Explained with ayahs 66–69
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
سورة الْاَنْعَام 45
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ خدا کی نافرمانی سے خود بچ کر کام کرتے ہیں ان پر نافرمانوں کے کسی عمل کی ذمہ داری نہیں ہے، پھر وہ کیوں خواہ مخواہ اس بات کو اپنے اوپر فرض کرلیں کہ ان نافرمانوں سے بحث و مناظرہ کر کے ضرور انہیں قائل کر کے ہی چھوڑیں گے، اور ان کے ہر لغو و مہمل اعتراض کا جواب ضرور ہی دیں گے، اور اگر وہ نہ مانتے ہوں تو کسی نہ کسی طرح منوا کر ہی رہیں گے۔ ان کا فرض بس اتنا ہے کہ جنہیں گمراہی میں بھٹکتے دیکھ رہے ہوں انہیں نصیحت کریں اور حق بات ان کے سامنے پیش کردیں۔ پھر اگر وہ نہ مانیں اور جھگڑے اور بحث اور حجت بازیوں پر اتر آئیں تو اہل حق کا یہ کام نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دماغی…
Read the full tafseer →جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ اگر ان کی مجلس میں جانے کی مطلقاً ممانعت رہی تو ہم مسجد حرام میں نماز اور طواف سے بھی محروم ہوجائیں گے، کیونکہ وہ لوگ تو ہمیشہ وہاں بیٹھے رہتے ہیں، (یہ واقعہ ہجرت اور فتح مکہ سے پہلے کا ہے) اور ان کا مشغلہ ہی عیب جوئی اور بدگوئی ہے، اس پر دوسری آیت اس کے بعد والی نازلی ہوئیوَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِهِمْ ، یعنی جو لوگ احتیاط رکھنے والے ہیں وہ اگر اپنے کام سے مسجد حرام میں جائیں تو ان شریر لوگوں کے اعمال بد کی ان پر کوئی ذمہ داری نہیں، ہاں اتنی بات ان کے ذمہ ہے کہ حق بات ان کو پہنچا دیں کہ…
Read the full tafseer →یہ مسلمانوں کو تسلی اور تبلیغ دین کے معاملے میں اس نقطہ اعتدال اور طریقہ حکمت کو اختیار کرنے کی تلقین ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا، مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے اوپر ان کافروں اور ظالموں سے متعلق جو ذمہ داری ہے وہ صرف اللہ کی دعوت اور اس کے دین کو پہنچا دینے کی ہے تاکہ جس طرح وہ خدا سے ڈرنے والے ہیں اسی طرح یہ کفار بھی خدا سے ڈرنے والے بن جائیں۔ ان کے کفر و ایمان کی کوئی ذمہ داری مسلمانوں پر نہیں ہے۔ یہ اگر ایمان لائیں گے تو اس کا صلہ خود پائیں گے اور اگر کفر پر ارے رہیں گے تو قیامت کو اللہ کے حضور جواب دہ خود بنیں گے۔ مسلمانوں سے جب کہ انہوں نے خدا سے ڈرتے…
Read the full tafseer →69۔ 1 مِنْ حِسَابِھِمْ کا تعلق آیات الٰہی کا استہزاد (جھٹلانے) کرنے والوں سے ہے۔ یعنی وہ لوگ جو ایسی مجالس سے اجتناب کریں گے کہ اللہ کا جو گناہ استہزاد کرنے والوں کو ملے گا وہ اس گناہ سے محفوظ رہیں گے۔
69۔ 2 یعنی اجتناب و علیحدگی کے باوجود وعظ و نصیحت اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ حتی المقدر ادا کرتے رہیں۔ شاید وہ بھی اپنی اس حرکت سے باز آجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
24: یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں تم لوگوں کو عذاب دینا بھی داخل ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو تمہیں خود پتہ لگ جائے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 69۔
اسلامی نظام میں متعین اور مشرکین کے درمیان کوئی مشترکہ ذمہ داری نہیں ہے کیونکہ متقین اور مشرکین دو علیحدہ علیحدہ امتیں ہیں ۔ اگرچہ رنگ ونسل اور قوم و حکومت میں وہ ایک ہوں ۔ کیونکہ اسلامی پیمانے کے مطابق رنگ ‘ نسل اور قوم کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ اہل تقوی ایک امت ہیں اور ظالم اور مشرک بالکل ایک دوسری امت ہیں ۔ ظالموں کے حساب و کتاب میں سے کسی چیز کی ذمہ داری اہل تقوی پر نہیں ہے ۔ ہاں ان کی ذمہ داری اس حد تک ضروری ہے کہ وہ ظالموں کی اصلاح کے لئے سعی کرتے رہیں تاکہ وہ بھی انکی طرح اہل تقوی بن جائیں اور ان کی امت کا حصہ بن جائیں ۔ اگر اہل تقوی اور اہل ظلم کے درمیان نظریاتی اتحاد…
Read the full tafseer →2 اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں یعنی اگر پرہیزگار لوگ جھگڑنے اور طعن کرنے والوں کی مجلس سے اٹھ کر چلے آئے تو طاعنین کے گمراہی میں پڑے رہنے کا کوئی مواخذہ اور ضرر ان متقین پر عائد نہیں ہوسکتا۔ ہاں ان کے ذمے بقدر استطاعت اور حسب موقع نصیحت کرتے رہنا ہے۔ شائد وہ بدبخت نصیحت سن کر اپنے انجام سے ڈر جائیں ' یا یہ مطلب ہے کہ پرہیزگار اور محتاط لوگوں کو اگر کسی واقعی معتدبہ دینی یا دنیاوی ضرورت سے ایسی مجلس میں جانے کا اتفاق ہوجائے تو ان کے حق میں طاعنین کے گناہ اور باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچتا۔ ہاں ان کے ذمہ بشرت قدرت نصیحت کردینا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان پر بھی نصیحت کا اثر پڑجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ
اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔
حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔
جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع…
Read the full tafseer →76 کفار مکہ کی مجالس استہزاء میں بیٹھنے کی ممانعت اور استثنائی صورت :۔ ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہ مطلب ہوگا کہ جو لوگ مجلسوں میں بیٹھ کر اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے ہیں ان کے گناہوں کا بار انہی پر ہے اور جو لوگ ایسی مجلسوں میں شامل ہونے یا بیٹھنے سے گریز کرتے ہیں ان پر نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص اس غرض سے ایسی مجلسوں میں جائے کہ انہیں جا کر سمجھائے اور نصیحت کرے تو یہ جائز بلکہ ضروری ہے۔ ممکن ہے وہ اس نصیحت سے متاثر ہو کر اپنی کرتوتوں سے باز آجائیں۔ تاہم یہ حکم صرف مجالس سے ہی مخصوص نہیں بلکہ عام ہے۔ ظالموں کے گناہوں کا بار انہیں پر ہے جو لوگ ان سے اجتناب کرتے ہیں اور ان سے کسی قسم کا تعاون…
Read the full tafseer →103 ۔ (اور اس کوشش کا اجر تو ان یاددہانی کرنے والوں کو مل ہی جائے گا) مطلب یہ ہے کہ بعض جگہ مومنین کو بالکل علیحدگی سے تو تعذر ہوگا، مثلا آغاز اسلام ہی میں کہ جب مومنین مسجد کعبہ میں مصروف طواف و عبادت ہوتے۔ اور وہیں مشرکین بھی اول فول بکتے ہوتے۔ یا آج بھی اسکولوں میں، بازاروں میں، دفتروں میں، ریل پر، جہاز پر، لاری پر غرض کثرت سے موقع مسلمانوں اور بےدینوں کے اجتماع کے پیش آسکتے ہیں تو ایسے سب موقعوں کے لئے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ ان بےدینوں کی بک جھک کا کوئی اثر تمہارے نامہ اعمال پرتو پڑے گا نہیں، اپنی بیہودہ گوئی کے ذمہ دار تمام تر وہ خودہی ہیں۔ تم اس سے ذرا نہ گھبراؤ۔ ضرورت کے وقت تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
وَاِذا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یخوضون فی آیاتنا، (الآیۃ) اس آیت میں اگرچہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے جس کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اس سے ہر وہ مجلس مراد ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا عملاً اس کا استحفاف کیا جا رہا ہو، اہل بدعت اور اہل زیغ اپنی تاویلات رکیکہ اور توجیہات نحیفہ کے ذریعہ آیات الہیٰ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہوں ایسی مجلسوں میں غلط باتوں پر تنقید کرنے اور کلمہ حق بلند کرنے کی نیت سے تو شرکت جائز ہے بصورت دیگر سخت گناہ اور غضب الہیٰ کا باعث ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی…
Read the full tafseer →وما علی الذین یتقون من حسابہم من شی ولکن ذکری اور جو لوگ احتیاط رکھتے ہیں (یعنی رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ ان پر ان (مشرکوں) کی باز پرس کا کوئی اثر نہیں پہنچے گا ہاں ان (مسلمانوں) کے ذمہ نصیحت کردینا ہے۔ من حسابہم میں منتبعیض کے لئے ہے اور ضمیر کفار کی طرف راجع ہے۔ مِنْ شئٍ میں منزائد ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کافروں سے ان کے گناہوں کا جو محاسبہ و مواخذہ ہوگا اس کا کوئی حصہ مسلمانوں کو نہیں چمٹ جائے گا۔ وَلٰکِنْ ذکرٰیکا یہ مطلب ہے کہ اگر مسلمانوں میں طاقت و استطاعت ہو تو بقدر استطاعت خوض فی الآیات اور دوسری برائیوں سے منع کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں کی ہے۔
لعلہم یتقون شاید وہ بھی احتیاط کرنے لگیں۔…
Read the full tafseer →(69) جو آپ کے ساتھ اور قرآن کریم کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ان کی مجالس کو چھوڑ دیجیے تاکہ ان کا مذاق اور ان کی عیب جوئی قرآن کریم اور آپ کے علاوہ دوسری چیزوں میں ہو۔
رسول اکرم ﷺ جس وقت مکہ مکرمہ میں تھے تب اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا تو آپ کے بعض اصحاب ؓ کو یہ چیز شاق گزری تو پھر اللہ تعالیٰ نے بغرض نصیحت ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کی اجازت دے دی چناچہ فرما دیا کہ جو لوگ کفر وشرک فواحش اور مذاق اڑانے سے بچتے ہیں، ان پر ان کے مذاق اڑانے اور ان کے گناہ اور کفر وشرک کا کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن ان کے ذمہ قرآن کریم کے ذریعے نصیحت کردینا ہے تاکہ ایسے لوگ کفر وشرک فواحش اور قرآن کریم اور رسول اکرم…
Read the full tafseer →وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ۔۔ : شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں، یعنی اگر کوئی متقی شخص چاہے کہ ایسے جاہلوں کے پاس نصیحت کے لیے بھی نہ بیٹھے تو اس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نہ بیٹھے تو اس پر ان کے گمراہ رہنے کا کوئی گناہ نہیں، البتہ انھیں نصیحت کرے تو بہتر ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ڈر جائیں تو اسے نصیحت کرنے کا ثواب مل جائے۔ (موضح) اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ پرہیزگار لوگ اگر ان کی مجلس میں نصیحت کے لیے بیٹھ جائیں تو کچھ حرج نہیں ہے، لیکن ہم نے جو کنارہ کرنے کا حکم دیا ہے تو اس نصیحت کے پیش نظر کہ شاید تمہارے کنارہ کرنے کی وجہ سے وہ اس قسم کی بےہودگی سے باز آجائیں۔ واللہ اعلم ! (ابن کثیر)
Read the full tafseer →آیت :69
حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : جب یہ حکم نازل ہوا کہ آپ مشرکین کے ساتھ نہ بیٹھیں اور ارشاد باری تعالیٰ : آیت : فاعرض عنی۔ سے یہی مراد ہے تو مسلمانوں نے کہا : ہمارے لیے مسجد میں داخل ہونا اور طواف کرنا ممکن نہ رہے گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت : ولکن ذکری یعنی اگر مومنین ان کے پاس بیٹھیں تو پھر چاہیے کہ وہ انہیں نصیحت کریں۔ آیت : لعلھم یتقون تاکہ وہ اللہ تعالیٰ سے اسے ترک کرنے کے بارے ڈرتے رہیں جس میں وو واقع ہوئے ہیں۔ (المحرر الوجیز)
پھر بھی کہا گیا ہے کہ یہ حکم اس ارشاد ربانی کے ساتھ منسوخ ہے : آیت : وقد نذل علیکم فی الکتٰب ان اذا سمعتم ایت اللہ یکفربھا ویستھزا بھا فلا تقعدوا معھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا کے بارے میں فرمایا اسی طرح بھی قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا جماعت کے ساتھ (رہنے کو) اور ان کو منع فرمایا اختلاف سے اور فرقہ بندی سے اور ان کو خبر دی کہ اس سے پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اللہ کے دین میں جھگڑا کرنے کی وجہ سے۔
دین کا مذاق اڑانے والوں کی مجلس میں بیٹھنا حرام ہے
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم یعنی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →وَمَا [ اور نہیں ہے ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جو ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی اختیار کرتے ہیں ] مِنْ حِسَابِهِمْ [ ان کے حساب میں ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] وَّلٰكِنْ [ اور لیکن (یعنی بلکہ ) ] ذِكْرٰي [ نصیحت کرنا ہے ] لَعَلَّهُمْ [ شائد وہ لوگ ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی اختیار کریں ]
Read the full tafseer →اہل کفر سے اگر بالکل ہی دور رہیں تو ان کو حق بات کیسے پہنچائی جائے۔ اور نصیحت اور موعظت کا راستہ کیسے نکالا جائے۔ اس کے لیے ملنے کی ضرورت ہوتی ہے اس اشکال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : (وَ مَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ لٰکِنْ ذِکْرٰی لَعَلَّھُمْ یَتَّقُوْنَ ) ( اور جو لوگ احتیاط کرتے ہیں ان پر ظالموں کے حساب میں سے کچھ بھی نہیں ہے لیکن نصیحت ہے تاکہ وہ ڈرنے لگیں) ۔
اگر دینی یا دنیاوی ضرورت سے ان کے پاس جانا ہوجائے تو جو لوگ ایمان میں مضبوط اور منکر کو منکر جانتے ہوئے اپنی ذات کو محفوظ رکھ سکتے ہیں ان پر ان لوگوں کے حساب یعنی باز پرس اور طعن کرنے کے گناہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
72 یہ زجر ہے یَخُوْضُوْنَ یعنی بحث و تمحیص کرتے اور آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب مشرکین آیتوں سے تمسخر کرنے لگیں تو آپ ان کے پاس مت بیٹھیں ہاں اگر وہ کوئی اور موضوع چھیڑدیں تو پھر آپ تبلیغ کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں۔ بَعْدَ الذِّکْرٰی یعنی نصیحت کرنے کے بعد یا امر خداوندی یاد آجانے کے بعد۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ان سے اعراض کرنے کا حکم یاد نہ رہے اور آپ ان کے پاس بیٹھے رہیں تو جب آپ کو یاد آجائے اسی وقت وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کے بعد وہاں نہ بیٹھیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کو نصیحت کرنے کے بعد وہاں نہ بیٹھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور پھر اپنی صفات مختصہ کا ذکر کیا کہ وہ علیم کل ‘ عالم الغیب ‘ قاہر ‘ قادر مطلق اور ہر چیز کا خالق ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ لوگ سمجھ جائیں ‘ فرمایا اس کے باوجود کذب بہ قومک آپ کی قوم نے اس قرآن پاک کو جھٹلا دیا ‘ حالانکہ وہ برحق حی۔ پھر فرمایا کہ آپ کہہ دیں میں کوئی تم پر نگہبان تو نہیں ہوں ‘ مجھے کچھ علم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کب آتی ہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ ظاہر…
Read the full tafseer →وَمَا عَلَي الَّذِيْنَ يَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّلٰكِنْ ذِكْرٰي لَعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ 69
تقوي
والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35]
التقویٰ
اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ترکیب : لست علیکم متعلق ہے وکیل سے مستقر مبتداء لکل خبر من شیء من زائدہ ہے من حسابہم حال ہے والتقدیر شیء من حسابہم۔ ان تبسل مفعول لہ ہے ای مخافۃ ان تبسل الابسال المنع اے ترتھن فی جہنم بما کسبت (ابن عباس) وقیل ان تبسل اے لان لا تبسل اے لا تسلم نفس للہلاک بما کسبت۔
تفسیر : ان خوف و عذاب کی باتوں کو سن کر بجائے تصدیق و عبرت کے مکہ کے مشرکین ان کی تکذیب کرکے آنحضرت ﷺ سے عذاب آنے کا وعدہ لیتے تھے کہ اگر فلاں روز عذاب آیا تو ہم تیری مان لیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان حق باتوں کو آپ کی قوم نے جھٹلا دیا۔ (بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر قرآن یا اسلام یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتیّٰ یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖط وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(الانعام : 68)
” اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں میں میکھ نکالتے ہیں ‘ تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہوجائیں ‘ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو “۔
گستاخان رسول ﷺ کی محفلوں میں نہیں جانا چاہیے
اس آیت کریمہ کے پہلے جملے سے صورتحال کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دعوت و تبلیغ کے سلسلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
فہم القرآن
ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ : مشرکین اور منکرین اللہ تعالیٰ کی سطوت وقدرت جاننے کے باوجود معبودان باطل پر امیدیں لگائے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں اور دین کو کھیل تماشا سمجھتے ہیں۔ ان سے اجتناب کرنے کا حکم دینے کے ساتھ ان کا انجام بتلایا گیا ہے۔
اس آیت مبارکہ میں ان لوگوں سے اجتناب کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
1۔ جو دین کو کھیل اور تماشا سمجھتے ہیں۔
2۔ جو دنیا کے اسباب و وسائل اور ترقی پر غرور کرتے ہیں۔
یہاں اجتناب سے مراد ان لوگوں کے ساتھ قلبی محبت اور ان کے لادینی اشغال میں حصہ دار بننا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایک حد تک دور رہتے ہوئے نصیحت…
Read the full tafseer →ہر ایک اپنے محاسبہ سے دوچار ہوگا :
آیت 69 : وَمَا عَلَی الَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ مِنْ حِسَابِہِمْ ان لوگوں کو محاسبہ سے جو قرآن مجید کی تکذیب میں مصروف ہیں۔ اور استہزاء کر رہے ہیں۔ مِّنْ شَیْئٍیعنی ان متقین پر جو ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کے محاسبہ میں سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی وہ محاسبہ جو ان کے گناہوں پر کیا جائے گا۔ وَّلٰکِنْ ان پر لازم ہے کہ ان کو نصیحت کرتے رہیں۔ ذِکْرٰیجب کہ ان کو سنیں کہ وہ استہزاء میں مصروف ہیں۔ ان کے پاس سے اٹھنے اور ان کے اس فعل سے نفرت کرتے ہوئے اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے۔ ذکر ٰی منصوب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ان کو نصیحت کریں نصیحت کرنا۔ یا مرفوع ہے تقدیر عبارت یہ ہے…
Read the full tafseer →(69) (وما علی الذین یتقون من حسابھم من شیئ) ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ” واذا رأیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنھم “ تو مسلمان کہنے لگے ہم مسجد حرام میں کیسے بیٹھیں ؟ اور بیت اللہ کا طواف کیسے کریں کیونکہ یہ تو ہمیشہ آیات میں جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ مسلمانوں نے کہا کہ اگر ہم ان لوگوں کو نہ روکیں گے تو ہمیں گناہ کا خوف ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔ (وما علی الذین یتقون) جھگڑنے سے ” من حسابھم “ یعنی جھگڑنے والوں کے گناہ سے۔” من شیئ “ (ولکن ذکری لیکن ان کے ذمہ نصیحت کرنی ہے یعنی ان کو قرآن سے وعظ کریں اور ذکر اور ذکریٰ ایک ہے، مراد ہے ذکرھم وھم ذکری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68 ۔ 69) ۔ بعضے مفسروں نے اس آیت کو سورة نساء سے منسوخ کہا ہے کیونکہ سورة نساء کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا حوالہ دیا ہے اور فرمایا ہے وَقَدُ نَزَّلَ عکیْکمْ فِی الکِتَابِ (4۔ 14) اس سے معلوم ہوا کہ سورة نساء کی آیت پیچھے نازل ہوئی ہے اور جب آخر کی آیت میں یہ حکم ہے کہ قرآن سے ٹھٹھا کرنے والوں میں جو شخص بیٹھے گا وہ بھی ان میں سے ہوگا تو پھر یہ حکم کہ جو شخص نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں میں بیٹھے گا اس پر کچھ گناہ نہیں ہے منسوخ ٹھہرا لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں کا بیٹھنا دونوں آیتوں سے جائز ہے ورنہ دین کا بڑا جز جو نصیحت ہے جس پر صحیح…
Read the full tafseer →آیت 69
اللہ تبارک و تعالیٰ کی آیات میں جھگڑنے اور مشغول ہونے سے مراد ہے ان کے بارے میں ناحق باتیں کرنا، اقوال باطلہ کی تحسین کرنا، ان کی طرف دعوت دینا، اقوال باطلہ کے قائلین کی مدح کرنا، حق سے روگردانی کرنا اور حق اور اہل حق کی عیب چینی کرنا۔ الہ تعالیٰ نے اصولی طور پر اپنے رسول ﷺ کو اور تبعاً تمام اہل ایمان کو حکم دیا ہے کہ جب وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کی آیات کی مذکورہ عیب چینی میں مشغول دیکھیں تو اس سے اعراض کریں۔ باطل میں مشغول لوگوں کی مجالس میں نہ جائیں جب تک کہ وہ کسی اور بحث میں مشغول نہ ہوجائیں۔ اگر وہ آیات الٰہی کی بجائے کسی اور بحث میں مشغول ہوں تو ان میں بیٹھنا اس ممانعت کے زمرے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ظالموں کی ہم نشینی کی ممانعت
قول باری ہے ( واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم اور اے محمد ﷺ ! جب تم دیکھوں کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جائو) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان لوگوں سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا۔ جو اللہ کی آیات یعنی قرآن پر تکذیب اور حقارت کا اظہار کر کے نکتہ چینیاں کرتے ہیں، تا کہ اس کے ذریعے ان کے روپے پر اپنی نفرت کا اظہار ہوجائے نیز ان کی اس روش کی عملی طور پر تردید بھی ہوجائے جس کے نتیجے میں وہ اس سے باز آ جائیں اور گفتگو کا موضوع بدل کر کوئی اور بات شروع کردیں۔
یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب ملحدین اور کفار کی طرف سے کفر اور شرک…
Read the full tafseer →122 نصیحت و خیر خواہی بہرحال مطلوب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پرہیزگاروں پر ان لوگوں کے حساب میں سے کسی چیز کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ البتہ بقدر استطاعت نصیحت کرنا ان کا فرض ہے تاکہ یہ لوگ باز آجائیں اپنے کفر و باطل اور بےراہ روی سے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ مومن صادق کے لئے اہل کفر و نفاق اور اصحاب زیغ و ضلال سے علیحدگی اور کنارہ کشی ضروری ہے تاکہ ان کے اختلاط اور ان کی ہم نشینی سے ان کی سیاہ بختی کے اثرات سے حفاظت ہوسکے۔ لیکن نصیحت و خیرخواہی اس کے باوجود جاری رکھی جانی چاہیئے تاکہ ان کا بھلا ہوسکے کہ دین نام ہی بھلائی اور خیرخواہی کا ہے کہ شاید اس طرح یہ لوگ باز آجائیں اپنی بری روش سے۔ اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 2 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب مشرکین کے ساتھ بیٹھنے کی ممانعت ہوگئی تو مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں عرض کی کہ اس قطع تعلق کی صورت میں ہم نہ مسجد میں جاسکتے ہیں اور نہ طواف کرسکتے ہیں اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ تم ان کے پا بیٹھ سکتے ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ان کو نصحیت کرتے رہو شاید کہ وہ اس قسم کی یا وہ گوئی سے باز آجائیں ( کبیر قرطبی) مگر اس صورت میں بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت سورة نسا انکم اذا مثلھم سے منسوخ ہے (دیکھئے نسا آیت 140) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ یعنی کوئی جانے کہ ایسے جاہلوں کو پاس نصیحت کو بھی نہ بیٹھو تو اپنے اوپر گناہ نہیں ان کے گمراہ رہنے کا لیکن نصیحت بہتر ہے کہ…
Read the full tafseer →(6:69) من حسابھم میں ضمیر ہم کافروں کے لئے یعنی تقویٰ اختیار کرنے والوں پر کافروں کے حساب سے کچھ بوجھ نہ ہوگا۔ انہیں معنوں میں آیۃ 52 میں استعمال ہوا ہے۔
ولکن ذکریٰ ۔ لیکن نصیحت کرنا تقویٰ اختیار کرنے والوں پر فرض ہے ۔ تقدیر کلام یوں ہے ولکن علیہم ذکریٰ ۔
لعلہم یتقون۔ میں ضمیر جمع مذکر غائب بھی کافروں کے لئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70 :
یخوضون (وہ مشغول ہوتے ہیں ۔ گھستے ہیں) ینسینک (وہ تجھے بھلادے) لاتقعد ( تو نہ بیٹھ) بعد الذکری ( یاد آنے کے بعد) ذکری (نصیحت۔ یاد دہانی) ذر (چھوڑ دے) غرت ( دھو کے میں ڈال دیا) ان تبسل (یہ کہ پکڑ ا جائے) کسبت (کمایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 68 تا 70 :
دوزخ کا راستہ اختیار کرنے والوں کی خاص پہچان یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ‘ قرآن پر ‘ حدیث پر ‘ سیر ت پر اس انداز سے تنقید کرتے ہیں گویا وہی بہتر سمجھتے ہیں ‘ علم و عقل کا جدید میزان و پیمان ان ہی کے پاس ہے اور نعوذ باللہ یہ بیچارے مسلمان بڑے احمق ہیں جو ایمان و اسلام کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔
ان آیات کے مخاطب اول اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آج کل بعضے لوگ جو آیت قرآنی و احادیث نبوی کو پر وہ کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں یا تو متقی شخص نہ بیٹھے یا بیٹھے تو ان لوگوں کو نصیحت کرتا رہے۔ اگر بیٹھے گا اور نصیحت نہ کرے گا تو ایسا شخص گنہگار ہوگا۔ بعضے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی تھی کہ مشرک لوگ بھی موجود ہوں اور ہم ان کے منہ سے قرآن کی مذمت کی کوئی بات سن لیویں تو اس گناہ سے ہم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کو جتلادیا کہ جب میل جول کے طور پر تم ان لوگوں میں نہیں بیٹھتے تو اس طرح کی اتفاقی ملاقات میں ان کی بد اعمالی کا محاسبہ تم لوگوں سے نہ ہوگا۔ لیکن ایسی ملاقاتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →(ف 2) مقصد یہ ہے کہ اگر تم ان کی برائیوں میں شریک نہ ہوجاؤ اور الحاد وزندقہ کی باتوں کی تردید کرسکو ، تو شرکت میں مضائقہ نہیں ،
اسلام تنگ نظر نہیں ، وہ یہ نہیں چاہتا کہ مسلمان مخالف کی باتیں نہ سنیں ، بلکہ غرض یہ ہے کہ حمیت دینی اور عصبیت ملی اس قسم کے مشغلوں سے زائل ہوجاتی ہے ، اس لئے محتاط رہو ،
Read the full tafseer →-69 اور جو لوگ محتاط اور پرہیز گار ہیں ان پر اس قسم کے عیب جو اور نکتہ چینیوں کے حساب کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے البتہ ان محتاط لوگوں کے ذمہ ان بدقماش لوگوں کو نصیحت کرنا اور سمجھانا ہے تاکہ اس قسم کے طعن وتشنیع اور لغو نکتہ چینی سے باز آجائیں یعنی ہرچند کہ ایمان داروں پر کوئی ذمہ داری سوائے نصیحت اور سجھانے کی نہیں ہے اور وہ بھی بشرط قدرت و استطاعت … لیکن پھر بھی ایسی مجالس کی شرکت سے بچنا چاہئے اور گناہگاروں کی مجلس میں جبکہ وہ گناہ کی باتیں کر رہے ہوں خصوصیت کے ساتھ نہیں شریک ہونا چاہئے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یعنی بضرورت وہاں جانے والے گناہ گار نہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →پرہیز گاری کی راہ اختیار کرنے والوں پر ظالموں کی کوئی ذمہ داری نہیں :
110: مل بیٹھنا اور اتفاقاً کہیں بیٹھ جانا اس میں بہت بڑا فرق ہے۔ مطلب یہ کہ بعض جگہ مؤمنین کو بالکل علیحدگی سے یقیناً تعذر ہوگا مثلاً سکولوں اور کالجوں میں ، بازاروں میں ، دفتروں میں ، ریل پر ، بس پر ، جہاز پر اور اس طرح کسی تقریب میں اس طرح سے کئی ایک جگہ پر اجتماع پیش آسکتے ہیں ایسے موقعوں پر مسلمانوں کو سمجھا یا جا رہا ہے کہ ان کی بک جھک میں حصہ نہ لینا اور خاموشی سے اپنا وقت گزارنا ایک دوسری بات ہے اس سے نامہ اعمال پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اپنی اس طرح کی بیہودگی کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ تم اس سے مت گھبراؤ اور ایسی…
Read the full tafseer →When the verse cited above was revealed, the noble Companions submitted: Ya Rasul Allah, if this absolute prohibition of going in their gatherings remained in force, we shall be deprived of offering Salah and Tawaf in al-Masjid al-Haram because these people keep sitting there all the time (before Hijrah and the Conquest of Makkah) doing nothing but fault-finding and ill-speaking. Thereupon, revealed was the next verse (69): وَمَا عَلَى الَّذِينَ يَتَّقُونَ مِنْ حِسَابِهِم مِّن شَيْءٍ وَلَـٰكِن ذِكْرَىٰ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ ﴿69﴾. It means when people who observe restraint go to al-Masjid…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
45. Those who avoid disobedience to God will not be held responsible for the errors of those who disobey. This being the case, the former have no justification for taking it upon themselves to persuade the latter to obedience or to consider themselves obliged to answer all their questions, however absurd and flimsy, until the Truth is forced down their throats. Their duty is merely to admonish and place the Truth before those whom they find stumbling about in error. If there is no response to this call except remonstration and obstinate argument they are under no obligation to waste their…
Read the full tafseer →