Explained with ayahs 63–65
احسان فراموش نہ بنو
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرماتا ہے کہ جب تم خشکی کے بیابانوں اور لق و دق سنسان جنگلوں میں راہ بھٹکے ہوئے قدم قدم پر خوف و خطر میں مبتلا ہوتے ہو اور جب تم کشتیوں میں بیٹھے ہوئے طوفان کے وقت سمندر کے تلاطم میں مایوس و عاجز ہوجاتے ہو۔ اس وقت اپنے دیوتاؤں اور بتوں کو چھوڑ کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتے ہو۔ یہی مضمون قرآن کریم کی آیت (وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ) 17۔ الاسراء :67) میں اور آیت (ھُوَ الَّذِيْ يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ) 10۔ یونس :22) میں اور آیت (اَمَّنْ يَّهْدِيْكُمْ فِيْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 41
یعنی یہ حقیقت کہ تنہا اللہ ہی قادر مطلق ہے، اور وہی تمام اختیارات کا مالک اور تمہاری بھلائی اور برائی کا مختار کل ہے، اور اسی کے ہاتھ میں تمہاری قسمتوں کی باگ دوڑ ہے، اس کی شہادت تو تمہارے اپنے نفس میں موجود ہے۔ جب کوئی سخت وقت آتا ہے اور اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کی طرف رجوع کرتے ہو۔ لیکن اس کھلی علامت کے ہوتے ہوئے بھی تم نے خدائی میں بلا دلیل و حجت اور بلا ثبوت دوسروں کو اس کا شریک بنا رکھا ہے۔ پلتے ہو اس کے رزق پر اور ان داتا بناتے ہو دوسروں کو۔ مدد پاتے ہو اس کے فضل و کرم سے اور حامی و ناصر ٹھیراتے ہو دوسروں کو۔ غلام ہو اس کے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان لوگوں سے) کہئے کہ وہ کون ہے جو تم کو خشکی اور دریا کی ظلمات (یعنی شدائد) سے اس حالت میں نجات دے دیتا ہے کہ تم اس کو (نجات دینے کے لئے) پکارتے ہو (کبھی) تذلل ظاہر کرکے اور (کبھی) چپکے چپکے (اور یوں کہتے ہو) کہ (اے اللہ) اگر آپ ہم کو ان (ظلمات) سے (اب کے) نجات دیدیں تو (پھر) ہم ضرور حق شناسی (پر قائم رہنے) والوں میں سے ہوجاویں (یعنی آپ کی توحید کے کہ بڑی حق شناسی ہے قائل رہیں، اور اس سوال کا جواب چونکہ متعین ہے اور وہ لوگ بھی کوئی دوسرا جواب نہ دیں گے اس لئے) آپ (ہی) کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو ان سے نجات دیتا ہے (جب کبھی نجات ملتی ہے) اور (ان ظلمات مذکورہ کی کیا تخصیص ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
63 تا 64: قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، ظلمات، مصائب اور آفات کی تعبیر ہے، سمندر کی تاریکیوں کا ذکر قرآن نے سورة نور میں یوں فرمایا ہے۔ او کظلمات فی بحر لجی یغشاہ موج من فوقہ موج من فوقہ سحاب، ظلمات بعضہا فوق بعض، اذا اخرج یدہ لم یکد یراھا، یا کسی گہرے سمندر کی تاریکیاں جس میں موج کے اوپر موج اٹھ رہی ہو، اور اس کے اوپر باد چھائے ہوئے ہوں، تاریکیوں کے اوپر تاریکی، جب اپنا ہاتھ نکالے تو وہ بھی اس کو سجھائی نہ دے، اسی طرح کے طوفانوں اور مصائب سے آدمی کو خشکی میں بھی سابقہ پیش آجاتا ہے۔
تَدْعُوْنَهٗ تَضَرُّعًا وَّخُفْيَةً۔ تدعون، ینجیکم کی ضمیر مفعول سے حال پڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
62۔ 1 آیت میں ردوا (لوٹائے جائیں گے) کا مرجع بعض نے فرشتوں کو قرار دیا ہے۔ یعنی قبض روح کے بعد فرشتے اللہ کی بارگاہ لوٹ جاتے ہیں۔ اور بعض نے اس کا مرجع تمام لوگوں کو بنایا ہے۔ یعنی سب لوگ حشر کے بعد اللہ کی بارگاہ میں لوٹائے جائیں گے (پیش کئے جائیں گے) پھر وہ سب کا فیصلہ فرمائے گا۔ آیت میں روح قبض کرنے والے فرشتوں کو رسل (جمع کے صیغے کے ساتھ) بیان کیا ہے جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے والا فرشتہ ایک نہیں متعدد ہیں۔ اس کی تشریح بعض مفسرین نے اسطرح کی ہے کہ قرآن مجید میں روح قبض کرنے کی نسبت اللہ کی طرف بھی ہے۔ (اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا) 39:42 اللہ لوگوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–65
23: نگہبان فرشتوں سے مراد وہ فرشتے بھی ہوسکتے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں اور وہ بھی جو ہر انسان کی جسمانی حفاظت پر مقرر ہیں۔ اور جن کا ذکر سورة رعد (11: 13) میں آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(آیت) ” نمبر 63 تا 64۔
خطرات کا تصور اور ہولناک لمحات کی یاد بعض اوقات خود انسانوں کو بھی راہ راست پر لے آتی ہے ۔ اس سے پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں ۔ اس سے انسان کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ انسان بہت ہی ضعیف ہے اور اسے ہر وقت اللہ کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ‘ جس کے نتیجے میں اس کی مشکلات دور ہوجاتی ہیں اور اسے نعمت الہیہ بشکل نجات دستیاب ہوتی ہے ۔
(آیت) ” قُلْ مَن یُنَجِّیْکُم مِّن ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ تَدْعُونَہُ تَضَرُّعاً وَخُفْیَۃً لَّئِنْ أَنجَانَا مِنْ ہَـذِہِ لَنَکُونَنَّ مِنَ الشَّاکِرِیْنَ (63)
(اے نبی ﷺ ان سے پوچھو ‘ صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
2 یعنی حق تعالیٰ باوجود علم محیط اور قدرت کاملہ کے جس کا بیان اوپر ہوا، تمہاری بد اعمالیوں اور شرارتوں کی سزا فورا نہیں دیتا۔ بلکہ جب مصائب و شدائد کی اندھیریوں میں پھنس کر تم اس کو عاجزی سے پکارتے ہو اور پختہ وعدے کرتے ہو کہ اس مصیبت سے نکلنے کے بعد کبھی شرارت نہ کریں گے اور ہمیشہ احسان کو یا رکھیں گے، تو بسا اوقات تمہاری دستگیری کر کے ان مہالک اور ہر قسم کی سختیوں سے نجات دے دیتا ہے لیکن تم پھر بھی اپنے وعدہ پر قائم نہیں رہتے اور مصیبت سے آزاد ہوتے ہی بغاوت شروع کردیتے ہو۔
Read the full tafseer →آیت 64 قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْہَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ
مصیبت سے نجات کے بعد پھر سے تمہیں دیویاں ‘ دیوتا ‘ جھوٹے معبود ‘ اور اپنے سردار یاد آجاتے ہیں۔ اب اگلی آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں عذاب الٰہی کی تین قسمیں بیان ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →71 ایسے آڑے وقتوں میں مشرک کو اپنے سب دیوی دیوتا اور بزرگ بھول جاتے ہیں اور اللہ ہی یاد آتا ہے حتیٰ کہ اللہ کے منکر اور دہریے بھی بےاختیار اللہ سے فریاد کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جب یہ بلا سر سے ٹل جاتی ہے پھر انہیں اللہ سے اپنا کیا ہوا وعدہ یاد ہی نہیں رہتا اور ایسی کھلی علامت دیکھ لینے کے باوجود بعد میں وہ اللہ کے تصرف و اختیار میں ایسی ہستیوں کو شریک بنا لیتے ہیں جن کے لیے علمی دلیل یا ثبوت ان کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ (نیز دیکھئے اسی سورة کی آیت نمبر 46 کا حاشیہ اور سورة یونس کا حاشیہ نمبر 34)
Read the full tafseer →97 ۔ عام نفس بشری کی خباثت کا بیان ہے کہ مصیبت کے وقت تو کم ظرف انسان رونے گڑگڑانے چلانے لگتا ہے۔ اور ادھر مصیبت ختم ہوئی کہ ادھر پھر وہی اکڑ پیدا ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” ومن کل کرب “۔ یعنی ایک وہی مصیبت کی کیا تخصیص ہے، نجات جس غم سے بھی ملتی ہے، نجات دینے والا ہر حال میں وہی ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
قُلْ مَنْ یُنجّیْکم من الظلمٰتِ (الآیۃ) یہ حقیقت ہے کہ تنہا وہی قادر مطلق ہے اور وہی تمام اختیارات کا مالک ہے، اسی کے ہاتھ میں قسمتوں کی باگ ڈور ہے، جب تمام اسباب کے سر رشتے ٹوٹتے نظر آتے ہیں تو اس وقت تم بےاختیار اسی کو پکارتے ہو، اس کھلی دلیل کے ہوتے ہوئے بھی تم بلا دلیل دوسروں کو اس کی خدائی میں شریک ٹھہراتے ہو۔
قُلْ ھو القادِرُ علی ان یَبْعَثَ علیکم عذاباً ، (الآیۃ) معتبر سند سے مسند امام احمد اور نسانی وغیرہ میں ابی بن کعب وغیرہ سے روایت ہے کہ اوپر کے عذاب سے مراد آسمان سے پتھر برسانہ ہے جیسا کہ اصحاب فیل پر برسے تھے، اور نیچے کے عذاب سے مراد زمین کا دھنسنا ہے جیسا کہ قادرون دھنس گیا تھا…
Read the full tafseer →قل اللہ ینجیکم منہا ومن کل کرب ثم انتم تشرکون آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی تم کو اس تاریکی اور ہر غم سے بچاتا ہے پھر بھی تم شرک کرنے لگتے ہو۔ یعنی شرک کی طرف لوٹ جاتے ہو۔ وعدہ پورا نہیں کرتے ‘ جانتے ہو کہ مصیبت سے اللہ ہی تم کو بچاتا ہے اور بت کسی کام نہیں آتے پھر بھی بتوں کو (عبادت میں) اللہ کا شریک بناتے ہو۔ بجائے لا تشکرونکے تشرکون فرمایا اس میں پوری سرزنش ہے اور اس بات پر تنبیہ ہے کہ جس نے اللہ کی عبادت میں دوسروں کو شریک کیا اس نے قطعاً اللہ کی عبادت ہی نہیں کی ثم انتم میں ثُمَّ ہے تراخی کے لئے نہیں ہے بلکہ انعام و شرک میں انتہائی بُعد ظاہر کرنے کے لئے۔
Read the full tafseer →(64) اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ خشکی اور دریائی سختیوں اور ہر ایک آفت و غم سے اللہ ہی نجات دیتا ہے، مگر مکہ والو ! ان احسانات کے باوجود تم بتوں کو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
قُلْ مَنْ يُّنَجِّيْكُمْ۔۔ : یہ حالت ان مشرکوں کی تھی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھے، ہمارے زمانے میں مسلمان کہلانے والے کئی ایسے لوگ ہیں جو مشکل میں پھنسے ہوئے بھی دوسروں کو پکارتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
: (آیت) 63، 64۔۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) قل من ینجیکم من ظلمٰت البر والبحر (اس میں ظلمات سے مراد) خشکی اور سمندر کی تکالیف اور مصیبتیں ہیں : کہا جاتا ہے : یوم مظلم یعنی شدید اور مشقت آمیز دن۔ نحاس نے کہا ہے : عرب کہتے ہیں : یوم مظلم جب دن شدید اور سخت ہو، اور اگر دن کی شدت بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر کہتے ہیں : یوم ذوکواکب (یعنی ایسا دن جس میں ستارے نظر آئیں، اس میں مراد شدت اور تکلیف ہوتی ہے) اور سیبویہ نے کہا ہے :
بنی اسد ھل تعلمون بلائنا اذا کان یوم ذوکواکب اشنعا
” اے بنی اس ! کیا تم ہماری آزمائش اور مصیبت کو جانتے ہو، جب دن ستاروں والا ہو تو وہ انتہائی شنیع اور تکلیف دہ ہوتا ہے “۔ ظلمٰت کو جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(1) امام عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر کے بارے میں فرمایا کہ خشکی اور تری کے غم سے (کو ن تم کو بچا تا ہے)
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت قل من ینجیکم من ظلمت البر والبحر تدعونہ تضرعا وخفیۃ کے بارے میں فرمایا کہ جب کوئی بندہ راستے کو گم کردیتا ہے (یعنی راستے سے بھٹک جاتا ہے) اور وہ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے اور کہتا ہے لفظ آیت لئن انجنا من ھذہ لنکونن من الشکرین (کہ اگر تو ہم کو نجات دیدے تو ہم ضرور شکر گزار بندے بن جائیں گے)
Read the full tafseer →قُلِ [ آپ کہئے ] اللّٰهُ [ اللہ ] يُنَجِّيْكُمْ [ نجات دیتا ہے تم کو ] مِّنْهَا [ اس سے ] وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ [ اور ہر ایک دکھ سے ] ثُمَّ [ پھر (بھی )] اَنْتُمْ [ تم لوگ ] تُشْرِكُوْنَ شریک کرتے ہو (دوسروں کو )
Read the full tafseer →(قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْھَا وَ مِنْ کُلِّ کَرْبٍ ) (اللہ تمہیں اس مصیبت سے اور ہر بےچینی سے نجات دیتا ہے) ۔ (ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ) (پھر تم شرک کرنے لگتے ہو) مصیبت میں خالص اللہ کو پکارتے ہو۔ اور شکر گزاری کے وعدے کرتے ہو پھر جب اللہ تعالیٰ مصیبت دور فرما دیتا ہے تو سب وعدے بھول جاتے ہو اور شرک کرنے لگتے ہو۔
سورة یونس میں فرمایا (فَلَمَّآ اَنْجٰھُمْ اِذَا ھُمْ یَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِِّ ) (سو جب ان کو اللہ نے نجات دیدی تو وہ اچانک زمین میں ناحق بغاوت کرنے لگتے ہیں) سورة عنکبوت میں فرمایا۔
(فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
نوع دیگر از دلائل کمال قدرت و کمال حکمت
قال اللہ تعالی، وھوالقاہر فوق عبادہ۔۔۔ الی۔۔۔ یکفرون۔
گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں دوسرے طرح سے اپنی کمال قدرت اور کمال حکمت کے دلائل اور حساب و کتاب اور حشر ونشر کا حق ہونا بیان فرماتے ہیں اور وہی اللہ قاہر اور غالب ہے اپنے بندوں پر یعنی خدا سب پر غالب اور زبردست ہے اور تمام بندے اس کی قدرت اور مشیت کے نیچے مقہور اور مجبور ہیں اور وہ رفعت شان بلندی رتبہ میں سب سے بالا اور برتر ہے امام رازی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں فوقیت سے باعتبار مکان اور جہت کے فوقیت مراد نہیں کیونکہ اللہ مکان اور جہت سے پاک اور منزہ ہے بلکہ قہر اور غلبہ اور قدرت کے اعتبار سے فوقیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–65
70 یہ تخویف دنیوی ہے یعنی اگر تم انکار ہی کرتے چلے جاؤ گے تو اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہے کہ دنیا میں ہر طرف سے تم پر عذاب نازل کر دے اور تم میں بغض وعداوت ڈال کر تم کو ٹکڑے ٹکڑے کردے اور تم آپس میں لڑنے لگو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–64
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کے علم محیط کا ذکر تھا جو الوہیت کی صفت خاصہ ہے اور ساتھ ساتھ قدرت تامہ کا بھی ذکر تھا۔ اب ان آیات میں بھی اللہ کی قدرت تامہ ہی کا بیان ہے اور اس سے اگلی آیات بھی ایسی ہی ہیں۔ علم محیط اور قدرت تامہ دونوں صفات اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہیں ‘ لہٰذا غیروں کی پرستش کا کوئی جواز پیدا نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ مشرکین کو متوجہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دیکھو ! عبادت کا مستحق وہی ہو سکتا ہے جو قدرت تامہ کا مالک ہو اور جس کا علم ہر چیز پر محیط ہو ‘ امداد فوق الاسباب بھی وہی کرسکتا ہے ‘ لہٰذا مصیبت کے وقت دوسروں کو پکارنے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان…
Read the full tafseer →قُلِ اللہُ يُنَجِّيْكُمْ مِّنْہَا وَمِنْ كُلِّ كَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِكُوْنَ 64
الله
الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] .
( ا ل ہ ) اللہ
(1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔
كرب
الكَرْبُ : الغمّ الشّديد . قال تعالی: فَنَجَّيْناهُ وَأَهْلَهُ مِنَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–65
ترکیب : تدعونہ موضع حال میں ہے ضمیر مفعول سے جو ینجیکم میں ہے۔ اسی طرح تضرعا و خفیہ۔ بعض نے خفیۃ 2 ؎ کو خیفۃ بھی پڑھا ہے۔ من الخوف من فوقکم اومن تحت متعلق یبعث۔
1 ؎ عام حمزہ کسائی نے ینجیکم کو بالتشدید باقی نے بالتخفیف پڑھا ہے۔ نجا اور نتجا ایک معنی میں آیا ہے۔ الشیع الشیعۃ کی جمع ہے جیسا کہ الشیاع ہے۔ شیعہ ایک دوسرے کے تابع یلبس شیعکم یخلط امرکم۔
2 ؎ خفیۃ ضد آشکارا یہ عام قراء کا مذہب ہے، عاصم کی روایت میں کسرہ ہے یہاں بھی اور اعراف میں بھی خیفہ اول اخفاء سے دوم خوف سے ہوگا۔ معالم 12 منہ
تفسیر : یہ ان دلائل میں سے ہے جو اس کے کمال وقدرت اور رحمت پر دلالت کرتے ہیں۔ ایک اور قسم ہے عرب کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
ارشاد فرمایا :
قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْکُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ تَدْعُوْنَہٗ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ج لَئِنْ اَنْجٰنَا مِنْ ھٰذِہٖ لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیْنَ ۔ قُلِ اللہ ُ یُنَجِّیْکُمْ مِّنْھَا وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍ ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَ ۔ (الانعام : 63۔ 64)
(ان سے پوچھو خشکی اور تری کی تاریکیوں سے ان کو کون نجات دیتا ہے جبکہ اسی کو تم پکارتے ہو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے کہ اگر اس نے ہم کو نجات دے دی اس مصیبت سے تو ہم اس کے شکرگزار بندوں میں سے بن جائیں گے ‘ کہہ دو اللہ ہی تم کو نجات دیتا ہے اس مصیبت سے بھی اور دوسری ہر تکلیف سے بھی لیکن تم پھر شرک کرنے لگتے ہو)
انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ انسانوں کی موت وحیات پر قادر، حاکم مطلق اور مولیٰ حق ہے گو اس نے ہدایت کا جبری نظام نہیں بنایا لیکن تم اس کی قدرتیں دیکھو اور ان پر غور کرو۔ آسانی اور خوشحالی میں اسی کو پکارو جس کو تم مشکل اور اضطراری حالت میں پکارتے اور اس کے مشکل کشا ہونے کا اقرار کرتے ہو۔
یہ بات پہلے بھی عرض کی گئی ہے کہ مشرک اور موحد میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مشرک اور کافر صرف مشکل کے وقت اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔ جب مشکل ٹل جاتی ہے تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو پکارنا شروع کردیتے ہیں۔ ان کے برعکس موحد کی یہ شان ہے کہ وہ عسر و یسر، آسانی اور پریشانی میں صرف اور صرف اپنے…
Read the full tafseer →نجات وہ دے اور شریک بھی اسی کا بنائو۔ تعجب ہے :
آیت 64 : قُلِ اللّٰہُ یُنَجِّیْکُمْ تشدید کے ساتھ کوفی نے پڑھا۔ مِّنْہَایعنی اندھیرے وَمِنْ کُلِّ کَرْبٍغم و رنج ثُمَّ اَنْتُمْ تُشْرِکُوْنَتم شکر ادا نہیں کرتے (بلکہ شرک کرتے ہو) ۔
Read the full tafseer →تفسیر (64) (قل اللہ ینجیکم منھا) اہل کوفہ اور ابو جعفر نے ینجیکم تشدید کے ساتھ پڑھا ہے جیسا کہ اس آیت میں ہے (قل من ینجیکم) اور دوسرے قراء نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (ومن کل کرب) کرب کہتے ہیں انتہائی غم کو جو انسان کے نفس کو پہنچتا ہے (ثم انتم تسرکون) یعنی یہ مشرکین خود اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ کو وہ سختی کے وقت پکارتے ہیں تو وہ ان کو نجات دیتا ہے، پھر بھی اس کے ساتھ ان بتوں کو شریک ٹھہراتے ہیں جن کے بارے میں ان کو علم ہے کہ وہ ان کو نفع دیتے ہیں نہ نقصان۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
(60 ۔ 64) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہر انسان کے سونے اور جاگنے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر مرنے اور پھر مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کا قیاس کرلے کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے کس لیے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان آنکھیں بیکار ہوجاتے ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے ہے پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–66
آیت 62
(قل) ” کہہ دیجیے “ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والوں اور اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو پکارنے والوں سے، ان کے توحید ربوبیت کے اثبات کو ان کے توحید الوہیت کے انکار پر الزامی دلیل اور حجت بناتے ہوئے کہیے ! (من ینجیکم من ظلمت البر والبحر) ” کون تمہیں نجات دیتا ہے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں سے ؟ “ یعنی جب بحر و بر کی سختیوں اور مشقتوں سے نجات کا کوئی بھی حیلہ تمہیں مشکل نظر آتا ہے تو تم اپنے رب کو گڑ گڑا کر دل کے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنی دعا میں اپنی حاجت کے لئے پکارتے ہو اور اپنی اس مصیبت سے جس میں ہم گرفتار ہیں (لنکونن من الشکرین) ” تو ہم ضرور (اللہ تعالیٰ ) کے شکر گزار ہوں گے “ اس…
Read the full tafseer →112 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ وہ اللہ ہی ہے جو تمہیں ایسے مصائب سے بچاتا ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ پھر کتنے بےانصاف اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا دوسروں کو حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہیں۔ کوئی کسی بےجان بت کو پکارتا ہے۔ کوئی کسی زندہ یا مردہ انسان کو۔ کوئی کہتا ہے " یا علی مدد " اور " یا حسین " وغیرہ۔ اور کوئی کہتا ہے " یا غوث " اور " یا پیر دستگیر " وغیرہ۔ حالانکہ ایسی نیک ہستیاں اپنی زندگیوں میں خود اللہ وحدہ لاشریک ہی کو پکارتی رہیں۔ اور دوسروں کو بھی اسی کا درس دیتی رہیں۔ اور پھر یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–67
عذاب کی اقسام
تشریح : ان آیات میں کفار کی ہٹ دھرمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو وعدہ لے رکھا ہے تمام انسانوں سے، یعنی ہر بندہ فطرتاً اللہ کو ہی خالق ومالک مانتا ہے مگر پھر بھی کفار شرک، کفر اور نافرمانی سے باز نہیں آتے تو ایسے لوگوں کو آپ ﷺ صاف صاف بتا دیں کہ میں نے توحید کا پیغام اور اللہ کی حاکمیت قدرت اور طاقت کے بارے میں خوب وضاحت کردی ہے پھر بھی جو کفر کرتے ہیں تو ان کو عقل سے کام لے کر اور اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایمان، سلامتی اور نجات کا راستہ اختیار کرلینا چاہیے ورنہ پھر وہ گھڑی، یعنی عذاب کی گھڑی بھی اپنے مقررہ وقت پر آنے والی ہے جب تم سب لوگوں کو اپنے کئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–70
رکوع نمبر 8 ۔ آیات 61 تا 70 ۔
اسرار و معارف :
نگراں فرشتے :
اسے اپنے بندوں پہ پورا اختیار اور غلبہ حاصل ہے بلکہ بندہ تو ہر حال میں کمزور اور محتاج ہے اللہ نے اس پر نگران فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو اس کی ہر طرح سے حفاظت کرتے ہیں بیماریوں سے بھی اور حادثات سے بھی نیز ایسے فرشتے بھی مقرر ہیں جو اس کے ہر عمل کو محفوظ کرتے رہتے ہیں اور اس طرح حفاظت الہیہ میں انسان اپنی عمر بسر کرتا ہے جب موت کا وقت آتا ہے تو وہ محافظ بھی موت کے فرشتوں سے تعاون کرتے ہیں اور یوں کبھی کوتاہی نہیں کرتے مگر انسان کا معاملہ موت پہ بس نہیں ہوجاتا موت در اصل مالک حقیقی کی بارگاہ کی طرف واپسی کا عمل ہے جو قدم قدم پر انسان…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی جب نجات پالیتے ہیں تو بجائے شکر گزاری کے کفر کرنے لگتے ہو
Read the full tafseer →(6:64) کرب۔ اسم مصدر۔ نکرہ۔ سخت غم۔ دم گھونٹنے والا غم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 :
ینجیکم (تمہیں نجات دیتا ہے) ‘ خفیۃ ( آہستہ۔ چپکے چپکے) انجنا ( ہمیں بچا لیا) ‘ کرب (سختی) ۔
تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 :
سفر ہو یا حضر۔ جسمانی بیماری ہو یا ذہنی الجھن ‘ مال و منال کا نقصان ہو یا اہل و عیال کا ‘ انفرادی مصیبت ہو یا قومی۔ بہر حال یہ عام مشاہدہ ہے کہ آفت کے وقت جب ظاہری تدبیروں سے کام نہیں چلتا تو انسان کے ہاتھ اس مالک کائنات کے سامنے دعا کو اٹھ جاتے ہیں۔ خواہ وہ چلا چلا کر اور آنسو بہا کر سر پٹک کر مانگے یا دل ہی دل میں اندر ہی اندر۔ بڑے سے بڑا کافر اور بڑے سے بڑا مشرک خوب جانتا ہے کہ آفتوں سے نجات دینے والا وہی ایک اللہ ہے۔ وہ دعا مانگتا ہے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–64
مرنے کے بعد زندہ ہونے کا ذکر
اس آیت میں مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کو قیاس کرلے، کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت اور سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے۔ کس لئے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان، آنکھیں بیکار ہوجاتی ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے۔ پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :'' ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو سانس کی آمد و رفت کی خبر رکھتا ہے اور اگر اسی نیند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–69
[24] یعنی طعن و استہزا کرنے والوں کے اعمال کی ذمہ داری پرہیزگاروں پر نہیں۔ اس کا حساب انہیں سے ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
(ف 2) انسان میں یہ عجیب نفسی کمزوری ہے ، کہ جب مصیبت میں مبتلا ہو ، جب چاروں طرف سے گھر جائے ، جب مصیبت میں مبتلا ہو ، جب چاروں طرف سے گھر جائے ، اور مخلصی کی تمام راہیں مسدود ہوجائیں جب لق ودق صحراؤں میں گم ہوجائے جب جہاز پر بیٹھے ، اور ہر آن غرق ہوجانے کا خطرہ موجود ہو ‘ اس وقت اللہ کو یاد کرتا ہے ، خلوص وتضرع سے اس کا نام لیتا ہے ، اور اس کی استعانت کے لئے بےقرار ہوجاتا ہے ۔
مگر جہاں مصیبت دور ہوئی ، خطرہ کا وقت گزر گیا پھر سرکشی اور تمرد عود کر آیا ، پھر تغافل اور شرک نوازی میں مشغول ہوگیا ، یا تو صرف اللہ کا نام تھا ، یا اب اپنی قوت اور تدبیر پر اعتماد ہے اپنی عقل کی تعریف ہے دینوی اور…
Read the full tafseer →-64 ظاہر ہے کہ اس کا جواب سوائے اس کے کچھ نہیں ہوسکتا کہ اللہ تعالیٰ ہی نجات دیتا ہے اس لئے آپ اے پیغمبر خود ہی فرما دیجیے کہ اللہ ہی ان تاریکیوں سے تم کو نجات دیتا ہے بلکہ وہ تم کو ہر غم اور بےچینی سے نجات بخشتا ہے مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم نجات پانے کے بعد پھر حق تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہو۔
Read the full tafseer →ف 9۔ غرض یہ کہ شدائد میں تمہارے اقرار سے توحید کا حق ہوناثابت ہوجاتا ہے پھر انکار کب قابلہ التفات ہے۔
Read the full tafseer →ان غموں سے نجات دینے والا تو اللہ ہی ہے لیکن تم ہو کہ شرک کئے جاتے ہو :
100: انسان کی کم ظرفی کا بیان ہے کہ مصیبت کے وقت تو گڑگڑانے اور چلانے لگتا ہے اور اللہ اس کے روئیں رؤیں کی آواز ہوتا ہے لیکن ادھر مصیبت ٹلی کہ ادھر پھر وہی شرک کرنا شروع کردیا اور اترانے لگا اور اسکو یاد بھی نہ رہا کہ وہ ناک سے لکیریں کھینچنے والا ہی تھا۔ فرمایا مصیبت اور تیف سے نجات دینے پر اس کی پوری قدرت ہے اور یہ بھی کہ ہر قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں اور پر یشانیوں کو دور کرنا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے اور یہ بھی کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ ساری عمر فرشتوں ، نبیوں ، ولیوں اور بزرگوں اور اسطرح دیوی اور دیوتاؤں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–64
Commentary
Some Manifestations of Divine Knowledge and Absolute Power
In previous verses, there was a description of the perfection of Divine Knowledge and Power, and of their unique expanse. Mentioned in the present verse, there are some manifestations of this very Knowledge and Power.
The word: ظُلُومَات (Zulumat) in the first verse (63) is the plural of ظُلمَہ (Zulmah) which means darkness [ and which does not have a plural form in English leaving the translator with no choice but to improvise in order to convey the Qur'anic plural which is necessary as ex-plained ]. Thus, the expression:…
Read the full tafseer →41. That God alone possesses all power and authority, and has full control over the things which cause either benefit or harm to men, and that He alone holds the reins of their destiny are facts to which there is ample testimony in man's own being. For instance, whenever man is faced with a really hard time, and when the resources upon which he normally fails back seem to fail him, he instinctively turns to God. In spite of such a clear sign, people set up partners to God without any shred of evidence that anyone other than God has any share in His power and authority.
Read the full tafseer →