Explained with ayahs 63–65
احسان فراموش نہ بنو
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہوجاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) 17۔ الاسراء :67) میں اور آیت (ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 10۔ یونس :22) میں اور آیت (اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 42
جو لوگ عذاب الہٰی کو اپنے سے دور پاکر حق دشمنی میں جرأت پر جرأت دکھا رہے تھے انہیں متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اللہ کے عذاب کو آتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ ہوا کا ایک طوفان تمہیں اچانک برباد کرسکتا ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا تمہاری بستیوں کو پیوند خاک کردینے کے لیے کافی ہے۔ قبیلوں اور قوموں اور ملکوں کی عداوتوں کے میگزین میں ایک چنگاری وہ تباہی پھیلا سکتی ہے کہ سالہا سال تک خونریزی و بدامنی سے نجات نہ ملے۔ پس اگر عذاب نہیں آرہا ہے تو یہ تمہارے لیے غفلت و مدہوشی کی پِنَک نہ بن جائے کہ مطمئن ہو کر صحیح و غلط کا امتیاز کیے بغیر اندھوں کی طرح زندگی کے راستے پر چلتے رہو۔ غنیمت سمجھو کہ اللہ…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (یہ بھی) کہئے کہ (جس طرح وہ نجات دینے پر قادر ہے اسی طرح) اس پر بھی وہی قادر ہے کہ تم پر (تمہارے کفر و شرک کی وجہ سے) کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے (جیسے پتھر یا ہوا یا بارش طوفانی) یا تمہارے پاوں تلے (جو زمین ہے اس) سے (ظاہر کر دے، جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا اور ان عذابوں کے اسباب قریبہ تو اللہ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں، کبھی نہ کبھی ایسا ہوگا خواہ دنیا میں یا آخرت میں) یا کہ تم کو (اغراض کے اختلاف سے مختلف) گروہ گروہ کرکے سب کو (آپس میں) بھڑا دے (یعنی لڑوا دے) اور تمہارے ایک کو دوسری کی لڑائی (کے ذریعے مزہ) چکھا دے (اور اس کا سبب قریب فعل اختیاری ہے، اور یا سب آفتیں…
Read the full tafseer →قُلْ هُوَ الْقَادِرُ الایہ : یعنی یہ نہ سمجھو کہ آج اگر امن و اطمینان کی زندگی حاصل ہے تو پھر کبھی خدا کی پکڑ میں آ ہی نہیں سکتے، خدا جب چاہے تمہارے اوپر سے پتھر برسا دے، بجلی گرا دے، گردباد بھیج دے۔ اسی طرح جب چاہے، عین تمہارے پاؤں کے نیچے سے زلزلہ، سیلاب یا کوئی اور آفت ارضی بھیج دے۔ یہ نہیں تو تمہیں آپس ہی میں قبیلہ قبیلہ، گروہ گروہ اور قوم قوم کو باہم دگر ٹکرا دے اور ایک دوسرے کے ظلم و تشدد کا ما چکھا دے۔ ان میں سے ہر بات، ہر وقت خدا کی قدرت میں ہے، فرمایا، دیکھو کس طرح ہم اپنی قدرت کی نشانیاں اور اپنے اختیار و تصرف کی دلیلیں مختلف اسلوبوں سے بیان کرتے ہیں کہ یہ سمجھیں لیکن یہ سمجھنے کے…
Read the full tafseer →65۔ 1 یعنی آسمان، جیسے بارش کی کثرت، یا ہوا، پتھر کے ذریعے سے عذاب یا امرا اور احکام کی طرف سے ظلم و ستم۔
65۔ 2 جیسے دھنسا جانا، طوفانی سیلاب، جس میں سب کچھ غرق ہوجائے۔ یا مراد ہے ماتحتوں، غلاموں اور نوکروں چاکروں کی طرف سے عذاب کہ وہ بدیانت اور خائن ہوجائیں۔
65۔ 3 یَلْبِسَکُمْ ای یخلط امرکم تمہارے معاملے کو خلط ملط یا مشتبہ کردے جس کی وجہ سے تم گروہوں اور جماعتوں میں بٹ جاؤ ویذیق اي یقتل بعضکم بعضا فتذیق کل طائفۃ الاخری اَلَمَ الْحَرْبِ تمہارا ایک دوسرے کو قتل کرنا اس طرح ہر گروہ دوسرے گروہ کی لڑائی کا مزہ چکھے۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں 1۔ میری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
23: نگہبان فرشتوں سے مراد وہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں اور وہ بھی جو ہر انسان کی جسمانی حفاظت پر مقرر ہیں۔ اور جن کا ذکر سورة رعد (11: 13) میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 65۔
اگر کوئی مصیبت سر کے اوپر آکر پڑتی ہے یا پاؤں کے نیچے سے کوئی مصیبت پھوٹتی ہے تو اس کا تصور دائیں بائیں سے آنے والی مصیبتوں سے زیادہ خوفناک ہوتا ہے اس لئے کہ انسان کی قوت واہمہ یہ سمجھتی ہے کہ وہ دائیں بائیں سے آنے والی مصیبت کا مقابلہ کرسکتا ہے لیکن جو عذاب سرکے اوپر سے نازل ہو یا جو عذاب پاؤں کے نیچے سے ابل پڑے وہ انسان کو ڈھانپ لیتا ہے ‘ اسے متزلزل کردیتا ہے ‘ اور انسان کی محدود قوت پر غالب آجاتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں ٹھہرنا اور اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ انداز بیان ایسا ہے جو انسان کے شعور واحساس میں اس قوی فیکٹر کو اجاگر کرتا ہے اور انسان یہ یقین کرلیتا ہے کہ…
Read the full tafseer →3 یعنی خدا کے امہال و درگزر کو دیکھ کر مامون اور بےفکر نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح وہ شدائد و مصائب سے نجات دے سکتا ہے۔ اسے یہ بھی قدرت ہے کہ کسی قسم کا عذاب تم پر مسلط کر دے۔
4 اس میں عذاب کی تین قسمیں بیان فرمائیں (1) جو اوپر سے آئے، جیسے پتھر برسنا یا طوفانی ہوا اور بارش (2) جو پاؤں کے نیچے سے آئے، جیسے زلزلہ یا سیلاب وغیرہ یہ دونوں خارجی اور بیرونی عذاب ہیں۔ جو اگلی قوموں پر مسلط کئے گئے۔ حضور ﷺ کی دعا سے اس امت کو اس قسم کے عام عذاب سے محفوط کردیا گیا ہے یعنی اس قسم کا عام عذاب جو گزشتہ اقوام کی طرح اس امت کا استیصال کر دے نازل نہ ہوگا۔ جزئی اور خصوصی واقعات اگر پیش آئیں تو اس کی نفی نہیں۔ ہاں…
Read the full tafseer →آیت 65 قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ عَلآی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ
مثلاً آسمان کا کوئی ٹکڑا یا کوئی شہاب ثاقب meteorite گرجائے۔ آج کل ایسی خبریں اکثر سننے کو ملتی ہیں کہ اس طرح کی کوئی چیز زمین پر گرنے والی ہے ‘ لیکن پھر اللہ کے حکم سے وہ خلا میں ہی تحلیل ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ozone کی تہہ بھی اللہ تعالیٰ نے زمین اور زمین والوں کے بچاؤ کے لیے پیدا کی ہے ‘ وہ چاہے تو اس حفاظتی چھتری کو ہٹا دے۔ بہرحال آسمانوں سے عذاب نازل ہونے کی کوئی بھی صورت ہوسکتی ہے اور اللہ جب چاہے یہ عذاب نازل ہوسکتا ہے۔
اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ
یہ عذاب تمہارے قدموں کے نیچے سے بھی آسکتا ہے ‘ زمین پھٹ…
Read the full tafseer →72 عذاب کی قسمیں : حرب فجار اور حرب بعاث :۔ اس آیت میں عذاب کی تین اقسام بیان فرمائیں (1) عذاب سماوی جیسے طوفان بادو باراں، کڑک، بجلی کا گرنا، تیز آندھی، پتھروں کی بارش وغیرہ (2) عذاب ارضی جیسے دریاؤں کا سیلاب، زلزلے اور زمین میں دھنس جانا (3) فرقہ بازی۔ خواہ یہ مذہبی قسم کی ہو یا سیاسی یا قبائلی ہو۔ یہ تینوں قسم کے عذاب اگلی امتوں پر آتے رہے ہیں۔ تیسری قسم کا عذاب تو آپ کی بعثت سے پہلے بھی موجود تھا۔ مکہ میں حرب فجار اور مدینہ میں حرب بعاث نے خاندانوں کے خاندان تباہ کردیئے تھے۔ سینکڑوں گھرانے اجڑ گئے مگر یہ قبائلی جنگیں ختم ہونے میں نہ آتی تھیں اور پہلی دو قسموں کا عذاب اس وقت آیا کرتا تھا…
Read the full tafseer →98 ۔ یہاں دنیوی مصائب کی تین عام و متعارف صورتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک (آیت) ” عذابا من فوقکم ‘۔ یعنی اوپر سے آنے والا عذاب۔ جیسے پتھر، آندھی، طوفان وغیرہ۔ ایک تفسیر ظالم حاکموں سے بھی آئی ہے۔ یحمل ھذا اللفظ علی مجازہ قال ابن عباس ؓ عذابا من الامراء (کبیر) ای السلاطین الظلمۃ (معالم) من قبل اکابر کم وسلاطینکم (کشاف) دوسرے (آیت) ” من تحت ارجلکم “ یعنی نیچے سے آنے والا عذاب، زلزلہ، سیلاب وغیرہ اس کی کھلی ہوئی مثالیں ہیں۔ مجازا سرکش رعایا یا نافرمان غلام بھی مراد لئے گئے ہیں۔ قال ابن عباس من العبید والسفلۃ (کبیر) من قبل سفلتکم وعبیدکم (کشاف) (آیت) ” یذیق بعضکم باس بعض “۔ تیسری قسم عذاب الہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
قُلْ مَنْ یُنجّیْکم من الظلمٰتِ (الآیۃ) یہ حقیقت ہے کہ تنہا وہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں قسمتوں کی باگ ڈور ہے، جب تمام اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کو پکارتے ہو، اس کھلی دلیل کے ہوتے ہوئے بھی تم بلا دلیل دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔
قُلْ ھو القادِرُ علی ان یَبْعَثَ علیکم عذاباً ، (الآیۃ) معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسانی وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسانہ ہے جیسا کہ اصحاب فیل پر برسے تھے، اور نیچے کے عذاب سے مراد زمین کا دھنسنا ہے جیسا کہ قادرون دھنس گیا تھا…
Read the full tafseer →قل ہو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی اس بات پر بھی قدرت رکھتا ہے کہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب تم پر بھیج دے۔ جیسے قوم نوح قوم عاد اور قوم لوط اور اصحاب الفیل کے ساتھ کیا ہے۔
اومن تحت ارجلکم یا تمہارے پاؤں تلے سے (کوئی عذاب بھیج دے) جیسے قوم نوح کے ساتھ کیا کہ زمین کے اندر سے چشمہ جاری کر کے پانی کے طوفان سے سب کو ڈبو دیا یا فرعون کو غرق کردیا یا قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔ حضرت ابن عباس ؓ و مجاہد (رح) : کا قول ہے کہ عذاب فوق سے ظالم بادشاہ اور تحت ارجلکم سے بد کردار غلام مراد ہیں ضحاک نے کہا فوق و تحت سے بڑے چھوٹے مراد ہیں بعض علماء نے کہا فوقکم سے بارش کو اور…
Read the full tafseer →(65) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ تم پر عذاب نازل کردینے پر جیسا کہ حضرت نوح ؑ کی قوم اور حضرت لوط ؑ کی قوم پر نازل کیا ہے اور تمہیں زمین میں دھنسا دینے پر جیسا کہ قارون کو دھنسایا یا تمہیں اغراض کے اختلاف سے مختلف کرکے جیسا کہ انبیاء کے بعد بنی اسرائیل کو کیا ہے، آپس میں بھڑا دینے پر قادر ہے، محمد ﷺ ہم قرآن کریم میں گزشتہ قوموں کے واقعات اور ان کی کارگزاریاں کس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ یہ لوگ احکام خداوندی اور توحید خداوندی کو سمجھیں۔
شان نزول : (آیت) ”قل ھو القادر“۔ (الخ)
ابن ابی حاتم ؒ نے زید بن اسلم ؒ سے روایت کیا ہے کہ جب وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ فرما دیجیے کہ وہ اس پر بھی قادر کہ…
Read the full tafseer →قُلْ هُوَ الْقَادِرُ۔۔ : اوپر سے عذاب جیسے بارش کی کثرت، طوفان، بجلی، اولے اور آندھی وغیرہ، یا ظالم حکمران، یا عورت کے لیے اس پر ظلم کرنے والا خاوند اور نیچے سے عذاب، جیسے زلزلہ، قحط، زمین میں دھنس جانا، یا ایسے ماتحت جو خائن اور بددیانت ہوں، مرد کے لیے ناموافق بیوی۔ ”اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا“ یعنی مختلف گروہ بنا کر انھیں آپس میں گتھم گتھا کر دے، یہ لڑائی بھی خوفناک عذاب ہے۔ جابر ؓ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ”کہہ دے وہی اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیج دے“ تو آپ نے دعا کی : ”میں تیرے چہرے کی پناہ چاہتا ہوں۔“ پھر یہ نازل ہوا : ”یا تمہارے نیچے سے“ تو رسول اللہ ﷺ نے دعا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
: (آیت) 63، 64۔۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) قل من ینجیکم من ظلمٰت البر والبحر (اس میں ظلمات سے مراد) خشکی اور سمندر کی تکالیف اور مصیبتیں ہیں : کہا جاتا ہے : یوم مظلم یعنی شدید اور مشقت آمیز دن۔ نحاس نے کہا ہے : عرب کہتے ہیں : یوم مظلم جب دن شدید اور سخت ہو، اور اگر دن کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر کہتے ہیں : یوم ذوکواکب (یعنی ایسا دن جس میں ستارے نظر آئیں، اس میں مراد شدت اور تکلیف ہوتی ہے) اور سیبویہ نے کہا ہے :
بنی اسد ھل تعلمون بلائنا اذا کان یوم ذوکواکب اشنعا
” اے بنی اس ! کیا تم ہماری آزمائش اور مصیبت کو جانتے ہو، جب دن ستاروں والا ہو تو وہ انتہائی شنیع اور تکلیف دہ ہوتا ہے “۔ ظلمٰت کو جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
(1) امام ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم سے مراد امراء کی جانب سے آنے والے عذاب ہے اور لفظ آیت تحت ارجلکم سے مراد وہ اذیت اور تکلیف ہے جو تمہارے گھٹیا لوگوں کی جانب ہے پہنچے لفظ آیت اویلبسکم شیعا سے مراد مختلف خواہشات رکھنے والے لوگوں میں غلط ملط ہونا اور لفظ آیت ویذیق بعضکم باس بعض یعنی وہ تم میں سے بعض کو بعض پر قتل اور عذاب کے ساتھ مسلط کردے۔
(2) امام ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت قل ھو القادر علی ان یبعث علیکم عذابا من فوقکم یعنی برے آئمہ…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] هُوَ الْقَادِرُ [ وہی قدرت رکھنے والا ہے ] عَلٰٓي [ اس پر ] اَنْ [ کہ ] يَّبْعَثَ [ وہ بھیج دے ] عَلَيْكُمْ [ توم لوگوں پر ] عَذَابًا [ کوئی عذاب ] مِّنْ فَوْقِكُمْ [ تمہارے اوپر سے ] اَوْ [ یا ] مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ [ تمہارے قدموں کے نیچے سے ] اَوْ [ یا ] يَلْبِسَكُمْ [ وہ تم لوگوں کو بھڑا دے ] شِيَعًا [ فرقہ فرقہ ہوتے ہوئے ] وَّيُذِيْقَ [ اور وہ مزا چکھا دے ] بَعْضَكُمْ [ تمہارے بعض کو ] بَاْسَ بَعْضٍ ۭ [ بعض کو جنگ کا ] اُنْظُرْ [ (تو ) دیکھو ] كَيْفَ [ کیسے ] نُصَرِّفُ [ ہم بار بار بیان کرتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] لَعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ ] يَفْقَهُوْنَ […
Read the full tafseer →اللہ اس پر قادر ہے کہ اوپر سے یا نیچے سے عذاب بھیج دے یا آپس میں جنگ کرا دے
انسانوں کو بحرو بر میں جو تکلیفیں پہنچ جاتی ہیں اور جن مصائب میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے دفعیہ کے لیے اخلاص کے ساتھ سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے لگتے ہیں۔ پھر جب مصیبت ٹل جاتی ہے تو ساری دعائیں بھول جاتے ہیں یہ تو ان مصیبتوں کا حال ہے جن میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور بیشمار مصیبتیں ایسی ہیں جو پہنچتی ہی نہیں ہیں اللہ تعالیٰ کو قدرت ہے کہ اوپر سے عذاب بھیج دے پتھر برسا کر ہلاک کر دے۔ بہت زیادہ بارش بھیج دے یا سخت چیخوں کی آوازیں آجائیں، اور اسے اس پر بھی قدرت ہے کہ بندوں پر نیچے سے عذاب بھیج دے۔ سیلاب آجانا۔ زمین میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
70 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اگر تم انکار ہی کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ دنیا میں ہر طرف سے تم پر عذاب نازل کر دے اور تم میں بغض وعداوت ڈال کر تم کو ٹکڑے ٹکڑے کردے اور تم آپس میں لڑنے لگو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیروں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا…… کہ یہ کفر شرک اور گمراہی کی بات ہے۔ اس کے بعد الوہیت کی صفات مختصہ کا بیان تھا کہ عالم الغیب صرف وہی ہے وہی ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور مدد بھی اسی سے طلب کرنی چاہئے۔ پھر درمیان میں فرمایا کہ لوگوں کو خشکی یا تری میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان سے بچا کر لانے والا بھی اللہ ہی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ پھر بھی اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی تنبیہہ تھی کہ جب علم غیب کا مالک وہ ہے ‘ غلبہ اور قدرت اس کو حاصل ہے ‘ تو پھر الہ بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ فوراً گرفت نہیں کرتا تو یہ اس…
Read the full tafseer →قُلْ ہُوَالْقَادِرُ عَلٰٓي اَنْ يَّبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِكُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِكُمْ اَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَّيُذِيْقَ بَعْضَكُمْ بَاْسَ بَعْضٍ 0ۭ اُنْظُرْ كَيْفَ نُصَرِّفُ الْاٰيٰتِ لَعَلَّہُمْ يَفْقَہُوْنَ 65
قادر
الْقُدْرَةُ إذا وصف بها الإنسان فاسم لهيئة له بها يتمكّن من فعل شيء ما، وإذا وصف اللہ تعالیٰ بها فهي نفي العجز عنه، ومحال أن يوصف غير اللہ بالقدرة المطلقة معنی وإن أطلق عليه لفظا، بل حقّه أن يقال : قَادِرٌ علی كذا، ومتی قيل : هو قادر، فعلی سبیل معنی التّقييد، ولهذا لا أحد غير اللہ يوصف بالقدرة من وجه إلّا ويصحّ أن يوصف بالعجز من وجه، والله تعالیٰ هو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ترکیب : تدعونہ موضع حال میں ہے ضمیر مفعول سے جو ینجیکم میں ہے۔ اسی طرح تضرعا و خفیہ۔ بعض نے خفیۃ 2 ؎ کو خیفۃ بھی پڑھا ہے۔ من الخوف من فوقکم اومن تحت متعلق یبعث۔
1 ؎ عام حمزہ کسائی نے ینجیکم کو بالتشدید باقی نے بالتخفیف پڑھا ہے۔ نجا اور نتجا ایک معنی میں آیا ہے۔ الشیع الشیعۃ کی جمع ہے جیسا کہ الشیاع ہے۔ شیعہ ایک دوسرے کے تابع یلبس شیعکم یخلط امرکم۔
2 ؎ خفیۃ ضد آشکارا یہ عام قراء کا مذہب ہے، عاصم کی روایت میں کسرہ ہے یہاں بھی اور اعراف میں بھی خیفہ اول اخفاء سے دوم خوف سے ہوگا۔ معالم 12 منہ
تفسیر : یہ ان دلائل میں سے ہے جو اس کے کمال وقدرت اور رحمت پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک اور قسم ہے عرب کے…
Read the full tafseer →ارشاد ہوتا ہے :
قُلْ ھُوَ الْقَادِرُ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ ط اُنْظُرْ کَیْفَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّھُمْ یَفْقَھُوْنَ ۔ (الانعام : 65)
(کہہ دو ! خدا قادر ہے ‘ اس بات پر کہ تم پر تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے کوئی عذاب اٹھا دے یا تم کو گروہ در گروہ کر کے آپس ہی میں گتھم گتھاکر دے اور ایک کو دوسرے کے تشدد کا مزا چکھا دے۔ دیکھو ! کس کس طرح ہم اپنی آیتیں مختلف پہلوئوں سے بیان کرتے ہیں ‘ تاکہ وہ سمجھیں)
اللہ تعالیٰ ہر طرف سے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
فہم القرآن
ربط کلام : سمندر کے طوفان اور صحرا کے گرداب اور بھنور میں ہی نہیں وہ اللہ جب چاہے انسان کو دیگر آزمائشوں اور عذابوں میں مبتلا کرسکتا ہے۔ اے لوگو تم ہر حال میں اپنے رب کے سامنے مجبور محض ہو۔
پہلی آیات میں برّی گرداب اور سمندری طوفانوں کا ذکر ہوا ہے۔ جن کے ساتھ عام طور پر مسافر کو واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے کہ لازم نہیں کہ صرف سفر میں ہی تمہیں مشکلات اور عذاب کے ساتھ واسطہ پڑے۔ وہ اللہ اس بات پر قادر ہے کہ تمہیں تمہارے گھروں میں بیٹھے ہوئے آسمانی اور زمینی عذاب سے دو چار کردے، یہی نہیں بلکہ تمہیں تمہاری نافرمانی، بداخلاقی اور…
Read the full tafseer →ہر طرح کی پکڑ پھر اسے ہر وقت کامل قدرت ہے :
آیت 65 : قُلْ ہُوَ الْقَادِرُ وہ وہی ذات ہے کہ جس کا قادر ہونا تمہیں معلوم ہے یا قادر کا معنی کامل القدرت اس میں لام عہد و جنس دونوں کا احتمال رکھتی ہے۔ عَلٰٓی اَنْ یَّبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذَابًا مِّنْ فَوْقِکُمْجیسا اس نے قوم لوط پر عذاب کی بارش برسائی اور اصحاب فیل پر پتھروں کی۔ اَوْ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِکُمْ جیسا اس نے فرعون کو غرق کیا اور قارون کو زمین میں دھنسا دیا۔ یا تمہارے سلاطین اور کمینے لوگوں کی طرف سے یا اس سے مراد بارش کا بند ہونا۔ اور نبات کا نہ اگنا ہے۔ اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا تمہیں فرقوں میں بانٹ دے جن کی خواہشات مختلف ہوں ہر گروہ…
Read the full tafseer →(65) (قل ھو القادر علی ان یبعت علیکم عذاباً من فوقکم) حسن اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ آیت اہل ایمان کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور ایک جماعت نے کہا کہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ عذاباً من فوقکم یعنی چیخ، پتھر، ہوائیں اور طوفان جیسے قوم عاد، ثمود اور قوم لوط اور قوم نوح کے ساتھ کیا ہے۔ (اومن تحت ارجلکم) یعنی زلزلے اور دھنسا دینا جیسے شعیب کی قوم اور قارون کے ساتھ کیا۔ ابن عباس ؓ، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اوپر سے عذاب ظالم حکمران اور نیچے سے عذاب برے غلام (اویلبسکم شیعاً ) یعنی تم میں مختلف فرقے ملا دے اور تم میں مختلف خواہشات پھیلا دے ۔ (ویذیق بعضکم باس بعض) یعنی تم ایک دوسرے کو…
Read the full tafseer →معتبر سند سے مسند امام احمد نسائی تفسیر ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ میں ابی بن عبد ؓ وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسنا ہے جس طرح مثال اصحاب فیل پر برسے اور نیچے کے عذاب سے مراد و زمین کا دھنسنا 2 ؎ ہے
2 ؎ تفسیر الدر المنثورج 3 ص 17 روایت کے لفظ یہ ہیں الخف والہجم و تفسیر ابن کثیر ج 2 ص 142 و تفسیر ابن جریرج 7 ص 135۔
جس طرح مثلا قارون دھنس گیا اور ابن مردویہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ نے اللہ سے دعا کی کہ میری امت سے یہ تینوں قسم کے عذاب جن کا ذکر اس آیت میں ہے اٹھ جاویں تو اللہ تعالیٰ نے پتھروں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
آیت 62
(قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ! (من ینجیکم من ظلمت البر والبحر) ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے ؟ “ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ ) کے شکر گزار ہوں گے “ اس…
Read the full tafseer →114 اللہ کا عذاب اوپر سے بھی آسکتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ خالق ومالک اس پر قادر ہے کہ تم لوگوں پر کوئی ہولناک عذاب بھیج دے تمہارے اوپر سے تباہ کن بجلیوں یا طوفانی بارشوں کی شکل میں یا یخ بستہ اور بھاری بھرکم اولوں کی صورت میں۔ جیسا کہ ابھی کچھ دن پہلے کی خبر ہے جسے دنیا کے تمام ذرائعِ ابلاغ نے پھیلایا اور نشر کیا کہ یورپ کے ملک سپین میں چار چار کلو کے اولے پڑے۔ جس پر سائنس دان اپنی لیبارٹریوں میں بحث و تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے ؟ یا آگ برساتی آتش فشانی کے طور پر یا اور کسی ایسے ہولناک عذاب کی شکل میں جو تمہارے تصور میں بھی نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
عذاب کی اقسام
تشریح : ان آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ لے رکھا ہے تمام انسانوں سے، یعنی ہر بندہ فطرتاً اللہ کو ہی خالق ومالک مانتا ہے مگر پھر بھی کفار شرک، کفر اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ صاف صاف بتا دیں کہ میں نے توحید کا پیغام اور اللہ کی حاکمیت قدرت اور طاقت کے بارے میں خوب وضاحت کردی ہے پھر بھی جو کفر کرتے ہیں تو ان کو عقل سے کام لے کر اور اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایمان، سلامتی اور نجات کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے ورنہ پھر وہ گھڑی، یعنی عذاب کی گھڑی بھی اپنے مقررہ وقت پر آنے والی ہے جب تم سب لوگوں کو اپنے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 8 جیسے بارش طوفان بجلی اولے آندھی وغیرہ حضرت ابن عباس ؓ اوپر کے عذاب سے ظالم حکمران بھی مراد لیتے ہیں۔ ( درمنشو ر)
9 جیسے زلزلہ قحط اور زمین میں دھنسنا وغیرہ10 اور یہ وہ عذاب ہے جس سے مسلمان محفوظ نہ رہے حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ تین چیزوں کی درخواست کی پز اوپر اور نیچے سے عذاب کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے دعا قبول فرمالی مگر تیسری دعا کہ میرے امت آپس کے تفرقے اور جنگ وجدال سے محفوظ رہے مگر منظور نہیں فرمائی (مسلم)11 وار اپنی روش سے باز آجائیں، حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں عذاب یہ بھی ہے کہ آپس میں لڑادے اور ایک دوسرے کو قتل یا قید کرے حضرت نے سمجھ لیا کہ یہ اس…
Read the full tafseer →(6:65) یلبسکم شیعا۔ یلبس مضارع واحد مذکر غائب ۔ لبس مصدر (باب ضرب) کم ضمیر مفعول وہ تم کو ملا دے۔ یعنی باہم دست و گریباں کر دے۔ شیع جمع شیعۃ کی۔ البس علیہ الامر۔ جب بات مشتبہ اور گڈ مڈ ہوجائے۔ ولبس علیہ الامر خلط ملط ہوجانا کہ حقیقت پہچانی نہ جاسکے۔ قرآن میں ہے ولا تلبسوا الحق بالباطل (2:42) اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط مت کرو۔ یلبسکم شیعا تم کو مختلف فرقوں میں بانٹ دے کہ آپس میں الجھ جاؤ اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑنے لگو۔
یذیق۔ مضارع واحد مذکر غائب اذاقۃ مصدر (باب افعال) وہ چکھائے۔ یبعث۔ یلبس اور یذیق منصوب آئے ہیں بوجہ عمل ان کے۔ باس لڑائی۔ دبدبہ۔ سختی۔ آفت۔ جنگ کی شدت۔
یذیق بعضکم باس بعض۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 67 :
یلبس ( وہ پہناتا ہے۔ وہ گڈ مڈ کرتا ہے) ‘ شیع ( فرقے) ‘ یذیق ( وہ چکھا تا ہے) ‘ یفقھون ( وہ سمجھتے ہیں) ‘ لست ( میں نہیں ہوں) وکیل (کام بنانے والا) ‘ مستقر (ٹھکانا) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 67 :
گذشتہ دو آیات میں ذکر تھا کہ خشکی اور سمندر کی آفتوں سے صرف اللہ ہی بچا سکتا ہے۔ اب آیات 65 اور 66 میں ذکر ہے کہ وہی ایک اللہ تمہارے اوپر آفت لاسکتا ہے۔ یعنی آفت سے بچانے والا بھی وہی ہے اور آفت لانے والا بھی وہی ہے۔
یہاں خاص طور سے تین طرح کے عذابوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ایک وہ جو اوپر سے آئے دوسرے وہ جو نیچے سے آئے ۔ تیسرے باہمی فرقہ وار انہ فسادات کے ذریعہ سے پھوٹ…
Read the full tafseer →اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے مراد پتھر برسنا ہے، اور نیچے سے مراد زمین کا دھنسنا ہے۔ کئی فرقے سے مراد آپس کی پھوٹ ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ میری امت سے یہ تینوں قسم کے عذاب جن کا ذکر اس آیت میں ہے اٹھ جاویں، تو اللہ تعالیٰ نے پتھروں کے برسنے کا عذاب اور زمین کے دھنسنے کا عذاب عام طور سے اٹھا لیا مگر آپس کی پھوٹ اور خانہ جنگی یہ عذاب باقی رہا۔ آگے فرمایا کہ قرآن شریف کی آیتوں میں طرح طرح کی تنبیہ ہیر پھیر کے اس لئے ان لوگوں کو کی جاتی ہے کہ یہ لوگ شرک سے باز آویں اور پنے بھلے برے کو سمجھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–67
عذاب تخرب :
(ف 1) مقصد یہ ہے کہ بت پرستی پر اصرار ، حق وصداقت کے خلاف اعلان جنگ یاد رکھو بہتر نہیں خدا ہر وقت قادر ہے ، کہ تم پر عذاب بھیج دے زمین تمہارے لئے پھٹ سکتی ہے ، اور سب سے بڑا عذاب یہ ہے کہ تم میں جمعیت نہ رہے ، اختلاف وتخریب کی آندھیاں چلیں ، اور کفر و طغیان کی تناودرختوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ،
حل لغات :
شیعا : جمع شیعۃ ۔ گروہ ، جماعت ۔
یخوضون ، مادہ خوض عام طور پر اسلام کے خلاف غور وفکر کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
Read the full tafseer →-65 چونکہ یہ لوگ صرف پانی کے طوفان اور جنگل کی آندھی کو اللہ تعالیٰ کی گرفت سمجھتے ہیں اس لئے آپ ان سے فرما دیجیے کہ وہ اللہ اس پر بھی قادر ہے کہ تمہارے اوپر سے تم پر کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پائوں کے نیچے سے کوئی عذاب تم پر مسلط کر دے جیسے پتھرائو یا طوفانی بارش یا زلزلہ یا زمین می دھنس جانا وغیرہ اور وہ اللہ تعالیٰ یہ بھی قدرت رکھتا ہے کہ تم کو کئی فرقے اور کئی گروہ بنا دے اور باہمی اختلاف کے باعث تم کو آپس میں ہی بھڑا دے اور تم کو باہمی جنگ میں مبتلا کر کے ایک دوسرے کو لڑائی کا مزہ چکھا دے یعنی تم میں پھوٹ پڑجائے اور تم آپس میں ایک دوسرے سے لڑ مرو اے پیغمبر آپ ذرا دیکھیے تو ہم کس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 10۔ جیسے پتھر، یا ہوا، یا بارش طوفانی۔
11۔ جیسے زلزلہ یا غرق ہوجانا۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! تم کہہ دو وہ قادر ہے کہ تم پر اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے :
101: اس آیت میں عذاب الٰہی کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا۔ ایک وہ عذاب جو اوپر سے آئے۔ دوسرے وہ عذاب جو نیچے سے آئے اور تیسرا وہ عذاب جو اپنی قوم یا نسل انسانی کے اندر سے پھوٹ پڑے۔ پھر ان تینوں ہی قسموں کے عذاب دیئے گئے ، دیئے جا رہے ہیں اور دیئے جائیں گے۔ اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی بعثت کے زمانہ میں علاقہ و قوم کا نبی اپنے مخالفین کو حکم الٰہی کے مطابق آگاہ کردیتا تھا جس کیلئے وقت اور تاریخ کا اعلان ہوجاتا تھا اور پھر وہ عذاب جو وقت اور تاریخ کے ساتھ اعلان کردیا جائے وہ اس تاریخ اور وقت پر…
Read the full tafseer →Commentary
Mentioned in the previous verses was one manifestation of the knowledge and power of Allah Almighty that He alone can remove human distress and whoever calls on Him while in difficulty shall find His help before his eyes. The reason is that He is perfectly powerful over the whole universe and He is also perfectly merciful to His entire creation. No one else has that perfect power and universal mercy.
Mentioned in the present verses is another side of His perfect power - that He can punish any individual or group for its contumacy if He wills to do so. And doing so is easy for Him.…
Read the full tafseer →42. God's punishment can strike in an instant. This is the warning to those who, supposing such punishment to he remote, were growing bolder in their hostility towards the Truth. They could be destroyed in a moment by a hurricane. Just a few earthquake trernors could raze villages and cities to the ground. Likewise, a few spark, of hostility could ultimately wreak such havoc among tribes. nations and countries that bloodshed and lawlessness plague them for years on end. Hence if they are spared punishments for a while that should not drug them to heedlessness and lead them to live in total…
Read the full tafseer →