Al-An'aam 6:56

Al-An'aam · from ayah 56

6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ؕ— قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ ۙ— قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ ۟قُلۡ اِنِّىۡ نُهِيۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ الَّذِيۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ قُلْ لَّاۤ اَ تَّبِعُ اَهۡوَآءَكُمۡ‌ۙ قَدۡ ضَلَلۡتُ اِذًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الۡمُهۡتَدِيۡنَ

(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Indeed, I have been forbidden to worship those you invoke besides Allah." Say, "I will not follow your desires, for I would then have gone astray, and I would not be of the [rightly] guided."

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 7 of surah · Ruku 13 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:56

اے محمدؐ! اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبر! کفار سے) کہہ دو کہ جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ (یہ بھی) کہہ دو کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہیں کروں گا ایسا کروں تو گمراہ ہوجاؤں اور ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہوں

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان کی عبادت کروں جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔ آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی اتباع نہ کروں گا کیوں کہ اس حالت میں تو میں بے راه ہوجاؤں گا اور راه راست پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر ! ان سے) کہو کہ : تم اللہ کے سوا جن (جھوٹے خداؤں) کو پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کہو کہ : میں تمہاری خواہشات کے پیچھے نہیں چل سکتا۔ اگر میں ایسا کروں تو گمراہ ہوں گا، اور میرا شمار ہدایت یافتہ لوگوں میں نہیں ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ مجھے منع کیا گیا ہے کہ انہیں پوجوں جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو تم فرماؤ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا یوں ہو تو میں بہک جاؤں اور راہ پر نہ رہوں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرمادیجئے کہ مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان (جھوٹے معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم اﷲ کے سوا پرستش کرتے ہو۔ فرما دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا اگر ایسے ہو تو میں یقیناً بہک جاؤں اور میں ہدایت یافتہ لوگوں سے (بھی) نہ رہوں (جو کہ ناممکن ہے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ دے بیشک مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، کہہ دے میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلتا، یقینا میں اس وقت گمراہ ہوگیا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : مجھے اس بات سے روک دیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں اللہ کے سوا تم پکارتے ہو آپ ان سے کہئے کہ : میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہ کروں گا اور اگر ایسا کروں تب تو میں بہک گیا اور ہدایت یافتہ لوگوں میں سے نہ رہا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہہ دو کہ مجھے تو ان کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو۔ کہہ دو میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چل سکتا۔ اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر راہ پانے والوں میں سے نہ بن سکوں گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کہو مجھے تو بہر حال اس سے روکا گیا ہے کہ میں ان کی بندگی کروں جنہیں تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا، کہو کہ میں کبھی پیروی نہیں کرسکتا تمہاری خواہشات کی بلاشبہ اس صورت میں میں بھٹک جاؤں گا اور راہ راست پر چلنے والوں میں سے نہ رہوں گا

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجئے کہ مجھے اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے رہتے ہو آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشوں کی پیروی نہ کروں گا ورنہ میں بھی بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ مجھے تو منع کردیا گیا ہے ان کو پوجنے سے جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا اگر ایسا کروں گا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر نہ رہوں گا میں ہدایت پانے والوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے محمد ﷺ ! ان سے) کہو کہ تم لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو مجھے ان کی بندگی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کہو ! میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوگیا، راہ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Say (O Muhanimad!): 'I have been forbidden to serve those to whom you call other than Allah.' Say: 'I do not follow your desires, for were I to do that, I would go astray and would not be of those who are rightly guided.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :I have been forbidden from worshiping those whom you invoke beside Allah. Say, :I do not follow your desires, because if I were to do that, I would be going astray and would no more be of those on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :I have been forbidden from worshiping those whom you invoke beside Allah. Say, :I do not follow your desires, because if I were to do that, I would be going astray and would no more be of those on the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "I have been forbidden to worship those whom you invoke (worship) besides Allah." Say: "I will not follow your vain desires. If I did, I would go astray, and I would not be one of the rightly guided."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: I am forbidden to worship those on whom ye call instead of Allah. Say: I will not follow your desires, for then should I go astray and I should not be of the rightly guided.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Indeed, I have been forbidden to worship those you invoke besides Allah." Say, "I will not follow your desires, for I would then have gone astray, and I would not be of the [rightly] guided."

— Saheeh International

(Muhammad), tell them, "I am commanded not to worship the idols instead of God. I do not follow your desires lest I go astray and miss the true guidance"

— Muhammad Sarwar

Say: I am forbidden to serve those whom you call upon besides Allah. Say: I do not follow your low desires. for then indeed I should have gone astray and I should not be of those who go aright.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: verily I am forbidden to worship those whom ye call upon beside Allah. Say thou: I shall not follow your vain desires, for then I shall be gone astray, and shall not remain of the guided.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "I am forbidden to worship those - others than Allah - whom ye call upon." Say: "I will not follow your wain desires: If I did, I would stray from the path, and be not of the company of those who receive guidance."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:56

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–59

نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الْاَنْعَام 38 ”اس طرح“ کا اشارہ اس پورے سلسلہ تقریر کی طرف ہے جو چوتھے رکوع کی اس آیت سے شروع ہوا تھا، ”یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری“۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صاف اور صریح دلیلوں اور نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و انکار پر اصرار ہی کیے چلے جائیں ان کا مجرم ہونا بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوا جاتا ہے اور حقیقت بالکل آئینہ کی طرح نمایاں ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یہ لوگ ضلالت پسندی کی بنا پر یہ راہ چل رہے ہیں نہ اس بنا پر کہ راہ حق کے دلائل واضح نہیں ہیں یا یہ کہ کچھ دلیلیں ان کی اس گمراہی کے حق میں بھی موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–58

خلاصہ تفسیر آپ (ان معاندین سے) کہہ دیجئے کہ مجھ کو (حق تعالیٰ کی طرف سے) اس سے ممانعت کی گئی ہے کہ ان (معبودوں) کی عبادت کروں جن کی تم لوگ اللہ (کی توحید) کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو (اور ان کے طریقہ کی گمراہی ظاہر کرنے کے لئے) آپ ﷺ کہہ دیجئے کہ میں تمہارے (باطل) خیالات کا اتباع نہ کروں گا، کیونکہ (اگر نعوذ باللہ میں ایسا کروں تو) اس حالت میں بےراہ ہوجاؤں گا اور راہ (راست) پر چلنے والوں میں نہ رہوں گا، آپ (ان سے یہ بھی) کہہ دیجئے کہ میرے پاس تو (اس دین اسلام کے حق ہونے پر) ایک دلیل (کافی موجود) ہے جو میرے رب کی طرف سے (مجھ کو ملی ہے، یعنی قرآن مجید جو کہ میرا معجزہ ہے، جس سے میری تصدیق ہوتی ہے)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لفظ ‘ قل ’ کا عام محل استعمال : لفظ قل اس آیت میں بھی ہے اور بعد کی آیات میں بھی بار بار آیا ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ سب باتیں ان شبہات، اعتراضات، سوالات اور مطالبات کے جواب میں پیغمبر ﷺ کی زبان سے کہلائی گئی ہیں جو اس وقت بحث کی گرما گرمی میں کفار کی طرف سے پیش کیے گئے۔ ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ان کے پس منظر کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے اس لیے کہ قرآن میں یہ وضاحت ہر جگہ موجود نہیں ہوتی کہ فلاں بات کفار کی کس بات کے جواب میں کہلائی گئی۔ شرک کی بنیاد خواہش پر ہے : اوپر آیت 14 میں ارشاد ہوا ہے کہ مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور مشرکوں میں سے نہ بنو، اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

56۔ 1 یعنی اگر میں بھی تمہاری طرح اللہ کی عبادت کرنے کی بجائے، تمہاری خواہشات کے مطابق غیر اللہ کی عبادت شروع کردوں تو یقینا میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا۔ مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی عبادت و پرستش، سب سے بڑی گمراہی ہے لیکن بدقسمتی سے یہ گمراہی اتنی عام ہے۔ حتٰی کے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس میں مبتلا ہے۔ ھداھم اللہ تعالیٰ

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–56

20: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کردیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔ 21: ہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کرکے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 56 تا 58۔ یہ لہر ہدایت اور اشارات سے بھری پڑی ہے ۔ اس میں قلب انسانی پر اثر انداز ہونے والے مختلف عوامل کے ذریعے حقیقت الوہیت کو نظروں کے سامنے لایا گیا ہے ۔ ان مؤثرات اور ضربات میں سے اہم اور گہرا موثر اس میں لفظ قل کا تکرار ہے ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ اس میں خطاب رسول اللہ ﷺ کو کیا گیا ہے کہ آپ اپنے رب کی طرف سے آنے والے ہر پیغام کو پہنچا دیں ۔ یہ وہ پیغام ہے جو کسی اور گروہ کے پاس نہیں ہے ‘ کوئی اور اس پیغام کا حامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ پیغام کسی اور پر القا ہوتا ہے ۔ (آیت) ” قُلْ إِنِّیْ نُہِیْتُ أَنْ أَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ قُل لاَّ أَتَّبِعُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 گزشتہ آیت میں وہ چیزیں بیان ہوئیں جو مومنین سے کہنے کے لائق ہیں۔ اس رکوع میں ان امور کا تذکرہ ہے جو مجرمین و مکذبین کے حق میں قابل خطاب ہیں۔ یعنی آپ فرما دیجئے کہ میرا ضمیر، میری فطر ت، میری عقل، میرا نور وشہود اور وحی الٰہی جو مجھ پر اترتی ہے، یہ سب مجھ کو اس سے روکتے ہیں کہ میں توحید کامل کے جادہ سے ذرا بھی قدم ہٹاؤں۔ خواہ تم کتنے ہی حیلے اور تدبیریں کرو میں کبھی تمہاری خوشی اور خواہش کی پیروی نہیں کرسکتا۔ بفرض محال اگر پیغمبر کسی معاملہ میں وحی الٰہی کو چھوڑ کر عوام کی خواہشات کا اتباع کرنے لگیں تو خدا نے جنہیں ہادی بنا کر بھیجا تھا معاذاللہ وہ ہی خود بہک گئے، پھر ہدایت کا بیج دنیا میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 56 قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط۔ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ جن کو تم لوگ اللہ کے علاوہ معبود مانتے ہو ‘ ان کو میں نہیں پکار سکتا۔ مجھے اس سے منع کردیا گیا ہے۔ مجھے تو حکم دیا گیا ہے : لَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا الجن کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

60 مجرموں کی خواہش کیا تھی :۔ مشرکین مکہ یا مجرمین یہ چاہتے تھے کہ کوئی سمجھوتہ کی راہ نکل آئے۔ رسول اللہ ہمارے معبودوں یا دیوی دیوتاؤں کی توہین نہ کریں اور ہم انہیں کچھ نہ کہیں۔ آپ کی تعلیم یہ تھی کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں اور اس تعلیم سے صرف ان کے بتوں کی توہین نہیں ہوتی تھی بلکہ ان کے آباؤ اجداد کی بھی ہوتی تھی اور ان کی بھی۔ اسی لیے وہ سٹپٹاتے تھے۔ اسی بات کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ نہ میں تمہاری اس خواہش کو پورا کرسکتا ہوں نہ ہی ان دیوی دیوتاؤں کی تعظیم کرسکتا ہوں میں تو مامور ہی اس بات پر ہوں کہ لوگوں کا رشتہ ان معبودوں سے توڑ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

85 ۔ آیت سے خدائی قانون کی ہر جہتی ہمی گیری اور اس کے مقابلہ میں بندوں کی عقل آرائیوں کی انتہائی پستی وگندگی دونوں پر یکساں روشنی پڑجاتی ہے رسول جو پاک نفسوں اور قدسی سرشتوں کے سردار ہیں، ان تک کی زبان سے کہلوایا جارہا ہے کہ تمہارے قاعدے اور ضابطے، تمہاری عبادتیں اور پوجا پاٹ اس درجہ گندے ہیں کہ میں ان کی پیروی کرنے لگوں تو اپنے مرتبہ سے کہیں گرجاؤں اور خود میرا شمار گمراہوں میں ہونے لگے۔ (آیت) ” الذین تدعون من دون اللہ “۔ یعنی تمہارے خود ساختہ اور تراشیدہ معبود۔ ای تدعونھم فی امھات امورکم علی جھۃ العبادۃ اراد بذلک الاصنام (قرطبی) (آیت) ” اھوآء کم “۔ ھوی کا لفظ بہت عام ہے وحی الہی کے مقابلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 56–58

آیت نمبر 56 تا 60 ترجمہ : (اے محمد ﷺ ان سے) کہو کہ اللہ کے سوا جن کی تم بندگی کرتے ہو ان کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے، (اور ان سے یہ بھی) کہو کہ ان کی بندگی کرنے میں، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے خواہشات کی پیروی کی تو میں گمراہ ہوگیا، اور میں ہدایت یافتہ لوگوں میں نہ رہا، کہو کہ میں اپنے رب کی طرف سے روشن دلیل پر ہوں اور تم نے میرے رب کو چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ تم نے شرک کیا، جس عذاب کی تم جلدی مچار ہے ہو وہ میرے اختیار میں نہیں ہے اس معاملہ میں اور دیگر معاملات میں صرف الہ وحدہ ہی کا حکم چلتا ہے وہی برحق فیصلہ کرتا ہے اور وہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انی نہیت آپ کہہ دیجئے مجھے ممانعت کردی گئی ہے یعنی مجھے عقلی دلائل وبراہین اور قرآنی آیات و احکام کے ذریعہ سے بازداشت کردی گئی ہے پھیر دیا گیا ہے۔ ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ کہ ان کی پرستش کروں جن کو اللہ کے علاوہ تم معبود قرار دیتے اور ان کی عبادت کرتے اور ان کو الٰہ کہتے ہو۔ قل لا اتبع اہوائکم آپ کہہ دیجئے کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا۔ اس جملہ میں کافروں کی امید کو پُر زور طریقہ سے قطع کردیا گیا اور اس بات کو واضح کردیا گیا کہ جن خیالات پر تم چل رہے ہو ان کے لئے نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی ثبوت۔ محض خواہش نفس کی پیروی ہے اس میں ترک اتباع کی علت کا بھی اظہار فرما دیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(56) اے محمد ﷺ آپ عینیہ اور اس کے ساتھیوں سے فرما دیجیے کہ قرآن حکیم میں مجھے بتوں کی عبادت سے منع کیا گیا ہے، آپ ان سے یہ بھی فرما دیجیے کہ بتوں کی عبادت اور مسلمان اور ان کے ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا دینے میں، میں تمہاری پیروی نہیں کروں گا کیونخہ اگر میں نے ایسا کیا تو اپنے عمل میں صحیح راہ پر نہ رہوں گا ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلْ اِنِّىْ نُهِيْتُ۔۔ : اوپر کی آیت میں تو یہ بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں، تاکہ حق واضح ہو اور مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے، اب اس آیت میں مجرموں کے راستے پر چلنے سے منع فرمایا، جس سے یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ مجرموں کا راستہ کیا ہے، جس پر چلنے سے تمہیں منع کیا گیا ہے ؟ آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چلوں گا، اگر میں ایسا کروں تو میں گمراہوں میں شامل ہوجاؤں گا اور میں ہدایت پانے والوں میں سے نہیں ہوں گا۔ اللہ کی ہدایت کے مخالف قول کو کتنا ہی حکیمانہ اور دانشمندانہ سمجھا جائے وہ محض خواہش پر مبنی ہے اور سراسر ضلالت و…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 56 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل انی نصیت ان اعبدالذین تدعون من دون اللہ بعض علماء نے فرمایا : تدعون بمعنی تعبدون ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : عبادت کی جہت سے تم اپنے اہم امور میں جن کو پکارتے ہو، اس سے مراد بت ہیں۔ آیت : قل لا اتبع اھواء کم تم ان اشیاء کی عبادت کا مطالبہ کرتے ہو اور جن کو تم دور کرنے کا ارادہ کرتے ہو میں تمہاری ان خواہشات کا اتباع نہیں کرتا۔ آیت : قد ضللت اذا یعنی اگر میں تمہاری خواہشات کی اتباع کروں تو میں گمراہ ہوگیا۔ آیت : وما انا من المھتدین میں راہ راست پر نہیں ہوں۔ ضللت لام کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ پڑھا گیا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں۔ ابوعمرو بن علا نے کہا :…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلْ [ آپ کہئے ] اِنِّىْ [ کہ ] نُهِيْتُ [ مجھ کو منع کیا گیا ہے ] اَنْ [ کہ ] اَعْبُدَ [ میں بندگی کروں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کی جن کو ] تَدْعُوْنَ [ تم لوگ پکارتے ہو ] مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کے علاوہ ] قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کروں گا ] اَهْوَاۗءَكُمْ ۙ [ تم لوگوں کی خواہشات کی ] قَدْ ضَلَلْتُ [ میں تو گمراہ ہوچکوں گا ] اِذًا [ پھر تو ] وَّمَآ اَنَا اور میں نہیں رہوں گا ] ممِنَ الْمُهْتَدِيْنَ [ ہدایت پانے والوں میں سے ] س ق ط : (ن) سقوطا ۔ بلندی سے پستی میں گرنا ۔ زیرمطالعہ آیت نمبر ۔ 59 ۔ سقط۔ سقط فعل لازم ہے ۔ پھر بھی ایک محاورہ میں اس کا مجہول سقط آتا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 56–58

گمراہوں کا اتباع کرنے کی ممانعت ان آیات میں چند امور مذکور ہیں اور رسول اللہ ﷺ سے چند باتوں کا اعلان کروایا ہے اولا تو یہ فرمایا کہ آپ ان لوگوں سے فرما دیں کہ میں اللہ کے حکم کا پابند ہوں۔ میں معبود ان باطلہ کی عبادت نہیں کرسکتا جنہیں تم پکارتے ہو، مجھ سے یہ امید نہ رکھنا کہ میں کبھی تمہارے باطل کا ساتھ دے دوں اور تمہاری خواہشوں کا اتباع کروں (العیاذ باللہ) خدا نخواستہ میں ایسا کروں تو تمہاری طرح میں بھی گمراہ ہوجاؤں گا اور ہدایت پانے والوں میں سے نہ رہوں گا۔ یہ وہی مضمون ہے جس کا سورة کافرون میں اعلان فرمایا۔ ثانیاً اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ آپ اعلان فرما دیجیے کہ میں اپنے رب کی طرف سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 56–59

بت پرستی کی مذمت اور ممانعت اور خدا پرستی کی حقانیت اور دعوت۔ قال اللہ تعالی، قل انی نھیت۔۔۔۔ الی۔۔۔ فی کتاب مبین۔ ربط) ۔ ان آیتوں میں اللہ جل شانہ نے بت پرستی کی مذمت اور ممانعت ذکر فرمائی اور بعدا زاں خدا پرستی کی حقانیت اور اس کی دعوت کا ذکر فرمایا جو اوصاف معبود میں ہونے چاہیں وہ سوائے الہ کے کسی میں نہیں خدا کے سوا نہ کوئی عالم الغیب ہے اور نہ کوئی قادر مطلق ہے اور نہ کوئی نفع اور ضرر کا مالک ہے پس جب یہ اوصاف خدا کے سوا کسی میں نہیں پائے جاتے تو پھر خدا کے سوا کسی اور کی پرستش کیوں کرتے ہو توحید ہی سیدھا راستہ ہے جس کی اسلام تم کو تعلیم دیتا ہے پس تم ایک ہی خدا کی عبادت اور بندگی کرو…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 56–57

64 چوتھا طریق تعلیم یعنی مجھے اس بات سے منع کردیا گیا ہے کہ میں ان باطل معبودوں کو پکاروں جن کو تم پکارتے ہو۔ قُلْ لَّا اَتَّبِعُ الخ یہ پانچواں طریق تعلیم ہے یعنی مجھے یہ حکم بھی ملا ہے کہ میں تمہاری خواہشات اور تمہارے خود ساختہ دین کی پیروی کروں اگر میں ایسا کروں گا تو ہدایت کی راہ سے بھٹک کر گمراہ ہوجاؤں۔ قُلْ اِنِّیْ عَلیٰ بَیِّنَۃٍ یہ چھٹا طریق تعلیم ہے۔ یعنی میرے پاس تو اللہ کی طرف سے دلائل موجود ہیں جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ باقی رہا وہ عذاب جس کے جلدی آنے کا تم مطالبہ کر رہے ہو وہ میرے اختیار و تصرف میں نہیں وہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ للہ وحدہ من غیر ان یکون لغیرہ سبحانہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا تذکرہ فرمایا تھا جن کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ تھا ‘ مثلاً یہ کہ آپ ضعیف اور نادار اہل ایمان کو اپنے آپ سے دور نہ کریں بلکہ ان پر نگاہ شفقت رکھیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ساتھ آزمایا ہے تو عین ممکن ہے کہ کمزور لوگ با صلاحیت اور ایمان دار ہوں اور اعلیٰ صلاحیت کے مالک گمراہ ہوں اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ غریب لوگ ہی ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب کہ امراء اپنے غرور اور تکبر اور مال و دولت کے گھمنڈ میں ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان ناداروں کو مجلس سے دور نہ کریں بلکہ جب وہ آپ کے پاس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلْ اِنِّىْ نُہِيْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ۝ 0ۭ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَاۗءَكُمْ۝ 0ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُہْتَدِيْنَ۝ 56 نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 56–60

ترکیب : اذاً ای ان اتبعتہا گویا قد ضللت وما انا جواب ہیں شرط محذوف کے بمفاتح جمع مفتح بالفتح کی جس کے معنی خزانہ کے ہیں اور مفتح یا مفتاح بمعنی کلید اس کی جمع مفاتیح آتی ہے الا فی کتاب ای الاھو فی کتاب۔ تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ہم آیتیں بیان کرتے ہیں تاکہ گنہگاروں کا طریقہ معلوم ہوجاوے کیونکہ جو آیات الٰہی کے خلاف طریق ہے وہ گنہگاروں کا رستہ ہے۔ اب یہاں وہ گنہگاروں کا رستہ بتلاتا ہے کہ ان مشرکوں سے کہہ دو مجھے اللہ کے سوا اور کسی چیز کے پوجنے کی ممانعت کردی گئی ہے اور ان سے یہ کہہ دو کہ یہ بلا دلیل وبرہان جو تم نے اپنے اوہام باطلہ سے سینکڑوں معبود بنا رکھے ہیں۔ میں تمہارا اس امر میں کہا نہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد ہوتا ہے : قُلْ اِنِّیْ نُھِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ ط قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَھْوَآئَکُمْ لا قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ ۔ (الانعام : 56) (کہہ دو کہ مجھے تو ان کی عبادت سے روکا گیا ہے جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ کہہ دو میں تمہاری خواہشوں کے پیچھے نہیں چل سکتا اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہوجاؤں گا اور پھر راہ پانے والوں میں سے نہ بن سکوں گا ) جو اللہ کے سوا کسی کو پکارتا ہے وہ گمراہ ہوجاتا ہے اس آیت کریمہ میں دو دفعہ قُلْ کا لفظ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ جو کچھ اس آیت کریمہ میں فرمایا جا رہا ہے وہ مشرکینِ مکہ کے سوالات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 56–58

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور مشرکین نہ صرف خودگمراہ ہوتے ہیں بلکہ وہ دوسروں سے بھی اپنا عقیدہ اپنانے کا مطالبہ کرتے ہیں ان کا کفر و شرک واضح کرنے کے بعد نبی اکرم ﷺ سے اعلان کرایا گیا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ مشرکین اور منکرین کی ہمیشہ سے یہ خواہش اور کوشش رہی ہے کہ وہ توحید پرستوں کو ان کے راستے سے ہٹا کر شرک اور نافرمانی کے راستہ پر لگائیں۔ جس کے لیے قرآن مجید نے متعدد بار نبی ﷺ کی زبان اطہر سے یہ اظہار اور اعلان کروایا ہے کہ آپ دو ٹوک انداز میں لوگوں کو بتلائیں کہ مجھے غیر اللہ کی عبادت اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی کرنے سے سختی کے ساتھ روکا گیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

میں تمہاری خواہشات پر نہیں چل سکتا ‘ وہ تو گمراہی ہے : آیت 56 : قُلْ اِنِّیْ نُہِیْتُ اَنْ اَعْبُدَالَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ یعنی مجھے عقل اور سمعی دلائل کے ذریعے ان معبودوں کی عبادت سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو منع کردیا گیا اور روک دیا گیا۔ قُلْ لَّآ اَتَّبِعُ اَہْوَآئَ کُمْ یعنی میں تمہارے اس طریقہ پر چلنے والا نہیں جس پر تم اپنے دین کے سلسلے میں چل رہے ہو۔ جس میں محض اتباع ہواء ہے۔ نہ کہ اتباع دلیل۔ دراصل اس میں وہ سبب ذکر کردیا جس کی وجہ سے وہ گمراہی میں مبتلاء ہوئے قَدْ ضَلَلْتُ اِذًایعنی میں اگر تمہاری خواہشات پر چلنے لگوں تو پھر میں گمراہ ہوجائوں گا۔ وَّمَآ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(56) (قل ابی نھبت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ قل لا اتبع اھوآء کم) بتوں کی عبادت کرنے اور فقراء کو دھتکارنے میں (قد ضللت اذا ئوما انا من المھتدین) یعنی اگر میں نے ایسا کیا تو میں نے حق راستہ کو چھوڑ دیا اور غلط راستہ پر چل پڑا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–58

(55 ۔ 58) ۔ شروع سورة سے یہاں تک توحید کی خوبی اور شرک کی خرابی کا ذکر جو تفصیل سے گذرا اسی کو فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔{ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ } کی شان نزول میں آوے گا کہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں ان مشرکوں کے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ایک سال یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں اسی پر گویا آپس کی صلح ٹھہر جاوے۔ اسی کو فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 56–58

آیت 56 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے : (قل) ان مشرکین سے کہہ دیجیے جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو بھی پکارت یہیں (انی نھیت ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ) ” جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو مجھے ان کی عبادت سے منع کیا گیا ہے۔ “ یعنی مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں اللہ کی بجائے اللہ کے بناوٹی ہمسروں اور بتوں کی عبادت کروں جو کسی نفع ون قصان کے مالک ہیں نہ موت وحیات اور دوبارہ اٹھانے کا کوئی اختیار رکھتے ہیں۔ یہ سب باطل ہے۔ اس میں تمہارے لئے کوئی دلیل ہے نہ اس کے باطل ہونے میں کوئی شبہ ہے۔ سوائے خواہشات نفس کی پیروی کے جو سب سے بڑی گمراہی ہے۔ بنابریں فرمایا : (قل لا اتبع اھوآء کم قد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

93 " غیراللّٰہ " کی پوجا کی ممانعت کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ مجھے تو بہرحال روکا گیا ہے اس بات سے کہ میں ان کی بندگی کروں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا۔ خواہ وہ لکڑ پتھر وغیرہ کے بےجان بت ہوں یا اور کسی زندہ یا مردہ انسان کی شکل میں دوسری کوئی ایسی ہستی ہو جس سے خدائی صفات وابستہ کردی گئی ہوں کہ ۔ { مِنْ دُوْنِ اللہ } ۔ کا کلمہ عام ہے۔ جو ان سب ہی کو شامل ہے۔ اور اہل بدعت جو اس کو صرف بتوں کے ساتھ مختص قرار دے کر اپنے لئے شرک کے دروازے کھلے رکھنا چاہتے ہیں تو ان سے پوچھا جائے کہ اس تخصیص کی آخر ان کے پاس دلیل کیا ہے ؟ اور اس کی ضرورت کیا ہے ؟ اور اگر اس سے یہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 56–58

عبادت صرف اللہ کی تشریح : ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کے مقام اور مرتبہ کی وضاحت کردی گئی ہے کہ آپ ﷺ کا کام صرف توحید پر عمل کرنا توحید کی تبلیغ کرنا ہے، آپ کا کام نہیں کہ کسی کی خوشامد کریں، کسی سے رعایت کریں، کسی کو سزا دیں یا کسی سے ناراض ہوں۔ اگر یہ سب آپ کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ کب کی سزا دے چکے ہوتے اور برے لوگوں کا کام تمام ہوچکا ہوتا۔ مگر یہ کام تو رب کا ہے وہی جانتا ہے ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ یہ تمام معاملات اللہ خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ کس ظالم کو کیا سزا دینی ہے اور کب دینی ہے ؟ یہ سب کام اللہ رب العزت کے اختیار اور علم میں ہیں۔ میرا کام تو صرف اس کا پیغام بندوں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 56–60

رکوع نمبر 7 ۔ آیات 56 ۔ تا 60 ۔ اسرار و معارف : آپ انہیں صاف طریقہ سے بتا دیجئے کہ اللہ کے علاوہ جنہیں تم پکارتے ہو مجھے ان کی اطاعت سے روک دیا گیا ہے اس لی کہ اللہ کریم کو کبھی یہ بات گوارہ نہیں ہوسکتی کہ بندہ تو اس کا ہو اور اپنی ضروریات کسی اور کے دروازے پر لے جائے پھر حال یہ ہے کہ ہر ضرورت پوری بھی اللہ ہی کرتا ہے یہ انسان کی کوتاہ بینی ہے کہ اس کے صلے میں احساس تشکر دوسروں کے در پہ نچھاور کرے اور یہ محض تمہارے نفس کا فریب ہے اگر خدانخواستہ تمہاری تائید کروں تو میں غلطی کرنے والوں میں سے ہوجاؤں گا اور سیدھی راہ چھوٹ جائے گی یہ بات پھر بھی درست ثابت نہ ہوسکے گی لہذا میں ایسی بات کیوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(6:55) تستبین۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ استبانۃ (استفعال) بین مادہ سے وہ ظاہر ہوجائے ۔ کھل جائے۔ سبیل۔ راستہ۔ راہ۔ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ (6:56) نھیت ماضی مجہول واحد متکلم ۔ نھی۔ روشن اور کھلی دلیلیں۔ ایسی دلیلیں ممانعت کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 56–58

لغات القرآن : آیت نمبر 56 تا 58 : نیھت (میں روکا گیا ہوں) ان اعبد (یہ کہ میں عبادت و بندگی کروں) لا اتبع ( میں پیروی نہ کروں گا) ‘ قد ضللت ( یقیناً میں بہک جاؤں گا) عندی (میرے پاس) تستعجلون (تم جلدی مچاتے ہو۔ جلدی کرتے ہو) الحکم (حکم ۔ فیصلہ) یقص ( وہ بیان کرتا ہے) ‘ الفصلین (فیصلہ کرنے والے۔ جدا کرنے والے) ‘ لو ان عندی ( اگر بیشک میرے پاس ہوتا) لقضی الامر (البتہ معاملے کا فیصلہ کردیا جاتا) ۔ تشریح : 56 تا 58 : آیت 56 میں بتایا گیا ہے کہ شرک کیا ہے ؟ (1) اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی اور پرستش کرنا۔ (2) شیطانی ہوا و ہوس کے پیچھے بھاگنا۔ (3) ہدایت کی راہ چھوڑ کر گمراہی کے گڑھے میں گر پڑنا۔ آیت…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–58

علم غیب کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھادیا جاتا ہے تاکہ تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا، جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجو اور ایک سال ہم اللہ کی عبادت کریں اس پر گویا آپس کی صلح ٹہرجاوے۔ اسی کو ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے۔ میں اصل ملت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) رسول عوام کی خواہشات نفس کا احترام نہیں کرتا ، بلکہ وہ اس لئے مبعوث ہوتا ہے تاکہ قیادت کے صحیح اصولوں کے ماتحت اہوا ، و فواحش کے خلاف جہاد کرے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-56 اے پیغمبر آپ کفار سے کہہ دیجیے کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو مجھے اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان معبود ان باطلہ کی عبادت کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ اے پیغمبر ! آپ یہ بھی کہہ دیجیے کہ میں تمہاری اس قسم کی خواہشات فاسدہ کی اور تمہارے باطل خیالات کی پیروی اور اتباع نہیں کروں گا کیونکہ اگر میں نے ایسا کیا تو میں بےراہ اور گم کردہ راہ ہو جائوں گا اور میں ہدایت یافتہ اور صحیح راہ چلنے والے لوگوں میں شامل نہ رہوں گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ اس مضمون کا توزیادہ تعلق توحید سے تھا آگے کا مضمون زیادہ متعلق رسالت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مشرک ہمیشہ خواہش نفس ہی سے مشرک ہوتا ہے اور خواہش نفس ساری گمراہیوں کی سردار ہے : 86: انسان کیا ہے ؟ مختلف خواہشات کا ایک مجموعہ اور انہی خواہشات میں وہ خواہشات بھی ہیں جو خواہشات نفس کہلاتی ہیں۔ انسان کی یہ فطری خواہش ہے کہ وہ ” جنتی ہو “ اور ” جنت کیا ہے “ اچھے اعمال کا نتیجہ۔ جب اس کو معلوم ہے کہ میرا کوئی عمل اچھا نہیں اور نفسانی خواہشات میں اس قدر دب چکا ہے کہ اب اچھے اعمال کی طرف رغبت کرنے کی بجائے وہ ایسے لوگوں کی طرف رغبت کرتا ہے جن کے متعلق اس کو گمان ہے کہ وہ اسے عذاب الٰہی سے نجات دلا کر جنت بھجوادیں گے۔ یہ گمان کیا ہے اس کی ” خواہش “ اور اسی خواہش نے اس کو مشرک بنا دیا۔ بس ایک ایک…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 56–58

The Linkage of Verses In the verses cited above, the answer to disbelievers who were demanding that the Divine punishment should come to them posthaste was given in: وَهُوَ خَيْرُ‌ الْفَاصِلِينَ (He is the best decision-maker) while the mention of the perfect power of Almighty Allah was made in: وَاللَّـهُ أَعْلَمُ بِالظَّالِمِينَ (Allah knows the unjust best). Next from here, there is a description of the encompassment of the Knowledge and Power of Allah Ta` ala on all conceivable data and destiny.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

38. 'And thus' refers to the whole of the foregoing discussion, beginning with verse 37: 'And they say: Why has no miraculous sign been sent down to him?' The purpose of this remark is to stress that the persistence of some people in their denial of the Truth and in their disbelief, in spite of a host of unmistakably clear signs and arguments, was sufficient to prove beyond doubt that they were merely a bunch of criminals. If they persisted in error and transgression it was neither through any lack of strong arguments in support of the Truth nor, conversely, because of strong arguments in…

Read the full tafseer →