Al-An'aam 6:75

Al-An'aam · from ayah 75

6:75

وَكَذٰلِكَ نُرِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۟وَكَذٰلِكَ نُرِىۡۤ اِبۡرٰهِيۡمَ مَلَـكُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَلِيَكُوۡنَ مِنَ الۡمُوۡقِـنِيۡنَ

اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus did We show Abraham the realm of the heavens and the earth that he would be among the certain [in faith]

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 9 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:75

ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے ایسے ہی طور پر ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا نظارہ کراتے تھے، اور مقصد یہ تھا کہ وہ مکمل یقین رکھنے والوں میں شامل ہوں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی اور اس لیے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی تمام بادشاہتیں (یعنی عجائباتِ خلق) دکھائیں اور (یہ) اس لئے کہ وہ عین الیقین والوں میں ہوجائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی عظیم سلطنت دکھاتے تھے اور تاکہ وہ کامل یقین والوں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کا نظام سلطنت دکھا رہے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں ملکوت الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرے اور کاملین یقین میں سے بنے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح دکھاتے رہے ہم ابراہیم کو بادشاہی آسمانوں اور زمین کی (حقیقت کے عین مطابق، تاکہ وہ اس سے حق پر استدلال کرسکیں) اور تاکہ وہ ہوجائے کامل یقین والوں میں سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور اسی طرح ابراہیم ؑ کو ہم نے دیکھا دی آسمانوں اور زمین کی حکومت تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تاکہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم اس طرح ابراہیم ؑ کو آسمان اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And thus We showed Abraham the kingdom of the heavens and the earth, so that he might become one of those who have sure faith.. The adversaries are told that they can observe God's signs in the phenomena of the universe, just as Abraham could. The difference is that they see nothing, as if they were blind, whereas Abraham saw with open eyes. The sun, moon and stars which rise and set before their eyes day after day and night after night witness them as misguided at their setting as at their rising. Yet the same signs were observed by the perceptive Abraham, and the physical phenomena helped him arrive at the Truth.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus We showed Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth, so that he might be firm in belief.

— Muhammad Taqi Usmani

Thus We showed Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth, so that he might be firm in belief.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus did we show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth that he be one of those who have faith with certainty.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus did We show Abraham the kingdom of the heavens and the earth that he might be of those possessing certainty:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus did We show Abraham the realm of the heavens and the earth that he would be among the certain [in faith]

— Saheeh International

Also, We showed (Abraham) the kingdom of the heavens and the earth to strengthen his faith.

— Muhammad Sarwar

And thus did We show Ibrahim the kingdom of the heavens and the earth and that he might be of those who are sure.

— Muhammad Habib Shakir

And in this wise We showed unto Ibrahim the governance of the heavens and the earth, and that he might become of the convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

So also did We show Abraham the power and the laws of the heavens and the earth, that he might (with understanding) have certitude.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:75

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 74–79

ابراہیم ؑ اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہم السلام) کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا۔ آزر سے مراد بت ہے۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم ؑ کے والد تھے ہوسکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہوگیا ہو۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 75–77

سورة الْاَنْعَام 51 یعنی جس طرح تم لوگوں کے سامنے آثار کائنات نمایاں ہیں اور اللہ کی نشانیاں تمہیں دکھائی جا رہی ہیں، اسی طرح ابراہیم ؑ کے سامنے بھی یہی آثار تھے اور یہی نشانیاں تھیں۔ مگر تم لوگ انہیں دیکھنے پر بھی اندھوں کی طرح کچھ نہیں دیکھتے اور ابراہیم ؑ نے انہیں آنکھیں کھول کر دیکھا۔ یہی سورج اور چاند اور تارے جو تمہارے سامنے طلوع و غروب ہوتے ہیں اور روزانہ تم کو جیسا گمراہ طلوع ہوتے وقت پاتے ہیں ویسا ہی غروب ہوتے وقت چھوڑ جاتے ہیں، انہی کو اس آنکھوں والے انسان نے بھی دیکھا تھا اور انہی نشانات سے وہ حقیقت تک پہنچ گیا۔ سورة الْاَنْعَام 52 اس مقام کو اور قرآن کے ان دوسرے مقامات کو جہاں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پہلے بت پرستی کا ضلالت و گمراہی ہونا ذکر فرمایا، اگلی آیات میں ستاروں کا قابل عبادت نہ ہونا بیان فرمایا، اور اس سے پہلے ایک آیت میں بطور تمہید کے حق تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ایک خاص شان اور علم و بصیرت میں اعلیٰ مقام کا ذکر اس طرح فرمایاوَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ ، یعنی ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات کو اس طرح دکھلا دیا کہ ان کو سب چیزوں کی حقیقت واشگاف طور پر معلوم ہوجائے، اور ان کا یقین مکمل ہوجائے اسی کا نتیجہ تھا جو بعد کی آیات میں ایک عجیب طرح کے مناظرہ کی شکل میں اس طرح مذکور ہے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ ، دوسرے مقام میں ہم اس اسلوب کی وضاحت کرچکے ہیں کہ یہ در اصل کُنَّا نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ ہے، عربی زبان کے معروف اسلوب کے مطابق یہاں ‘ کنا ’ محذوف ہوگیا ہے۔ لفظ ملکوت کی تحقیق :‘ مَلَکُوْت ’ جس طرح ‘ رہبۃ ’ سے ‘ رہبوت ’ ہے اسی طرح ملک سے ملکوت ہے، ملکوت کا لغوی مفہوم تو عزت و اقتدار، بادشاہی اور سلطنت ہے لیکن قرآن میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم ہے۔ اس ملکوت الٰہی پر غور کرنے کی دعوت مختلف اسلوبوں سے قرآن میں بار بار دی گئی ہے“ اولم ینظروا فی ملکوت السموات والارض : کیا انہوں نے آسمانوں اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

75۔ 1 ملکوت مبالغہ کا صیغہ ہے جیسے رغبۃ سے رغبوت اور رھبہ سے رھبوت اس سے مراد مخلوقات ہے، جیسا کہ ترجمہ میں یہی مفہوم اختیار کیا گیا ہے۔ یا ربوبیت ہے یعنی ہم نے اس کو یہ دکھلائی اور اس کی معرفت کی توفیق دی۔ یا یہ مطلب ہے کہ عرش سے لے کر اسفل ارض تک کا ہم نے ابراہیم ؑ کو امور غیبی کا مشاہدہ کرایا۔ (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 73–75

26: یعنی اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کو ایک برحق مقصد سے پیدا کیا ہے اور وہ مقصد یہ ہے کہ جو لوگ یہاں اچھے کام کریں انہیں انعام سے نوازا جائے اور جو لوگ بدکار اور ظالم ہوں انہیں سزا دی جائے یہ مقصد اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب دنیوی زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہو جس میں جزاء اور سزا کا یہ مقصد پورا ہو اور آگے یہ بیان فرمایا ہے کہ اس مقصد کے لئے قیامت میں لوگوں کو دوبارہ زندگی دینا اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ مشکل نہیں ہے، جب وہ چاہے گا تو قیامت کو وجود میں آنے کا حکم دے گا اور وہ وجود میں آجائے گی اور چونکہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے اس لئے لوگوں کو مرنے کے بعد اکھٹا کرنا بھی اس کے لئے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ (75) ” ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم اسی طرح زمین و آسمان کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔ اس فطرت سلیمہ کے ساتھ ‘ اس کھلی بصیرت کے ساتھ اور طلب حق کی راہ میں اس خلوص کی وجہ سے اور اس اور صراحت کے ساتھ باطل کا انکار کی وجہ سے اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت کے کچھ راز بتائے ‘ جن میں زمین اور آسمانوں میں مملکت الہیہ کے کچھ اصول تھے ۔ اس کائنات کے کچھ خفیہ راز جن پر یہ نظام استوار ہے ‘ پھر اللہ نے انہیں وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جس طرح بت پرستی کی شناعت و قبح ہم نے ابراہیم پر ظاہر کر کے اس کی قوم کو قائل کیا اسی طرح علویات و سفلیات کے نہایت محکم اور عجیب و غریب نظام ترکیبی کی گہرائیوں پر بھی اس کو مطلع کردیا تاکہ اسے دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے وجود و وحدانیت وغیرہ پر اور تمام مخلوقات سماوی و ارضی کے محکومانہ عجزو بیچارگی پر استدلال اور اپنی قوم کے عقیدے کواکب پرستی و ہیاکل سازی کو علیٰ وجہ البصیرت رد کرسکے اور خود بھی حق الیقین کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہو بلاشبہ عالم کا یہ اکمل و احکم اور بہترین نظم و نسق ہی ایسی چیز ہے جسے دیکھ کر بالبداہت اقرار کرنا پڑتا ہے کہ اس عظیم الشان مشین کا بنانے اور چلانے والا ' اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 75 وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہاں ملکوت سے مراد یہ پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلا رہا ہے۔ یہ نظام گویا ایک Universal Government ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ کارندے اسے چلا رہے ہیں۔ اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو کراتا ہے تاکہ ان کا یقین اس درجے کا ہوجائے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔ اس فقرے میں و کی وجہ سے ہم اس سے پہلے یہ فقرہ محذوف مانیں گے : تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرسکے وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ اور ہوجائے پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے۔ اب…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 75–76

81۔ 1 ابراہیم کا کائناتی مطالعہ :۔ نجوم پرستی کا آغاز عراق کے علاقہ میں سیدنا ابراہیم کی بعثت سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔ ستاروں اور چاند، سورج وغیرہ کی ارواح کی تصوراتی شکلیں متعین کر کے ان کے مجسمے بنائے جاتے اور ان مجسموں کو مندروں میں پرستش کے لیے رکھا جاتا تھا۔ ان سیاروں کے انسانی زندگی پر طرح طرح کے اثرات تسلیم کیے جاتے تھے اور لوگ اپنی زندگی اور موت، مرض اور صحت، خوشحالی اور تنگ دستی ایسے ہی کئی دوسرے امور کو سیاروں کی چال سے منسوب کرتے اور ان کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے متعلقہ ستاروں کے مجسموں کے سامنے مندروں میں نذر و نیاز پیش کرتے تھے۔ مندروں کے نام پر بڑی بڑی جاگیریں وقف ہوتیں اور ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

114 ۔ (چنانچہ اب وہ موحد کامل ہونے کے علاوہ خدمت تبلیغ پر بھی مامور تھے۔ اور اپنی قوم کو شرک سے توحید کی طرف بلا رہے اور لارہے تھے) (آیت) ” لیکون من الموقنین “۔ یعنی زمین و آسمان پر حق تعالیٰ کی حکومت قاہرہ کے مشاہدہ سے ان کے دل پر توحید کا نقش کامل بیٹھ گیا، اور ازدیاد معرفت نے انہیں مرتبہ ایقان تک پہنچا دیا۔ یستدل بھا لیکون من الموقنین (کبیر) انا اریناہ ھذہ الایات لیراھا ولا جل ان یوکن من الموقنین (کبیر) الیقین عبارۃ عن علم یحصل بعد زوال الشبۃ بسبب التامل (کبیر) لیکون من الموقنین اشارۃ الی درجات انوار التجلی وشروق شمس المعرفۃ والتوحید (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم نے ان پر ان کی قوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 74–75

واذا قال ابراہیم لابیہ آزر، مورخین نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے دو نام ذکر کئے ہیں آزر اور تارخ ممکن ہے کہ تارخ آزر کا لقب ہو۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے نام کی تحقیق : آزرعرانی لفظ ہے عجمہ اور علمیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے تورات میں آپ کے والد کا نام تارخ بیان کیا گیا ہے اگر تورات کا بیان نحرف سے محفوظ ہے تو قرین قیاس یہی ہے کہ اس صورت میں آزر تارخ کی تعریب ہے جس طرح اسحقٰ اضحاق کا معرب ہے اور عیسیٰ یشوع کا معرب ہے امام راغب مفردات غریب القرآن میں رقم طراز ہیں، قیل ” کان اسم ابیہ تارخ فعرب فجعل آزر “ یعنی کہا گیا ہے کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک اور اسی طرح جس طرح اہل زمانہ کے خلاف ہم نے ابراہیم کو حق دکھا دیا تھا اسی طرح۔ نری ابراہیم ملکوت السموات والارض ہم ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین میں اپنی حکومت کا مشاہدہ کراتے تھے۔ نُرِی میں گزشتہ حال کی حکایت کی گئی ہے (اس لئے حال کا صیغہ استعمال کیا) قاموس میں ہے کہ ملکوت بروزن رہبوت و ترقوت غلبہ اوراقتدار۔ یہ لفظ ملک سے مشتق ہے واؤ اور تاء مبالغہ کی ہے اس لئے ملک سے زیادہ ملکوت کے معنی میں عظمت ہے (بڑی حکومت بڑا اقتدار) صحاح جوہری میں ہے کہ ملکوت صرف اللہ کی حکومت کو کہا جاتا ہے (کیونکہ اسی کی حکومت سب سے بڑی حکومت ہے) ملکوت کی اضافت السموات کی طرف اضافت الی المفعول ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 74–75

(74۔ 75) اور اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کی تمام مخلوقات مثلا چاند، سورج، ستارے بچشم معرفت دکھلائے تاکہ وہ اس بات پر کامل یقین رکھنے والے ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، وہی تمام آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں، اس کا خالق ہے یا یہ کہ جس رات ان کو آسمان پر بلایا، اس رات ساتویں آسمان پر سے تمام چیزیں دکھائیں حتی کہ ساتویں زمین تک کی انہوں نے ساری چیزوں کو دیکھا تاکہ ان کو خطرات پر کامل یقین ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مَلَكُوْتَ : ”مُلْکٌ“ کے آخر میں واؤ اور تاء کا اضافہ کر کے ”مَلَكُوْتَ“ فرمایا، مقصد حروف بڑھانے کا معنی میں زیادتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”عظیم سلطنت“ کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے ہم نے پچھلی آیات میں شرک کی تردید کی ہے اسی طرح ہم نے ابراہیم ؑ کو آسمان و زمین کی عظیم سلطنت کا مشاہدہ کروایا، جس کے کئی مقاصد کے ساتھ ایک یہ بھی تھا کہ انھیں توحید کا آنکھوں دیکھا یقین حاصل ہوجائے۔ ایسے ہی انھیں یہ مشاہدہ بھی کروایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

قولہ تعالیٰ : آیت : وخذلک نری ابراھیم ملکوت السموٰت والارض یعنی ملکوت بمعنی ملک ( بادشاہی) ہے اور معنی صفت میں اظہار مبالغہ کے لیے واؤ اور تا کا اضافہ کردیا گیا ہے اور اسی کی مثل رغبوت، رھبوت اور جبروت ہیں (معانی القرآن للزجاج، جلد 2، صفحہ 265 ) ۔ اور ابو السمال العدوی نے لام ساکن کے ساتھ ملکوت پڑھا ہے۔ اور سیبویہ کے نزدیک فتحہ کو خفیف ہونے کی بنا پر حذف کرنا جائز نہیں ہے۔ اور شاید یہ اس میں ایک لغت ہے اور نری بمعنی أرینا ہے، پس یہ ماضی کے معنی میں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آسمانوں میں ملائکہ کی عبادت اور دیگر عجائب قدرت (کا دکھانا) ہے اور زمین میں اولاد آدم کی عصیاں شعاری…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 75–79

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض سے مراد سورج چاند اور ستارے ہیں۔ (2) امام ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت وکذلک نری ابراہیم ملکوت السموت والارض کے بارے میں فرمایا کہ کھول دیا گیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان تھا یہاں تک کہ ان کی طرف دیکھا ایک چٹان اور وہ چٹان ایک مچھلی پر تھی اور یہ مچھلی وہی ہے جس میں سے لوگوں کا کھانا ہے اور مچھلی ایک زنجیر میں تھی اور زنجیر عزت والی انگوٹھی میں ہے۔ (3) امام ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُرِيْٓ [ ہم نے مشاہدہ کرایا ] اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم کو ] مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ زمین اور آسمانوں کی بادشاہت کا ] وَلِيَكُوْنَ [ اور تاکہ وہ ہوجائے ] مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 74–76

چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و ( علیہ السلام) اپنے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے باپ ہیں ان کی قوم بابل کے آس پاس رہی تھی جو آج کل عراق کا ایک شہر ہے اس وقت وہاں کا بادشاہ نمرود نامی ایک شخص تھا وہ خدائی کا دعویدار تھا۔ ساری قوم بت پرست تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد جس کا نام آزر تھا وہ بھی بت پرست تھا اور ساری دنیا کفر و شرک میں مبتلا تھی۔ ایسے موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی وہ خالص موحد تھے۔ اللہ پاک کی توحید کی طرف انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو دعوت دی اور اس بارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 71–90

ابطال شرک اثبات توحید وحشر۔ قال اللہ تعالیٰ قل اندعو من دون اللہ مالاینفعنا ولایضرنا۔۔۔ الی۔۔۔ الخبیر۔ ربط) ۔ اوپر سے توحید کا اثبات اور شرک کا ابطال چلا آرہا ہے اب ان آیات میں یہ بتلاتے ہیں کہ یہ لوگ جو دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں ان کو اتنی عقل نہیں کہ قابل مضحکہ یہ امر ہے کہ ایسی ذات کو معبود بنالیاجائے کہ جو کسی قسم کے نفع اور نقصان کی مالک نہ ہو ہنسی کے قابل تو یہ بات ہے کہ یہ بت پرست ہیں جو جہالتوں اور ضلالتوں میں حیران اور سرگرداں ہیں چناچہ فرماتے ہیں آپ ان مشرکوں سے یہ کہہ دیجئے کہ کیا ہم اللہ کے سوا کسی ایسی چیز کو اپنی حاجت روائی کے لیے پکاریں گے جو نہ ہم کو کچھ نفع ہی پہنچا سکتی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

81 اس میں کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی یوں زمین و آسمان کے عجائب ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھانا یہ ہمارا ہی کمال ہے اور نُرِیَ فعل مضارع ماضی کی جگہ استعمال کیا گیا ہے ای عرفناہ و بصرناہ (روح) مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰت وَالْاَرْض سے زمین و آسمان کے عجائبات اور قدرت خداوندی کی آیات مراد ہیں۔ وَلِیَکُوْنَ اس کا معطوف علیہ محذوف ہے ای لیستدل بہ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور اس دلیل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے شرک کی تردید میں مشرکین کے سامنے پیش کی۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور مسلک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے پھر اگلی آیات میں قوم سے جھگڑا کرنے کا ذکر ہوگا۔ پھر انبیاء کا مسلک بیان ہوگا جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا مسلک ہے۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کو دھیان میں لائو ‘ جب انہوں نے اپنے والد آزر سے کہا تھا کہ کای تو بتوں کو الٰہ بناتا ہے۔ میں تجھے اور تیری قوم کے لوگوں کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰہِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ۝ 75 رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–82

ابتداء زمانہ سے ہی جب کہ لوگوں نے ظاہری آنکھوں سے دیکھا تو اعلیٰ حسب مراتب الفہم خیالی گھوڑے دوڑانے لگے۔ یہ تو اکثر نے مانا کہ اللہ تعالیٰ صانع عالم ہے مگر اس کے ساتھ بعض جاہلوں نے ایک اور خالق مستقل مانا جو شر کا فاعل ہے اور بعض 2 ؎ لوگوں نے آگ کو 1 ؎ یعنی تمہارے دیوی دیوتا میرا کچھ نہیں کرسکتے تم ڈرا کرو ٗ میں نہیں ڈرتا۔ اگر خدا ہی چاہے تو ضرر پہنچے۔ 12 منہ 2 ؎ کسی نے ملائکہ اور علویات کی خیالی صورت پر بت تراشے پھر کسی نے بنی آدم میں سے انبیاء و صلحاء و ابرار یا شاہان ملک کو شریک خدائی سمجھا اور ان کی کوئی صورت فرض کرکے بت بنائے لات ہبل کرشن رام سب اسی کا نمونہ ہے غرض جس نے جس چیز کو اپنے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔ (الانعام : 75) (اور اسی طرح ہم ابراہیم کو آسمانوں اور زمین میں ملکوت الٰہی کا مشاہدہ کراتے تھے ‘ تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرے اور کاملین یقین میں سے بنے ) اس آیت کریمہ میں مختلف حقائق کی طرف راہنمائی فرمائی گئی ہے۔ ان کا ذکر کرنے سے پہلے صرف ایک لفظ کی وضاحت ضروری ہے۔ اس آیت میں ” ملکوت “ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ ملکوت کا لفظی مفہوم عزت و اقتدار ‘ بادشاہی اور سلطنت ہے۔ لیکن قرآن کریم میں یہ لفظ خدا کی اس تکوینی بادشاہی کے لیے استعمال ہوا ہے ‘ جو آسمان اور زمین بلکہ ہر چیز پر قائم و دائم…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 74–80

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بصیرت روشن کر کے شرک کی قباحت ظاہر کردی : آیت 75 : وَکَذٰلِکَ جیسے ہم نے ان کو شرک کی قباحت دکھائی تھی۔ نُرِیْ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِیعنی ہم اس کی بصیرت کو آسمان و زمین کی تخلیق کے لطائف دکھا رہے تھے نُرِیْ ماضی کی حکایت حال میں بیان کی گئی۔ الملکوت یہ الملک سے زیادہ بلیغ ہے۔ کیونکہ اس میں وائو اور تاء مبالغہ کے لیے بڑھائے گئے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں ان کے لیے ساتوں آسمان کھول دیئے گئے آپ نے ان کے مابین جو کچھ تھا وہ دیکھا ٗ حتی کہ ان کی نگاہ عرش الٰہی تک پہنچی۔ اور ساتوں زمینیں کھول دی گئیں۔ یہاں تک کہ جو کچھ ان میں تھا وہ دیکھا۔ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَہم نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(75) (وکذلک نری ابرھیم) جیسے ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دین میں بصیرت عطا فرمائی۔ (ملکوت السموت والارض) ملکوت میں تاء مبالغہ کے لئے زیادہ کی گئی ہے جیسے جبروت، رحموت، رھبوت میں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی آسمان اور زمین کی تخلیق اور مجاہد (رح) اور سعید بن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ آسمان اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں۔ اس کی صورت یہ بنی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چٹان پر کھڑا کر کے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کی نشانیاں مراد ہیں۔ اس کی صورت یہ بنی کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو چٹان پر کھڑا کر کے ان کے لئے آسمانوں اور زمین کے عجائبات کھول دیئے گئے اور انہوں نے عرش اور زمینوں کے نیچے تک اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–79

(74 ۔ 79) ۔ مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) توبت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قصہ سے معلوم ہوگا پھر یہ لوگ بت پرستی میں گرفتار رہ کر اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کیونکر بتلاسکتے ہیں۔ اس میں سلف کا اختلاف ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے پہلے چمکدار تارے مشتری یا زہرہ کو اور پھر چاند سورج کو دیکھ کر ھذا ربی جو کہا یہ قول انکا اس بچے پنے کے زمانہ کا ہے جس وقت تک ان کو توحید اور احکام شرع معلوم نہ تھے یا بڑی عمر میں اپنے باپ اور قوم کے لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 74–83

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت ابراہیم کے قصے کو یاد کیجیے، ان کی دعوت توحید اور شرک سے ممانعت کے احوال میں ان کی تعریف و ثنا اور تعظیم کیجیے (واذ قال ابراہیم لابیہ ازر اتتخذ اصناماً الھۃ) ” جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا، کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے ؟ “ جو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان، جو کسی اختیار کے مالک نہیں (انی ارئک و قومک فی ضلل مبین) ” میں تجھ کو اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں “ کیونکہ تم ایسی ہستیوں کی عبادت کرتے ہو جو عبادت کی مستحق نہیں اور اپنے خلاق، رازق اور تدبیر کرنے والے کی عبادت کو چھوڑ دیتے ہو۔ (وکذلک) ” اور اسی طرح “ جب ہم نے ابراہیم کو توحید…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 70–75

تشریح تبسل قول باری ( تُبسل) کے معنی فراء کے قول کے مطابق ” ترتھن “ ( گروی لے لی جائے) ہے حسن مجاہد اور سدی کے قول کے مطابق ” تسلم “ حوالے ہوجائے، اور قتادہ کے قول کے مطابق ” تجس “ پھنس جائے) جبکہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطاق ” تفضح “ ( ذلیل ہوجائے) ہے۔ ایک قول ہے کہ اس کے اصل معنی ارتہان یعنی گروی لینے کے ہیں، ایک قول یہ بھی ہے کہ اصل معنی تحریم کے ہیں۔ محاورہ میں ” اسد باسل “ ( بہادر شیر) اس لیے کہا جاتا ہے کہ شیر کا کیا ہوا شکار اس کے پاس گروی ہوجاتا ہے اور اس کے ہاتھ سے نکل نہیں سکتا۔ ایک اور محاورہ ہے ” ھذا بسل علیک یعنی یہ چیز تم پر حرام ہے۔ اس لیے کہ اس چیز کو اسی طرح کے ساتھ مقید…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 75–77

138 کائنات کو دیکھنے کا صحیح اور درست طریقہ : سو کائنات کو دیکھنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اس کے خالق ومالک اور اس کی معرفت تک رسائی حاصل کی جائے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم اسی طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کی یہ بادشاہی دکھاتے رہے " تاکہ اس طرح آپ حکمتوں بھری اس کائنات سے اس کے خالق ومالک کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی عظمت شان پر استدلال کرسکیں۔ اور اہل شرک و باطل پر حجت قائم کرسکیں۔ نہ کہ ظاہر پرست دنیا داروں کی طرح کہ ان کی نگاہیں اس دنیا کی ظاہری چمک دمک ہی میں رک اور اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ وہ اس کی گوناگوں نعمتوں سے طرح طرح سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں، مگر وہ اپنے خالق ومالک کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 74–81

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تشریح : جیسا کہ پچھلی آیات میں بتایا گیا ہے کہ تلاش کرنے والوں کی اللہ تعالیٰ راہنمائی ضرور کرتا ہے اور اس سلسلہ میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی مثال اللہ نے قرآن مجید میں دی ہے۔ قرآن مجید میں سبق دینے کے لیے بیشمار قصے پرانی قوموں کے بیان کیے گئے ہیں۔ انہیں میں سے ایک نہایت اہم قصہ جد امجد سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کا توحید پر ایمان لانے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بیان کیا جا رہا ہے۔ جیسا کہ انسانی فطرت میں شامل ہے کہ وہ جماعت یا گروہ کی صورت میں زندگی گزارنا پسند کرتے ہیں پھر اس گروہ کا کوئی سردار بھی بن جاتا ہے اور زندگی گزارنے کے کچھ طریقے اور رسم و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 71–83

رکوع نمبر 9 ۔ آیات 71 تا 83: اسرار و معارف : جن مسلط ہونا : امور دنیا میں ایک درمیانی راہ بھی ہوتی ہے جسے عرفا کچھ دو اور کچھ لو کہا جاتا ہے یعنی دونوں فریق اپنی باپ میں تھوڑی تھوڑی لچک پیدا کرلیتے ہیں اور یوں ایک درمیانی راستہ وجود میں آتا ہے جس پر سمجھوتہ ہوجاتا ہے مگر دین میں ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ امور دنیا میں اگر دو فریق ہیں تو دونوں انسان ہیں دونوں کی رائے میں غلطی کا امکان بھی ہے اور دونوں کی رائے حرف آخر تو نہیں ہوسکتی مگر دین تو ارشادات باری کا نام ہے جو واحد ہے لا شریک ہے جس کا علم بھی بیمثال ہے اور اس کی ذاتی صفت ہے مخلوق کے نفع اور نقصان سے واقف بھی ہے اور خود ہی نفع و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اور اس سے دلائل دینتا کے مراتب کے طرف اشارہ ہے (رازی) کہ ہم نے ان کو نظام کائنات کا اسرا سمجھا دیئے جو معرفت توحید کی بہت بڑی دلیل ہے واضح رہے کہ یہ رویت بصری نہیں تھی بلکہ رویت بلحاظ بصیرۃ کے تھی جیسا کہ بعد کی تفصیل سے ثابت ہوتا ہے۔7 یعنی انہیں عین الیقین حاصل ہو اور پورے اطمینان قلب کے ساتھ اپنی قوم کو توحید دعوت سے سکیں

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:75) کذلک۔ اسی طرح۔ کما اریناہ فتح الشرک جس طرح ہم نے اس کو شرک کی قباحت (باپ کی اور اس کی قوم کی گمراہی) دکھائی تھی۔ اسی طرح ہم نے چشم بصیرت سے اس کو ملکوت السموت والارض کا مشاہرہ کرا دیا۔ نری۔ مضارع جمع متکلم۔ اری یری (باب افعال) اراء ۃ۔ ہم دکھاتے ہیں یہاں مضارع ماضی کے معنی میں استعمال ہوا ہے ملکوت۔ مصدر ۔ ملک سے مبالغہ کا صیغہ بذریعہ ایزادی وت اقتدار کامل ۔ غلبہ تامہ حکومت حقیقیہ۔ بقول راغب ۔ ملکوت۔ اللہ کی بادشاہت کے لئے مخصوص ہے۔ ولیکون۔ ای فعلنا ذلک لیکون (ہم نے ایسا اس لئے کیا) کہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔ الموقنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ معرفہ۔ مجرور ۔ الموقن۔ واحد۔ ایقان…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–79

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 : نری (ہم دکھائیں گے) ملکوت ( نظام کائنات) الموقنین ( یقین کرنے والے) ‘ جن (چھا گیا) را ( اس نے دیکھا) ‘ کوکبا (ستارہ) ‘ وجھت ( میں نے چہرہ کرلیا۔ میں نے رخ کرلیا) ‘ فطر (اس نے بنایا۔ اس نے پیدا کیا) حنیفا (سب سے الگ۔ صرف اللہ کی عبادت کرنے والا) تشریح : آیت نمبر 75 تا 79 : ستارے ‘ چاند اور سورج۔ ان کے باری باری آنے اور غروب ہونے کا انداز کوئی انوکھا یا نیا نہیں ہے۔ ہر شخص ہر شب و روز دیکھا تا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی ہزاروں بار دیکھا ہوگا۔ مگر ایک خاص وقت پر ہی یہ کھٹک کیوں ؟ اس کا ایک جواب تو شروع آیت ہی میں دیدیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 74–79

پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور چاند سورج کا ذکر مکہ کے مشرک لوگ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی پر کہتے تھے۔ اس واسطے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قصہ ذکر فرما کر ان لوگوں کو یوں قائل کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو بت پرستی سے جس قدر بیزار تھے اس کا حال ان لوگوں کو اس قسہ سے معلوم ہوگا کہ نمرود ابن کنعان بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلئ اسی نے تاج سر پر رکھا، یہ بادشاہ لوگوں سے اپنی پرستش کراتا، اور نجومی کثرت سے اس کے دربار میں حاضر رہتے تھے۔ نمرود نے خواب دیکھا کہ ایک ستارہ طلوع ہوا ہے اس کی روشنی کے سامنے آفتاب و مہتاب بالکل بےنور ہوگئے۔ اس سے وہ بہت خوفزدہ ہوا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 74–78

[27] ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کواکب پرستی میں مبتلا تھی۔ چناچہ آپ نے یہ باتیں اپنی قوم کو پہلے ستارہ پھر چاند اور سورج دکھا کر اور سنا کر ان پر حجت قائم کرنے کے لئے کہیں۔ مخالف پر حجت قائم کرنا تبلیغ و مناظرہ کے معمولات میں سے ہے اور ہر زبان میں یہ اسلوب عام ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ سورج، چاند اور ستاروں کا غروب ہونا اللہ کی شان کے خلاف ہے کیونکہ وہ مجبور معلوم ہوتے ہیں اور کسی دوسرے کے ارادے کے محکوم۔ اور جب مجبور و محکوم ہیں تو اِلٰہ نہیں ہوسکتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 74–77

دائرہ تبلیغ کا نقطہ آغاز : (ف 2) اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا وعظ ہے جو ان کے والد سے متعلق ہے ، مقصد یہ ہے کہ انبیاء تبلیغ کو گھر سے شروع کرتے ہیں ، اور انہیں حق بات کے کہنے میں کبھی تامل نہیں ہوتا ۔ بعض لوگ یہاں لابیہ کے لفظ سے چچا مراد لیتے ہیں ، کیونکہ ان کے نزدیک انبیاء کے باپ کافر نہ ہونے چاہئیں مگر یہ محض وہم ہے ، اگر رات کی تاریکی سے خورشید خ اور کا طلوع ہو سکتا ہے ، تو پھر شرک کی ظلمتوں سے توحید کے بدر منیر کا نکل آنا کیوں ناجائز ہے ۔ حل لغات : صور : نرسنگاہ ۔ ملکوت : بادشاہت نصرت عالم فرشتگان ، عالم ارواح ، جن ، جنون بمعنی چھپانا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-75 اور ہم نے اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات و مملوکات اور بصیرت افروز حقائق دکھائے تاکہ اس کو معرفت کامل طور پر حاصل ہوجائے اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے یعنی معرفت الٰہی تو انہیں پہلے ہی سے حاصل تھی ان کی معرفت کو قوی تر کرنے اور ان کے ایقان کو کامل کرنے کے لئے ہم نے اپنی مخلوقات اور اپنی سلطنت کے عجائبات کی معرفت عطا کی تاکہ ان کو عین الیقین کا مرتبہ حاصل ہوجائے اور وہ راسخین فی الایقان میں شامل ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–75

ف 2۔ ان آیات کی تفسیر سے پہلے چند امور ضروریہ کا لحاظ رکھنا تفسیر میں معین فہم ہوگا۔ اول ابراہیم کی قوم کے احوال مذکورہ فی القرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بت پرستی بھی کرتی تھی اور ستاروں کو بھی عالم میں متصرفات جانتی تھی پس وہ دو دو طور پر مشرک تھی اعتقاد الوہیت اصنام و ربوبیت کواکب اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) کے مناظرات میں دونوں پر کلام ہے دوم ابراہیم (علیہ السلام) ہوش سنبھالتے ہی کے وقت سے توحید کے عارف ومحقق تھے۔ سوم آپ کی قوم خدا کی بھی قائل تھی یا نہیں دونوں احتمال ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس معراج کا ذکر جس میں ان کو آسمانوں اور زمین کی سیر کرائی گئی : 121: زیر نظر آیت میں سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کی اس معراج کا بیان شروع ہوا جو آپ (علیہ السلام) نے نبوت پر فائز ہوتے ہی کرلی تھی اور آپ ﷺ کو دوسرے انبیائے کرام (علیہ السلام) کی طرح آسمان و زمین کی سیر کرادی گئی جس سے آپ (علیہ السلام) کا ذہن اور فکر اس قدر کھل گیا کہ آپ ہرچیز کی حقیقت پر غور کرنے لگے اور آسمان و دنیا و مافہیا میں جو کچھ ہے اس سے اللہ کی وحدانیت آپ (علیہ السلام) کو دکھائی دینے لگی اور سارے حجاب کھول دیئے گئے اور آپ (علیہ السلام) نے سب کچھ بصیرت کی آنکھ سے اس طرح روشن دیکھا جیسے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

First, it was idol worship. He said that it was error, and straying. Then, in the next verses, he pointed out to stars as unworthy of worship. And a little earlier in verse 75, it is in the form of an introduction that Allah Ta` ala mentions a particular elegance and insight of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) by saying: وَكَذَٰلِكَ نُرِ‌ي إِبْرَ‌اهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ﴿75﴾ that is, ` We made Ibrahim (علیہ السلام) see what We have created in the heavens and the earth in a way which would unravel the reality of all these created objects…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 75–77

51. The adversaries are told that they can observe God's signs in the phenomena of the universe, just as Abraham could. The difference is that they see nothing, as if they were blind, whereas Abraham saw with open eyes. The sun, moon and stars which rise and set before their eyes day after day and night after night witness them as misguided at their setting as at their rising. Yet the same signs were observed by the perceptive Abraham, and the physical phenomena helped him arrive at the Truth. 52. To obtain a full understanding of this section, as well as of those verses which mention the…

Read the full tafseer →