Explained with ayahs 50–54
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 37
جو لوگ اس وقت نبی ﷺ پر ایمان لائے تھے ان میں بکثرت لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانہ جاہلیت میں بڑے بڑے گناہ ہوچکے تھے۔ اب اسلام قبول کرنے کے بعد اگرچہ ان کی زندگیاں بالکل بدل گئی تھیں، لیکن مخالفین اسلام ان کو سابق زندگی کے عیوب اور افعال کے طعنے دیتے تھے۔ اس پر فرمایا جارہا ہے کہ اہل ایمان کو تسلی دو۔ انہیں بتاؤ کہ جو شخص توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے اس کے پچھلے قصوروں پر گرفت کرنے کا طریقہ اللہ کے ہاں نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
تفسیر کے دو قول ہیں اکثر حضرات نے ان آیات کو آیات سابقہ اور واقعہ سابقہ ہی سے متعلق قرار دیا ہے۔ اور اس کی تائید میں یہ روایت پیش کی ہے کہ جب روساء قریش نے بواسطہ ابو طالب یہ مطالبہ کیا کہ آپ ﷺ کی مجلس میں غریب اور ادنیٰ درجہ کے لوگ رہتے ہیں، ان کی صف میں بیٹھ کر آپ ﷺ کا کلام ہم نہیں سن سکتے۔ اگر ہمارے آنے کے وقت ان لوگوں کو آپ ﷺ مجلس سے ہٹا دیا کریں تو ہم آپ کا کلام سنیں اور غور کریں۔
اس پر حضرت فاروق اعظم ؓ نے یہ مشورہ دیا کہ اس میں کوئی مضائقہ نہیں، مسلمان تو اپنے مخلص دوست ہیں، ان سے کہہ دیا جائے گا تو کچھ دیر کے لئے وہ مجلس سے ہٹ جایا کریں گے ممکن ہے کہ اس طرح یہ روساء قریش اللہ کا کلام…
Read the full tafseer →سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ جس طرح ملاقات یا رخصت کا کلمہ ہے اسی طرح خیر مقدم کا کلمہ بھی ہے۔ مثلاً فرشتے توحید پر ثابت قدم رہنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہیں گے سلم علیک ادخلوا الجنۃ بما کنتم تعملون : تم پر سلامتی ہو، جنت میں داخل ہوجاؤ اپنے اعمال کے صلے میں۔
غربائے مسلمین کے خیر مقدم کی ہدایت : اب یہ پیغمبر ﷺ کو ان غربائے مسلمین کے ساتھ بالکل اس کے ضد طرز عمل اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی جس کا مطالبہ سرداران قریش کرتے تھے۔ سردارانِ قریش تو، جیسا کہ بیان ہوا، یہ چاہتے تھے کہ محمد ﷺ ان لوگوں کو اپنے پاس سے دھتکار دیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے برعکس نبی ﷺ کو یہ ہدایت فرمائی کہ جب ہماری آیتوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
54۔ 1 یعنی ان پر سلام کر کے یا ان کے سلام کا جواب دے کر ان کی تکریم اور قدر افزائی کریں۔
54۔ 2 اور انھیں خوشخبری دیں کہ فضل و احسان کے طور پر اللہ تعالیٰ نے اپنے شکر گزار بندوں پر اپنی رحمت کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ جس طرح حدیث میں آتا ہے، کہ جب اللہ تعالیٰ تخلیق کائنات سے فارغ ہوگیا تو اس نے عرش پر لکھ دیا (انَّ رَحْمَتِیْ تَغْلِبُ (صحیح بخاریٰ و مسلم) میری رحمت، میرے غضب پر غالب ہے۔
54۔ 3 اس میں بھی اہل ایمان کے لئے بشارت ہے کیونکہ ان ہی کی یہ صفت ہے اگر نادانی یا برضائے بشریت کسی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھے تو پھر فوراً توبہ کر کے اپنی صلاح کرلیتے ہیں۔ گناہ پر اصرار اور دوام اور توبہ انابت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
20: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کردیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔
21: ہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کرکے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔
Read the full tafseer →(آیت) ” وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء اً بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ(54)
” جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو کہو ” تم پر سلامتی ہے ۔ تمہارے رب نے رحم وکرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے ۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی برائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے۔ “
نعمت ایمان کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
4 پہلے فرمایا تھا کہ پیغمبر تبشیر و انذار کے لئے آتے ہیں، چناچہ اس رکوع کے شروع میں وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ الخ سے شان انذار کا استعمال تھا۔ اب مومنین کے حق میں شان تبشیر کا اظہار ہے یعنی مومنین کو کامل سلامتی اور رحمت و مغفرت کی بشارت سنا دیجئے تاکہ ان غریبوں کا دل بڑھے اور دولت مند متکبرین کے طعن وتشنیع اور تحقیر آمیز برتاؤ سے شکستہ خاطر نہ رہیں۔ اسی لئے ہم احکام و آیات تفصیل سے بیان کرتے ہیں نیز اس لئے کہ مومنین کے مقابلہ میں مجرمین کا طریقہ بھی واضح ہوجائے (تنبیہ) یہ جو فرمایا کہ " جو کوئی کرے تم میں سے برائی ناواقفیت سے " اس سے شاید یہ غرض ہو کہ مومن جو برائی یا معصیت کرتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ
یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔
لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط…
Read the full tafseer →57 مسلمانوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن سے زمانہ جاہلیت میں کئی بڑے گناہ سرزد ہوچکے تھے۔ اگرچہ اب انہوں نے بہت حد تک اپنی اصلاح کرلی تھی اور ان کی زندگی بدل چکی تھی لیکن مخالفین اسلام انہیں ان کے سابقہ اعمال و عیوب پر طعنے دینے سے باز نہیں آتے تھے۔ اس پس منظر میں آپ کو یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کو تسلی دیں اور کہیں کہ آپ کا پر ورگار بڑا غفور رحیم ہے جو شخص اسلام لا کر یا توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیتا ہے تو اللہ تعالیٰ یقینا پچھلے گناہوں پر گرفت نہیں کرے گا جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب کوئی شخص اسلام لائے اور ٹھیک طور پر لائے تو اس کی سابقہ…
Read the full tafseer →82 ۔ رحمت و شفقت کل کائنا ت کے لیے عمومی اور مطیعین ومومنین کے لیے خصوصی، اور اس قانون رحمت کی ایک دفعہ یہ ہے جو ابھی بیان ہورہی ہے۔ (آیت) کتب “۔ یہاں اوجب کے مرادف ہے یعنی حق تعالیٰ نے اپنے اوپر محض اپنے فضل وکرم سے بلاکسی کے توسط کے لازم یا واجب کرلیا ہے۔ ای اوجب ذلک بخبرہ الصدق ووعدہ الحق (قرطبی) ای اوجبھا علی ذاتہ المقدسۃ تفضلا و احسانا بالذات لابتوسط شیء اصلا (روح) کتب میں خود ہی وجوب موجود ہے اور پھر جب علی اس کے ساتھ آگیا تو تاکید اور دہری ہوگئی۔ کتب کذا علی فلان یفید الایجاب وکلمۃ علی ایضا تفید الایجاب ومجموعھما بالغۃ فی الایجاب (کبیر) علی نفسہ، نفس سے مراد یہاں ذات و حقیقت ہے نہ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت نمبر 51 تا 55
ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں
جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور…
Read the full tafseer →واذا جآءک الذین یومنون بایتنا فقل سلام علیکم اور جب آپ کے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان سے کہیں تم پر سلامتی ہو۔
حضرت عکرمہ ؓ : کا قول ہے اس آیت کا نزول ان لوگوں کے حق میں ہوا جنہوں نے رسول اللہ ﷺ : کو غریب مسلمانوں کے اخراج سے منع کیا تھا چناچہ رسول اللہ ﷺ جب ان حضرات کو دیکھتے تھے تو سلام کا آغاز خود ہی کرتے تھے۔ عطاء کا بیان ہے اس آیت کا نزول مندرجۂ ذیل حضرات کے حق میں ہوا۔ ابوبکر ‘ عمر ‘ عثمان ‘ علی ‘ بلال ‘ سالم ‘ ابو عبیدہ ‘ مصعب بن عمیر ‘ حمزہ ‘ عثمان بن مظعون ‘ عمار بن یاسر ارقم بن ارقم ابو سلمہ بن عبدالاسد ؓ ۔
فریابی اور ابن ابی حاتم نے حضرت ماہان کی روایت…
Read the full tafseer →(54) ان لوگوں کو غلام دے کر آزمایش میں ڈال رکھا تھا تاکہ یہ عینیہ بن حصن وغیرہ کہیں کہ کیا سلمان فارسی ؓ اور ان کے ساتھیوں کو تو اللہ تعالیٰ نے دولت ایمان سے بہرہ ور کیا ہے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو خوب جانتا ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ۔۔ : پہلی آیت میں کمزور اہل ایمان کو اپنے پاس سے دور ہٹانے سے منع فرمایا، اب اس آیت میں ان کے اکرام اور عزت افزائی کا حکم دیا۔ (رازی) یعنی جو لوگ کفر و شرک کے غلبے کے باوجود اس پر آشوب دور میں آپ کی دعوت قبول کر کے مسلمان ہو رہے ہیں انھیں امن اور سلامتی کی خوش خبری دے دیجیے، یعنی یہ کہ اسلام لانے کے بعد وہ اللہ کے عذاب سے امن والے ہوگئے، اب ان کی ان اعمال پر پکڑ نہیں ہوگی جو وہ کفر کی زندگی میں کرتے رہے ہیں۔ (المنار) اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کا احترام کرنا چاہیے اور انھیں ناراض نہیں کرنا چاہیے۔
كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۙ: اس جملے کی تفسیر کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 54 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : واذا جاءک الذین یومنون بایتنا فقل سلام علیکم، السلام اور السلام تہ دونوں کا ایک معنی ہے۔ سلم علیکم کا معنی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے دین اور نفسوں میں سلامتی بخشے۔ یہ ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو دور کرنے سے نبی کریم ﷺ کو نہی کی گئی تھی پھر جب آپ انہیں دیکھتے تو پہلے انہیں سلام کرتے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا :" سب تعریفیں اس ذات کے لیے جس نے میری امت میں ایسے لوگ بنائے جنہیں پہلے سلام کرنے کا مجھے حکم دیا گیا " (1) (زادالمسیرلابن جوزی) اس بناء پر سلام، نبی کریم ﷺ کی طرف سے ہوتا تھا۔ بعض نے فرمایاـ: یہ اللہ کی جہت سے تھا، یعنی ہماری طرف سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا [ اور جب بھی ] جَاۗءَكَ [ آئیں آپ کے پاس ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] يُؤْمِنُوْنَ [ ایمان رکھتے ہیں ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں پر ] فَقُلْ [ تو آپ کہیں ] سَلٰمٌ [ سلامتی ہے ] عَلَيْكُمْ [ تم لوگوں پر ] كَتَبَ [ لکھا (یعنی لازم کیا ) ] رَبُّكُمْ [ تمہارے رب نے ] عَلٰي نَفْسِهِ [ اپنے آپ پر ] الرَّحْمَةَ ۙ [ رحمت کو ] اَنَّهٗ [ حقیقت یہ ہے کہ ] مَنْ [ جو ] عَمِلَ [ کرتا ہے ] مِنْكُمْ [ تم میں سے ] سُوْۗءًۢا [ کوئی برائی ] بِجَهَالَةٍ [ نادانی سے ] ثُمَّ [ پھر ] تَابَ [ وہ توبہ کرتا ہے ] مِنْۢ بَعْدِهٖ [ اس کے بعد ] وَاَصْلَحَ ۙ [ اور اصلاح کرتا ہے ] فَاَنَّهٗ [ تو یہ کہ وہ ] غَفُوْرٌ…
Read the full tafseer →پھر فرمایا (وَ اِذَا جَآءَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) (اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں ہماری آیات پر تو آپ سلام علیکم کہیں) اور یہ بھی کہیں (کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ ) (کہ تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو لازم قرار دیا ہے) ۔
جن حضرات کا اوپر ذکر تھا کہ انہیں انپے سے دور نہ کرو اس میں ان کی دلداری کا حکم فرمایا کہ آپ ان کے لیے سلامتی کی دعا کریں اور ان کو بتادیں کہ تمہارا رب رحیم ہے اس نے اپنے اوپر رحمت کو لازم کردیا۔ تمہارے ایمان اور عمل صالح کا اجر ضائع نہیں ہوگا۔
پھر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
حکم اعزاز واکرام درویشان اسلام بتقدیم سلام وتبشیر ایشاں برحمت خداوند نام۔
قال اللہ تعالیٰ ولاتطرد الذین یدعون ربھم۔۔۔ الی۔۔۔ المجرمین۔
ربط) ۔ اوپر سے سلسلہ کلام مشرکین کے بارے میں تھا یہ آیت قریش کے بعض مغرور اور متکبر سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ایک مرتبہ سرداران قریش نے نبی پاک ﷺ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کی مجلس میں ہمیشہ فقیر اور غلام ہوتے ہیں جیسے بلال اور صہیب اور عمار اور مقداد اور ابن مسعود ؓ اجمعین، ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کے پاس آکر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں لیکن آپ کے پاس رذیل لوگ بیٹھتے ہیں اور ہم اشراف قریش ہیں ہمارا ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہمارے لیے عیب اور عار ہے اس…
Read the full tafseer →62 یہ ایمان والوں کے لیے بشارت ہے کَتَبَ عَلیٰ نَفْسِہٖ یعنی یہ مشرکین اگرچہ تم کو حقیر سمجھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے ازراہ فضل و احسان ایمان والوں کے لیے رحمت و شفقت اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ اس لیے جو مومن غلطی کے بعد سچی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور معاف فرمادے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کو بیان فرمایا اور اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کرنے والے لوگوں کا رد کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ہر نشانی ظاہر کرسکتا ہے مگر ایسا بیہودہ مطالبہ کرنے والے ہی بےسمجھ ہیں۔ جو لوگ مطلوبہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انتقام بھی بڑا سخت ہے وہ نافرمان قوم کو فوراً سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی تو مبشر اور منذر ہوتے ہیں ‘ معجزات ظاہر کرنا ان کے فرائض میں داخل نہیں ہوتا۔ پھر اللہ نے سید المرسلین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں ‘ نہ…
Read the full tafseer →وَاِذَا جَاۗءَكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِاٰيٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰي نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ 0ۙ اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْۗءًۢ ابِجَــہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِہٖ وَاَصْلَحَ 0ۙ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 54
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
2 ؎ یعنی ہم نے دنیا میں امیر و غریب پیدا کئے اس امتحان کے لئے کہ امیر نیک غریبوں کو ان کی افلاس کی حالت میں دکھ کر ان پر تکبر و نخوت کرتے ہیں یا اپنی نعمت کا شکریہ۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَاِذَاجَآئَکَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌعَلَیْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ لا اَنَّہٗ مَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓئًما بِجَھَالَۃِ ثُمَّ تَابَ مِنْم بَعْدِہٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّہٗ غَفُوْرٌرَّحِیْمُٗ ۔ (الانعام : 54)
(اور جب تمہارے پاس وہ لوگ آیا کریں جو ہماری آیات پر ایمان لائے تو تم ان کو کہو کہ تم پر سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے گا پھر اس کے بعد وہ توبہ اور اصلاح کرلے گا تو وہ بخشنے والا اور مہربان ہے )
اللہ تعالیٰ اہل ایمان پر سلام بھیجتا ہے
اشراف قریش کا اصرار تو یہ تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–55
فہم القرآن
ربط کلام : پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ غریب صحابہ ؓ کو اپنے سے دور نہ کیجیے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کو قدر افزائی اور فضل و کرم کا پیغام سنایا گیا ہے۔
کفار کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کی حوصلہ شکنی اور طعنہ زنی کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی، فضل و کرم کا پیغام اور گناہوں کی بخشش کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ کفار نے غریب صحابہ ؓ کو حقیر سمجھ کر ان کی دنیاوی پسماندگی کا مذاق اڑایا تھا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر چار کرم فرمائے۔
1۔ صحابہ کے ایمان اور اخلاص کی قدر افزائی فرمائی۔
2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا…
Read the full tafseer →شانِ فقراء اوّل ان کی خوشدلی کیلئے فرمایا پھر رحمت کی بشارت دی :
آیت 54 : وَاِذَا جَآئَ کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ اس بات میں خواہ اس بات کا تذکرہ کہ اللہ تعالیٰ کا سلام ان کو پہنچا دیں اور خواہ اس کا کہ ان کے اکرام میں ان کو سلام کہنے میں ابتداء کریں اور ان کے دلوں کی خوشی کے لیے اسی طرح یہ ارشاد۔ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ یہ بھی من جملہ ان باتوں میں سے ہے جو ان کو کہی گئی۔ تاکہ وہ پیغمبر ﷺ ان کو اللہ تعالیٰ کی وسعت رحمت کی خوشخبری دیں۔ اور ان کی قبولیت توبہ کی بشارت دیں۔ اب معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ رحمت کا پکا وعدہ…
Read the full tafseer →واذا جاء ک الذین یئومنون سے کون لوگ مراد ہیں
(54) (واذا جآء ک الذین یئومنون بایتنا فقل سلم علیکم) عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت انہی لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جن کو دور کرنے سے نبی کریم ﷺ کو روکا گیا تھا اور نبی کریم ﷺ جب ان کو دیکھتے تھے تو سلام میں پہل کرتے تھے اور عطاء فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی، بلال، سالم ، ابو عبیدہ، مصعب بن عمیر، حمزہ، جعفر، عثمان بن مظعون، عماربن یاسر، ارقم بن ابی ارقم، ابوسلمہ بن عبدالاسد رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ انہ من عمل منکم سوء ام بجھالۃ) مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ حلال اور حرام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(52 ۔ 54) ۔ صحیح مسلم صحیح ابن حبان مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل ان قریش کے شریف لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بلال ؓ عمار بن یاسر ؓ سالم ابی حذیفہ ؓ کا پروردہ یہ چھوٹے لوگ آپ کے پاس ہمارے آنے کے وقت آپ کی مجلس میں نہ ہوا کریں تو مناسب ہے کیونکہ ہم ایسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ شریک مجلس ہونے کو اپنی کسر شان جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت امارت سے زیادہ خلوص نیت مقبول ہے اور یہ غریب لوگ خلوص نیت سے آنحضرت کے پاس ہر وقت حاضر رہتے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
آیت 51
یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔
(لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے…
Read the full tafseer →88 دولت ایمان و یقین کی عظمت شان کا ایک خاص نمونہ و مظہر : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہمارے آیتوں پر تو آپ [ دلجوئی اور طیب خاطر کے لیے ] ان سے یوں کہیں کہ سلام ہو تم پر۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان نعمت ہے یہ ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی نعمت، جس کی بنا پر اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے پیغمبر کو ان بندگان صدق و صفا کے ساتھ ملاطفت کی اس طرح تعلیم فرما رہا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیَہ ۔ سو ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی دولت دنیا جہاں کی دوسری تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دنیا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–55
مخلص لوگوں سے پیار کرنا، مسلمانوں کی ہمت بڑھائو
تشریح : ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اسلام میں عظمت اور عزت کا معیار امیری اور غریبی ہرگز نہیں بلکہ تقویٰ ، پرہیزگاری اور شکر و عبادتِ الٰہی ہے۔ اور یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہر مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیمات کو سب سے پہلے غریب لوگ ہی اپناتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی غریب لوگ سب سے پہلے اور زیادہ تعداد میں ایمان لائے لہٰذا وہ اکثر آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے تو عر ب کے امیر لوگوں نے حضرت ابو طالب کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ اگر غریب لوگ نبی ﷺ کے پاس نہ بیٹھے رہیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس جا کر آپ ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔
اسرار و معارف :
بحث سے اعراض :
آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں…
Read the full tafseer →ف 12 پہلی آیت میں انکے طرد سے منع فرمایا اب اس آیت میں ان کے اکرام کا حکم دیا) (رازی) یعنی جھو لوگ کفر وشرک کے غلبہ کے باوجود اس پر آشوب دور میں آپ ﷺ کی دعوت قبول کر کے مسلمان ہو رہے ہیں انہیں امن وسلامیت کو خوشخبری دے دیجئے یعنی یہ کہ اسلام لانے سے وہ اللہ کے عذاب سے مامون ہوگئے۔ اب ان اعمال پر مواخذ نہیں ہوگا جو وہ کفر کی زندگی میں کرتے رہے ہیں۔ المنار، عن ابن عباس ؓ اس سے معلوم ہوا کہ نیک لوگوں کا احترام کرنا چاہیے اور انہیں ناراض نہیں کرنا چاہیے (قرطبی)
1 نادانی سے گناہ کر بیٹھنے کا مطلب اس ک کے انجام بد کو نہ سمجھنا ہے۔ ( دیکھئے سورة نسا آیت 17) اوپر کی آّیتوں میں انذار تھا اب اس آیت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
(6:53) فتنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ اس کے علاوہ مصیبت سے بچانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع بھی ہوسکتا ہے ہم آزمائش میں ڈالتے ہیں۔
من اللہ علیہم۔ خدا نے ان پر بڑا احسان کیا من یمن (نصر) من مصدر احسان کرنا۔ منان احسان کرنے والا۔ المنان۔ خدا تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 :
انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 :
ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔
(1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
شان نزول : کفار کی ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے گرد غریب صحابہ کرام کی ایک جماعت حاضر ہے، جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آویں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور ﷺ نے اس کو منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاصل معنی یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں، انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔ آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان تنگدست ایمانداروں کے دل چھوٹے چھوٹے ہیں، ان کی تنگدستی کے سبب سے لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–57
[22] یعنی قرآن مجید۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
(ف 1) یعنی مسلمانوں کے لئے سل امتی کا پیغام ہے ، اللہ کی رحمتیں ان کا خیر مقدم کرتی ہیں ۔ ان کی لغزشیں درخور عفو ہیں ، بشرطیکہ توبہ و استغفار کو ہاتھ میں نہ دیں ۔
Read the full tafseer →-54 اور اے پیغمبر جب یہ لوگ جو ہماری آیتوں پر کامل طور پر ایمان رک تھے ہیں آپ کے پاس آئیں اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوں تو ان ک ہماری جانب سے سلامتی کا پیام پہونچا دیجیے اور ان سے کہہ دیجیے کہ تمہارے پروردگار نے رحمت و فضل کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور رحم و کرم کا برتائو اختیار کر رکھا ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص تم میں سے جہالت و نادانی کی حالت میں کوئی برا عمل کر بیٹھے اور کسی برے کام کا مرتکب ہوجائے پھر وہ اس برے عمل کے بعد توبہ کرے لے اور اپنی اصلاح کرلے اور اپنے کو درست کرلے تو اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ بڑی مغفرت کرنے والا اور نہایت مہربان ہے یعنی توبہ کے وقت ترک گناہ کا عزم ہو خواہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
ف 3۔ حشر کے متعلق کل تین طرح کے آدمی ہیں ایک وہ جو جزا اس کے ثبوت کے معتقد ہیں دوسرے وہ جو متردد ہیں آیت میں ان ہی دونوں جماعتوں کا ذکر ہے تیسرے وہ جو جزما اس کے منکر ہیں اور انذار گوان کو بھی عام ہے جیسا اور آیات میں مصرح ہے لیکن یہاں مطلق انذار مراد نہیں بلکہ وہ انذار جس میں خاص اہتمام ہو سو یہ وہاں ہی ہوگا جہاں نفع متیقن یا متوقع ہو جیسا قسم اول دوم کا حال ہے بخلاف اس قسم سوم کے کہ بوجہ عدم توقع نفع ان کو انذار محض اتمام حجت کے لیے ہوگا توجہ کی بوجہ عنادان میں قابلیت ہی نہیں اس لیے یہاں قسمین اولین کی تخصیص کی گئی ہے جیسا بعض آیات میں بنابریقین نفع کے صرف قسم اول ہی کی تخصیص بھی ہے۔
4۔ غیر…
Read the full tafseer →ایمان والوں کی دلجوئی کا حکم کہ آپ ﷺ ان کو اللہ کی رحمت عام کی خوشخبری سنا دیں :
84: جن غرباء سے رؤسا اس قدر بیزار نظر آتے تھے کہ ان کا مطالبہ یہ ہوا کہ آپ ﷺ اگر ان لوگوں کو جو بالکل ہماری مجلسوں میں بیٹھنے کے قابل نہیں ان کو اٹھا دیں اور ہمیں بات سننے کا موقع دیں تو شاید ہم بیٹھ تو جائیں اس وقت تو آپ ﷺ نے جو صورتحال بنا رکھی ہے اسمیں آپ ﷺ کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتے۔ ان کے اس مطالبہ کے بالکل برعکس اللہ تعالیٰ نے اس طرح اپنے رسول ﷺ کی ہدایت فرمائی کہ جب ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے ہمارے یہ بندے تمہارے پاس آیا کریں تو آپ ﷺ سلامتی و رحمت کی دعا کے ساتھ ان کا خیر مقدم کیا کریں اور صرف یہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
About verse 54: وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ (And when to you come those who believe ... ), there are two interpretations given by leading authorities in Tafs.ir:
1. Most of them have declared it to be related to previous verses and event. In support, they refer to the narration about the event when the chiefs of Quraysh demanded through Abu Talib that his nephew should first remove the poor people around him, with whom they could not sit, and then they would come and listen to him, and think about it. Thereupon, it was Sayyidna ` Umar ؓ who advised that it did not matter much, for…
Read the full tafseer →37. Several of those who came to believe in the Prophet (peace be on him) had committed many serious sins before they embraced Islam. Even though their lives had altogether changed following their conversion, the opposition continued to play up the weaknesses and misdeeds of their past life. The Prophet (peace he on him) is asked to comfort such persons and to tell them that God does not punish those who sincerely repent their sins and mend their ways.
Read the full tafseer →