Explained with ayahs 55–59
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
سورة الْاَنْعَام 39
اشارہ ہے عذاب الہٰی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھلم کھلا تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹوٹ پڑتا ؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ ادھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور ادھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اسمیں سما جاتا، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہوجاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلتوں پر ذلتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
خلاصہ تفسیر
آپ (ان معاندین سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو (حق تعالیٰ کی طرف سے) اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان (معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (اور ان کے طریقہ کی گمراہی ظاہر کرنے کے لئے) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے (باطل) خیالات کا اتباع نہ کروں گا، کیونکہ (اگر نعوذ باللہ میں ایسا کروں تو) اس حالت میں بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ (راست) پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا، آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو (اس دین اسلام کے حق ہونے پر) ایک دلیل (کافی موجود) ہے جو میرے رب کی طرف سے (مجھ کو ملی ہے، یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے، جس سے میری تصدیق ہوتی ہے)…
Read the full tafseer →‘ ما عندی ما تستعلجلون بہ ’ سو یہ عذاب، جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو، میرے پاس نہیں ہے۔ اس معاملہ کا فیصلہ کرنا خدا ہی کے اختیار میں ہے، میں جو کچھ کہہ سکتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ حق کو واضح اور اس نزاع کا فیصلہ کرے گا اور نہایت بہتر طریقہ پر فیصلہ کرے گا وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اگر وہ چیز جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے میرے اختیار میں ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان جھگڑے کا فیصلہ ہوجاتا۔ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِيْنَ میں دو پہلو ہیں۔ ایک تو ان کفار کے لیے دھمکی ہے کہ خدا ان ظالموں سے خوب باخبر ہے چناچہ وہ ان کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کے وہ مستحق ہیں۔…
Read the full tafseer →58۔ 1 یعنی اگر اللہ تعالیٰ میرے طلب کرنے پر فوراً عذاب بھیج دیتا یا اللہ میرے اختیار یہ چیز دے دیتا تو پھر تمہاری خواہش کے مطابق عذاب بھیج کر جلدی ہی یہ فیصلہ کردیا جاتا۔ لیکن یہ معاملہ چونکہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے اس لئے اس نے مجھے اس کا اختیار دیا ہے اور نہ ہی ممکن ہے کہ میری درخواست پر فوراً عذاب نازل ہو۔
ضروری وضاحت : حدیث میں جو آتا ہے کہ ایک موقع پر اللہ کے حکم سے پہاڑوں کا فرشتہ نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے کہا کہ اگر آپ حکم دیں تو میں ساری آبادی کو دونوں پہاڑوں کے درمیان کچل دوں آپ نے فرمایا ' نہیں، بلکہ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں سے اللہ کی عبادت کرنے والے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
22: یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرت ﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” قُل لَّوْ أَنَّ عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ لَقُضِیَ الأَمْرُ بَیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَاللّہُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِیْنَ (58)
” کہو : اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہئے ؟ “۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے ‘ صبر ‘ حلم ‘ بردباری ‘ اور مہلت دینے میں اس کی صلاحیت محدود ہے ۔ جب انسان انسان کے خلاف بغاوت اور سرکشی اختیار کرتا ہے تو انسان کی قوت برداشت ختم ہوجاتی ہے کیونکہ انسان دوسرے زیردست انسان کی جانب سے سرکشی کو برداشت ہی نہیں…
Read the full tafseer →3 یعنی جس پر چاہے جب چاہے اور جس قسم کا چاہے عذاب بھیجے یا نہ بھیجے ویسے ہی توبہ کی توفیق مرحمت فرما دے، یہ سب اللہ کے قبضہ میں ہے۔ کسی کا حکم اور زور اس کے سوا نہیں چلتا۔ وہ دلائل وبراہین کے ساتھ حق کو بیان کردیتا ہے۔ پھر جو نہ مانیں ان کے متعلق بہترین فیصلہ کرنیوالا بھی وہ ہی ہے۔ اگر ان کا فیصلہ کرنا یا سزا دینا میرے قبضہ اختیار میں ہوتا اور یہ نزول عذاب میں جلدی چاہنے والے مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے تو اب تک کبھی کا جھگڑا ختم ہوچکا ہوتا۔ یہ تو خدا ہی کے علم محیط، حلم عظیم، حکمت بالغہ اور قدرت کاملہ کا پر تو ہے کہ بیشمار مصالح و حکم کی رعایت کرتے ہوئے باوجود پوری طرح جاننے اور قدرت رکھنے کے…
Read the full tafseer →آیت 58 قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْط وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بالظّٰلِمِیْنَ۔ ۔
ان الفاظ سے ایک حد تک تلخی اور بیزاری ظاہر ہو رہی ہے کہ اگر یہ فیصلہ کرنا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہیں مزید مہلت نہ دیتا۔ اب میں بھی تمہارے رویے سے تنگ آچکا ہوں ‘ میرے بھی صبر کا پیمانہ آخری حد تک پہنچ چکا ہے۔
Read the full tafseer →62 اور اگر ایسا عذاب لانا میرے اختیار میں ہوتا تو وہ کب کا آچکا ہوتا اور یہ سارے جھگڑے ختم ہوچکے ہوتے مگر تم پر عذاب آنے کا ٹھیک وقت تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ اللہ کا علم، اس کا حلم اور اس کی حکمت بالغہ جب تم پر عذاب لانے کی مقتضی ہوگی اس وقت اس کے عذاب کو کوئی ٹال نہیں سکے گا۔
Read the full tafseer →88 ۔ اور وہی سارا فیصلہ کرے گا جو جس کے مناسب حال وقرین حکمت ہو، خواہ عذاب دنیوی ہو یا اخروی) اللہ اعلم بالظلمین وبما یجب فی الحکمۃ من وقت عقابھم ومقدارہ (کبیر) یعنی انہ ھو العالم بکل شیء فھو یعجل ما تعجیلہ اصلح ویؤخر ماتاخیرہ اصلح (کبیر) (آیت) ” عندی “۔ یعنی میرے قبضۃ واختیار میں۔ ای فی قدرتی (کشاف) ای فی قدرتی وامکانی (کبیر) ای لوکان مرجع ذلک الی (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت نمبر 56 تا 60
ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے) کہو کہ اللہ کے سوا جن کی تم بندگی کرتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے، (اور ان سے یہ بھی) کہو کہ ان کی بندگی کرنے میں، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے خواہشات کی پیروی کی تو میں گمراہ ہوگیا، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہا، کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم نے میرے رب کو چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ تم نے شرک کیا، جس عذاب کی تم جلدی مچار ہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اس معاملہ میں اور دیگر معاملات میں صرف الہ وحدہ ہی کا حکم چلتا ہے وہی برحق فیصلہ کرتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور ایک…
Read the full tafseer →قل لو ان عندی ما تستجعلون بہ اے محمد ﷺ ۔ آپ کہہ دیجئے کہ بالفرض اگر میری قدرت میں وہ عذاب اور قیامت کو لانا جس کی تم جلدی مچا رہے ہو ہوتا۔
لقضی الامر بینی وبینکم تو میرا اور تمہارا قصہ فیصل ہوچکا ہوتا۔
یعنی عذاب آ چکتا اور تم ہلاک ہو چکتے اور میرا تمہارا جھگڑا ہی نمٹ جاتا یا یہ مطلب ہے کہ آج ہی قیامت بپا ہوجاتی ‘ حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا اور میرے تمہارے درمیانی جھگڑے کا فیصلہ جو قیامت میں ہونے والا ہے وہ آج ہی طے ہوجاتا۔ اللہ نے فرمایا ہے (ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعْکُمْ ثُمَّ یَحْکُمْ بَیْنَکُمْ فِیْمَا کُنْتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُوْنَ ) ۔
اس آیت میں باہمی جھگڑا چکانے کا مبہم طور پر ذکر کردیا گیا…
Read the full tafseer →(58) اور یہ بھی فرما دیجیے کہ اگر عذاب میرے ہاتھ میں ہوتا تو تم اب تک ہلاک ہوجاتے، وہ ذات برحق نضر اور اس کے ساتھی مشرک لوگوں کی سزا سے بخوبی آگاہ ہے، چناچہ نضر جیسا کہ یہ عذاب چاہتا تھا اسی طریقہ پر غزوہ بدر میں مارا گیا۔
Read the full tafseer →لَقُضِيَ الْاَمْرُ بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ : یعنی اگر عذاب کا لانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہارے جھٹلانے کی وجہ سے اب تک تمہیں ہلاک کرچکا ہوتا۔ (رازی)
وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بالظّٰلِمِيْنَ : یعنی اللہ ہی جانتا ہے کہ کب عذاب لانا ہے اور کب تک انھیں مہلت دینی ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 56 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل لوان عندی ما تستعجلون بہ جس عذاب کی تم جلدی مچا رہے ہو، اگر وہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے تم پر نازل کردیتا حتی کہ معاملہ کا فیصلہ ہوجاتا۔ الاستعمال کا مطلب ہے وقت سے پہلے کسی چیز کو جلدی طلب کرنا۔ آیت : واللہ اعلم باالظلمین یعنی اللہ تعالیٰ مشرکوں کو اور ان کی سزا کے وقت کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(1) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت یقضی الحق (یعنی وہی حق فیصلے کرتا ہے)
(2) امام دار قطنی نے الافراد میں اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو یوں پڑھایا لفظ آیت یقص الحق وھو خیر الفصلین
(3) امام سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یقص الحق اور وہ فرماتے تھے لفظ آیت نحن نقص علیک احسن القصص
(4) امام ابن الانصاری نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں لفظ آیت یقص الحق ہی ہے۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] لَّوْ [ اگر ] اَنَّ [ یہ کہ ] عِنْدِيْ [ میرے پاس ہوتا ] مَا [ وہ ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ] بِهٖ [ جس کی ] لَقُضِيَ [ تو فیصلہ کردیا جاتا ] الْاَمْرُ [ تمام معاملات کا ] بَيْنِيْ [ میرے درمیان ] وَبَيْنَكُمْ ۭ [ اور تمہارے درمیان ] وَاللّٰهُ [ اور اللہ ] اَعْلَمُ [ خوب جانتا ہے ] بِالظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
گمراہوں کا اتباع کرنے کی ممانعت
ان آیات میں چند امور مذکور ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے چند باتوں کا اعلان کروایا ہے اولا تو یہ فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں۔ میں معبود ان باطلہ کی عبادت نہیں کرسکتا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھ سے یہ امید نہ رکھنا کہ میں کبھی تمہارے باطل کا ساتھ دے دوں اور تمہاری خواہشوں کا اتباع کروں (العیاذ باللہ) خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو تمہاری طرح میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ یہ وہی مضمون ہے جس کا سورة کافرون میں اعلان فرمایا۔
ثانیاً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ اعلان فرما دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
بت پرستی کی مذمت اور ممانعت اور خدا پرستی کی حقانیت اور دعوت۔
قال اللہ تعالی، قل انی نھیت۔۔۔۔ الی۔۔۔ فی کتاب مبین۔
ربط) ۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے بت پرستی کی مذمت اور ممانعت ذکر فرمائی اور بعدا زاں خدا پرستی کی حقانیت اور اس کی دعوت کا ذکر فرمایا جو اوصاف معبود میں ہونے چاہیں وہ سوائے الہ کے کسی میں نہیں خدا کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ کوئی قادر مطلق ہے اور نہ کوئی نفع اور ضرر کا مالک ہے پس جب یہ اوصاف خدا کے سوا کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کیوں کرتے ہو توحید ہی سیدھا راستہ ہے جس کی اسلام تم کو تعلیم دیتا ہے پس تم ایک ہی خدا کی عبادت اور بندگی کرو…
Read the full tafseer →65 یہ ساتواں طریق تبلیغ ہے نیز سوال مقدر کا جواب ہے یعنی جب ہم مانتے نہیں تو ہم پر عذاب لے آؤ تو اس کا جواب دیا گیا کہ کہہ دو یہ میرے قبضے میں نہیں غائبانہ حکم اور تصرف صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا تذکرہ فرمایا تھا جن کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ تھا ‘ مثلاً یہ کہ آپ ضعیف اور نادار اہل ایمان کو اپنے آپ سے دور نہ کریں بلکہ ان پر نگاہ شفقت رکھیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ساتھ آزمایا ہے تو عین ممکن ہے کہ کمزور لوگ با صلاحیت اور ایمان دار ہوں اور اعلیٰ صلاحیت کے مالک گمراہ ہوں اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ غریب لوگ ہی ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب کہ امراء اپنے غرور اور تکبر اور مال و دولت کے گھمنڈ میں ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان ناداروں کو مجلس سے دور نہ کریں بلکہ جب وہ آپ کے پاس…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِيْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ لَقُضِيَ الْاَمْرُ بَيْــنِيْ وَبَيْنَكُمْ 0ۭ وَاللہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِـمِيْنَ 58
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔
عجل
العَجَلَةُ : طلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ترکیب : اذاً ای ان اتبعتہا گویا قد ضللت وما انا جواب ہیں شرط محذوف کے بمفاتح جمع مفتح بالفتح کی جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور مفتح یا مفتاح بمعنی کلید اس کی جمع مفاتیح آتی ہے الا فی کتاب ای الاھو فی کتاب۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ گنہگاروں کا طریقہ معلوم ہوجاوے کیونکہ جو آیات الٰہی کے خلاف طریق ہے وہ گنہگاروں کا رستہ ہے۔ اب یہاں وہ گنہگاروں کا رستہ بتلاتا ہے کہ ان مشرکوں سے کہہ دو مجھے اللہ کے سوا اور کسی چیز کے پوجنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور ان سے یہ کہہ دو کہ یہ بلا دلیل وبرہان جو تم نے اپنے اوہام باطلہ سے سینکڑوں معبود بنا رکھے ہیں۔ میں تمہارا اس امر میں کہا نہ…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ ط وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانعام : 58)
(کہہ دو ! اگر وہ چیز میرے پاس ہوتی ‘ جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان جھگڑے کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور اللہ ظالموں سے خوب باخبر ہے )
اگر عذاب کا فیصلہ رسول کے پاس ہوتا تو جھگڑے کا فیصلہ ہوچکا ہوتا
اس آیت کریمہ میں علمی نکات تو کئی ہیں۔ لیکن بطور خاص دو باتوں کو نمایاں کیا گیا ہے ایک یہ بات کہ تم جو بار بار مجھ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو اور اس کی جلدی مچا رہے ہو تم نے شاید اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر یہ اختیار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین نہ صرف خودگمراہ ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں سے بھی اپنا عقیدہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا کفر و شرک واضح کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ سے اعلان کرایا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
مشرکین اور منکرین کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ توحید پرستوں کو ان کے راستے سے ہٹا کر شرک اور نافرمانی کے راستہ پر لگائیں۔ جس کے لیے قرآن مجید نے متعدد بار نبی ﷺ کی زبان اطہر سے یہ اظہار اور اعلان کروایا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں لوگوں کو بتلائیں کہ مجھے غیر اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا…
Read the full tafseer →میری قدرت میں عذاب نہیں وہ جب چاہے اتارے :
آیت 58 : قُلْ لَّوْ اَنَّ عِنْدِیْ یعنی میری قدرت و امکان میں مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖیعنی عذاب لَقُضِیَ الْاَمْرُ بَیْنِیْ وَبَیْنَکُمْتو تم جلدی ہلاک ہوجائو غضب الٰہی کی وجہ سے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالظّٰلِمِیْنَپس وہ تم پر ایسے وقت عذاب اتارے گا جس میں وہ جانتا ہے کہ وہ زیادہ روکنے والا ہے۔
Read the full tafseer →(تفسیر) (58) (قل لو ان عندی) میرے ہاتھ میں (ماتستعجلون بہ) یعنی عذاب (لقضی الا مربیھی وبینکم) یعنی میں عذاب دے کر تمہیں ہلاک کر کے تم سے چھٹکارا حاصل کرلیتا ہے۔ (واللہ اعلم بالظلمین)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55 ۔ 58) ۔ شروع سورة سے یہاں تک توحید کی خوبی اور شرک کی خرابی کا ذکر جو تفصیل سے گذرا اسی کو فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔{ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ } کی شان نزول میں آوے گا کہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں ان مشرکوں کے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ایک سال یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں اسی پر گویا آپس کی صلح ٹھہر جاوے۔ اسی کو فرمایا اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (قل) ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارت یہیں (انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ “ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ون قصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔
بنابریں فرمایا : (قل لا اتبع اھوآء کم قد…
Read the full tafseer →100 آخری فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے : نہ کہ میرے اختیار میں۔ ورنہ اگر میرے اختیار میں ہوتا وہ کچھ جس کا تم لوگ اس قدر شدت و تکرار اور بےفکری و لاپرواہی کے ساتھ اور مذاق واستہزا کے طور پر مطالبہ کرتے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کبھی کا کردیا گیا ہوتا اور کام چکا دیا جاتا۔ کہ میں تمہارے مطالبے پر وہ عذاب فوری ہی تم پر ڈال کر تم سے چھٹکارا حاصل کرلیتا تاکہ تمہارے وجود سے اللہ کی دھرتی پاک ہوجاتی۔ اور راہ حق میں تمہاری طرف سے اٹکائے جانے والے روڑے دور ہوجاتے۔ اور میں تم کو ایک گھڑی بھی مہلت نہ دیتا ۔ کما قال ابن عباس ؓ ۔ (صفوہ، جامع، ابن کثیر، زاد المسیر وغیرہ) ۔ لیکن معاملہ میرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
عبادت صرف اللہ کی
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے مقام اور مرتبہ کی وضاحت کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف توحید پر عمل کرنا توحید کی تبلیغ کرنا ہے، آپ کا کام نہیں کہ کسی کی خوشامد کریں، کسی سے رعایت کریں، کسی کو سزا دیں یا کسی سے ناراض ہوں۔ اگر یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کب کی سزا دے چکے ہوتے اور برے لوگوں کا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ کام تو رب کا ہے وہی جانتا ہے ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ یہ تمام معاملات اللہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس ظالم کو کیا سزا دینی ہے اور کب دینی ہے ؟ یہ سب کام اللہ رب العزت کے اختیار اور علم میں ہیں۔ میرا کام تو صرف اس کا پیغام بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 56 ۔ تا 60 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں صاف طریقہ سے بتا دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو مجھے ان کی اطاعت سے روک دیا گیا ہے اس لی کہ اللہ کریم کو کبھی یہ بات گوارہ نہیں ہوسکتی کہ بندہ تو اس کا ہو اور اپنی ضروریات کسی اور کے دروازے پر لے جائے پھر حال یہ ہے کہ ہر ضرورت پوری بھی اللہ ہی کرتا ہے یہ انسان کی کوتاہ بینی ہے کہ اس کے صلے میں احساس تشکر دوسروں کے در پہ نچھاور کرے اور یہ محض تمہارے نفس کا فریب ہے اگر خدانخواستہ تمہاری تائید کروں تو میں غلطی کرنے والوں میں سے ہوجاؤں گا اور سیدھی راہ چھوٹ جائے گی یہ بات پھر بھی درست ثابت نہ ہوسکے گی لہذا میں ایسی بات کیوں…
Read the full tafseer →ف 6 یعنی اگر عذاب کا لانا میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمہاری تکذیب کی وجہ سے اب تک تمہیں ہلاک کرچکا ہوتا، ) رازی )
7 ۔ کہ کب ان پر عذاب بھیجا جائے اور کب تک انہیں مہلت دی جائے (رازی )
Read the full tafseer →(6:58) لقضی الامر۔ بات کا فیصلہ ہوگیا ہوتا القضاء کا معنی قولا یا عملاً کسی کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں۔ حکم کرنا ۔ خبردار کرنا۔ تمام کرنا کے معنی میں بھی آتا ہے ملاحظہ ہو (6:2) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن : آیت نمبر 56 تا 58 :
نیھت (میں روکا گیا ہوں) ان اعبد (یہ کہ میں عبادت و بندگی کروں) لا اتبع ( میں پیروی نہ کروں گا) ‘ قد ضللت ( یقیناً میں بہک جاؤں گا) عندی (میرے پاس) تستعجلون (تم جلدی مچاتے ہو۔ جلدی کرتے ہو) الحکم (حکم ۔ فیصلہ) یقص ( وہ بیان کرتا ہے) ‘ الفصلین (فیصلہ کرنے والے۔ جدا کرنے والے) ‘ لو ان عندی ( اگر بیشک میرے پاس ہوتا) لقضی الامر (البتہ معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا) ۔
تشریح : 56 تا 58 :
آیت 56 میں بتایا گیا ہے کہ شرک کیا ہے ؟
(1) اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اور پرستش کرنا۔
(2) شیطانی ہوا و ہوس کے پیچھے بھاگنا۔
(3) ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہی کے گڑھے میں گر پڑنا۔
آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
علم غیب کا ذکر
شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھادیا جاتا ہے تاکہ تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا، جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجو اور ایک سال ہم اللہ کی عبادت کریں اس پر گویا آپس کی صلح ٹہرجاوے۔ اسی کو ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے۔ میں اصل ملت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–59
[23] یعنی لوح محفوظ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اگر دلائل طلب کرتے ہو تو جان لو کہ (آیت) ” انی علی بینۃ من ربی “۔ مجھے اللہ نے دلیل وباہین سے بہر وافر عطا کر رکھا ہے ، میں اپنے ہر دعوے کو علے وجہ البصیرت پیش کرسکتا ہوں ، اور اگر عذاب کا مطالبہ ہے تو یہ اللہ کے علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا کہ علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا ، تم کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا ، اس وقت تم کچھ نہ کرسکو گے ۔
حل لغات :
ولتستبین : مادہ بیان ، بمعنے ظاہر ہونا ،
اھوآء : جمع ھوا ، محض ، نفس کی خواہش ،
الفاصلین : مادہ فصل بمعنی فیصلہ کرنا ، جمع فاصل ۔
Read the full tafseer →-58 آپ ان سے کہہ دیجیے اگر کہیں وہ چیز جس کی تم جلدی کیا کرتے ہو میرے اختیار میں ہوتی تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور میرا تمہارا قصہ کبھی کا ختم ہوچکا ہوتا اور ظالموں کے احوال تو اللہ تعالیٰ ہی خوب جاتا ہے ینی میں نہیں کہہ سکتا کہ تم کو مہلت دینے میں اس کی کیا مصلحت ہے ۔
Read the full tafseer →ف 3۔ ان کے علم میں جب مناسب ہوگا نزول عذاب ہوجائے گا خواہ دنیا میں بھی جیسے بدر وغیرہ میں ہلاک کیے گئے اور خواہ آخرت میں کہ دوزخ میں جائیں گے غرض نہ مجھ کو اس کی قدرت ہے نہ اس کے مناسب ہونے کا وقت مجھ کو معلوم ہے اور نہ اس کی حاجت ہے۔
Read the full tafseer →جس چیز کے لئے تم جلدی مچار ہے ہو اگر میرے اختیار میں ہوتی تو کب کا فیصلہ ہوگیا ہوتا ؟ :
89: اللہ کے اختیار کی چیزیں اگر کسی انسان کے اختیار میں دی جاتیں تو یہ کائنات اور کائنات کا نظام کبھی کا ٹھپ ہوگیا ہوتا۔ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے اور ان فضاؤں اور خلاؤں میں جو کچھ نظر آتا ہے ایک ایک چیز پر غور کر کے دیکھو کہ ان میں سے کتنی چیزیں ہیں جن پر اللہ نے کسی انسان کو اختیار نہیں دیا کیوں ؟ اس لئے کہ اللہ کے اختیار کی چیزیں کسی انسان کے اختیار میں دی ہی نہیں جا سکتیں اور قانون الٰہی یہی طے پایا کہ وہ کسی انسان کو نہ دی جائیں۔ جیسے گرمی ، سردی ، ہوا ، پانی ، زندگی ، موت ، دن ، رات ، عذاب وثواب ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
The Linkage of Verses
In the verses cited above, the answer to disbelievers who were demanding that the Divine punishment should come to them posthaste was given in: وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ (He is the best decision-maker) while the mention of the perfect power of Almighty Allah was made in: وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ (Allah knows the unjust best). Next from here, there is a description of the encompassment of the Knowledge and Power of Allah Ta` ala on all conceivable data and destiny.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
39. This alludes to God's punishment. The adversaries questioned why it was that they had openly rejected a Prophet sent by God, but had not been struck down by God's wrarth? They said that the fact of his appointment by God meant that anyone who either disbelieved or insulted him would, at once, be either plunged into the earth or struck by lightning. And yet, they pointed out, the Messenger of God and his followers faced new sufferings and humiliations whereas those who abused and persecuted him enjoyed prosperity.
Read the full tafseer →