Al-An'aam 6:51

Al-An'aam · from ayah 51

6:51

وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰی رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ ۟وَاَنۡذِرۡ بِهِ الَّذِيۡنَ يَخَافُوۡنَ اَنۡ يُّحۡشَرُوۡۤا اِلٰى رَبِّهِمۡ‌ لَـيۡسَ لَهُمۡ مِّنۡ دُوۡنِهٖ وَلِىٌّ وَّلَا شَفِيۡعٌ لَّعَلَّهُمۡ يَتَّقُوۡنَ

اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And warn by the Qur'an those who fear that they will be gathered before their Lord - for them besides Him will be no protector and no intercessor - that they might become righteous.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 6 of surah · Ruku 12 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:51

اے محمدؐ! تم اس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مدد گار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبہ ہو کر) وہ خدا ترسی کی روش اختیار کر لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو لوگ جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے روبرو حاضر کئے جائیں گے (اور جانتے ہیں کہ) اس کے سوا نہ تو ان کا کوئی دوست ہوگا اور نہ سفارش کرنے والا، ان کو اس (قرآن) کے ذریعے سے نصیحت کر دو تاکہ پرہیزگار بنیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس ایسی حالت میں جمع کئے جائیں گے کہ جتنے غیر اللہ ہیں نہ کوئی ان کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی شفیع، اس امید پر کہ وه ڈر جائیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم اس وحی کے ذریعے ان لوگوں کو خبردار کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ ان کو ان کے پروردگار کے پاس ایسی حالت میں جمع کر کے لایا جائے گا کہ اس کے سوا نہ ان کا کوئی یارومددگار ہوگا، نہ کوئی سفارشی تاکہ وہ لوگ تقوی اختیار کرلیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اس قرآن سے انہیں ڈراؤ جنہیں خوف ہو کہ اپنے رب کی طرف یوں اٹھائے جائیں کہ اللہ کے سوا نہ ان کا کوئی حمایتی ہو نہ کوئی سفارشی اس امید پر کہ وہ پرہیزگار ہوجائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو ڈر سنائیے جو اپنے رب کے پاس اس حال میں جمع کئے جانے سے خوف زدہ ہیں کہ ان کے لئے اس کے سوا نہ کوئی مددگار ہو اور نہ (کوئی) سفارشی تاکہ وہ پرہیزگار بن جائیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اس کے ساتھ ان لوگوں کو ڈرا جو خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کی طرف (لے جا کر) اکٹھے کیے جائیں گے، ان کے لیے اس کے سوا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا، تاکہ وہ بچ جائیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ اس وحی کے ذریعہ ان لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ان کے پروردگار کے ہاں اکٹھا کیا جائے گا جس کے بغیر انکا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ سفارشی ہوگا۔ اسی طرح شائد وہ پرہیزگار بن جائیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم اسی کے ذریعہ سے خبردار کرو ان لوگوں کو جو ڈر رکھتے ہیں اس بات کا کہ وہ اپنے رب کے پاس اکٹھھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ اس کے سامنے نہ ان کا کوئی حامی ہوگا نہ شفیع، تاکہ وہ تقوی اختیار کریں۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور خبردار کرتے رہو اس (کتاب حق) کے ذریعے ان لوگوں کو جو ڈرتے ہیں اس بات سے کہ ان کو اکٹھا کر کے لایا جائے گا ان کے رب کے حضور اس حال میں کہ اس کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی، تاکہ یہ بچ جائیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ اس (وحی شدہ قرآن) کے ؟ ذریعہ سے انہیں ڈرائیے جو اندیشہ رکھتے ہیں اس امر کا کہ وہ اپنے پروردگار کے پاس جمع کئے جائیں گے اس حال میں کہ ان کے حق میں نہ کوئی مددگار ہوگا نہ کوئی شفیع شاید کہ وہ ڈرنے لگیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور خبردار کردیجیے اس (قرآن) کے ذریعے سے ان لوگوں کو جنہیں واقعتا کچھ خوف ہے کہ وہ اپنے رب کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے اس حال میں کہ ان کے لیے نہیں ہوگا اللہ کے سوا کوئی حمایتی اور نہ کوئی سفارش کرنے والا شاید کہ (اس طرح سمجھانے سے) ان میں کچھ تقویٰ پیدا ہوجائے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

(اے محمد ﷺ !) آپ ان لوگوں کو نصیحت کریں جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے سامنے اس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اس کے سوا وہاں نہ کوئی مددگار ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا۔ شاید کہ وہ اس نصیحت کی وجہ سے تقوٰی کی راہ اختیار کرلیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And warn with this (revealed message) those who fear that they shall be mustered to their Lord, that there will be none apart from Allah to act as their protector and intercessor; then maybe they will become God-fearing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Warn, with it, those who have the fear of being gathered before their Lord, with no one other than Him to support or to intercede. Maybe they become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

Warn, with it, those who have the fear of being gathered before their Lord, with no one other than Him to support or to intercede. Maybe they become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And warn therewith those who fear that they will be gathered before their Lord, when there will be neither a protector nor an intercessor for them besides Him, so that they may have Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Warn hereby those who fear (because they know) that they will be gathered unto their Lord, for whom there is no protecting ally nor intercessor beside Him, that they may ward off (evil).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And warn by the Qur'an those who fear that they will be gathered before their Lord - for them besides Him will be no protector and no intercessor - that they might become righteous.

— Saheeh International

Preach the Quran to those who are concerned about the Day of Judgment at which time they will be brought before their Lord. Tell them that their only guardian and intercessor is God so that they may become pious.

— Muhammad Sarwar

And warn with it those who fear that they shall be gathered to their Lord-- there is no guardian for them, nor any intercessor besides Him-- that they may guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And warn thou therewith those who fear that they shall be gathered unto their Lord, when there shall be for them no patron nor intercessor beside Him; haply they may become God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

Give this warning to those in whose (hearts) is the fear that they will be brought (to judgment) before their Lord: except for Him they will have no protector nor intercessor: that they may guard (against evil).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:51

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 50–54

مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَنْعَام 33 مطلب یہ ہے کہ جو لوگ دنیا کی زندگی میں ایسے مدہوش ہیں کہ انہیں نہ موت کی فکر ہے نہ یہ خیال ہے کہ کبھی ہمیں اپنے خدا کو بھی منہ دکھانا ہے، ان پر تو یہ نصیحت ہرگز کارگر نہ ہوگی۔ اور اسی طرح ان لوگوں پر بھی اس کا کچھ اثر نہ ہوگا جو اس بےبنیاد بھروسے پر جی رہے ہیں کہ دنیا میں ہم جو چاہیں کر گزریں، آخرت میں ہمارا بال تک بیکا نہ ہوگا، کیونکہ ہم فلاں کے دامن گرفتہ ہیں، یا فلاں ہماری سفارش کر دے گا، یا فلاں ہمارے لیے کفارہ بن چکا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو چھوڑ کر تم اپنا روئے سخن ان لوگوں کی طرف رکھو جو خدا کے سامنے حاضری کا بھی اندیشہ رکھتے ہوں اور اس کے ساتھ جھوٹے بھروسوں پر پھولے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

دوسری آیت میں رسول کریم ﷺ کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ان واضح بیانات کے بعد بھی اگر یہ لوگ اپنی ضد سے باز نہ آئیں تو ان سے بحث و مباحثہ کو موقوف کر دیجئے اور جو اصلی کام ہے رسالت کا یعنی تبلیغ اس میں مشغول ہوجائیے، اور تبلیغ و انذار کا رخ ان لوگوں کی طرف پھیر دیجئے، جو قیامت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی اور حساب کتاب کا عقیدہ رکھتے ہیں، جیسے مسلمان یا وہ جو کم از کم اس کے منکر نہیں، بطور احتمال کے ہی سہی، کم از کم ان کو خطرہ تو ہے کہ شاید ہمارے اعمال کا ہم سے حساب لیا جائے۔ خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے متعلق تین طرح کے آدمی ہیں، ایک وہ جو یقینی طور پر اس کے معتقد ہیں، دوسرے وہ جو متردد ہیں، تیسرے وہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

پیغمبر کو اہل خشیت کی طرف متوجہ ہونے کی ہدایت : اوپر کے پیرے میں یہ اعلان پیغمبر کی زبان سے کرا دیا گیا کہ نہ میں خزانوں کا مالک ہوں، نہ غیب جانتا ہوں نہ فرشتہ ہونے کا مدعی ہوں میں تو بس اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اب یہ ارشاد ہوا کہ جو لوگ کسی نشانئ عزاب کے منتظر ہیں ان کو تو ان کے حال پر چھوڑو، البتہ جو عقل و فکر سے کام لینے والے ہیں اور جو اپنے دلوں کے اندر یہ اندیشہ رکھتے ہیں کہ ایک دن بہرحال خدا کے حضور حاضر ہونا ہے اور اس طرح حاضر ہونا ہے کہ ان کا کوئی حامی و شفیع ایسا نہ ہوگا جو ان کو خدا کی پکڑ سے بچا سکے، ان کو اس کتاب کے ذریعہ سے جو تم پر وحی کی جا رہی ہے بیدار اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

51۔ 1 یعنی انذار کا فائدہ ایسے ہی لوگوں کو ہوسکتا ہے ورنہ جو بعث بعد الموت حشر نشر پر یقین ہی نہیں رکھتے وہ اپنے کفر و جحود پر ہی قائم رہتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں ان اہل کتاب اور کافروں اور مشرکوں کا عقیدہ رہے کہ وہ اپنے آباؤ اجداد کے بتوں کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ نیز کارساز اور سفارشی نہیں ہوگا کا مطلب۔ یعنی ان کے لئے جو عذاب جہنم کے مستحق قرار پاچکے ہوں گے۔ ورنہ مومنوں کے لئے اللہ کے نیک بندے، اللہ کے حکم سے سفارش کریں گے۔ یعنی شفاعت کی نفی اہل کفر و شرک کے لئے ہے اور اس کا اثبات ان کے لئے جو گناہ گار مومن و موحد ہوں گے، اسی طرح دونوں قسم کی آیات میں کوئی تعارض بھی نہیں رہتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

18: یہ درحقیقت مشرکین کے اس عقیدے کی تردید ہے کہ وہ اپنے دیوتاؤں کو اپنا مستقل سفارشی سمجھتے تھے، لہذا اس سے آنحضرت ﷺ کی اس شفاعت کی تردید نہیں ہوتی جو آپ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے مومنوں کے لئے کریں گے کیونکہ دوسری آیتوں میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے شفاعت ممکن ہے .(مثلاً دیکھئے : سورة بقرہ آیت نمبر 255)

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

(آیت) ” نمبر 51 تا 54۔ یہ اسلامی نظریہ حیات کی برتری اور عزت کی علامت ہے کہ اس میں اس دنیا کے عارضی کرو فر کو کوئی وقعت نہیں دی گئی ۔ اس میں پیش نظر اعلی اقدار ہوتی ہیں اور دنیا کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اس دعوت کو صاف اور ستھرے انداز میں بغیر کسی بناوٹ کے اصل شکل میں پیش فرما دیں اور اس دعوت کے عوض میں لوگوں کو کسی دنیاوی غرض کا لالچ نہ دیں ۔ یہ حکم بھی دیا گیا کہ آپ صرف ان لوگوں ہی کو پیش نظر رکھیں جو اس دعوت سے کوئی دنیاوی فائدہ نہیں اٹھانا چاہتے ہیں نہ آپ اس سے نفع لینا چاہتے ہیں ۔ اور اپنے اردگر دان لوگوں کو جمع کریں جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی جو لوگ فرمائشی معجزات دکھلائے جانے پر اپنے ایمان کو موقوف رکھتے اور ازراہ تعنت وعناد آیات اللہ کی تکذیب پر تلے ہوئے ہیں، ان سے قطع نظر کیجئے۔ کیونکہ ایسے ہی لوگوں سے امید ہوسکتی ہے کہ نصیحت سے متأثر اور ہدایت قرآنی سے منتفع ہوں۔ 8 یعنی یہ سن کر گناہ سے بچتے رہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ابھی پچھلے رکوع میں ہم نے پڑھا : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج آیت 48 کہ تمام رسول تبشیر اور انذار کے لیے آتے رہے اور اسی سورت میں ہم یہ بھی پڑھ چکے ہیں کہ حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا گیا : وَاُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْم بَلَغَ ط آیت 19 یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے میں خبردار کروں تم لوگوں کو اور ان تمام لوگوں کو بھی جن تک یہ پہنچے۔ یہاں اب پھر قرآن کے ذریعے سے بِہٖ انذار کا حکم آرہا ہے کہ اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کا کام انذار اور تبشیر ہے جسے آپ اس قرآن کے ذریعے سے سر انجام دیں۔ آیت 51…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

54 آپ سب لوگوں کے ہدایت پانے کی فکر نہ کیجئے بلکہ جو لوگ ایمان لا چکے ہیں، روز آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ کے حضور جواب دہی کے تصور اور دوزخ کے عذاب سے ڈرتے ہیں ان کا ضرور خیال رکھیے اور وحی کے احکام ان تک ضرور پہنچایا کیجئے۔ اور جو لوگ روز آخرت پر یقین تو رکھتے ہیں مگر ساتھ ہی یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ وہ بزرگوں کی اولاد ہیں یا بزرگ ان کی سفارش کر کے انہیں بچا لیں گے انہیں خبردار کیجئے کہ اس دن کسی کی سفارش کام نہ آسکے گی نہ حسب و نسب اور نہ ہی کوئی قریبی سے قریبی رشتہ دار۔ لہذا اپنے اپنے اعمال کی خود فکر کیجئے یہی ان کے متقی بننے کی صورت ہے۔ اور بعض مفسرین یہ کہتے ہیں کہ اس آیت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

77 ۔ ( اور ایمان وطاعت کی راہ اختیار کرلیں) (آیت) ” الذین یخافون ان یحشروا “۔ پیغمبر اپنا وعظ سناتا تو سب کو ہے لیکن اس سے نفع اندوز بس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں خوف خدا وخوف عاقبت کسی درجہ میں موجود ہوتا ہے، یا جن کا ضمیر کسی حد تک زندہ ہوتا ہے۔ خص فی ھذہ الایۃ الذین یخافوں الحشر لان انتفاعھم بذلک الانذار اکمل بسبب ان خوفھم یحملھم علی اعداد الزاد لیوم المعاد (کبیر) (آیت) ” لعلھم یتقون “۔ کہ شاید آپ کے موعظہ سے متاثر ہو کر وہ پوری طرح راہ ہدایت پاجائیں راہ ایمان پر ثابت قدم ہوجائیں، ای فی المستقبل وھو الثبات علی الایمان (قرطبی) (آیت) ” وانذربہ “۔ ضمیر اس وحی کی جانب ہے جس کا ذکر ابھی آچکا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–55

آیت نمبر 51 تا 55 ترجمہ : اور آپ قرآن کے ذریعہ ایسے لوگوں کو ڈرائیے جو اس بات کا اندیشہ رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے سامنے ایسی حالت میں جائیں گے کہ ان کا اس کے سوانہ کوئی ولی ہوگا جو ان کی مدد کرسکے اور نہ شفیع کہ ان کی شفارش کرسکے، اور جملہ منفیہ یحشروا کی ضمیر سے حال ہے اور یہی محل خوف ہے اور مراد اس سے عصاۃ المومنین ہیں، توقع ہے کہ وہ اپنے معمولات کو چھوڑ کر اور اعمال طاعت کو اختیار کرکے خدا ترسی کی روش اختیار کرلیں، اور ان لوگوں کو (مجلس سے) نہ نکالئے جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں ان کا مقصد ان کی عبادت سے محض خدا کی ذات ہے نہ کہ دنیا کی اور کوئی غرض اور وہ فقراء (نادار) تھے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربہم اور اس سے ایسے لوگوں کو ڈراؤ جو اس بات سے اندیشہ رکھتے ہیں کہ اپنے رب کے پاس جمع کئے جائیں گے۔ چونکہ الذینکے بعد یخافون ان یحشروا آیا ہے (جس سے معلوم ہو رہا ہے کہ انہی لوگوں کو خوف دلانے کا حکم ہے جن کو اندیشہ حشربصورت یقین یا بطور تردد لگا ہوا ہے) اس لئے بیضاوی نے لکھا ہے کہ الذین سے مراد یا تو وہ مؤمن ہیں جن سے عمل میں کچھ کوتاہی ہو رہی ہے یا وہ لوگ مراد ہیں جن کو حشر کا اقرار ہو خواہ وہ مؤمن ہوں یا کافر کتابی یا حشر ہونے یا نہ ہونے میں تردد رکھنے والے ہوں غرض وہ لوگ مراد نہیں ہیں جن کو حشر کے نہ ہونے کا یقین ہو کیونکہ اس آخری گروہ کو ڈرانا بےسود ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(51) یہ آیات مسلمان غلاموں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں یعنی ایسے لوگوں کو جو جانتے ہیں یا بعث بعد الموت پر یقین رکھتے ہیں، جن میں حضرت بلال بن رباح ؒ صہیب بن سنان ؓ بن صالح ؓ ، عمار بن یاسر ؓ ، سلمان فارسی ؓ ، عامر بن فیہرہ ؓ ، خباب بن ارت ؓ ، سالم مولی حذیفہ ؓ ہیں، قرآن کریم یا اللہ تعالیٰ سے ڈرائیے اور اس بات کا یہ ڈر رکھتے ہیں کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی محافظ نہ ہوگا اور نہ کوئی ایسا شفاعت کرنے والا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ وہ ان کے عذاب سے نجات دلائے تاکہ یہ گناہوں سے بچیں اور نیکیوں کی طرف مائل ہوں۔ شان نزول : (آیت) ”وانذر بہ الذین“۔ (الخ) امام احمد ؒ ، طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنْذِرْ بِهِ الَّذِيْنَ۔۔ : اوپر کی آیت میں پیغمبروں کے متعلق فرمایا کہ وہ مبشر (خوشخبری دینے والے) اور منذر (ڈرانے والے) ہوتے ہیں، اب اس آیت میں رسول اللہ ﷺ کو انذار (ڈرانے) کا حکم دیا۔ (رازی) یعنی ڈرانے کا فائدہ انھی کو ہوسکتا ہے جنھیں دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کا خوف ہے۔ جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا نہ ان کی حمایت کرنے والا کوئی مدد گار ہوگا اور نہ سفارشی۔ جو لوگ حشر اور قیامت کو مانتے ہی نہیں اور انکار پر اڑے ہوئے ہیں، انھیں آپ کے ڈرانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، فرمایا : (سَوَاۗءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ) [ البقرۃ : 6 ] ”ان پر برابر ہے، خواہ تو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 51 :۔ اللہ عالی کا ارشاد ہے : آیت : و انذر بہ، ہ ضمیر کا مرجع قرآن ہے۔ انذار کا معنی اعلام (آگاہ کرنا) ہے یہ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ بعض علماء نے فرمایا : بہ کی ضمیر کا مرجع اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، بعض نے فرمایاـ: آخرت کا دن ہے۔ آیت : الذین یخفون ان یحشروا، ان کو خاص فرمایا، کیونکہ ان پر حجت کو ثابت فرمایا یہی وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنے والے ہیں نہ وہ حشر کے بارے مترود ہیں، معنی یہ ہے کہ وہ حشر کے عذاب کی توقع رکھتے ہیں۔ بعض نے فرمایا : یخافون کا معنی وہ جانتے ہیں۔ اگر وہ مسلمان ہیں تو اسے ڈرائیے تاکہ وہ گناہ چھوڑ دے اگر وہ اہل کتاب ہے تو اسے ڈرائیے تاکہ وہ حق کی اتباع کرے۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 51–56

(1) امام احمد، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور ابو نعیم نے حلیہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قریش کی ایک جماعت نبی ﷺ کے پاس سے گزری اور آپ کے پاس صہیب، عمار، بلال، شہاب ؓ اور ان جیسے ضعیف مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ کیا تو اپنی قوم میں سے ان لوگوں کے ساتھ راضی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے ان لوگوں پر احسان فرمایا کیا ہم ان لوگوں کے تابع ہوجائیں۔ ان کے اپنے پاس سے دور کر دیجئے اگر آپ نے ان کو دور کردیا تو شاید ہم آپ کی پیروی کرلیں۔ ان کے بارے میں قرآن نازل ہوا لفظ آیت وانذر بہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم سے لے کر لفظ آیت واللہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنْذِرْ [ اور آپ خبردار کریں ] بِهِ [ اس سے ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] يَخَافُوْنَ [ ڈرتے ہیں ] اَنْ [ کہ ] يُّحْشَرُوْٓا [ وہ اکٹھا کئے جائیں گے ] اِلٰى رَبِّهِمْ [ اپنے رب کی طرف ] لَيْسَ [ نہیں ہے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] مِّنْ دُوْنِهٖ [ جس کے علاوہ ] وَلِيٌّ [ کوئی کارساز ] وَّلَا شَفِيْعٌ [ اور نہ ہی کوئی شفاعت کرنے والا ] لَّعَلَّهُمْ [ شائد کہ وہ لوگ ] يَتَّقُوْنَ [ تقوی کریں ] ط ر د : (ن) طردا کسی کو حقیر سمجھ کر دور کرنا ۔ دھتکارنا ۔ زیر مطالعہ آیت نمبر 52 ۔ طارد ۔ اسم الفاعل ہے۔ دھتکارنے والا ۔ وَمَآ اَنَا بِطَارِدِ الْمُؤْمِنِيْنَ [ اور میں مومنوں کو دھتکارنے والا نہیں ہوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 50–51

نبوت کے لوازم میں مالدار یا غیب دان ہونا نہیں ہے : لوگ یہ سمجھے تھے کہ نبی مال و دولت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ ہونا چاہئے۔ چونکہ اہل دنیا کے نزدیک دنیا ہی بڑی چیز ہے اس لیے نبوت اور رسالت کا مدار بھی مال زیادہ ہونے پر سمجھتے تھے ایسے لوگوں کی جاہلانہ بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ ) (آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں) خزانے پاس ہونا نبوت و رسالت اور مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں ہے۔ جس بات کی دعوت دی جا رہی ہے اس میں غور کرو اور دلائل کر سمجھو جو اثبات رسالت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ مالدار ہونے کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

59 یہ تخویف اخروی ہے۔ اَلَّذِیْنَ یفون۔ یعنی جو لوگ اللہ سے ڈرتے اور اس کے حکم کی تعمیل میں سعی کرتے ہیں، انابت کرتے ہیں، ضد نہیں کرتے۔ جیسا کہ فرمایا فَاَعْرِضْ عَمَّنْ تَوَلّٰی عَنْ ذِکْرِنَا (النجم ع 3) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 50–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ سے نشانیاں طلب کرتے تھے اور کہتے تھے ” لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ “ یعنی مدعی رسالت کو ہماری مرضی کے مطابق نشانی طاہر کرنی چاہئے جس کو دیکھ کر ہم ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب بھی دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نشانی ظاہر کرنے پر قادر ہے مگر یہی لوگ علم سے بےبہرہ ہیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر اپنی فرمائش حاصل کرنے کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ فوری طور پر سزا میں مبتلا کرسکتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کو مہلت بھی نہیں ملا کرتی۔ تاہم یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ ہر مطلوبہ نشانی کو نازل فرما دے۔ البتہ وہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْذِرْ بِہِ الَّذِيْنَ يَخَافُوْنَ اَنْ يُّحْشَرُوْٓا اِلٰى رَبِّہِمْ لَيْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِيٌّ وَّلَا شَفِيْعٌ لَّعَلَّہُمْ يَتَّقُوْنَ۝ 51 نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : یخافون کا مفعول ان یحشروا جملہ لیس لہم ضمیر فاعل یحشروا سے حال ہے غداوۃ ہے۔ العشی کو بعض مفرد کہتے ہیں۔ بعض جمع عشیۃ یریدون حال ہے من شیئٍ سے من زائدہ اور شیء مبتداء ہے علیک اس کی اصل خبر من حسابہم صفت شیء اس پر مقدم ہوگئی۔ اس لئے حال ہوگئی فتطرد جواب ہے ما نافیہ کا اس لئے منصوب ہوگیا گویا کہ یہ جواب النہی ہے ای لانظر۔ تفسیر : پہلے تھا کہ انبیاء خدا کی طرف سے خوشی اور ڈر سنانے کو آتے ہیں اس لئے آنحضرت ﷺ کو اس جگہ ڈر سنانے کا حکم ہوتا ہے اور خوف کو اس لئے یہاں ترجیح دی کہ منافع حاصل کرنے سے جو خوشی کا محل ہے اپنے نفس سے مضرت کا دور کرنا جو محل خطر ہے مقدم اور ارجح ہے اور خوف سنانے میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

تمہید گزشتہ آیات میں ہم مشرکینِ مکہ کی جانب سے مختلف قسم کے مطالبات پڑھ چکے ہیں۔ وہ ایک سے ایک بڑی نشانی مانگتے رہے۔ بالآخر انھوں نے عذاب کا مطالبہ بھی کر ڈالا کہ اگر تم واقعی اللہ کے نبی ہو اور جو کچھ تم کہتے ہو وہ اللہ کی جانب سے کہتے ہو تو پھر یا تو اس پر کوئی بہت بڑی نشانی لائو تاکہ ہم ماننے پر مجبور ہوجائیں ‘ یا جس طرح تم بار بار کہتے ہو کہ جن قوموں میں اللہ کے رسول آئے انھوں نے جب مسلسل ان کی تکذیب کی تو آخر ان پر اللہ کا عذاب آگیا تم بھی ہم پر عذاب کیوں نہیں لے آتے یا عذاب کا کوئی حصہ کیوں نہیں لے آتے تاکہ ہمیں تمہاری نبوت اور تمہاری صداقت کا یقین ہوجائے۔ قرآن کریم اس وقت پیش نظر آیت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–52

فہم القرآن ربط کلام : غور و فکر کی صلاحیتوں کو بیدار کرنے کے لیے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا تصور پیدا کرنا ضروری ہے جس کی یہاں تلقین کی گئی ہے۔ یہی عقیدہ اور تصور انسان کو صراط مستقیم کی طرف لاتا ہے۔ قرآن مجید انسان کو اللہ تعالیٰ کی آیات، اس کے گرد و پیش کے ماحول، یہاں تک کہ اپنی ساخت وپرداخت پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ غور و فکر کرنا ایسی قوت ہے جس سے انسان کے بند دماغ کی گرہیں کھل جاتی ہیں اور اس کی آنکھوں پر پڑے ہوئے غفلت کے پردے ہٹ جاتے ہیں جو شخص ان صلاحیتوں سے عاری ہوجائے وہ اپنے سامنے کی بڑی سے بڑی حقیقت کو پہچاننے سے قاصر رہتا ہے۔ منکرین حق دنیاوی مسائل کی گرہیں کھولنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

میں تو آخر بلا ڈر والوں کے لئے منذر ہوں : آیت 51 : وَ اَنْذِرْ بِہِ جو آپ کی طرف وحی کی گئی ہے۔ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْٓا اِلٰی رَبِّہِمْوہ مسلمان ہیں جو کہ بعث بعد الموت کے قائل ہیں۔ مگر وہ عمل میں کوتاہی کرنے والے ہیں۔ پس وہ ان کو ڈرائیں وحی کے ذریعے یا نمبر 2۔ اہل کتاب مراد ہیں کیونکہ وہ بھی بعث بعد الموت کے قائل تھے۔ لَیْسَ لَہُمْ مِّنْ دُوْنِہٖ وَلِیٌّ وَّلَا شَفِیْعٌ یہ یحشروا سے موضع حال میں ہے تقدیر عبارت یہ ہے یخافون ان یحشروا غیر منصورین ولا مشفوعاً لہم۔ وہ ڈرتے ہیں کہ ان کو اٹھایا جائے اس حالت میں کہ نہ ان کی مدد کی جائے اور نہ ان کا کوئی سفارشی ہو۔ لَّعَلَّہُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-51 (وانذربہ) آپ قرآن کے ذریعے سے ان کو ڈرائیں (الذین یخافون ان یخشرئوا) ان کو جمع کرے گا اور پھر اٹھائے گا (الی ربھم) بعض نے کہا یخافون سے مراد یعلمون ان کو خوف اپنے اعمال کی وجہ سے تھا اور وہ اس خوف کو جاننے بھی تھے۔ (لیس لھم من دوبہ) اللہ کے سوا کوئی نہیں (ولی) کوئی قریبی جوان کو نفع پہنچائے ولا شفیع اور نہ کوئی شفیع (لعلھم یتقون) ان چیزوں سے جن سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا سب کی سفارش کی نفی کردی ہے حالانکہ انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء سفارش کریں کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر سفارش نہ کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 50–51

(50 ۔ 51) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے گھڑی گھڑی طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے تھے کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے معجزہ کے طور پر ہم لوگوں کو ایسا مال دار بنا دیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے تھے کہ معجزہ کے طور پر ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح سمجھا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کر لیویں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں اور عورتوں سے واسطہ کیوں رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 51–55

آیت 51 یہ قرآن تمام مخلوق کے لئے انداز ہے مگر اس سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں (الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم) ” جو اس حقیقت کا خوف رکھتے ہیں کہ انہیں ان کے رب کے پاس اکٹھے کئے جانا ہے۔ “ پس انہیں پورا پورا یقین ہے کہ وہ اس گھر سے منتقل ہو کر آخرت کے ہمیشہ رہنے والے گھر میں داخل ہوں گے۔ وہ اپنے ساتھ وہی کچھ رکھتے ہیں جو ان کو فائدہ دیتا ہے اور اسے چھوڑ دیتے ہیں جو انہیں نقصان دیتا ہے۔ (لیس لھم من دونہ) ” نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے بغیر “ یعنی اللہ کے بغیر (ولی ولا شفیع) ” کوئی دوست اور نہ سفارشی “ یعنی کوئی ایسی ہستی نہیں ہوگی جو ان کے معاملے کی سرپرستی کرسکے جس سے ان کا مطلوب حاصل ہوجائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

82 منکرین کے لیے قیامت کے روز نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی : سو قیامت کے روز منکرین کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ سفارشی۔ جو بغیر اس کے اذن کے ان کے حق میں کوئی سفارش کرسکے۔ اور ان کو ان کے برے انجام سے بچا سکے۔ سو آخرت کے حساب اور وہاں کے اس یوم عظیم کی بازپرس کا احساس و یقین ہی انسان کی اصلاح کیلئے اصل اساس و بنیاد ہے کہ اس کے بغیر انسان لا ابالی اور لاپروا بن کر رہ جاتا ہے۔ اور وہ حق و ہدایت کے پیغام پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔ یا کچھ جھوٹے سہاروں اور اپنے ساختہ پرداختہ بےبنیاد مفروضوں کی بنا پر لاپروا اور بےفکر ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن حکیم جا بجا اور طرح طرح سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 50–51

رسول اللہ ﷺ گنج بخش اور عالم الغیب نہیں تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ کوئی فرشتہ ہوتے جو ان کے لیے تمام دنیا کے خزانے جمع کردیتے اور ان کو آنے والے تمام حالات و واقعات کی اطلاع پہلے سے دے دیتے اور پھر دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ بھلا نبی ہم میں سے ہم جیسا انسان کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ تو ہماری ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے، ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں، سوتے جاگتے ہیں اور گلیوں بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں، بھلا آپ نبی کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان تمام نامعقول باتوں کا جواب ان مذکورہ آیات میں دیا گیا ہے۔ انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنا کر بھیجا جاسکتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 51–55

رکوع نمبر 6 ۔ آیات نمبر 51 تا 55 ۔ اسرار و معارف : بحث سے اعراض : آپ ان کی کج بحثی کا جواب تک نہ دیں کہ یہ لوگ اصلاح کی طلب نہیں رکھتے بلکہ آپ ان لوگوں کو توجہ دیجئے جو کم از کم اس بات کی توقع تو کرتے ہوں کہ کبھی اللہ کے روبرو بھی جانا ہوگا اور یہ امکان تخلیقی طور پر انسانی فطرت میں موجود ہوتا ہے اگر وہ کثرت گناہ سے اسے ضائع نہ کعچکا ہو نیز اہل کتاب کے ہاں اور مشرکین عرب کے ہاں بھی دین ابراہیمی کی بچی کھچی باتوں میں سے یہ تصور موجود تھا تفسیر مظہری میں ہے کہ اس دور کے مسلمان مراد لینا درست نہ ہوگا وہ تو سب درجہ اجتہادیہ فائز تھے ہاں ایسے لوگ جو درجہ احتمال میں ہی سہی آخرت کا تصور تو رکھتے ہوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 اوپر کی آیت میں پیغمبروں کے متعلق بیان فرمایا کہ وہ مبشر اور منذرہو تے ہیں۔ اب اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو انداز کا حکم دیا ( رازی) یعنی قرآن سن کر اور زیادہ ڈرپیدا ہو اور گنا ہوں سے باز آجاویں آیت سے ان کافروں کا رد مقصود ہے جو یہ گمان رکھتے تھے کہ ان کے معبود اور اٹھاکر وغیرہ اللہ تعالیٰ سے سفارش کر کے ان کو بچالیں گے اسی طرح ان لوگوں کے لے بھی اس میں عبرت ہے جو اپنے بزرگوں کی سفارش پر تکیہ کر کے بےکھٹکے گناہ کرتے رہتے ہیں کیو کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کسی کی سفارش نہیں چل سکے گی، ؟ (وحیدی، ترجمان )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–51

(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔ نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–55

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 55 : انذر (توڈرادے) یخافون ( وہ خوف رکھتے ہیں) ‘ ان یحشروا ( یہ کہ وہ جمع کیے جائیں گے) ‘ شفیع (سفارشی) لاتطرد (تو نہ نکال) یدعون ( وہ پکارتے ہیں) ‘ الغدوۃ ( صبح کے وقت) ‘ العشی (شام کے وقت۔ رات کے وقت) ‘ وجہ ( ذات۔ چہرہ) ماعلیک ( تیرے اوپر ذمہ داری نہیں ہے ) ‘ فتنا ( ہم نے آزمایا) ‘ من اللہ ( اللہ نے احسان کیا) ‘ کتب (لکھ لیا گیا) سوء ا (برائی۔ گناہ) بجھالۃ (نادانی سے ۔ ناوقفیت میں) تستبین (ظاہر ہوجانا۔ کھل جانا) سبیل المجرمین ( مجرموں کا راستہ) ۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 55 : ان آیات میں تبلیغ کے پانچ بنیادی اصول بتائے گئے ہیں۔ (1) تبلغی تو ان لوگوں کو بھی کرنی ہے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 50–51

مشرکوں کی فضول باتوں کا ذکر اور ان کا جواب ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کفار کا طریقہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ آپ رسول ہیں تو ہم لوگوں کو ایسا مالدار بنادیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے کہ ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح بتا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کرلیں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح کھانا کیوں کھاتے ہیں اور نکاح بھی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ! ﷺ تم ان سے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 50–52

(آیت) ” ولا اعلم الغیب : (ف 1) حضور ﷺ کا درجہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے کائنات میں کوئی شخص آپ کا درجے اور مرتبے میں سہیم وشریک نہیں ان کے پاس رشد وہدایت کے اور معارف ونکات کے بےپناہ خزانے موجود تھے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ دنیا کے لحاظ سے سرمایہ افلاس کا بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کی قدوسیت اور پاکیزگی میں کس کو شبہ ہے ، مگر بااین ہمہ وہ فرشتہ نہیں تھے ، اسی طرح ان کا علم کائنات میں سب سے زیادہ ہے اور رسول سے بڑھ کر اور کون عالم ہوتا ہے پھر بھی وہ غیب نہیں جانتے تھے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ یہ صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے ، غیب کی تشریح متعدد مواقع پر گزر چکی ہے ، اجمالا یہ سمجھ لیجئے غیب کا جاننا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-51 اور اے پیغمبر آپ ان لوگوں کو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے روبرو اس حال میں جمع کئے جائیں گے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا ان کا نہ کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارش … کرنے والا ہوگا اس قرآن کے ذریعہ سے ایسے لوگوں کو ڈراتے رہا کیجیے تاکہ وہ عذاب الٰہی سے ڈریں اور پرہیز کریں یعنی قیامت پر ایمان رکھتے ہوں تو گناہوں سے بچیں اور اگر محض گمان و خیال رکھتے ہوں تو کفر سے بچیں کیونکہ اس دن سوائے اذ الٰہی کے کوئی نہ کسی کا مددگار ہوگا اور نہ کوئی کسی کا سفارشی بنے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 51–54

ف 3۔ حشر کے متعلق کل تین طرح کے آدمی ہیں ایک وہ جو جزا اس کے ثبوت کے معتقد ہیں دوسرے وہ جو متردد ہیں آیت میں ان ہی دونوں جماعتوں کا ذکر ہے تیسرے وہ جو جزما اس کے منکر ہیں اور انذار گوان کو بھی عام ہے جیسا اور آیات میں مصرح ہے لیکن یہاں مطلق انذار مراد نہیں بلکہ وہ انذار جس میں خاص اہتمام ہو سو یہ وہاں ہی ہوگا جہاں نفع متیقن یا متوقع ہو جیسا قسم اول دوم کا حال ہے بخلاف اس قسم سوم کے کہ بوجہ عدم توقع نفع ان کو انذار محض اتمام حجت کے لیے ہوگا توجہ کی بوجہ عنادان میں قابلیت ہی نہیں اس لیے یہاں قسمین اولین کی تخصیص کی گئی ہے جیسا بعض آیات میں بنابریقین نفع کے صرف قسم اول ہی کی تخصیص بھی ہے۔ 4۔ غیر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جن لوگوں کی ایمانی استعداد ظاہر ہوجائے ان کی طرف مزید توجہ ضروریات دین میں سے ہے : 79: مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر ‘ آپ ﷺ ان منکروں کو جو ماننے والے نہیں ، چھوڑدو اور ان لوگوں کو وحی الٰہی سنا کر انکار حق کے نتائج سے متنبہ کرو جو آخرت کی زندگی پر یقین رکھتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے حضور لے جائے جائیں گے اور اس دن اس کے سوا نہ تو کوئی مدد گار ہوگا اور نہ سفارشی ، عجب نہیں کہ وہ متقی ہوجائیں۔ یعنی جو لوگ شقاوت و بدبختی میں اتنے بڑھ چکے ہیں کہ وہ کبھی حق کی طرف راغب ہی نہیں ہوتے ان کی ہدایت کی سعی میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ زیادہ توجہ کے مستحق وہ لوگ ہیں جن کی ایمانی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The Demand of Miracles from the Holy Prophet Many miracles and signs of Allah had already appeared before the disbelievers (Kuffar) of Makkah. The Holy Prophet ﷺ graced this world as an orphan. Unschooled and untutored, he lived his whole life as a total Ummiyy (unlettered). He was born in a land with no scholar or institution of learning, near or far. For a full forty years of his blessed age, he lived before the eyes of the entire people of Makkah in this state of chaste tutorlessness. Then, after forty long years, it was all of a sudden that there gushed forth from his blessed…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

33. Those who are too deeply immersed in the allurements of earthly life to think either of death or of their being brought to stand before God for His judgement can hardly benefit from such admonitions. Likewise, such admonitions can have no wholesome effect on those who cherish the illusion that because of their attachment to some holy personage who will intercede on their behalf, they will come to no harm in the Hereafter. The same applies to those who believe that someone has already obtained their redemption by expiating their sins. The Prophet (peace be on him) is therefore asked to…

Read the full tafseer →