Explained with ayahs 55–59
نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟
یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
سورة الْاَنْعَام 39
اشارہ ہے عذاب الہٰی کی طرف۔ مخالفین کہتے تھے کہ اگر تم خدا کی طرف سے بھیجے ہوئے نبی ہو اور ہم کھلم کھلا تمہیں جھٹلا رہے ہیں تو کیوں نہیں خدا کا عذاب ہم پر ٹوٹ پڑتا ؟ تمہارے مامور من اللہ ہونے کا تقاضا تو یہ تھا کہ ادھر کوئی تمہاری تکذیب یا توہین کرتا اور ادھر فوراً زمین دھنستی اور وہ اسمیں سما جاتا، یا بجلی گرتی اور وہ بھسم ہوجاتا۔ یہ کیا ہے کہ خدا کا فرستادہ اور اس پر ایمان لانے والے تو مصیبتوں پر مصیبتیں اور ذلتوں پر ذلتیں سہ رہے ہیں اور ان کو گالیاں دینے اور پتھر مارنے والے چین کیے جاتے ہیں ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
خلاصہ تفسیر
آپ (ان معاندین سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو (حق تعالیٰ کی طرف سے) اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان (معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (اور ان کے طریقہ کی گمراہی ظاہر کرنے کے لئے) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے (باطل) خیالات کا اتباع نہ کروں گا، کیونکہ (اگر نعوذ باللہ میں ایسا کروں تو) اس حالت میں بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ (راست) پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا، آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو (اس دین اسلام کے حق ہونے پر) ایک دلیل (کافی موجود) ہے جو میرے رب کی طرف سے (مجھ کو ملی ہے، یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے، جس سے میری تصدیق ہوتی ہے)…
Read the full tafseer →بَيِّنَةٍ سے مراد قرآن ہے : قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ ، بینۃ سے مراد قرآن مجید ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے بطور شہادت اتارا ہے کہ اس کا کوئی شریک وسہیم نہیں ہے۔ اس شہادت کا ذکر پیچھے آیت 19 میں گزر چکا ہے۔ آگے آیت 157 میں قرآن کے لیے یہی لفظ استعمال ہوا ہے۔ او تقولوا لو انا انزل علینا الکتب لکنا اھدی منہم فقد جاء کم بینۃ من ربکم و ھدی و رحمۃ (یا کہیں تم یہ کہو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی تو ہم ان سے یادہ ہدایت یافتہ ہوتے، سو دیکھ لو تمہارے پاس بھی تمہارے رب کی جانب سے ایک واضح شہادت اور ہدایت و رحمت آگئی)۔ وَكَذَّبْتُمْ بِهٖ میں ضمیر کا مرجع بینۃ ہے،…
Read the full tafseer →57۔ 1 مراد وہ شریعت ہے جو وحی کے ذریعے سے آپ پر نازل کی گئی، جس میں توحید کو اولین حیثیت حاصل ہے۔ ان اللہ لا ینظر الی صورکم ولا الی اموالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعمالکم (صحیح مسلم)
57۔ 2 تمام کائنات پر اللہ ہی کا حکم چلتا ہے اور تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اس لئے تم جو چاہتے ہو کہ جلدی اللہ کا عذاب تم پر آجائے تاکہ تمہیں میری صداقت کا پتہ چل جائے، تو یہ بھی اللہ ہی کے اختیار میں ہے، وہ اگر چاہے تو تمہاری خواہش کے مطابق جلدی عذاب بھیج کر تمہیں متنبہ کر دے اور چاہے تو اس وقت تک مہلت دے دے جب تک اس کی حکمت اس کی متقضی ہو۔
57۔ 3 یَقُصُّ قَصَصْ سے ہے یعنی یَقُصُّ قَصَصَ الْحَق حق باتیں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
22: یہ آیات کفار کے اس مطالبے کے جواب میں نازل ہوئی ہیں کہ جس عذاب سے آنحضرت ﷺ ہمیں ڈرا رہے ہیں وہ ہم پر فوراً کیوں نازل نہیں ہوتا، جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عذاب نازل کرنے کا صحیح وقت اور مناسب طریقہ طے کرنے کا مکمل اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے جس کا فیصلہ وہ اپنی حکمت سے کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” قُلْ إِنِّیْ عَلَی بَیِّنَۃٍ مِّن رَّبِّیْ وَکَذَّبْتُم بِہِ مَا عِندِیْ مَا تَسْتَعْجِلُونَ بِہِ إِنِ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلّہِ یَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَ خَیْْرُ الْفَاصِلِیْنَ (57) ۔
” کہو ” میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے ۔ اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو ‘ فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے ‘ وہی امر حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے “۔
یہ ضرب اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتے ہیں کہ آپ کفار اور جھٹلانے والوں کے سامنے واضح الفاظ میں اس بات کا اعلان کردیں کہ آپ کے دل میں اپنے پیغام کے…
Read the full tafseer →1 یعنی میرے پاس خدا کی صاف وصریح شہادت اور واضح دلائل پہنچ چکیں، جن کے قبول سے سرمو انحراف نہیں کرسکتا۔ تم اس کو جھٹلاتے ہو تو اسکا انجام سوچ لو۔
2 یعنی عذاب الٰہی کفار کہتے تھے، ( اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ) 8 ۔ الانفال :32) (اگر یہ حق ہے جسکی ہم تکذیب کر رہے ہیں تو آپ آسمان سے ہم پر پتھروں کی بارش کر دیجئے یا ہم پر اور کوئی سخت عذاب بھیج دیجئے)
Read the full tafseer →آیت 57 قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ
یہ بیّنہ ہے کیا ؟ اس کی وضاحت سورة ھود میں آئے گی۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ ایک عام انسان کے لیے بَیِّنَہ دو چیزوں سے مل کر بنتی ہے ‘ انسان کی فطرت سلیمہ اور وحی الٰہی۔ فطرت سلیمہ اور عقل سلیم انسان کے اندر اللہ کی طرف سے ودیعت کردی گئی ہے جس کی بنا پر اس کو نیکی بدی اور اچھے برے کی تمیز فطری طور پر مل گئی ہے۔ اس کے بعد اگر کسی انسان تک نبی یا رسول کے ذریعے سے اللہ کی وحی بھی پہنچ گئی اور اس وحی نے بھی ان حقائق کی تصدیق کردی جن تک وہ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کی راہنمائی میں پہنچ چکا تھا ‘ تو اس پر حجت تمام ہوگئی۔ اس طرح…
Read the full tafseer →61 اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ؟ اس آیت میں ایسے مجرموں یا ہٹ دھرموں کی ایک اور صفت بیان کی گئی ہے۔ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ اگر تم سچے نبی ہوتے تو تم اور تمہارے ساتھی ایسی بےبسی اور درماندگی کی حالت میں کیوں ہوتے ؟ اور جس طرح ہم تم لوگوں پر سختیاں کر رہے ہیں اگر تم سچے ہوتے تو اب تک ہم پر وہ عذاب آجانا چاہیے تھا جس کی تم ہمیں دھمکیاں دیتے رہتے ہو۔ مجرموں کی اسی بات کا جواب اللہ نے یہ دیا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میرے اپنے اطمینان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ ٹھیک ٹھیک اس راہ راست پر جا رہا ہوں جو اللہ نے میری طرف وحی کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ تم پر وہ عذاب اب تک کیوں نہیں آچکا تو اس…
Read the full tafseer →86 ۔ یعنی عذاب الہی۔ ای العذاب (قرطبی) (آیت) ” ما عندی ما تستعجلون بہ “۔ یعنی مجھ میں اس عذاب کی جلد یا بدیر لانے کی قدرت کہاں ؟ لا قدرۃ لی علی تقدیمہ او تاخیرہ (کبیر) منکرین طنز کے لہجہ میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار کہتے تھے کہ سچے ہو تو ہم پر عذاب الہی لا دکھاؤ یہ جواب اسی بیہودہ فرمائش کا دیا جارہا ہے۔ فانھم کانوا لفرط تکذیبھم یستعجلون نزولہ استھزاء (قرطبی) (آیت) ” علی بینۃ من ربی “۔ سب سے بڑا بینۃ یہی قرآن مجید ہے جو دنیا کا عظیم ترین دائمی ومستقل معجزہ ہے۔ اپنی تعلیمات کے لحاظ سے جامع وکامل، اپنی ہدایت و احکام کے لحاظ سے بےمثل اور اپنی انشاء وطرز بیان کے لحاظ سے بھی اپنا نظیر آپ ای علی حجۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت نمبر 56 تا 60
ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے) کہو کہ اللہ کے سوا جن کی تم بندگی کرتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے، (اور ان سے یہ بھی) کہو کہ ان کی بندگی کرنے میں، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے خواہشات کی پیروی کی تو میں گمراہ ہوگیا، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہا، کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم نے میرے رب کو چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ تم نے شرک کیا، جس عذاب کی تم جلدی مچار ہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اس معاملہ میں اور دیگر معاملات میں صرف الہ وحدہ ہی کا حکم چلتا ہے وہی برحق فیصلہ کرتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور ایک…
Read the full tafseer →قل انی علی بینۃ من ربی آپ کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو ایک دلیل ہے میرے رب کی طرف سے۔
مِنْ بَیَّنَۃٍکی مِنْ رَبّیصفت ہے یعنی وہ دلیل جو میرے رب کی طرف سے مجھے ملی۔ یا من ربی بینۃ کا صلہ ہے یعنی اپنے رب کی معرفت اور اس بات کا علم کہ اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے۔
سابق آیت میں اس (خواہش نفس) کا اظہار تھا جس کا اتباع ناجائز ہے اس آیت میں اس شے کا بیان ہے جس کا اتباع لازم ہے یعنی دلیل و بصیرت۔
وکذبتم بہ اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو۔ بہکی ضمیر بینۃ کی طرف راجع ہے کیونکہ (بینۃ کا لفظ اگرچہ مؤنث ہے لیکن) معنوی اعتبار سے یہ مذکر ہے یعنی برہان۔ یا رب کی طرف راجع ہے یعنی تم میرے رب کی تکذیب کرتے ہو دوسروں…
Read the full tafseer →(57) اے محمد ﷺ آپ نضر بن حارث اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ میرے رب کے پاس سے مجھے تو میرے اور میرے حکم پر ایک کافی دلیل ملی ہے اور تم بلاوجہ قرآن کریم اور توحید کی تکفیر کرتے ہو، نزول عذاب کا کسی بھی طرح کا حکم اللہ ہی کی قدرت میں ہے، وہی سب سے بڑھ کر عدل کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے اور حق کا حکم دیتا ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَةٍ۔۔ : کہہ دیجیے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے واضح دلیل، یعنی وحی الٰہی موجود ہے، جس کا اصل الاصول توحید ہے، اسے تم نے جھٹلایا۔ اب جس عذاب کے جلدی لانے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں۔ عذاب لانے یا نہ لانے کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔
اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۭ : معلوم ہوا کہ انبیاء کو معجزات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا، یہ اختیار صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 57 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل انی علی بینتہ من ربی یعنی میں دلالت، یعقین، محبت اور برہان پر ہوں۔ خواہش پر نہیں ہوں اسی سے البینتہ (گواہی) ہے جس سے حق واضح اور ظاہر ہوتا ہے۔
و کذبتم بہ تم نے اس بینتہ (دلیل) کو جھٹلایا، کیونکہ یہ بیان کے معنی میں ہے اس لیے ضمیر مذکر کی جیسے فرمایا : آیت : واذا حضر القسمتہ اولوا القربی والیتمی والمسکین فارزقوھم منہ (النسائ : 8) یہاں بھی ضمیر مذکر ذکر کردی جب ظاہر مرجع مونث ہے۔ ہم نے اس کی وضاحت اسی آیت کے تحت کردی ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عذاب کی طرف راجع ہے۔ بعض نے کہا : قرآن کی طرف راجع ہے۔ اس آیت او اس سے پہلے والی آیت کے معنی میں معصب بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(1) امام ابن ابی شیبہ اور ابن منذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا ہے اس کو یوں پڑھا لفظ آیت یقضی الحق (یعنی وہی حق فیصلے کرتا ہے)
(2) امام دار قطنی نے الافراد میں اور ابن مردویہ نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو یوں پڑھایا لفظ آیت یقص الحق وھو خیر الفصلین
(3) امام سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت یقص الحق اور وہ فرماتے تھے لفظ آیت نحن نقص علیک احسن القصص
(4) امام ابن الانصاری نے ہارون (رح) سے روایت کیا کہ عبد اللہ ؓ کی قرأت میں لفظ آیت یقص الحق ہی ہے۔
(5) امام عبد بن حمید، ابن ابی حاتم…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] عَلٰي بَيِّنَةٍ [ ایک واضح دلیل پر ہوں ] مِّنْ رَّبِّيْ [ اپنے رب ] (کی طرف) سے ] وَكَذَّبْتُمْ [ حالانکہ تم لوگوں نے جھٹلایا ] بِهٖ ۭ [ اس کو ] مَا عِنْدِيْ [ میرے پاس نہیں ہے ] مَا [ وہ ] تَسْتَعْجِلُوْنَ [ تم لوگ جلدی مچاتے ہو ] بِهٖ ۭ [ جس کی ] اِنِ [ نہیں ہے ] الْحُكْمُ [ حکم ] اِلَّا [ مگر ] لِلّٰهِ ۭ [ اللہ کا ] يَقُصُّ [ وہ بیان کرتا ہے ] الْحَقَّ [ حق کو ] وَهُوَ [ اور وہ ] خَيْرُالْفٰصِلِيْنَ [ فیصلہ کرنے والوں میں بہترین ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
گمراہوں کا اتباع کرنے کی ممانعت
ان آیات میں چند امور مذکور ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے چند باتوں کا اعلان کروایا ہے اولا تو یہ فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں۔ میں معبود ان باطلہ کی عبادت نہیں کرسکتا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھ سے یہ امید نہ رکھنا کہ میں کبھی تمہارے باطل کا ساتھ دے دوں اور تمہاری خواہشوں کا اتباع کروں (العیاذ باللہ) خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو تمہاری طرح میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ یہ وہی مضمون ہے جس کا سورة کافرون میں اعلان فرمایا۔
ثانیاً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ اعلان فرما دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–59
بت پرستی کی مذمت اور ممانعت اور خدا پرستی کی حقانیت اور دعوت۔
قال اللہ تعالی، قل انی نھیت۔۔۔۔ الی۔۔۔ فی کتاب مبین۔
ربط) ۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے بت پرستی کی مذمت اور ممانعت ذکر فرمائی اور بعدا زاں خدا پرستی کی حقانیت اور اس کی دعوت کا ذکر فرمایا جو اوصاف معبود میں ہونے چاہیں وہ سوائے الہ کے کسی میں نہیں خدا کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ کوئی قادر مطلق ہے اور نہ کوئی نفع اور ضرر کا مالک ہے پس جب یہ اوصاف خدا کے سوا کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کیوں کرتے ہو توحید ہی سیدھا راستہ ہے جس کی اسلام تم کو تعلیم دیتا ہے پس تم ایک ہی خدا کی عبادت اور بندگی کرو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–57
64 چوتھا طریق تعلیم یعنی مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان باطل معبودوں کو پکاروں جن کو تم پکارتے ہو۔ قُلْ لَّا اَتَّبِعُ الخ یہ پانچواں طریق تعلیم ہے یعنی مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں تمہاری خواہشات اور تمہارے خود ساختہ دین کی پیروی کروں اگر میں ایسا کروں گا تو ہدایت کی راہ سے بھٹک کر گمراہ ہوجاؤں۔ قُلْ اِنِّیْ عَلیٰ بَیِّنَۃٍ یہ چھٹا طریق تعلیم ہے۔ یعنی میرے پاس تو اللہ کی طرف سے دلائل موجود ہیں جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ باقی رہا وہ عذاب جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار و تصرف میں نہیں وہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ للہ وحدہ من غیر ان یکون لغیرہ سبحانہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا تذکرہ فرمایا تھا جن کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ تھا ‘ مثلاً یہ کہ آپ ضعیف اور نادار اہل ایمان کو اپنے آپ سے دور نہ کریں بلکہ ان پر نگاہ شفقت رکھیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ساتھ آزمایا ہے تو عین ممکن ہے کہ کمزور لوگ با صلاحیت اور ایمان دار ہوں اور اعلیٰ صلاحیت کے مالک گمراہ ہوں اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ غریب لوگ ہی ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب کہ امراء اپنے غرور اور تکبر اور مال و دولت کے گھمنڈ میں ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان ناداروں کو مجلس سے دور نہ کریں بلکہ جب وہ آپ کے پاس…
Read the full tafseer →قُلْ اِنِّىْ عَلٰي بَيِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّيْ وَكَذَّبْتُمْ بِہٖ 0ۭ مَا عِنْدِيْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ 0ۭ اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلہِ 0ۭ يَقُصُّ الْحَقَّ وَہُوَخَيْرُ الْفٰصِلِيْنَ 57
بَيِّنَة
والبَيِّنَة : الدلالة الواضحة عقلية کانت أو محسوسة، وسمي الشاهدان بيّنة لقوله عليه السلام : «البيّنة علی المدّعي والیمین علی من أنكر» «وقال سبحانه : أَفَمَنْ كانَ عَلى بَيِّنَةٍ مِنْ رَبِّهِ [هود/ 17] ، وقال : لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ [ الأنفال/ 42] ، جاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّناتِ [ الروم/ 9] .
( ب ی ن ) البَيِّنَة
کے معنی واضح دلیل کے ہیں ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
ترکیب : اذاً ای ان اتبعتہا گویا قد ضللت وما انا جواب ہیں شرط محذوف کے بمفاتح جمع مفتح بالفتح کی جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور مفتح یا مفتاح بمعنی کلید اس کی جمع مفاتیح آتی ہے الا فی کتاب ای الاھو فی کتاب۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ گنہگاروں کا طریقہ معلوم ہوجاوے کیونکہ جو آیات الٰہی کے خلاف طریق ہے وہ گنہگاروں کا رستہ ہے۔ اب یہاں وہ گنہگاروں کا رستہ بتلاتا ہے کہ ان مشرکوں سے کہہ دو مجھے اللہ کے سوا اور کسی چیز کے پوجنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور ان سے یہ کہہ دو کہ یہ بلا دلیل وبرہان جو تم نے اپنے اوہام باطلہ سے سینکڑوں معبود بنا رکھے ہیں۔ میں تمہارا اس امر میں کہا نہ…
Read the full tafseer →مشرکین مکہ کی جانب سے آنحضرت ﷺ سے نئے نئے مطالبات کیے جا رہے تھے۔ آنے والی آیت کریمہ میں انہی میں سے ایک مطالبے کا اشارۃً ذکر ہو رہا ہے اور نہایت موثر انداز میں اس کا جواب ارشاد فرمایا جا رہا ہے :
قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ کَذَّبْتُمْ بِہٖ ط مَا عِنْدِیْ مَا تَسْتَعْجِلُوْنَ بِہٖ ط اِنِ الْحُکْمْ اِلَّا لِلّٰہِ ط یَقُصُّ الْحَقَّ وَھُوَ خَیْرُ الْفٰصِلِیْنَ ۔ (الانعام : 57)
(کہہ دو ! میں اپنے رب کی جانب سے ایک روشن دلیل پر ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے۔ وہ چیز میرے پاس نہیں ہے ‘ جس کے لیے تم جلدی مچائے ہوئے ہو۔ اس کا فیصلہ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی حق کو واضح کرے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
فہم القرآن
ربط کلام : کفار اور مشرکین نہ صرف خودگمراہ ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں سے بھی اپنا عقیدہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا کفر و شرک واضح کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ سے اعلان کرایا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔
مشرکین اور منکرین کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ توحید پرستوں کو ان کے راستے سے ہٹا کر شرک اور نافرمانی کے راستہ پر لگائیں۔ جس کے لیے قرآن مجید نے متعدد بار نبی ﷺ کی زبان اطہر سے یہ اظہار اور اعلان کروایا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں لوگوں کو بتلائیں کہ مجھے غیر اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا…
Read the full tafseer →آیت 57 : جب اس بات کی پچھلی آیت میں نفی فرما دی۔ کہ خواہشات تو قابل اتباع نہیں۔ تو جس کی اتباع لازم تھی اس کو فرمایا۔ قُلْ اِنِّیْ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّیْ یعنی میں اپنے رب کی معرفت کے سلسلہ میں واضح دلیل کے ساتھ کہتا ہوں کہ اس کے سواء کوئی معبود نہیں۔ وَکَذَّبْتُمْ بِہٖ اس طرح کہ تم نے دوسروں کو اس کا شریک بنایا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ میں اپنے رب کی طرف سے دلیل پر ہوں اور وہ قرآن ہے اور تم نے اس بینہ کو جھٹلا دیا ہے۔ یہاں ضمیر مذکر بتاویل برہان بیان یا قرآن مذکر ہونے کی وجہ سے ضمیر مذکر لائے۔ پھر اس کے بعد ایسی بات ذکر کی جو دلالت کر رہی ہے کہ وہ عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں فرمایا۔ مَا…
Read the full tafseer →(57) (قل انی علیہ بینۃ) بیان، بصیرت اور برہان پر۔ من ربی وکذبتم بہ جس کو میں لایا۔ (ماعندی ما تستعجلون بہ) بعض نے کہا کہ وہ عذاب کو جلدی طلب کرتے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ان کا قول مذکور ہے (ان کان ھذا ھوا الحق من عندک فامطر علینا حجارۃ اگر یہ حق ہے تیری طرف سے تو برساہم پر پتھر) اور بعض نے کہا اس سے قیامت مراد ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (قیامت کو جلدی چاہتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے)…(ان الحکم الا للہ ط یقص) دیگر حضرات نے ” یقضی “ پڑھا ہے قاف کے سکون اور ضاد کے کسرہ کے ساتھ۔
قضیت سے ہے یعنی حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ باری تعالیٰ نے فرمایا (وھو خیر الفصلین) اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
(55 ۔ 58) ۔ شروع سورة سے یہاں تک توحید کی خوبی اور شرک کی خرابی کا ذکر جو تفصیل سے گذرا اسی کو فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔{ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ } کی شان نزول میں آوے گا کہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں ان مشرکوں کے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ایک سال یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں اسی پر گویا آپس کی صلح ٹھہر جاوے۔ اسی کو فرمایا اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
آیت 56
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (قل) ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارت یہیں (انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ “ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ون قصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔
بنابریں فرمایا : (قل لا اتبع اھوآء کم قد…
Read the full tafseer →96 دین حق کا ہر حکم روشن دلیل پر قائم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ میں تو بہرحال ایک روشن دلیل پر قائم ہوں اپنے رب کی طرف سے۔ یعنی اس دین حق اور شریعت مقدسہ پر جس سے میرے رب نے مجھے بذریعہ وحی نوازا ہے اور جس کا ہر امر و ارشاد واضح دلیل وبرہان پر مبنی اور عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ (صفوہ، محاسن، مراغی، روح وغیرہ) ۔ اور اس سے اعراض و انحراف نور حق و ہدایت سے اعراض و انحراف اور ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس " بینہ " یعنی روشن دلیل کا سب سے بڑا مظہر و مصداق قرآن حکیم ہے جو کہ حضرت حق ۔ جل مجدہٗ ۔ کی طرف سے بذریعہ وحی عطا فرمایا گیا ہے۔ اور جس کا ہر حکم و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
عبادت صرف اللہ کی
تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے مقام اور مرتبہ کی وضاحت کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف توحید پر عمل کرنا توحید کی تبلیغ کرنا ہے، آپ کا کام نہیں کہ کسی کی خوشامد کریں، کسی سے رعایت کریں، کسی کو سزا دیں یا کسی سے ناراض ہوں۔ اگر یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کب کی سزا دے چکے ہوتے اور برے لوگوں کا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ کام تو رب کا ہے وہی جانتا ہے ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ یہ تمام معاملات اللہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس ظالم کو کیا سزا دینی ہے اور کب دینی ہے ؟ یہ سب کام اللہ رب العزت کے اختیار اور علم میں ہیں۔ میرا کام تو صرف اس کا پیغام بندوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–60
رکوع نمبر 7 ۔ آیات 56 ۔ تا 60 ۔
اسرار و معارف :
آپ انہیں صاف طریقہ سے بتا دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو مجھے ان کی اطاعت سے روک دیا گیا ہے اس لی کہ اللہ کریم کو کبھی یہ بات گوارہ نہیں ہوسکتی کہ بندہ تو اس کا ہو اور اپنی ضروریات کسی اور کے دروازے پر لے جائے پھر حال یہ ہے کہ ہر ضرورت پوری بھی اللہ ہی کرتا ہے یہ انسان کی کوتاہ بینی ہے کہ اس کے صلے میں احساس تشکر دوسروں کے در پہ نچھاور کرے اور یہ محض تمہارے نفس کا فریب ہے اگر خدانخواستہ تمہاری تائید کروں تو میں غلطی کرنے والوں میں سے ہوجاؤں گا اور سیدھی راہ چھوٹ جائے گی یہ بات پھر بھی درست ثابت نہ ہوسکے گی لہذا میں ایسی بات کیوں…
Read the full tafseer →ف 5 معلوم ہوا کہ انبیا کو معجزات پر کوئی اختیار نہیں ہوتا یہ اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے حاصل ہے۔
Read the full tafseer →(6:57) بینۃ۔ واحد۔ بینات۔ جمع ۔ روشن اور کھلی دلیلیں۔ ایسی دلیلیں جو حق اور باطل کے فرق کو واضح کردیں۔
کذبتم بہ۔ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ ہے (کشاف) یا اللہ کی جانب سے آئی ہوئی کلام۔ یعنی القران و معجزات الباھرہ وبراہین الواضحۃ (الخازن) ۔
تستعجلون۔ تم جلدی کرتے ہو۔ تم عجلت کرتے ہو۔ یعنی جس عذاب یا پاداش کے لئے تم جلدی مچا رہے ہو۔ استعجال (استفعال) سے جمع مذکر حاضر۔
یقض۔ قص یقص (نصر) سے مضارع واحد مذکر غائب وہ بیان کرتا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے۔
الفاصلین۔ اسم فاعل جمع مذکر فیصل مصدر۔ فیصلہ کرنے والے۔ حق کو باطل سے الگ کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
لغات القرآن : آیت نمبر 56 تا 58 :
نیھت (میں روکا گیا ہوں) ان اعبد (یہ کہ میں عبادت و بندگی کروں) لا اتبع ( میں پیروی نہ کروں گا) ‘ قد ضللت ( یقیناً میں بہک جاؤں گا) عندی (میرے پاس) تستعجلون (تم جلدی مچاتے ہو۔ جلدی کرتے ہو) الحکم (حکم ۔ فیصلہ) یقص ( وہ بیان کرتا ہے) ‘ الفصلین (فیصلہ کرنے والے۔ جدا کرنے والے) ‘ لو ان عندی ( اگر بیشک میرے پاس ہوتا) لقضی الامر (البتہ معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا) ۔
تشریح : 56 تا 58 :
آیت 56 میں بتایا گیا ہے کہ شرک کیا ہے ؟
(1) اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اور پرستش کرنا۔
(2) شیطانی ہوا و ہوس کے پیچھے بھاگنا۔
(3) ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہی کے گڑھے میں گر پڑنا۔
آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–58
علم غیب کا ذکر
شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھادیا جاتا ہے تاکہ تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا، جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجو اور ایک سال ہم اللہ کی عبادت کریں اس پر گویا آپس کی صلح ٹہرجاوے۔ اسی کو ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے۔ میں اصل ملت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
[22] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
(ف 3) مقصد یہ ہے کہ اگر دلائل طلب کرتے ہو تو جان لو کہ (آیت) ” انی علی بینۃ من ربی “۔ مجھے اللہ نے دلیل وباہین سے بہر وافر عطا کر رکھا ہے ، میں اپنے ہر دعوے کو علے وجہ البصیرت پیش کرسکتا ہوں ، اور اگر عذاب کا مطالبہ ہے تو یہ اللہ کے علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا کہ علم واختیار میں ہے ، خدا جب چاہے گا ، تم کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا ، اس وقت تم کچھ نہ کرسکو گے ۔
حل لغات :
ولتستبین : مادہ بیان ، بمعنے ظاہر ہونا ،
اھوآء : جمع ھوا ، محض ، نفس کی خواہش ،
الفاصلین : مادہ فصل بمعنی فیصلہ کرنا ، جمع فاصل ۔
Read the full tafseer →-57 آپ ان سے یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تو اپنے رب کی بھیجی ہوئی ایک روشن دلیل اور حجت پر قائم ہوں یعنی قرآن کریم اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور تم اس کی تکذیب کرتے ہو اور اس کو جھوٹا بتاتے ہو اور مجھ سے بار بار عذاب کا تقاضا کرتے ہو کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لائو جس چیز کی تم جلدی کرتے ہو اور مجھ پر تقاضا کرتے ہو وہ میرے بس اور میری قدرت میں نہیں ہے اصل حکم تو اللہ تعالیٰ ہی کا ہے اس کے سوا کسی کا حکم نہیں چلتا اور جب تک اس کا حکم نہیں ہو میں عذاب کس طرح اور کہاں سے لاسکتا ہوں وہی حق بات اور امر واقعی کو بنا دیتا ہے اور وہی فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے الا ہے یعنی تمہارے عذاب کا فیصلہ…
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے جس سے میری تصدیق ہوتی ہے۔
Read the full tafseer →جس بات سے تم کو منع کر رہا ہوں اس سے منع کرنے کیلئے میرے پاس ” دلیل “ موجود ہے :
87: ” بَیِّنَةٍ “ وہ دلیل جو ہر لحاظ سے واضح اور کھلی ہوئی کوئی اس کو کتنا ہی چھپا نا چاہے لیکن نہ چھپا سکے اور وہ دلیل جو بہت سے دلائل سے مضبوط کردی گئی گو فرمایا ” اے میرے رسول ﷺ آپ ﷺ کہہ دیں یعنی اعلان کردیں کہ جس بات سے میں نے تم کو روکا ہے اس سے روکنے کے لئے میرے پاس پختہ دلیل موجود ہے جو بہت سے دلائل سے مضبوط کردی گئی ہے اور وہ دلائل عقلی بھی ہیں نقلی بھی۔ یعنی محسوس ہونے والے۔ توحید کے ان دلائل سے قرآن کریم بھی بھرا پڑا ہے اور کائنات کا ذرہ ذرہ بھی اس ” توحید الٰہی “ کا شاہد عادل ہے اور یہی وہ چیز ہے جس کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 56–58
The Linkage of Verses
In the verses cited above, the answer to disbelievers who were demanding that the Divine punishment should come to them posthaste was given in: وَهُوَ خَيْرُ الْفَاصِلِينَ (He is the best decision-maker) while the mention of the perfect power of Almighty Allah was made in: وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ (Allah knows the unjust best). Next from here, there is a description of the encompassment of the Knowledge and Power of Allah Ta` ala on all conceivable data and destiny.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–60
39. This alludes to God's punishment. The adversaries questioned why it was that they had openly rejected a Prophet sent by God, but had not been struck down by God's wrarth? They said that the fact of his appointment by God meant that anyone who either disbelieved or insulted him would, at once, be either plunged into the earth or struck by lightning. And yet, they pointed out, the Messenger of God and his followers faced new sufferings and humiliations whereas those who abused and persecuted him enjoyed prosperity.
Read the full tafseer →