Al-An'aam 6:53

Al-An'aam · from ayah 53

6:53

وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْ بَیْنِنَا ؕ— اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ ۟وَكَذٰلِكَ فَتَـنَّا بَعۡضَهُمۡ بِبَـعۡضٍ لِّيَـقُوۡلُـوۡۤا اَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡۢ بَيۡنِنَا ؕ اَلَـيۡسَ اللّٰهُ بِاَعۡلَمَ بِالشّٰكِرِيۡنَ

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And thus We have tried some of them through others that the disbelievers might say, "Is it these whom Allah has favored among us?" Is not Allah most knowing of those who are grateful?

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:53

دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ اِنہیں دیکھ کر کہیں "کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے؟" ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اسی طرح ہم نے بعض لوگوں کی بعض سے آزمائش کی ہے کہ (جو دولتمند ہیں وہ غریبوں کی نسبت) کہتے ہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے ہم میں سے فضل کیا ہے (خدا نے فرمایا) بھلا خدا شکر کرنے والوں سے واقف نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے تاکہ یہ لوگ کہا کریں، کیا یہ لوگ ہیں کہ ہم سب میں سے ان پر اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ہے۔ کیا یہ بات نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو خوب جانتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اسی طرح ہم نے کچھ لوگوں کو کچھ دوسروں کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ (ان کے بارے میں) یہ کہیں کہ : کیا یہ ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے ہم سب کو چھوڑ کر احسان کرنے کے لیے چنا ہے ؟ کیا (جو کافر یہ بات کہہ رہے ہیں ان کے خیال میں) اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو دوسروں سے زیادہ نہیں جانتا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور یونہی ہم نے ان میں ایک دوسرے کے لئے فتنہ بنایا کہ مالدار کافر محتاج مسلمانوں کو دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہم میں سے کیا اللہ خوب نہیں جانتا حق ماننے والوں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اسی طرح ہم ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے آزماتے ہیں تاکہ وہ (دولت مند کافر غریب مسلمانوں کو دیکھ کر استہزاءً یہ) کہیں: کیا ہم میں سے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اﷲ نے احسان کیا ہے؟ کیا اﷲ شکر گزاروں کو خوب جاننے والا نہیں ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے ؟ کیا اللہ شکر کرنے والوں کو زیادہ جاننے والا نہیں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس طرح ہم نے بعض لوگوں کے ذریعہ دوسروں کو آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ (وہ انہیں دیکھ کر) کہیں کہ : کیا ہم میں سے یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے احسان کیا ہے ؟ (دیکھو) کیا اللہ تعالیٰ اپنے شکرگزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے کہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل کے لیے چنا ؟ کیا اللہ شکر گزاروں سے اچھی طرح واقف نہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے اسی طرح (کچھ کو امیر اور کچھ کو غریب بنا کر) ان میں سے بعض کو بعض کے لئے آزمائش کا سامان بنادیا ہے، تاکہ وہ (یعنی کافر و نافرمان مالدار، غریب و نادار اہل ایمان نیکوکاروں کے لئے) یوں کہیں کہ کیا یہی ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے فضل کرنا تھا ہمارے درمیان میں سے ؟ کیا اللہ اچھی طرح نہیں جانتا شکر گزاروں کو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے جس سے یہ لوگ کہیں گے کہ کیا یہی لوگ ہمارے درمیان میں سے ہیں جن پر اللہ نے اپنا فضل کیا ہے ؟ ۔ کیا للہ شکرگزاروں سے خوب واقف نہیں ؟ ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے آزمایا ہے تاکہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے خاص انعام کیا ہے ہم میں سے ؟ تو کیا اللہ زیادہ واقف نہیں ہے ان سے جو واقعتا اس کا شکر کرنے والے ہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے ؟ ہاں ! کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thus We have made some of them a means for testing others so that they should say: 'Are these theones among us upon whom Allah has bestowed His favour?' Yes, does Allah not know well who are the thankful?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Thus We have tested some of them through others, so that they should say, :Are these the ones among all of us whom Allah has chosen for His favour? Yes, does Allah not know well who are the grateful?

— Muhammad Taqi Usmani

Thus We have tested some of them through others, so that they should say, :Are these the ones among all of us whom Allah has chosen for His favour? Yes, does Allah not know well who are the grateful?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Thus We have tried some of them with others, that they might say: "Is it these (poor believers) that Allah has favored from amongst us" Does not Allah know best those who are grateful

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And even so do We try some of them by others, that they say: Are these they whom Allah favoureth among us? Is not Allah best Aware of the thanksgivers?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And thus We have tried some of them through others that the disbelievers might say, "Is it these whom Allah has favored among us?" Is not Allah most knowing of those who are grateful?

— Saheeh International

We test some of them by the conditions of the others so that the rich and proud ones (seeing your poor and humble followers) would say, "Are these the ones from among all of us whom God has chosen to favor?" Does not God know those who give thanks (much better than others do).

— Muhammad Sarwar

And thus do We try some of them by others so that they say: Are these they upon whom Allah has conferred benefit from among us? Does not Allah best know the grateful?

— Muhammad Habib Shakir

And Thus We have tried some of them by means of others, that they might say: are those they whom God hath favoured amongst us? Is not Allah the Best Knower of the thankful?

— Abdul Majid Daryabadi

Thus did We try some of them by comparison with others, that they should say: "Is it these then that Allah hath favoured from amongst us?" Doth not Allah know best those who are grateful?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–54

مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 36 یعنی غریبوں اور مفلسوں اور ایسے لوگوں کو جو سوسائیٹی میں ادنیٰ حیثیت رکھتے ہیں، سب سے پہلے ایمان کی توفیق دے کر ہم نے دولت اور عزت کا گھمنڈ رکھنے والے لوگوں کو آزمائش میں ڈال دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–53

خلاصہ تفسیر اور ان لوگوں کو (اپنی مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام بدوام مناسب) اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، جس سے صرف اللہ کی رضا ہی کا مقصد رکھتے ہیں (اور کوئی غرض جاہ ومال کی نہیں، یعنی ان کی عبادت میں مداومت بھی ہے اور اخلاص بھی، اور اخلاص اگرچہ امر باطنی ہے مگر آثار و علامات سے پہچانا بھی جاسکتا ہے، اور جب تک عدم اخلاص کی کوئی دلیل نہیں، اخلاص ہی کا گمان رکھنا چاہئے) اور ان (کے باطن) کا حساب (اور تفتیش) ذرا بھی آپ ﷺ کے متعلق نہیں اور (یہ ان کے باطن کی تفتیش کا آپ سے متعلق نہیں کہ آپ ﷺ ان کو نکال دیں، (یعنی اگر ان کے باطنی اخلاص کی تفتیش آپ ﷺ کے ذمہ ہوتی تو اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

لِّيَقُوْلُوْٓا میں حرف ‘ ل ’ لام عاقبت ہے جو علت کو نہیں بلکہ نتیجہ کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دنیا میں امارت و غربت دونوں امتحان کے لیے ہیں۔ : یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک سنت بیان فرمائی ہے کہ ہم نے دنیا میں کسی کو دولت جو دی ہے تو اس بنا پر نہیں دی ہے کہ وہ اسی کا حقدار تھا۔ اسی طرح کسی کو غربت دی ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ اسی کا سزا وار تھا بلکہ ایک کو دولت اور دوسرے کو غربت دے کر دونوں کا امتحان کیا ہے۔ وہ جن کو مال و جاہ دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اس کے شکر گزار، متواضع اور فرمانبردار بندے بنتے ہیں یا مغرور و متکبر ہو کر اکڑنے والے، اترانے والے،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 11 ابتدا میں اکثر غریب، غلام قسم کے لوگ ہی مسلمان ہوئے تھے۔ اس لئے یہی چیز رؤسائے کفار کی آزمائش کا ذریعہ بن گئی اور وہ ان غریبوں کا مذاق بھی اڑاتے اور جن پر ان کا بس چلتا انھیں تعزیب و اذیت سے بھی دوچار کرتے اور کہتے کہ کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعال نے احسان فرمایا ؟ مقصد ان کا یہ تھا کہ ایمان اور اسلام پر واقع اللہ کا احسان ہوتا تو سب سے پہلے ہم پر ہوتا جس طرح دوسرے مقام پر فرمایا (' لَوْ كَانَ خَيْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَيْهِ) 46:11 اگر یہ بہتر چیز ہوتی تو اس کے قبول کرنے میں یہ ہم سے سبقت نہ کرتے ' یعنی ان غربا کے مقابلے میں ہم پہلے مسلمان ہوتے۔ 53۔ 2 یعنی اللہ تعالیٰ ظاہری چمک دمک…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 53–56

20: مطلب یہ ہے کہ غریب مسلمان اس حیثیت سے ان امیر کافروں کے لئے ایک آزمائش کا سبب بن گئے ہیں کہ آیا یہ لوگ اصل اہمیت حق بات کو دیتے ہیں یا صرف اس وجہ سے حق کا انکار کردیتے ہیں کہ اس کے ماننے والے غریب لوگ ہیں۔ 21: ہ کافروں کا فقرہ ہے جو وہ غریب مسلمانوں کے بارے میں طنزیہ انداز میں کہتے تھے، یعنی (معاذاللہ) ساری دنیا میں سے یہی کم حیثیت لوگ اللہ تعالیٰ کو ملے تھے جن پر وہ احسان کرکے انہیں جنت کا مستحق قرار دے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” أَلَیْْسَ اللّہُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاکِرِیْنَ (53) ” ہاں ! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو ان سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟ “ اس تریدد میں بہت کچھ ہدایات اور اشارات دیئے گئے ، پہلی ہدایت یہ دی گئی کہ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم ان لوگوں پر کرتا ہے جن کے بارے میں اللہ کے علم میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ شکر نعمت بجا لائیں گے ، اگرچہ کوئی بندہ اللہ کے انعام کا حق ادا نہیں کرسکتا لیکن بندہ شکر نعمت کے میدان میں جو حقیر سی کوشش بھی کرے اللہ اسے قبول کرتا ہے اور اس حقیر سے شکر پر اسے وہ انعام دیتا ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے ۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا کہ نعمت ایمان کا تعلق ان حقیر اقدار سے نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی دولتمندوں کو غریبوں سے آزمایا ہے کہ ان کو ذلیل دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ یہ کیا لائق ہیں اللہ ان کے دل دیکھتا ہے کہ اللہ کا حق مانتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 53–54

آیت 53 وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ یہ اللہ کی آزمائش کا ایک طریقہ ہے۔ مثلاً ایک شخص مفلس اور نادار ہے ‘ اگر وہ کسی دولت مند اور صاحب منصب و حیثیت شخص کو حق کی دعوت دیتا ہے تو وہ اس پر حقارت بھری نظر ڈال کر مسکرائے گا کہ اس کو دیکھو اور اس کی اوقات کو دیکھو ‘ یہ سمجھانے چلا ہے مجھ کو ! حالانکہ اصولی طور پر اس صاحب حیثیت شخص کو غور کرنا چاہیے کہ جو بات اس سے کہی جا رہی ہے وہ صحیح ہے یا غلط ‘ نہ کہ بات کہنے والے کے مرتبہ و منصب کو دیکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس طرح ہم لوگوں کی آزمائش کرتے ہیں۔ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَاط…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

56 قریشی سرداروں کی ناتواں صحابہ پر طعنہ زنی :۔ یعنی اقرع اور عیینہ کو آزمائش میں ڈال دیا ہے جو اپنی شرافت اور مالداری پر مغرور ہیں اور غریب بےکس اور سچے مسلمانوں کو اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا بھی انہیں گوارا نہیں۔ حالانکہ یہ لوگ انتہائی خلوص کے ساتھ اللہ کی رضا کے طالب تھے۔ پھر یہی اقرع اور عیینہ اور دوسرے مغرور سرداران قریش زبانی بھی کہا کرتے تھے کہ اس شخص ( محمد ﷺ کو ساتھی بھی کیسے ملے ہیں۔ کیا ہم لوگوں میں سے اللہ کو یہی لوگ ایسے ملے تھے جنہیں برگزیدہ کیا جاسکتا تھا نیز ان کا مذاق اڑاتے اور ان پر پھبتیاں کستے تھے۔ اور اگر کسی کی کسی سابقہ اخلاقی کمزوری کا علم ہوتا تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

80 ۔ شروع میں اسلام کے ماننے والوں میں ضعفاء وغرباء کثرت سے تھے۔ شرکش و شریر الطبع قریش ان بیچاروں کو دیکھ دیکھ کر طنز وتعریض سے کہتے تھے کہ ” اجی ان لوگوں کی بدحالی دیکھو “۔ یہ تو اپنے دین کو اللہ کی نعمت بتاتے ہیں تو کیا یہی بدحالی اللہ کی نعمت ہے ؟ “ (آیت) ” وکذلک “۔ یعنی امارت و افلاس کے درمیان فرق قائم کرکے۔ (آیت) ” فتنا بعضھم ببعض “۔ یعنی خوشحالی کافروں کو بدحالی مومنوں کے ذریعہ سے۔ المفتون بالغنی والفقراوبالشرف والوضاعۃ والقوۃ والضعف (بحر) (آیت) ” لیقولوا “۔ میں ل، عاقبت کا ہے یعنی امارت و افلاس کی اس طبقاتی تقسیم سے ایک مقصود تکوینی امتحان بھی ہے۔ یہ کہنے والے امراء ورؤسا تھے۔ اور جن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–55

آیت نمبر 51 تا 55 ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وکذلک فتنا بعضہم ببعض اور اسی طور پر ہم نے ایک کو دوسرے کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈال رکھا ہے کذلک میں کاف اسی طرح زائد ہے جس طرح لیس کمثلہ شی میں۔ ذلک سے اشارہ سرداران قریش کی گمراہی کی جانب ہے اور فتنا کا مفعول مطلق ہے۔ بعضہم سے مراد ہیں کفار قریش اور ببعض سے مراد ہیں فقراء اہل اسلام جن کی موجودگی اور حاضر باشی سرداران قریش کے اسلام نہ لانے کا سبب بنی۔ ببعض اصل میں ببعضہم تھا (یعنی تنوین مضاف الیہ کے قائم مقام ہے) علامہ تفتازانی نے لکھا ہے کہ اس جگہ کَذَالِکَ فَتَنَّا (اور اسی طرح دوسرے مقامات پر لفظ کذٰلک) اگرچہ تشبیہی ہے لیکن تشبیہ مراد نہیں یا یوں کہا جائے کہ آیت کا معنی اس طرح ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور اسی طریقہ سے ہم نے عرب کو غیر عرب کے ساتھ اور شریف کو غیر شریف کے ساتھ سابقہ ڈال کر آزمایش میں ڈال رکھا ہے یہ آیت کریمہ عینیہ بن حصن فزاری، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ، ابی جہل، سہل بن عمر، وغیرہ رؤسا قریش کے بارے میں نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ۔۔ : جیسا کہ معلوم ہے ابتدا میں ایمان لانے والوں کی اکثریت کمزور مردوں، عورتوں، لونڈیوں اور غلاموں کی تھی، دولت مند بہت کم تھے اور یہی چیز کافر سرداروں کی آزمائش کا ذریعہ بن گئی۔ وہ ان غریبوں کا مذاق بھی اڑاتے اور جن پر ان کا بس چلتا انھیں زیادہ سے زیادہ اذیت بھی پہنچاتے اور کہتے کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان فرمایا ہے ؟ ! مقصد ان کا یہ تھا کہ ایمان اور اسلام اگر واقعی اللہ کا احسان ہوتا تو سب سے پہلے ہم پر ہوتا (دیکھیے احقاف : 11) کیونکہ دنیوی زندگی میں اس نے ہم کو برتری دی ہے۔ شاہ عبد القادر ؓ لکھتے ہیں : ”یعنی دولت مندوں کو غریبوں سے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 53 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : و کذلک فتنا بعضھم ببعض یعنی جس طرح ہم نے آپ سے پہلے لوگوں کو آزمائش میں ڈالا اسی طرح ان کو آزمائش میں ڈالا۔ الغتنتہ کا معنی آزمانا ہے یعنی ہم نے ان کے ساتھ آزمانے والوں کے معاملہ کی طرح معاملہ کیا۔ لیقولوا لام کی وجیہ سے نصب دی گئی ہے یعنی اشراف واغنیاء کہیں۔ اھولا یعنی ضعفاء اور فقرائ۔ آیت : من اللہ علیھم من بیننا نھ اس نے کہا : یہ مشکل سے ہے، کیونکہ کہا جاتا ہے کیسے آزمائے گئے تاکہ وہ یہ آیت کہیں، کیونکہ یہ اگر انکار ہو تو ان کی طرف سے کفر ہے۔ اس کے دو جواب ہیں : (1) معنی یہ ہے کہ اغنیاء کو فقراء کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا کہ ان کا مرتبہ نبی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَكَذٰلِكَ [ اور اس طرح ] فَتَنَّا [ ہم نے آزمایا ] بَعْضَهُمْ [ ان کے بعض کو ] بِبَعْضٍ [ بعض سے ] لِّيَقُوْلُوْٓا [ تو وہ لوگ کہتے ہیں ] اَ [ کیا ] هٰٓؤُلَاۗءِ [ یہ لوگ ہیں ] مَنَّ [ حسان کیا ] اللّٰهُ [ اللہ نے ] عَلَيْهِمْ [ جن پر ] مِّنْۢ بَيْنِنَا ۭ [ ہمارے درمیان سے ] اَ [ (تو) کیا ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] اللّٰهُ [ اللہ ] بِاَعْلَمَ [ سب سے زیادہ جاننے والا ] بِالشّٰكِرِيْنَ [ شکر کرنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

غنی اور فقیر کا فرق آزمائش کے لیے ہے پھر فرمایا (وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھآؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ مِّنْ بَیْنِنَا) ” اور ہم نے اسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے بعض کو بعض کے ذریعہ تاکہ وہ کہیں کیا یہ لوگ ہیں جن پر ہمیں چھوڑ کر اللہ نے احسان فرمایا۔ “ اس میں یہ بتایا ہے کہ اس دنیا میں غنی اور فقیر کا جو فرق رکھا گیا ہے اور دوسری حیثیتوں سے جو امتیاز ہے اس میں حکمت ہے اور وہ حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ذریعے آزمائش میں ڈالا ہے جو غنی ہیں وہ فقیر کو حقیر سمجھتے ہیں۔ اسی طرح دوسری طرح کی جو چھوٹائی بڑائی پائی جاتی ہے اس کی وجہ سے بڑے بننے والے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–55

حکم اعزاز واکرام درویشان اسلام بتقدیم سلام وتبشیر ایشاں برحمت خداوند نام۔ قال اللہ تعالیٰ ولاتطرد الذین یدعون ربھم۔۔۔ الی۔۔۔ المجرمین۔ ربط) ۔ اوپر سے سلسلہ کلام مشرکین کے بارے میں تھا یہ آیت قریش کے بعض مغرور اور متکبر سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ایک مرتبہ سرداران قریش نے نبی پاک ﷺ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کی مجلس میں ہمیشہ فقیر اور غلام ہوتے ہیں جیسے بلال اور صہیب اور عمار اور مقداد اور ابن مسعود ؓ اجمعین، ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کے پاس آکر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں لیکن آپ کے پاس رذیل لوگ بیٹھتے ہیں اور ہم اشراف قریش ہیں ہمارا ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہمارے لیے عیب اور عار ہے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

61 اب تک دعویٰ توحید پر سات عقلی دلیلیں بیان ہوئیں ابآگے منکرین کے انکار کی وجوہ کا سلسلہ شروع ہورہا ہے کہ ایسے واضح عقلی دلائل کے باجود منکرین توحید کا کیوں انکار کرتے ہیں۔ یہ انکار کی پہلی وجہ ہے اور کاف اس میں تشبیہ کے لیے نہیں بلکہ بیان کمال کے لیے ہے۔ لِیَقُوْلُوْا میں لام عاقبت کیلئے ہے۔ اس وجہ کا حاصل یہ ہے کہ مشرکین جو دولت مند تھے وہ مسلمانوں کو حقیر سمجھتے تھے اور غریب لوگوں کے اسلام کی طرف سبقت کرنے کی وجہ سے ان سے حسد کرتے تھے۔ الکفار الاغنیاء کانوا یحسدون فقراء الصحابۃ ؓ عنھم علی کو نھم سابقین فی الاسلام متسارعین الی قبولہ (روح ج، ص 162) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–55

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کو بیان فرمایا اور اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کرنے والے لوگوں کا رد کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ہر نشانی ظاہر کرسکتا ہے مگر ایسا بیہودہ مطالبہ کرنے والے ہی بےسمجھ ہیں۔ جو لوگ مطلوبہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انتقام بھی بڑا سخت ہے وہ نافرمان قوم کو فوراً سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی تو مبشر اور منذر ہوتے ہیں ‘ معجزات ظاہر کرنا ان کے فرائض میں داخل نہیں ہوتا۔ پھر اللہ نے سید المرسلین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں ‘ نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَاۗءِ مَنَّ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنْۢ بَيْنِنَا۝ 0ۭ اَلَيْسَ اللہُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِيْنَ۝ 53 فتن أصل الفَتْنِ : إدخال الذّهب النار لتظهر جو دته من رداء ته، واستعمل في إدخال الإنسان النار . قال تعالی: يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] (ت ن ) الفتن دراصل فتن کے معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھرا کھوٹا ہونا ہوجائے اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ يَوْمَ هُمْ عَلَى النَّارِ يُفْتَنُونَ [ الذاریات/ 13] جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا ۔ بعض بَعْضُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 53–55

2 ؎ یعنی ہم نے دنیا میں امیر و غریب پیدا کئے اس امتحان کے لئے کہ امیر نیک غریبوں کو ان کی افلاس کی حالت میں دکھ کر ان پر تکبر و نخوت کرتے ہیں یا اپنی نعمت کا شکریہ۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَھٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللہ ُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَا ط اَلَیْسَ اللہ ُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰکِرِیْنَ ۔ (الانعام : 53) (اور اسی طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے کہ وہ کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل کے لیے چنا کیا اللہ شکر گزاروں سے اچھی طرح واقف نہیں) اللہ کی رضا کا معیار سیم و زر اور دنیا کا ٹھاٹھ باٹھ نہیں بلکہ اس کی شکر گزاری ہے اس آیت کریمہ میں یہ بیان کیا جا رہا ہے کہ ان کے ان تمام مطالبات کا سبب اور مسلمانوں کو بنظر حقارت دیکھنے کی وجہ ان کی یہ گمراہی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 53–55

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیت میں نبی اکرم ﷺ کو ہدایت فرمائی گئی تھی کہ غریب صحابہ ؓ کو اپنے سے دور نہ کیجیے اب اللہ تعالیٰ کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کو قدر افزائی اور فضل و کرم کا پیغام سنایا گیا ہے۔ کفار کی طرف سے غریب صحابہ ؓ کی حوصلہ شکنی اور طعنہ زنی کے بدلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اور قدر دانی، فضل و کرم کا پیغام اور گناہوں کی بخشش کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔ کفار نے غریب صحابہ ؓ کو حقیر سمجھ کر ان کی دنیاوی پسماندگی کا مذاق اڑایا تھا جس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ پر چار کرم فرمائے۔ 1۔ صحابہ کے ایمان اور اخلاص کی قدر افزائی فرمائی۔ 2۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

کثرتِ دنیا علامت خیر نہیں بلکہ آزمائش ہے : آیت 53 : وَکَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ اور اس آزمائش کی طرح ہم نے اغنیاء کو فقراء کے ذریعے آز مایا۔ لِّیَقُوْلُوْا یعنی مالدار۔ اَہٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْم بَیْنِنَا یعنی ان پر اللہ تعالیٰ نے ایمان کا انعام کیا۔ حالانکہ ہم ان سے بڑھ کر ایمان والے ہیں۔ اور وہ فقراء ہیں۔ اس میں اس بات سے انکار کیا گیا کہ ایسے لوگ حق پر ہونگے۔ اور ہم میں سے صرف ان پر بھلائی کا احسان کردیا جائے : لَـوْکَانَ خَیْرًا مَّا سَبَقُوْنَآ اِلَــیْہِ 1 (الاحقاف : 11) اگر اس دین میں کوئی بھلائی ہوتی تو پھر یہ لوگ ہم سے پہلے قبول نہ کرتے۔ اَلَیْسَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (53) (وکذلک فتنا بعضھم ببعض) مراد یہ ہے کہ مالداروں کو فقراء کے ذریعے اور شریفوں کو کمینوں کے ذریعے آزمایا ہے اور یہ آزمائش اس طرح ہے کہ اگر کوئی شریف کسی کمینے کو ایمان میں سبقت کرتے ہوئے دیکھ لے تو اس وجہ سے وہ اسلام لانے سے رک جاتا ہے۔ یہ اس کی آزمائش ہے۔ (لیقولوا اھولاء من اللہ علیھم من بیننا) تو اللہ تعالیٰ نے جواب دیا (الیس اللہ باعلم بالشکرین) یہ استفہام ہے لیکن معنی میں خبر ہے۔ یعنی اللہ خوب جانتے ہیں کہ کس کو اسلام کی ہدایت دیں تو وہ شکر کرے گا۔ جنت میں داخلے کے وقت مالدار لوگوں سے سبقت کرنے والے کون لوگ ہیں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں غریب مہاجرین کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–54

(52 ۔ 54) ۔ صحیح مسلم صحیح ابن حبان مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل ان قریش کے شریف لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بلال ؓ عمار بن یاسر ؓ سالم ابی حذیفہ ؓ کا پروردہ یہ چھوٹے لوگ آپ کے پاس ہمارے آنے کے وقت آپ کی مجلس میں نہ ہوا کریں تو مناسب ہے کیونکہ ہم ایسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ شریک مجلس ہونے کو اپنی کسر شان جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت امارت سے زیادہ خلوص نیت مقبول ہے اور یہ غریب لوگ خلوص نیت سے آنحضرت کے پاس ہر وقت حاضر رہتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت 51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ (لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 52–53

84 اصل چیز ایمان و اخلاص ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی ہے۔ اس لیے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا۔ پس آپ ایسے بندگان صدق و صفا کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرنا جیسا کہ پیشوایان کفر و باطل کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ان فقراء و مساکین کے ساتھ مل بیٹھنا ہماری توہین ہے، لہذا ہمارے آنے پر ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیا کرو۔ تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ کر وہ پیغام سن سکیں جو آپ ہمیں سنانا چاہتے ہیں۔ سو آپ ﷺ اے پیغمبر ! کہیں اپنی بےمثل رحمت و شفقت کی بنا پر ان لوگوں کی ہمدردی میں ان کی یہ بات ماننے کے لئے آمادہ نہ ہوجانا۔ اور آپ ایسے ہرگز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–55

مخلص لوگوں سے پیار کرنا، مسلمانوں کی ہمت بڑھائو تشریح : ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اسلام میں عظمت اور عزت کا معیار امیری اور غریبی ہرگز نہیں بلکہ تقویٰ ، پرہیزگاری اور شکر و عبادتِ الٰہی ہے۔ اور یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہر مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیمات کو سب سے پہلے غریب لوگ ہی اپناتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی غریب لوگ سب سے پہلے اور زیادہ تعداد میں ایمان لائے لہٰذا وہ اکثر آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے تو عر ب کے امیر لوگوں نے حضرت ابو طالب کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ اگر غریب لوگ نبی ﷺ کے پاس نہ بیٹھے رہیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس جا کر آپ ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–55

رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔ اسرار و معارف : بحث سے اعراض : آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 یعنی سرداران قریش جو یہ مطالبہ کر رہے ہیں۔10 یعنی کیا بلال ؓ ۔ صہیب ؓ خباب ؓ سالم ؓ عبد اللہ ؓ بن مسعود ؓ سعد ؓ بن ابی وقاص ؓ اور دو سے غریب اور بےکس مسلمان ہی اللہ تعالیٰ یو یہ ایسے نظر آئے ہیں کہ اس نے انہیں ہماری قوم میں سے چن لیا ہے۔11 یعنی دولتمندوں کو غریبوں سے آزمایا ہے کہ ان کو ذلیل دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کہ کیا یہ لا ئق ہیں اللہ کے فضل کے اور اللہ دل دیکھتا ہے کہ اللہ کا حق مانتے ہیں۔ ( موضح) در اصل اللہ تعالیٰ کے ہاں قدرو منزلت ہے تو انہی لوگوں کی ہے جو اخلاص سے اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں چاہے وہ کتنے ہی غریب اور محتاج ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک خالی دینوی حسب و نسب اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 53–54

(6:53) فتنا۔ ماضی جمع متکلم ۔ ہم نے آزمائش میں ڈالا۔ اس کے علاوہ مصیبت سے بچانے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یہاں ماضی بمعنی مضارع بھی ہوسکتا ہے ہم آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ من اللہ علیہم۔ خدا نے ان پر بڑا احسان کیا من یمن (نصر) من مصدر احسان کرنا۔ منان احسان کرنے والا۔ المنان۔ خدا تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ (1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–54

شان نزول : کفار کی ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے گرد غریب صحابہ کرام کی ایک جماعت حاضر ہے، جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آویں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور ﷺ نے اس کو منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاصل معنی یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں، انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔ آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان تنگدست ایمانداروں کے دل چھوٹے چھوٹے ہیں، ان کی تنگدستی کے سبب سے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اسلام اور معیار فضیلت : (ف 1) دولتمند اور ذی وجاہت طبقہ ہمیشہ سے امتیازات خصوصی کا طالب رہا ہے ۔ اسلام کو اول اول جب مفلس اور بےمایہ لوگوں نے قبول کیا تو یہ ناک بھوں چڑھانے لگے اور محض اس بنا پر اسلام کی برکات سے محروم رہتے کہ اس کے ماننے والے غریب کیوں ہیں ، وہ یہ بھی چاہتے تھے ، حضور ان لوگوں کو جن کے دل دولت ایمان سے مالا مال ہیں ، اپنے قریب نہ آنے دیں ، اور ہماری آؤبھگت کریں ۔ اس آیت میں دراصل انہیں لوگوں کی تردید مقصود ہے فرمایا یہ مخلص ہیں صبح ومشا وشام اللہ کو یاد کرتے ہیں ، ان کے قلوب میں ایمان کی روشنی ہے ، یہ گو دنیوی وجاہت سے محروم ہیں مگر ان کے دل دارین کی برکتوں سے معبور…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-53 اور جس طرح ہم نے مئومنین کا ملین کو تنگدستی میں اور منکرین کو فراخی میں رکھا ہے اسی طرح ہم نے ان کے بعض کو بعض کے لئے ذریعہ آزمائش بنادیا ہے اور بعض کو بعض کے ذریعہ آزمائش میں ڈال رکھا ہے یعنی مسلمانوں کو کفار کی وجہ سے اور کفار کو مئومنین کی وجہ سے ایک آزمائش اور ابتلا میں ڈال ہے تاکہ یہ منکر سرمایہ داران مسلمان فقراء کے متعلق یوں کہیں کیا یہی کم مایہ اور بےحقیقت لوگ وہ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ ہم سب میں سے اپنے فضل و احسان کے لئے چن لیا یعنی کیا ہم سب میں یہی فقراء اس قابل تھے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا اور اپنے فضل سے نوازا اور ہم سب کو نظر انداز کردیا کیا یہ امر واقعہ نہیں ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–54

ف 3۔ حشر کے متعلق کل تین طرح کے آدمی ہیں ایک وہ جو جزا اس کے ثبوت کے معتقد ہیں دوسرے وہ جو متردد ہیں آیت میں ان ہی دونوں جماعتوں کا ذکر ہے تیسرے وہ جو جزما اس کے منکر ہیں اور انذار گوان کو بھی عام ہے جیسا اور آیات میں مصرح ہے لیکن یہاں مطلق انذار مراد نہیں بلکہ وہ انذار جس میں خاص اہتمام ہو سو یہ وہاں ہی ہوگا جہاں نفع متیقن یا متوقع ہو جیسا قسم اول دوم کا حال ہے بخلاف اس قسم سوم کے کہ بوجہ عدم توقع نفع ان کو انذار محض اتمام حجت کے لیے ہوگا توجہ کی بوجہ عنادان میں قابلیت ہی نہیں اس لیے یہاں قسمین اولین کی تخصیص کی گئی ہے جیسا بعض آیات میں بنابریقین نفع کے صرف قسم اول ہی کی تخصیص بھی ہے۔ 4۔ غیر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ایسا کرو گے یعنی ان غرباء کو دور کرو گے تو زیادتی کرنے والوں میں شمار ہونے لگو گے : 82: ایسا کرنے کا کبھی آپ ﷺ کا ارادہ ہوا نہ ہی اس کا کوئی امکان تھا لیکن جن لوگوں نے انسانیت کا معیار دولت و مال کو سمجھا تھا ان کو جواب دینا بھی تو بہر حال ضروری تھا اور وہی ان کو دیا جارہا ہے۔ فرمایا کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان غرباء کو دورکر کے ان رؤسا کو کیوں قریب لائیں گے ؟ اس کی آخر ضرورت ؟ ان لوگوں کا حساب یعنی رؤسا مکہ کا حساب آپ کے ذمہ نہیں ہے کہ آپ ﷺ ضرور انکو ان کے مطالبہ کے مطابق الگ مجلسوں میں آنے کی دعوت جاری کردیں تاکہ وہ ضرور ہدایت یافتہ ہوں اور اس طرح وہ ہدایت یافتہ ہوں گے تب جا کر آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

Commentary In Islam there is No Distinction between Rich and Poor, High or Low As for people who failed to feel human despite being human, even touched the outer limit of rating human beings as one of the smartest animals of the world, who did not hesitate in harnessing other ` animals' in their service, what would they know about the purpose of creation other than taking the fulfillment of their immediate physical compulsions and needs, and acting in accordance with animal instincts as the purpose of their lives - very much like an animal would do. When this be the only purpose of life,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

36. By enabling the poor and the indigent, the people who have a low station in society to precede others in believing, God has put those who wax proud of wealth and honour to a severe test.

Read the full tafseer →