Explained with ayahs 71–73
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے
مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
سورة الْاَنْعَام 45
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کردیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہےوَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔
اس کے بعد ارشاد…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَاتَّقُوْهُ ۭ وَهُوَ الَّذِيْٓ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ ، یہ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ کے تحت اور اسی کی عملی تصویر ہے لیکن اسلوب غائب سے بدل کر حاضر کر کردیا گیا ہے جس سے اس کے اندر براہ راست خطاب کا زور پیدا ہوگیا ہے۔ نماز کا ذکر یہاں اس اسلام کے اولین عملی مظہر کی حیثیت سے ہوا ہے جس کا ذکر وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ میں ہے۔ تقوی یہاں ان تمام حدود کی پابندی کے مفہوم میں ہے جن کی پابندی کا خدا نے حکم دیا ہے۔ اِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ میں آخرت اور توحید دونوں چیزیں جمع کردی گئی ہیں اور یہ اوپر والے احکام کی دلیل ہے کہ نماز کا قیام…
Read the full tafseer →72۔ 1 وَاَنْ اَقِیْمُوْا کا عطف لِنُسْلِمُ پر ہے۔ یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے مطیع ہوجائیں اور یہ کہ ہم نماز قائم کریں اور اس سے ڈریں تسلیم وانقیاد الٰہی کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلات کا دیا گیا ہے جس سے نماز کی اہمیت واضح ہے اور اس کے بعد تقویٰ اور خشوع کے بغیر ممکن نہیں۔ وانھا لکبیرۃ الا علی الخشعین (البقرہ)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
25: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس دین کو انہیں اپنانا چاہیے تھا، (یعنی اسلام) اس کو قبول کرنے کے بجائے وہ اس کا مذاق بناتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جو دین انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ کھیل تماشے جیسی بےبنیاد رسموں پر مشتمل ہے اور دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو چھوڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب وہی ہے کہ ان کی اس قسم کی گفتگو میں ان کے ساتھ مٹ بیٹو جس میں وہ اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
1 یعنی حشر ہوجا۔
2 یعنی اس روز ظاہری اور مجازی طور پر بھی خدا کے سوا کسی کی سلطنت نہ رہے گی۔ ( لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ ۭ لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ ) 40 ۔ غافر :16) ۔
3 جو خدا یہ صفات رکھتا ہے جن کا ذکر ان دو تین آیات میں ہوا ' وہ ہی اسی لائق ہے کہ ہم اس کے تابع فرمان ہوں ' اس کے سامنے انتہائی عبودیت اختیار کریں اور ہر آن اس سے ڈرتے رہیں۔ اسی کا ہم کو حکم ہوا ہے جس سے ہم کسی حال منہ نہیں موڑ سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71 قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا
یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے ‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہوجائے تب ہی توحید مکمل ہوتی ہے ‘ جس کے بعد انسان کسی کے آگے سر جھکا کر خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
78 الٰہ محتاج نہیں ہوسکتا :۔ اس آیت میں ایک بڑی حقیقت بیان کی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ حقیقی معبود وہ ہستی ہوسکتی ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے اور ان کی مشکلات کو دور کرسکے۔ لیکن اپنی زندگی اور اس کی بقا کے لیے دوسروں کی محتاج نہ ہو۔ اس معیار پر اگر پرکھا جائے تو تمام معبودان باطل خواہ وہ زندہ شخصیتیں ہوں یا فوت شدہ ہوں، دیویاں ہوں یا دیوتا، پتھر ہوں یا شجر ہوں یا کوئی اور جاندار چیز ہو سب کی از خود نفی ہوجاتی ہے۔ جن، بتوں، پتھروں اور درختوں اور جانداروں کی تو بات ہی چھوڑیئے۔ جن انبیاء یا بزرگوں کو یا اماموں کو یہ منصب عطا کیا جاتا ہے آپ دیکھئے کہ ان کی زندگی میں کوئی مشکل وقت آیا تھا ؟ اور…
Read the full tafseer →110 ۔ (نہ کہ کسی دیوی، دیوتا، پیر پیغمبر، جن وملک کے حضور میں) جملہ کی ترکیب حصر پر دلالت کررہی ہے یعنی حشر اسی کے حضور میں ہوگا نہ کہ کسی اور کے، وتقدیم المعمول لا فادۃ الحصر مع رعایۃ الفواصل ای الیہ سبحانہ لا الی غیرہ تحشرون (روح) ان یہاں بان کے معنی میں ہے اور جملہ کا عطف نسلم پر ہے۔ ان ای بان (جلالین) ای امرنا بالایمان واقامۃ الصلوۃ (روح) حکم اقیموا الصلوۃ نیابت کررہا ہے تمام ظاہری عبادتوں کی اور حکم اتقوا ہر باطنی اصلاح کی واتقوہ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ ای الرب فی مخالفۃ امرہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَاَن اقیموا الصلوۃ الخ، اَن اقیموا کا عطف لِنُسلِم پر ہے، یعنی ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العلمین کے مطیع ہوجائیں اور یہ کہ ہم نماز قائم کریں، تسلیم وانقیاد الہیٰ کے بعد سب سے پہلا حکم اقامت صلوٰۃ کا ہے، اس سے نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے اور اس کے تقوی کا حکم ہے کہ نماز کی پابندی اور خضوع کے بغیر ممکن نہیں۔
یومَ یَنْفَخُ فی الصورِ ، صور سے مراد نرسنگا یا بگل ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) اسے اپنے منہ سے لگائے اور اپنی پیشانی جھکائے حکم الہیٰ کے منتظر کھڑے ہیں کہ جب حکم دیا جائے پھونک دیں، (ابن کثیر، ابو داؤد ترمذی) بعض علماء کے نزدیک تین نفخ ہوں گے، (1) نفخہ صعق اس…
Read the full tafseer →وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ اور یہ (بھی حکم ہوا ہے) کہ نماز کی پابندی کرو اور اس سے ڈرو۔ نسلم میں لام زائد ہے یا ب کے معنی میں اور انمقدر ہے اس لئے فعل بمعنی مصدر ہے یا لام تعلیلیہ ہے اور امرنا کا مفعول محذوف ہے مطلب اس طرح ہوگا ہم کو اتباع رسول کا حکم دیا گیا تاکہ ہم رب العالمین کے مطیع ہوجائیں اللہ تک پہنچنا اور اس کا مطیع ہونا اتباع رسول ﷺ پر موقوف ہے۔
Read the full tafseer →(72) اور پانچوں نمازوں کی پابندی کریں اور اسی کی اطاعت کریں اور مرنے کے بعداسی کے سامنے تم سب پیش کیے جاؤ گے وہ تمہارے اعمال کا بدلا دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : آپ ان سے کہہ دیں کہ کیا ہم توحید کی سیدھی سڑک چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں، اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی صحرا سے گزر رہا ہو اور شیطانوں کے نرغے میں آجائے، جو اسے سیدھے راستے سے بھٹکا کر کسی اور طرف لے جائیں اور وہ حیران و پریشان نہ سمجھ سکے کہ کیا کرے اور اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجاؤ، سیدھی راہ ادھر ہے، لیکن وہ شیطانوں کے چکر میں ایسا پھنس گیا ہے کہ نہ وہ ساتھیوں کی پکار کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کی طرف جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک اختیار کر کے جو گمراہ ہوگیا ہے، وہ بھٹکے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : 71۔ 72۔ 73
آیت : قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا یعنی وہ جو ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے پوجیں۔ آیت : ولا یضرنا اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے چھوڑ دیں۔ اس سے مراد بت (اصنام) ہیں۔ آیت : ونرد علی اعقابنا بعد اذ ھدنا اللہ یعنی ہم ہدایت کے بعد ضلالت و گمراہی کی جانب لوٹ جائیں۔
اعقاب کا واحد عقب ہے اور یہ مؤنث ہے، اور اس کی تصغیر عقیبۃ ہے۔ جب کوئی الٹے پاؤں واپس لوٹے تو کہا جاتا ہے : رجع فلان علی عقبیہ ابو عبیدہ نے کہا ہے : جو کوئی اپنی حاجت اور ضرورت سے واپس لوٹ آئے اور وہ اس کے ساتھ کامیاب نہ ہو تو کہا جاتا ہے : قدرد علی عقبنیہ۔
اور مبرد نے کہا ہے : اس…
Read the full tafseer →(1) امام ابو الشیخ نے اوزاعی ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہیں کسی کے گھر کے رہنے والے جو مقرر اوقات پر نماز ادا کرتے ہیں۔ مگر ان میں برکت دی جاتی ہے جیسے کہ برکت دی گئی ابراہیم میں اور آل ابراہیم میں۔
Read the full tafseer →وَاَنْ [ اور یہ کہ ] اَقِيْمُوا [ قائم رکھو ] الصَّلٰوةَ [ نماز کو ] وَاتَّقُوْهُ ۭ [ اور تقوی کرو اس کا ] وَهُوَ [ اور وہ ] الَّذِيْٓ [ وہ ہے ] اِلَيْهِ [ جس کی طرف ہی ] تُحْشَرُوْنَ [ تم سب جمع کئے جاؤگے ]
Read the full tafseer →(وَ اَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اتَّقُوْہُ ) ( اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ نماز قائم کرو اور رب العالمین سے ڈرو) (وَ ھُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ) (اور وہی رب العالمین ہے جس کی طرف تم جمع کیے جاؤ گے) جب اس کی بار گاہ میں حاضر ہوں گے اس وقت سب کے فیصلے ہوجائیں گے۔ ہم اس کی عبادت کو کیسے چھوڑ دیں اور اس کی توحید سے کیسے منہ موڑیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
76 یہ گذشتہ پانچ عقلی دلیلوں کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ یعنی یہ ثابت ہوگیا کہ (1) ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ (تمام مصائب و مشکلات وہی آسان کرتا ہے۔ (3) انسانی حواس اور طاقتیں اسی کے قبضے میں ہیں (4) زمین و آسمان اور بحر وبر کا کلی اور تفصیلی غیب بھی صرف وہی جانتا ہے اور (5) بحر وبر کے شدائد اور ہر کرب وضرر سے وہی نجات دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ مالک و مختار متصرف و کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے دوسرا کوئی نہیں تو کیا اس کے باوجود ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جنہیں ہمارے نفع و نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں جو نہ متصرف و مختار ہیں نہ غیب دان اگر ہم ایسا کریں تو ہم ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے شرک اور مشرکین کا رد بیان ہو رہا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر بھی ہوا۔ آیات الٰہی کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کی تردید ہوئی پھر اہل ایمان کو نصیحت کی گئی کہ آیات الٰہی پر طعن کرنے والوں کی مجلس میں مت بیٹھو کہ یہ دینی طور پر مضر اور تمہارے لئے سم قاتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے برے انجام کا تذکرہ بھی کیا اور فرمایا کہ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑیں ایک دن آنے والا ہے ‘ جب یہ نادم ہوں گے ‘ مگر اس دن نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ یہ لوگ آخرکار عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے ۔ آج کی آیات میں بھی شرک ہی کی تردید ہے اور یہ سلسلہ…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّقُوْہُ 0ۭ وَہُوَالَّذِيْٓ اِلَيْہِ تُحْشَرُوْنَ 72
اقامت
والْإِقَامَةُ في المکان : الثبات . وإِقَامَةُ الشیء : توفية حقّه، وقال : قُلْ يا أَهْلَ الْكِتابِ لَسْتُمْ عَلى شَيْءٍ حَتَّى تُقِيمُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 68] أي : توفّون حقوقهما بالعلم والعمل، وکذلک قوله : وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقامُوا التَّوْراةَ وَالْإِنْجِيلَ [ المائدة/ 66] ولم يأمر تعالیٰ بالصلاة حيثما أمر، ولا مدح بها حيثما مدح إلّا بلفظ الإقامة، تنبيها أنّ المقصود منها توفية شرائطها لا الإتيان بهيئاتها، نحو : أَقِيمُوا الصَّلاةَ [ البقرة/ 43]
الاقامتہ
( افعال ) فی المکان کے معنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ترکیب : من دون اللّٰہ متعلق ہے ندعوا سے ما نکرہ موصوفہ یا موصولہ مفعول ندعوا ونرد معطوف ہے ندعوا پر اور ممکن ہے کہ حال ہو۔ کالذی کاف حال ہے ضمیر یزد سے اے مشبہین للذی فی الارض متعلق ہے استہوتہ سے حیران غیر منصرف ہے کس لئے کہ اس کے مونث حیرٰی ہے یہ حال ہے استہوتہ کی ہاء سے لہ اصحاب جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حیران کی ضمیر سے حال ہے وان اقیموا معطوف ہے لنسلم پر۔
تفسیر : وہ کفار جو اسلام و توحید پر ہنستے تھے اب ان کے مذہب بت پرستی کو رد کرتا ہے جو دراصل قابل مضحکہ بات ہے۔ وہ یہ کہ کسی کی اطاعت و عبادت کی دو وجہ ہوتی ہیں۔ ایک امید نفع ‘ دوم خوف مضرت۔ اور اللہ کے سوا جو کچھ عالم میں ہے ان…
Read the full tafseer →وَاَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّقُوْہُ ط وَھُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (الانعام : 72)
(اور یہ کہ نماز قائم کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور وہی ہے ‘ جس کے حضور تم سب اکٹھے کیے جاؤ گے)
” نماز “ سب سے بڑی مظہر عبودیت
یعنی سب سے پہلا یہ کام کرو کہ نماز قائم کرو۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے ‘ جس سے پوری طرح یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو آدمی اپنی ذات اور اپنی ذات سے متعلق تمام علائق کو اللہ کے سپرد کرنا چاہتا ہے ‘ اس کی صورت کیا ہونی چاہیے۔ نماز کی کیفیت پر اگر غور کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرنے کا کیا معنی اور مفہوم ہے ؟ آدمی جب نماز کا آغاز کرتا ہے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح معبودان باطل آخرت میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اسی طرح یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر دنیا میں بھی یہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
مشرک کی عادات میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے معبودوں کے ساتھ محبت کرتا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے بجائے اپنے باطل معبودوں کی طرف بلاتا اور کھینچتا ہے۔ حالانکہ معبودان باطل نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ اسی بنا پر نبی مکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ مشرکوں کو سمجھائیں کہ کیا ہم ان کی طرف دعوت دیں اور ان کی عبادت کریں جو کسی کو ذرّہ برابر نفع اور رتی برابر…
Read the full tafseer →فرمانبرداروں کے طرق :
آیت 72 : وَاَنْ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ تقدیر عبارت یہ ہے و امرنا لان نسلم ولان اقیموا یعنی اسلام اور اقامت صلوۃ کے لیے وَاتَّقُوْہُ وَہُوَ الَّذِیْٓ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَقیامت کے دن۔
Read the full tafseer →تفسیر (72) وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ) یعنی ہمیں نماز قائم کرنے اور تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے (وھو الذین الیہ تحشرون) حساب کے لئے موقف میں جمع کئے جائو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71 ۔ 74) ۔ اسماعیل سدی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے مکہ میں موقعہ پاکر فہمائش کے طور پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے ٹیڑھے راستہ پر چلا جاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دیا کہ دین اسلام میں خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے جس نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لئے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
تشریح تبسل
قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…
Read the full tafseer →130 اقامت صلاۃ اور تقویٰ و پرہیزگاری کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ نماز ادا کرو اور اللہ ہی سے ڈرتے رہا کرو۔ یعنی ہر حال میں اور ہر مقام پر۔ تاکہ اس طرح تم بچ سکو اس کی گرفت و پکڑ سے کہ وہ اپنے علم اور اپنی قدرت کے اعتبار سے ہر جگہ اور ہر حال میں تمہارے ساتھ ہے۔ اور تمہارے احوال و اَعمال پر مطلع و شاہد ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا ۔ { وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ } ۔ (الحدید : 4) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری کا سب سے بڑا مقصد رضائے الہی کا حصول اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے۔ اور یہی اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 1 یعنی حشر کے دن جب وہ تمام مردوں کو زندہ کرنا چاہے گا2 یعنی دنیان میں مجازی طور پر جن لوگوں کو بادشاہ کہا جاتا ہے ان کی مجازی بادشاہی بھی اس روز ختم ہوجائے گی لمن الملک الیوم اللہ الو احد القھار۔ (حم السجدہ نیز سورت فاتحہ آیت مالک یوم الدین پہلے ایک صور پھو نکا جائے گا تو گھبرا جائے گی پھر دوبارہ پھونکا جائے گا تو ساری خلقت فناہو جائے گی پھر تیسری بار پھونکا جائے گا تو سب زندہ ہو کر ایک جگہ جمع ہوجائے گی، بعض نے لکھا ہے کہ نفخہ در اصل دوبارہ ہوگا بہلے کو نفخہ فزع یاصعق (فنا) کہا جاتا ہے اور دوسرے کو نفخہ قیام واللہ اعلم (قرطبی، ابن کثیر) ایک شخص کے سوال پر نبی ﷺ نے فرمایا صور ایک نر سنگا…
Read the full tafseer →(6:72) وان اقیموا الصلوۃ واتقوہ۔ ای وامرنا لان اقیموا الصلوٰۃ و اتقوہ۔ (اور ہمیں یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ) تم نماز قائم کرو اور اس سے ڈرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن : آیت نمبر 71 تا 73 :
ندعوا ( ہم پکارتے ہیں) ‘ اعقاب (عقب) ایڑیاں) استھوت ( بہکا دیا) ‘ حرکان ( حیران و پریشان) ‘ ید عون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ لنسلم ( تاکہ ہم مان لیں) ‘ ینفخ (وہ پھونکتا ہے) ‘ الصور (نرسنگا (قیامت میں نرسنگے کی آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 :
غیر اللہ وہ ہے جو کوئی نفع اور کوئی نقصان نہ پہنچاسکے۔ اتنی بات تو سب ہی جانتے ہیں۔ پھر غیر اللہ کی پوجا کیوں ہوتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی بندگی صرف ظاہری اور رسمی ہوتی ہے کوئی ان کی قلبی عبادت نہیں کرتا۔ یہ ظاہری پر ستش بھی ایک ہی غرض سے ہے۔ ایک سیاسی سماج قائم کرنا اور قائم رکھنا۔ اگر بت کی پوجا نہ ہو تو ہندو دھرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے موقع پاکر فہمائش کے طر پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا، اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن شریف کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے کے ٹیڑھے راستہ پر چلاجاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے۔ اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمادیا کہ دین اسلام میں اس خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے، جس نے زمین و آسمان پیدا کئے اور دنیا کے عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[52] یعنی مصلحت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ساری تخلیق بغیر کسی غرض و مقصد کے نہیں ہوئی بلکہ بڑی گہری حکمتیں اور مصلحتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[62] یعنی نرسنگھا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آ رہا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
دین کو کھیل نہ سمجھو !
(ف 3) غرض یہ ہے کہ دین کا احترام ضروری ہے یہود ونصاری کی طرح نہ ہوجاؤ جن کے دلوں میں مذہب ایک غیر ضروری مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ نہیں ۔
(آیت) ” ولا شفیع “۔ سے شفاعت مطلقہ کی تردید مقصود ہے ‘ یعنی غیر مشروط شفاعت ، اہل باطل کا خیال تھا کہ چونکہ ہم انبیاء کی جانب منسوب ہیں ، اور اس انتساب پر نازاں ہیں اس لئے شفاعت قطعی ہوگی ، مکہ کے مشرک یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے بت ، ہمارے اولیاء اللہ پر دباؤ ڈال کر ہمیں بخشوائیں گے قرآن حکیم نے اس نوع کی سفارش کو ممنوع اور ناجائز قرار دیا ، اور بالکل مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔
حل لغات :
الذکری : مصدر ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی یاد آنے…
Read the full tafseer →-72 اور ہم کو یہ بھی حکم کیا گیا ہے کہ تم نماز قائم رکھو اور نماز کی پابندی کرو اور یہ بھی ہم کو حکم کیا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اللہ تعالیٰ وہی ہے جس کے پاس تم قبروں سے نکل کر سب کے سب جمع کئے جائو گے ینی حساب دینے کی غرض سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 5۔ تمثیل میں جو شیطانوں کا راہ بھلادینا مذکور ہے اس سے معلوم ہوا کہ شیاطین اور خبیث جن سے بعض اوقات اس قسم کے تصرفات و افعال سرزد ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →نماز قائم کرنے اور اللہ سے ڈرتے رہنے کی تلقین اور اس کی طرف لوٹ جانے کا یقین :
117: اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی عملی تصویر کیا ہے ؟ نماز کو قائم کرنا۔ زیر نظر آیت کا خطاب غائب سے بدل کر حاضر کردیا گیا جس میں براہ راست کرنے کا زور پیدا ہوگیا اور نماز دین اسلام کا اولین عملی مظہر ہے۔ قرآن کریم میں کسی ایک جگہ میں بھی یہ حکم نہیں کہ نماز پڑھا کرو بلکہ جب بھی فرمایا تو یہی کہ نماز قائم کرو اور اقامۃ الشئی تو قیۃ حقہ (راغب) نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو تمام حقوق ظاہر میں اور باطن کے ساتھ ادا کرو۔ نماز کے ظاہری حقوق کیا ہیں ؟ ظاہری حقوق یہ ہیں کہ نماز سنت نبوی ﷺ کے مطابق ادا کی جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In the third verse (70), nearly the same subject has been stressed upon in the following words: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا (And avoid those who have taken their faith as game and play ...). The word: ذر (dhar) here is a derivation from: وَذَرِ (wadhara) which means being displeased with something and leaving it. Thus, the verse can be taken either in the sense of leaving people who have turned the true religion, that is, Islam which has been sent for them, into a plaything and a laughing stock; or in the sense that they have left their real faith and taken to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
45. Those who avoid disobedience to God will not be held responsible for the errors of those who disobey. This being the case, the former have no justification for taking it upon themselves to persuade the latter to obedience or to consider themselves obliged to answer all their questions, however absurd and flimsy, until the Truth is forced down their throats. Their duty is merely to admonish and place the Truth before those whom they find stumbling about in error. If there is no response to this call except remonstration and obstinate argument they are under no obligation to waste their…
Read the full tafseer →