Explained with ayahs 74–79
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ
حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
سورة الْاَنْعَام 51
یعنی جس طرح تم لوگوں کے سامنے آثار کائنات نمایاں ہیں اور اللہ کی نشانیاں تمہیں دکھائی جا رہی ہیں، اسی طرح ابراہیم ؑ کے سامنے بھی یہی آثار تھے اور یہی نشانیاں تھیں۔ مگر تم لوگ انہیں دیکھنے پر بھی اندھوں کی طرح کچھ نہیں دیکھتے اور ابراہیم ؑ نے انہیں آنکھیں کھول کر دیکھا۔ یہی سورج اور چاند اور تارے جو تمہارے سامنے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور روزانہ تم کو جیسا گمراہ طلوع ہوتے وقت پاتے ہیں ویسا ہی غروب ہوتے وقت چھوڑ جاتے ہیں، انہی کو اس آنکھوں والے انسان نے بھی دیکھا تھا اور انہی نشانات سے وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔
سورة الْاَنْعَام 52
اس مقام کو اور قرآن کے ان دوسرے مقامات کو جہاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
تبلیغ و دعوت میں حکمت و تدبیر سے کام لینا سنت انبیاء ہے
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَاٰ كَوْكَبًا، یعنی ایک رات میں جب تاریکی چھاگئی اور ایک کو کب یعنی ستارہ پر نظر پڑی تو اپنی قوم کو سنا کر کہا کہ یہ ستارہ میرا رب ہے، مطلب یہ تھا کہ تمہارے خیالات و عقائد کی رو سے یہی میرا اور تمہارا رب یعنی پالنے والا ہے، اب تھوڑی دیر میں اس کی حقیقت دیکھ لینا۔ چناچہ کچھ دیر کے بعد وہ غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم ؑ کو قوم پر حجت قائم کرنے کا واضح موقعہ ہاتھ آیا، اور فرمایا لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِيْنَ ، آفلین کا یہ لفظ افول سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں غروب ہونا۔
مطلب یہ ہے کہ میں غروب ہوجانے والی چیزوں سے…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا الایۃ، اسی طرح کسی دن، پورے چاند کی پھیلی ہوئی چاندنی میں انہوں نے پھر اس تعلیم کے لیے موقع پیدا کرلیا اور بالکل اسی لب و لہجہ اور اسی انداز میں انہوں نے چاند کے متعلق وہی بات کہی جو پہلے ستارے کے متعلق کہی تھی۔ پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو انہوں نے اسی طرح اپنے کو مخاطب کرتے ہوئے اور آس پاس والوں کو سناتے ہوئے فرمایا کہ لَىِٕنْ لَّمْ يَهْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ : اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ فرمائی تو میں گمراہوں میں سے ہوجاؤں گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ یہاں تعلیم کا قدم پہلے کی نسبت سے آگے ہے۔ یہاں صرف اتنی ہی بات نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
76۔ 1 یعنی غروب ہونے والے معبودوں کو پسند نہیں کرتا، اس لئے غروب، تغیر حال پر دلالت کرتا ہے جو حادث ہونے کی دلیل ہے اور جو حادث ہو معبود نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
28: حضرت ابراہیم ؑ عراق کے جس علاقے نینوا میں پیدا ہوئے تھے وہاں کے لوگ بتوں اور ستاروں کو خدا مان کر ان کی عبادت کرتے تھے، ان کا باپ آزر بھی نہ صرف اسی عقیدے کا تھا بلکہ خود بت تراشا کرتا تھا، حضرت ابراہیم ؑ شروع ہی سے توحید پر ایمان رکھتے تھے اور شرک سے بیزار تھے، لیکن انہوں نے اپنی قوم کو غور وفکر کی دعوت دینے کے لئے یہ لطیف طریقہ اختیار فرمایا کہ چاند ستاروں اور سورج کو دیکھ کر پہلے اپنی قوم کی زبان میں بات کی، مقصد یہ تھا کہ یہ ستارہ تمہارے خیال میں پروردگار ہے، آؤ دیکھتے ہیں کہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے یا نہیں ؟ چنانچہ جب ستارہ بھی ڈوبا اور چاند بھی اور آخر میں سورج بھی تو ہر موقع…
Read the full tafseer →(آیت) ” فَلَمَّا رَأَی الْقَمَرَ بَازِغاً قَالَ ہَـذَا رَبِّیْ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لأکُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّیْنَ (77)
” پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ میرا رب ہے ‘ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری راہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا ۔ “
سابقہ تجربہ بھی سامنے آتا ہے ۔ نظر یوں آتا ہے کہ گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے قبل چاند کو دیکھا تک نہ تھا ۔ گویا آپ کو پتہ تک نہ تھا کہ آپ کا خاندان اور آپ کی قوم چاند کی پرستش کرتی ہے ۔ اور یہ کہ آج کی رات بالکل ایک نئی رات تھی (غور وفکر کی رات)
(آیت) ”…
Read the full tafseer →9 چاند چونکہ بہت حسین اور چمکدار سیارہ ہے اگر خدا دستگیری نہ فرمائے تو بیشک انسان اس کی چمک دمک پر مفتون ہو کر رہ جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔
گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
82 انبیاء کے والدین کو شرک سے بری ثابت کرنے کا نظریہ :۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا اصلی نام تارح تھا اور آزر ان کا لقب تھا۔ پھر وہ لقب سے زیادہ مشہور ہوگئے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ ان کا اصل نام آزر تھا اور تارح لقب تھا۔ یہ باتیں تو ایسی ہیں جن میں کسی کے اختلاف کرنے کی ضرورت نہیں مگر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا اور آزر آپ کے چچا کا نام تھا اور اس کی وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ پیغمبر کا باپ مشرک نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ایک تو قرآن کے ظاہر الفاظ کے خلاف ہے دوسرے اس کی جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ بناء فاسد علی الفاسد پر مبنی ہے کیونکہ پیغمبروں کے مبعوث ہونے کا…
Read the full tafseer →116 ۔ (لیکن اس کی ہدایت تو اول روز سے میرے شامل حال ہے اور اسی لیے میں توحید پر قائم ہوں) چاند کی عدم معبودیت پر یہ تقریر، ضرور نہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے اسی وقت کی ہو، ہوسکتا ہے کہ اس ستارہ والی تقریر سے الگ یہ تقریر کسی دوسرے موقع پر کی ہو۔ (آیت) ” ھذا ربی “۔ ستارہ پرستی کی طرح قمر پرستی بھی مشرک اور جاہلی قوموں میں بہت عام رہی ہے۔ اور اہل باطل بھی اس کا شکار تھے (آیت) ” لئن لم یھدنی “۔ انبیاء کبار تک اپنے کسی کمال کو اپنی جانب منسوب نہیں کرتے، بلکہ اسے تمامتر عطیہ الہی سمجھتے اور کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
فَلَمَّا جَنَّ علیہ اللیل راکوکباً قال ھذا ربی ھذا اکبر، سلف کا اس میں اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار مشتری یا زہرہ اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربہ ھذا اکبر جو کہا یہ قول ان کا اس وقت کا ہے کہ جب وہ بچے تھے کہ اس وقت تک آپ کو توحید اور احکام شریعت کا علم نہیں تھا، اور اگر بڑی عمر میں یہ کلام کیا تو لوگوں کو قائل کرنے اور الزام دینے کیلئے یہ بات کہی دوسرا قول رجح ہے۔ (احسن التفاسیر) مشہور ہے کہ اس وقت کے بادشاہ نمرود نے اپنے ایک خواب کی تعبیر کی وجہ سے نومولود بچوں کو قتل کرنے کا حکم دے رکھا تھا، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی اس سال پیدا ہوئے تھے جسکی وجہ سے انھیں چھپا…
Read the full tafseer →فلما القمر بازغا قال ہذا ربی پھر جب چاند کو (ابتداء طلوع کے وقت) چمکتا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرا رب ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اندر قوت فکریہ کامل تھی اور ستارہ کے غروب سے (توحید پر) استدلال کامل ہوچکا تھا مزید دلیل کی ضرورت نہ تھی لیکن مشرکوں کو مزید شکست دینے کے لئے آپ نے اپنے استدلال کے دائرہ کو وسیع کیا اور چاند و سورج سے بھی استدلال کیا۔
فلما افل قال لئن لم یہدنی ربی لاکونن من القوم الضآلین پھر جب چاند بھی چھپ گیا تو ابراہیم نے کہا اگر میرا رب ہی مجھے سیدھی راہ نہ بتائے گا تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہوجاؤں گا۔ اللہ کی طرف سے ہدایت ملنے کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے لئے مذکورۂ بالا…
Read the full tafseer →(77) جب چاند پر نظر پڑی تو بولے کیا یہ اللہ ہوسکتا ہے یہ تو پہلے سے بڑا ہے، جب وہ غائب ہوگیا تو فرمایا کہ اگر مجھے میرا رب حقیقی ہدایت نہ کرتا جیسا کہ اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے تو میں بھی تم لوگوں کی طرح بھٹک جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–79
فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ۔۔ : ابراہیم ؑ کی قوم کئی معبودوں کی پرستش کرتی تھی، جن میں بت، سورج، چاند اور ستارے بھی تھے بلکہ بادشاہ بھی ان کا رب تھا۔ ابراہیم ؑ نے ان سب چیزوں کے معبود نہ ہونے کے ایسے زبردست دلائل پیش کیے، جن کا کوئی جواب ان کے پاس نہ تھا۔ بتوں کے معبود نہ ہونے کو انھوں نے بت توڑ کر ثابت کیا۔ بادشاہ سے ایسی مدلل بات کی کہ آخر وہ ”فَبُهِتَ الَّذِيْ كَفَرَ ۭ“ بالکل لاجواب ہوگیا۔ یہاں زیر تفسیر آیات میں ان کا اپنی قوم کے ساتھ سورج، چاند اور ستاروں کے معبود نہ ہونے پر مناظرے کا ذکر ہے۔ چناچہ ایک رات ابراہیم ؑ نے ایک بہت چمکتا ہوا ستارہ دیکھ کر کہا : ”یہ میرا رب ہے۔“ یقیناً وہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 77
آیت : فلما را القمر بازغا پھر جب چاند کو طلوع ہوتے دیکھے۔ کہا جاتا ہے : بزغ القمر جب چاند طلوع ہونا شروع ہو اور البزغ کا معنی الشق ( پھاڑنا) ہے، گویا چاند اپنے نور کے ساتھ تاریکی اور اندھیرے کو پھاڑ دیتا ہے۔ اور اسی سے ہے بزغ البیطار الدابۃ ( یہ تب کہا جاتا ہے) جب سالوتری جانور کا خون بہا دے۔
آیت : لئن لم یھدنی ربی یعنی اگر وہ مجھے ہدایت پر ثابت قدم نہ رکھتا۔ حالانکہ ہدایت یافتہ تھے۔ تو یہ نظروفکر کی مہلت
میں جاری ہو سکتا ہے یا آپ نے جواز عقلی کے امکان کے سبب ثابت قدمی کا سوال کیا، جیسا کہ حضرت شعیب (علیہ السلام) نے کہا ہے : آیت : وما یکون لنا ان نعود فیھا الا ان یشآء اللہ ( اعراف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض سے مراد سورج چاند اور ستارے ہیں۔
(2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ کھول دیا گیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تھا یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھا ایک چٹان اور وہ چٹان ایک مچھلی پر تھی اور یہ مچھلی وہی ہے جس میں سے لوگوں کا کھانا ہے اور مچھلی ایک زنجیر میں تھی اور زنجیر عزت والی انگوٹھی میں ہے۔
(3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →فَلَمَّا [ پھر جب ] رَاَ [ انہوں نے دیکھا ] الْقَمَرَ [ چاند کو ] بَازِغًا [ طلوع ہونے والا ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] هٰذَا [ یہ ] رَبِّيْ ۚ [ میرا رب (ہوسکتا ) ہے ؟] فَلَمَّآ [ پھر جب ] اَفَلَ [ وہ ڈوب گیا ] قَالَ [ تو انہوں نے کہا ] لَىِٕنْ [ یقینا اگر ] لَّمْ يَهْدِنِيْ [ ہدایت نہ دی مجھے ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] لَاَكُوْنَنَّ [ تو میں لازما ہوجاؤں گا ] مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ [ گمراہ ہونے والے لوگوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو مختلف عنوانات سے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اس کے ذیل میں ستارہ پرستوں سے بھی خطاب فرمایا۔ علامہ ابن کثیر دمشقی البدایہ والنہایہ ج 1 ص 401 میں لکھتے ہیں کہ دمشق اور اس کے آس پاس کے لوگ کو اکب سبعہ (سات ستاروں) کی عبادت کیا کرتے تھے۔ دمشق کے سات دروازے تھے اور وہاں میلے لگاتے تھے۔ اور بھینٹ اور نذرانے چڑھاتے تھے۔ (کو اکب سبعہ سے شمس۔ قمر۔ زحل۔ عطارد۔ مریخ۔ مشتری۔ اور زہرہ مراد ہیں) ۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ جو یہاں قرآن مجید میں مذکور ہے۔ اپنے علاقے سے ہجرت کرنے کے بعد دمشق کے آس پاس کہیں پیش آیا واقعہ یہ ہے کہ ان کو ایک چمکدار ستارہ نظر آیا صاحب روح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →83 پھر جب چمکتا ہوا چاند دیکھا تو کہا کیا یہ میرا رب ہے، کیا میں بھی اس کو اپنا رب اور کارساز بنا لوں ؟ فَلَمَّا اَفَلَ الخ لیکن جب چاند بھی غروب ہوگیا تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا اگر اللہ نے مجھے ہدایت نہ دی ہوتی اور مجھے سیدھی راہ نہ دکھائی ہوتی تو آج میں بھی ان ستارہ پرست مشرکین کی طرح گمراہ ہوتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور اس دلیل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے شرک کی تردید میں مشرکین کے سامنے پیش کی۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور مسلک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے پھر اگلی آیات میں قوم سے جھگڑا کرنے کا ذکر ہوگا۔ پھر انبیاء کا مسلک بیان ہوگا جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا مسلک ہے۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کو دھیان میں لائو ‘ جب انہوں نے اپنے والد آزر سے کہا تھا کہ کای تو بتوں کو الٰہ بناتا ہے۔ میں تجھے اور تیری قوم کے لوگوں کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّيْ 0ۚ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَىِٕنْ لَّمْ يَہْدِنِيْ رَبِّيْ لَاَكُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّاۗلِّيْنَ 77
قمر
القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5]
( ق م ر ) القمر
۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–82
ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو
1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ
2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ الَّیْلُ رَاٰکَوْکَبًا ج قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَآ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَّمْ یَھْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ھٰذَا رَبِّیْ ھٰذَآ اَکْبَرُ ج فَلَمَّآ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیْ بَرِیْٓئٌمِّمَّا تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 76۔ 77۔ 78)
(پس یوں ہوا کہ جب رات نے اس کو ڈھانپ لیا ‘ اس نے ایک تارے کو دیکھا ‘ بولا کہ یہ میرا رب ہے۔ پھر جب وہ ڈوب گیا ‘ اس نے کہا ! میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔
مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…
Read the full tafseer →غروب سے تغیر پذیری پر شاندار استدلال :
آیت 77 : فَلَمَّا رَاَ الْقَمَر بَازِغًا طلوع ہوتے ہوئے۔ قَالَ ہٰذَا رَبِّیْ فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَپنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ آپ نے اپنی قوم کو خبردار فرمایا۔ کہ جو شخص چاند کو الٰہ مانتا ہو۔ وہ گمراہ ہے۔ طرز استدلال : آپ نے اس مقام پر غروب سے استدلال فرمایا۔ طلوع سے نہیں۔ حالانکہ دونوں حالتیں تغیر پذیر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غروب سے استدلال زیادہ واضح تر ہے۔ کیونکہ یہ انتقال چھپ جانے اور پردے میں اور اوٹ میں آجانے کے ساتھ ہے۔
Read the full tafseer →(77) (فلما را القمر) بازغاً کا معنی ہے طالعاً (قال ھذا ربی فلما افل قال لئن لم یھدنی ربی لاکونن من القوم الضآلین)” لئن لم یھدنی ربی “ کی تشریح بعض حضرات نے یہ کی ہے کہ اگر مجھے اللہ ہدایت پر ثابت قدم نہ رکھتا ہدایت نہ دیتا یہ معنی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر ہدایت کے کسی نبی کو نہیں بھیجتے۔ اس لئے انبیاء (علیہم السلام) جب بھی اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں تو ایمان پر ثابت قدمی کا سوال کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
(74 ۔ 79) ۔ مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار رہ کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیونکر بتلاسکتے ہیں۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار تارے مشتری یا زہرہ کو اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربی جو کہا یہ قول انکا اس بچے پنے کے زمانہ کا ہے جس وقت تک ان کو توحید اور احکام شرع معلوم نہ تھے یا بڑی عمر میں اپنے باپ اور قوم کے لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–83
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–82
ابراہیم (علیہ السلام) کی جستجوئے حق
قول باری ہے ( فلما جن علیہ اللیل دای کوکبا قال ھذا ربی چناچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا، کہا یہ میرا رب ہے) اس کی تفسیر میں تین اقوال ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلی دفعہ تارے پر نظر پڑنے کی حالت میں یہ بات کہی تھی، اور جو بات پہلے سے ان کے وہم میں تھی نیز ان کے گمان میں چھائی ہوئی تھی اس پر استدلال کرتے ہوئے یہ فرمایا تھا اس لیے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ستاروں کے نام پر بت بنا کر اس کی پرستش کرتی تھی ۔ وہ کہتے ” یہ زحل کا بت ہے، یہ سورج کا، یہ مشتری کا “ وغیرہ وغیرہ ۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
138 کائنات کو دیکھنے کا صحیح اور درست طریقہ : سو کائنات کو دیکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اس کے خالق ومالک اور اس کی معرفت تک رسائی حاصل کی جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم اسی طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی یہ بادشاہی دکھاتے رہے " تاکہ اس طرح آپ حکمتوں بھری اس کائنات سے اس کے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی عظمت شان پر استدلال کرسکیں۔ اور اہل شرک و باطل پر حجت قائم کرسکیں۔ نہ کہ ظاہر پرست دنیا داروں کی طرح کہ ان کی نگاہیں اس دنیا کی ظاہری چمک دمک ہی میں رک اور اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ وہ اس کی گوناگوں نعمتوں سے طرح طرح سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، مگر وہ اپنے خالق ومالک کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 8 حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بات یا تو تو استفہام انکاری کے لہجہ میں فرمائی یعنی کیا یہ میرا رب ہے یا بطور ایسے مفروضہ کے جو صحیح نہیں ہوسکتا تھا کہ آگے چل دلنشیں طریقہ سے ان کے عقیدہ کی غلطی واضح کی جاسکے کیونکہ وہ لوگ کو اکب (ستاروں) کی پرستش کرتے تھے اور انہیں کو اپنے رب سمجھتے تھے۔ (رازی)9 یعنی سیدھی اور سچی راہ پر قائم رکھے گا۔
Read the full tafseer →(6:77) بازغا۔ درخشاں۔ روشن۔ بزوغ سے بمعنی طلوع ہونا۔ چمکنا۔ اسم فاعل واحد مذکر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 :
نری (ہم دکھائیں گے) ملکوت ( نظام کائنات) الموقنین ( یقین کرنے والے) ‘ جن (چھا گیا) را ( اس نے دیکھا) ‘ کوکبا (ستارہ) ‘ وجھت ( میں نے چہرہ کرلیا۔ میں نے رخ کرلیا) ‘ فطر (اس نے بنایا۔ اس نے پیدا کیا) حنیفا (سب سے الگ۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے والا)
تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 :
ستارے ‘ چاند اور سورج۔ ان کے باری باری آنے اور غروب ہونے کا انداز کوئی انوکھا یا نیا نہیں ہے۔ ہر شخص ہر شب و روز دیکھا تا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ مگر ایک خاص وقت پر ہی یہ کھٹک کیوں ؟
اس کا ایک جواب تو شروع آیت ہی میں دیدیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر
مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
[27] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کواکب پرستی میں مبتلا تھی۔ چناچہ آپ نے یہ باتیں اپنی قوم کو پہلے ستارہ پھر چاند اور سورج دکھا کر اور سنا کر ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کہیں۔ مخالف پر حجت قائم کرنا تبلیغ و مناظرہ کے معمولات میں سے ہے اور ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سورج، چاند اور ستاروں کا غروب ہونا اللہ کی شان کے خلاف ہے کیونکہ وہ مجبور معلوم ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کے ارادے کے محکوم۔ اور جب مجبور و محکوم ہیں تو اِلٰہ نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
دائرہ تبلیغ کا نقطہ آغاز :
(ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ ہے جو ان کے والد سے متعلق ہے ، مقصد یہ ہے کہ انبیاء تبلیغ کو گھر سے شروع کرتے ہیں ، اور انہیں حق بات کے کہنے میں کبھی تامل نہیں ہوتا ۔
بعض لوگ یہاں لابیہ کے لفظ سے چچا مراد لیتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک انبیاء کے باپ کافر نہ ہونے چاہئیں مگر یہ محض وہم ہے ، اگر رات کی تاریکی سے خورشید خ اور کا طلوع ہو سکتا ہے ، تو پھر شرک کی ظلمتوں سے توحید کے بدر منیر کا نکل آنا کیوں ناجائز ہے ۔
حل لغات :
صور : نرسنگاہ ۔
ملکوت : بادشاہت نصرت عالم فرشتگان ، عالم ارواح ، جن ، جنون بمعنی چھپانا ۔
Read the full tafseer →-77 پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھاتو فرمایا کیا تمہارے زعم باطل اور عقیدہ فاسدہ میں یہ میرا رب ہے ؟ …… پھر جب وہ چاند بھی غروب ہوگیا تو ابراہیم نے کہا اگر میرا پروردگار میری صحیح رہنمائی نہ فرمائے تو میں یقینا گمراہ لوگوں میں سے ہو جائوں اور تمہاری طرح میں بھی گمراہوں میں شامل ہو جائوں یعنی اگر تمہاری طرح میں چاند کو متصرف فی الاحوال مان لوں جیسا کہ تم مانتے ہو تو میں بھی تمہاری طرح گمراہ ہو جائوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
ف 3۔ یعنی آپ نے اپنی قوم سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ تمہارے زعم کے موافق یہ میرا اور تمہارا رب ہے۔
Read the full tafseer →چاند پرستوں کو چاند سے استشہاد فرماتے ہوئے ثابت کر دکھایا کہ یہ بھی رب نہیں ہو سکتا :
123: جس طرح ستارہ پرستوں کو یہ بات ثابت کر دکھائی کہ یہ گردش جس سے تم نے غلطی سے یہ سمجھ لیا کہ انسانوں کی زندگیوں کے ساتھ اس کا کوئی گہرا تعلق ہے جس طرح آج بھی رمال اور جوتشی لوگوں کو کہتے پھرتے ہیں کہ تیرا ستارہ گردش میں ہے اس سے نکلنے کے لئے ایسا کرو اور ایسا کرو اس طرح چاند کی پرستش کرنے والے اور اوہام میں چاند کو رب تصور کرنے کے لئے نہ معلوم کیا کیا دلائل اپنے ذہن و دماغ میں رکھتے ہیں۔ بہر حال ایک روز موقع دیکھ کر کہ چاند اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ روشن ہے لیکن عنقریب وہ وقت بھی آنیوالا ہے کہ یہ غروب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–81
Using Wisdom and Strategy in Tabligh and Da'wah is the Way of Prophets
Let us begin with verse 76 which opens with the words: رَأَىٰ كَوْكَبًا So, when the night enveloped him, he saw a star. Then, beaming at his people, he said: This is my Lord. The sense in which he said it was: Is it not, as you think and believe, my Lord and your Lord, the Rabb of both of us who nurtures, nourishes and sustains us? In a little while you will find out how real that is. Then, after some time, the star vanished. This gave Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) a good occasion to drive his argument home against his…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
51. The adversaries are told that they can observe God's signs in the phenomena of the universe, just as Abraham could. The difference is that they see nothing, as if they were blind, whereas Abraham saw with open eyes. The sun, moon and stars which rise and set before their eyes day after day and night after night witness them as misguided at their setting as at their rising. Yet the same signs were observed by the perceptive Abraham, and the physical phenomena helped him arrive at the Truth.
52. To obtain a full understanding of this section, as well as of those verses which mention the…
Read the full tafseer →