Explained with ayahs 50–54
مسلمانو ! طبقاتی عصبیت سے بچو
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں میں اعلان کردو کہ میں اللہ کے خزانوں کا مالک نہیں نہ مجھے ان میں کسی طرح کا اختیار ہے، نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا جاننے والا ہوں، رب نے جو چیزیں خاص اپنے علم میں رکھی ہیں مجھے ان میں سے کچھ بھی معلوم نہیں، ہاں جن چیزوں سے خود اللہ نے مجھے مطلع کر دے ان پر مجھے اطلاع ہوجاتی ہے، میرا یہ بھی دعوی نہیں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں، میں تو انسان ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے جو شرف دیا ہے یعنی میری طرف جو وحی نازل فرمائی ہے میں اسی کا عمل پیرا ہوں، اس سے ایک بالشت ادھر ادھر نہیں ہٹتا۔ کیا حق کے تابعدار جو بصارت والے ہیں اور حق سے…
Read the full tafseer →سورة الْاَنْعَام 31
نادان لوگوں کے ذہن میں ہمیشہ سے یہ احمقانہ تصور رہا ہے کہ جو شخص خدا رسیدہ ہو اسے انسانیت سے ماوراء ہونا چاہیے، اس سے عجائب وغرائب صادر ہونے چاہییں، وہ ایک اشارہ کرے اور پہاڑ سونے کا بن جائے، وہ حکم دے اور زمین سے خزانے ابلنے لگیں، اس پر لوگوں کے اگلے پچھلے سب حالات روشن ہوں، وہ بتادے کہ گم شدہ چیز کہاں رکھی ہے، مریض بچ جائے گا، حاملہ کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ۔ پھر اس کو انسانی کمزوریوں اور محدودیتوں سے بھی بالاتر ہونا چاہیے۔ بھلا وہ بھی کوئی خدا رسیدہ ہوا جسے بھوک اور پیاس لگے، جس کو نیند آئے، جو بیوی بچے رکھتا ہو، جو اپنی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خریدو فروخت کرتا پھرے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان معاند لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ نہ تو میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے تمام خزانے ہیں (کہ جو کچھ مجھ سے مانگا جائے وہ اپنی قدرت سے دیدوں) اور نہ میں تمام غیب کی چیزوں کو جانتا ہوں (جو اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے) اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں میں تو صرف اس وحی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے (جس میں مقتضائے وحی پر خود عمل کرنا بھی داخل ہے اور دوسروں کو دعوت دینا بھی، جیسا کہ پچھلے تمام انبیاء (علیہم السلام) کا بھی یہی حال تھا، پھر) آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اندھا اور بینا کہیں برابر ہوسکتا ہے (اور جب یہ بات سب کو مسلم ہے) تو کیا تم (آنکھوں والا بننا…
Read the full tafseer →فیصلہ کن اعلان : اب یہ پیغمبر کی زبان سے اس باب میں ایک آخری اور فیصلہ کن اعلان کرادیا کہ مجھ سے بحث کرنی ہے تو اس چیز پر کرو جو میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں اور جس کا داعی ہوں۔ ان چیزوں پر کیوں جھگڑتے ہو جن کا میں نے سرے سے کوئی دعوی ہی نہیں کیا ؟ اگر میرے پاس خزانے نہیں ہیں تو میں نے کب کہا کہ میرے پاس خزانے ہیں ؟ اگر میں یہ نہیں بتا سکتا کہ تم پر عذاب کب آئے گا یا قیامت کب آئے گی تو میں کب دعوی کیا کہ میں غیب جانتا ہوں ؟ اگر میں فرشتہ نہیں ہو تو میری زبان سے کب نکلا کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو اس وحی کی پیروی کر رہا ہوں جو مجھ پر آئی ہے اور اسی کی دعوت تمہیں دے رہا ہوں۔ آخر میں ارشاد ہوا…
Read the full tafseer →50۔ 1 میرے پاس اللہ کے خزانے بھی نہیں (جس سے مراد ہر طرح کی قدرت و طاقت ہے) کہ میں تمہیں اللہ کے اذن و مشیت کے بغیر کوئی ایسا معجزه کر کے دکھا سکو، جیسا کہ تم چاہتے ہو، جسے دیکھ کر میری نبوت کا یقین ہوجائے، میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں کہ مستقبل میں پیش آنے والے حالات سے تمہیں مطلع کردوں، مجھے فرشتہ ہونے کا بھی دعوٰی نہیں کہ تم مجھے ایسے امور پر مجبور کرو جو انسانی طاقت سے بالا ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کا پیرو ہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے اور اس میں حدیث بھی شامل ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا اوتیت القرآن و مثلہ معہ مجھے قرآن کے ساتھ اس کی مثل بھی دیا گیا یہ مثل حدیث رسول ﷺ ہی ہے۔
50۔ 2 یہ استفہام…
Read the full tafseer →17: یہ ان مطالبات کا جواب ہے جو کفار آنحضرت ﷺ سے کیا کرتے تھے کہ اگر تم پیغمبر ہو تو دولت کے خزانے تمہارے پاس ہونے چاہئیں۔ لہذا فلاں فلاں معجزات دکھاؤ۔ جواب میں فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ خدائی کے اختیارات مجھے حاصل ہوگئے ہیں، یا مجھے مکمل علم غیب حاصل ہے یا میں فرشتہ ہوں۔ پیغمبر ہونے کا مطلب صرف یہ ہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے اور میں اسی کا اتباع کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →(آیت) ” نمبر 50۔
اہل مکہ میں سے معاندین اور مخالفین رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ﷺ ان کے سامنے کوئی خارق عادت معجزہ پیش کردیں تو وہ آپ کی دعوت کو قبول کرلیں گے ۔ لیکن جیسا کہ اس سے قبل بتایا جا چکا ہے کہ اہل مکہ کو آپ کی صداقت میں ذرہ برابر شک نہ تھا ۔ یہ محض بہانہ سازی تھی ۔ کبھی وہ اس مطالبے کا مخصوص طور پر ذکر کرتے تھے اور وہ یہ کہ آپ صفا اور مروہ کی پہاڑیوں کو سونے میں تبدیل کردیں ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ ان پہاڑیوں کو مکہ سے غائب کردیا جائے ‘ ان کی جگہ سرسبز و شاداب زمین بن جائے اور اس میں فصل اور پھل اگ آئے ۔ کبھی وہ یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ انہیں کچھ غیبی امور کی…
Read the full tafseer →5 اس آیت میں منصب رسالت پر روشنی ڈالی گئی ہے یعنی کوئی شخص جو مدعی نبوت ہو، اس کا دعویٰ یہ نہیں ہوتا کہ تمام مقدورات الہٰیہ کے خزانے اس کے قبضہ میں ہیں کہ اس سے کسی امر کی فرمائش کی جائے وہ ضرور ہی کر دکھلائے یا تمام معلومات غیبیہ و شہادیہ پر خواہ ان کا تعلق فرائض رسالت سے ہو یا نہ ہو، اس کو مطلع کردیا گیا ہے کہ جو کچھ تم پوچھو، وہ فوراً ابتلا دیا کرے یا نوع بشر کے علاوہ وہ کوئی اور نوع ہے جو لوازم و خواص بشریہ سے اپنی برأت ونزہت کا ثبوت پیش کرے۔ جب ان باتوں میں سے وہ کسی چیز کا مدعی نہیں تو فرمائشی معجزات اس سے طلب کرنا یا ازراہ تعنت وعناد اس قسم کا سوال کرنا کہ " قیامت کب آئے گی " یا یہ…
Read the full tafseer →آیت 50 قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ ج
تم لوگ مجھ سے معجزات کے مطالبات کرتے ہو اور غیب کے احوال پوچھتے ہو ‘ لیکن کسی شخص سے مطالبہ تو کیا جانا چاہیے اس کے دعوے کے مطابق۔ میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میں غیب جانتا ہوں اور الوہیت میں میرا حصہ ہے۔ میرا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں اللہ کا ایک بندہ ہوں ‘ بشر ہوں ‘ مجھ پر وحی آتی ہے ‘ مجھے مامور کیا گیا ہے کہ تمہیں خبردارکر دوں اور وہ کام میں کر رہا ہوں۔
Read the full tafseer →52 نبوت اور ولایت کے لئے جہلاء کے معیار :۔ انبیاء کا اصل کام یہ ہوتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں جنت اور اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رضامندی کی خوشخبری دیں اور جو لوگ ان نبیوں کا یا اللہ کی آیات کا انکار کردیں انہیں اللہ کے غضب اور دوزخ کی آگ سے ڈرائیں۔ مگر جاہل قسم کے لوگوں نے انبیاء اور خدا رسیدہ لوگوں کی صداقت جانچنے کے لیے کچھ الگ ہی معیار مقرر کر رکھے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں سے خرق عادت امور صادر ہوں۔ وہ کچھ معجزات یا کرامات انہیں دکھائیں، انہیں ان کے دلوں کا حال بتائیں، آئندہ پیش آنے والے حالات سے انہیں مطلع کریں۔ ان کی نظر کرم سے ایک گنہگار فوراً ولی کے مقام پر پہنچ…
Read the full tafseer →75 ۔ (کہ لوازم بشریت سے منزہ ہوں) (آیت) ” قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ “۔ یعنی نہ میری ملک وقدرت کامل کہ جس کو جو چاہوں عطا کردوں۔ (آیت) ” ولا اعلم الغیب “۔ اور نہ میرا علم کامل و محیط کہ وہ خاصہ حق تعالیٰ ہے۔ آیت کے ان تین فقروں میں مشرکوں کے تین عقیدوں کا رد تو ظاہر ہی ہے لیکن اس کے علاوہ مسیحیت کا رد بھی اس میں آگیا ہے۔ جس نے مسیح (علیہ السلام) کو خدائے تعالیٰ کا ہم پلہ وہمسر بنا کر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو اناجیل رائج الوقت کی چند آیتیں :۔ ” باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس نے سب چیزیں اس کے ہاتھ میں دیدی ہیں۔ “ (یوحنا 3:36) ’ میں اور باپ ایک ہیں۔ “ (یوحنا۔ 10:30) ” جو کچھ باپ کا ہے وہ سب…
Read the full tafseer →قُلْ لاَ اقولُ لکم عندی خزائن اللہ، آپ کہہ دیجئے کہ میں خدائی خزانوں کا مالک نہیں ہوں کہ میں تمہیں خدا کے۔۔ و مشیت کے بغیر تمہارا فرمائشی معجزہ دکھا سکوں میرے پاس غیب کا علم بھی نہیں مطلع کرسکوں مجھے فرشتہ ہونیکا دعویٰ بھی نہیں کہ تم مجھے خرق عادت امور پر مجبور کرو جو انسانی طاقت سے باہر ہوں میں تو صرف نزول وحی کا پیرو ہوں جو مجھ پر نازل ہوتی ہے اور اس میں حدیث بھی شامل ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا، ” اُوْتیتُ القرآن و مثلہ۔۔۔ “ مجھے قرآن کے ساتھ اس کا مثل بھی دیا گیا ہے وہ مثل حدیث رسول اللہ ﷺ ہی ہے۔
Read the full tafseer →قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللّٰہ آپ کہہ دیجئے میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یعنی جن چیزوں پر اللہ کو خصوصی قدرت حاصل ہے وہ میرے قبضہ میں ہیں یا اس کے رزق کے خزانے میرے پاس ہیں۔
ولا اعلم الغیب اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں غیب جانتا ہوں یعنی وہ (گزشتہ اور آئندہ) چیزیں جن کی وحی سے مجھے اطلاع نہیں دی گئی ان کو جاننے کا میں دعویٰ نہیں کرتا۔ لاَزائد ہے اس کا عطف عندی خزائن اللّٰہپر ہے۔
ولا اقول لکم انی ملک اور نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں کہ میرا کھانا پینا اور نکاح کرنا میرے دعوے کے خلاف ہو۔ مطلب یہ کہ میں تم سے کوئی ایسی بات نہیں کہتا جس کا عقلاً انکار ضروری ہو…
Read the full tafseer →(50) محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے فرما دیجیے کہ نہ میرے پاس سبزیوں اور پھلوں، بارشوں اور عذاب الہی کے خزانے کی کنجیاں ہیں اور نہ میں عذاب کے نزول کے وقت سے آگاہ ہوں اور نہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف وہی کرتا یا کہتا ہوں جس کا مجھے بذریعہ وحی حکم دیا جاتا ہے۔
اے محمد ﷺ آپ مکہ والوں سے یہ بھی فرمادیجیے، کیا مومن و کافر ثواب اور انعام میں برابر ہیں، پھر بھی یہ قرآن کی مثالوں پر غور نہیں کرتے۔ (آیت) ”قل لااقول لکم“۔ یہ آیت کریمہ یہاں تک ابوجہل اور حارث وعینیہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ : وہ لوگ نبی کریم ﷺ سے کہتے تھے کہ اگر تم اللہ کے رسول ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا کا ساز و سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے، تو اس آیت میں اس کا جواب دیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ عقیدہ رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا، یا مال دار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کے ذیل میں آئے گا۔
وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ : اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ آئندہ کی جو بات مجھ سے پوچھتے جاؤ میں تمہیں بتلاتا جاؤں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے، مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی اسی نے اطلاع دی ہے، وہ چاہتا تو مجھے اتنا علم…
Read the full tafseer →آیت نمبر 50 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : قل لا اقول لکم عندی خذائن اللہ یہ ان کے قول آیت : لو لا انزل علیہ ایت من ربہ کیوں نہ اتاری گئی ان پر آیت اس کے رب کی طرف سے۔ کا جواب ہے مطلب یہ ہے کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کی قدرت کے خزانے نہیں ہیں کہ میں اتاروں جو تم کسی نشانی کا مطالبہ کرو اور نہ میں غیب جانتا ہوں کہ تمہیں اس کے متعلق خبر دوں۔ الخزانتہ وہ چیز جس میں کوئی چیز محفوظ کی جائے۔
حدیث شریف میں ہے " لوگوں کے لیے اس کے مویشیوں کی کھیریاں ان کے کھانے خزانہ کیسے ہوئے ہوتی ہیں، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے بالاخانہ میں کوئی آئے اور اس کی الماری توڑ دی جائے " (1) (مسند امام احمد،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔
(2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل
ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہئے ] لَّآ اَقُوْلُ [ میں نہیں کہتا ] لَكُمْ [ تم لوگوں سے ] عِنْدِيْ [ کہ میرے پاس ] خَزَاۗىِٕنُ اللّٰهِ [ اللہ کے خزانے ہیں ] وَلَآ اَعْلَمُ [ اور نہ ہی میں جانتا ہوں ] الْغَيْبَ [ غیب کو ] وَلَآ اَقُوْلُ [ اور نہ ہی میں کہتا ہوں ] لَكُمْ [ تم لوگوں سے ] اِنِّىْ [ کہ میں ] مَلَكٌ ۚ [ کوئی فرشتہ ہوں ] اِنْ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا [ مگر ] مَا [ اس کی جو ] يُوْحٰٓى [ وحی کیا گیا ] اِلَيَّ ۭ [ میری طرف ] قُلْ [ آپ کہئے ] هَلْ [ کیا ] يَسْتَوِي [ برابر ہوتے ہیں ] الْاَعْمٰى [ اندھے ] وَالْبَصِيْرُ ۭ [ اور دیکھنے والے ] اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ [ تو کیا تم لوگ غور فکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
نبوت کے لوازم میں مالدار یا غیب دان ہونا نہیں ہے :
لوگ یہ سمجھے تھے کہ نبی مال و دولت کے اعتبار سے ہم سے زیادہ ہونا چاہئے۔ چونکہ اہل دنیا کے نزدیک دنیا ہی بڑی چیز ہے اس لیے نبوت اور رسالت کا مدار بھی مال زیادہ ہونے پر سمجھتے تھے ایسے لوگوں کی جاہلانہ بات کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا (قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآءِنُ اللّٰہِ ) (آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں) خزانے پاس ہونا نبوت و رسالت اور مقبولیت عند اللہ کی دلیل نہیں ہے۔ جس بات کی دعوت دی جا رہی ہے اس میں غور کرو اور دلائل کر سمجھو جو اثبات رسالت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔ مالدار ہونے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →57 یہ پانچویں سوال کا جواب ہے۔ سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتا تو بڑا مالدار ہوتا جیسا کہ انہوں نے کہا تھا لَوْلَا نُزِّلَ ھٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلیٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ (زخرف ع 3) اور فَلَوْلَا اُلْتِیَ عَلَیْہِ اَسْوِرَۃٌ مِّنْ ذَھَبٍ (زخرف ع 5) وَ لَا اَعْلَمُ الْغَیْبَ یہ چھٹے سوال کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہوتا تو ہمیں ملک شام کے میوہ جات کے نرخ بتا دیتا تاکہ ہم فائدہ حاصل کرلیتے وَلَا اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌ۔ یہ ساتویں سوال کا جواب ہے سوال یہ تھا کہ اگر یہ رسول ہے تو کھاتا پیتا کیون ہے جیسا کہ سورة فرقان میں ان کا قول نقل کیا گیا مَالِھٰذَا الرَّسُوْلُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ سے نشانیاں طلب کرتے تھے اور کہتے تھے ” لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ “ یعنی مدعی رسالت کو ہماری مرضی کے مطابق نشانی طاہر کرنی چاہئے جس کو دیکھ کر ہم ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب بھی دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نشانی ظاہر کرنے پر قادر ہے مگر یہی لوگ علم سے بےبہرہ ہیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر اپنی فرمائش حاصل کرنے کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ فوری طور پر سزا میں مبتلا کرسکتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کو مہلت بھی نہیں ملا کرتی۔ تاہم یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ ہر مطلوبہ نشانی کو نازل فرما دے۔ البتہ وہ…
Read the full tafseer →قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ 0ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ 0ۭ قُلْ ہَلْ يَسْتَوِي الْاَعْمٰى وَالْبَصِيْرُ 0ۭ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ 50ۧ
عند
عند : لفظ موضوع للقرب، فتارة يستعمل في المکان، وتارة في الاعتقاد، نحو أن يقال : عِنْدِي كذا، وتارة في الزّلفی والمنزلة، وعلی ذلک قوله : بَلْ أَحْياءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 169] ،
( عند ) ظرف
عند یہ کسی چیز کا قرب ظاہر کرنے کے لئے وضع کیا گیا ہے کبھی تو مکان کا قرب ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے اور کبھی اعتقاد کے معنی ظاہر کرتا ہے جیسے عندی کذا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔
تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں
1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌج اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰیٓ اِلَیَّ ط قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ ط اَفَلَا تَتَفَکَّرُوْنَ ۔ (الانعام : 50)
(کہہ دو ! میں تمہارے سامنے یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ یہ دعویٰ کرتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں ‘ جو مجھ پر آتی ہے۔ کہہ دو ! کیا اندھے اور بینا ‘ دونوں یکساں ہوجائیں گے ‘ کیا تم غور نہیں کرتے ؟ )
حضور ﷺ کے متعلق اختلافات کو دور کرنے کا واحد ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
فہم القرآن
ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔
قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز…
Read the full tafseer →میں نے کسی ایسی چیز کا دعویٰ نہیں کیا جو انسانوں کے لائق نہ ہو اور وہ نبوت ہے :
آیت 50 : قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَکُمْ عِنْدِیْ خَزَآپنُ اللّٰہِ یعنی ان کی مخلوق کے مابین تقسیم اور اس کا رزق دینا۔ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَیْبَیہ محل نصب میں عندی خزائن اللہ کے محل پر معطوف ہے۔ کیونکہ یہ بھی مقولہ ہے گویا اس طرح فرمایا لا اقول لکم ہذا القول ولا ہذا القول۔ کہ میں نہ تمہیں یہ بات کہتا ہوں اور نہ یہ بات وَلَآ اَقُوْلُ لَکُمْ اِنِّیْ مَلَکٌیعنی میں اس بات کا دعویدار نہیں جو عقلوں سے بعید تر ہے۔ کہ کسی انسان کو خزائن اللہ پر ملک حاصل ہو۔ اور علم غیب میسر آجائے۔ اور نہ فرشتہ ہونے کا دعویدار ہوں۔ اور میں تو اس…
Read the full tafseer →-50 (قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ) جب مشرکین نے نشانیوں کے مطالبات کئے تو یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ آپ (علیہ السلام) ان کو کہہ دیں کہ (قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ) یعنی اس کے رزق کے خزانے کہ جو تم مانگو تمہیں دیدوں۔ (ولا اعلم الغیب) کہ تمہیں پچھلی اگلی سب باتوں کی خبر دے دوں (ولا اقول لکم انی ملک) یہ اس وجہ سے کہا کہ فرشتہ ان باتوں پر قادر ہوتا ہے جن پر انسان قادر نہیں ہوتا اور وہ کچھ دیکھ لیتا ہے جو انسان نہیں دیکھ سکتا۔ مراد یہ ہے کہ ان باتوں میں سے کوئی بات میں نے نہیں کی کہ جس کی وجہ سے تم میری بات کا انکار کرو (ان اتبع الا ما یوحی الی) یعنی جو تمہارے پاس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
(50 ۔ 51) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے مشرک لوگ آنحضرت ﷺ سے گھڑی گھڑی طرح طرح کے معجزوں کی خواہش کرتے تھے کبھی تو وہ یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو اللہ سے دعا کر کے معجزہ کے طور پر ہم لوگوں کو ایسا مال دار بنا دیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے تھے کہ معجزہ کے طور پر ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح سمجھا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کر لیویں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح آپ کھانا کیوں کھاتے ہیں اور عورتوں سے واسطہ کیوں رکھتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48
اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انداز، یہ چیز مبشر، مبشربہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرحیہ منذر، منذربہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انداز کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیاء ومرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں (فمن امن و اصلح) ” پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کرے یعنی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت…
Read the full tafseer →76 پیغمبر کا اعلان کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان لوگوں سے کہو کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں کہ میں تمہاری خواہشیں اور فرمائشیں پوری کرسکوں۔ بلکہ یہ تو اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہے اور جب اور جتنا چاہے عطا فرمائے۔ میں نے اس طرح کا کوئی دعویٰ کیا ہی کب ہے کہ تم لوگ خدائی اختیار سے تعلق رکھنے والے اس طرح کے امورکا مجھ سے مطالبہ کرو۔ میرا کہنا تو صرف یہ ہے کہ میں اس کا ایک بندہ ہوں جسے اس نے اپنی پیغام رسانی کے لئے چنا ہے اور مجھ پر وحی نازل فرمائی ہے۔ اور میرا کام اسی وحی کی پیروی کرنا ہے اور بس ۔ { اِنْ اَتَّبِعُ الاَّ مَا یُوحٰیٓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
رسول اللہ ﷺ گنج بخش اور عالم الغیب نہیں
تشریح : کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ کوئی فرشتہ ہوتے جو ان کے لیے تمام دنیا کے خزانے جمع کردیتے اور ان کو آنے والے تمام حالات و واقعات کی اطلاع پہلے سے دے دیتے اور پھر دوسری بات وہ یہ کہتے تھے کہ بھلا نبی ہم میں سے ہم جیسا انسان کیسے ہوسکتا ہے ؟ آپ ﷺ تو ہماری ہی طرح ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے، ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں، سوتے جاگتے ہیں اور گلیوں بازاروں میں چلتے پھرتے ہیں، بھلا آپ نبی کیسے ہوسکتے ہیں ؟ ان تمام نامعقول باتوں کا جواب ان مذکورہ آیات میں دیا گیا ہے۔
انسانوں کی ہدایت کے لیے انسان ہی رسول بنا کر بھیجا جاسکتا ہے اور یہ ہمیشہ سے ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50:
اسرار و معارف :
اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ف 1 آنحضرت ﷺ سے وہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا سازو سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے اس آیت میں اس مطا لعہ کا جواب دی گیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا مالدار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کی ذیل میں آئے گا (کذافی السلفیہ)2 کہ آئندہ کی جو بات مجھ پو چھتے جا و میں تمہیں بتلاتاجاوں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی نے اطلاع دی ہے وہ چاہتا تو مجھے اتبا علم بھی دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیا کو علم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔
نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
لغات القرآن : آیت نمبر 48 تا 50 :
مبشرین (خوش خبری دینے والے) منذرین (ڈرانے والے۔ آگاہ کرنے والے) ‘ یمسھم ( وہ ان کو چھوئے گی۔ پہنچے گی) لا اقول ( میں نہیں کہتا) اعلم الغیب ( میں غیبت جانتا ہوں) اتبع ( میں پیروی کرتا ہوں۔ پیچھے چلتا ہوں) یستوی (برابر ہے) ‘ الاعمی ( اندھا) البصیر ( دیکھنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 48 تا 50 :
ان آیات میں منصب رسالت کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام اسی قدر ہے کہ ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور دوسروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔ ایمان کی سرحد محض دعوے پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑ ھ کر وحی جلی اور وحی خفی کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ اب جو لوگ ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–51
مشرکوں کی فضول باتوں کا ذکر اور ان کا جواب
ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ کفار کا طریقہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺ سے طرح طرح کے سوال کیا کرتے تھے۔ کبھی کہتے تھے کہ آپ رسول ہیں تو ہم لوگوں کو ایسا مالدار بنادیجئے کہ پھر ہم کو کسی چیز کی کمی نہ رہے۔ کبھی یہ کہتے کہ ہمیں معاملات دنیا کی سب نفع نقصان کی باتیں اس طرح بتا دیجئے کہ جس سے ہم آئندہ نفع کے حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کا انتظام کرلیں۔ کبھی طعن کے طور پر یہ کہتے ہیں کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو عام آدمیوں کی طرح کھانا کیوں کھاتے ہیں اور نکاح بھی کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی ایسی باتوں پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں کہ اے محبوب ! ﷺ تم ان سے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
(آیت) ” ولا اعلم الغیب :
(ف 1) حضور ﷺ کا درجہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے کائنات میں کوئی شخص آپ کا درجے اور مرتبے میں سہیم وشریک نہیں ان کے پاس رشد وہدایت کے اور معارف ونکات کے بےپناہ خزانے موجود تھے ، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ دنیا کے لحاظ سے سرمایہ افلاس کا بہرہ وافر رکھتے تھے ، ان کی قدوسیت اور پاکیزگی میں کس کو شبہ ہے ، مگر بااین ہمہ وہ فرشتہ نہیں تھے ، اسی طرح ان کا علم کائنات میں سب سے زیادہ ہے اور رسول سے بڑھ کر اور کون عالم ہوتا ہے پھر بھی وہ غیب نہیں جانتے تھے ۔
کیوں ؟ اس لئے کہ یہ صرف اللہ کے ساتھ مختص ہے ، غیب کی تشریح متعدد مواقع پر گزر چکی ہے ، اجمالا یہ سمجھ لیجئے غیب کا جاننا…
Read the full tafseer →-50 جب یہ بات صاف ہوگئی کہ آپ کا کام خوشی اور ڈر سنانا ہے تو آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے قبضہ میں مقدورات الٰہی کے خزانے ہیں اور نہ میں اس امر کا مدعی ہوں کہ تمام مغیبات الٰہیہ کو میں جانتا ہوں اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں اور تمام حوائج بشریہ سے پاک ہوں میں تو ایک رسول ہوں اور صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف بھیجی جاتی ہے آپ فرما دیجیے کہیں نا بینا اور بینا دونوں برابر ہوسکتے ہیں کیا تم اتنا نہیں سمجھتے اور صحیح نظر و فکر سے کام نہیں لیتے یعنی جو حق سے جان بوجھ کر آنکھیں بند کرلے وہ اندھا اور جو عقل و نظر سے کام لے کر حق کو مان لے وہ بینا۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی میری قدرت میں۔
Read the full tafseer →پیغمبر اسلام ! ان سے پوچھیں کہ میں نے کب تم سے غیب کے خزانے رکھنے کا کہا تھا ؟
76: غیب کیا ہے ؟ ” غیب “ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہ راست انسان کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں۔ مثلاً ذات الٰہ۔ مخصوص صفات خداوندی ، ملا ئ کہ ، نبوت ، وحی ، جنت اور دوزخ وغیرہ۔ رسول کیا ہے ؟ یہی باتیں جو انسان براہ راست انسان کے تجربہ ومشاہدہ میں نہیں آسکتیں ان کے متعلق اللہ تعالیٰ جس شخص کو بذریعہ وحی بتا دیتا تھا وہ رسول ہوتا تھا اور ” رسول ‘ ‘ بھی چونکہ بغیر اللہ کے بتلائے نہیں جان سکتا تھا اور جو چیز کسی کے بتلانے سے معلوم ہوجائے اس کو ” غیب “ نہیں کہتے بلکہ ” علم “ کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.
Read the full tafseer →31. Feeble-minded people have always entertained the foolish misconception that the more godly a man is, the more liberated he should be from the limitations of human nature. They expect a godly person to be able to work wonders. By a mere sign of his hand, whole mountains should be transmuted into gold. At his command, the earth should begin to throw up all its hidden treasures. He should have miraculous access to all relevant facts about people. He should be able to point out the locations of things which have been lost, and show how they can be retrieved. He should be able to predict…
Read the full tafseer →