Al-An'aam 6:55

Al-An'aam · from ayah 55

6:55

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ۟۠وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الۡاٰيٰتِ وَلِتَسۡتَبِيۡنَ سَبِيۡلُ الۡمُجۡرِمِيۡنَ

اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus do We detail the verses, and [thus] the way of the criminals will become evident.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:55

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہو جائے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اس طرح ہم اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں (تاکہ تم لوگ ان پر عمل کرو) اور اس لئے کہ گنہگاروں کا رستہ ظاہر ہوجائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اسی طرح ہم آیات کی تفصیل کرتے رہتے ہیں اور تاکہ مجرمین کا طریقہ ﻇاہر ہوجائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم اسی طرح نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں (تاکہ سیدھا راستہ بھی واضح ہوجائے) اور تاکہ مجرموں کا راستہ بھی کھل کر سامنے آجائے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسی طرح ہم آیتوں کو مفصل بیان فرماتے ہیں اور اس لیے کہ مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم آیتوں کو تفصیلاً بیان کرتے ہیں اور (یہ) اس لئے کہ مجرموں کا راستہ (سب پر) ظاہر ہوجائے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم آیات کو کھول کر بیان کرتے ہیں اور تاکہ مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اسی طرح ہم اپنے احکام واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور اس لیے بھی کہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی روش بھی واضح ہوجائے اور مجرموں کا رویہ بھی بےنقاب ہوجائے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں ہم اپنی آیتوں کو (تاکہ حق کھل کر سامنے آجائے) اور تاکہ واضح ہوجائے راستہ مجرم لوگوں کا

— مولانا اسحاق مدنی

اسی طرح ہم کھول کر بیان کرتے رہتے ہیں نشانیوں کو تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہو کررہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ (لوگ ان پر غور و فکر کریں) اور مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ گناہ گاروں کا طریقہ کھل جائے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus We clearly set forth Our signs so that the way of the wicked might become distinct.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

This is how We explain the verses in detail, so that the way of the guilty may become exposed.

— Muhammad Taqi Usmani

This is how We explain the verses in detail, so that the way of the guilty may become exposed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And thus do We explain the Ayat in detail, that the way of the criminals, may become manifest.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Thus do We expound the revelations that the way of the unrighteous may be manifest.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus do We detail the verses, and [thus] the way of the criminals will become evident.

— Saheeh International

Thus do We explain Our revelations so that the sinful way can be plainly discerned.

— Muhammad Sarwar

And thus do We make distinct the communications and so that the way of the guilty may become clear.

— Muhammad Habib Shakir

And Thus We expound revelations so that the way of the culprits may be shown up.

— Abdul Majid Daryabadi

Thus do We explain the signs in detail: that the way of the sinners may be shown up.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:55

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 55–59

نیک و بد کی وضاحت کے بعد ؟ یعنی جس طرح ہم نے اس سے پہلے ہدایت کی باتیں اور بھلائی کی راہیں واضح کردیں نیکی بدی کھول کھول کر بیان کردی اسی طرح ہم ہر اس چیز کا تفصیلی بیان کرتے ہیں جس کی تمہیں ضرورت پیش آنے والی ہے۔ اس میں علاوہ اور فوائد کے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ مجرموں کا راستہ نیکوں پر عیاں ہوجائے۔ ایک اور قرأت کے اعتبار سے یہ مطلب ہے تاکہ تو گنہگاروں کا طریقہ واردات لوگوں کے سامنے کھول دے۔ پھر حکم ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ لوگوں میں اعلان کردو کہ میرے پاس الٰہی دلیل ہے میں اپنے رب کی دی ہوئی سچی شریعت پر قائم ہوں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میرے پاس وحی آتی ہے، افسوس کہ تم اس حق کو جھٹلا رہے ہو، تم…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 55–56

سورة الْاَنْعَام 38 ”اس طرح“ کا اشارہ اس پورے سلسلہ تقریر کی طرف ہے جو چوتھے رکوع کی اس آیت سے شروع ہوا تھا، ”یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں اتری“۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی صاف اور صریح دلیلوں اور نشانیوں کے بعد بھی جو لوگ اپنے کفر و انکار پر اصرار ہی کیے چلے جائیں ان کا مجرم ہونا بالکل غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوا جاتا ہے اور حقیقت بالکل آئینہ کی طرح نمایاں ہوئی جاتی ہے کہ دراصل یہ لوگ ضلالت پسندی کی بنا پر یہ راہ چل رہے ہیں نہ اس بنا پر کہ راہ حق کے دلائل واضح نہیں ہیں یا یہ کہ کچھ دلیلیں ان کی اس گمراہی کے حق میں بھی موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 54–55

تفسیر کے دو قول ہیں اکثر حضرات نے ان آیات کو آیات سابقہ اور واقعہ سابقہ ہی سے متعلق قرار دیا ہے۔ اور اس کی تائید میں یہ روایت پیش کی ہے کہ جب روساء قریش نے بواسطہ ابو طالب یہ مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ کی مجلس میں غریب اور ادنیٰ درجہ کے لوگ رہتے ہیں، ان کی صف میں بیٹھ کر آپ ﷺ کا کلام ہم نہیں سن سکتے۔ اگر ہمارے آنے کے وقت ان لوگوں کو آپ ﷺ مجلس سے ہٹا دیا کریں تو ہم آپ کا کلام سنیں اور غور کریں۔ اس پر حضرت فاروق اعظم ؓ نے یہ مشورہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، مسلمان تو اپنے مخلص دوست ہیں، ان سے کہہ دیا جائے گا تو کچھ دیر کے لئے وہ مجلس سے ہٹ جایا کریں گے ممکن ہے کہ اس طرح یہ روساء قریش اللہ کا کلام…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہاں وَلِتَسْتَبِيْنَ کا معطوف علیہ محذوف ہے۔ اگر پوری بات کھول دی جائے تو یوں ہوگی وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ المومنین وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں گزر چکی ہیں۔ اوپر تفصیل سے بیان ہوا کہ جو لوگ ایمان نہیں لاا چاہتے ان کی روش کیا ہوتی ہے اور جو ایمان لاتے ہیں ان کا طریقہ کیا ہوتا ہے۔ آخر میں یہ اشارہ فرما دیا کہ یہ ساری تفصیل ہم نے اسی لیے سنائی ہے کہ تم پر دونوں کی روش اور دونوں کا انداز فکر واضح ہوجائے تاکہ بلا سبب کوئی چیز وجہ پریشانی نہ بنے۔ اگلی آیات 56 تا 67 کا مضمون : آگے وہی مضمون جو اوپر سے چلا آ رہا ہے نئے انداز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 54–55

54۔ 1 یعنی ان پر سلام کر کے یا ان کے سلام کا جواب دے کر ان کی تکریم اور قدر افزائی کریں۔ 54۔ 2 اور انھیں خوشخبری دیں کہ فضل و احسان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر گزار بندوں پر اپنی رحمت کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے، کہ جب اللہ تعالیٰ تخلیق کائنات سے فارغ ہوگیا تو اس نے عرش پر لکھ دیا (انَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبُ (صحیح بخاریٰ و مسلم) میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہے۔ 54۔ 3 اس میں بھی اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کیونکہ ان ہی کی یہ صفت ہے اگر نادانی یا برضائے بشریت کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو پھر فوراً توبہ کر کے اپنی صلاح کرلیتے ہیں۔ گناہ پر اصرار اور دوام اور توبہ انابت سے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–56

20: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کردیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔ 21: ہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کرکے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 55۔ یہ اس لہر کا خاتمہ ہے ۔ اس میں حقیقت رسالت اور مزاج رسول کی بڑی خوبی سے وضاحت کی گئی ہے اور اسلامی نظریہ حیات کو بھی کسی بغیر لاگ ولپیٹ کے بتایا گیا ہے ۔ ان اقدار حیات کو بھی واضح کیا گیا ہے ۔ جن کے غلبے کے لئے اسلام اس جہان میں آیا اور ان کو بھی جدا کردیا گیا جن کی بیخ کنی کے لئے اسلام اٹھا ۔ (آیت) ” وکذلک نفصل الایت “۔ (6 : 55) (اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں) کیوں اس لئے کہ (آیت) ” لتستبین سبیل المجرمین “۔ (6 : 55) (تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے) یعنی اس انداز ‘ اس منہاج اور اس طرز کلام کے ساتھ ہم بیان مدعا کرتے ہیں ۔ بڑی تفصیلات کے ساتھ جن کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 54–55

4 پہلے فرمایا تھا کہ پیغمبر تبشیر و انذار کے لئے آتے ہیں، چناچہ اس رکوع کے شروع میں وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الخ سے شان انذار کا استعمال تھا۔ اب مومنین کے حق میں شان تبشیر کا اظہار ہے یعنی مومنین کو کامل سلامتی اور رحمت و مغفرت کی بشارت سنا دیجئے تاکہ ان غریبوں کا دل بڑھے اور دولت مند متکبرین کے طعن وتشنیع اور تحقیر آمیز برتاؤ سے شکستہ خاطر نہ رہیں۔ اسی لئے ہم احکام و آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں نیز اس لئے کہ مومنین کے مقابلہ میں مجرمین کا طریقہ بھی واضح ہوجائے (تنبیہ) یہ جو فرمایا کہ " جو کوئی کرے تم میں سے برائی ناواقفیت سے " اس سے شاید یہ غرض ہو کہ مومن جو برائی یا معصیت کرتا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 55 وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ یہاں پرنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ کے بعد لِیَتَفَکَّرُوْا بِھَا محذوف مانا جائے گا۔ یعنی ہم آیات کی تفصیل اس لیے بیان کرتے ہیں کہ لوگ ان پر غور و فکر کریں۔ اگر وہ ان پر غور کریں گے ‘ تفکر کریں گے تو مجرموں کا راستہ ان کے سامنے کھل کر واضح ہوجائے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

59 مجرمین کی صفات :۔ ایسے مجرموں کے اوصاف کچھ تو پہلے بیان ہوچکے ہیں یعنی جو لوگ ایمان لانے کے قریب تو آتے نہیں مگر مطالبات اور اعتراضات کیے جاتے ہیں مثلاً یہ کہ ہمیں فلاں معجزہ لا کر دکھا دو یا فلاں بات کا پتہ دو تو تب ہی ہم ایمان لائیں گے کبھی یہ کہ نبی تو ہم ہی جیسا بشر ہے اور کبھی یہ کہتے ہیں کہ اگر حقیر قسم کے لوگ آپ اپنی مجلس سے نکال دیں تو تب ہی ہم آپ کی مجلس میں آسکتے ہیں۔ کچھ صفات تو ان مجرموں کی سابقہ آیات میں مذکور ہو چکیں اور کچھ آگے ذکر ہو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم یہ تفصیلات اس لیے بیان کر رہے ہیں کہ ایسے ہٹ دھرم مجرموں کی صفات کھل کر سامنے آجائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

84 ۔ اور اس مومنین صادقین کا طریقہ بھی ممتاز ہو کر خودبخود واضح ہوجائے گا) والحق والباطل لا واسطۃ بینھما فمتی استبانت طریقۃ المجرمین فقد استبانت طریقۃ المحققین ایضا لامحالۃ (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جیسے اسی سورة میں ہم اور بھی دلائل مشرکین کے خلاف کھول کر بیان کرچکے ہیں۔ ای کما فصلنا لک فی ھذہ السورۃ دلائلنا ومحاجتنا مع المشرکین (قرطبی) کما فصلنا لک فی ھذہ السورۃ دلائلنا علی صحۃ التوحید والنبوۃ والقضاء والقدر (کبیر) (آیت) ” الایت “۔ یعنی وہ احکام و دلائل جن کی ضرورت اقامت دین اور مقابلہ اہل باطل کے لئے مومنین کو پڑ سکتی ہے۔ ای فی کل ماتحتاجون الیہ من امر الدین وتیبن لکم ادلتنا وحجتنا فی کل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–55

آیت نمبر 51 تا 55 ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک نفصل الایت اور اسی طرح ہم آیات کو الگ الگ کر کے بیان کرتے رہتے ہیں۔ یعنی جس طرح ہم نے اس سورت میں آیات کی تفصیل کی اسی طرح ہم قرآن کی آیات الگ الگ کھول کر بیان کرتے ہیں یا آیات سے مراد ہیں دلائل حق جو منکرین حق کے سامنے بیان کی جاتی ہیں۔ ولتستبین سبیل المجرمین (تاکہ راہ مستقیم معلوم ہوجائے) اور مجرموں کی راہ نمایاں ہوجائے اس کا عطف محذوف جملہ پر ہے پورا کلام اس طرح تھا ہم آیات بیان کرتے ہیں تاکہ راہ مستقیم واضح ہوجائے اور مجرموں کا راستہ کھل کر سامنے آجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(55) جب حضرت عمر فاروق ؓ ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان لانے کے لیے آئیں تو محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ اور تمہارے عذر کو قبول فرمالیا کیوں کہ جس شخص نے انجام گناہ سے ناواقف ہو کر کوئی گناہ کرلیا اور پھر توبہ کی اور حقوق اللہ کو بھی ادا کیا تو اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کو معاف فرماتے ہیں۔ ہم قرآن کریم میں اوامرو نواہی اور ان لوگوں کی حالت بیان کرتے ہیں تاکہ عینیہ وغیرہ مشرک لوگوں کا طریقہ واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ۔۔ : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے یہ باتیں اس لیے کھول کر بیان کی ہیں تاکہ حق ظاہر ہوجائے اور اس پر عمل کیا جاسکے اور مجرموں کا راستہ خوب واضح ہوجائے، تاکہ اس سے بچا جاسکے۔ (جلالین) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لوگ دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں انھیں مخالفین (مجرمین) کے ہتھکنڈوں سے پوری طرح باخبر ہونا چاہیے، تاکہ ان کی تردید کرسکیں۔ صحابہ کرام ؓ میں یہی خوبی تھی کہ ایک طرف تو وہ اسلام کو خوب سمجھتے تھے اور دوسری طرف جاہلیت کے رسم و رواج اور قوانین سے پوری واقفیت رکھتے تھے، کیونکہ وہ جاہلیت سے گزر کر آئے تھے۔ یہ مضمون حافظ ابن قیم ؓ کی کتاب الفوائد میں خوب بیان ہوا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 55 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و کذلک نفصل الایت تفصیل سے مراد ایسا بیان ہے جس سے معانی ظاہر ہوجائیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے اس سورت میں ایسے دلائل اور مشرکین کے خلاف حجت کو بیان کیا ہے اسی طرح ہم تمہارے لیے آیات بیان کریں گے جب تمہیں دین کے معاملہ میں ضرورت پڑے گی ہم تمہارے لیے ہر حق کے بارے میں اپنے دلائل اور حجتیں پیش کریں گے اہل باطل جس کا انکار کریں گے۔ قتبی نے کہا : نفصل الایت مطلب ہے ہم ایک چیز کے بعد دوسری چیز لائیں گے ہم ایک دفعہ سارا قرآن نازل نہیں کریں گے۔ آیت ولتستبین سبیل المجرمین کہا جاتا ہے : یہ لام فعل کے متعلق ہے تو پھر وہ فعل کہاں ہے جس کے یہ متعلق ہے ؟…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] نُفَصِّلُ [ ہم کھول کھول کر بتاتے ہیں ] الْاٰيٰتِ [ نشانیوں کو ] وَلِتَسْتَبِيْنَ [ اور تاکہ واضح ہوجائے ] سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ [ مجرموں کا راستہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ) (اور اسی طرح ہم آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں تاکہ مجرمین کا راستہ واضح ہوجائے) صاحب روح المعانی فرماتے ہیں۔ اَی وَلِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُھُمْ نفعل ما نعفل من التفضیل یعنی آیات کے بیان کرنے کے متعدد فوائد ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہوجائے کہ مجرمین کا راستہ کیا ہے (یعنی ان کا کیا انجام ہونے والا ہے)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–55

حکم اعزاز واکرام درویشان اسلام بتقدیم سلام وتبشیر ایشاں برحمت خداوند نام۔ قال اللہ تعالیٰ ولاتطرد الذین یدعون ربھم۔۔۔ الی۔۔۔ المجرمین۔ ربط) ۔ اوپر سے سلسلہ کلام مشرکین کے بارے میں تھا یہ آیت قریش کے بعض مغرور اور متکبر سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ایک مرتبہ سرداران قریش نے نبی پاک ﷺ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کی مجلس میں ہمیشہ فقیر اور غلام ہوتے ہیں جیسے بلال اور صہیب اور عمار اور مقداد اور ابن مسعود ؓ اجمعین، ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کے پاس آکر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں لیکن آپ کے پاس رذیل لوگ بیٹھتے ہیں اور ہم اشراف قریش ہیں ہمارا ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہمارے لیے عیب اور عار ہے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 63:۔ یہ عدم تسلیم کی دوسری وجہ ہے یعنی جس قدر مشرکانہ عقائد کی برائی کھول کر بیان کی جاتی ہے اسی قدر ان کے بغض اور کفر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ ” ولتستبین “ میں واؤ کے بارے میں تین اقوال ہیں (1) ۔ اس کا معطوف علیہ کوئی مناسب فعل محذوف ہے۔ مثلا ” لتبین سبیلھم “ (2) یہ جملہ مذکورہ کے مضمون پر معطوف ہے۔ (3) زائدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–55

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کو بیان فرمایا اور اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کرنے والے لوگوں کا رد کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ہر نشانی ظاہر کرسکتا ہے مگر ایسا بیہودہ مطالبہ کرنے والے ہی بےسمجھ ہیں۔ جو لوگ مطلوبہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انتقام بھی بڑا سخت ہے وہ نافرمان قوم کو فوراً سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی تو مبشر اور منذر ہوتے ہیں ‘ معجزات ظاہر کرنا ان کے فرائض میں داخل نہیں ہوتا۔ پھر اللہ نے سید المرسلین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں ‘ نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَلِتَسْتَبِيْنَ سَبِيْلُ الْمُجْرِمِيْنَ۝ 55ۧ تفصیل : ما فيه قطع الحکم، وحکم فَيْصَلٌ ، ولسان مِفْصَلٌ. قال : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] ، الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] (ص ل ) الفصل التفصیل واضح کردینا کھولکر بیان کردینا چناچہ فرمایا : وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْناهُ تَفْصِيلًا[ الإسراء/ 12] اور ہم نے ہر چیز بخوبی ) تفصیل کردی ہے ۔ اور آیت کریمہ : الر كِتابٌ أُحْكِمَتْ آياتُهُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَدُنْ حَكِيمٍ خَبِيرٍ [هود/ 1] یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور خدائے حکیم و خیبر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–55

2 ؎ یعنی ہم نے دنیا میں امیر و غریب پیدا کئے اس امتحان کے لئے کہ امیر نیک غریبوں کو ان کی افلاس کی حالت میں دکھ کر ان پر تکبر و نخوت کرتے ہیں یا اپنی نعمت کا شکریہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الانعام : 55) (اور اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں تاکہ اہل ایمان کی روش بھی واضح ہوجائے اور مجرموں کا رویہ بھی بےنقاب ہوجائے ) اس آیت کریمہ میں لِتَسْتَبِیْنَ کا معطوف علیہ محذوف معلوم ہوتا ہے ہم نے اس کو ترجمے میں کھول دیا۔ اس طرح کی حذف کی مثالیں قرآن کریم میں عام ہیں اور قرآن کریم کا یہ خاص اسلوب ہے۔ آیاتِ الٰہی کی تفصیل سے اہل ایمان اپنی منزل متعین کرسکتے ہیں حاصل مضمون کے طور پر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تم نے مشرکینِ مکہ کی روش کے ساتھ ساتھ ان کے مطالبات اور ان کے دلائل بھی دیکھے اور قرآن…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–55

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ غریب صحابہ ؓ کو اپنے سے دور نہ کیجیے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کو قدر افزائی اور فضل و کرم کا پیغام سنایا گیا ہے۔ کفار کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کی حوصلہ شکنی اور طعنہ زنی کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی، فضل و کرم کا پیغام اور گناہوں کی بخشش کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ کفار نے غریب صحابہ ؓ کو حقیر سمجھ کر ان کی دنیاوی پسماندگی کا مذاق اڑایا تھا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر چار کرم فرمائے۔ 1۔ صحابہ کے ایمان اور اخلاص کی قدر افزائی فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مجرموں کے راستہ کی وضاحت تاکہ ہر ایک دیکھ کر چلے : آیت 55 : وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَلِتَسْتَبِیْنَ یستبین حمزہ اور علی اور ابوبکر نے پڑھا ہے۔ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَسبیل کو نصب کے ساتھ مدنی نے پڑھا۔ جبکہ دوسروں نے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ رفع کی صورت میں تستبین کو یاءؔ اور تاؔ دونوں سے پڑھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ مذکر اور مؤنث دونوں طرح مستعمل ہے۔ اور جب منصوب ہو تو تا سے خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہوگا۔ کہا جاتا ہے استبان الامرو تبین واستبنتہٗ وتبینتہٗ گویا استبان اور تبین ہم معنی ہیں۔ مطلب یہ ہوگا۔ ایسی واضح تفصیل ہم آیات قرآن کی کرتے ہیں اور ان مجرموں کے سلسلہ احوال میں ان کا خلاصہ ذکر کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (55) (وکذلک نفصل الایت) یعنی جس طرح اس صورت میں ہم نے اپنے دلائل واضح کئے مشرکین پر اسی طرح ہم آیتوں کو بیان کریں گے یعنی ہر اس حق بات میں آپ کے لئے دلائل بیان کریں گے جس کا باطل لوگ انکار کریں گے (ولتسئین سبیل المجرمین) یعنی مجرموں کا طریقہ ۔ اہل مدینہ نے ” لتمستبین “ کو تاء کے ساتھ اور سبیل المجرمین کو زبر کے ساتھ پڑھا ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے۔ یعنی تاکہ ہم پہچان لیں اے محمد ! (ﷺ) مجرموں کا راستہ اور حمزہ، کسائی اور ابوبکر رحمہما اللہ نے ” لیستبین “ کو یاء کے ساتھ اور سبیل کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے لتستبین کو تاء کے ساتھ اور سبیل کو پیش کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی واضح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 55–58

(55 ۔ 58) ۔ شروع سورة سے یہاں تک توحید کی خوبی اور شرک کی خرابی کا ذکر جو تفصیل سے گذرا اسی کو فرمایا کہ قرآن کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھا دیا جاتا ہے تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔{ قُلْ یَا اَیُّھَا الْکَافِرُوْنَ } کی شان نزول میں آوے گا کہ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں ان مشرکوں کے بتوں کی پوجا کرلیا کریں اور ایک سال یہ مشرک لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرلیا کریں اسی پر گویا آپس کی صلح ٹھہر جاوے۔ اسی کو فرمایا اے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت 51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ (لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

92 مجرموں کے راستے کی وضاحت کی ضرورت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح تفصیل سے بیان کرتے ہیں ہم اپنی آیتوں کو تاکہ حق کھل کر سامنے آجائے اور تاکہ واضح ہوجائے راستہ مجرم لوگوں کا۔ تاکہ جو اس سے بچنا چاہیں بچ سکیں اور اس کے نتیجے میں وہ اس برے انجام سے بچ سکیں جو کہ مجرموں کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح ہم نے دلائل کے ساتھ حق کو کھول کر بیان کردیا تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے اور مجرموں کے راستے کی بھی وضاحت ہوجائے۔ کیونکہ ایک ضد کے ذکر وبیان سے دوسری ضد پہچانی جاتی ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ وَبِضِدِّھَا تَتَبَیَّنُ الْاَشْیَائُ ۔ (المراغی وغیرہ) ۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–55

مخلص لوگوں سے پیار کرنا، مسلمانوں کی ہمت بڑھائو تشریح : ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اسلام میں عظمت اور عزت کا معیار امیری اور غریبی ہرگز نہیں بلکہ تقویٰ ، پرہیزگاری اور شکر و عبادتِ الٰہی ہے۔ اور یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہر مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیمات کو سب سے پہلے غریب لوگ ہی اپناتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی غریب لوگ سب سے پہلے اور زیادہ تعداد میں ایمان لائے لہٰذا وہ اکثر آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے تو عر ب کے امیر لوگوں نے حضرت ابو طالب کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ اگر غریب لوگ نبی ﷺ کے پاس نہ بیٹھے رہیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس جا کر آپ ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–55

رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔ اسرار و معارف : بحث سے اعراض : آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 اوپر کی آیت میں تو یہ بیان ن ہوا کہ اللہ آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ حق واضح ہو۔ اور مجرموں کا راستہ ظاہر ہوجائے اب اس آیت میں مجرموں کے راستہ پر چلنے سے منع فرمایا جس سے یہ بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ان کا راستہ کیا ہے۔ ، (رازی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 55–56

(6:55) تستبین۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ استبانۃ (استفعال) بین مادہ سے وہ ظاہر ہوجائے ۔ کھل جائے۔ سبیل۔ راستہ۔ راہ۔ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ (6:56) نھیت ماضی مجہول واحد متکلم ۔ نھی۔ روشن اور کھلی دلیلیں۔ ایسی دلیلیں ممانعت کردی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ (1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 55–58

علم غیب کا ذکر شان نزول : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن شریف کی آیتوں میں ہر طرح کا مطلب کھول کر سمجھادیا جاتا ہے تاکہ تاکہ اس پر بھی ہٹ دھرمی سے جو کوئی قرآن شریف کی آیتوں کو جھٹلاوے تو معلوم ہوجاوے کہ علم ازلی کے موافق وہ مجرموں کا راستہ چلا، جس سے اس نے اپنی عاقبت برباد کی۔ مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے یہ فرمائش کیا کرتے تھے کہ ایک سال تم ہمارے بتوں کو پوجو اور ایک سال ہم اللہ کی عبادت کریں اس پر گویا آپس کی صلح ٹہرجاوے۔ اسی کو ان آیتوں میں فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! ﷺ تم ان لوگوں سے کہ دو کہ تم لوگوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر بت پرستی کو رواج دے دیا ہے۔ میں اصل ملت ابراہیمی پر ہوں اس لئے مجھے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 54–55

(ف 1) یعنی مسلمانوں کے لئے سل امتی کا پیغام ہے ، اللہ کی رحمتیں ان کا خیر مقدم کرتی ہیں ۔ ان کی لغزشیں درخور عفو ہیں ، بشرطیکہ توبہ و استغفار کو ہاتھ میں نہ دیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-55 اور جس طرح ہم نے یہاں فقراء اور مئومنین اور روسائے منکرین کا حال بیان کیا ہے اسی طرح ہم اپنے دلائل اور اپنی آیات تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں تاکہ کامل مومنین کا طریقہ بھی معلوم ہوجائے اور تاکہ گناہگاروں اور مجرموں کا راستہ بھی سب پر آشکارا اور واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آیات کریمات کی یہ وضاحت اس لئے ضروری تھی تاکہ مجرم کی راہ نمایاں ہوجائے : 85: فرمایا ان آیات کو باربار تصریف آیات کے تحت ہم اس لئے بیان کرتے ہیں تاکہ مجرموں کا طریقہ واضح ہوجائے اور اس طرح وہ اپنے چہروں اور عمل ہی سے پہچانے جاسکیں کیونکہ ” دال میں کالا “ فوراً نظر آجاتا ہے بشرطیکہ دیکھنے والے کے پاس آنکھیں ہوں اور وہ دیکھنا بھی چاہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 54–55

About verse 54: وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ (And when to you come those who believe ... ), there are two interpretations given by leading authorities in Tafs.ir: 1. Most of them have declared it to be related to previous verses and event. In support, they refer to the narration about the event when the chiefs of Quraysh demanded through Abu Talib that his nephew should first remove the poor people around him, with whom they could not sit, and then they would come and listen to him, and think about it. Thereupon, it was Sayyidna ` Umar ؓ who advised that it did not matter much, for…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 55–56

38. 'And thus' refers to the whole of the foregoing discussion, beginning with verse 37: 'And they say: Why has no miraculous sign been sent down to him?' The purpose of this remark is to stress that the persistence of some people in their denial of the Truth and in their disbelief, in spite of a host of unmistakably clear signs and arguments, was sufficient to prove beyond doubt that they were merely a bunch of criminals. If they persisted in error and transgression it was neither through any lack of strong arguments in support of the Truth nor, conversely, because of strong arguments in…

Read the full tafseer →