Explained with ayahs 66–69
غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
سورة الْاَنْعَام 43
یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے ہو وہ زبر دستی تمہیں دکھاؤں اور جو کچھ تم نہیں سمجھ رہے ہو وہ بزور تمہاری سمجھ میں اتار دوں۔ اور میرا یہ کام بھی نہیں ہے کہ اگر تم نہ دیکھو اور نہ سمجھو تو تم پر عذاب نازل کر دوں۔ میرا کام صرف حق اور باطل کو ممیز کر کے تمہارے سامنے پیش کردینا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو جس برے انجام سے میں تمہیں ڈراتا ہوں وہ اپنے وقت پر خود تمہارے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ کی برادری یعنی قریش مکہ کی مخالفت حق کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ یہ لوگ جو آپ سے وقوع عذاب کا معیّن وقت پوچھتے ہیں، آپ ﷺ ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا، بلکہ ہر بات کا ایک وقت اللہ کے علم میں مقرر ہے، وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی، اور اس کا نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔
Read the full tafseer →لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ، نبا، کسی اہم حادثہ کی خبر کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد اس عذاب کی خبر ہے جو قرآن دے رہا تھا۔ مستقر، موضع استقرار اور وقت استقرار دونوں مفہوم میں ہوسکتا ہے۔ نیز مصدر کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے۔ ہم نے وقت استقرار کے مفہوم میں لیا ہے۔
اگلی آیات 68 تا 73 کا مضمون : آگے پیغمبر ﷺ اور مسلمانوں کی طرف التفات ہے کہ جو ضدی اور ہٹ دھرم لوگ بات سننا چاہتے ہی نہیں ان کے یادہ درپے ہونے کی ضرورت نہیں ہے، جب دیکھو کہ یہ لوگ کج بحثیوں اور استہزاء پر اتر آئے ہیں تو ان کو چھوڑ کر الگ ہوجاؤ، صرف اسی وقت ان کے سامنے کوئی بات پیش کرو جب وہ کچھ سننے سمجھنے کے موڈ میں نظر آئیں۔ تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
6 6 ۔ 1 بہ کا مرجع قرآن ہے یا عذاب فتح القدیر 66۔ 1 یعنی مجھے اس امر کا مکلف نہیں کیا گیا ہے کہ میں تمہیں ہدایت کے راستے پر لگا کر ہی چھوڑوں۔ بلکہ میرا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر (الکھف)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
24: یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں تم لوگوں کو عذاب دینا بھی داخل ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو تمہیں خود پتہ لگ جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔
یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔
اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
6 یعنی میرا یہ منصب نہیں کہ تمہاری تکذیب پر وہ عذاب نازل کر دوں یا اس کے وقت اور نوعیت وغیرہ کی تفصیل بتلاؤں میرا کام صرف باخبر اور متنبہ کردینا ہے۔ آگے ہر چیز کے وقوع کا علم الٰہی میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وقت آجائے گا تم خود جان لو گے کہ میں جس چیز سے ڈراتا تھا وہ کہاں تک سچ ہے۔
Read the full tafseer →آیت 67 لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ۔
جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔
اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت 140 میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے…
Read the full tafseer →74 سیدنا سعد بن معاذ کا عمر کے لئے آنا :۔ اس کی ایک مثال یہ واقعہ ہے کہ انصار کے قبیلہ اوس کے سردار سعد بن معاذ جنگ بدر سے پہلے عمرہ کی نیت سے مکہ آئے اور اپنے حلیف دوست امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے اور اس سے اپنے ارادہ کا اظہار کیا۔ اس وقت ابو جہل رئیس مکہ نے یہ پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی مسلمان کعبہ میں داخل ہونے اور طواف نہ کرنے پائے۔ امیہ بن خلف رواداری کی وجہ سے سیدنا سعد کو کعبہ لے گیا وہ طواف کر ہی رہے تھے کہ ابو جہل نے دیکھ لیا تو سیدنا سعد پر برس پڑا۔ سیدنا سعد نے کڑک کر جواب دیا کہ اگر تم مجھے روکو گے تو میں تمہارے تجارتی قافلہ کی راہ روک کر تمہارا ناک میں دم کر دوں گا۔ امیہ سیدنا سعد…
Read the full tafseer →100 ۔ (کہ عذاب آخر آیا) اس عذاب سے عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اور عذاب دنیوی بھی جو قرآن کے مخاطبین اول قریش پر شدید و ذلیل شکست کی صورت میں مسلط ہو کر رہا۔ یجوز یکون المراد منہ عذاب الاخرۃ ویجوز ان یکون المراد منہ استیلاء المسلمین علی الکفار بالحرب والقتال والقھر فی الدنیا (کبیر) (آیت) ” سوف “۔ یہاں تاکید کے لئے ہے۔ سوف للتاکید (روح) (آیت) ” مستقر “۔ کے لفظی معنی تو ہیں جائے وقوع و استقرار کے، لیکن یہاں مراد وقت وقوع و استقرار ہے، بعض نے دونوں معنی جائز رکھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ جس واقعہ کی خبر دے دیتا ہے وہ اپنے وقت ومقام پر ضروری ہی واقع ہوکررہتا ہے۔ والمعنی ان لکل خبریخبرہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
قُلْ مَنْ یُنجّیْکم من الظلمٰتِ (الآیۃ) یہ حقیقت ہے کہ تنہا وہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں قسمتوں کی باگ ڈور ہے، جب تمام اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کو پکارتے ہو، اس کھلی دلیل کے ہوتے ہوئے بھی تم بلا دلیل دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔
قُلْ ھو القادِرُ علی ان یَبْعَثَ علیکم عذاباً ، (الآیۃ) معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسانی وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسانہ ہے جیسا کہ اصحاب فیل پر برسے تھے، اور نیچے کے عذاب سے مراد زمین کا دھنسنا ہے جیسا کہ قادرون دھنس گیا تھا…
Read the full tafseer →لکل نبا مستقر ہر خبر کے وقوع کا ایک وقت ہے۔ یعنی قرآن نے جو کافروں کے عذاب میں مبتلا ہونے کی خبریں دی ہیں ان میں سے ہر خبر کا وقوع مقرر ہے جس میں تقدیم و تاخیر نہیں ہوسکتی۔
وسوف تعلمون اور جلد ہی تم کو معلوم ہوجائے گا جب کہ دنیا میں یا آخرت میں اس خبر کا ظہور ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(67۔ 68) ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک وقت علم الہی میں مقررہ ہے خواہ وہ اللہ کی جانب سے ہو یا میری طرف سے خواہ اوامر ہوں یا نواہی وعدے ہوں یا وعیدین مدد کی خوشخبری ہو یا عذاب سے ڈرا انا ہو، ان کی حقیقت ہے بعض کا ان میں سے دنیا میں ظہور ہوجائے گا اور بعض کا آخرت میں اور دنیا وآخرت میں تمہیں اس کا علم ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ تمہارے ہر ایک قول عمل کی ایک حقیقت ہے، بہت جلدی تمہیں تمہارے اعمال کے متعلق علم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ ۡ۔۔ : اس آیت میں کفار کے لیے دھمکی ہے۔ (رازی) یعنی اللہ کی دی ہوئی خبر غلط نہیں ہوسکتی، لیکن اس کا ایک وقت متعین ہے۔ چناچہ جس عذاب کا تم مطالبہ کر رہے ہو، جب اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا۔ اس وقت تم جان لو گے کہ جس چیز سے میں تمہیں بار بار ڈرا رہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی۔ اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں کفار پر لڑائی، خوف اور قحط کی صورت میں نازل ہوا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
: (آیت) 66۔ 67
قولہ تعالیٰ : (آیت) وکذب بہ قومک، ای بالقرآن یعنی آپ کی قوم نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔
ابن ابی عبلہ نے و کذبت تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ (المحرر الوجیز) : (آیت) وھو الحق حالانکہ اس کے قصص حق ہیں۔ قل لست علیکم بوکیل حسن نے کہا ہے : ( اس کا معنی ہے) میں تمہارے اعمال کا محافظ نہیٰں ہوں کہ میں تمہیں ان پر جزا اور بدلہ دوں، بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں میں نے پیغام (حق) پہنچا دیا ہے، اس کی مثل یہ آیت بھی ہے : (آیت) وما انا علیکم بحفیظ (انعام) (اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوتا) میں تم پر تمہارے اعمال کی حفاظت کرتا ہوں۔
پھر بھی کہا گیا ہے : یہ آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم سے مراد امراء کی جانب سے آنے والے عذاب ہے اور لفظ آیت تحت ارجلکم سے مراد وہ اذیت اور تکلیف ہے جو تمہارے گھٹیا لوگوں کی جانب ہے پہنچے لفظ آیت اویلبسکم شیعا سے مراد مختلف خواہشات رکھنے والے لوگوں میں غلط ملط ہونا اور لفظ آیت ویذیق بعضکم باس بعض یعنی وہ تم میں سے بعض کو بعض پر قتل اور عذاب کے ساتھ مسلط کردے۔
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یعنی برے آئمہ…
Read the full tafseer →لِكُلِّ نَبَاٍ [ ہر ایک خبر کے لئے ] مُّسْـتَقَرٌّ ۡ [ ایک وقت ہے ] وَّسَوْفَ [ اور عنقریب ] تَعْلَمُوْنَ [ تم لوگ جان لوگے ]
Read the full tafseer →پھر فرمایا (لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ) (ہر ایک خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تم جان لو گے) مطلب یہ ہے کہ جو خبریں دی گئی ہیں یہ محض خبریں ہی نہیں ہیں ان کے وقوع اور حصول کا وقت مقرر ہے جو اللہ کے علم میں ہے مقررہ وقت آجائے گا تو اس کا ظہور ہوجائے گا اور تمہیں عنقریب تکذیب کی سزا معلوم ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
71 یہ زجر ہے۔ لِکُلِّ نَبَاٍ مُسْتَقَرٍ نَبا کے معنی خبر یا امر (معاملہ) مستقر یعنی وقت استقرار اور وقوع کا مطلب یہ کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جب اس کا وقت آجاتا ہے تو اس کے وقوع میں ہرگز تاخیر نہیں ہوتی مثلا جب معاندین کا انکار اور ضد انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ کا عذاب آجاتا ہے وَ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیروں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا…… کہ یہ کفر شرک اور گمراہی کی بات ہے۔ اس کے بعد الوہیت کی صفات مختصہ کا بیان تھا کہ عالم الغیب صرف وہی ہے وہی ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور مدد بھی اسی سے طلب کرنی چاہئے۔ پھر درمیان میں فرمایا کہ لوگوں کو خشکی یا تری میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان سے بچا کر لانے والا بھی اللہ ہی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ پھر بھی اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی تنبیہہ تھی کہ جب علم غیب کا مالک وہ ہے ‘ غلبہ اور قدرت اس کو حاصل ہے ‘ تو پھر الہ بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ فوراً گرفت نہیں کرتا تو یہ اس…
Read the full tafseer →لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْـتَقَرٌّ 0ۡوَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 67
نبأ
خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی
يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ،
( ن ب ء ) النبا ء
کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–69
ترکیب : لست علیکم متعلق ہے وکیل سے مستقر مبتداء لکل خبر من شیء من زائدہ ہے من حسابہم حال ہے والتقدیر شیء من حسابہم۔ ان تبسل مفعول لہ ہے ای مخافۃ ان تبسل الابسال المنع اے ترتھن فی جہنم بما کسبت (ابن عباس) وقیل ان تبسل اے لان لا تبسل اے لا تسلم نفس للہلاک بما کسبت۔
تفسیر : ان خوف و عذاب کی باتوں کو سن کر بجائے تصدیق و عبرت کے مکہ کے مشرکین ان کی تکذیب کرکے آنحضرت ﷺ سے عذاب آنے کا وعدہ لیتے تھے کہ اگر فلاں روز عذاب آیا تو ہم تیری مان لیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان حق باتوں کو آپ کی قوم نے جھٹلا دیا۔ (بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر قرآن یا اسلام یا…
Read the full tafseer →لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الانعام : 67)
(ہر بات کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور تم عنقریب جان لو گے)
دنیا کا ہر کام اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ کے علم اور مشیت سے ہوتا ہے
نَبَائٌکسی اہم حادثہ کی خبر کو کہتے ہیں۔ یہاں اس سے مراد اس عذاب کی خبر ہے جو قرآن دے رہا ہے۔ مُسْتَقَر موضع استقرار اور وقت استقرار دونوں مفہوم میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی مصدر کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی کام اتفاق سے نہیں ہوتا بلکہ ہر کام اور ہر واقعہ اللہ کے علم اور اس کی مشیت کے مطابق ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی چھوٹا یا بڑا واقعہ چاہے وہ پتہ گرنے کا ہو یا ایٹم بم گرنے کا ‘ اللہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
فہم القرآن
ربط کلام : سمندر کے طوفان اور صحرا کے گرداب اور بھنور میں ہی نہیں وہ اللہ جب چاہے انسان کو دیگر آزمائشوں اور عذابوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اے لوگو تم ہر حال میں اپنے رب کے سامنے مجبور محض ہو۔
پہلی آیات میں برّی گرداب اور سمندری طوفانوں کا ذکر ہوا ہے۔ جن کے ساتھ عام طور پر مسافر کو واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ لازم نہیں کہ صرف سفر میں ہی تمہیں مشکلات اور عذاب کے ساتھ واسطہ پڑے۔ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں تمہارے گھروں میں بیٹھے ہوئے آسمانی اور زمینی عذاب سے دو چار کردے، یہی نہیں بلکہ تمہیں تمہاری نافرمانی، بداخلاقی اور…
Read the full tafseer →وہ اپنے وقت پر آئے گا ‘ پھر خبر ہوگی :
آیت 67 : لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ نبأ سے ہر وہ چیز جس سے خبر دی جائے۔ یعنی ان کا مطلع کرنا۔ کہ ان کو عذاب دیا جائے گا اور ان کا اس کے ذریعہ ڈرانا مستقرؔ وقت استقرار و حصول بہر صورت ہے۔ وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ اس میں ان کو ڈرایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →(67) (لک نبا) پہلی امتوں کی خبروں میں سے خبر (مستقر) تاکہ اس کا سچایا جھوٹا ہونا معلوم ہوجائے اور اس کا حق یا باطل وقت اور جگہ متعین ہے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں ہر قول اور فعل کی حقیقت ہے یا تو دنیا میں یا آخرت میں جو دنیا میں ہے اس کو عنقریب تم جان لو گے اور جو آخرت میں ہے وہ عنقریب تمہارے سامنے ظاہر ہوجائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
(66 ۔ 67) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآنی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ اس لیے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے بازآویں اور اپنے بھلے برے کو سمجھیں اس آیت میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے سر پر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ پھر ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں حالانکہ قرآن کی آیتوں میں وہ سیدھے سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔ مثلا ان لوگوں کے شرک سے باز آنے کے لیے ان کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ جب آسمان زمین انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر کسی دوسرے کو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت 67
یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ ہر سمت سے تم پر عذاب بھیجنے پر قدرت رکھتا ہے فرمایا : (من فوقکم او من تحت ارجلکم) ” تمہارے اوپر سے یا تمہارے پاؤں کے نیچے سے “ (اویلبسکم شیعاً ) ” یا تمہیں فرقہ فرقہ کر دے “ یعنی تمہیں مختلف فرقوں میں بانٹ دے (ویذیق بعضکم باس بعض) ” اور چکھا دے لڑائی ایک کو ایک کی ‘ یعنی تمہیں فتنہ میں مبتلا کر دے اور ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔ پس اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں پر قادر ہے، اس لئے اس کی نافرمانی پر قائم رہنے سے بچو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں عذاب آ لے اور وہ تمہیں تلف کر کے تمہارا نا مو نشان مٹا ڈالے۔ اس کے باوجود کہ اس نے آگاہ فرمایا ہے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے مگر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
119 ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے : پس اپنے وقت میں وہ ضرور ہو کر رہے گی۔ لہٰذا تم اس کی جلدی نہ مچاؤ بلکہ آنے والے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرو۔ قبل اس سے کہ حیات مستعار کی یہ فرصت محدود تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تم لوگ ہمیشہ کے لیے اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہو جس کا حقدار و مستحق تم نے اپنے آپ کو اپنے عمل و کردار سے بنادیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ حقیقت ہمیشہ تمہارے پیش نظر رہنی چاہئے کہ ہر بات کے ظہور کے لئے اللہ تعالیٰ کی تقویم میں ایک وقت مقرر ہے۔ اس وقت وہ بہرحال ظاہر ہو کر رہے گی۔ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکے گی اور اس وقت تم اس کو خود یکھ لو گے ۔ { وَلَتَعْلَمُنَّ نَبَائَ ہ بَعْدَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
عذاب کی اقسام
تشریح : ان آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ لے رکھا ہے تمام انسانوں سے، یعنی ہر بندہ فطرتاً اللہ کو ہی خالق ومالک مانتا ہے مگر پھر بھی کفار شرک، کفر اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ صاف صاف بتا دیں کہ میں نے توحید کا پیغام اور اللہ کی حاکمیت قدرت اور طاقت کے بارے میں خوب وضاحت کردی ہے پھر بھی جو کفر کرتے ہیں تو ان کو عقل سے کام لے کر اور اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایمان، سلامتی اور نجات کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے ورنہ پھر وہ گھڑی، یعنی عذاب کی گھڑی بھی اپنے مقررہ وقت پر آنے والی ہے جب تم سب لوگوں کو اپنے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 13 اس میں کفار کو تہدید ہے۔ (کبیر) یعنی اللہ تعالیٰ کو دی ہوئی خیر غلط نہیں ہوسکتی لیکن اس کا وقت آئے گا تو وہ بھی نازل ہوجائے گا اس وقت تم خود جان لو گے کہ جس چیز سے تمہیں باربار ڈرارہا تھا وہ کہاں تک سچی تھی اس عذاب سے مراد آخرت کا عذاب بھی ہوسکتا ہے اور وہ عذاب بھی جو دنیا میں بصورت حرب و قتال کفار پر آیا، (کذافی الکبیر )
Read the full tafseer →(6:67) مستقر۔ القرار۔ الثبوت۔ نھایۃ۔ غایۃ۔
لکل بناء مستقر۔ یعنی قرآن کی ہر ایک خبر میں ایک حقیقت ایک غایت ہے یا خدا بتائی ہوئی ہر خبر کے لئے اس کے وقوع پذیر ہونے کا وقت اور مکان ہے اور اس میں کوئی تاخیر یا ردوبدل نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 67 :
یلبس ( وہ پہناتا ہے۔ وہ گڈ مڈ کرتا ہے) ‘ شیع ( فرقے) ‘ یذیق ( وہ چکھا تا ہے) ‘ یفقھون ( وہ سمجھتے ہیں) ‘ لست ( میں نہیں ہوں) وکیل (کام بنانے والا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 67 :
گذشتہ دو آیات میں ذکر تھا کہ خشکی اور سمندر کی آفتوں سے صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اب آیات 65 اور 66 میں ذکر ہے کہ وہی ایک اللہ تمہارے اوپر آفت لاسکتا ہے۔ یعنی آفت سے بچانے والا بھی وہی ہے اور آفت لانے والا بھی وہی ہے۔
یہاں خاص طور سے تین طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک وہ جو اوپر سے آئے دوسرے وہ جو نیچے سے آئے ۔ تیسرے باہمی فرقہ وار انہ فسادات کے ذریعہ سے پھوٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
اس آیت میں ارشاد ہے کہ مشرک لوگوں کے سر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ فورا ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن شریف میں وہ سیدے اور سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا ہے، اور جب یہ مشرک لوگ کلام الہی کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس کے جھٹلانے کی سزا میں ہم پر کوئی عذاب کیوں نہیں آتا۔ ان کی اس بات کے جواب میں اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری سزا کے لئے داروغہ مقرر ہوکر نہیں آیا بلکہ وقت مقررہ کی سزا سے تمہیں ڈرانے آیا ہوں اگر اس ڈر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
عذاب تخرب :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ بت پرستی پر اصرار ، حق وصداقت کے خلاف اعلان جنگ یاد رکھو بہتر نہیں خدا ہر وقت قادر ہے ، کہ تم پر عذاب بھیج دے زمین تمہارے لئے پھٹ سکتی ہے ، اور سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ تم میں جمعیت نہ رہے ، اختلاف وتخریب کی آندھیاں چلیں ، اور کفر و طغیان کی تناودرختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ،
حل لغات :
شیعا : جمع شیعۃ ۔ گروہ ، جماعت ۔
یخوضون ، مادہ خوض عام طور پر اسلام کے خلاف غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →-67 ہر خبر کی تصدیقف اور ہر خبر کے واقع ہونے کا ایک مقرر وقت ہے اور عنقریب ہی تم کو تھوڑے دن میں میرے کہے کی حقیقت معلوم ہو جائیگی۔
Read the full tafseer →ف 1۔ عذاب شامل ہے اخروی اور دنیوی کو جس میں جہاد بھی داخل ہے۔
Read the full tafseer →ہر خبر کا ایک وقت مقرر ہے اور اس کو اپنے وقت پر ہو کر ہی رہنا ہے :
106: فرمایا مجھے تمہارے عذاب کی اطلاع دی گئی وہ تم کو پہنچا دی۔ رہی وہ بات جس کا تم خیال کرتے ہو کہ عذاب کی جو دھمکیاں ہمیں دی جا رہی ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ، یہ محض ڈرا وا ہے تو اس کا جواب عذاب کی خبر دینے والے کے ذمہ ہے اور وہ فرماتا ہے کہ تم یونہی جلدی کر رہے ہو ، میرے علم ازلی میں ہرچیز کے لئے ایک وقت مقرر ہے اور ہرچیز اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوتی آئی ہے اور اس طرح اب بھی اپنے وقت پر ہی ظہور پذیر ہوگی اور تم اس وقت خود بخود جان لو گے۔ تمہارے اس الجھاؤ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ کل ہونے والا کام آج کر دکھایا جائے یا آج کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
In the second verse (66), after mentioning the anti-truth stand taken by the Quraysh of Makkah, the Holy Prophet ﷺ also from the same tribe, has been instructed that he should tell those people asking about the precise time when the promised punishment will come that he has not been appointed to do that for them. The truth is that for everything there is a point of time as determined in Divine knowledge. It will come at its own time, and they will see for themselves what happens when it does.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
43. A Prophet is neither required to compel People to see what they are not prepared to see nor to force into their hearts what they fail to comprehend. It is not a Prophet's task to chastise people for failing to see and comprehend the Truth. His task is merely to proclaim Truth as distinct from falsehood. If people fail thereafter to accept it, they will be overwhelmed by the very misfortunes against which that Prophet had warned.
Read the full tafseer →