Explained with ayahs 71–73
اسلام کے سوا سب راستوں کی منزل جہنم ہے
مشرکوں نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ ہمارے دین میں آجاؤ اور اسلام چھوڑ دو اس پر یہ آیت اتری کہ کیا ہم بھی تمہاری طرح بےجان و بےنفع و نقصان معبودوں کو پوجنے لگیں ؟ اور جس کفر سے ہٹ گئے ہیں کیا پھر لوٹ کر اسی پر آجائیں ؟ اور تم جیسے ہی ہوجائیں ؟ بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ اب تو ہماری آنکھیں کھل گئیں صحیح راہ مل گئی اب اسے کیسے چھوڑ دیں ؟ اگر ہم ایسا کرلیں تو ہماری مثال اس شخص جیسی ہوگی جو لوگوں کے ساتھ سیدھے راستے پر جا رہا تھا مگر راستہ گم ہوگیا شیطان نے اسے پر یسان کردیا اور ادھر ادھر بھٹکانے لگا اس کے ساتھ جو راستے پر تھے وہ اسے پکارنے لگے کہ ہمارے ساتھ مل جا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
سورة الْاَنْعَام 45
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کردیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہےوَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔
اس کے بعد ارشاد…
Read the full tafseer →قُلْ اَنَدْعُوْا۔۔۔ بَعْدَ اِذْ هَدٰىنَا اللّٰهُ۔ خدا کی ہدایت آجانے کے بعد کسی کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا :
اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے اعلان کرایا کہ یہ لوگ جو ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کہ تمہیں پھر اسی گمراہی میں پھنسائی جس سے خدا نے تمہیں نکالا ہے تو تم ان کو صاف صاف سنا دو کہ کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کو پکاریں جن کو نہ ہمیں نفع پہنچانے پر کوئی اختیار نہ ضرر پہنچانے پر اور اس طرح ہم الٹے پاؤں پھر اسی گمراہی میں جا گریں جس سے خدا نے ہمیں نکلنے کی توفیق بخشی اور ہماری رہنمائی فرمائی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر پہلے ہم اس گمراہی میں مبتلا رہے تو اس کے لیے کچھ عذر تھا…
Read the full tafseer →71۔ 1 یہ ان لوگوں کی مثال بیان فرمائی ہے جو ایمان کے بعد کفر اور توحید کے بعد شرک کی طرف لوٹ جائیں ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ ایک شخص اپنے ساتھیوں سے بچھڑ جائے جو سیدھے راہ پر جا رہے ہوں۔ اور بچھڑ جانے والا جنگلوں میں حیران و پریشان بھٹکتا پھر رہا ہو، ساتھی اسے بلا رہے ہوں لیکن حیرانی میں اسے کچھ سجھائی نہ دے رہا ہو یا جنات کے نرغے میں پھنس جانے کے باعث صحیح راستے کی طرف مراجع اس کے لئے ممکن نہ رہی ہو۔
71۔ 2 مطلب یہ کہ کفر اور شرک اختیار کر کے جو گمراہ ہوگیا، وہ بھٹک ہوئے راہی کی طرح ہدایت کی طرف نہیں آسکتا۔ ہاں البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے ہدایت مقدر کردی ہے تو یقینا اللہ کی توفیق سے وہ راہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
25: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس دین کو انہیں اپنانا چاہیے تھا، (یعنی اسلام) اس کو قبول کرنے کے بجائے وہ اس کا مذاق بناتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جو دین انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ کھیل تماشے جیسی بےبنیاد رسموں پر مشتمل ہے اور دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو چھوڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب وہی ہے کہ ان کی اس قسم کی گفتگو میں ان کے ساتھ مٹ بیٹو جس میں وہ اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہوں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
(آیت) ” نمبر 71۔
اس سورة میں بار بار مضراب قل سے ضربات لگائی جارہی ہیں ۔ یہ نہایت ہی پرتاثیر طرز خطا ہے جس سے یہ تاثر دیا جانا مطلوب ہے کہ حلال و حرام کے حدود وقیود کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو حاصل ہے اور رسول اللہ ﷺ تو محض مبلغ اور انجام بد سے ڈرانے والے ہیں ۔ اس انداز کلام سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ نہایت ہی اہم ‘ بڑا اور خوفناک ہے ۔ یہ تصورات جو رسول خدا ﷺ پیش فرما رہے ہیں یہ ان کی ڈیوٹی ہے اور انہیں خدا کی جانب سے امر ہے کہ وہ ایسا کریں ۔
(آیت) ” قُلْ أَنَدْعُو مِن دُونِ اللّہِ مَا لاَ یَنفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنا “۔ (6 : 71)
اے نبی ﷺ ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر ان کو…
Read the full tafseer →7 یعنی مسلمانوں کی شان یہ ہے کہ گمراہوں کو نصیحت کر کے سیدھی راہ پر لائے اور جو خدا سے بھاگ کر غیر اللہ کی چوکھٹ پر سر رکھے ہوئے ہیں ان کو خدائے واحد کے سامنے سر بسجود کرنے کی فکر کرے۔ اس سے یہ توقع رکھنا فضول ہے کہ وہ خدا کے سوا کسی ایسی ہستی کے آگے سر جھکائے گا جس کے قبضے میں نہ نفع ہے نہ نقصان۔ یا اہل باطل کی صحبت میں رہ کر توحید و ایمان کی صاف سڑک چھوڑ دے گا اور شرک کی بھول بھلیوں کی طرف الٹے پاؤں پھرے گا۔ اگر معاذ اللہ ایسا ہو تو اس کی مثال اس مسافر کی سی ہوگی جو اپنے راہ جاننے والے رفقاء کے ساتھ جنگل میں سفر کر رہا تھا کہ ناگاہ غول بیابانی (خبیث جنات) نے اسے بہکا کر راستے سے الگ کردیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
آیت 71 قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لاَ یَنْفَعُنَا وَلاَ یَضُرُّنَا
یہ بت کسی کو کچھ نفع یا نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ یہ تو خود اپنی حفاظت بھی نہیں کرسکتے۔ خود پر بیٹھی ہوئی مکھی تک نہیں اڑا سکتے۔ ان کو پکارنے کا کیا فائدہ ؟ ان کے سامنے سجدہ کرنے سے کیا حاصل ؟ بتوں کے بارے میں تو یہ بات خیربہت ہی واضح ہے ‘ لیکن ان کے علاوہ بھی پوری کائنات میں کوئی کسی کے لیے خیر کی کچھ قدرت رکھتا ہے نہ شر کی۔ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِ کا مفہوم یہی ہے۔ یہ یقین جب انسان کے دل کی گہرائیوں میں پوری طرح جاگزیں ہوجائے تب ہی توحید مکمل ہوتی ہے ‘ جس کے بعد انسان کسی کے آگے سر جھکا کر خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
78 الٰہ محتاج نہیں ہوسکتا :۔ اس آیت میں ایک بڑی حقیقت بیان کی جا رہی ہے جو یہ ہے کہ حقیقی معبود وہ ہستی ہوسکتی ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچا سکے اور ان کی مشکلات کو دور کرسکے۔ لیکن اپنی زندگی اور اس کی بقا کے لیے دوسروں کی محتاج نہ ہو۔ اس معیار پر اگر پرکھا جائے تو تمام معبودان باطل خواہ وہ زندہ شخصیتیں ہوں یا فوت شدہ ہوں، دیویاں ہوں یا دیوتا، پتھر ہوں یا شجر ہوں یا کوئی اور جاندار چیز ہو سب کی از خود نفی ہوجاتی ہے۔ جن، بتوں، پتھروں اور درختوں اور جانداروں کی تو بات ہی چھوڑیئے۔ جن انبیاء یا بزرگوں کو یا اماموں کو یہ منصب عطا کیا جاتا ہے آپ دیکھئے کہ ان کی زندگی میں کوئی مشکل وقت آیا تھا ؟ اور…
Read the full tafseer →107 ۔ مقصود عقیدہ شرک کی حماقت وسفاہت دکھانا ہے۔ (آیت) ” قل “۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ آپ جملہ مومنین کیطرف سے مشرکین سے یہ کہیے۔ (آیت) ” اندعوا “۔ کیا ہم بھی پکاریں جیسے تم پکارتے ہو، اور جیسا کہ تم ہم سے چاہتے ہو، (آیت) ” نرد۔۔۔ اللہ “۔ شرک یوں بھی ایک تمامتر احمقانہ سفیہانہ عقیدۂ تھا، چہ جائیکہ اسلام کی روشنی پاجانے کے بعد پھر اسی کو اختیار کرنا، مشرکین نے مسلمانوں سے کہنا شروع کیا تھا کہ تم اپنے قدیم اور آبائی دین کو چھوڑ کر کہاں اس نئے شخص محمد ﷺ نامی کی دعوت پر بہک گئے، اب بھی واپس آجاؤ اور اپنے قومی وملی دین کی تقویت کا باعث بنو، مسلمانوں کو تعلیم اسی جواب کی مل رہی ہے کہ کیا تمہارا یہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71 تا 82
ترجمہ : آپ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کریں کہ جو نہ ان کی بندگی کرنے سے ہم کو نفع پہنچا سکیں اور نہ ترک بندگی سے ہم کو نقصان پہنچا سکیں، اور وہ بت ہیں، اور جبکہ اللہ ہم کو سیدھا اسلام کا راستہ دکھا چکا تو کیا ہم مشرک ہو کر الٹے پیر پھرجائیں اس شخص کے مانند کی جس کو شیطان نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران پھر رہا ہو وہ نہیں جانتا کہ کدھر جائے، حیران استھوتْہٗ کی ضمیر سے حال ہے اور اس کے ساتھی اسے سیدھی راہ کی طرف پکار رہے ہوں، اس سے کہہ رہے ہوں کہ ہمارے پاس آ، اور وہ ان کا جواب نہ دے جس کے نتیجے میں ہلاک ہوجائے استفہام انکار کیلئے ہے اور…
Read the full tafseer →قل ادعوا من دون اللہ ما لا ینفعنا ولا یضرنا ونرد علی اعقابنا بعد اذ ہدانا اللہ : آپ کہہ دیجئے کیا ہم اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کریں جو ہم کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتیں (اگر ہم ان کی پوجا کریں) اور نقصان نہیں پہنچا سکتیں (اگر ہم ان کی پوجا نہ کریں اور ان کو نہ مانیں) اور اپنی ایڑیوں کے بل (سڑک کی طرف کو) لوٹ جائیں (جس پر ہم پہلے تھے) بعد اس کے کہ اللہ نے ہم کو (وحی کے ذریعہ سے) ہدایت کردی اور شرک سے بچا لیا اور اسلام کی نعمت عطا فرما دی)
کالذی استہوتہ الشیطین فی الارض حیران لہ اصحب یدعونہ الی الہدی ائتنا : جیسے کوئی شخص ہو کہ اس کو شیطانوں نے کہیں بیابان میں بےراہ کردیا ہو اور وہ بھٹکتا…
Read the full tafseer →(71) تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ سے فرمایا کہ آپ ﷺ حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے فرمادیں کہ وہ اپنے لڑکے عبدالرحمن سے کہیں کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ ایسی چیزوں کی عبادت کی دعوت دیتے ہو جو ہمیں دنیاوی زندگی روزی ومعاش کے اندر کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان کی عبادت کریں تو آخرت میں بھی یہ ہمیں کسی قسم کا نفع نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان کی عبادت نہ کریں تو ہمارا بال بیکا نہیں کرسکتے۔
تو کیا پھر سابقہ دین کی طرف الٹے پھرجائیں، باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رسول اکرم ﷺ کے دین کی طرف ہدایت کردی ہے تو ہماری مثال عبدالرحمن کے مقابلہ میں ایسی ہے، جیسا کہ شیطان نے کسی کو دین الہی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ۔۔ : آپ ان سے کہہ دیں کہ کیا ہم توحید کی سیدھی سڑک چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں، اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جو اپنے ساتھیوں کے ساتھ کسی صحرا سے گزر رہا ہو اور شیطانوں کے نرغے میں آجائے، جو اسے سیدھے راستے سے بھٹکا کر کسی اور طرف لے جائیں اور وہ حیران و پریشان نہ سمجھ سکے کہ کیا کرے اور اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ ہماری طرف آجاؤ، سیدھی راہ ادھر ہے، لیکن وہ شیطانوں کے چکر میں ایسا پھنس گیا ہے کہ نہ وہ ساتھیوں کی پکار کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کی طرف جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفر و شرک اختیار کر کے جو گمراہ ہوگیا ہے، وہ بھٹکے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
آیت : 71۔ 72۔ 73
آیت : قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا یعنی وہ جو ہمیں کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے پوجیں۔ آیت : ولا یضرنا اور وہ ہمیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اگر ہم اسے چھوڑ دیں۔ اس سے مراد بت (اصنام) ہیں۔ آیت : ونرد علی اعقابنا بعد اذ ھدنا اللہ یعنی ہم ہدایت کے بعد ضلالت و گمراہی کی جانب لوٹ جائیں۔
اعقاب کا واحد عقب ہے اور یہ مؤنث ہے، اور اس کی تصغیر عقیبۃ ہے۔ جب کوئی الٹے پاؤں واپس لوٹے تو کہا جاتا ہے : رجع فلان علی عقبیہ ابو عبیدہ نے کہا ہے : جو کوئی اپنی حاجت اور ضرورت سے واپس لوٹ آئے اور وہ اس کے ساتھ کامیاب نہ ہو تو کہا جاتا ہے : قدرد علی عقبنیہ۔
اور مبرد نے کہا ہے : اس…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل اندعوا من دون اللہ کہ یہ مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کو بیان فرمایا معبودوں کے لئے اور ان بلانے والوں کے لئے جو اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔ جیسے مثال ایک آدمی کی جو راستے سے گم ہوگیا پریشان ہوتے ہوئے اور گمراہ ہوتے ہوئے جب کہ اسے ایک آواز لگانے والا آواز لگائے کہ فلاں بیٹے فلاں کے آجاؤ راستے کی طرف۔ اور اس کے اپنے ساتھی ہیں جو اس کو بلاتے ہیں اے فلاں بیٹے فلاں کے آجاؤ راستے کی طرف۔ اگر اس نے پہلے بلانے والے کو قبول کیا تو راستے کی طرف ہدایت پا جائے گا اور یہ بلانے والا جو اسے گھنے جنگل کی طرف بلا رہا ہے…
Read the full tafseer →قُلْ [ تو کہہ دے ] اَ [ کیا ] نَدْعُوْا [ ہم پکاریں ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] مَا [ اس کو جو ] لَا يَنْفَعُنَا [ نفع نہیں دیتا ہم کو ] وَلَا يَضُرُّنَا [ اور نہ ہی تکلیف دیتا ہے ہم کو ] وَنُرَدُّ [ اور (کیا ) ہم لوٹا دیئے جائیں ] عَلٰٓي اَعْقَابِنَا [ اپنی ایڑیوں پر ] بَعْدَ اِذْ [ بعد اس کے جب ] هَدٰىنَا [ ہدایت دی ہم کو ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] كَالَّذِي [ اس کی مانند ] اسْتَهْوَتْهُ [ بہکایا جس کو ] الشَّيٰطِيْنُ [ شیطانوں نے ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] حَيْرَانَ ۠ [ سرگرداں ہوتے ہوئے ] لَهٗٓ [ اس کے ہیں ] اَصْحٰبٌ [ کچھ ساتھی ] يَّدْعُوْنَهٗٓ [ جو پکارتے ہیں اس کو ] اِلَى…
Read the full tafseer →صرف اللہ کی ہدایت ہی ہدایت ہے
تفسیر درمنثور ج 2 میں نقل کیا ہے کہ مشرکین نے اہل ایمان سے کہا کہ تم ہمارے راستہ کا اتباع کرلو اور محمد ﷺ کا راستہ چھوڑ دو ۔ اس پر آیت کریمہ (قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنْفَعُنَا وَ لَا یَضُرُّنَا) نازل ہوئی۔
نیز حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بطور مثال ایک شخص کی حالت بیان فرمائی ہے جو کہ راستہ سے بھٹک گیا اور جو لوگ اس کے ساتھ تھے اسے صحیح راستہ کی طرف بلا رہے ہیں اور جنگل میں جہاں وہ راہ گم کرچکا تھا وہاں شیاطین بھی موجود ہیں انہوں نے اسے پریشان کر رکھا ہے وہ اسے اپنی خواہشوں پر چلانا چاہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–90
ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔
قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔
ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
76 یہ گذشتہ پانچ عقلی دلیلوں کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ یعنی یہ ثابت ہوگیا کہ (1) ہر جاندار کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہے۔ (تمام مصائب و مشکلات وہی آسان کرتا ہے۔ (3) انسانی حواس اور طاقتیں اسی کے قبضے میں ہیں (4) زمین و آسمان اور بحر وبر کا کلی اور تفصیلی غیب بھی صرف وہی جانتا ہے اور (5) بحر وبر کے شدائد اور ہر کرب وضرر سے وہی نجات دیتا ہے تو معلوم ہوا کہ مالک و مختار متصرف و کارساز اور عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے دوسرا کوئی نہیں تو کیا اس کے باوجود ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جنہیں ہمارے نفع و نقصان کا ذرہ برابر اختیار نہیں جو نہ متصرف و مختار ہیں نہ غیب دان اگر ہم ایسا کریں تو ہم ہدایت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے شرک اور مشرکین کا رد بیان ہو رہا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر بھی ہوا۔ آیات الٰہی کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کی تردید ہوئی پھر اہل ایمان کو نصیحت کی گئی کہ آیات الٰہی پر طعن کرنے والوں کی مجلس میں مت بیٹھو کہ یہ دینی طور پر مضر اور تمہارے لئے سم قاتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے برے انجام کا تذکرہ بھی کیا اور فرمایا کہ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑیں ایک دن آنے والا ہے ‘ جب یہ نادم ہوں گے ‘ مگر اس دن نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ یہ لوگ آخرکار عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے ۔ آج کی آیات میں بھی شرک ہی کی تردید ہے اور یہ سلسلہ…
Read the full tafseer →قُلْ اَنَدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللہِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلٰٓي اَعْقَابِنَا بَعْدَ اِذْ ہَدٰىنَا اللہُ كَالَّذِي اسْتَہْوَتْہُ الشَّيٰطِيْنُ فِي الْاَرْضِ حَيْرَانَ 0۠ لَہٗٓ اَصْحٰبٌ يَّدْعُوْنَہٗٓ اِلَى الْہُدَى ائْتِنَا 0ۭ قُلْ اِنَّ ہُدَى اللہِ ہُوَالْہُدٰي 0ۭ وَاُمِرْنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 71ۙ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ترکیب : من دون اللّٰہ متعلق ہے ندعوا سے ما نکرہ موصوفہ یا موصولہ مفعول ندعوا ونرد معطوف ہے ندعوا پر اور ممکن ہے کہ حال ہو۔ کالذی کاف حال ہے ضمیر یزد سے اے مشبہین للذی فی الارض متعلق ہے استہوتہ سے حیران غیر منصرف ہے کس لئے کہ اس کے مونث حیرٰی ہے یہ حال ہے استہوتہ کی ہاء سے لہ اصحاب جملہ مستانفہ بھی ہوسکتا ہے اور حیران کی ضمیر سے حال ہے وان اقیموا معطوف ہے لنسلم پر۔
تفسیر : وہ کفار جو اسلام و توحید پر ہنستے تھے اب ان کے مذہب بت پرستی کو رد کرتا ہے جو دراصل قابل مضحکہ بات ہے۔ وہ یہ کہ کسی کی اطاعت و عبادت کی دو وجہ ہوتی ہیں۔ ایک امید نفع ‘ دوم خوف مضرت۔ اور اللہ کے سوا جو کچھ عالم میں ہے ان…
Read the full tafseer →تمہید
گذشتہ آیات میں مشرکینِ مکہ کے طرز عمل کی پوری تفصیل ہم پڑھ چکے ہیں۔ اس میں ہم نے ان کے مطالبات اور آئے دن ان کی نئی نئی نشانیاں مانگنے کی تفصیلات بھی پڑھی ہیں اور پھر جس طرح وہ آنحضرت ﷺ کی تبلیغ و دعوت کی کوششوں کا مسلسل مذاق اڑا رہے تھے ‘ اسے بھی ہم نے دیکھا ہے۔ اس سے مجموعی طور پر ان کا جو رویہ سامنے آتا ہے ‘ وہ یہ ہے کہ وہ زندگی کے بارے میں بالکل سنجیدہ نہیں ہیں۔ بلکہ دنیوی کھیل تماشے کو انھوں نے زندگی کا مقصود بنا لیا ہے اور کسی طور بھی اسے چھوڑنے اور بدلنے کے لیے وہ تیار نہیں۔ اس لیے گزشتہ آیت میں پروردگار نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیجئے ‘ جو طرز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح معبودان باطل آخرت میں کسی کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتے اسی طرح یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر دنیا میں بھی یہ کسی کو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
مشرک کی عادات میں ایک عادت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے معبودوں کے ساتھ محبت کرتا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کے بجائے اپنے باطل معبودوں کی طرف بلاتا اور کھینچتا ہے۔ حالانکہ معبودان باطل نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ اسی بنا پر نبی مکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ مشرکوں کو سمجھائیں کہ کیا ہم ان کی طرف دعوت دیں اور ان کی عبادت کریں جو کسی کو ذرّہ برابر نفع اور رتی برابر…
Read the full tafseer →گمراہ کو غول شیطانی میں پھنسنے والے سے تشبیہ دی :
آیت 71 : قُلْ (کہہ دو ) ابوبکر کو کہہ دیں کہ وہ اپنے بیٹے عبدالرحمان کو کہہ دیں جو اپنے باپ کو بتوں کی عبادت کی طرف بلا رہا تھا۔ اَنَدْعُوْا کیا ہم عبادت کریں۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِجو نقصان اور نفع کا مالک ہے۔ مَالَا یَنْفَعُنَاان کی جو ہمارے نفع کی قدرت نہیں رکھتے اگر ہم ان کو پکاریں۔ وَلَا یَضُرُّنَااگر ہم ان کو چھوڑ دیں۔ وَنُرَدُّکیا ہم لوٹائے جائیں گے۔ عَلٰٓی اَعْقَابِنَا اس حالت میں کہ شرک کی طرف لوٹنے والے ہوں۔ بَعْدَ اِذْ ہَدٰنَا اللّٰہُاسلام کی طرف اور بتوں کی عبادت سے ہمیں چھوڑایا۔ کَالَّذِی اسْتَہْوَتْہُ الشَّیٰطِیْنُاس شخص کی طرح جس…
Read the full tafseer →(71) (قل اندعوا من دون اللہ مالا ینفعنا) اگر ہم ان کی عبادت کریں (ولا یضرناً ) اگر ہم ان کو چھوڑ دیں یعنی بت نہ نفع دیتے ہیں اور نہ نقصان (وترد علی اعقابنا) شرک کی طرف مرتد ہو کر (بعد اذھدنا اللہ کالذی استھونہ الشیطین) یعنی ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوگی جس کو شیاطین نے گمراہ کردیا ہو۔ (فی الارض حیران لہ اصحب یدعونہ الی الھدی ائتنا) ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ اس شخص کی طرح ہے کہ وہ بھگتنا ہوا متحیر پھر رہا ہو اس کی سمجھ میں نہ آتا ہو کہ کہاں جائے اور کیا کرے۔ (لہ اصحب یدعونہ الی الھدی ائتنا) یہ اللہ تعالیٰ نے مثال دی ہے کہ جس شخص کے دوست ہوں کچھ اس کو متعدد خدائوں کی طرف بلاتے ہوں اور کچھ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–74
(71 ۔ 74) ۔ اسماعیل سدی نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے مکہ میں موقعہ پاکر فہمائش کے طور پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی 1 ؎ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے ٹیڑھے راستہ پر چلا جاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرما دیا کہ دین اسلام میں خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے جس نے زمین و آسمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لئے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
تشریح تبسل
قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…
Read the full tafseer →126 غیر اللہ کو پکارنے کی ممانعت و حرمت کا بیان : سو غافلوں اور منکروں کے دلوں کو جھنجھوڑتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ کیا ہم اللہ کے سوا ایسوں کو پکاریں جو نہ ہمیں کوئی نفع دے سکیں نہ نقصان پہنچا سکیں ؟ یعنی ایسوں کو پکارنا نری حماقت ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے غائبانہ پکارنا پرلے درجے کی حماقت ہے۔ اور استفہام انکاری ہے یعنی ایسے نہیں ہوسکتا کہ یہ بڑی حماقت و جہالت کی بات ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان مشرکوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83:
اسرار و معارف :
جن مسلط ہونا :
امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی توحید کی سیدھی راہ چھوڑ کر پھر شرک میں مبتلا ہوجائیں اگر ہم ایسا کریں تو ہماری مثال ایسی ہوگی آیت سے مقصود بت پرستوں کی تردید ہے اور آیت قل انی نھیت ان اعبد الذین الخ کی تاکید ہے (رازی)7 مگر وہ ان کی کوئی بات نہ سنے اور ان بھتنوں کی بات پر چلتا رہے جس کے نتیجہ میں آخر کار تباہ و برباد ہو (وحیدی) یہ آیت ان مشرکین کے جواب میں نازل ہوئی جنہوں نے مسلمانوں کو شرک کی دعوت دی بعض نے لکھا ہے کہ یہ آیت حضرت عبد الر حمن بن ابی بکر الصدیق کے بارے میں نازل ہوئی جو حضرت بلاتے اور حضرت صدیق ان کو ایمان کی دعوت دیتے، بآ لا خر عبد الر حمن مسلمان ہوگئے مگر علمائے محققین نے لکھا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے…
Read the full tafseer →(6:71) نرد۔ مضارع مجہول جمع متکلم ۔ رد ہرد (باب نصر) سے ہم پھیر دئیے جائیں۔ ہم لوٹائے جائیں۔ ہمیں لوٹا دیا جائے۔
اعقابنا۔ عقب کی جمع مضاف مضاف الیہ ، ہماری ایڑیاں الرد علی الاعقاب بمعنی الرجوع الی الشرک والضلال
کالذی استھوتہ الشیاطین۔ لغت مصدر محذوف۔ ای انردردا مثل ردالذی استھوتہ الشیاطین۔ اوندعوا دعاء مثل دعاء الذی استھوتہ الشیطین۔ کیا ہم پھرجائیں مثل پھر نے اس شخص کے جسے شیاطین نے بھٹکا دیا ہو۔ یا پکاریں مثل پکارنے اس شخص کے ۔۔ الخ۔
استھوتہ۔ اس نے اس کو راستہ بھلا دیا۔ استھواء (استفعال) راستہ بھلا دینا۔ فریفتہ کرنا۔ بلندی سے پستی کی طرف لانا۔
حیران۔ حیران ۔ سرا سیمہ۔ بہکا ہوا۔ متردد۔ حیرۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
لغات القرآن : آیت نمبر 71 تا 73 :
ندعوا ( ہم پکارتے ہیں) ‘ اعقاب (عقب) ایڑیاں) استھوت ( بہکا دیا) ‘ حرکان ( حیران و پریشان) ‘ ید عون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ لنسلم ( تاکہ ہم مان لیں) ‘ ینفخ (وہ پھونکتا ہے) ‘ الصور (نرسنگا (قیامت میں نرسنگے کی آواز) ۔
تشریح : آیت نمبر 71 تا 73 :
غیر اللہ وہ ہے جو کوئی نفع اور کوئی نقصان نہ پہنچاسکے۔ اتنی بات تو سب ہی جانتے ہیں۔ پھر غیر اللہ کی پوجا کیوں ہوتی ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی بندگی صرف ظاہری اور رسمی ہوتی ہے کوئی ان کی قلبی عبادت نہیں کرتا۔ یہ ظاہری پر ستش بھی ایک ہی غرض سے ہے۔ ایک سیاسی سماج قائم کرنا اور قائم رکھنا۔ اگر بت کی پوجا نہ ہو تو ہندو دھرم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ بعض مشرکین جدید مسلمانوں سے موقع پاکر فہمائش کے طر پر کہتے تھے کہ تم نے اپنا قدیمی دین کیوں چھوڑ دیا، اب بھی اپنے قدیمی دین پر آجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ باوجود قرآن شریف کی ہدایت کے مشرکوں کے بہکانے سے پچھلے پاؤں راہ اسلام سے ہٹنا ایسا ہے جس طرح کوئی راہ گیر باوجود اس کے ساتھیوں کے راستہ بتانے کے ٹیڑھے راستہ پر چلاجاوے اور منزل مقصود سے بہک جاوے۔ اور بت پرستی اور دین اسلام دونوں کا خلاصہ بھی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمادیا کہ دین اسلام میں اس خالق اور بادشاہ حقیقی کی اطاعت ہے، جس نے زمین و آسمان پیدا کئے اور دنیا کے عارضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[52] یعنی مصلحت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ساری تخلیق بغیر کسی غرض و مقصد کے نہیں ہوئی بلکہ بڑی گہری حکمتیں اور مصلحتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[62] یعنی نرسنگھا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آ رہا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
دین کو کھیل نہ سمجھو !
(ف 3) غرض یہ ہے کہ دین کا احترام ضروری ہے یہود ونصاری کی طرح نہ ہوجاؤ جن کے دلوں میں مذہب ایک غیر ضروری مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ نہیں ۔
(آیت) ” ولا شفیع “۔ سے شفاعت مطلقہ کی تردید مقصود ہے ‘ یعنی غیر مشروط شفاعت ، اہل باطل کا خیال تھا کہ چونکہ ہم انبیاء کی جانب منسوب ہیں ، اور اس انتساب پر نازاں ہیں اس لئے شفاعت قطعی ہوگی ، مکہ کے مشرک یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے بت ، ہمارے اولیاء اللہ پر دباؤ ڈال کر ہمیں بخشوائیں گے قرآن حکیم نے اس نوع کی سفارش کو ممنوع اور ناجائز قرار دیا ، اور بالکل مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔
حل لغات :
الذکری : مصدر ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی یاد آنے…
Read the full tafseer →-71 اے پیغمبر آپ ان مشرکین سے فرمائیے کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم سب مسلمان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس کے سوا اور ایسے معبودوں کی عبادت کرنے لگیں جو نہ ہم کو نفع پہنچانے کی کچھ قدرت رکھتے ہیں اور نہ کچھ ہمارا بگاڑ سکتے ہیں اور نہ ہم کو نقصان پہونچانے کی قدرت رکھتے ہیں اور کیا تمہاری خواہش یہ ہے کہ باوجود اس بات کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت سے نوازا ہے اور وہ ہم کو صحیح راہ دکھا چکا ہے اور ہم اپنی ایڑیوں کے بل الٹے ہی پائوں پھرجائیں اور ہماری مثال اس شخص کی طرح ہ جائے جیسے کسی کو جنات اور غول بیابانی نے جنگل میں راہ سے بےراہ کردیا ہو اور اس کی یہ حالت ہوجائے کہ وہ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
ف 5۔ تمثیل میں جو شیطانوں کا راہ بھلادینا مذکور ہے اس سے معلوم ہوا کہ شیاطین اور خبیث جن سے بعض اوقات اس قسم کے تصرفات و افعال سرزد ہوسکتے ہیں۔
Read the full tafseer →ان سے کہو کیا ہم اللہ کو پکارنے کی سیدھی راہ چھوڑ کر غیر اللہ کو پکارنے کی الٹی راہ اختیار کرلیں ؟ :
114: دنیا کی پرانی گمراہیوں میں سے ایک گمراہی یہ بھی ہے کہ لوگ باپ دادا کی رسوم کی غلط راہ کو چھوڑ کر سیدھی راہ اور صاف راہ کی طرف کم ہی متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہوتی کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ ان سے جب بھی پوچھا گیا کہ تم جس راہ پر گامزن ہو اس راہ پر چلنے اور اس راستہ کو اختیار کرنے کی دلیل کیا ہے ؟ تو انہوں نے ہمیشہ جو دلیل بتائی ہے وہ یہی تھی کہ یہ راہ ہمارے باپ داد کی بتائی یا دکھائی ہوئی راہ ہے۔ اس لئے ہم اس کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔ خود نبی اعظم و آخر ﷺ کے دعویٰ نبوت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In the third verse (70), nearly the same subject has been stressed upon in the following words: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا (And avoid those who have taken their faith as game and play ...). The word: ذر (dhar) here is a derivation from: وَذَرِ (wadhara) which means being displeased with something and leaving it. Thus, the verse can be taken either in the sense of leaving people who have turned the true religion, that is, Islam which has been sent for them, into a plaything and a laughing stock; or in the sense that they have left their real faith and taken to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
45. Those who avoid disobedience to God will not be held responsible for the errors of those who disobey. This being the case, the former have no justification for taking it upon themselves to persuade the latter to obedience or to consider themselves obliged to answer all their questions, however absurd and flimsy, until the Truth is forced down their throats. Their duty is merely to admonish and place the Truth before those whom they find stumbling about in error. If there is no response to this call except remonstration and obstinate argument they are under no obligation to waste their…
Read the full tafseer →