیاروں کو) تم اللہ کا شریک بناتے ہو میں ان سے بیزار ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر جب اس نے سورج کو چمکتے دیکھا بولا کہ یہ میرا رب ہے، یہ سب سے بڑا ہے۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو اس نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو، میں ان چیزوں سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب دیکھا اس نے سورج کو چمکتا ہوا (نہایت آبو تاب سے) تو کہا یہ ہے میرا رب، کہ یہ سب سے بڑا ہے، مگر جب وہ بھی ڈوب گیا، تو آپ پکار اٹھے کہ اے میری قوم ! میں قطعی طور پر بری (اور بیزار) ہوں ان سب سے جن کو تم لوگ شریک ٹھہراتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا تو بولے یہی میرا پروردگار ہے یہی سب سے بڑا لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو بولے اے لوگو میں اس شرک سے بری (اور بیزار) ہوں جو تم کیا کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب دیکھا سورج کو بہت چمکدار تو کہنے لگے ہاں یہ ہے میرا ربّ یہ سب سے بڑا ہے ! پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو انہوں نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! میں اعلان براءت کرتا ہوں ان سب سے جنہیں تم شریک ٹھہرا رہے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر جب سورج کو دیکھا کہ جگمگا رہا ہے تو کہنے لگے میرا رب یہ ہے یہ سب سے بڑا ہے مگر جب وہ بھی چھپ گیا تو کہنے لگے لوگو ! جن چیزوں کو تم (رب کا) شریک بناتے ہو میں ان سب سے بیزار ہوں

— محترمہ رفعت اعجاز

Then when he beheld the sun rising, he said: 'This is my Lord. This is the greatest of all.' Then, when it went down, he said: 'O my people! Most certainly I am quit of those whom you associate with Allah in His divinity.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thereafter, when he saw the sun rising, he said, :This is my Lord. This is greater. Again, when it vanished, he said, :O my people, I disown whatever you associate with Allah

— Muhammad Taqi Usmani

Thereafter, when he saw the sun rising, he said, :This is my Lord. This is greater. Again, when it vanished, he said, :O my people, I disown whatever you associate with Allah

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

When he saw the sun rising up, he said: "This is my lord. This is greater." But when it Afalat, he said: "O my people! I am indeed free from all that you join as partners in worship with Allah.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when he saw the sun uprising, he cried: This is my Lord! This is greater! And when it set he exclaimed: O my people! Lo! I am free from all that ye associate (with Him).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when he saw the sun rising, he said, "This is my lord; this is greater." But when it set, he said, "O my people, indeed I am free from what you associate with Allah.

— Saheeh International

When he saw the rising sun, he said, "This is my Lord for it is greater (than the others)." But when this too faded away, (Abraham) said, "My people, I disavow whatever you consider equal to God.

— Muhammad Sarwar

Then when he saw the sun rising, he said: Is this my Lord? Is this the greatest? So when it set, he said: O my people! surely I am clear of what you set up (with Allah).

— Muhammad Habib Shakir

Then when he beheld the sun uprise, he said: this is mine Lord; this is the greatest. Then when it set, he said: O my people! verily I am quit of that which ye associate.

— Abdul Majid Daryabadi

When he saw the sun rising in splendour, he said: "This is my Lord; this is the greatest (of all)." But when the sun set, he said: "O my people! I am indeed free from your (guilt) of giving partners to Allah.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:78

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–79

ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 78–79

سورة الْاَنْعَام 53 ”یہاں حضرت ابراہیم ؑ کے اس ابتدائی تفکر کی کیفیت بیان کی گئی ہے جو منصب نبوت پر سرفراز ہونے سے پہلے ان کے لیے حقیقت تک پہنچنے کا ذریعہ بنا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک صحیح الدماغ اور سلیم النظر انسان، جس نے سراسر شرک کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں، اور جسے توحید کی تعلیم کہیں سے حاصل نہ ہوسکی تھی، کس طرح آثار کائنات کا مشاہدہ کر کے اور ان پر غور و فکر اور ان سے صحیح استدلال کر کے امر حق معلوم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ اوپر قوم ابراہیم ؑ کے جو حالات بیان کیے گئے ہیں ان پر ایک نظر ڈالنے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جب ہوش سنبھالا تھا تو ان کے گرد و پیش ہر طرف…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 76–81

تبلیغ و دعوت میں حکمت و تدبیر سے کام لینا سنت انبیاء ہے فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا، یعنی ایک رات میں جب تاریکی چھاگئی اور ایک کو کب یعنی ستارہ پر نظر پڑی تو اپنی قوم کو سنا کر کہا کہ یہ ستارہ میرا رب ہے، مطلب یہ تھا کہ تمہارے خیالات و عقائد کی رو سے یہی میرا اور تمہارا رب یعنی پالنے والا ہے، اب تھوڑی دیر میں اس کی حقیقت دیکھ لینا۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو قوم پر حجت قائم کرنے کا واضح موقعہ ہاتھ آیا، اور فرمایا لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ، آفلین کا یہ لفظ افول سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں غروب ہونا۔ مطلب یہ ہے کہ میں غروب ہوجانے والی چیزوں سے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اسی طرح ایک دن انہوں نے سورج کے طلوع و غروب کو اپنی تعلیم کا ذریعہ بنا لیا۔ سورج جب آب تاب سے نکلا اور نصف النہار پر پہنچا تو اسی انداز میں جس کا ذکر اوپر گزرا، انہوں نے سورج کے متعلق بھی وہی بات فرمائی جو تارے اور چاند کے متعلق فرمائی تھی۔ البتہ اس کے ساتھ اتنا اضافہ بھی فرما دیا کہ ‘ ھذا اکبر ’ یہ سب سے بڑا ہے ؟ قرینہ صاف پتہ دے رہا ہے کہ یہ بات انہوں نے طنز، تحقیر اور استہزاء کے طور پر فرمائی لیکن سننے والوں نے پھر اطمینان کا سانس لیا ہوگا کہ چلو، اس سر پھرے آدمی سے یہ بھی غنیمت ہے۔ زہر اور چاند کو نہیں مانتا نہ سہی، ہمارے بڑے دیوتا سورج کو تو مانتا ہے۔ لیکن ان کا یہ اطمینان بھی زیادہ دیر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

78۔ 1 شمس سورج عربی میں مونث ہے لیکن اسم اشارہ مذکر ہے مراد الطالع ہے یعنی طلوع ہونے والا سورج، میرا رب ہے، کیونکہ یہ سب سے بڑا ہے۔ جس طرح کے سورج پرستوں کو مغالطہ لگا اور وہ اس کی پرستش کرتے ہیں (اجرام فلکی) میں سورج سب سے بڑا ہے اور سب سے زیادہ روشن اور انسانی زندگی کی بقا وجود کے لئے اس کی اہمیت و افادیت محتاج وضاحت نہیں اس لئے مظاہر پرستوں میں سورج کی پرستش عام رہی ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے نہایت لطیف پیرائے میں چاند سورج کے پجاریوں پر ان کے معبودوں کی بےحیثیتی کو واضح فرمایا۔ 78۔ 2 یعنی ان تمام چیزوں سے، جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو اور جن کی عبادت کرتے ہو، میں بیزار ہوں۔ اس لئے کہ ان میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–79

28: حضرت ابراہیم ؑ عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا، حضرت ابراہیم ؑ شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے اور شرک سے بیزار تھے، لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور وفکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی، مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں پروردگار ہے، آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں ؟ چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی اور آخر میں سورج بھی تو ہر موقع…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 78–79

(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ ہَـذَا أَکْبَرُ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ یَا قَوْمِ إِنِّیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (78) إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیْفاً وَمَا أَنَاْ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ (79) ” پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم پکار اٹھا ” اے برادران قوم ! میں ان سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھہراتے ہو ۔ میں یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ “ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی نظام فلکی میں سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فیض رساں سیارہ ہے شائد عالم مادی کی کوئی چیز اس کے بلاواسطہ یا بالواسطہ فیض تأثر سے مستغنی ہو۔ 1 یہ تو سب خدا کے مزدور ہیں جو وقت معین پر آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ایک منٹ کی تقدیم و تاخیر پر قادر نہیں پھر ان کو خدائی کے حقوق میں شریک کرنا کس قدر گستاخی اور قابل نفرت فعل ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 77–79

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔ گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 77–79

82 انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ :۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

117 ۔ (آیت) ” مما تشرکون “۔ جو شرک تم کیا کرتے ہو “ یہ ارشاد نہیں ہوا کہ جس شرک میں تم لوگ، میری قوم والو، مبتلا ہو، میں اس سے بری اور بیزار ہوں، (آیت) ” ھذا ربی ھذا اکبر “۔ سورج دیوتا کی پوجا دنیا میں ہمیشہ بڑی دھوم دھام سے، بڑے زوروں پر ہوا کی ہے۔ اور اہل کلدانیہ شمس پرستی میں امتیاز خاص رکھتے تھے۔ (آیت) ’ ھذا ربی “۔ تینوں موقع پر حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی زبان سے مشرکوں کی ترجمانی لفظ رب سے کرائی گئی ہے۔ الہ، یا اور کوئی لفظ وارد نہیں ہوا ہے۔ جاہلی قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکر صفت ربوبیت ہی میں کرائی گئی ہے۔ اور یہی دھوکا آج تک چلا آرہا ہے۔ سورج دیوتا یا زہرہ یا مشتری کو خالق کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 76–82

فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما را الشمس بازغۃ قال ہذا ربی ہذا اکبر پھر جب سورج کو دمکتا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا رب ہے یہ سب سے بڑا ہے (یعنی تمام ستاروں سے بڑا ہے) شمس عربی زبان میں مؤنث ہے اور ہذا (اسم اشارہ مذکر) ہے اشارہ سورج کی طرف ہے کیونکہ ہذا کی خبر یعنی رب مذکر ہے (اور جو اسم اشارہ مشار الیہ اور خبر کے درمیان واقع ہوتا ہے اس میں مشار الیہ کی تذکیر تانیث قابل لحاظ نہیں ہوتی خبر کا مذکر مونث ہونا ملحوظ رہتا ہے) بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہذا سے اشارہ نکلنے والے (یعنی طالع) کی طرف سے یا معنی کی طرف ہے یعنی چمک اور نور۔ میں کہتا ہوں کہ لفظ شمس کی تانیث صرف سماعی ہے کیونکہ اس کی تصغیر شمیستہ آتی ہے (اور تصغیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(78) جب سورج کی روشنی نے آب وتاب دکھائی تو بولے یہ تو پہلے دونوں سے بڑا ہے تمہارے خیال میں کیا یہ اللہ بن سکتا ہے جب اس میں بھی تبدیلی شروع ہوئی اور وہ بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ نے قوم کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں ایسے غروب ہونے والوں سے محبت نہیں رکھتا اور جس کو خود ہی ایک حالت پر بقاء نہ اللہ کیسے ہوسکتی ہے اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی تم لوگوں کی طرح بےراہ ہوجاتا۔ (یہ اپنی بت پرست ومظاہر پرست قوم کو سمجھانے کا ایک تمثیلی انداز تھا کہ کس طرح آپ بتدریج ایک چھوٹے مظہر سے بڑے مظہر (سورج) تک ایک استفہامی طرح سے آئے اور بالآخر توحید حقیقی کا سبق دیا، کہ اصل حقیقت یہ ہے اور…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 76–79

فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ۔۔ : ابراہیم ؑ کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی، جن میں بت، سورج، چاند اور ستارے بھی تھے بلکہ بادشاہ بھی ان کا رب تھا۔ ابراہیم ؑ نے ان سب چیزوں کے معبود نہ ہونے کے ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بتوں کے معبود نہ ہونے کو انھوں نے بت توڑ کر ثابت کیا۔ بادشاہ سے ایسی مدلل بات کی کہ آخر وہ ”فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ“ بالکل لاجواب ہوگیا۔ یہاں زیر تفسیر آیات میں ان کا اپنی قوم کے ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کے معبود نہ ہونے پر مناظرے کا ذکر ہے۔ چناچہ ایک رات ابراہیم ؑ نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا : ”یہ میرا رب ہے۔“ یقیناً وہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 78 قولی تعالیٰ آیت : فلما را الشمس بازغۃ، بازغۃ حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے، کیونکہ یہ آنکھ کی رؤیت ہے (اعراب القرآن للخاص، جلد 2، صفحہ 77) ۔ بزغ یبزغ بزوغا کا معنی ہے جب وہ طلوع ہوا۔ اور أفل یافل افولا کا معنی یہ ہے جب وہ غروب ہوا۔ اور فرمایا : ھذا اور الشمس مونث ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فلما افلت تو اس کے بارے کہا گیا ہے کہ شمس کی تانیث اس کی تفخیم اور اس کی عظمت کے سبب ہے۔ اور یہ اس کے اس قول کی طرح ہے : رجل نسابۃ وعلامۃ اور کہا : ھذاربی اس کا معنی ہے : ھذا الطالع ربی ( کیا یہ طلوع ہونے والا میرا رب ہے) ۔ کسائی اور اخفش نے یہی کہا ہے۔ اور ان کے سوا دوسروں نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–79

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض سے مراد سورج چاند اور ستارے ہیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ کھول دیا گیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تھا یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھا ایک چٹان اور وہ چٹان ایک مچھلی پر تھی اور یہ مچھلی وہی ہے جس میں سے لوگوں کا کھانا ہے اور مچھلی ایک زنجیر میں تھی اور زنجیر عزت والی انگوٹھی میں ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاَ [ انہوں نے دیکھا ] الشَّمْسَ [ سورج کو ] بَازِغَةً [ طلوع ہونے والا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] رَبِّيْ [ میرا رب (ہوسکتا) ہے ؟ ) هٰذَآ [ یہ ] اَكْبَرُ ۚ [ سب سے بڑا ہے ] فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَفَلَتْ [ وہ ڈوب گیا ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] يٰقَوْمِ [ اے میری قوم ] اِنِّىْ [ بیشک میں ] بَرِيْۗءٌ [ بری ہوں ] مِّمَّا [ اس سے جس کو ] تُشْرِكُوْنَ [ تم لوگ شریک کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 77–79

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو مختلف عنوانات سے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اس کے ذیل میں ستارہ پرستوں سے بھی خطاب فرمایا۔ علامہ ابن کثیر دمشقی البدایہ والنہایہ ج 1 ص 401 میں لکھتے ہیں کہ دمشق اور اس کے آس پاس کے لوگ کو اکب سبعہ (سات ستاروں) کی عبادت کیا کرتے تھے۔ دمشق کے سات دروازے تھے اور وہاں میلے لگاتے تھے۔ اور بھینٹ اور نذرانے چڑھاتے تھے۔ (کو اکب سبعہ سے شمس۔ قمر۔ زحل۔ عطارد۔ مریخ۔ مشتری۔ اور زہرہ مراد ہیں) ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جو یہاں قرآن مجید میں مذکور ہے۔ اپنے علاقے سے ہجرت کرنے کے بعد دمشق کے آس پاس کہیں پیش آیا واقعہ یہ ہے کہ ان کو ایک چمکدار ستارہ نظر آیا صاحب روح…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–90

ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔ قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 78–79

84 جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا کہ سورج نکل آیا ہے تو فرمایا یہ ان سب سے بڑا ہے کیا میرا رب ہے ؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اب میری حجت تم پر قائم ہوچکی اور تم نے دیکھ لیا کہ تمہارے معبود کس قدر ناپائیدار ہیں اسلیے میں اعلان کرتا ہوں کہ میں ان تمام معبودان باطلہ سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ اِنِّیْ وَجَّھْتُ وَجْھِیَ الخ میں تو اس سے پہلے باطل معبودوں سے منہ موڑ کر اپنا چہرہ اس منزہ صفات کی طرف پھیر چکا تھا جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں نے کبھی مشرکین کا عقیدہ قبول نہیں کیا۔ فائدہ : مرزا غلام احمد قادیانی کذاب نے ابتداء میں اپنی بعض کتابوں میں لکھا تھا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور اس دلیل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے شرک کی تردید میں مشرکین کے سامنے پیش کی۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور مسلک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے پھر اگلی آیات میں قوم سے جھگڑا کرنے کا ذکر ہوگا۔ پھر انبیاء کا مسلک بیان ہوگا جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا مسلک ہے۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کو دھیان میں لائو ‘ جب انہوں نے اپنے والد آزر سے کہا تھا کہ کای تو بتوں کو الٰہ بناتا ہے۔ میں تجھے اور تیری قوم کے لوگوں کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّيْ ہٰذَآ اَكْبَرُ۝ 0ۚ فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ يٰقَوْمِ اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ۝ 78 شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–82

ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو 1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ 2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 76–81

فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًا ج قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ھٰذَآ اَکْبَرُ ج فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 76۔ 77۔ 78) (پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–80

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مخاصم سے انصاف کی اپیل کی تاکہ اعتراض دلیل بن جائے : آیت 78 : فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ ، ہذا اسم اشارہ ہے مذکر لائے کیونکہ انہوں نے اس سے طلوع ہونے والا مراد لیا۔ یا اس وجہ سے کہ انہوں نے مبتد 1 کو خبر کی طرح بنا لیا۔ کیونکہ وہ معنوی لحاظ سے دونوں ایک چیز ہیں۔ اس میں اصل رب کے لفظ کو تانیث سے محفوظ کرنا مقصود ہے اس لیے تو اہل عرب صفات باری تعالیٰ کے متعلق علامہ اور علام نہیں کہتے۔ اگرچہ ثانی پہلے کی نسبت علامت تانیث سے فقط بچنے کی خاطر۔ ہٰذَآ اَکْبَرُیہ بھی اپنے مخاصم کے ساتھ انصاف کرانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

( 78) فلما رالشمس بازغۃ قال ھذا ربی ھذا اکبر) یعنی چاند اور ستارے سے بڑا ہے یہاں ” ھذا “ کہا ہے ” ھذہ “ نہیں کہا حالانکہ شمس مونث ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ شمس کا معنی مراد لیا تھا یعنی روشنی اور نور رہے دوسرا یہ کہ اس کی روشنی ستاروں اور چاند سے زیادہ ہوتی ہے۔ (پھر جب وہ غائب ہوگیا (فلما اقلت غروب ہوگیا) قال ھذا ربی ھذا اکبر فلما اقلت قال یقوم انی اوی مما تشرکون) ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–79

(74 ۔ 79) ۔ مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار رہ کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیونکر بتلاسکتے ہیں۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار تارے مشتری یا زہرہ کو اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربی جو کہا یہ قول انکا اس بچے پنے کے زمانہ کا ہے جس وقت تک ان کو توحید اور احکام شرع معلوم نہ تھے یا بڑی عمر میں اپنے باپ اور قوم کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–83

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔ (وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 76–82

ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

140 حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سورج کے پجاریوں پر حجت : سو اس موقع پر حضرت ابراہیم نے فرمایا کہ یہ ہے میرا رب یعنی تمہارے قول کے مطابق اے میری قوم کے لوگو ! ورنہ حضرت ابراہیم کے سورج چاند وغیرہ کو خود رب ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور یہ تو اللہ پاک کی طرف سے تلقین فرمودہ وہ حجت تھی جو کہ حضرت ابراہیم کو عطا فرمائی گئی تھی۔ جیسا کہ آگے آیت نمبر 84 میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { وَتِلْکَ حُجَّتُنَا اٰتَیْنَاہَآ اِبْرَاہِیْمَ } ۔ پھر اس میں سورج چاند جیسی مخلوق کو لمحہ بھر کے لئے بھی رب ماننے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ بلکہ یہ دراصل حضرت ابراہیم نے اپنی قوم کو خطاب کرکے ان کو سمجھانے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 74–81

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–83

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83: اسرار و معارف : جن مسلط ہونا : امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 10 اب اصل بات کھولی اور اپنا عقیدہ واضح کیا پہلی تمام باتیں صرف اس لیے تھیں کہ یہ جاہل لوگ اصل حقیقت کے قاتل ہوں اور اپنے عقیدہ کی غلطی پر غور کریں۔ (وحیدی) اکثر علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے پیدا ہونے کے بعد ان کو ایک غار (سرب) میں ڈال گیا تھا تاکہ بادشاہ قتل نہ کردے اور یہ کوکب قمر اور شمس کا ْقصہ وہیں پیش آیا اور حضرت ابراہیم نے تدریجا اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور توحید کی معرفت حاصل کی مگر صحیح یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی یہ ساری گفتگو قوم کے ساتھ مناظرہ کے دوران میں ہے جیسا کہ آخر میں یاقوانی بری مما نشر کون اس پر فددلالت کرتا

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:78) ھذا ربی۔ اھزا ربی۔ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ ان استفہامیہ محذوف ہے اور استفہام انکاری کے طور پر آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے میری قوم کیا یہ میرا رب ہے ؟ ہرگز نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–79

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 : نری (ہم دکھائیں گے) ملکوت ( نظام کائنات) الموقنین ( یقین کرنے والے) ‘ جن (چھا گیا) را ( اس نے دیکھا) ‘ کوکبا (ستارہ) ‘ وجھت ( میں نے چہرہ کرلیا۔ میں نے رخ کرلیا) ‘ فطر (اس نے بنایا۔ اس نے پیدا کیا) حنیفا (سب سے الگ۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 : ستارے ‘ چاند اور سورج۔ ان کے باری باری آنے اور غروب ہونے کا انداز کوئی انوکھا یا نیا نہیں ہے۔ ہر شخص ہر شب و روز دیکھا تا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ مگر ایک خاص وقت پر ہی یہ کھٹک کیوں ؟ اس کا ایک جواب تو شروع آیت ہی میں دیدیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–79

پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–78

[27] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کواکب پرستی میں مبتلا تھی۔ چناچہ آپ نے یہ باتیں اپنی قوم کو پہلے ستارہ پھر چاند اور سورج دکھا کر اور سنا کر ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کہیں۔ مخالف پر حجت قائم کرنا تبلیغ و مناظرہ کے معمولات میں سے ہے اور ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سورج، چاند اور ستاروں کا غروب ہونا اللہ کی شان کے خلاف ہے کیونکہ وہ مجبور معلوم ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کے ارادے کے محکوم۔ اور جب مجبور و محکوم ہیں تو اِلٰہ نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 78–80

سیر ملکوت : (ف 1) ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے انتقالات ذہنی یا واردات توحید کا بیان کیا گیا ہے ، یعنی یہ کہ کیونکر وہ توحید کے راز تک پہنچے جبکہ ان کے گروہ پیش شرک وبت پرستی کی آندھیاں چل رہی تھیں ، یہ واضح رہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک لمحہ کے لئے بھی چاند اور تاروں کو معبود نہیں مانا ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ حضرت ابراہم (علیہ السلام) فطرتا سلجھے ہوئے دماغ کے آدمی تھے ، وہ فورا بھانپ گئے کہ چمکتے تاروں اور درخشان ‘ مہتاب وجہانتاب میں کوئی بھی خدا ہونے کا استحقاق نہیں رکھتا ، کیونکہ یہ سب افول وزوال سے دوچار ہوتے ہیں البتہ صرف ایک ذات ہے جسے اللہ کے پروقار لفظ سے تعبیر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-78 پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سورج کو طلوع ہوتے ہوئے دیکھا تو اس کو چمکتا ہوا دیکھ کر فرمایا گیا یہ تمہارے زعم باطل میں میرا رب ہے یہ تمام اجرام فلکی اور اجرام علوی میں سب سے بڑا بھی ہے پھر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اے میری قوم بلاشبہ میں ان تمام چیزوں سے بیزار اور بری الذمہ ہوں جن کو تم خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 78–79

ف 4۔ چونکہ اس معمورہ میں جس میں بابل وحلب بھی داخل ہے جو کہ بقول مورخین موقع تھا اس گفتگو کا ایک شب میں بروئے رفتار معتاد کواکب کے ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماہتاب کا طلوع اپنے افق سے سیارہ کے غروب کے بعد ہو اور پھر طلوع شمس سے پہلے غروب ہوجائے۔ اس لیے یہ تینوں واقعے ایک شب کے نہیں ہوسکتے یا تو دو شب کے ہیں یا تین شب کے پس دونوں جگہ فلما رای میں جو فاء ہے وہ تعقیب واقتران عرفی کے لیے نہ کہ حقیقی کے لیے۔ 5۔ یعنی برات ظاہر کرتا ہوں یوں اعتقاد تو ہمیشہ سے بیزاری تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایک روز سورج کی پرستش کرنے والوں کو آپ نے مخاطب کرلیا اور پوچھا کہ کیا یہ میرا رب ہے ؟ : 124: آپ کا یہ وعظ تو ساری قوم کے خلاف روزانہ جاری تھا۔ جہاں موقعہ ملا اور لوگوں کا اجتماع دیکھا تبلیغ شروع کردی اور جو سامنے آیا اس کی تفہیم کی کوشش کی۔ ستارہ کی پرستش کرنے والوں کو مخاطب کرچکے تھے اور اسی طرح چاند کی پرستش کرنے والوں کو بھی مسکت جواب سنا چکے تھے کہ ایک روز آفتاب عالمتاب کا رخ روشن سامنے آیا سورج نکل آیا اور وہ اپنی پوری آب و تاب سے چمکنے لگا اور اس طرح ابھی سورج روشن ہی تھا کہ آپ کا وعظ وبیان شروع ہوگیا اور حسب سابق کائنات کی ہرچیز کو توحید الٰہی کی دلیل ثابت کرتے کرتے سورج کی پرستش کرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–81

Using Wisdom and Strategy in Tabligh and Da'wah is the Way of Prophets Let us begin with verse 76 which opens with the words: رَ‌أَىٰ كَوْكَبًا So, when the night enveloped him, he saw a star. Then, beaming at his people, he said: This is my Lord. The sense in which he said it was: Is it not, as you think and believe, my Lord and your Lord, the Rabb of both of us who nurtures, nourishes and sustains us? In a little while you will find out how real that is. Then, after some time, the star vanished. This gave Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) a good occasion to drive his argument home against his…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 78–79

53. Here some light is thrown on the mental experience through which Abraham passed in the beginning and which led him to an understanding of the Truth before prophethood was bestowed on him. This experience shows how a right-thinking and sound-hearted man, who had opened his eyes in a purely polytheistic environment and had received no instruction in monotheism, was ultimately led to discover the Truth by careful observation of, and serious reflection on the phenomena of the universe. The account of the conditions prevailing among the people of Abraham shows that when he began to think…

Read the full tafseer →