Al-An'aam 6:52

Al-An'aam · from ayah 52

6:52

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ ؕ— مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۟وَلَا تَطۡرُدِ الَّذِيۡنَ يَدۡعُوۡنَ رَبَّهُمۡ بِالۡغَدٰوةِ وَالۡعَشِىِّ يُرِيۡدُوۡنَ وَجۡهَهٗ‌ ؕ مَا عَلَيۡكَ مِنۡ حِسَابِهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ وَّمَا مِنۡ حِسَابِكَ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ شَىۡءٍ فَتَطۡرُدَهُمۡ فَتَكُوۡنَ مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And do not send away those who call upon their Lord morning and afternoon, seeking His countenance. Not upon you is anything of their account and not upon them is anything of your account. So were you to send them away, you would [then] be of the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:52

اور جو لوگ اپنے رب کو رات دن پکارتے رہتے ہیں او ر اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ پھینکو اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ صبح وشام اپنی پروردگار سے دعا کرتے ہیں (اور) اس کی ذات کے طالب ہیں ان کو (اپنے پاس سے) مت نکالو۔ ان کے حساب (اعمال) کی جوابدہی تم پر کچھ نہیں اور تمہارے حساب کی جوابدہی ان پر کچھ نہیں (پس ایسا نہ کرنا) اگر ان کو نکالوگے تو ظالموں میں ہوجاؤ گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ان لوگوں کو نہ نکالیے جو صبح وشام اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، خاص اسی کی رضامندی کا قصد رکھتے ہیں۔ ان کا حساب ذرا بھی آپ کے متعلق نہیں اور آپ کا حساب ذرا بھی ان کے متعلق نہیں کہ آپ ان کو نکال دیں۔ ورنہ آپ ﻇلم کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نہ نکالنا جو صبح و شام اپنے پروردگار کو اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے پکارتے رہتے ہیں۔ ان کے حساب میں جو اعمال ہیں ان میں سے کسی کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، اور تمہارے حساب میں جو اعمال ہیں ان میں سے کسی کی ذمہ داری ان پر نہیں ہے جس کی وجہ سے تم انہیں نکال باہر کرو، اور ظالموں میں شامل ہوجاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور دور نہ کرو انہیں جو اپنے رب کو پکارتے ہیں صبح اور شام اس کی رضا چاہتے تم پر ان کے حساب سے کچھ نہیں اور ان پر تمہارے حساب سے کچھ نہیں پھر انہیں تم دور کرو تو یہ کام انصاف سے بعید ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ ان (شکستہ دل اور خستہ حال) لوگوں کو (اپنی صحبت و قربت سے) دور نہ کیجئے جو صبح و شام اپنے رب کو صرف اس کی رضا چاہتے ہوئے پکارتے رہتے ہیں، ان کے (عمل و جزا کے) حساب میں سے آپ پر کوئی چیز (واجب) نہیں اور نہ آپ کے حساب میں سے کوئی چیز ان پر (واجب) ہے (اگر) پھر بھی آپ انہیں (اپنے لطف و کرم سے) دور کردیں تو آپ حق تلفی کرنے والوں میں سے ہوجائیں گے (جوآپ کے شایانِ شان نہیں)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ان لوگوں کو دور نہ ہٹا جو اپنے رب کو پہلے اور پچھلے پہر پکارتے ہیں، اس کا چہرہ چاہتے ہیں، تجھ پر ان کے حساب میں سے کچھ نہیں اور نہ تیرے حساب میں سے ان پر کچھ ہے کہ تو انھیں دور ہٹا دے، پس تو ظالموں میں سے ہوجائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ اللہ کی رضا چاہتے ہیں اور صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں انہیں اپنے ہاں سے دور نہ کیجئے۔ ان کے حساب سے آپ کے ذمہ کچھ نہیں اور نہ آپ کے حساب سے کچھ ان کے ذمہ ہے۔ لہذا اگر آپ انہیں دور ہٹائیں گے تو بےانصافوں میں شمار ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم ان لوگوں کو اپنے دور نہ کیجیو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی خوشنودی چاہتے ہوئے۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ تم پر نہیں اور نہ تمہاری ذمہ داری کا کوئی حصہ ان پر ہے کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے ظالموں میں سے بن جاؤ۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور دور نہیں کرنا اپنی مجلس سے ان (بندگان صدق و صفا) کو جو صبح و شام پکارتے ہیں اپنے رب کو اس کی رضا چاہتے ہوئے، آپ کے ذمے ان کا کوئی حساب نہیں، اور نہ ہی آپ کا کوئی حساب ان کے ذمے پھر آپ ان کو دور کر کے ظالموں میں سے ہوجائیں گے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ان لوگوں کو نہ نکالئے جو اپنے پروردگار کو صبح وشام پکارتے ہیں۔ خاص اسی کی رضا کا قصد کرتے ہوئے آپ کے ذمہ ان کا حساب ذرا بھی نہیں اور نہ ان کے ذمہ آپ کا ذرا بھی حساب ہے جس سے آپ انہیں نکالنے لگیں اور آپ کا شمار بےانصافوں میں ہوجائے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور مت دھتکاریے آپ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح شام (اور) اس کی رضا کے طالب ہیں آپ کے ذمے ان کے حساب میں سے کچھ نہیں ہے اور نہ آپ کے حساب میں سے ان کے ذمے کچھ ہے تو اگر (بالفرض) آپ انہیں اپنے سے دور کریں گے تو آپ ظالموں میں سے ہوجائیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے رہتے ہیں اور اس کی رضا کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دور نہ رکھو، ان کے حساب میں کسی چیز کا بوجھ آپ پر نہیں اور آپ کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں اس پر بھی اگر آپ انہیں دور پھینکو گے تو بےانصافوں میں شمار ہوگے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And do not drive away those who invoke their Lord in the morning and the evening, seeking His pleasure all the time. You are by no means accountable for them just as they are by no means accountable for you. If you still drive them away, you will become among the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Do not expel those who call out to their Lord morning and evening seeking His pleasure. You are not responsible for anything in their account, and they are not responsible for anything in your account, that you should expel them, and thus become one of the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani

Do not expel those who call out to their Lord morning and evening seeking His pleasure. You are not responsible for anything in their account, and they are not responsible for anything in your account, that you should expel them, and thus become one of the unjust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And turn not away those who invoke their Lord, morning and evening seeking His Face. You are accountable for them in nothing, and they are accountable for you in nothing, that you may turn them away, and thus become of the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Repel not those who call upon their Lord at morn and evening, seeking His Countenance. Thou art not accountable for them in aught, nor are they accountable for thee in aught, that thou shouldst repel them and be of the wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And do not send away those who call upon their Lord morning and afternoon, seeking His countenance. Not upon you is anything of their account and not upon them is anything of your account. So were you to send them away, you would [then] be of the wrongdoers.

— Saheeh International

Do not disregard those who pray to their Lord in the mornings and evenings, seeking their Lord's pleasure. You will not be held responsible for them nor will they be held responsible for you. Do not disregard them lest you become unjust.

— Muhammad Sarwar

And do not drive away those who call upon their Lord in the morning and the evening, they desire only His favor; neither are you answerable for any reckoning of theirs, nor are they answerable for any reckoning of yours, so that you should drive them away and thus be of the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

And drive not away those who call upon their Lord morning and evening, seeking His countenance. Not on thee is aught of their reckoning, nor on them aught of thine reckoning, so that thou mayest drive them away and thus become of the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Send not away those who call on their Lord morning and evening, seeking His face. In naught art thou accountable for them, and in naught are they accountable for thee, that thou shouldst turn them away, and thus be (one) of the unjust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:52

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–54

مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 34 قریش کے بڑے بڑے سرداروں اور کھاتے پیتے لوگوں کو نبی ﷺ پر منجملہ اور اعتراضات کے ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کے گرد و پیش ہماری قوم کے غلام، موالی اور ادنیٰ طبقہ کے لوگ جمع ہوگئے ہیں۔ وہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ اس شخص کو ساتھی بھی کیسے کیسے معزز لوگ ملے ہیں، بلال، عمّار، صُہَیْب اور خَبّاب۔ بس یہی لوگ اللہ کو ہمارے درمیان ایسے ملے جن کو برگزیدہ کیا جاسکتا تھا ! پھر وہ ان ایمان لانے والوں کی خستہ حالی کا مذاق اڑانے پر ہی اکتفا نہ کرتے تھے، بلکہ ان سے جس جس سے کبھی پہلے کوئی اخلاقی کمزوری ظاہر ہوئی تھی اس پر بھی حرف گیریاں کرتے تھے، اور کہتے تھے کہ فلاں جو کل تک یہ تھا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–53

خلاصہ تفسیر اور ان لوگوں کو (اپنی مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام (یعنی علی الدوام بدوام مناسب) اپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں، جس سے صرف اللہ کی رضا ہی کا مقصد رکھتے ہیں (اور کوئی غرض جاہ ومال کی نہیں، یعنی ان کی عبادت میں مداومت بھی ہے اور اخلاص بھی، اور اخلاص اگرچہ امر باطنی ہے مگر آثار و علامات سے پہچانا بھی جاسکتا ہے، اور جب تک عدم اخلاص کی کوئی دلیل نہیں، اخلاص ہی کا گمان رکھنا چاہئے) اور ان (کے باطن) کا حساب (اور تفتیش) ذرا بھی آپ ﷺ کے متعلق نہیں اور (یہ ان کے باطن کی تفتیش کا آپ سے متعلق نہیں کہ آپ ﷺ ان کو نکال دیں، (یعنی اگر ان کے باطنی اخلاص کی تفتیش آپ ﷺ کے ذمہ ہوتی تو اس کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سرداران قریش کے غرور پر ضرب : اوپر کی آیت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ پیغبر کو کن لوگوں کے ساتھ مشغول ہونا چاہیے اور کن لوگوں سے بےپروا ہوجانا چاہیے۔ اب یہ اس بات کی مزید وضاحت ہو رہی ہے کہ جو شامت زدہ لوگ اپنے غرور مال و جاہ میں مست ہیں تمہیں کوئی اہمیت نہیں دیتے کہ تم خزانوں کے مالک نہیں۔ تمہارے ساتھیوں کو اس وجہ سے حقیر سمجھتے ہیں کہ وہ بےنوا، غریب، مفلس اور عزت وجاہ سے محروم لوگ ہیں، ان کے پیچھے اپنا وقت ضائع نہ کرو اور ان کے ایمان کی فکر میں ان لوگوں کے حقوق میں غفلت نہ ہو جو اللہ کی آیات پر ایمان لائے اور صبح و شام اس کی عبادت وطاعت میں سرگرم ہیں۔ یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ قریش کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

52۔ 1 یعنی یہ بےسہارا اور غریب مسلمان، جو بڑے اخلاص سے رات دن اپنے رب کو پکارتے ہیں یعنی اس کی عبادت کرتے ہیں، آپ مشرکیں کے اس طعن یا مطالبہ سے اے محمد ﷺ تمہارے ارد گرد تو غربا و فقرا کا ہی ہجوم رہتا ہے ذرا انھیں ہٹاؤ تو ہم بھی تمہارے پاس بیٹھیں، ان غربا کو اپنے سے دور نہ کرنا، بالخصوص جب کہ آپ کا کوئی احسان ان کے متعلق نہیں اور اگر ایسا کریں گے تو یہ ظلم ہوگا جو آپ کی شایان شان نہیں۔ مقصد امت کو سمجھانا ہے کہ بےوسائل لوگوں کو حقیر سمجھنا یا ان کی صحبت سے گریز کرنا اور وابستگی نہ رکھنا، یہ نادانوں کا کام ہے۔ اہل ایمان کا نہیں۔ اہل ایمان تو اہل ایمان سے محبت رکھتے ہیں چاہے وہ غریب اور مسکین ہی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

19: قریش مکہ کے کچھ سرداروں نے یہ کہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کے ارد گرد غریب اور کم حیثیت قسم کے لوگ بکثرت رہتے ہیں، ان کے ساتھ آپ کی مجلس میں بیٹھنا ہماری توہین ہے، اگر آپ ان لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھادیں تو ہم آپ کی بات سننے کے لئے آسکتے ہیں اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” مَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْْہِم مِّن شَیْْء ٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَکُونَ مِنَ الظَّالِمِیْنَ (52) ” ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کی چیز کا بار ان پر نہیں ۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے ۔ وہ خود اپنا بوجھ اٹھائیں گے اور حساب دیں گے اور تم اپنا بوجھ اٹھاؤ گے اور حساب دو گے ۔ یہ کہ وہ غریب ہیں تو ان کی قسمت میں یہ اللہ نے لکھا ہے ۔ اس میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے ۔ اسی طرح اے پیغمبر خود تمہاری امارت یا فقر کے بارے میں ان سے بھی نہ پوچھا جائے گا ۔ ایمان اور کفر کے معاملے میں امارت اور غربت کا کوئی اعتبار نہیں ہے ۔ اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی رات دن اسکی عبادت میں حسن نیت اور اخلاص کے ساتھ مشغول رہتے ہیں۔ 2 یعنی جب ان کا ظاہر حال یہ بتلا رہا ہے کہ شب و روز خدا کی عبادت اور رضا جوئی میں مشغول رہتے ہیں تو اسی کے مناسب ان سے معاملہ کیجئے ان کا باطنی حال کیا ہے یا آخری انجام کیا ہوگا، اسکی تفتیش و محاسبہ پر معاملات موقوف نہیں ہوسکتے۔ یہ حساب نہ آپ کا ان کے ذمے ہے نہ انکا آپ کے۔ لہذا اگر بالفرض آپ دولتمندوں کی ہدایت کی طمع میں ان غریب مخلصین کو اپنے پاس سے ہٹانے لگیں تو یہ بات بےانصافی کی ہوگی۔ موضح القران میں ہے " کافروں میں بعض سرداروں نے حضرت ﷺ سے کہا کہ تمہاری بات سننے کو ہمارا دل چاہتا ہے لیکن تمہارے پاس بیٹھتے ہیں رذیل لوگ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 52 وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ ط۔ دراصل یہ اشارہ ہے اس معاملے کی طرف جو تقریباً تمام رسولوں کے ساتھ پیش آیا۔ واقعہ یہ ہے کہ عام طور پر رسولوں کی دعوت پر سب سے پہلے مفلس اور نادار لوگ ہی لبیّک کہتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کو نبی کی محفل میں دیکھ کر صاحب ثروت و حیثیت لوگ اس دعوت سے اس لیے بھی بدکتے تھے کہ اگر ہم ایمان لائیں گے تو ہمیں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑے گا۔ اس سلسلے میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کا قرآن میں خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے کہ آپ علیہ السلام کی قوم کے سردار کہتے تھے کہ اے نوح ہم تو آپ کے پاس آنا چاہتے ہیں ‘ آپ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

55 قریشی سرداروں کا ناتواں صحابہ کو اپنے ہاں سے اٹھانے کا مطالبہ :۔ بعض معززین قریش، جن میں سے اقرع اور عیینہ کا بالخصوص ذکر آیا ہے، آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ ہمارا آپ کی مجلس میں آنے کو جی تو چاہتا ہے مگر آپ کے گرد یہ کچھ حقیر قسم کے لوگ بیٹھے ہوتے ہیں۔ لہذا ہم جھجک محسوس کرتے ہیں۔ البتہ اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ کے پاس آنے کو تیار ہیں آپ چونکہ ان بڑے بڑے قریشیوں کے ایمان لانے پر بڑے حریص تھے لہذا دل میں کوئی ایسی ترکیب سوچ ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہوتا ہے : سیدنا سعد بن ابی وقاص ص فرماتے ہیں کہ ہم چھ آدمی آپ کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

78 ۔ یعنی دن رات اپنے فرائض میں لگے رہتے ہیں جانباز سپاہی کی طرح ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہتے ہیں۔ الغداوۃ والعشی سے صبح وشام کے متعین ہی اوقات مراد نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ ذکر ھذین القسمین تنبیھا علی کو نھم مواظبین علی الصلوات الخمس (کبیر) المراد بذکر الغداوۃ والعشی الدوام (کشاف) المراد بھما ھھنا الدوام (روح) (آیت) ” یدعون ربھم “۔ کے تحت میں عبادت الہی اور ہر قسم کے فرائض آگئے۔ المراد بالدعاء المحافظۃ علی الصلوۃ المکتوبۃ فی الجماعۃ قال ابن عباس و مجاھد والحسن (قرطبی) یواصلون دعاء ربھم ای عبادتہ ویواظبون علیھا (کشاف) (آیت) ” ولا تطرد “۔ یعنی اپنی مجلس سے نہ نکالیے۔ عرب جاہلیت خصوصا قریش کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–55

آیت نمبر 51 تا 55 ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تطرد الذین یدعون ربہم بالغدوۃ والعشی اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ان کو اپنے پاس سے) نہ نکالو۔ پکارنے سے مراد ہے عبادت اور ذکر کرنا۔ کریم کی عبادت اور یاد سے اس کے انعام کا فیضان مزید ہوتا ہے۔ بعض علماء کے نزدیک پکارنے سے مراد ہے دعا کرنا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا صبح و شام پکارنے سے مراد ہے فجر اور عصر کی نماز۔ ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی بھی نسبت کی گئی ہے کہ پانچوں نمازیں مراد ہیں کیونکہ کچھ غریب مسلمان رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اس پر کچھ بڑے لوگوں نے کہا جب ہم نماز میں شریک ہوں تو ان لوگوں کو آپ پیچھے کردیا کریں یہ ہمارے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھیں اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(52) عینیہ بن حصن فزاری نے حضور ﷺ سے کہا کہ ان غربا کو اپنے سے علیحدہ کیجیے تاکہ آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کی قوم کے شرفا آئیں اور آپ ﷺ کا کلام سنیں اور آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور اس نے حضرت عمر ؓ سے بھی کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے کہیں کہ ایک دن ہماری مجلس کے لیے مختص کرلیں اور ایک دن ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کو یہ چیز پسند نہیں آئی اور اس سے منع فرما دیا کہ سلمان فارسی ؓ اور ان کے دوسرے ساتھیوں کو جو پانچوں وقت محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے لیے نمازیں پڑھتے ہیں، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے علیحدہ نہ کیجیے اور ان کے باطن کا حساب آپ کے سپرد نہیں، لہٰذا ان کو نکال کر آپ ﷺ نامناسب کام کرنے والوں میں سے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ۔۔ : سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم چھ آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے۔ مشرکین نے کہا، ان لوگوں کو اپنی مجلس سے نکال دیں، تاکہ یہ ہم پر جرأت نہ کرسکیں۔ ان لوگوں میں میں تھا، ابن مسعود، ہذیل کا ایک آدمی اور دو اور جن کا میں نام نہیں لیتا، تو رسول اللہ ﷺ کے دل میں اللہ نے جو چاہا خیال آیا، آپ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی : (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ ۭ) [ مسلم، الفضائل، باب فی فضل سعد بن أبی وقاص : 46؍2413 ] یعنی اللہ کے طالب اگرچہ غریب ہیں انھی کی خاطر داری مقدم ہے۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 52 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : ولا تطرد الذین یدعون ربھم، مشرکین نے کہا : سلمان، صہیب، بلال اور خباب جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے پر خوش نہیں ہیں آپ ان کو اپنے پاس سے دور کردیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ آپ کو لکھ دیں کہ آپ انہیں ہٹا دیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے ارادہ فرمایا اور حضرت علی ؓ کو بلایا تاکہ تحریر لکھ دیں۔ فقراء صحابہؓ اٹھے اور ایک طرف جا کر بیٹھ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اسی وجہ سے حضرت سعدؓ نے صحیح حدیث میں اپنے قول سے اشارہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دل میں واقع ہوا جو اللہ نے چاہا کہ واقع ہو۔ اس کا ذکر آگے آئے گا۔ نبی کریم ﷺ مشرکین کے اسلام لانے کی امید پر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَا تَطْرُدِ [ اور آپ مت دور کریں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَدْعُوْنَ [ پکارتے ہیں ] رَبَّهُمْ [ اپنے رب کو ] بِالْغَدٰوةِ [ صبح سویرے ] وَالْعَشِيِّ [ اور شاموں کو ] يُرِيْدُوْنَ [ چاہتے ہوئے ] وَجْهَهٗ ۭ [ اس کے چہرے (یعنی توجہ ) کو ] مَا عَلَيْكَ [ نہیں ہے آپ پر ] مِنْ حِسَابِهِمْ [ ان کے حساب میں سے ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] وَّمَا [ اور نہیں ہے ] مِنْ حِسَابِكَ [ آپ کے حساب میں سے ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں پر ] مِّنْ شَيْءٍ [ کچھ بھی ] فَتَطْرُدَهُمْ [ پھر بھی آپ دور کریں گے ان کو ] فَتَكُوْنَ [ تو آپ ہوجائیں گے ] مِنَ الظّٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

صبح و شام جو لوگ اپنے رب کو پکارتے ہیں انہیں دور نہ کیجیے ان آیات میں اوّل تو رسول اکرم ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرایئے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف جمع کیے جائیں گے جب اس وقت وہاں ان کا کوئی مددگار اور سفارش کرنے والا نہ ہوگا۔ آپ ان کو تبلیغ کریں حق پہنچائیں اس امید پر کہ کفر سے اور معاصی سے بچ جائیں۔ قال صاحب الروح و جُوّزان یکون حالاً عن ضمیر الا مرای انذز ھم راجیا تقوٰھم اس کے بعد آنحضرت ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کو صبح و شام پکارتے ہیں ان کو دور نہ کیجیے۔ فقراء صحابہ ؓ کی فضیلت اور ان کی دلداری کا حکم : معالم التنزیل ج 2 ص 99 میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–55

حکم اعزاز واکرام درویشان اسلام بتقدیم سلام وتبشیر ایشاں برحمت خداوند نام۔ قال اللہ تعالیٰ ولاتطرد الذین یدعون ربھم۔۔۔ الی۔۔۔ المجرمین۔ ربط) ۔ اوپر سے سلسلہ کلام مشرکین کے بارے میں تھا یہ آیت قریش کے بعض مغرور اور متکبر سرداروں کے بارے میں نازل ہوئی ایک مرتبہ سرداران قریش نے نبی پاک ﷺ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ کی مجلس میں ہمیشہ فقیر اور غلام ہوتے ہیں جیسے بلال اور صہیب اور عمار اور مقداد اور ابن مسعود ؓ اجمعین، ہمارا دل چاہتا ہے کہ ہم آپ کے پاس آکر بیٹھیں اور آپ کی باتیں سنیں لیکن آپ کے پاس رذیل لوگ بیٹھتے ہیں اور ہم اشراف قریش ہیں ہمارا ان کے ساتھ مل کر بیٹھنا ہمارے لیے عیب اور عار ہے اس…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

60 یہ زجر ہے یعنی جو لوگ خالصا اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اسی کی خوشنودی ڈھونڈتے ہیں۔ آپ ان کو اپنی مجلس سے نہ ہٹائیں آپ پر ان کا کوئی بوجھ نہیں اور نہ ان پر آپ کا کوئی بوجھ ہے۔ سب کی روزی اللہ کے ذمہ ہے۔ ای جزاءھم ورزقھم علی اللہ و جزاءک ورزقک علی اللہ لا غیرہ (قرطبی ج 6 ص 433) آپ کے اور ان کے درمیان محض ایمان اور عمل صالح کا تعلق ہے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں آپ ان لوگوں کو دھتکار کر ظالموں میں سے ہوجائیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 52–55

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کو بیان فرمایا اور اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کرنے والے لوگوں کا رد کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ہر نشانی ظاہر کرسکتا ہے مگر ایسا بیہودہ مطالبہ کرنے والے ہی بےسمجھ ہیں۔ جو لوگ مطلوبہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انتقام بھی بڑا سخت ہے وہ نافرمان قوم کو فوراً سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی تو مبشر اور منذر ہوتے ہیں ‘ معجزات ظاہر کرنا ان کے فرائض میں داخل نہیں ہوتا۔ پھر اللہ نے سید المرسلین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں ‘ نہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْہَہٗ۝ 0ۭ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِہِمْ مِّنْ شَيْءٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْہِمْ مِّنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَہُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِـمِيْنَ۝ 52 طرد الطَّرْدُ : هو الإزعاج والإبعاد علی سبیل الاستخفاف، يقال : طَرَدْتُهُ ، قال تعالی: وَيا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ [هود/ 30] ( ط ر د) الطرد ( ن ) کسی کو حقیر اور ذلیل سمجھ کر دور کردینا ہٹا دینا کہاجاتا ہے طردتہ میں نے اسے بھگا دیا قرآن میں ہے : وَيا قَوْمِ مَنْ يَنْصُرُنِي مِنَ اللَّهِ إِنْ طَرَدْتُهُمْ [هود/ 30] برادران قوم !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

1 ؎ ابن عامر غدوۃ اور العشی کو اس جگہ اور سورة کہف میں واو اور ضمہ غین سے پڑھتے ہیں اور باقی بالالف پڑھتے ہیں جیسا کہ زکوٰۃ و صلوٰۃ کو نکرہ سمجھ کر۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ارشاد فرمایا : وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْھَہٗ ط مَا عَلَیْکَ مِنْ حِسَابِھِمْ مِّنْ شَیْئٍ وَّمَا مِنْ حِسَابِکَ عَلَیْھِمْ مِّنْ شَیْئٍ فَتَطْرُدَھُمْ فَتَکُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الانعام : 52) (اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کیجئے ‘ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ‘ اس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری کا کوئی حصہ تم پر نہیں اور نہ تمہاری ذمہ داری کا کوئی حصہ ان پر ہے ‘ کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے ظالموں میں سے بن جاؤ ) رسول ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ غریب صحابہ کو اشرافِ قریش کی وجہ سے دور نہ کرو روایات میں آتا ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : غور و فکر کی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا تصور پیدا کرنا ضروری ہے جس کی یہاں تلقین کی گئی ہے۔ یہی عقیدہ اور تصور انسان کو صراط مستقیم کی طرف لاتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے گرد و پیش کے ماحول، یہاں تک کہ اپنی ساخت وپرداخت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ غور و فکر کرنا ایسی قوت ہے جس سے انسان کے بند دماغ کی گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں جو شخص ان صلاحیتوں سے عاری ہوجائے وہ اپنے سامنے کی بڑی سے بڑی حقیقت کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ منکرین حق دنیاوی مسائل کی گرہیں کھولنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فقراء صحابہ ؓ کو اپنے پاس سے ہٹانے کی ممانعت : آیت 52 : جب نبی اکرم ﷺ کو حکم ملا کہ غیر متقین کو ڈرائیں۔ تاکہ وہ متقین بن جائیں۔ اس کے بعد متقین کو قریب کرنے کا حکم دیا۔ اور دور ہٹانے سے روک دیا گیا۔ ارشاد فرمایا۔ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّان کی تعریف فرمائی کہ وہ اپنے رب کی پکار میں تسلسل قائم رکھنے والے ہیں۔ (دعا سے عبادت مراد ہے) اور اس پر مواظبت اختیار کرنے والے ہیں۔ یہاں العشی اور الغداۃ کا ذکر صرف اظہار دوام کے لیے ہے۔ یا اس کا معنی صبح وعصر کی نماز ادا کرنے والے ہیں یا پانچوں نمازیں ادا کرنے والے ہیں۔ قراءت : شامی نے الغُدْوَۃَ پڑھا ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر (52) (ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغدوۃ والعشی) ابن عامر نے (بالغداۃ) غین کے پیش اور دال کے سکون اور اس کے بعد وائو کے ساتھ پڑھا ہے۔ یہاں بھی اور سورة الکہف میں بھی اور دیگر حضرات نے غین اور دال کے زبر اور دال کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے۔ لاتطرد الذین سے کون لوگ مراد ہیں : سلمان اور خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اقرع بن حالبس تیمی اور عینیہ بن حصن فزاری اور ان کے قبیلہ کے مئولفہ قلوب آئے اور نبی کریم ﷺ حضرت بلال، صہیب اور عمار و خباب ؓ کے ساتھ بیٹھے جو کہ غریب مئومنین میں سے تھے۔ جب ان لوگوں نے حضور ﷺ کے اردگرد ان کو دیکھا تو ان کو حقیر سمجھا اور کہنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–54

(52 ۔ 54) ۔ صحیح مسلم صحیح ابن حبان مسند امام احمد بن حنبل مستدرک حاکم میں چند صحابہ کی روایتوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ اور مطعم بن عدی اور حارث بن نوفل ان قریش کے شریف لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے درخواست کی کہ بلال ؓ عمار بن یاسر ؓ سالم ابی حذیفہ ؓ کا پروردہ یہ چھوٹے لوگ آپ کے پاس ہمارے آنے کے وقت آپ کی مجلس میں نہ ہوا کریں تو مناسب ہے کیونکہ ہم ایسے چھوٹے لوگوں کے ساتھ شریک مجلس ہونے کو اپنی کسر شان جانتے ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرافت امارت سے زیادہ خلوص نیت مقبول ہے اور یہ غریب لوگ خلوص نیت سے آنحضرت کے پاس ہر وقت حاضر رہتے تھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت 51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ (لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 52–53

84 اصل چیز ایمان و اخلاص ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل قدر و قیمت ایمان و یقین اور صدق و اخلاص کی ہے۔ اس لیے پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا۔ پس آپ ایسے بندگان صدق و صفا کو اپنی مجلس سے دور نہیں کرنا جیسا کہ پیشوایان کفر و باطل کا مطالبہ ہے کہ چونکہ ان فقراء و مساکین کے ساتھ مل بیٹھنا ہماری توہین ہے، لہذا ہمارے آنے پر ان کو اپنی مجلس سے ہٹا دیا کرو۔ تاکہ ہم آپ کے پاس بیٹھ کر وہ پیغام سن سکیں جو آپ ہمیں سنانا چاہتے ہیں۔ سو آپ ﷺ اے پیغمبر ! کہیں اپنی بےمثل رحمت و شفقت کی بنا پر ان لوگوں کی ہمدردی میں ان کی یہ بات ماننے کے لئے آمادہ نہ ہوجانا۔ اور آپ ایسے ہرگز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 52–55

مخلص لوگوں سے پیار کرنا، مسلمانوں کی ہمت بڑھائو تشریح : ان آیات میں صاف صاف بتا دیا گیا ہے کہ اسلام میں عظمت اور عزت کا معیار امیری اور غریبی ہرگز نہیں بلکہ تقویٰ ، پرہیزگاری اور شکر و عبادتِ الٰہی ہے۔ اور یہ آیات اسی سلسلہ میں نازل ہوئیں۔ جیسا کہ ہر مذہب میں ایسا ہی ہوتا ہے کہ نبی کی تعلیمات کو سب سے پہلے غریب لوگ ہی اپناتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر بھی غریب لوگ سب سے پہلے اور زیادہ تعداد میں ایمان لائے لہٰذا وہ اکثر آپ ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے تو عر ب کے امیر لوگوں نے حضرت ابو طالب کے ذریعہ یہ پیغام بھیجا کہ اگر غریب لوگ نبی ﷺ کے پاس نہ بیٹھے رہیں تو پھر ہم آپ ﷺ کے پاس جا کر آپ ﷺ پر ایمان لاسکتے ہیں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–55

رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔ اسرار و معارف : بحث سے اعراض : آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 بلکہ ہر ایک کو اپنے عمل کی جو ابد ہی خود کرنے ہے مطلب یہ ہے کہ ان بےچاروں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے کہ آپ انہیں اپنے سے دوسر کریں8 یعنی خدا کے طالب اگرچہ غیریب انہی کی خاطر مقدم ہے۔ (موضح ) جیسا کہ معلوم ہو کہ مکی زندگی میں نبی ﷺ پر ایمان لانے اور ﷺ کی پیروی اختیار کرنے والے زیادہ تر غلام موالی اور عام بےبس اور بےکس قسم کے لوگ تھے، قریش کے بڑے بڑے سردار کھاتے پیتے لوگ نبی صلعم کو طنعہ دیا کرتے تھے کہ تمہارے ساتھی اس قسم کے گھٹیا طبقہ کے لوگ ہیں۔ اگر ان کو اپنے پاس نہ بیٹھے دیں تو ہم آپ ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ ﷺ کی بات سنیں گے۔ اس بارے میں متعدد روایات ثابت ہیں مثلا حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:52) لاتطرد۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر (باب نصر) طرد سے۔ جس کے معنی ذلیل سمجھ کر ہانکنے اور دور کرنے کئے ہیں۔ دھتکارنا۔ عدوۃ۔ ٹرکا۔ طلوع فجر اور طلوع آفتاب کا درمیانی وقت۔ العشی۔ (1) زوال کے بعد سے لے کر غروب آفتاب تک کا وقت۔ اسی بناء پر ظہر اور عصر کو صلانا العشی بولتے ہیں۔ (2) دن کا پچھلا وقت۔ (3) زوال سے لے کر صبح صادق تک کا وقت۔ (4) عشی و عشاء نما مغرب سے لے کر عشاء کی نماز تک کا وقت۔ فتطردھم۔ کہ تو ان کو اپنے سے دور ہٹا دے۔ تطرد واحد مذکر حاضر منصوب بوجہ جو اب نہی (ما علیک من حسابھم۔ ان کے حساب کی کوئی ذمہ داری تجھ پر نہیں) فتکون من الظالمین۔ جو اب نہیں۔ (لا تطرد الذین یدعون ربھم) یہ بھی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ (1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–54

شان نزول : کفار کی ایک جماعت آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آئی تو انہوں نے دیکھا کہ حضور ﷺ کے گرد غریب صحابہ کرام کی ایک جماعت حاضر ہے، جو ادنیٰ درجہ کے لباس پہنے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ ہمیں ان لوگوں کے پاس بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ انہیں اپنی مجلس سے نکال دیں تو ہم آپ پر ایمان لے آویں اور آپ کی خدمت میں حاضر رہیں حضور ﷺ نے اس کو منظور نہ فرمایا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ حاصل معنی یہ ہے کہ وہ ضعیف فقراء جن کا اوپر ذکر ہوا آپ کے دربار میں قرب پانے کے مستحق ہیں، انہیں دور نہ کرنا ہی بجا ہے۔ آگے فرمایا اے رسول اللہ کے ! ﷺ ان تنگدست ایمانداروں کے دل چھوٹے چھوٹے ہیں، ان کی تنگدستی کے سبب سے لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–52

(آیت) ” ولا اعلم الغیب : (ف 1) حضور ﷺ کا درجہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے کائنات میں کوئی شخص آپ کا درجے اور مرتبے میں سہیم وشریک نہیں ان کے پاس رشد وہدایت کے اور معارف ونکات کے بےپناہ خزانے موجود تھے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ دنیا کے لحاظ سے سرمایہ افلاس کا بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کی قدوسیت اور پاکیزگی میں کس کو شبہ ہے ، مگر بااین ہمہ وہ فرشتہ نہیں تھے ، اسی طرح ان کا علم کائنات میں سب سے زیادہ ہے اور رسول سے بڑھ کر اور کون عالم ہوتا ہے پھر بھی وہ غیب نہیں جانتے تھے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے ، غیب کی تشریح متعدد مواقع پر گزر چکی ہے ، اجمالا یہ سمجھ لیجئے غیب کا جاننا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-52 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اپنے رب کی یاد کرتے ہیں اور اس ذکر الٰہی اور پکار سے ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی خوشنودی ہوتی ہے ایسے لوگوں کو آپ اپنی مجلس سے دور نہ کیجیے اور ایسے مخلصین کو روسائے قریش کے کہنے سے ہٹایئے نہیں اور آپ … ان کو اپنے سے علیحدہ نہ کیجیے ان لوگوں کے حساب کی جواب دہی آپ کے ذمہ پر نہیں ہے اور نہ آپ کے حساب کی کوئی ذمہ داری ان پر ہے یعنی جو فقراء اور مخلصین خالص اللہ تعالیٰ کے لئے ہمیشہ عبادت کرتے ہیں اور جن کی تفتیش و تحقیق کی ذمہ داری پر نہیں اور نہ آپ کے ذمہ داری ان پر ہے ایسے لوگوں کو محض سرمایہ داروں کی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–54

ف 3۔ حشر کے متعلق کل تین طرح کے آدمی ہیں ایک وہ جو جزا اس کے ثبوت کے معتقد ہیں دوسرے وہ جو متردد ہیں آیت میں ان ہی دونوں جماعتوں کا ذکر ہے تیسرے وہ جو جزما اس کے منکر ہیں اور انذار گوان کو بھی عام ہے جیسا اور آیات میں مصرح ہے لیکن یہاں مطلق انذار مراد نہیں بلکہ وہ انذار جس میں خاص اہتمام ہو سو یہ وہاں ہی ہوگا جہاں نفع متیقن یا متوقع ہو جیسا قسم اول دوم کا حال ہے بخلاف اس قسم سوم کے کہ بوجہ عدم توقع نفع ان کو انذار محض اتمام حجت کے لیے ہوگا توجہ کی بوجہ عنادان میں قابلیت ہی نہیں اس لیے یہاں قسمین اولین کی تخصیص کی گئی ہے جیسا بعض آیات میں بنابریقین نفع کے صرف قسم اول ہی کی تخصیص بھی ہے۔ 4۔ غیر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! اللہ کے حضور مناجات کرنے والوں کو اپنے سے دور مت کرو : 80: ” وَ لَا تَطْرُدِ “ طرد سے ہے۔ تو مت دور کر۔ تو مت ہانک۔ زیر نظر آیت میں نبی کریم ﷺ کو مخاطب فرما کر آپ ﷺ کی امت کے لوگوں کے لئے ایک خاص پیغام دیا گیا ہے۔ جس طرح خاص پیغام دینے کے لئے خاص پیغام پہنچانے والا تلاش کیا جاتا ہے وہی انداز اس جگہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنا خاص پیغام پہنچانے کے لئے اپنے خاص بندے محمد ﷺ کو مخاطب فرمایا اور آپ ﷺ کی امت کے نام پیغام بھجوا دیا کہ دیکھو ” ان لوگوں کو جو صبح و شام اللہ کے حضور سچے دل کے ساتھ مناجات کرتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں ان کو اپنے پاس سے دور مت کرو۔ “ چونکہ ہر زمانہ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 52–53

Commentary In Islam there is No Distinction between Rich and Poor, High or Low As for people who failed to feel human despite being human, even touched the outer limit of rating human beings as one of the smartest animals of the world, who did not hesitate in harnessing other ` animals' in their service, what would they know about the purpose of creation other than taking the fulfillment of their immediate physical compulsions and needs, and acting in accordance with animal instincts as the purpose of their lives - very much like an animal would do. When this be the only purpose of life,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

34. One of the objections raised by the chiefs and the affluent members of the Quraysh was that the Prophet (peace be on him) had gathered around him a host of slaves, clients (mawali) and others belonging to the lower strata of society. They used to scoff at the fact that men of such humble social standing as Bilal, 'Ammar. Suhayb and Khabbab had joined his ranks. They wondered if they happened to be the only chosen ones of the Quraysh in the sight of God! They not only poked fun at the financial distress of these people but also attacked them for any weakness of character they had before…

Read the full tafseer →