Explained with ayahs 66–69
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے،…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 44
یعنی اگر کسی وقت ہماری یہ ہدایت تمہیں یاد نہ رہے اور تم بھولے سے ایسے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے رہ جاؤ۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (اے مخاطب) جب تک ان لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیات (اور احکام) میں عیب جوئی کر رہے ہیں تو ان لوگوں (کے پاس بیٹھنے) سے کنارہ کش ہوجا، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جاویں اور اگر تجھ کو شیطان بھلا دے (یعنی ایسی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت یاد نہ رہے) تو (جب یاد آوے) یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس مت بیٹھ (بلکہ فوراً اٹھ کھڑا ہو) اور (اگر کوئی واقعی دنیوی یا دینی ضرورت ایسی مجلس میں جانے کی ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ) جو لوگ (ممنوعات شرعیہ سے جن میں بلا ضرورت ایسی مجلس میں جانا بھی داخل ہے) احتیاط رکھتے ہیں، ان پر ان (طاعنین و مکذبین) کی باز پرس (اور گناہ طعن) کا کوئی اثر نہ…
Read the full tafseer →خوض کا مفہوم : خوض کے معنی کسی چیز میں گھس جانے کے ہیں۔ خاض الماء، وہ پانی میں گھس گیا اسی سے خوض فی الحدیث کا محاورہ نکلا ہے جس کے معنی ہیں بات میں سے بات نکالنا بال کی کھال ادھیڑنا، کسی بات میں اعتراض، نکتہ چینی اور کٹ حجتی کے نت نئے پہلو پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔ قرآن میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ اسی طرح کی سخن گستری کے لیے استعمال ہوا ہے جس کا مقصد کسی بات کو ہنسی دل لگی اور مذاق میں اڑا دینا ہو۔ مثلا ولئن سالتہم لیقولن انما کنا نخوض و نلعب (اگر تم ان سے پوچھو تو جواب دیں گے ہم تو بس ذرا سخن گستری اور ٹھٹول کر رہے تھے) یہاں بھی آگے والی آیت وذر الذین اتخذوا دینہم لعبا ولہوا،…
Read the full tafseer →68۔ 1 آیت میں خطاب اگرچہ نبی ﷺ سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے جسے قرآن مجید میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے۔ سورة نساء آیت نمبر 140 میں بھی مضموں گزر چکا ہے۔ اس سے ہر وہ مجلس مراد ہے جہاں اللہ رسول کے احکام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ یا عملا ان کا استخفاف کیا جارہا ہو یا اہل بدعت و اہل زیغ اپنی تاویلات رکیکہ اور توجیہات نحیفہ کے ذریعے سے آیات الہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں ایسی مجالس میں غلط باتوں پر تنقید کرنے اور کلمہ حق بلند کرنے کی نیت سے تو شرکت جائز ہے بصورت دیگر سخت گناہ اور غضب الہی کا باعث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
24: یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں تم لوگوں کو عذاب دینا بھی داخل ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو تمہیں خود پتہ لگ جائے گا۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 68۔
یہ حکم رسول اللہ ﷺ کے لئے تھا ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے بعد آنے والے مسلمان بھی اس میں شامل ہوں ۔ یہ حکم کی دور کے لئے تھا ۔ اس وقت آپ کا کام صرف دعوت وتبلیغ تک محدود تھا اور اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ آپ جہاد و قتال سے باز رہیں ۔ آپ کو یہ ہدایت تھی کہ آپ مشرکین کے ساتھ تصادم سے باز رہیں ۔ چناچہ اس دور میں آپ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ جب دیکھیں کہ مشرکین کی کسی مجلس میں دین اسلام کے خلاف بدتمیزی ہورہی ہے تو آپ ایسی مجالس میں بیٹھنے سے اجتناب فرمائیں اور اگر کبھی ایسا ہو کہ شیطان آپ کو بہلاوے میں ڈال دے اور آپ کسی ایسی مجلس میں پہنچ جائیں اور وہاں اسلام کے بارے میں گستاخانہ…
Read the full tafseer →1 یعنی جو لوگ آیات اللہ پر طعن و استہزاء اور ناحق کی نکتہ چینی میں مشغول ہو کر اپنے کو مستحق عذاب بنا رہے ہیں تم ان سے خط ملط نہ رکھو کہیں تم بھی ان کے زمرے میں داخل ہو کر مورد عذاب نہ بن جاؤ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْ ایک مومن کی غیرت کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ ایسی مجلس سے بیزار ہو کر کنارہ کرے اور کبھی بھول کر شریک ہوگیا تو یاد آنے کے بعد فوراً وہاں سے اٹھ جائے اس میں اپنی عاقبت کی درستی ' دین کی سلامتی اور طعن و استہزاء کرنے والوں کے لئے عملی نصیحت اور تنبیہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
آیت 68 وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ
اردو میں غور وخوض کی ترکیب کثرت سے استعمال ہوتی ہے۔ غور اور خوض دونوں عربی زبان کے الفاظ ہیں اور معانی کے اعتبار سے دونوں کی آپس میں مشابہت ہے۔ ’ غور ‘ مثبت انداز میں کسی چیز کی تحقیق کرنے کے لیے بولا جاتا ہے جب کہ ’ خوض ‘ منفی طور پر کسی معاملے کی چھان بین کرنے اور خواہ مخواہ میں بال کی کھال اتارنے کے معنی دیتا ہے۔
حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ ط یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔
جب کسی محفل میں لوگ اللہ اور اس کی آیات کا تمسخر اڑا رہے ہوں تو ان سے کنارہ کشی کرلو ‘ اور جب وہ کسی دوسرے موضوع…
Read the full tafseer →75 یہ مضمون پہلے سورة نساء کی آیت نمبر 140 میں گزر چکا ہے۔ حاشیہ وہاں سے ملاحظہ کرلیا جائے۔
Read the full tafseer →101 ۔ (تکذیب، طنز و استہزاء کے ساتھ) بالتکذیب والاستھزاء بھا واللعن فیھا (بیضاوی) (آیت) ” اذا رایت ‘۔ خطاب یہاں عام ناظرین قرآنی سے ہے۔ ای اذا رایت ایھا السامع (کبیر) (آیت) ” الذین یخوضون فی ایتنا “۔ آیات میں یہ اں معجزات و دلائل، احکام سب آگئے، لیکن بالخصوص مراد قرآن ہے۔ ایات اللہ وھی القرآن (جصاص) یعنی فی القران (معالم) خوض۔ کے لفظی معنی بیہودہ گوئی، بےکار حجت نکالنے کے ہیں۔ لفظ لفظ الخوض فی اللغۃ عبارۃ عن المفارضۃ علی وجہ العبث واللعب (کبیر) خوض پر حاشیہ پارہ نمبر 5 میں گزر چکا (سورۃ النساء آیت 140 کے تحت میں)
102 ۔ یہاں اہل ایمان کو صاف حکم مل رہا ہے کہ جو بےدین مذہبی احکام ومسائل کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
وَاِذا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یخوضون فی آیاتنا، (الآیۃ) اس آیت میں اگرچہ خطاب نبی ﷺ سے ہے لیکن مخاطب امت مسلمہ کا ہر فرد ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا ایک تاکیدی حکم ہے جس کو قرآن کریم میں متعدد جگہ بیان کیا گیا ہے اس سے ہر وہ مجلس مراد ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑایا جا رہا ہو یا عملاً اس کا استحفاف کیا جا رہا ہو، اہل بدعت اور اہل زیغ اپنی تاویلات رکیکہ اور توجیہات نحیفہ کے ذریعہ آیات الہیٰ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہوں ایسی مجلسوں میں غلط باتوں پر تنقید کرنے اور کلمہ حق بلند کرنے کی نیت سے تو شرکت جائز ہے بصورت دیگر سخت گناہ اور غضب الہیٰ کا باعث ہے۔
صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی…
Read the full tafseer →واذا رایت الذین یحوضون فی ایتنا فاعرض عنہم اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیات میں عیب جوئی کر رہے ہوں تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ۔ یعنی ان کے پاس سے اٹھ جاؤ ان کے ساتھ نہ بیٹھو اس آیت کی غرض کفار کے دین اور ان کی ہم نشینی سے الگ رکھنا ہے ترک جہاد مقصود نہیں ہے کہ اس کو (آیت قتال سے) منسوخ قرار دینا پڑے (یعنی اگر اعراض اور تعلق نہ رکھنے کا مفہوم یہ مانا جائے کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ان سے کچھ تعرض نہ کرو تو لامحالہ ترک قتال کا حکم اس سے مستفاد ہوگا اور پھر آیت قتال سے اس کو منسوخ ماننا پڑے گا)
حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ اس وقت تک وہ (آیات میں عیب جوئی کو چھوڑ کر) کسی اور بات میں لگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(67۔ 68) ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت علم الہی میں مقررہ ہے خواہ وہ اللہ کی جانب سے ہو یا میری طرف سے خواہ اوامر ہوں یا نواہی وعدے ہوں یا وعیدین مدد کی خوشخبری ہو یا عذاب سے ڈرا انا ہو، ان کی حقیقت ہے بعض کا ان میں سے دنیا میں ظہور ہوجائے گا اور بعض کا آخرت میں اور دنیا وآخرت میں تمہیں اس کا علم ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے ہر ایک قول عمل کی ایک حقیقت ہے، بہت جلدی تمہیں تمہارے اعمال کے متعلق علم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ۔۔ : یعنی جب تم ایسے لوگوں کی مجلس دیکھو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کا مذاق اڑا رہے ہوں، یا عملاً ان کی بےقدری کر رہے ہوں، یا وہ اہل بدعت ہوں جو اپنی بےجا تاویلوں اور تحریفات سے آیات الٰہی کو توڑ مروڑ رہے ہوں، یا ان پر نکتہ چینی کر رہے ہوں اور الٹے سیدھے معنی پہنا کر ان کا مذاق اڑا رہے ہوں، تو اس مجلس سے اس وقت تک کنارہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مشغول نہ ہوجائیں اور اگر شیطان کے بھلانے سے اس مجلس میں بیٹھ ہی جاؤ تو یاد آنے کے بعد ان ظالموں کی مجلس میں بیٹھے نہ رہو۔ سورة نساء (140) میں یہ حکم پہلے بھی گزر چکا ہے، اس میں یہ بھی ہے :…
Read the full tafseer →: (آیت) نمبر 68۔۔۔
قولہ تعالیٰ :: (آیت) واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرج عنھم اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 : قولہ تعالیٰ : (آیت) واذا رأیت الذین یخوضون فی ایتنا یعنی وہ ہماری آیتوں کی تکذیب اور ان کے ساتھ استہزا کی بیہودہ بحثیں کرتے ہیں۔ : (آیت) فاعرض عنھم تو آپ ان سے اعراض کرلیں۔ یہ خطاب صرف حضور نبی مکرم ﷺ کو ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے ساھ مومنین بھی اس خطاب میں داخل ہیں۔ اور یہی صحیح ہے، کیونکہ علت اللہ تعالیٰ کی آیات کے بارے میں بیہودہ بحث سننا ہے اور یہ علت مومنین اور آپ ﷺ سبھی کو شامل ہے۔ اور یہ قول بھی ہے کہ اس سے مراد اکیلے حضور نبی مکرم ﷺ ہیں کیونکہ آپ ﷺ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا کے بارے میں فرمایا اسی طرح بھی قرآن میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم فرمایا جماعت کے ساتھ (رہنے کو) اور ان کو منع فرمایا اختلاف سے اور فرقہ بندی سے اور ان کو خبر دی کہ اس سے پہلے لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اللہ کے دین میں جھگڑا کرنے کی وجہ سے۔
دین کا مذاق اڑانے والوں کی مجلس میں بیٹھنا حرام ہے
(2) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم یعنی اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب کبھی ] رَاَيْتَ [ تو دیکھے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَخُوْضُوْنَ [ بال کی کھال نکالتے ہیں ] فِيْٓ اٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں میں ] فَاَعْرِضْ [ تو اعراض کر ] عَنْهُمْ [ ان سے ] حَتّٰي [ یہاں تک کہ ] يَخُوْضُوْا [ وہ بال کی کھال نکالیں ] فِيْ حَدِيْثٍ [ کسی بات میں ] غَيْرِهٖ ۭ [ اس کے علاوہ ] وَاِمَّا [ اور اگر جو ( یعنی یہ کہ ) ] يُنْسِيَنَّكَ [ بھلا ہی دے تجھ کو ] الشَّيْطٰنُ [ شیطان ] فَلَا تَقْعُدْ [ تو مت بیٹھ ] بَعْدَ الذِّكْرٰي [ یاد آنے کے بعد ] مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ] [ ـظلم کرنے والی قوم کے ساتھ ]
ب س ل : (ن) بسلا کسی کو اس کی حاجت سے روکنا۔ (افعال )…
Read the full tafseer →ان مجلسوں میں بیٹھنے کی ممانعت جن میں اسلام کا مذاق بنایا جا رہا ہو
بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ مسلمین اور مشرکین ایک جگہ بیٹھتے تھے۔ مشرکین کو قرآن مجید کا احترام نہ تھا۔ بیٹھے بیٹھے اہل ایمان کے سامنے قرآن مجید کا مذاق بنانے لگتے تھے اور امور دین پر طعن کرنے لگتے تھے۔
اللہ تعالیٰ شانہٗ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب تم ان ظالموں کو دیکھو تو ان سے اعراض کرو اور کنارہ کشی اختیار کرو۔ ہاں جب اپنی اس حرکت بد کو چھوڑ دیں اور دوسرے کسی کام میں عمل مشغول ہوجائیں تو پھر ان کے ساتھ بیٹھ سکتے ہو۔ اگر وہ استھزاء اور تمسخر کر رہے ہوں اور تم بھولے سے ان کے پاس بیٹھے رہو تو جب یاد آجائے اٹھ جاؤ اور ظالموں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
72 یہ زجر ہے یَخُوْضُوْنَ یعنی بحث و تمحیص کرتے اور آیتوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ جب مشرکین آیتوں سے تمسخر کرنے لگیں تو آپ ان کے پاس مت بیٹھیں ہاں اگر وہ کوئی اور موضوع چھیڑدیں تو پھر آپ تبلیغ کے لیے ان کی مجلس میں بیٹھ سکتے ہیں۔ بَعْدَ الذِّکْرٰی یعنی نصیحت کرنے کے بعد یا امر خداوندی یاد آجانے کے بعد۔ مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ان سے اعراض کرنے کا حکم یاد نہ رہے اور آپ ان کے پاس بیٹھے رہیں تو جب آپ کو یاد آجائے اسی وقت وہاں سے اٹھ کھڑے ہوں اور اس کے بعد وہاں نہ بیٹھیں یا مطلب یہ ہے کہ ان کو نصیحت کرنے کے بعد وہاں نہ بیٹھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور پھر اپنی صفات مختصہ کا ذکر کیا کہ وہ علیم کل ‘ عالم الغیب ‘ قاہر ‘ قادر مطلق اور ہر چیز کا خالق ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ لوگ سمجھ جائیں ‘ فرمایا اس کے باوجود کذب بہ قومک آپ کی قوم نے اس قرآن پاک کو جھٹلا دیا ‘ حالانکہ وہ برحق حی۔ پھر فرمایا کہ آپ کہہ دیں میں کوئی تم پر نگہبان تو نہیں ہوں ‘ مجھے کچھ علم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کب آتی ہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ ظاہر…
Read the full tafseer →وَاِذَا رَاَيْتَ الَّذِيْنَ يَخُوْضُوْنَ فِيْٓ اٰيٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ حَتّٰي يَخُوْضُوْا فِيْ حَدِيْثٍ غَيْرِہٖ 0ۭ وَاِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرٰي مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِـمِيْنَ 68
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ترکیب : لست علیکم متعلق ہے وکیل سے مستقر مبتداء لکل خبر من شیء من زائدہ ہے من حسابہم حال ہے والتقدیر شیء من حسابہم۔ ان تبسل مفعول لہ ہے ای مخافۃ ان تبسل الابسال المنع اے ترتھن فی جہنم بما کسبت (ابن عباس) وقیل ان تبسل اے لان لا تبسل اے لا تسلم نفس للہلاک بما کسبت۔
تفسیر : ان خوف و عذاب کی باتوں کو سن کر بجائے تصدیق و عبرت کے مکہ کے مشرکین ان کی تکذیب کرکے آنحضرت ﷺ سے عذاب آنے کا وعدہ لیتے تھے کہ اگر فلاں روز عذاب آیا تو ہم تیری مان لیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان حق باتوں کو آپ کی قوم نے جھٹلا دیا۔ (بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر قرآن یا اسلام یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ حَتیّٰ یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖط وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
(الانعام : 68)
” اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں میں میکھ نکالتے ہیں ‘ تو ان سے کنارہ کش ہوجاؤ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مصروف ہوجائیں ‘ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ان ظالم لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو “۔
گستاخان رسول ﷺ کی محفلوں میں نہیں جانا چاہیے
اس آیت کریمہ کے پہلے جملے سے صورتحال کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دعوت و تبلیغ کے سلسلے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : پیغمبر (علیہ السلام) کی تکذیب، آپ سے بار بار آیات کا مطالبہ کرنا اور حقائق کو ٹھکرانا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ منکرین کا شروع سے یہی وطیرہ رہا ہے۔ ایسے موقعہ پر مومنوں کو ہدایت۔
کفار بار بار پیغمبر (علیہ السلام) سے آیات و معجزات کا مطالبہ کرتے تھے جب ان کا مطالبہ پورا کردیا جاتا تو وہ ایک اور مطالبہ پیش کردیتے۔ اس طرح انھوں نے اللہ کے دین کو کھیل اور شغل بنا رکھا تھا۔
خوض کا معنی کسی حقیقت کو کھیل تماشا بنانا یا اسے مذاق سمجھنا ہے۔ کفار کھلم کھلا دین اور مسلمانوں کو مذاق کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں زبان درازی کرتے ہوئے کہتے کہ…
Read the full tafseer →قرآن پر طعن کرنے والوں کے پاس مت بیٹھو :
آیت 68 : وَاِذَا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ یَخُوْضُوْنَ فِیْٓ ٰایٰتِنَا یعنی قرآن کے استہزاء اور طعن میں مصروف ہوتے ہیں۔ اور قریش اپنی مجالس میں ایسا کرتے تھے۔ فَاَعْرِضْ عَنْہُمْ ان کے پاس مت بیٹھو۔ اور ان کے پاس سے اٹھ جائو۔ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ قرآن کے علاوہ جو کہ حلال ہے۔ پس اس وقت ان کے پاس بیٹھنا جائز ہے۔ وَاِمَّا یُنْسِیَنَّکَ الشَّیْطٰنُ جس سے تمہیں منع کیا گیا ہے۔ قراءت : شامی نے ینَسِّیَنَّک سین کے تشدید سے پڑھا ہے۔ نسّٰی اور انسٰی کا معنی ایک ہی ہے۔ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰییاد آنے کے بعد۔ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ ۔
Read the full tafseer →(68) (واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا) یعنی قرآن کا استہزاء کر کے ) (فاعرض عنھم) ان کو چھوڑ دیں اور ان کے ساتھ نہ بیٹھیں (حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ ط واما ینسینک الشیطن) ابن عامر نے نون کے فتح اور سین کے شد کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے نون کے سکون اور سین کی تخفیف سے پڑھا ہے۔ (لاتاتعد بعد الذکری مع القوم الظلمین) یعنی جب بھول کر آپ ان کے ساتھ بیٹھ جائیں تو جب یاد آئے فوراً کھڑے ہوجائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
(68 ۔ 69) ۔ بعضے مفسروں نے اس آیت کو سورة نساء سے منسوخ کہا ہے کیونکہ سورة نساء کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا حوالہ دیا ہے اور فرمایا ہے وَقَدُ نَزَّلَ عکیْکمْ فِی الکِتَابِ (4۔ 14) اس سے معلوم ہوا کہ سورة نساء کی آیت پیچھے نازل ہوئی ہے اور جب آخر کی آیت میں یہ حکم ہے کہ قرآن سے ٹھٹھا کرنے والوں میں جو شخص بیٹھے گا وہ بھی ان میں سے ہوگا تو پھر یہ حکم کہ جو شخص نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں میں بیٹھے گا اس پر کچھ گناہ نہیں ہے منسوخ ٹھہرا لیکن جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے نصیحت کی راہ سے ایسے لوگوں کا بیٹھنا دونوں آیتوں سے جائز ہے ورنہ دین کا بڑا جز جو نصیحت ہے جس پر صحیح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت 67
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا : (من فوقکم او من تحت ارجلکم) ” تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے “ (اویلبسکم شیعاً ) ” یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے “ یعنی تمہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے (ویذیق بعضکم باس بعض) ” اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی ‘ یعنی تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لئے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عذاب آ لے اور وہ تمہیں تلف کر کے تمہارا نا مو نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ظالموں کی ہم نشینی کی ممانعت
قول باری ہے ( واذا رایت الذین یخوضون فی ایاتنا فاعرض عنھم اور اے محمد ﷺ ! جب تم دیکھوں کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جائو) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ان لوگوں سے دور ہٹ جانے کا حکم دیا۔ جو اللہ کی آیات یعنی قرآن پر تکذیب اور حقارت کا اظہار کر کے نکتہ چینیاں کرتے ہیں، تا کہ اس کے ذریعے ان کے روپے پر اپنی نفرت کا اظہار ہوجائے نیز ان کی اس روش کی عملی طور پر تردید بھی ہوجائے جس کے نتیجے میں وہ اس سے باز آ جائیں اور گفتگو کا موضوع بدل کر کوئی اور بات شروع کردیں۔
یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ جب ملحدین اور کفار کی طرف سے کفر اور شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
119 ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : پس اپنے وقت میں وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ لہٰذا تم اس کی جلدی نہ مچاؤ بلکہ آنے والے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرو۔ قبل اس سے کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے لیے اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہو جس کا حقدار و مستحق تم نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار سے بنادیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ حقیقت ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہر بات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت وہ بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکے گی اور اس وقت تم اس کو خود یکھ لو گے ۔ { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَائَ ہ بَعْدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
قرآن کے منکروں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی صفات
تشریح : جیسا کہ بہت دفعہ بتایا جاچکا ہے کہ قرآن مجید وعظ و نصیحت اور رشد و ہدایت کی کتاب ہے، اس میں مسلمانوں کو ہر طرح سے بہترین زندگی گزارنے کے آداب، اصول اور قوانین سکھائے گئے ہیں۔ اسی طرح اللہ رب العزت ان آیات میں مخاطب تو رسول اللہ ﷺ کو کر رہا ہے مگر یہ حکم اصل میں تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ کافر لوگ مخالفت کی وجہ سے ہر وقت اس کوشش میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو تنگ کیا جائے تو اسی سلسلے میں وہ لوگ حرم کعبہ میں اور اس کے علاوہ بھی جہاں بھی مل کر بیٹھتے تو قرآن مجید کی آیات کا مذاق اڑاتے۔ تو اس پر مسلمانوں کو حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 14 یعنی ان پر نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور الٹے سیدھے معنی پہناکر ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔ (قرطبی)15 اس میں اس شخص کے لیے بڑی تنبیہ ہے جو اہل بدعت کی مجلسوں میں بیٹھتا ہے جو کتاب وسنت کو چھوڑ کر اپنی خواہشوں اور بدعتوں کو پیروی کرتے ہیں ایسا شخص اگر ان بدعتوں کو ان حرکات سے باز نہیں رکھ سکتا تو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ ان سے میل جول نہ رکھے اور نہ ان کی مجلسوں میں بیٹھے اہل بد عت کی صحبت اس صحبت سے بھی کئی درجہ بدتر ہے جس میں گناہوں کا علانیہ ارتکاب کیا جاتا ہے خصوصا اس شخص کے لیے جو علمی اور زہنی اعتبار سے پختہ نہ ہو۔ ( شوکانی) اہل بد عت کی مجلسوں میں شریک ہونا ان کی توقیر اور حوصلہ افزائی ہے۔ حدیث…
Read the full tafseer →(6:68) یخرضون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ خوض سے (باب نصر) وہ مسغول ہوتے ہیں۔ اردو میں غوروخوض استعمال ہوتا ہے۔ لیکن یہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ استہزاء اور طعنا آیات زبانی (قرآن حکیم) پر بحث کرتے ہیں یا نکتہ چینی کے لئے انہیں زیر بحث لاتے ہیں۔
یخرضوا۔ مضارع مجزوم ۔ منصوب حتی کے عمل کی وجہ سے۔
اما۔ ان اور ما سے مرکب ہے۔ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
(1) بطور حرف تفصیل۔ جیسے انا ھدینہ السبیل اما شاکراوا ما کفورا (76:3) ہم نے انسان کو راستہ دکھایا اس کے بعد وہ شکر گزار بندہ بنے یا ناشکرا بن جائے۔
(2) شک و ابہام کے موقع پر جیسے جاء اما زید واما عمرو۔ یا تو زید آیا ہے یا عمرو۔
(3) اباحت و تخییر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
لغات القرآن آیت نمبر 68 تا 70 :
یخوضون (وہ مشغول ہوتے ہیں ۔ گھستے ہیں) ینسینک (وہ تجھے بھلادے) لاتقعد ( تو نہ بیٹھ) بعد الذکری ( یاد آنے کے بعد) ذکری (نصیحت۔ یاد دہانی) ذر (چھوڑ دے) غرت ( دھو کے میں ڈال دیا) ان تبسل (یہ کہ پکڑ ا جائے) کسبت (کمایا) ۔
تشریح : آیت نمبر 68 تا 70 :
دوزخ کا راستہ اختیار کرنے والوں کی خاص پہچان یہ ہے کہ وہ دین اسلام پر ‘ قرآن پر ‘ حدیث پر ‘ سیر ت پر اس انداز سے تنقید کرتے ہیں گویا وہی بہتر سمجھتے ہیں ‘ علم و عقل کا جدید میزان و پیمان ان ہی کے پاس ہے اور نعوذ باللہ یہ بیچارے مسلمان بڑے احمق ہیں جو ایمان و اسلام کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔
ان آیات کے مخاطب اول اگرچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ آج کل بعضے لوگ جو آیت قرآنی و احادیث نبوی کو پر وہ کی نظر سے نہیں دیکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں یا تو متقی شخص نہ بیٹھے یا بیٹھے تو ان لوگوں کو نصیحت کرتا رہے۔ اگر بیٹھے گا اور نصیحت نہ کرے گا تو ایسا شخص گنہگار ہوگا۔ بعضے مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ سے شکایت کی تھی کہ مشرک لوگ بھی موجود ہوں اور ہم ان کے منہ سے قرآن کی مذمت کی کوئی بات سن لیویں تو اس گناہ سے ہم کیونکر بچ سکتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایسے مسلمانوں کو جتلادیا کہ جب میل جول کے طور پر تم ان لوگوں میں نہیں بیٹھتے تو اس طرح کی اتفاقی ملاقات میں ان کی بد اعمالی کا محاسبہ تم لوگوں سے نہ ہوگا۔ لیکن ایسی ملاقاتوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →(ف 1) قرآن حکیم کا انداز بیان عام طور پر اس طرح ہے کہ بظاہر حضور ﷺ کو مخاطب کیا جاتا ہے ، مگر مقصود اس سے عام مسلمان ہوتے ہیں ، یہ آیت اسی قبیل سے ہے ،
مقصد یہ ہے ، کہ عام مسلمان کفر والحاد کی مجلسوں میں شرکت نہ کریں ، جن میں بجز توہین اسلام اور کوئی شغل نہ ہو ، کیونکہ اس طرح مذہبی عصبیت دور ہوجاتی ہے ، اور انسان بری سے بری بکواس کو سننے کا عادی ہوجاتا ہے ۔
Read the full tafseer →-68 اور اے مخاطب جب تو ایسے لوگوں کو دیکھے جو ہماری آیتوں میں عیب جوئی اور بیہودہ نکتہ چینی کر رہے ہوں اور انہوں نے یہ مشغلہ تیار کر رکھا ہو تو ایسے لوگوں سے کنارہ کش رہ اور ان کے پاس سے ٹل جا یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی اتفاقاً ایسی مجلس سے اٹھنا تجھ کو شیطان یہ حکم بھلا دے تو یاد آنے کے بعد پھر ایسے ظالموں کے پاس نہ بیٹھ یعنی ایسے ظالموں کا ہم صحبت نہ بن اول تو جب اس قسم کی سوقیانہ باتیں شروع ہوں تب ہی وہاں سے ٹل جا اور اگر کبھی شیطان بھلا دے تو یاد آتے ہی اس قسم کے ظالم اور ناسپاس لوگوں کے پاس سے کھڑا ہوجا اور ان کے پاس نہ بیٹھ۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی ایسی مجلس میں بیٹھنے کی ممانعت یاد نہ رہے۔
Read the full tafseer →فضول بحثیں کرنے والوں کے ساتھ بحث ہیں الجھ کر اپنے قیمتی وقت کو ضائع نہ کرو :
107: ” یَخُوْضُوْنَ “ کی اصل خ و ص ہے اور خوض کے معنی کسی چیز میں گھس جانے کے ہیں۔ اس سے خوض فی الحدیث کا محاورہ بنا ہے جس کے معنی ہیں بات سے بات نکالنا ، بال کی کھال اتارنا ، نکتہ چینی اور کٹ حجتیاں کرنا ، نئے نئے شوشے چھوڑنا دور کی کوڑی لانا ، پانی میں مدھانی ڈالنا ، پانی بلونا ، ذہنی عیاشی کرنا وغیرہ وغیرہ۔ کچھ لوگوں کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے کہ وقت گزارنے کے لئے دین کی باتوں پر بحث شروع کردی اور پھر بات سے بات نکالتے کہاں کے کہاں پہنچ گئے۔ دل لگی کے لئے دوسرے شغلوں سے وقت نکال کر دین کو شغل بنا لیا۔ آیت کا خطاب…
Read the full tafseer →Commentary
Avoid Gatherings of False People
In the present verses, Muslims have been instructed that they should, as a matter of principle, abstain from being a part of the gatherings frequented by those who prefer to follow the false - because a sin is a sin, whether you do it yourself or watch others doing it. Details follow.
The word: يَخُوضُونَ (translated here as ` indulge' ) in the first verse (68) is from: خَوض (khawd) which basically means to enter into water and wade through it. Then, it also denotes entering into activities which are vain, absurd or futile. This word has been used…
Read the full tafseer →44. In case the Muslims fail to remember this directive and mistakenly continue to remain in the company of those who were indulging in making fun of their faith, they should withdraw from such company as soon as they remember this directive.
Read the full tafseer →