Al-An'aam 6:66

Al-An'aam · from ayah 66

6:66

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ؕ— قُلْ لَّسْتُ عَلَیْكُمْ بِوَكِیْلٍ ۟ؕوَكَذَّبَ بِهٖ قَوۡمُكَ وَهُوَ الۡحَـقُّ‌ ؕ قُلْ لَّسۡتُ عَلَيۡكُمۡ بِوَكِيۡلٍؕ

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

But your people have denied it while it is the truth. Say, "I am not over you a manager."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 8 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:66

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس (قرآن) کو تمہاری قوم نے جھٹلایا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ کہہ دو کہ میں تمہارا داروغہ نہیں ہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ کی قوم اس کی تکذیب کرتی ہے حاﻻنکہ وه یقینی ہے۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تم پر تعینات نہیں کیا گیا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغبر) تمہاری قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلایا ہے، حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ تم کہہ دو کہ : مجھ کو تمہاری ذمہ داری نہیں سونپی گئی

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے جھٹلایا تمہاری قوم نے اور یہی حق ہے، تم فرماؤ میں تم پر کچھ کڑوڑا (حاکمِ اعلیٰ) نہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کی قوم نے اس (قرآن) کو جھٹلا ڈالا حالانکہ وہ سراسر حق ہے۔ فرما دیجئے: میں تم پر نگہبان نہیں ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسے تیری قوم نے جھٹلا دیا، حالانکہ وہی حق ہے، کہہ دے میں ہرگز تم پر کوئی نگہبان نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کی قوم نے اسے (قرآن کو) جھٹلا دیا۔ حالانکہ وہ حق ہے۔ آپ ان سے کہئے کہ میں تم پر داروغہ نہیں (کہ تمہیں راہ راست پر لا کے چھوڑوں)

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تمہاری قوم نے اس کی تکذیب کردی حالانکہ وہ بالکل حق ہے۔ کہہ دو میں تمہارے اوپر کوئی داروغہ نہیں مقرر ہوا ہوں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر (اس سب کے باجود) جھٹلا دیا تمہاری قوم نے اس (پیغام صدق و صفا) کو حالانکہ یہ سراسر حق ہے، (ان سے) کہو کہ میں تمہارا کوئی ذمہ دار نہیں ہوں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کی قوم نے اس کی تکذیب کی ہے درآنحالیکہ وہ برحق ہے آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے اوپر کچھ داروغہ تو ہوں نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی قوم نے اسے جھٹلا دیا حالانکہ وہ حق ہے (ان سے) کہہ دیجیے کہ (اب) میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

آپ کی قوم اس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ یہ حقیقت ہے۔ ان سے کہہ دو کہ میں تم پر داروغہ نہیں بنایا گیا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Your people have denied it even though it is the Truth. Say: "I am not a guardian over You.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Your people have rejected it (the Qur‘an) while it is the whole truth. Say, :I am not appointed as a taskmaster over you.

— Muhammad Taqi Usmani

Your people have rejected it (the Qur‘an) while it is the whole truth. Say, :I am not appointed as a taskmaster over you.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But your people have denied it (the Qur'an) though it is the truth. Say: "I am not responsible for your affairs."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thy people (O Muhammad) have denied it, though it is the Truth. Say: I am not put in charge of you.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But your people have denied it while it is the truth. Say, "I am not over you a manager."

— Saheeh International

(Some of) your people have rejected the Quran, although it is the Truth. Tell them that you are not their guardian

— Muhammad Sarwar

And your people call it a lie and it is the very truth. Say: I am not placed in charge of you.

— Muhammad Habib Shakir

And thy people belie it, while it is certain to befall. Say thou: I am not over you a trustee.

— Abdul Majid Daryabadi

But thy people reject this, though it is the truth. Say: "Not mine is the responsibility for arranging your affairs;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:66

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 66–69

غلط تاویلیں کرنے والوں سے نہ ملو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قرآن کو اور جس ہدایت وبیان کو تو اللہ عالی کی طرف سے لایا ہے اور جسے تیری قوم قریش جھتلا رہی ہے حقیقتاً وہ سرا سر حق ہے بلکہ اس کے سوا اور کوئی حق ہے ہی نہیں ان سے کہہ دیجئے میں نہ تو تمہارا محافظ ہوں نہ تم پر وکیل ہوں، جیسے اور آیت میں ہے کہہ دے کہ یہ تمہارے رب کی طرف سے حق ہے جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے نہ مانے، یعنی مجھ پر صرف تبلیغ کرنا فرض ہے، تمہارے ذمہ سننا اور ماننا ہے ماننے والے دنیا اور آخرت میں نیکی پائیں گے اور نہ ماننے والے دونوں جہان میں بدنصیب رہیں گے، ہر خبر کی حقیقت ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے اس کا وقت مقرر ہے،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 66–67

سورة الْاَنْعَام 43 یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو کچھ تم نہیں دیکھ رہے ہو وہ زبر دستی تمہیں دکھاؤں اور جو کچھ تم نہیں سمجھ رہے ہو وہ بزور تمہاری سمجھ میں اتار دوں۔ اور میرا یہ کام بھی نہیں ہے کہ اگر تم نہ دیکھو اور نہ سمجھو تو تم پر عذاب نازل کر دوں۔ میرا کام صرف حق اور باطل کو ممیز کر کے تمہارے سامنے پیش کردینا ہے۔ اب اگر تم نہیں مانتے تو جس برے انجام سے میں تمہیں ڈراتا ہوں وہ اپنے وقت پر خود تمہارے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 66–67

دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ کی برادری یعنی قریش مکہ کی مخالفت حق کا ذکر کرکے آنحضرت ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی گئی کہ یہ لوگ جو آپ سے وقوع عذاب کا معیّن وقت پوچھتے ہیں، آپ ﷺ ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا، بلکہ ہر بات کا ایک وقت اللہ کے علم میں مقرر ہے، وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی، اور اس کا نتیجہ تمہارے سامنے آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ وَهُوَ الْحَقُّ ، یعنی قرآن نے ان کو جس عذاب کی دھمکی دی ہے وہ ایک امر واقعی اور شدنی ہے لیکن تمہاری قوم نے اس کی تکذیب کردی ہے۔ اب ان کا معاملہ ہم پر چھوڑو اور ان سے کہہ دو کہ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ میں تم پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں کہ لازماً تمہیں ایمان و اسلام کیر اہ پر چلا ہی دوں ورنہ مجھ سے پرسش ہوجائے گی۔ میرے اوپر تو ذمہ داری صرف انذار و تبلیغ کی تھی وہ میں نے ادا کردی۔ میں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوا۔ اب اگر تم عذاب کے لیے مچلے ہوئے ہو تو لکل نبا مستقر، ہر بات کے ظہور کے لیے خدا کی تقویم میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت مقرر آجائے گا تم خود…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 66–67

6 6 ۔ 1 بہ کا مرجع قرآن ہے یا عذاب فتح القدیر 66۔ 1 یعنی مجھے اس امر کا مکلف نہیں کیا گیا ہے کہ میں تمہیں ہدایت کے راستے پر لگا کر ہی چھوڑوں۔ بلکہ میرا کام صرف دعوت و تبلیغ ہے۔ فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر (الکھف)۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 66–69

24: یعنی یہ میری ذمہ داری نہیں ہے کہ تمہارا ہر مطالبہ پورا کروں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے جس میں تم لوگوں کو عذاب دینا بھی داخل ہے اور جب وہ وقت آئے گا تو تمہیں خود پتہ لگ جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 66–67

(آیت) ” نمبر 66 تا 67۔ یہاں روئے سخن حضور اکرم ﷺ کی طرف ہے ۔ اس خطاب کے ذریعے نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد آنے والے اہل ایمان کے کاسہ دل کو ایمان ویقین سے بھر دیا جاتا ہے ۔ اگرچہ ایک داعی کی پوری قوم اور پورا معاشرہ حق کو جھٹلا دے تب بھی اسے یقین ہوتا ہے کہ حق غالب رہے گا اس لئے کہ سچائی کے بارے میں فیصلہ کرنا اہل جاہلیت کا کام نہیں ہے ‘ یہ اللہ کا کام ہے کہ وہ حق اور باطل کا فیصلہ کرے ۔ اللہ ہی ہے جو یہ اعلان کرسکتا ہے کہ فلاں چیز حق ہے اور فلاں چیز باطل ۔ لہذا جھٹلانے والوں کے کسی فیصلے کی کوئی حقیقت اور حیثیت نہیں ہے ۔ اس کے بعد حضرت نبی اکرم ﷺ کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی قوم سے دامن جھاڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 66–67

6 یعنی میرا یہ منصب نہیں کہ تمہاری تکذیب پر وہ عذاب نازل کر دوں یا اس کے وقت اور نوعیت وغیرہ کی تفصیل بتلاؤں میرا کام صرف باخبر اور متنبہ کردینا ہے۔ آگے ہر چیز کے وقوع کا علم الٰہی میں ایک وقت مقرر ہے۔ جب وقت آجائے گا تم خود جان لو گے کہ میں جس چیز سے ڈراتا تھا وہ کہاں تک سچ ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 66 وَکَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَہُوَ الْحَقُّ ط۔ یہاں بِہٖ سے مراد قرآن ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے ‘ اس سورة کا عمود یہ مضمون ہے کہ مشرکین کے مطالبے پر کوئی حسی معجزہ نہیں دکھایا جائے گا ‘ محمد رسول اللہ ﷺ کا اصل معجزہ یہ قرآن ہے۔ اسی لیے اس مضمون کی تفصیل میں بِہٖکی تکرار کثرت سے ملے گی۔ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ۔ اب میں نہیں کہہ سکتا کہ کب اللہ کے عذاب کا دروازہ کھل جائے اور عذاب ہلاکت تم پر ٹوٹ پڑے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

73 یہاں ھو سے مراد قرآن اور اس کی آیات بھی ہوسکتی ہیں، کفار سے عذاب کا وعدہ بھی اور روز آخرت بھی۔ کیونکہ یہ سب چیزیں اٹل حقائق ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے رسول سے فرماتے ہیں کہ انہیں کہہ دیجئے کہ اگر تم ان حقائق پر ایمان نہیں لاتے اور تمہیں یہ یقین نہیں آتا تو میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں یہ باتیں ہر ممکن طریقہ سے تم سے منوا کر چھوڑوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

99 ۔ (کہ عذاب کے واقع کردینے پر قادر ہوں، میں تو اس کی تفصیلات تک کا علم نہیں رکھتا ہوں) (آیت) ” کذب بہ “۔ ضمیر عذاب الہی کی طرف ہے ای بالعذاب (بیضاوی) یجوزان یکون المراد عنہ عذاب الاخرۃ ویجوز ان یکون المراد منہ استیلاء المسلمین علی الکفار بالحرب والقتال والقھر فی الدنیا (کبیر) والضمیر راجع الی العذاب المذکور فی الایۃ السابقۃ (کبیر) (آیت) ” وھو الحق “۔ یعنی واقع ہو کر رہنے والا ہے۔ الواقع لا محالۃ (بیضاوی) ای لابدان ینزل بھم (کبیر، کشاف)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 63–67

قُلْ مَنْ یُنجّیْکم من الظلمٰتِ (الآیۃ) یہ حقیقت ہے کہ تنہا وہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں قسمتوں کی باگ ڈور ہے، جب تمام اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کو پکارتے ہو، اس کھلی دلیل کے ہوتے ہوئے بھی تم بلا دلیل دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔ قُلْ ھو القادِرُ علی ان یَبْعَثَ علیکم عذاباً ، (الآیۃ) معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسانی وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسانہ ہے جیسا کہ اصحاب فیل پر برسے تھے، اور نیچے کے عذاب سے مراد زمین کا دھنسنا ہے جیسا کہ قادرون دھنس گیا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذب بہ قومک اور آپ کی قوم یعنی کفار قریش اس (عذاب یا قرآن) کی تکذیب کرتی ہے۔ وہو الحق حالانکہ وہ یقینی ہے یعنی واقعی حقیقت ہے یا سچ ہے۔ قل لست علیکم بوکیل آپ کہہ دیجئے کہ میں (اللہ کی طرف سے) تم پر تعینات نہیں کیا گیا۔ ہوں یعنی اس کا ذمہ دار نہیں بنایا گیا ہوں کہ تم پر اسلام کو چمٹا دوں یا اگر تم انکار کر دو تو سزا دے دوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(66) مگر قریش نے قرآن کریم کی تکذیب کی، آپ فرما دیجیے کہ میں تمہارے اوپر تعینات نہیں کیا گیا کہ تمہیں مسلمان ہی بنا کر چھوڑوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذَّبَ بِهٖ قَوْمُكَ : تیری قوم نے اسے جھٹلا دیا۔ اس ”بہ“ کی ضمیر سے مراد قرآن بھی ہوسکتا ہے اور اوپر کی آیات میں مذکور عذاب بھی۔ (قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ) یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمہارے جھٹلا دینے اور بد تمیزی کرنے پر خود عذاب نازل کر دوں، میرا کام تو صرف یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں اور نہ ماننے والوں کو اس کی سزا بتادوں، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اس سے بچنے کی فکر کرنا تمہارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 66–67

: (آیت) 66۔ 67 قولہ تعالیٰ : (آیت) وکذب بہ قومک، ای بالقرآن یعنی آپ کی قوم نے قرآن کو جھٹلایا ہے۔ ابن ابی عبلہ نے و کذبت تاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ (المحرر الوجیز) : (آیت) وھو الحق حالانکہ اس کے قصص حق ہیں۔ قل لست علیکم بوکیل حسن نے کہا ہے : ( اس کا معنی ہے) میں تمہارے اعمال کا محافظ نہیٰں ہوں کہ میں تمہیں ان پر جزا اور بدلہ دوں، بلاشبہ میں تو ڈرانے والا ہوں میں نے پیغام (حق) پہنچا دیا ہے، اس کی مثل یہ آیت بھی ہے : (آیت) وما انا علیکم بحفیظ (انعام) (اور میں تم پر نگہبان نہیں ہوتا) میں تم پر تمہارے اعمال کی حفاظت کرتا ہوں۔ پھر بھی کہا گیا ہے : یہ آیت قتال کے ساتھ منسوخ ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–67

(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم سے مراد امراء کی جانب سے آنے والے عذاب ہے اور لفظ آیت تحت ارجلکم سے مراد وہ اذیت اور تکلیف ہے جو تمہارے گھٹیا لوگوں کی جانب ہے پہنچے لفظ آیت اویلبسکم شیعا سے مراد مختلف خواہشات رکھنے والے لوگوں میں غلط ملط ہونا اور لفظ آیت ویذیق بعضکم باس بعض یعنی وہ تم میں سے بعض کو بعض پر قتل اور عذاب کے ساتھ مسلط کردے۔ (2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یعنی برے آئمہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذَّبَ [ اور جھٹلایا ] بِهٖ [ اس کو ] قَوْمُكَ [ آپ کی قوم نے ] وَ [ حالانکہ ] هُوَ الْحَقُّ ۭ [ وہی حق ہے ] قُلْ [ آپ کہئے ] لَّسْتُ [ میں نہیں ہوں ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] بِوَكِيْلٍ [ کوئی نگراں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

(وَ کَذَّبَ بِہٖ قَوْمُکَ وَ ھُوَ الْحَقُّ ) (اور آپ کی قوم نے اس عذاب کی تکذیب کی حالانکہ وہ حق ہے) (قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ) (یعنی اگر وہ یوں کہیں کہ عذاب کب آئے گا تو آپ جواب دیدیں کہ میں تمہارے اوپر داروغہ بنا کر مقرر نہیں کیا گیا۔ عذاب کا لانا میرے بس میں نہیں ہے اللہ جب چاہے گا لے آئے گا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 61–70

نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔ گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 66–67

71 یہ زجر ہے۔ لِکُلِّ نَبَاٍ مُسْتَقَرٍ نَبا کے معنی خبر یا امر (معاملہ) مستقر یعنی وقت استقرار اور وقوع کا مطلب یہ کہ ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے جب اس کا وقت آجاتا ہے تو اس کے وقوع میں ہرگز تاخیر نہیں ہوتی مثلا جب معاندین کا انکار اور ضد انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اللہ کا عذاب آجاتا ہے وَ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ۔ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–67

پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیروں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا…… کہ یہ کفر شرک اور گمراہی کی بات ہے۔ اس کے بعد الوہیت کی صفات مختصہ کا بیان تھا کہ عالم الغیب صرف وہی ہے وہی ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور مدد بھی اسی سے طلب کرنی چاہئے۔ پھر درمیان میں فرمایا کہ لوگوں کو خشکی یا تری میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان سے بچا کر لانے والا بھی اللہ ہی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ پھر بھی اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی تنبیہہ تھی کہ جب علم غیب کا مالک وہ ہے ‘ غلبہ اور قدرت اس کو حاصل ہے ‘ تو پھر الہ بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ فوراً گرفت نہیں کرتا تو یہ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذَّبَ بِہٖ قَوْمُكَ وَہُوَالْحَقُّ۝ 0ۭ قُلْ لَّسْتُ عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ۝ 66ۭ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 66–69

ترکیب : لست علیکم متعلق ہے وکیل سے مستقر مبتداء لکل خبر من شیء من زائدہ ہے من حسابہم حال ہے والتقدیر شیء من حسابہم۔ ان تبسل مفعول لہ ہے ای مخافۃ ان تبسل الابسال المنع اے ترتھن فی جہنم بما کسبت (ابن عباس) وقیل ان تبسل اے لان لا تبسل اے لا تسلم نفس للہلاک بما کسبت۔ تفسیر : ان خوف و عذاب کی باتوں کو سن کر بجائے تصدیق و عبرت کے مکہ کے مشرکین ان کی تکذیب کرکے آنحضرت ﷺ سے عذاب آنے کا وعدہ لیتے تھے کہ اگر فلاں روز عذاب آیا تو ہم تیری مان لیں گے اور اسلام قبول کرلیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان حق باتوں کو آپ کی قوم نے جھٹلا دیا۔ (بعض کہتے ہیں بہ کی ضمیر قرآن یا اسلام یا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تمہید قرآن کریم اپنی بہت سی امتیازی خصوصیات کے باعث دنیا کی ایک منفرد کتاب ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہ کہیں موجود ہے اور نہ ممکن ہے۔ ہر کتاب کسی ایک شعبہ علم سے بحث کرتی ہے تو اس کے اصولی مباحث ابواب میں تقسیم کر کے ضمنی بحثوں کو فصول میں پھیلا کر اس شعبہ علم سے متعلق ضروری باتوں کو سمیٹ لیتی ہے اور خاتمۃ الکتاب میں اس کا ایک خلاصہ دے کر بحث کا حق ادا کردیا جاتا ہے اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ جو بات کہنا تھی وہ مکمل ہوگئی۔ لیکن اس کتاب کا موضوع چونکہ انسانی اصلاح اور اس کی ہدایت ہے اس لیے وہ انسانی احساسات انفعالات اور تصورات کے ساتھ ساتھ چلتی ہے اور ہر مرحلے پر دعوت کے اسلوب کو متعین کرتی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–67

فہم القرآن ربط کلام : سمندر کے طوفان اور صحرا کے گرداب اور بھنور میں ہی نہیں وہ اللہ جب چاہے انسان کو دیگر آزمائشوں اور عذابوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اے لوگو تم ہر حال میں اپنے رب کے سامنے مجبور محض ہو۔ پہلی آیات میں برّی گرداب اور سمندری طوفانوں کا ذکر ہوا ہے۔ جن کے ساتھ عام طور پر مسافر کو واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ لازم نہیں کہ صرف سفر میں ہی تمہیں مشکلات اور عذاب کے ساتھ واسطہ پڑے۔ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں تمہارے گھروں میں بیٹھے ہوئے آسمانی اور زمینی عذاب سے دو چار کردے، یہی نہیں بلکہ تمہیں تمہاری نافرمانی، بداخلاقی اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سچے قرآن کو جھٹلایا ‘ عذاب کا انتظار کرو : آیت 66 : وَکَذَّبَ بِہٖ یعنی قرآن کو یا عذاب الٰہی کو قَوْمُکَ قریش وَہُوَ الْحَقُّ سچا ہے یا اس کا اترنا اس پر ضروری ہے۔ قُلْ لَّسْتُ عَلَیْکُمْ بِوَکِیْلٍ ایسا محافظ جس کے سپرد تمام معاملہ کردیا گیا ہو۔ بیشک میں تو منذر ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (66) (وکذب بہ قومک) یعنی قرآن کو اور بعض نے کہا عذاب کو (وھو الحق ط قل لست علیکم بوکیل) نگہبان اور بعض نے کہا تم پر مسلط نہیں کہ تم انکار کردیا اقرار تم پر اسلام لازم کر دوں۔ میں تو بس پیغام پہنچانے والا ہوں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 66–67

(66 ۔ 67) ۔ اوپر کی آیت میں ذکر تھا کہ قرآنی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ اس لیے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے بازآویں اور اپنے بھلے برے کو سمجھیں اس آیت میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کے سر پر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ پھر ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں حالانکہ قرآن کی آیتوں میں وہ سیدھے سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا۔ مثلا ان لوگوں کے شرک سے باز آنے کے لیے ان کو یوں سمجھایا گیا ہے کہ جب آسمان زمین انسان اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر کسی دوسرے کو اللہ کی تعظیم اور عبادت میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 62–66

آیت 62 (قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ! (من ینجیکم من ظلمت البر والبحر) ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے ؟ “ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ ) کے شکر گزار ہوں گے “ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

118 پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں کوئی تم پر نگران اور تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں " کہ تم سے حق کو منوا کر چھوڑوں اور نہ ماننے والوں پر عذاب اتار کر رہوں۔ سو ایسا نہ ہے اور نہ ہی میں نے کبھی اس طرح کا کوئی دعویٰ ہی کیا ہے کہ یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ میرا کام تو صرف حق کا پہنچا دینا ہے اور بس۔ اور وہ میں نے الحمد للہ پورا کردیا اور باحسن وجوہ پورا کردیا۔ قرآن پاک کی تصریحات تو یہ ہیں لیکن پھر بھی آج کا کلمہ گو مشرک کہتا ہے کہ پیغمبر مختار کل ہوتا ہے۔ جو چاہے کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف پیغمبر نہ مختار ِکل ہوتا ہے اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 63–67

عذاب کی اقسام تشریح : ان آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ لے رکھا ہے تمام انسانوں سے، یعنی ہر بندہ فطرتاً اللہ کو ہی خالق ومالک مانتا ہے مگر پھر بھی کفار شرک، کفر اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ صاف صاف بتا دیں کہ میں نے توحید کا پیغام اور اللہ کی حاکمیت قدرت اور طاقت کے بارے میں خوب وضاحت کردی ہے پھر بھی جو کفر کرتے ہیں تو ان کو عقل سے کام لے کر اور اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایمان، سلامتی اور نجات کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے ورنہ پھر وہ گھڑی، یعنی عذاب کی گھڑی بھی اپنے مقررہ وقت پر آنے والی ہے جب تم سب لوگوں کو اپنے کئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 61–70

رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔ اسرار و معارف : نگراں فرشتے : اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 بہ کی ضمیر عذاب کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے قرآن یا تصریح آیات کی طرف بھی (رازی) یعنی میرا یہ کام نہیں ہے کہ تمہاری تمہاری تکذیب اور بد تمیزی پور خود عذاب نازل کر دوں نہ میرا کام تو صف یہ ہے کہ تمہیں اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دوں نہ ماننے کی وعید پر متنبہ کردو، اس کے بعد عذاب بھیجنا یا نہ بھیجنا اللہ کے اختیار میں ہے اور اسے بچنے کی فکر کرنا تمہارا کام ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:66) کذب بہ میں ہ ضمیر قرآن حکیم کے لئے ہے۔ وکیل ذمہ دار۔ کار ساز ۔ نگران۔ نگہبان۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–67

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 67 : یلبس ( وہ پہناتا ہے۔ وہ گڈ مڈ کرتا ہے) ‘ شیع ( فرقے) ‘ یذیق ( وہ چکھا تا ہے) ‘ یفقھون ( وہ سمجھتے ہیں) ‘ لست ( میں نہیں ہوں) وکیل (کام بنانے والا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 67 : گذشتہ دو آیات میں ذکر تھا کہ خشکی اور سمندر کی آفتوں سے صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اب آیات 65 اور 66 میں ذکر ہے کہ وہی ایک اللہ تمہارے اوپر آفت لاسکتا ہے۔ یعنی آفت سے بچانے والا بھی وہی ہے اور آفت لانے والا بھی وہی ہے۔ یہاں خاص طور سے تین طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک وہ جو اوپر سے آئے دوسرے وہ جو نیچے سے آئے ۔ تیسرے باہمی فرقہ وار انہ فسادات کے ذریعہ سے پھوٹ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 66–67

اس آیت میں ارشاد ہے کہ مشرک لوگوں کے سر تو وہ ازلی کم بختی سوار ہے کہ جن آیتوں میں ان کے خلاف مرضی کوئی مضمون ہوتا ہے تو یہ لوگ فورا ان آیتوں کے جھٹلانے پر مستعد ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن شریف میں وہ سیدے اور سچے مضمون ہیں کہ کوئی صاحب عقل ان کو جھٹلا نہیں سکتا ہے، اور جب یہ مشرک لوگ کلام الہی کو جھٹلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر یہ قرآن اللہ کا کلام ہے تو اس کے جھٹلانے کی سزا میں ہم پر کوئی عذاب کیوں نہیں آتا۔ ان کی اس بات کے جواب میں اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہ دو کہ میں اللہ کی طرف سے تمہاری سزا کے لئے داروغہ مقرر ہوکر نہیں آیا بلکہ وقت مقررہ کی سزا سے تمہیں ڈرانے آیا ہوں اگر اس ڈر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 60–69

[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 65–67

عذاب تخرب : (ف 1) مقصد یہ ہے کہ بت پرستی پر اصرار ، حق وصداقت کے خلاف اعلان جنگ یاد رکھو بہتر نہیں خدا ہر وقت قادر ہے ، کہ تم پر عذاب بھیج دے زمین تمہارے لئے پھٹ سکتی ہے ، اور سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ تم میں جمعیت نہ رہے ، اختلاف وتخریب کی آندھیاں چلیں ، اور کفر و طغیان کی تناودرختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ، حل لغات : شیعا : جمع شیعۃ ۔ گروہ ، جماعت ۔ یخوضون ، مادہ خوض عام طور پر اسلام کے خلاف غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-66 اور آپ کی قوم اس عذاب کی یا اس قرآن کریم کی تکذیب کرتی ہے حالانکہ یہ ایک غیر مشتبہ حقیقت اور ایک امر حق اور سچی بات ہے آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم پر کوئی مختار کار اور اجارہ دار بن کر نہیں آیا ہوں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 65–66

ف 10۔ جیسے پتھر، یا ہوا، یا بارش طوفانی۔ 11۔ جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! تیری قوم نے حق کو جھٹلایا ہے اچھا تم ان پر کوئی نگہبان نہیں : 105: اس آیت میں نبی اعظم و آخر ﷺ کے خاندان قریش مکہ کی مخالفت حق کا بیان ہے اور آپ ﷺ کو یہ ہدایت دی جارہی ہے کہ یہ لوگ جو آپ ﷺ سے وقوع عذاب کا معین وقت پوچھتے ہیں اور بار بار اس کا سوال کرتے ہیں آپ ﷺ ان سے فرما دیں کہ میں اس کام کے لئے مسلط نہیں کیا گیا اور ہر بات کا وقت اللہ تعالیٰ کے علم میں مقرر ہے وہ اپنے وقت پر ہو کر رہے گی اور اس کا نتیجہ یقیناً تمہارے سامنے آجائے گا۔ چناچہ اس بات کے پورے ہونے کا جب وقت آیا تو انہوں نے بھی اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کے ساتھ دوسروں نے بھی جو اس وقت موجود تھے اور آج تک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

In the second verse (66), after mentioning the anti-truth stand taken by the Quraysh of Makkah, the Holy Prophet ﷺ also from the same tribe, has been instructed that he should tell those people asking about the precise time when the promised punishment will come that he has not been appointed to do that for them. The truth is that for everything there is a point of time as determined in Divine knowledge. It will come at its own time, and they will see for themselves what happens when it does.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 66–67

43. A Prophet is neither required to compel People to see what they are not prepared to see nor to force into their hearts what they fail to comprehend. It is not a Prophet's task to chastise people for failing to see and comprehend the Truth. His task is merely to proclaim Truth as distinct from falsehood. If people fail thereafter to accept it, they will be overwhelmed by the very misfortunes against which that Prophet had warned.

Read the full tafseer →