Explained with ayahs 74–79
ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ
حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 50
یہاں حضرت ابراہیم ؑ کے واقعہ کا ذکر اس امر کی تائید اور شہادت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے آج محمد ﷺ نے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے شرک کا انکار کیا ہے اور سب مصنوعی خداؤں سے منہ موڑ کر صرف ایک مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کردیا ہے اسی طرح کل یہی کچھ ابراہیم ؑ بھی کرچکے ہیں۔ اور جس طرح آج محمد ﷺ اور ان پر ایمان لانے والوں سے ان کی جاہل قوم جھگڑ رہی ہے اسی طرح کل حضرت ابراہیم ؑ سے بھی ان کی قوم یہی جھگڑا کرچکی ہے۔ اور کل جو جواب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو دیا تھا آج محمد ﷺ اور ان کے پیرو وں کی طرف سے ان کی قوم کو بھی وہی جواب ہے۔ محمد ﷺ اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ آزر (نام) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے، بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو (جو اس اعتقاد میں تیرے شریک ہیں) صریح غلطی میں دیکھ رہا ہوں (اور ستاروں کے متعلق آگے گفتگو آئے گی، درمیان میں ابراہیم ؑ کا صحت نظر کے ساتھ موصوف ہونا کہ ما قبل و ما بعد دونوں سے اس کا تعلق ہے فرماتے ہیں) اور ہم نے ایسی ہی (کامل) طور پر ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات (بچشم معرفت) دکھلائیں، تاکہ وہ (خالق کی ذات وصفات کے) عارف ہوجاویں اور تاکہ (ازدیار معرفت سے) کامل یقین کرنے والوں سے ہوجاویں (آگے ستاروں کے متعلق گفتگو کہ…
Read the full tafseer →فصل 11: آیات 74 تا 90 کا مضمون : سورة کے شروع سے جو بحث چلی آرہی تھی یہاں آ کر اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی ہے۔ اب آگے حضرت ابراہیم اور ان سے پہلے اور ان کے بعد پیدا ہونے والے تمام نبیوں کا حوالہ دے کر بتایا گیا ہے کہ ان سب کی دعوت یہی تھی جو یہ پیغمبر دے رہے ہیں۔ پھر پیغمبر ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم بہر شکل اسی ہدایت یافتہ گروہ کی ہدایت کی پیروی کرو۔ اگر تمہاری یہ قوم تمہاری بات نہیں سنتی تو اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ، تمہاری ذہ داری صرف دعوت و تبلیغ کی ہے۔ ان کے دلوں میں ایمان و ہدایت اتار دینا تہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں خاص اہمیت کے ساتھ کے ساتھ حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعوت…
Read the full tafseer →74۔ 1 مورخین حضرت ابراہیم ؑ کے باپ کے دو نام ذکر کرتے ہیں، آزر اور تارخ۔ ممکن ہے دوسرا نام لقب ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ آزر آپ کے چچا کا نام تھا، لیکن یہ صحیح نہیں، اس لئے کہ قرآن نے آزر کو حضرت ابراہیم ؑ کے باپ کے طور پر ذکر کیا ہے، لہذا یہ صحیح ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
26: یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزاء اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے، جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آجائے گی اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے…
Read the full tafseer →(آیت) ” 74 تا 79۔
ان آیات میں قرآن کریم نے جس منظر کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک عجیب منظر ہے ۔ یہ فطرت انسانی کا مظاہرہ ہے ۔ فطرت انسانی دیکھتے ہیں تمام جاہلی تصورات اور شرکیہ بت پرستانہ عقائد کو رد کردیتی ہے ۔ ان غلط تصورات کو دیکھتے ہیں فطرت دامن جھاڑنی ہے اور تلاش الہ حق کی راہ میں نکل کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ حقیقی سچائی خود اس کے ضمیر میں موجود ہے لیکن انسان کو اس کا ادراک نہیں ہے اور فطرت اس پر متنبہ نہیں ہے ۔ لیکن یہ فطرت تلاش حق میں ہر اس چیز سے ربط قائم کرتی ہے جو بظاہر الہ ہو سکتی ہو ‘ لیکن جب ملاحظہ عمیق کرتی ہے تو وہ کھوٹے خداؤں کو رد کردیتی ہے کیونکہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات…
Read the full tafseer →4 گزشتہ آیات میں جو توحید کا اثبات ' شرک کی نفی اور مسلمانوں کے ارتداد سے مایوس کیا گیا تھا۔ یہاں مؤ حد اعظم حضرت ابراہیم کے واقعہ سے اسی کی تاکید مقصود ہے اور ضمنا مسلمانوں کو یہ بھی سمجھانا ہے کہ مکذبین و معاندین کو کس طرح نصیحت و فرمائش کی جائے۔ کس طرح ان سے علیحدگی اور بیزاری کا اظہار ہونا چاہیے اور کس طرح ایک مومن قانت کو خدا پر اور صرف خدا پر بھروسہ رکھنا ' اسی سے ڈرنا اور اسی کا تابع فرمان ہونا چاہیے۔
5 علمائے انساب نے حضرت ابراہیم کے باپ کا نام " تارخ " رکھا ہے ممکن ہے " تارخ " نام اور " آزر " لقب ہو ابن کثیر نے مجاہد وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ " آزر " بت کا نام تھا ' شاید اس بت کی خدمت…
Read the full tafseer →آیت 74 وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً ج
یہاں پر خصوصی طور پر لفظ آزر جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کے نام کے طور پر آیا ہے ‘ یہ میرے نزدیک تورات میں مندرج نام کی نفی کرنے کے لیے آیا ہے۔ تورات میں آپ علیہ السلام کے والد کا نام تارخ لکھا گیا ہے اور اس کی یہاں تصحیح کی گئی ہے ‘ ورنہ یہاں یہ فقرہ لفظ آزر کے بغیر بھی کافی تھا۔ اس واضح نشاندہی کے باوجود بھی بعض لوگ مغالطے میں پڑگئے ہیں اور انہوں نے تورات میں مذکور نام ہی اختیار کیا ہے۔ جیسے اہل تشیع حضرت ابراہیم علیہ السلام کے باپ کا نام تارخ ہی کہتے ہیں اور آزر جس کا ذکر یہاں آیا ہے اس کو آپ علیہ…
Read the full tafseer →81 یعنی جس دن اللہ تعالیٰ اس جہان کو درہم برہم کرنا چاہے گا۔ تو فرشتہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا۔ اس سے زمین پر آباد تمام مخلوق مرجائے گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔
خ نفخہ صور دو بار ہوگا۔ اور عجب الذنب :۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ صور دو بار پھونکا جائے گا اور ان دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا چالیس دن کا ؟ کہنے لگے میں نہیں کہہ سکتا لوگوں نے کہا چالیس ماہ کا ؟ کہنے لگے میں نہیں کہہ سکتا پھر لوگوں نے پوچھا چالیس برس کا ؟ کہنے لگے میں نہیں کہہ سکتا اس کے بعد ابوہریرہ ؓ نے کہا : اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا…
Read the full tafseer →113 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حاشیے پہلے گزر چکے، آپ (علیہ السلام) ایک بت پرست وستارہ پرست قوم کے درمیان اپنے آبائی ملک بابل یاکلدان (موجودہ عراق) میں بہ حیثیت مبلغ توحید، دعوت اسلام و توحید سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کے رکن اعظم یعنی والد کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ازر عربی توریت میں اس نام کا املا تارح ملتا ہے۔ اور انگریزی میں تیرا Terh اور تالمود میں تراء۔۔ جو لوگ علم اللسان کے مبادی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک ہی نام مختلف زبانوں میں جاجاکر کیسے کیسے عجیب تلفظ اختیار کرلیتا ہے۔ فلسطین کے قدیم مسیح مورخ یوسیبیس (264 تا 349 ء) کے ہاں ” آشر ‘ یا ” ہاتھر “ آیا ہے۔ ان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
واذا قال ابراہیم لابیہ آزر، مورخین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے دو نام ذکر کئے ہیں آزر اور تارخ ممکن ہے کہ تارخ آزر کا لقب ہو۔
ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے نام کی تحقیق : آزرعرانی لفظ ہے عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے تورات میں آپ کے والد کا نام تارخ بیان کیا گیا ہے اگر تورات کا بیان نحرف سے محفوظ ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس صورت میں آزر تارخ کی تعریب ہے جس طرح اسحقٰ اضحاق کا معرب ہے اور عیسیٰ یشوع کا معرب ہے امام راغب مفردات غریب القرآن میں رقم طراز ہیں، قیل ” کان اسم ابیہ تارخ فعرب فجعل آزر “ یعنی کہا گیا ہے کہ ان کے…
Read the full tafseer →واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اور جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا۔ آزر عجمی نام ہے علمیت اور عجمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے (اس پر کسرہ اور تنوین نہیں آتا) بعض نے اس کو عربی لفظ کہا ہے اور ازربمعنی قوت یا وزربمعنی ثقل سے مشتق قراردیا ہے اس وقت اس کے عدم انصراف کی وجہ یہ ہے کہ اس میں علمیت اور وزن فعل ہے۔
صحیح تحقیق یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چچا تھا عرب چچا کو بھی باپ کہہ لیتے ہیں (اس لئے اس جگہ باپ کہا گیا) جیسے آیت میں آیا ہے : نَعْبُدْ اِلٰہَکَ وَاِلٰہَ اَبآءِ کَ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ اِلٰہًا وَّاحِدًاآزر کا اصل نام ناخور تھا۔ ناخور پہلے اپنے آباؤ اجداد کے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
(74۔ 75) اور اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کی تمام مخلوقات مثلا چاند، سورج، ستارے بچشم معرفت دکھلائے تاکہ وہ اس بات پر کامل یقین رکھنے والے ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، وہی تمام آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں، اس کا خالق ہے یا یہ کہ جس رات ان کو آسمان پر بلایا، اس رات ساتویں آسمان پر سے تمام چیزیں دکھائیں حتی کہ ساتویں زمین تک کی انہوں نے ساری چیزوں کو دیکھا تاکہ ان کو خطرات پر کامل یقین ہوجائے۔
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بیان کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقائد پر تنقید کی گئی اور اب شرک کی تردید کے لیے ابراہیم ؑ کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بےزار تھے اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ دیکھو انھوں نے کس طرح قوم سے علیحدگی اختیار کی۔ مشرکین مکہ ابراہیم ؑ کے دین پر ہونے کے دعوے دار تھے، جب ابراہیم ؑ موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم ؑ کے والد کا نام آزر تھا۔ اب پہلی کتابوں میں اگر ان کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہو…
Read the full tafseer →آیت : 74
قولہ تعالیٰ : آیت : واذ قال ابراھیم لابیہ ازر اس بارے میں علماء نے کافی کلام کیا ہے، پس ابوبکر محمد بن حسن جوینی شافعی اشعری نے ” النکت “ میں اس کی تفسیر میں کہا ہے : لوگوں کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔ اور جو کچھ قرآن کریم میں ہے وہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا نام آزر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کے نزدیک آزر ان کی لغت میں عیب اور برائی ہے گویا کہ یہ فرمایا : اور یاد کرہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو کہا : یا مخطی (اے خطا کرنے والے) اتتخذ اصناما الھۃ ( کیا تم بتوں کو خدا بناتے ہو) اور جب معنی اس طرح…
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آزر بت ہے۔ اور ابراہیم کے والد کا نام یازر تھا۔ آپ کی ماں کا نام مثلی تھا۔ آپ کی بیوی کا نام سارہ تھا۔ اور آپ کی باندی اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ کا نام ھاجرہ تھا اور داؤد بن امین تھے اور نوح بن لمک تھے اور یونس بن متی تھے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آزر ان کا باپ نہیں ہے لیکن یہ ایک بت کا نام ہے۔
(3) امام ابن ابی حاتم نے یسری (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم کے باپ کا نام تارح تھا۔ اور بت کا نام آزر تھا۔
(4) امام ابن ابی منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →وَاِذْ [ اور جب ] قَالَ [ کہا ] اِبْرٰهِيْمُ [ ابرہیم نے ] لِاَبِيْهِ اٰزَرَ [ اپنے باپ آزر سے ] اَ [ کیا ] تَتَّخِذُ [ تو بناتا ہے ] اَصْنَامًا [ بتوں کو ] اٰلِهَةً ۚ [ الہ ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَرٰىكَ [ خیال کرتاہوں تجھ کو ] وَقَوْمَكَ [ اور تیری قوم کو ] فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ [ ایک کھلی گمراہی میں ]
ء زر : (ض) ازرا (1) گتھا ہواہونا ۔ مضبوط ہونا ۔ (2) تہبند باندھنا ۔ ازر ، اسم ذات ہے۔ (1) قوت (2) کمر (تہبند باندھنے کی جگہ ) اشددبہ ازری [ تو سخت کر اس سے میری قوت کو ] 20:31 ۔ ازر ، افعل تفضیل کا وزن ہے۔ زیادہ گتھا ہوا ۔ زیادہ مضبوط زیر مطالعہ آیت ۔ 74 میں یہ اسم علم کے طور پر آیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–76
چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ
حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و ( علیہ السلام) اپنے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے باپ ہیں ان کی قوم بابل کے آس پاس رہی تھی جو آج کل عراق کا ایک شہر ہے اس وقت وہاں کا بادشاہ نمرود نامی ایک شخص تھا وہ خدائی کا دعویدار تھا۔ ساری قوم بت پرست تھی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد جس کا نام آزر تھا وہ بھی بت پرست تھا اور ساری دنیا کفر و شرک میں مبتلا تھی۔ ایسے موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی وہ خالص موحد تھے۔ اللہ پاک کی توحید کی طرف انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو دعوت دی اور اس بارے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →79 یہ توحید پر پہلی نقلی دلیل ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تفصیلاً اور باقی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اجمالاً تصدیق وتائید اور دستخط کے طور پر آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا لقب ہے اور ان کا نام بقول زجاج باتفاق مؤرخین تارح (بتاء مثناۃ فوقانیہ والف وراء مہملۃ مفتوحہ وحاء مہملہ اور بعض نے خاء معجمہ کہا ہے) ۔ مام ابن جریج سے بھی تارح منقول ہے۔ حضرت ابن عباس، امام مجاہد، سدی سعید بن مسیب ور سلمان تیمی کہتے ہیں کہ آزر بمعنی اعوج (ٹیڑھا) ہے۔ آزر مشرک ہونے کی وجہ سے خطا کار اور ٹیڑھے راستے پر گامزن تھا اس لیے اس لقب سے ملقب کیا گیا (کلہ من الروح ج 7 ص 194 ج 7 والکبیر ج 4 ص…
Read the full tafseer →ربط آیات
گزشتہ آیات میں شرک کی تردید بیان ہوئی تھی اور اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ مشرک لوگ جن ہستیوں اور چیزوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ نفع نقصان کے کچھ مالک نہیں پھر ایمان والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرتے ہیں اور کسی دوسری ہستی کی عبادت نہیں کرتے ‘ نہ ہی کسی کو اپنا کارساز مانتے ہیں۔ وہ تو اللہ رب العالمین کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہیں جس کے سامنے سب کو اکٹھا ہونا ہے وہی ارض و سما کا مالک ‘ با اختیار اور متصرف ہے۔ اس کی بات برحق ہے ‘ بادشاہی صرف اسکی ہے جس دن وہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ‘…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ لِاَبِيْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً 0ۚ اِنِّىْٓ اَرٰىكَ وَقَوْمَكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 74
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی…
Read the full tafseer →ترکیب : اذ قال مفعول ہے اذکر کا آزر بدل ہے ابیہ سے اصناما مفعول اول تتخذ کا آلہۃ مفعول دوم۔ وکذلک محلا منصوب ہے۔ اے کما اریناہ اضلال ابیہ وقومہ اریناہ ذلک ای ملکوت السموت۔
تفسیر : ان دلائل کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ سے جو ان کی قوم بت پرست اور ان میں گذرا۔ مشرکین عرب کو الزام دیتا ہے کیونکہ عرب کی بہت قومیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کے علاوہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب اور یہود و نصاریٰ سب کے نزدیک مسلم تھے (ایسا مسلم آج کل بھی دنیا میں کوئی ہوگا۔ یہ سب اس اب الانبیاء کے خلوص کا ثمرہ ہے) کہ دیکھو تمہارے بزرگ نے بت پرستوں کو کس طرح سے قائل کیا۔…
Read the full tafseer →تمہید
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شخصیت آپ کے زمانے کے حالات اور آپ کی دعوت کی ہمہ گیری اور اس کی تفصیل آپ دیکھ چکے ہیں۔ اب ایک اور بات جس کا سمجھنا بہت ضروری ہے ‘ وہ یہ ہے کہ کوئی قوم چاہے کس قدر بگڑی ہوئی بھی کیوں نہ ہو ‘ وہ اپنے غلط سے غلط طرز عمل کے بارے میں بھی یہ کوشش کرتی ہے کہ کسی نہ کسی دلیل کا سہارا تلاش کرے کیونکہ جاہل سے جاہل آدمی کی بھی فطرت میں اللہ نے حیاء کا ایک مادہ رکھا ہے ‘ جس کی وجہ سے بےدلیل بات پر اڑنا اس کے لیے آسان نہیں رہتا۔ جب بھی کوئی صحیح بات ‘ کسی غلط آدمی کو بھی سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ جواب میں یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری صحیح بات کو قبول کرنے سے انکار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–80
فہم القرآن
ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔
مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) کا باپ کو وعظ و نصیحت کرنا :
آیت 74 : وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ ٰازَرَ یہ ان کے والد کا نام ہے یا لقب ہے کیونکہ نسابین کے مابین اختلاف ہے کہ ان کے والد کا نام تارخ ہے۔ یہ ٰازر، ابیہ کا عطف بیان ہے۔ اور اس کا وزن فاعل ہے۔ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا ٰالِہَۃًیہ استفہام توبیخی ہے۔ کیا تو ان کو معبود بناتا ہے۔ حالانکہ یہ الوہیت کے مستحق نہیں۔ اِنِّیْٓ اَرٰکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔
Read the full tafseer →تفسیر (74) (واذ قال ابرھیم لابیہ ازر) یعقوب (رح) نے (آزر) پیش کے ساتھ یعنی (آزر) پڑھا ہے اور معروف قرأت نصب کے ساتھ ہے۔ آزر عجمی نام ہے غصر منصرف ہے اس لئے اس پر جر نہیں آسکتی۔
آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے یا چچا کا
محمد بن اسحاق، ضحاک، کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آزر اور تارخ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے جیسے اسرائیل اور یعقوب دونوں حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے نام ہیں اور مقابل بن حیان اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ آزاد ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا لقب ہے اور اس کا نام تارخ تھا اور سلیمان تمیمی (رح) فرماتے ہیں کہ آرز گالی اور عیب ہے کیونکہا ن کی زبان میں اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71 ۔ 74) ۔ اسماعیل سدی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے مکہ میں موقعہ پاکر فہمائش کے طور پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے ٹیڑھے راستہ پر چلا جاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دیا کہ دین اسلام میں خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے جس نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–83
آیت 74
اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔
(وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
تشریح تبسل
قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…
Read the full tafseer →135 حضرت ابراہیم سے نسبت کا تقاضا ؟ : سو یہاں پر حضرت ابراہیم کے قصے کی تذکیر و یاددہانی کے حکم وارشاد سے دراصل یہ درس دیا گیا ہے کہ تم لوگ ان کی اتباع اور پیروی کرو کہ وہ وہی ابراہیم ہیں جنکی نسبت پر سب فخر کرتے ہیں اور ابراہیمی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور جن کی اقتدا و پیشوائی کا دم یہ یہود و نصاریٰ سب بھرتے ہیں۔ اور مشرکین عرب کا تو اوڑھنا بچھونا ہی یہ دعویٰ تھا کہ وہ ابراہیم کی اولاد اور ان کے جانشین اور ملت ابراہیمی کے وارث اور پیروکار ہیں۔ حالانکہ یہ سب اسی شرک میں مبتلا ہیں جس کیخلاف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اسطرح علم جہاد بلند کیا تھا۔ یہ بعینہ وہی صورت حال ہے جس میں آج کے اہل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–81
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ
تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →ف 5 اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا بطال کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقا ئد پر تبقید کی گئی اب شرک کی تردید کے لیے حضرت ابراہیم کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا ہے کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بیزار تھے اور مسلمانوں کے سجھایا کہ دیکھو انہوں نے کسی طرح قوم سے علحدگی اختیار کی، مشرکین مکہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے دعویدار تھے جب ابراہیم موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کون سی دلیل باقی رہ جاتی ہے حضرت ابراہیم کے قصہ کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اوپر جو فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کافروں سے کہیں کہ ہم دیوانے کی طرح بہکتے نہیں اس پر…
Read the full tafseer →(6:74) ارک۔ اری۔ مضارع واحد متکلم رأی یری رأیا ورؤبۃ (فتح مھموز العین ناقص یائی) میں دیکھتا ہوں۔ ک مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھے دیکھتا ہوں۔ میں تجھے پاتا ہوں۔
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 74 :
اصناما (صنم) بت ‘ ضلل (گمراہی) ۔
تشریح : آیت نمبر 74 :
قرآن نے پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کو ہر طرح سمجھایا۔ علم ‘ خبر ‘ عقل ‘ نصیحت ‘ بشارت ‘ تہدید سارے طریقے آزمادیکھے۔ اب ایک تاریخی مثال پیش کی جارہی ہے کہ مثال کبھی کبھی خوب کام کرجاتی ہے۔ چونکہ اہل عرب مناظرہ کے بہت دلدادہ تھے اس لئے وہ مناظر ہ پیش کیا جارہا ہے کہ گھر سے اور کنبہ کے سب سے بڑے بزرگ سے تبلیغ کا کام شروع کرنا عین سنت ابراہیمی ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو تاریخ نے محفوظ نہیں رکھا۔ ہاں ادھر ادھر منتشر غیر یقینی واقعات مل جاتے ہیں۔ یہ تو قرآن ہی ہے جس نے انبیاء کرام سے متعلق تمام ضروری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر
مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–78
[27] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کواکب پرستی میں مبتلا تھی۔ چناچہ آپ نے یہ باتیں اپنی قوم کو پہلے ستارہ پھر چاند اور سورج دکھا کر اور سنا کر ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کہیں۔ مخالف پر حجت قائم کرنا تبلیغ و مناظرہ کے معمولات میں سے ہے اور ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سورج، چاند اور ستاروں کا غروب ہونا اللہ کی شان کے خلاف ہے کیونکہ وہ مجبور معلوم ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کے ارادے کے محکوم۔ اور جب مجبور و محکوم ہیں تو اِلٰہ نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–77
دائرہ تبلیغ کا نقطہ آغاز :
(ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ ہے جو ان کے والد سے متعلق ہے ، مقصد یہ ہے کہ انبیاء تبلیغ کو گھر سے شروع کرتے ہیں ، اور انہیں حق بات کے کہنے میں کبھی تامل نہیں ہوتا ۔
بعض لوگ یہاں لابیہ کے لفظ سے چچا مراد لیتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک انبیاء کے باپ کافر نہ ہونے چاہئیں مگر یہ محض وہم ہے ، اگر رات کی تاریکی سے خورشید خ اور کا طلوع ہو سکتا ہے ، تو پھر شرک کی ظلمتوں سے توحید کے بدر منیر کا نکل آنا کیوں ناجائز ہے ۔
حل لغات :
صور : نرسنگاہ ۔
ملکوت : بادشاہت نصرت عالم فرشتگان ، عالم ارواح ، جن ، جنون بمعنی چھپانا ۔
Read the full tafseer →-74 اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے اور ان اصنام کو اپنا معبود ٹھیراتا ہے یقینا میں تجھ کو اور تیری تمام قوم کو جو اس باطل عقیدے کی پیرو ہے صریح گمراہی میں مبتلا سمجھتا ہوں اور صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
ف 2۔ ان آیات کی تفسیر سے پہلے چند امور ضروریہ کا لحاظ رکھنا تفسیر میں معین فہم ہوگا۔ اول ابراہیم کی قوم کے احوال مذکورہ فی القرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بت پرستی بھی کرتی تھی اور ستاروں کو بھی عالم میں متصرفات جانتی تھی پس وہ دو دو طور پر مشرک تھی اعتقاد الوہیت اصنام و ربوبیت کواکب اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) کے مناظرات میں دونوں پر کلام ہے دوم ابراہیم (علیہ السلام) ہوش سنبھالتے ہی کے وقت سے توحید کے عارف ومحقق تھے۔ سوم آپ کی قوم خدا کی بھی قائل تھی یا نہیں دونوں احتمال ہیں۔
Read the full tafseer →وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ آزر کے معبود ان باطل سے بیزاری کا اظہار کر رہا تھا :
120: ابراہیم (علیہ السلام) ان انبیائے کرام (علیہ السلام) سے ہیں جن کی نبوت کا اقرار دنیا کی ساری بڑی قوموں کو ہے۔ عرب کے مشرک ہوں یا قوم یہود اور نصاریٰ سب کے سب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت و جلالت ، شان اور رسالت کے معترف تھے اور اہل عرب کو اس پر ناز تھا کہ وہ اس مقدس ہستی کی اولاد ہیں۔ اس لیے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات پیش کر کے ان سب کو بتایا جا رہا ہے کہ تم عجیب قسم کے ستم ظریف ہو کہ جس کے نام سے تمہیں یہ ساری عزت اور سروری نصیب ہے ، جس کی نسل سے ہونے کو تم اپنے لئے عزت…
Read the full tafseer →Commentary
Previous verses contained a description of the call given by the Holy Prophet ﷺ in which he addressed the disbelievers of Arabia and appealed to them that they should forsake the worship of idols and believe in a single object of worship: Allah.
The present verses support this call of truth in a particular way which could be naturally acceptable to the people of Arabia who have Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as their patriarch and the whole Arabia stood united in paying homage to him almost always. These verses refer to the debate against the worship of idols and stars led by him…
Read the full tafseer →50. The incident relating to Abraham (peace be on him) is adduced in order to confirm and reinforce the view that just as Muhammad (peace he on him) and his Companions - thanks to the guidance vouchsafed by God - had denounced polytheism and had turned away from all false gods, bowing their heads in obedience to the One True Lord of the universe, so had been done by Abraham in his time. In the same way as ignorant people were then opposing the Prophet Muhammad (peace be on him) and those who believed in him, Abraham, too, had been opposed in his day by the people among whom he lived.…
Read the full tafseer →