Explained with ayahs 71–73
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے
مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 46
قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان کی گئی ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے یا حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ارشاد بہت وسیع معانی پر مشتمل ہے۔
اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تخلیق محض کھیل کے طور پر نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایشورجی کی لیلا نہیں ہے۔ یہ کسی بچے کا کھلونا نہیں ہے کہ محض دل بہلانے کے لیے وہ اس سے کھیلتا رہے اور پھر یونہی اسے توڑ پھوڑ کر پھینک دے۔ دراصل یہ ایک نہایت سنجیدہ کام ہے جو حکمت کی بنا پر کیا گیا ہے، ایک مقصد عظیم اس کے اندر کارفرما ہے، اور اس کا ایک دور گزر جانے کے بعد ناگزیر ہے کہ خالق اس پورے کام کا حساب لے جو اس دور میں انجام پایا ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہےوَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔
اس کے بعد ارشاد…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ الایۃ : یہ ایک نہایت جامع آیت ہے جس میں نہایت مختصر الفاظ میں اوپر والے ٹکڑے، ھو الذی الیہ تحشرون، کے ہر جزو کی دلیل بیان ہوگئی ہے۔
کارخانہ کائنات کے ‘ بالحق ’ ہونے کا لازمی نتیجہ : آسمان و زمین میں خالق کی قدرت، حکمت اور ربوبیت کے جو آثار و دلائل موجود ہیں وہ اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ یہ کارخانہ کسی کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہے جو اس نے محض اپنا جی بہلانے کے لیے بنایا ہو بلکہ یہ ایک قدیر، علیم، حکی اور رحمان و رحیم ذات کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اگر یہ یونہی چلتی رہے، اس کے اندر جو ظلم ہے اس کے انصاف کے لیے کوئی دن نہ آئے، جو عدل ہے اس کی داد کا کوئی وقت…
Read the full tafseer →73۔ 1 حق کے ساتھ یا بافائدہ پیدا کیا یعنی ان کو عبث اور بےفائدہ کھیل کود کے طور پر پیدا نہیں کیا بلکہ ایک خاص مقصد کے لیے کائنات کی تخلیق فرمائی ہے اور وہ یہ کہ اس اللہ کو یاد رکھا اور اس کا شکر ادا کیا جائے جس نے یہ سب کچھ بنایا۔
73۔ 1 یوم فعل محذوف واذکر یا واتقوا کی وجہ سے منصوب ہے۔ یعنی اس دن کو یاد کرو یا اس دن سے ڈرو ! کہ اس کے لفظ کُن (ہوجا) سے وہ جو چاہے گا، ہوجائے گا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حساب کتاب کے کٹھن مراحل بھی بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوجائیں گے، لیکن کن کے لئے ؟ ایمانداروں کے لئے۔ دوسروں کو یہ دن ہزار سال یا پچاس ہزار سال کی طرح بھاری لگے گا۔
73۔ 2 صور سے مراد نرسنگا یا بگل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–75
26: یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزاء اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے، جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آجائے گی اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے…
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 72 تا 73۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیَ إِلَیْْہِ تُحْشَرُونَ (72)
” اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔
اس لئے اس بات کی ضرورت ہے کہ تم صرف اس کے سامنے سرتسلیم خم کرو کیونکہ تم کو آخر کار اسی کی طرف جانا ہے ۔ لہذا انسانوں کے لئے بہتر یہ ہے کہ وہ یوم الحشر کے لئے کچھ چیزیں ساتھ لے کر جائیں جس کی وجہ سے ان کی نجات ہو ‘ کیا وہ اس کے سامنے نہیں جھکتے جس کے سامنے حشر کے دن عالمین سرنگوں ہوں گے ۔ مناسب ہے کہ اس دن کے آنے سے پہلے ہی وہ جھکیں ۔ حشر کا تصور دے کر یہاں انسان کو اس بات پر آمادہ کیا جاتا ہے کہ آج ہی اس کے سامنے سرنگوں ہونا شروع کر دو جبکہ حشر کے روز کوئی بچ کر نہیں نکل سکے گا ۔
(آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
1 یعنی حشر ہوجا۔
2 یعنی اس روز ظاہری اور مجازی طور پر بھی خدا کے سوا کسی کی سلطنت نہ رہے گی۔ ( لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) 40 ۔ غافر :16) ۔
3 جو خدا یہ صفات رکھتا ہے جن کا ذکر ان دو تین آیات میں ہوا ' وہ ہی اسی لائق ہے کہ ہم اس کے تابع فرمان ہوں ' اس کے سامنے انتہائی عبودیت اختیار کریں اور ہر آن اس سے ڈرتے رہیں۔ اسی کا ہم کو حکم ہوا ہے جس سے ہم کسی حال منہ نہیں موڑ سکتے۔
Read the full tafseer →آیت 73 وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بالْحَقِّ ط
یعنی یہ زمین و آسمان اللہ تعالیٰ نے خاص مقصد کے تحت پیدا کیے ہیں۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا گیا : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج آیت 191 اے رب ہمارے ‘ تو نے یہ سب باطل بےمقصد پیدا نہیں کیا۔ گویا حق کا لفظ یہاں باطل کے مقابلے میں آیا ہے۔
وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ط
جب وہ چاہے گا اس کائنات کی بساط کو لپیٹ دے گا۔ اسی نے اسے حق کے ساتھ بنایا ہے اور اسی کے حکم کے ساتھ یہ لپیٹ دی جائے گی۔ ازروئے الفاظ قرآنی : یَوْمَ نَطْوِی السَّمَآءَ کَطَیِّ السِّجِلِّ لِلْکُتُبِ ط الانبیاء : 104 جس دن ہم ان تمام خلاؤں ‘ فضاؤں…
Read the full tafseer →80 تخلیق کائنات کا مقصد :۔ یعنی اس لیے زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا کہ اس سے تعمیری نتائج پیدا ہوں۔ محض کھیل اور شغل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ جیسے بچے مٹی سے کھیلتے ہوئے اس سے مختلف شکلیں بناتے ہیں پھر انہیں خود ہی ڈھا کر مٹی میں ملا دیتے ہیں۔
بلکہ زمین و آسمان کو ایک خاص مقصد کے تحت پیدا کیا ہے۔ اس خاص مقصد کا اگرچہ قرآن میں صریح الفاظ میں ذکر نہیں آیا تاہم بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب چیزیں انسان کی خدمت پر مامور ہیں اور انسان ہی ساری کائنات میں اشرف المخلوقات ہے۔ انسان کو ہی قوت تمیز اور ارادہ و اختیار دیا گیا ہے تاکہ اسے آزمایا جاسکے کہ آیا وہ اختیاری امور میں بھی اللہ کا…
Read the full tafseer →1 1 1 ۔ اشارہ حشر کی جانب ہے جس وقت وہ حشر کو واقع ہوجانے کا حکم دے گا وہ واقع ہوجائے گا، یہ شبہ محض عامیانہ نہیں کہ کوئی شے جب ابھی سرے سے موجود ہی نہیں، تو اسے حکم کیسے دیا جاسکے گا ؟ اول تو اس عالم کی وسعتوں اور پہنائیوں کو اس عالم آب وگل کی قیدوں اور حدبندیوں پر قیاس کرنا خود سر تا سر جہل ہے۔ پھر حکم کا مخاطب بنانے کے لئے کسی شے کا وجود خارجی اس عالم میں بھی کب ضروری ہے۔ اپنے ہر موجود ذہنی کو حکم دیتے رہنا، مخاطب کرتے رہنا ہم میں سے ہر ایک کا آئے دن کا تجربہ ہے۔ التقدیر خلق یوم یقول کن فیکون والمراد من ھذا لیوم یوم القیامۃ (کبیر) یہ معنی بھی لئے گئے ہیں، کہ واقعۃ کوئی حکم وخطاب نہ ہوگا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَاَن اقیموا الصلوۃ الخ، اَن اقیموا کا عطف لِنُسلِم پر ہے، یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العلمین کے مطیع ہوجائیں اور یہ کہ ہم نماز قائم کریں، تسلیم وانقیاد الہیٰ کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلوٰۃ کا ہے، اس سے نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور اس کے تقوی کا حکم ہے کہ نماز کی پابندی اور خضوع کے بغیر ممکن نہیں۔
یومَ یَنْفَخُ فی الصورِ ، صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) اسے اپنے منہ سے لگائے اور اپنی پیشانی جھکائے حکم الہیٰ کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب حکم دیا جائے پھونک دیں، (ابن کثیر، ابو داؤد ترمذی) بعض علماء کے نزدیک تین نفخ ہوں گے، (1) نفخہ صعق اس…
Read the full tafseer →وہو الذی الیہ تحشرون اور وہی ہے جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے۔
وہو الذی خلق السموات والارض بالحق اور وہی ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو باقاعدہ پیدا کیا۔ بالحقکا معنی ہے حکمت کے ساتھ۔ یا حق بمعنی محق ہے یعنی برحق واقعی یا باء بمعنی لام ہے یعنی اظہارِ حق کے لئے پیدا کیا۔
ویوم یقول کن فیکون اور جس روز وہ (کسی چیز کو) فرمائے گا ہوجا وہ فورا ہوجائے گی یعنی جب (مردہ) مخلوق سے فرمائے گا اٹھ کھڑے ہو فوراً سب اٹھ کھڑے ہوں گے۔
قولہ الحق اس کا کہنا با اثر ہے۔ الحق سے مراد ہے سچا۔
ولہ الملک یوم ینفخ فی الصور اور ساری خالص حکومت اسی کی ہوگی جس روز صور میں پھونک ماری جائے گی۔ دوسری آیت میں بھی یہی مضمون…
Read the full tafseer →(73) اور اسی نے زمین و آسمان کو حق و باطل کے ظاہر کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اور جس دن وہ صور سے کہے گا کہ جو کہ سینگ کی طرح ہوگا، ہوجا تو تمام آسمان اس رب کے حکم سے ختم ہوجائیں گے اور دوسرا آسمان تبدیل ہوگا یا یہ کہ جس دن وہ قیامت قائم ہونے کا حکم دے گا تو قیامت قائم ہوجائے گی اور بعث بعد الموت حق ہے وہی بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور وہ ہر ایک ظاہر اور پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں بڑی حکمتوں والا ہے اور تمام مخلوق اور ان کے اعمال کی پوری خبر رکھنے والا ہے، یعنی تارح بن ناحور سے فرمایا کہ کیا تم مختلف قسم کے بتوں کی جو کہ چھوٹے بڑے نر اور مادہ ہیں عبادت کرتے…
Read the full tafseer →وَهُوَ الَّذِيْ خَلَقَ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ ہی نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، لیکن بےمقصد اور کھیل کے لیے نہیں بلکہ حق، یعنی خاص مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے، وہ مقصد کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَل) [ الملک : 1 ] ”تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور انسان اور جن کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا : (وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْن) [ الذاریات : 56 ] ”اور میں نے جنوں اور انسانوں کو پیدا نہیں کیا، مگر اس لیے کہ وہ میری عبادت کریں۔“ دوسری آیت میں فرمایا : (وَسَخَّرَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : 71۔ 72۔ 73
آیت : قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا یعنی وہ جو ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے پوجیں۔ آیت : ولا یضرنا اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے چھوڑ دیں۔ اس سے مراد بت (اصنام) ہیں۔ آیت : ونرد علی اعقابنا بعد اذ ھدنا اللہ یعنی ہم ہدایت کے بعد ضلالت و گمراہی کی جانب لوٹ جائیں۔
اعقاب کا واحد عقب ہے اور یہ مؤنث ہے، اور اس کی تصغیر عقیبۃ ہے۔ جب کوئی الٹے پاؤں واپس لوٹے تو کہا جاتا ہے : رجع فلان علی عقبیہ ابو عبیدہ نے کہا ہے : جو کوئی اپنی حاجت اور ضرورت سے واپس لوٹ آئے اور وہ اس کے ساتھ کامیاب نہ ہو تو کہا جاتا ہے : قدرد علی عقبنیہ۔
اور مبرد نے کہا ہے : اس…
Read the full tafseer →(1) امام ابن مبارک نے زھد میں، عبد بن حمید، ابو داؤد ترمذی (اور آپ نے اس کی تصحیح بھی کی ہے) نسائی، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابن حسان، حاکم (اور آپ نے تصحیح بھی کی ہے) ابن مردویہ، اور بیہقی نے البعث میں عبد اللہ بن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے صور کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری ساری اہل زمین سے سینگ کو نکالنے کے لئے جمع ہوجائیں تو وہ اسے نہ نکال سکیں۔
(3) امام مسدد نے مسند میں، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر اور طبرانی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْ [ وہ ہے جس نے ] خَلَقَ [ پیدا کیا ] السَّمٰوٰتِ [ آسمانوں کو ] وَالْاَرْضَ [ اور زمین کو ] بِالْحَقِّ ۭ [ حق کے ساتھ ] وَيَوْمَ [ اور جس دن ] يَقُوْلُ [ وہ کہے گا ] كُنْ [ تو ہوجا ] فَيَكُوْنُ [ تو ہوجائے گا ] ڛ قَوْلُهُ [ اس کا کہا ] الْحَقُّ ۭ [ حق ہے ] وَلَهُ [ اور اس ہی کی ] الْمُلْكُ [ کل سلطنت ہے ] يَوْمَ [ جس دن ] يُنْفَخُ [ پھونکا جائے گا ] فِي الصُّوْرِ ۭ [ صور میں ] عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۭ [ شہادہ اور غیب کا جاننے والا ہے ] وَهُوَ الْحَكِيْمُ [ اور وہی حکیم ہے ] الْخَبِيْرُ [ خبیر ہے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بالْحَقِّ ) (اور ہمارا رب وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ یعنی بالکل ٹھیک طریقے پر پیدا فرمایا) (وَ یَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ ) ( اور جس دن اللہ تعالیٰ فرما دے گا کہ ہوجا بس ہوجائے گا) یعنی قیامت کے دن کا حشر و نشر، کچھ بھی مستبعد نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا کن فرما دینا ہی اس کے وجود میں آجانے کے لیے کافی ہے۔
(قَوْلُہُ الْحَقُّ ) (اس کا فرما دینا حق ہے) (وَ لَہُ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ) ( اور جس دن صور پھونکا جائے گا ساری حکومت اسی کی ہوگی) کوئی بھی مجازی با اختیار باقی نہ رہے گا۔ (عٰلِمُ الْغِیْبِ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →78 یہ توحید پر دسویں عقلی دلیل ہے بالحق میں با بمعنی لام ہے یا الحق سے پہلے مضاف محذوف ہے ای لاظھار الحق یعنی یہ زمین و آسمان اور یہ سارا جہاں حق اور توحید کو ظاہر کرنے کے لیے اللہ ہی نے پیدا کیا ہے اور اس کی قدرت کا کیا ٹھکانا جب وہ کسی چیز کے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے قولہ الحق اسی کی بات سچی اور مبنی بر حقیقت ہے لہ الملک الخ قیامت کے دن اسی کی حکومت ہوگی اور اس کے سوا مجازی طور پر بھی کسی کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ عٰلِمِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادۃِ غیب و شہادت کا کلی علم بھی اسی ہی کو ہے اور کسی کو نہیں ماقبل اور مابعد کے قرینے سے یہاں بھی حصر مراد ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے شرک اور مشرکین کا رد بیان ہو رہا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر بھی ہوا۔ آیات الٰہی کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کی تردید ہوئی پھر اہل ایمان کو نصیحت کی گئی کہ آیات الٰہی پر طعن کرنے والوں کی مجلس میں مت بیٹھو کہ یہ دینی طور پر مضر اور تمہارے لئے سم قاتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے برے انجام کا تذکرہ بھی کیا اور فرمایا کہ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑیں ایک دن آنے والا ہے ‘ جب یہ نادم ہوں گے ‘ مگر اس دن نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ یہ لوگ آخرکار عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے ۔ آج کی آیات میں بھی شرک ہی کی تردید ہے اور یہ سلسلہ…
Read the full tafseer →وَہُوَالَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ 0ۭ وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُوْنُ 0ۥۭ قَوْلُہُ الْحَقُّ 0ۭ وَلَہُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ 0ۭ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ 0ۭ وَہُوَالْحَكِيْمُ الْخَبِيْرُ 73
خلق
الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما،
( خ ل ق ) الخلق
۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ترکیب : من دون اللّٰہ متعلق ہے ندعوا سے ما نکرہ موصوفہ یا موصولہ مفعول ندعوا ونرد معطوف ہے ندعوا پر اور ممکن ہے کہ حال ہو۔ کالذی کاف حال ہے ضمیر یزد سے اے مشبہین للذی فی الارض متعلق ہے استہوتہ سے حیران غیر منصرف ہے کس لئے کہ اس کے مونث حیرٰی ہے یہ حال ہے استہوتہ کی ہاء سے لہ اصحاب جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حیران کی ضمیر سے حال ہے وان اقیموا معطوف ہے لنسلم پر۔
تفسیر : وہ کفار جو اسلام و توحید پر ہنستے تھے اب ان کے مذہب بت پرستی کو رد کرتا ہے جو دراصل قابل مضحکہ بات ہے۔ وہ یہ کہ کسی کی اطاعت و عبادت کی دو وجہ ہوتی ہیں۔ ایک امید نفع ‘ دوم خوف مضرت۔ اور اللہ کے سوا جو کچھ عالم میں ہے ان…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَھُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ ط وَ یَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُ 5 ط قَوْلُہٗ الْحَقُّ ط وَ لَہٗ الْمُلْکُ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ ط عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ط وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (الانعام : 71)
(اور وہی ہے ‘ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘ غایت کے ساتھ۔ جس دن کہے گا ہوجا تو ہوجائے گا ‘ اس کی بات شدنی ہے اور اسی کی بادشاہی ہوگی ‘ جس دن صور پھونکا جائے گا۔ وہ غائب و حاضر سب کا علم رکھنے والا اور وہ حکیم وخبیر ہے )
اللہ نے یہ دنیا بےمقصد نہیں بنائی
اس آیت کریمہ میں حکمت و دانش کے پہلو سے اور فکری کج روی کے علاج کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح معبودان باطل آخرت میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اسی طرح یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر دنیا میں بھی یہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
مشرک کی عادات میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے معبودوں کے ساتھ محبت کرتا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے بجائے اپنے باطل معبودوں کی طرف بلاتا اور کھینچتا ہے۔ حالانکہ معبودان باطل نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ اسی بنا پر نبی مکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ مشرکوں کو سمجھائیں کہ کیا ہم ان کی طرف دعوت دیں اور ان کی عبادت کریں جو کسی کو ذرّہ برابر نفع اور رتی برابر…
Read the full tafseer →اللہ خالق اور کامل علم وقدرت والا ہے :
آیت 73 : وَہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ حکمت کے ساتھ۔ یا واقعی برحق۔ وَیَوْمَ یَقُوْلُ کُنْ فَیَکُوْنُیہ خبر ہے جو اب نہیں۔ قَوْلُہُ الْحَقُّیہ مبتدا ہے یوم یقول اس کی خبر مقدم ہے جیسا کہ تم کہو یوم الجمعۃ قولک الصدق یعنی قولک الصدق کائن یوم الجمعۃ تیری سچی بات جمعہ کے دن واقع ہونے والی ہے۔ اور الیوم بمعنی حین ہے مطلب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا فرمایا۔ جس وقت وہ کسی چیز کو فرماتے ہیں ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔ اس کی بات سچی اور حکمت والی ہے۔ یعنی آسمان و زمین اور تمام تکوینات میں جو چیز بھی ہوتی ہے…
Read the full tafseer →73 (وھو الذی خلق السموت والارض بالحق) بعض نے کہا کہ باء لام کے منی میں ہے کہ حق کو ظاہر کرنے کے لئے پیدا کیا ۔ اللہ تعالیٰ کا سب کو اس طرح پیدا کرنا اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے۔ (ویوم یقول کن فیکون) ۔
کن فیکون یہ راجع ہے آسمان و زمین کی تخلیق کی طرف۔ یہاں خلق بمعنی قضاء اور قدر کے ہے مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان میں ہر چیز اللہ کے فیصلے اور تقدیر کے تحت ہے۔
کن فیکون کی تفسیر
جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے لفظ کن فرمایا تو فیکون وہ ہوگیا اور بعض نے کہا کہ یہ قیامت کی طرف راجع ہے۔ اس صورت میں یہ قیامت کے جلدی وقوع پذیر ہونے پر دلالت کرتا ہے اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71 ۔ 74) ۔ اسماعیل سدی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے مکہ میں موقعہ پاکر فہمائش کے طور پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے ٹیڑھے راستہ پر چلا جاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دیا کہ دین اسلام میں خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے جس نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →آیت 73
(قل) اے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے کہہ دو جو تمہیں اپنے دین کی دعوت دیتے ہیں وہ دین جو ان کے معبودوں کے وصف کی تشریح کر کے واضح کرتا ہے۔ ایک عقل مند شخص کو ان معبودوں کو چھوڑنے کے لئے ان کے اوصاف کا ذکر ہی کافی ہے، کیونکہ ہر عاقل شخص جب مشرکین کے مذہب میں غور و فکر کرتا ہے تو اس کے بطلان پر دلائل وبراہین کے قائم ہونے سے پہلے ہی اس کے بطلان کا اسے قطعی یقین ہوجاتا ہے اور وہ پکار اٹھتا ہے (اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا ولا یضرنا) ” کیا ہم اللہ کے سوا، ان ہستیوں کو پکاریں جو ہمیں نفع دے سکتی ہیں نہ نقصان۔ “ اس وصف میں ہر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
تشریح تبسل
قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…
Read the full tafseer →132 کائنات کی تخلیق حق کے ساتھ : اور آسمانوں اور زمین کی اس کائنات کی تخلیق کے بالحق ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تخلیق نہایت مستحکم و مضبوط بھی ہے اور نہایت پر حکمت اور بامقصد بھی۔ نہ ان کی ساخت و تخلیق میں کوئی خلل و قصور ہے اور نہ ان کا وجود میں لانا عبث و بےکار ہوسکتا ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ پس تم لوگ ایک طرف تو کائنات کی اس کھلی کتاب میں غور و فکر سے کام لیکر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرو اور دوسری طرف حکمتوں اور نعمتوں بھری اس کائنات سے فائدہ اٹھا کر دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کا شکر ادا کرو اور اس طرح اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرو ۔ وباللہ التوفیق ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 1 یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا2 یعنی دنیان میں مجازی طور پر جن لوگوں کو بادشاہ کہا جاتا ہے ان کی مجازی بادشاہی بھی اس روز ختم ہوجائے گی لمن الملک الیوم اللہ الو احد القھار۔ (حم السجدہ نیز سورت فاتحہ آیت مالک یوم الدین پہلے ایک صور پھو نکا جائے گا تو گھبرا جائے گی پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فناہو جائے گی پھر تیسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی، بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ در اصل دوبارہ ہوگا بہلے کو نفخہ فزع یاصعق (فنا) کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نفخہ قیام واللہ اعلم (قرطبی، ابن کثیر) ایک شخص کے سوال پر نبی ﷺ نے فرمایا صور ایک نر سنگا…
Read the full tafseer →(6:73) ویوم یقول کن فیکون۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا (تفہیم القرآن)
یوم بمعنی حین (وقت) بھی ہوسکتا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے (وہ وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا) اور جس وقت (بھی) وہ کسی شے کو کہتا ہے ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔
قولہ الحق۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ عین حقیقت ہے۔ جو وہ حکم دیتا ہے وہ ہوکر ہی رہتا ہے۔ اس کا قول اٹل ہے قولہ مبتدا۔ الحق خبر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن : آیت نمبر 71 تا 73 :
ندعوا ( ہم پکارتے ہیں) ‘ اعقاب (عقب) ایڑیاں) استھوت ( بہکا دیا) ‘ حرکان ( حیران و پریشان) ‘ ید عون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ لنسلم ( تاکہ ہم مان لیں) ‘ ینفخ (وہ پھونکتا ہے) ‘ الصور (نرسنگا (قیامت میں نرسنگے کی آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 :
غیر اللہ وہ ہے جو کوئی نفع اور کوئی نقصان نہ پہنچاسکے۔ اتنی بات تو سب ہی جانتے ہیں۔ پھر غیر اللہ کی پوجا کیوں ہوتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی بندگی صرف ظاہری اور رسمی ہوتی ہے کوئی ان کی قلبی عبادت نہیں کرتا۔ یہ ظاہری پر ستش بھی ایک ہی غرض سے ہے۔ ایک سیاسی سماج قائم کرنا اور قائم رکھنا۔ اگر بت کی پوجا نہ ہو تو ہندو دھرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے موقع پاکر فہمائش کے طر پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا، اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن شریف کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے کے ٹیڑھے راستہ پر چلاجاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے۔ اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمادیا کہ دین اسلام میں اس خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے، جس نے زمین و آسمان پیدا کئے اور دنیا کے عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[52] یعنی مصلحت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ساری تخلیق بغیر کسی غرض و مقصد کے نہیں ہوئی بلکہ بڑی گہری حکمتیں اور مصلحتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[62] یعنی نرسنگھا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آ رہا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →(ف 1) اسلامی تخیل اللہ تعالیٰ کے باب میں یہ ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے ، اسے اسباب وذرائع کی قطعا حاجت نہیں ، وہ جب چاہے ، دنیا کو مجرد مشیت کے فنا کے گھاٹ اتار دے ، اسی طرح اس میں یہ بھی قدرت ہے ، کہ کائنات کو ایک لمحہ کے اندر مہیا کر دے ، اسے صرف ارادہ کرنا ہے ، اس کے بعد شئے مراد کا خلعت وجود اختیار کرلینا ضروری ہے ، اس آیت میں یہ بھی بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک وقت لائے گا جب تمام انسانوں کو پھر سے زندہ ہونے کا حکم دے گا ۔
کن کہنے سے مقصود یہ ہے کہ اس کے ارادہ اور فعل میں کوئی تخلف نہیں ہوتا ، یوں کہہ لیجئے ، اس نے کہا اور چیز موجود ہوگئی ، ورنہ وہ لفظ کن کا محتاج نہیں ، اور لفظ کن میں…
Read the full tafseer →-73 اور اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو کمال حکمت کے ساتھ ٹھیک ٹھیک بنایا اور جس دن اللہ تعالیٰ نے حشر کو فرمائے گا کہ ہوجا اس کے اتنا فرماتے ہی حشر برپا ہوجائے گا اس کا فرمانا حق ہے جس دن صور پھونکا جائے گا اس دن صرف اسی کی بادشاہت ہوگی وہ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے اور وہی ہے بڑی حکمت والا اور پورے خبر رکھنے والا ۔
Read the full tafseer →ف 1۔ اوپر شرک کا ابطال اور توحید کا اثبات مذکور تھا آگے اسی مضمون کی تائید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ دعوت الی التوحید بیان فرماتے ہیں اور بجہ اس کے کہ اہل عرب ابراہیم (علیہ السلام) کو مانتے تھے مضمون مذکور کی تائید میں زیادہ قوت ہوگئی نیز اس قصہ میں مسئلہ رسالت کی بھی تائید ہے کہ نبوت کوئی امرمستغرب نہیں ہے پہلے سے بھی انبیاء ہوتے آئے ہیں۔
Read the full tafseer →وہی ہے جو ساری کائنات کو کلمہ ” کن “ سے پیدا کرنے والا ہے جو غیب و شہادت کا جاننے والا ہے :
118: ” بالحق “ کا مادہ ح ق ق ہے حق کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں اور اسکا استعمال چار طرح پر ہوتا ہے (1) اس ذات کے لئے جو اپنی حکمت کے اقضاء کی بناء کسی شے کی ایجاد کرلے۔ اللہ تعالیٰ کو اس لئے ” مطلق “ کہا جاتا ہے جیسے ارشاد فرمایا : ” رُدُّوْۤا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ 1ؕ “ اور پھیرے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا مالک حق ہے اور فَذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ 1ۚ ” سو یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار حق “ (2) وہ چیز جو حکمت کے مقتضی کے مطابق ایجاد کی گئی ہو اس اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In the third verse (70), nearly the same subject has been stressed upon in the following words: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا (And avoid those who have taken their faith as game and play ...). The word: ذر (dhar) here is a derivation from: وَذَرِ (wadhara) which means being displeased with something and leaving it. Thus, the verse can be taken either in the sense of leaving people who have turned the true religion, that is, Islam which has been sent for them, into a plaything and a laughing stock; or in the sense that they have left their real faith and taken to…
Read the full tafseer →46. It has been asserted again and again in the Qur'an that God created the heavens and the earth 'in truth'. This covers a wide range of meanings:
First, that the heavens and the earth have not been created just for the fun of it. This existence is not a theatrical play. This world is not a child's toy with which to amuse oneself as long as one wishes before crushing it to bits and throwing it away. Creation is rather an act of great seriousness. A great objective motivates it, and a wise purpose underlies it. Hence, after the lapse of a certain stage it is necessary for the Creator to take…
Read the full tafseer →