یعنی بےدینوں سے منہ پھیر لو ان کا انجام نہایت برا ہے اس قرآن کو پڑھ کر سنا کر لوگوں کو ہوشیار کردو اللہ کی ناراضگی سے اور اس کے عذابوں سے انہیں ڈرا دو تاکہ کوئی شخص اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے ہلاک نہ ہو پکڑا نہ جائے رسوا نہ کیا جائے اپنے مطلوب سے محروم نہ رہ جائے، جیسے فرمان ہے آیت (كُلُّ نَفْسٍۢ بِمَا كَسَبَتْ رَهِيْنَةٌ) 74۔ المدثر :38) ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہوا ہے مگر داہنے ہاتھ والے، یاد رکھو کسی کا کوئی والی اور سفارشی نہیں جیسے ارشاد فرمایا آیت (مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيْهِ وَلَا خُلَّةٌ وَّلَا شَفَاعَةٌ ۭ وَالْكٰفِرُوْنَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :154)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
سورة الْاَنْعَام 45
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کردیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
تیسری آیت میں بھی تقریباً اسی مضمون کی مزید تاکید اس طرح ارشاد فرمائی گئی ہےوَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ ، اس میں لفظ ذَر وَذرَ سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں کسی چیز سے ناراض ہو کر اس کو چھوڑ دینا، معنی آیت کے یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان لوگوں کو چھوڑ دیجئے جنہوں نے اپنے دین کو لہو ولعب یعنی مشغلہ اور کھیل بنا رکھا ہے، اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جو دین حق یعنی اسلام ان کے لئے بھیجا گیا ہے، اس کو لہو ولعب بنا رکھا ہے، اس کا استہزاء و تمسخر کرتے ہیں، دوسرے یہ کہ انہوں نے اصلی دین کو چھوڑ کر اپنا دین و مذہب ہی لہو و لعب کو بنا لیا ہے، دونوں معنی کا حاصل تقریباً ایک ہی ہے۔
اس کے بعد ارشاد…
Read the full tafseer →وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَهُمْ لَعِبًا وَّلَهْوًا وَّغَرَّتْهُمُ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا۔ دین سے مراد یہاں وہ دین ہے جو اللہ نے ان کے لیے اتارا تھا جس کو نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ان لوگوں کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایسے شامت زدہ ہیں کہ جس چیز کو اللہ نے ان کے دین کی حیثیت سے اتارا ہے اس کا مذاق اڑائیں ان سے کس خیر کی امید رکھتے ہو، ان کو چھوڑو، ان کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔ بازی بازی باریش بابا ہم بازی ! جو لوگ زندگی کے معاملے میں اتنے غیر سنجیدہ، اتنے بےفکرے اور ایسے لا ابالی ہیں کہ دین کو بھی وہ اپنے مسخراپن کا موضوع بنا لیں ان کو مطمئن کرنے کے لیے فکر مند ہونے کی…
Read the full tafseer →70۔ 1 تُبْسَلَ ، ای : لئلا تبسل بسل کے اصل معنی تو منع کے ہیں اسی سے ہے شُجَاعٌ بَاسِلٌ لیکن یہاں اس کے مختلف معنی کیے گئے ہیں۔ 1: تُسَلَّمُ سونپ دیئے جائیں۔ 2: تُفْضَحُ رسوا کردیا جائے۔ 3: تُؤَاخَذُ مواخذہ کیا جائے۔ 4: تُجَازی بدلہ دیا جائے امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ سب کے معنی قریب قریب ہیں۔ خلاصہ (امام ابن کثیر (فرماتے ہیں کہ انھیں اس قرآن کے ذریعے نصیحت کریں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نفس کو، جو اس نے کما یا، اس کے بدلے ہلاکت کے سپرد کردیا جائے۔ یا رسوائی اس کا مقدر بن جائے یا وہ مواخذہ اور مجازات کی گرفت میں آجائے۔ ان تمام مفہوم کو فاضل مترجم نے " پھنس نہ جائے " سے تعبیر کیا ہے۔
70۔ 2 دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
25: اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس دین کو انہیں اپنانا چاہیے تھا، (یعنی اسلام) اس کو قبول کرنے کے بجائے وہ اس کا مذاق بناتے ہیں۔ اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ جو دین انہوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ کھیل تماشے جیسی بےبنیاد رسموں پر مشتمل ہے اور دونوں صورتوں میں ان لوگوں کو چھوڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کا مطلب وہی ہے کہ ان کی اس قسم کی گفتگو میں ان کے ساتھ مٹ بیٹو جس میں وہ اللہ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہوں
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 70۔
اس میں ہم درج ذیل حقائق کے سامنے کھڑے ہیں :
ایک یہ کہ حضور ﷺ کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان لوگوں سے قطع تعلق کرلیں جو آپ کے دین اور اسلامی نظام کے ساتھ ٹھٹھا مذاق کرتے ہیں اور آپ کے بعد اہل ایمان کے لئے بھی یہی ہدایت آتی ہے اور یہ قطع تعلق اور جدائی بات چیت میں بھی ہوتی ہے اور عمل میں بھی ۔ جو لوگ دین اسلام کو اپنی زندگی کا ضابطہ بنا کر ‘ اپنے لئے ماخذ نظریات قرار دے کر ‘ اپنے لئے نظام عمل بنا کر ‘ اپنے لئے نظام اخلاق اور اپنے لئے نظام قانون قرار دے کر اس کا صحیح مقام نہیں دیتے اور اسے پروقار نہیں بناتے وہ بھی دراصل اس دین کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ جو لوگ اس دین کے موضوعات پر…
Read the full tafseer →3 یعنی اپنے اس دین کو جس کا قبول کرنا اس کے ذمہ فرض تھا ' اور وہ مذہب اسلام ہے۔
4 دنیا کی لذتوں میں مست ہو کر عاقبت کو بھلا بیٹھے۔
5 یعنی ایسے لوگوں کو جو تکذیب و استہزاء کی کرتوت میں پکڑے گئے ہوں نہ کوئی حمایتی ملے گا جو مدد کر کے زبردستی عذاب الٰہی سے چھڑا لے اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ہوگا جو سعی اور سفارش سے کام نکال دے اور نہ کسی قسم کا فدیہ اور معاوضہ قبول کیا جائے گا اگر بالفرض ایک مجرم دنیا ٰبھر کے معاوضے دے کر چھوٹنا چاہے تو نہ چھوٹ سکے گا۔
6 گزشتہ آیت میں خاص اس مجلس سے کنارہ کشی کا حکم تھا جہاں آیات اللہ کے متعلق طعن و استہزاء اور ناحق کے جھگڑے کئے جا رہے ہوں اس آیت میں ایسے لوگوں…
Read the full tafseer →آیت 70 وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا
آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو دین کے معاملے میں کبھی سنجیدہ ہوتے ہی نہیں۔ وہ دین کی ہر بات کو استہزا اور تمسخر میں اڑانے کے عادی ہوتے ہیں۔
وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا
ان کی ساری توجہ ‘ تمام بھاگ دوڑ دنیا کے لیے ہے۔ زیادہ سے زیادہ کمانا ‘ مال جمع کرنا اور جائیدادیں بنانا ہی ان کا مقصد حیات ہے ‘ خواہ حلال سے ہو یا حرام سے ‘ اس کی کوئی پروا ان کو نہیں ہوتی۔
وَذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْق۔
سورۂ قٓ کی آخری آیت میں حکم دیا گیا ہے : فَذَکِّرْ بالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ کہ…
Read the full tafseer →77 دین کو کھیل تماشا سمجھنے والے :۔ یعنی وہ لوگ جو پیروی تو اپنی خواہشات کی کرتے ہیں مگر خول مذہب کا چڑھا رکھا ہے۔ وہ اگر اپنے اپنے قبیلے کے الگ الگ خدا مقرر کرلیں تو بھی ان کے دین میں کچھ خلل نہیں آتا اور اگر دوسروں پر ظلم روا رکھیں ناجائز طریقوں اور لوٹ مار سے دوسروں کا مال ہتھیا لیں تو بھی جائز اور ہر طرح کے بےحیائی کے کام بھی ان کے لیے جائز۔ ان کے علاوہ اللہ کی آیات، اسلام، پیغمبر اسلام اور ان کے پیروکاروں کا مذاق اڑانا بھی انہوں نے اپنا دینی فریضہ سمجھ رکھا ہے اور چونکہ ان کی معاشی حالت اچھی ہے اور معاشرہ میں انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لہذا وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ ٹھیک…
Read the full tafseer →104 ۔ یعنی ایسے بےدینوں سے مجالست ومخالطت ترک کئے رہو، یہ مراد نہیں کہ ان پر تبلیغ وتلقین کرنا چھوڑ دو ۔ ومعنی ذرھم اعرض عنھم ولیس المراد ان یترک انذارھم (کبیر) المراد ترک معاشرتھم وملاطفتھم ولا یترک انذارھم وتخویفھم (کبیر) اعرض عنھم ولا تشغل قلبک بھم (کشاف) (آیت) ” اتخذوا دینھم لعبا ولھوا “۔ ایسے کون ہیں جنہوں نے اسلام کو نہیں، خود اپنے دین کو لہو ولعب یا مشغلہ تفریح بنالیا ہے ؟ دین کو بھلا کوئی قوم بھی مشغلہ تفریح بنا سکتی ہے ؟ مفسرین کو اسی لئے یہاں دین کو متعین کرنے میں دقت پیش آئی ہے حالانکہ ہندی مسلمان اپنے گردوپیش جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کے بعد کوئی دشواری باقی ہی نہیں رہتی۔ یہ ہولی جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
وَاِذا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یخوضون فی آیاتنا، (الآیۃ) اس آیت میں اگرچہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے جس کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اس سے ہر وہ مجلس مراد ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا عملاً اس کا استحفاف کیا جا رہا ہو، اہل بدعت اور اہل زیغ اپنی تاویلات رکیکہ اور توجیہات نحیفہ کے ذریعہ آیات الہیٰ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہوں ایسی مجلسوں میں غلط باتوں پر تنقید کرنے اور کلمہ حق بلند کرنے کی نیت سے تو شرکت جائز ہے بصورت دیگر سخت گناہ اور غضب الہیٰ کا باعث ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی…
Read the full tafseer →وذر الذین اتخذوا دینہم لعبا ولہوا اور ایسے لوگوں سے بالکل کنارہ کش رہو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل کود بنا رکھا ہے۔
یعنی ایسا مذہب اختیار کیا ہے جو نہ دنیا میں ان کے لئے سود مند ہے نہ آخرت میں نفع بخش جیسے بت پرستی اور بحیرہ و سائبہ کو حرام بنا رکھنا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس دین کو قبول کرنے کا ان کو حکم دیا گیا ہے اس کو ہنسی کھیل سمجھ رکھا ہے اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ بعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے ہر قوم کا ایک تہوار کا دن بنا دیا تھا پس ہر قوم نے سوائے مسلمانوں کے اپنے تہوار کو لہو و لعب بنا لیا مگر مسلمانوں نے اپنے تہوار کو عبادت کا دن قائم رکھا جیسے عید اور جمعہ کی نماز تکبیرات قربانی…
Read the full tafseer →(70) آپ عینیہ اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کا حکم دیتے ہو جو دنیا و آخرت میں کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچا سکتے اور اگر ہم ان باطل معبودوں کی عبادت نہ کریں تو وہ دنیا وآخرت میں ہمیں کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا سکتے اور کیا ہم پھر بھی شرک اختیار کرلیں، باوجودیکہ اس ذات الہی نے ہمیں اپنی عبادت کا شرف عطا کیا ہے۔
تو پھر ہماری مثال اس شخص کی طرح ہوجائے جو صحیح راستہ سے بھٹک گیا، اصحاب رسول اکرم ؓ عینیہ کو دین اسلام اور اطاعت خداوندی کی طرف بلاتے ہیں اور وہ انھیں شرک کی دعوت دیتا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور ان کے لڑکے عبدالرحمن…
Read the full tafseer →وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا۔۔ : اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ جو لوگ دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور دنیا کی زندگی نے انھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے، آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور اس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں، ایسا نہ ہو کہ کوئی شخص اپنے برے اعمال کی وجہ سے جو اس نے کمائے، ہلاک کردیا جائے، پھر آخرت میں اس کے چھوٹنے کی کوئی صورت ہی نہ رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا اور وہ کوئی بھی فدیہ دیں ان سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی کمائی اور بد اعمال کی وجہ سے ہلاک کردیے گئے۔ ان کے پینے کے لیے سخت گرم…
Read the full tafseer →آیت : 70
یعنی آپ ان کے ساتھ قلبی تعلق قائم نہ کیجئے، کیونکہ وہ خطا اور لغزش کو تلاش کرنے والے لوگ ہیں اگرچہ آپ ان کے ساتھ وعظ و نصیحت کرنے پر مامور ہیں۔ حضرت قتادہ ؓ نے بیان کیا ہے : یہ حکم منسوخ ہے اور اس کا ناسخ آیت : فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم (توبہ : 5) ہے۔
اور آیت : لعبا و لھوا کا معنی ہے اس دین کے ساتھ استہزا کرنا جس کی طرف آپ انہیں دعوت دیتے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : انہوں نے اس دین کے ساتھ استہزا کیا جس پر وہ تھے، پس انہوں نے اس کے مطابق عمل نہیں کیا۔ اور استہزاء دین میں جائز نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لعباولھوا کا معنی باطلا و فرحا ہے ( یعنی باطل قرار دینا اور پھر خوش…
Read the full tafseer →دین کا مذاق اڑانے والے دھوکہ میں ہیں
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا اس قول کی طرح ہے لفظ آیت ذرنی ومن خلقت وحیدا (المدثر)
(2) امام عبدبن حمید، ابو داؤد نے ناسخ میں، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور نحاس نے ناسخ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھوا کے بارے میں فرمایا کہ پھر سورة براۃ میں ان کو قتل کرنے کا حکم نازل ہوا اور فرمایا لفظ آیت فا قتلوا المشرکین حیث وجدتموھم
(3) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت اتخذوا…
Read the full tafseer →وَ [ اور ] ذَرِ [ تو چھوڑ دے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جنھوں نے ] اتَّخَذُوْا [ بنایا ] [ دِيْنَهُمْ ] اپنے دین کو ] لَعِبًا [ کھیل ] وَّلَهْوًا [ اور تماشہ ] وَّغَرَّتْهُمُ [ اور فریب دیا ان کو ] الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا [ دنیوی زندگی نے ] وَذَ كِّرْ [ اور تو یاد کراتا رہ ] بِهٖٓ [ اس (کے ذریعہ ) سے ] اَنْ [ کہ (کہیں )] تُبْسَلَ [ ہلاکت میں ڈالی جائے ] نَفْسٌۢ [ کوئی جان ] بِمَا [ بسبب اس کے جو ] كَسَبَتْ [ اس نے کمایا ] ڰ لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهَا [ اس کے لئے ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ [ اللہ کے علاوہ ] وَلِيٌّ [ کوئی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٌ ۚ [ اور نہ ہی کوئی سفارشی ] وَاِنْ [ اور اگر ] تَعْدِلْ…
Read the full tafseer →لہو و لعب والوں کو چھوڑ دیجیے جنہیں دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈالا :
اس کے بعد فرمایا (وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَعِبًا وَّ لَھْوًا) (الآیۃ) پہلی آیت میں اس بات کا ذکر تھا کہ جو لوگ آیات کا تمسخر و استہزاء کر رہے ہیں ان سے اعراض کرو اور ان کے ساتھ نہ بیٹھو۔
اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا کہ ان سے اعراض کرنا کوئی مجلسوں کی شرکت کرنے پر ہی منحصر نہیں ہے۔ بلکہ مستقل یہ حکم دیا جاتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے دین کو (یعنی ترک کرنے اس دین اسلام کو جو ان کے لیے اللہ پاک نے بھیجا ہے) لہو و لعب بنا لیا ہے۔ ان کو چھوڑے رکھو ان کو دنیاوی زندگی نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اسی کی لذتوں میں مشغول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →73 یہ زجر ہے یعنی ان لوگوں کو چھوڑئیے جنہوں نے لہو ولعب کو اپنا دین بنا رکھا ہے۔ مثلاً غیر اللہ کو پکارتے ہیں اور غیر اللہ کے لیے تحری میں کرتے ہیں ایسے لوگوں سے آپ تعلقات منقطع کرلیں۔ البتہ تذکیر وتبلیغ کرتے رہیں۔ (الثانی) اِتَّخَذُوْا ما ھو لعب و لھو من عبادۃ الاصنام وغیرھا دینا لھم (الثالث) ان الکفار کانوا یحکمون فی دین اللہ بمجرد التشھی والتمنی مثل تحریم السوائب والبحائر۔ فعبر اللہ تعالیٰ عنہم بانہم اتخذوا دینھم لعبا ولھو (کبیر ص 94 ج 4) جیسا کہ آج کل مشرک پیر سارنگی، و کڑا اور دوسرے ساز بجوا کر معرفت الٰہی حاصل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔
74 یہ تخویف اخروی ہے اَنْ تُبْسَلَ یہ ابسال سے مضارع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور پھر اپنی صفات مختصہ کا ذکر کیا کہ وہ علیم کل ‘ عالم الغیب ‘ قاہر ‘ قادر مطلق اور ہر چیز کا خالق ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ لوگ سمجھ جائیں ‘ فرمایا اس کے باوجود کذب بہ قومک آپ کی قوم نے اس قرآن پاک کو جھٹلا دیا ‘ حالانکہ وہ برحق حی۔ پھر فرمایا کہ آپ کہہ دیں میں کوئی تم پر نگہبان تو نہیں ہوں ‘ مجھے کچھ علم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کب آتی ہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ ظاہر…
Read the full tafseer →وَذَرِ الَّذِيْنَ اتَّخَذُوْا دِيْنَہُمْ لَعِبًا وَّلَہْوًا وَّغَرَّتْہُمُ الْحَيٰوۃُ الدُّنْيَا وَذَكِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌۢ بِمَا كَسَبَتْ 0ۤۖ لَيْسَ لَہَا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ 0ۚ وَاِنْ تَعْدِلْ كُلَّ عَدْلٍ لَّا يُؤْخَذْ مِنْہَا 0ۭ اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا كَسَبُوْا 0ۚ لَہُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِيْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِيْمٌۢ بِمَا كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ 70ۧ
وذر
[يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی:
قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ،…
Read the full tafseer →1 ؎ گر ہمیں مکتب است ہمیں ملا۔۔ کار طفلاں تمام خواہد شد
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَھُمْ لَعِبًا وَّ لَھْوًا وَّ غَرَّتْھُمْ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْ بِہٖٓ اَنْ تُبْسَلَ نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْ صلیق لَیْسَ لَھَا مِنْ دُوْنِ اللہِ وَلِیٌّوَّ لَا شَفِیْعٌج وَاِنْ تَعْدِلْ کُلَّ عَدْلٍ لَّا یُؤْخَذْ مِنْھَا ط اُوْلٰئِکَ الَّذِیْنَ اُبْسِلُوْا بِمَا کَسَبُوْا ج لَھُمْ شَرَابٌمِنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌاَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ ۔ (الانعام : 70)
(ان لوگوں کو چھوڑو ‘ جنھوں نے اپنے دین کو ایک کھیل تماشہ بنا رکھا ہے اور جن کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور اسی کے ذریعے سے یاد دہانی کرو۔ ایسا نہ ہو کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مشرکین اور منکرین اللہ تعالیٰ کی سطوت وقدرت جاننے کے باوجود معبودان باطل پر امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں اور دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کا انجام بتلایا گیا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
1۔ جو دین کو کھیل اور تماشا سمجھتے ہیں۔
2۔ جو دنیا کے اسباب و وسائل اور ترقی پر غرور کرتے ہیں۔
یہاں اجتناب سے مراد ان لوگوں کے ساتھ قلبی محبت اور ان کے لادینی اشغال میں حصہ دار بننا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایک حد تک دور رہتے ہوئے نصیحت…
Read the full tafseer →دین کا مذاق بنانے والے اپنے عمل سے پھنس کر عذاب کا شکار ہوگئے :
آیت 70 : وَذَرِ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَہُمْ وہ جس کا ان کو مکلف بنایا گیا اور جس کی طرف ان کو دعوت دی جاتی ہے اور وہ دین اسلام ہے۔ لَعِبًا وَّلَہْوًا اس کے ساتھ تمسخر کیا اور استہزاء کیا۔ ذرہم کا معنی ان سے اعراض کریں اور ان کی تکذیب کی بالکل پرواہ نہ کریں اور استہزاء کو خاطر میں نہ لائیں۔ لہو وہ چیز جو انسان کو مشغول کر دے۔ خواہشات سے ہو یا خوش طبعی سے وَّغَرَّتْہُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا وَ ذَکِّرْبِہٖقرآن کے ذریعہ نصیحت فرمائیں۔ اَنْ تُبْسَل نَفْسٌم بِمَا کَسَبَتْاس خطرہ سے کہ نفس ہلاکت و عذاب کا شکار ہو۔ اور اپنے برے…
Read the full tafseer →وذر الذین اتخذوا دینھم لعباً ولھواً کی تفسیر
تفسیر :(70) (وذر الذین اتخذوا دینھم لعبا ولھواً ) یعنی ان کفار کو چھوڑ دیں جنہوں نے اللہ کی آیات کو سنا اور ان کے ساتھ استہزاء کیا اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے عید مقرر کی ہے تو ہر قوم نے اپنی عید کو کھیل اور تماشا بنادیا اور مسلمانوں کی عید نماز، تکبیرات اور اچھے کام کرنا ہے جیسے جمعہ، فطرانہ اور قربانی (وغرتھم الحیوۃ الدنیا و ذکربہ) قرآن سے وعظ کرے (ان تبسل کہ وہ تلسیم نہ ہو
نفس “ بمعنی ہلاک بما کسبت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ وہ ہلاک ہوجائیں اور قتادہ (رح) نے فرمایا کہ وہ قید کئے جائیں اور ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →اوپر ذکر تھا کہ اہل مکہ کو آیات قرآنی کے مضمون کے موافق جس قدر سمجھایا جاتا تھا وہ اس قدر ان آیتوں کو مسخراپن میں اڑاتے اور جھٹلاتے تھے اس آیت میں ارشاد ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی زندگی کھانے پینے شراب خوری گانا اور باجا سننے کو اپنا دین ٹھہرا رکھا ہے اور اصل دین کی باتوں کے اور ان باتوں کی سزا وجزا کے لیے دوبارہ زندگی کے یہ لوگ منکر ہیں۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ جس کے دل میں عقبے کا یقین نہیں وہ عقبے کی باتوں کو جلدی سے کیوں کر مان سکتا ہے اس لیے اے رسول اللہ کے ان منکر قیامت لوگوں کو چند روز ان کے حال پر چھوڑ دیا جاوے مگر اتنی بات ان کو سمجھا دی جاوے کہ جس طرح کے مسخرا پن اور کھیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
آیت 70
بندوں سے جو چیز مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ وہ دین کو اللہ کے لئے خالص کریں، یعنی اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے محبوب امور کے حصول میں مقدور بھر کوشش صرف کریں اور یہ چیز اس بات کو متضمن ہے کہ قلب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر اور اس کی طرف متوجہ رہے، بندے کی کوشش انتہائی سنجیدہ اور نفع مند ہو نہ کہ غیر سنجیدہ اور یہ کوشش اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہو، اس میں ریا اور شہرت کی خواہش کا شائبہ نہ ہو۔ یہی وہ حقیقی دین ہے جس کو دین کہا ہے۔ رہا وہ شخص جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ صاحب دین اور صاحب تقویٰ ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے دین کو لہو و لعب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–75
تشریح تبسل
قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…
Read the full tafseer →123 دنیاوی زندگی کے دھوکے سے بچنے کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کو چھوڑ دو جن کو دنیاوی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ جس کی بنا پر انہوں نے اسی کو اپنا قبلہ مقصود بنا رکھا ہے اور اسی کے لئے یہ جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ اور اس طرح اپنے انجام اور اپنی آخرت کو بھلا کر یہ لوگ دائمی ہلاکت و خسران کی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ اور یہ ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ پھر اس کی تلافی اور تدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہو سکے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی زندگی کے دھوکے سے بچنے کی اور اس کی چمک دمک اور چکا چوند سے ہمیشہ ہوشیار و چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفیق لِمَا یُحِبُّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 3 کھیل کود اور تماشے ہی کو اپنا دین بنالیا ہے ان کے حال پر چھوڑ دے یعنی ان کی کوئی پر انہ کرو۔ (وحیدی) یا کہ کہ تھو ڑی دیر کے لیے دنیا میں ان کو مہلت دیجئے آخر کار یہ عذاب الیم میں گرفتار ہونے والے ہیں۔ (ابن کثیر)4 یعنی قیامت کے روز اپنے اعمال کی سزا میں گرفتار ہو یا ذلیل ہو۔ (وحیدی) شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ چھوڑ دے یا صحبت نہ رکھ ان سے مگر نصیحت کردی کہ کوئی بیخبر نہ پکڑا جاوے ( موضح)
5 یعنی جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے دین کے معاملہ میں کسی احتیاط سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنی خواہشوں کے مطابق حلال حرام کو مسئلے بنارکھے ہیں اور اپنے آبا و اجداد کی تقلید کو ہی ذریعہ نجات…
Read the full tafseer →(6:70) ذر۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر وذر سے (باب سمع و فتح) تو چھوڑ دے۔
غرتھم۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب ۔ دنیاوی زندگی نے ان کو بہکا رکھا ہے۔
وذکر بہ۔ اور نصیحت کے ذریعہ سے ۔ یعنی ان مشرکوں کو قرآن کی روشنی میں نصیحت کرو۔ ذکر۔ فعل امر واحد مذکر حاضر بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کی طرف راجع ہے۔
ان کہ ۔ یہ کہ ۔ ان مبادا کے معنوں میں بھی آتا ہے جیسے ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا ان تصیبوا قوما بجھالۃ فتصبحوا علی ما فعلتم ندمین ۔ (49:6) اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو۔ اور پھر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70 :
یخوضون (وہ مشغول ہوتے ہیں ۔ گھستے ہیں) ینسینک (وہ تجھے بھلادے) لاتقعد ( تو نہ بیٹھ) بعد الذکری ( یاد آنے کے بعد) ذکری (نصیحت۔ یاد دہانی) ذر (چھوڑ دے) غرت ( دھو کے میں ڈال دیا) ان تبسل (یہ کہ پکڑ ا جائے) کسبت (کمایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 68 تا 70 :
دوزخ کا راستہ اختیار کرنے والوں کی خاص پہچان یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ‘ قرآن پر ‘ حدیث پر ‘ سیر ت پر اس انداز سے تنقید کرتے ہیں گویا وہی بہتر سمجھتے ہیں ‘ علم و عقل کا جدید میزان و پیمان ان ہی کے پاس ہے اور نعوذ باللہ یہ بیچارے مسلمان بڑے احمق ہیں جو ایمان و اسلام کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔
ان آیات کے مخاطب اول اگرچہ…
Read the full tafseer →ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے ! ان منکر قیامت لوگوں کو چند روز ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، مگر اتنی بات ان کو سمجھا دی جائے کہ جس طرح کے مسخرے پن اور کھیل تماشا کو انہوں نے اپنا دین ٹھرا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے کھیل تماشے کے طور پر دنیا کو نہیں پیدا کیا، بلکہ دنیا کے پیدا کرنے کا نتیجہ وہی ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو جتلادیا جاتا ہے، کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد دنیا کے نیک و بد کی جزا وسزا کے لئے دوسرا جہان ضرور قائم ہوگا تاکہ دنیا کا پیدا کرنا ٹھکانے سے لگے۔ وہ دوسرا جہان ایسا ہوگا کہ جہاں ہر شخص اپنے عمل کے نتیجہ کا پابند کرایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھرانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
[52] یعنی مصلحت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ یہ ساری تخلیق بغیر کسی غرض و مقصد کے نہیں ہوئی بلکہ بڑی گہری حکمتیں اور مصلحتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔
[62] یعنی نرسنگھا، لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آ رہا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–72
دین کو کھیل نہ سمجھو !
(ف 3) غرض یہ ہے کہ دین کا احترام ضروری ہے یہود ونصاری کی طرح نہ ہوجاؤ جن کے دلوں میں مذہب ایک غیر ضروری مشغلہ کی حیثیت سے زیادہ نہیں ۔
(آیت) ” ولا شفیع “۔ سے شفاعت مطلقہ کی تردید مقصود ہے ‘ یعنی غیر مشروط شفاعت ، اہل باطل کا خیال تھا کہ چونکہ ہم انبیاء کی جانب منسوب ہیں ، اور اس انتساب پر نازاں ہیں اس لئے شفاعت قطعی ہوگی ، مکہ کے مشرک یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے بت ، ہمارے اولیاء اللہ پر دباؤ ڈال کر ہمیں بخشوائیں گے قرآن حکیم نے اس نوع کی سفارش کو ممنوع اور ناجائز قرار دیا ، اور بالکل مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔
حل لغات :
الذکری : مصدر ہی معنوں میں استعمال ہوا ہے یعنی یاد آنے…
Read the full tafseer →-70 اور اے مخاطب تو ایسے لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا اور لہو و لعب بنا رکھا ہے یعنی ان کا دین ہی یہ ہے کہ امر حق کا مذاقاڑائیں اور اپنی تفریح کا مشعلہ بنائیں اور ان کو دنیوی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے یعنی دنیوی زندگی کو اصلی زندگی سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کے بعد دوسری زندگی پر ایمان نہیں رکھتے ایسے لوگوں کو ان کی حالت پر چھوڑ دے مگر ہاں ان کو اس قرآن کے ذریعہ نصیحت کرتا رہ اور حتی الامکان ان کو سمجھاتا رہ تاکہ کوئی شخص اپنے کردار اور اپنی کمائی اور اپنے اعمال کے باعث ہلاکت و تباہی میں نہ پھنس جائے اور اس طرح ہلاکت کا تابع اور فرمانبردار نہ بن جائے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اس…
Read the full tafseer →ف 4۔ بعض روایات میں آیا کہ مشرکین نے مسلمانوں سے ترک اسلام کی درخواست بھی کی تھی اگلی آیت میں اس کا جواب ہے اوپر ذکری اور ذکر میں حکم تھا کہ مشرکین کو اسلام کی طرف بلادیں یہاں ان کے ترک اسلام کی طرف بلانے کا جواب ہے۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے اپنے دین کو لہو ولعب بنا لیا ان کو چھوڑ دو مگر نصیحت کرنا نہ بھولو :
111: لہو ولعب دراصل کا فروں کی زندگی کا نچوڑ ہے کیونکہ وہ یہ قیمتی لمحے نخوت اور باطل میں ضائع کردیتے ہیں لیکن ایک مؤمن کی زندگی اعمال صالحہ سے لبریز ہوتی ہے۔ اس لئے وہ لہو و لعب کے قریب بھی نہیں پھٹکتا۔ دین کو لہو ولعب بنانا چہ معنی دارد ؟ ایسے کو نہیں جنہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب یا مشغلہ تفریح بنا لیا ہے ؟ دین کو بھلا کوئی قوم بھی مشغلہ تفریح بنا سکتی ہے ؟ یہی وہ سوالات ہیں جنہوں نے مفسرین کو بہت دور دراز نکال دیا اور وہ کہیں سے کہیں چلے گئے۔ حالانکہ برصیغر کے مسلمان ایک مدت سے اپنے ارد گرد دیکھ رہے تھے آریہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
In the third verse (70), nearly the same subject has been stressed upon in the following words: وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا (And avoid those who have taken their faith as game and play ...). The word: ذر (dhar) here is a derivation from: وَذَرِ (wadhara) which means being displeased with something and leaving it. Thus, the verse can be taken either in the sense of leaving people who have turned the true religion, that is, Islam which has been sent for them, into a plaything and a laughing stock; or in the sense that they have left their real faith and taken to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
45. Those who avoid disobedience to God will not be held responsible for the errors of those who disobey. This being the case, the former have no justification for taking it upon themselves to persuade the latter to obedience or to consider themselves obliged to answer all their questions, however absurd and flimsy, until the Truth is forced down their throats. Their duty is merely to admonish and place the Truth before those whom they find stumbling about in error. If there is no response to this call except remonstration and obstinate argument they are under no obligation to waste their…
Read the full tafseer →