Al-An'aam 6:49

Al-An'aam · from ayah 49

6:49

وَالَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۟وَالَّذِيۡنَ كَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّهُمُ الۡعَذَابُ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who deny Our verses - the punishment will touch them for their defiant disobedience.

— Saheeh International

Juz 7 · Ruku 5 of surah · Ruku 11 of juz

Read the whole surah · Surah Al-An'aam

All translations of 6:49

اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی نافرمانیوں کے سبب انہیں عذاب ہوگا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھوٹا بتلائیں ان کو عذاب پہنچے گا بوجہ اس کے کہ وه نافرمانی کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ان کو عذاب پہنچ کر رہے گا، کیونکہ وہ نافرمانی کے عادی تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں انہیں عذاب پہنچے گا بدلہ ان کی بے حکمی کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا انہیں عذاب چھو کر رہے گا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کیا کرتے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا انھیں عذاب پہنچے گا، اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلا دیا تو ان کی نافرمانیوں کی انہیں ضرور سزا ملے گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان کی نافرمانی کی پاداش میں ان کو عذاب پکڑے گا۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ان کو پہنچ کر رہے گا وہ عذاب ان کی ان نافرمانیوں کی پاداش میں جو کہ وہ کرتے رہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں انہی کو عذاب لگے گا اس لئے کہ وہ (عبودیت سے) تجاوز کر جاتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان پر عذاب مسلط ہو کر رہے گا ان کی نافرمانی کے باعث

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں، وہ اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب پائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

whereas those who give the lie to Our signs, chastisement will visit them for their transgression.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

whereas those who have rejected Our signs, torment shall afflict them, because they used to commit sins.

— Muhammad Taqi Usmani

whereas those who have rejected Our signs, torment shall afflict them, because they used to commit sins.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who reject Our Ayat, the torment will strike them for their rebelling.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But as for those who deny Our revelations, torment will afflict them for that they used to disobey.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who deny Our verses - the punishment will touch them for their defiant disobedience.

— Saheeh International

Those who reject Our revelations will certainly be punished for their evil deeds.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who reject Our communications, chastisement shall afflict them because they transgressed.

— Muhammad Habib Shakir

And those who belie Our signs-torment shall touch them for they have been transgressing.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who reject our signs,- them shall punishment touch, for that they ceased not from transgressing.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 6:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 46–49

محروم اور کامران کون ؟ فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 46–49

سورة الْاَنْعَام 30 یہاں دلوں پر مہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کرلینا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 46–49

خلاصہ تفسیر آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 48–49

48 تا 49: رسولوں کی بعثت کی اصل غایت : اب یہ اسی مطالبہ کے تعلق سے رسولوں کی بعثت کا اصل مقصد واضح فرما دیا کہ وہ عذاب کی نشانیاں دکھانے یا عذاب لانے یا خوارق و عجائب کی نمائش کرنے کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ وہ خدا کی رحمت کی خوش خبری دینے والے اور بصورت تکذیب و نافرمانی اس کے عذاب سے خبردار کردینے والے بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ خوش خبری کی وضاحت یوں فرما دی کہ فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے رویہ کی اصلاح کرلی نہ ان کے لیے مستقبل میں کوئی اندیشہ ہے اور نہ ماضی کا کوئی غم) اور انذار کی تفصیل یوں فرمائی کہ وَالَّذِيْنَ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

49۔ 1 یعنی عذاب اس لئے پہنچے گا کہ انہوں نے تکفیر اور تکذیب کا راستہ اختیار کیا، اللہ کی اطاعت اور اس کے اوامر کی پرواہ نہیں کی اور اس کی حرمتوں کو پامال کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 47–49

16: کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ کے جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عذاب آیا تو مومن کافر سبھی ہلاک ہوجائیں گے، اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ ہلاک تو وہ ہوں گے جنہوں نے شرک اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 48–49

(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔ دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔ یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 48–49

4 یعنی تم جو عذاب الہٰی سے نہ ڈر اور بےفکر ہو کر بیہودہ فرمائشیں اور دو راز کار سوالات کر کے پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو دق کرتے اور ان کی تصدیق کے لئے خود ساختہ معیار تراشتے ہو، خوب سمجھ لو کہ پیغمبر دنیا میں اس لئے نہیں بھیجے گئے کہ تمہاری ایسی واہی تباہی فرمائشیں پوری کرتے رہا کریں۔ ان کی بعثت کی غرض صرف " تبشیر و انذار " اور " تبلیغ وارشاد " ہے۔ وہ خدا کی طرف سے اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ فرما نبرداروں کو بشارات سنائیں اور نافرمانوں کو ان کے انجام بد پر متنبہ کردیں، آگے ہر شخص کی کمائی اس کے ساتھ ہے۔ جس نے انبیاء (علیہم السلام) کی باتوں پر یقین کیا اور اعتقادا و عملا اپنی حالت درست…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 48–49

آیت 48 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یعنی تمام انبیاء و رسل اہل حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کے لیے خبردار کرنے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 47–49

50 یکدم سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے مطلقاً ظاہر نہ ہوں اور جہرۃ یا علانیہ سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں۔ 51 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب آنے کی اطلاع اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی دیتا ہے اور انہیں ہدایت کردی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر اس مقام سے نکل جائیں جہاں عذاب آنے والا ہو۔ اس طرح عذاب کی زد میں صرف ظالم ہی آتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عذاب ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ہی آتا ہے۔ لہذا ظالموں کو چاہیے کہ بلاتاخیر توبہ کرلیں۔ اور عذاب الٰہی سے خود بھی بچ جائیں اور دوسروں کی ہلاکت کا بھی سبب نہ بنیں۔ اور تیسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

74 ۔ (اور کفر میں جا پڑتے ہیں) یفسقون ای یکفرون (قرطبی) (آیت) ” والذین کذبوا بایتنا “۔ یعنی ان کا عمل تکذیب پیغمبروں کی اسی تبشیر وانذار کے بعد بھی جاری ہے۔ ایات کے تحت میں قرآن مجید اور معجزات نبوی دونوں داخل ہیں۔ ای بالقران والمعجزات (قرطبی) (آیت) ” یمسھم العذاب “۔ یہ عذاب عام ہے۔ خواہ دنیا میں ہو، خواہ آخرت میں، یہ وعید انہیں فاسقین کے لئے ہے جو ساتھ ہی آیات اللہ کے مکذبین میں سے بھی ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 44–49

فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والذین کذبوا بایتنا اور جن لوگوں نے ہماری (بشارت آفریں خوف آگیں) آیات کو جھوٹا قرار دیا۔ یمسہم العذاب بما کانوا یفسقون۔ تو (ایمان و اطاعت کے دائرہ سے) خارج ہونے کی وجہ سے ان کو عذاب لگے گا۔ چھونا اور لگنا تو زندگی کی علامت ہے گویا عذاب بھی ایک زندہ چیز ہوگا جو کافروں سے جس طرح چاہے گا آ لگے گا۔ مَا کانوا میں ما مصدری ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) اور جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں تو ان کے اس انکار کی وجہ سے اللہ کا عذاب انہیں آگھرے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 47–49

قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ۔۔ : ”بَغْتَةً“ اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، یعنی رات کو اور ”جَهْرَةً“ کھلم کھلا، سب کے دیکھتے ہوئے، یعنی دن کو، جیسا کہ سورة یونس کی آیت (50) میں ہے : (ٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا) ”رات کو یا دن کو۔“ پہلی آیت میں صرف ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو لے جانے یا مہر لگا کر بند کردینے کی بات کی تھی، اب اس آیت میں عام عذاب کے ساتھ ڈرایا جا رہا ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم کسی صورت بچ نہیں سکو گے۔ باقی رہے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور بچائے گا، کیونکہ پہلے جتنی بھی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مستقل طریقہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 49 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : والذین کذبوا بایتنا آیات سے مراد قرآن اور معجزات ہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس ہے۔ آیت : یمسھم العذاب انہیں عذاب پہنچے گا۔ آیت : بما کانوا یفسقون جو وہ کفر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 46–50

(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔ (2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَالَّذِيْنَ [ اور وہ لوگ جنھوں نے ] كَذَّبُوْا [ جھٹلایا ] بِاٰيٰتِنَا [ ہماری نشانیوں کو ] يَمَسُّهُمُ [ پہنچے گا ان کو ] الْعَذَابُ [ عذاب ] بِمَا [ بسبب اسے کے جو ] كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ [ وہ لوگ نافرمانی کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 46–49

اگر اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے کی قوت سلب فرما لے تو کون دینے والا ہے ان آیات میں انذار اور تبشیر ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوت کو ختم کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے جس سے نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو بتاؤ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں دیدے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا ایسا کوئی نہیں۔ پھر اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر کو معبود بناناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک بیخبر ی میں بھی آسکتا ہے اور خبر داری میں بھی۔ اگر عذاب آجائے تو ظالم ہی ہلاک ہوں گے لہٰذا ظلم کرنے والے ظلم سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 40–51

اثبات توحید۔ قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔ ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 48–49

55 یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال پہلے گزر چکا ہے کہ اگر یہ اللہ کا سچا رسول ہوتا تو ہمیں معجزات مطلوبہ دکھاتا وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلیہ ایۃ الخ۔ 56 ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا یہ نہ ماننے والوں کیلئے تخویف اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 46–49

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہات کا ذکر فرمایا کہ اگر کسی فرد یا قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجائے تو اس کا فرض ہے کہ ابتدائی پکڑ پر ہی تو بہ کرلے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے ‘ عاجزی کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے نہ کہ کسی بڑی افتاد کا منتظر رہے۔ فرمایا معمولی تنبیہ پر ہی توبہ کر لینی چاہئے تا کہ اللہ کے بڑے عذاب سے بچ جائے۔ پھر جب اس کی سخت گرفت آجاتی ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سوا مصیبت کو دور کرسکے ‘ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کا حال بھی بیان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاشی اور جسمانی تنگی میں مبتلا کیا تا کہ وہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں ‘…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا يَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝ 49 كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 46–50

ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔ تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں 1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّھُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ ان کی نافرمانی کی پاداش میں ‘ ان کو عذاب پکڑے گا) دنیا میں ہر خطرے سے آگاہ کرنے والے اور ہر مصیبت سے بچانے والے کو ‘ اپنا سب سے بڑا محسن خیال کیا جاتا ہے۔ دنیا و آخرت کا سب سے بڑا خطرہ اللہ کی ناراضگی اور اس کے نتیجے میں اس کی طرف سے ملنے والا عذاب ہے۔ یہ رسول اسی سے خبردار کرنے اور بچانے کے لیے آتے ہیں۔ اس لحاظ سے وہ انسانیت کے سب سے بڑے محسن ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ دنیا ان سے وہی ایمان و ہدایت کا راستہ سیکھے ‘ جس سے وہ دنیا کی سعادتوں کی مستحق بنے اور اللہ کے عذاب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 47–50

فہم القرآن ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔ قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فسق و کفر سبب عذاب ہے : آیت 49 : وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْابِاٰیٰتِنَا یَمَسُّہُمُ الْعَذَابُ یہاں چھونے والا فرمایا۔ گویا کہ وہ ایک زندہ چیز ہے جو دکھ ان کو چاہتا ہے پہنچاتا ہے۔ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَاپنے فسق کے باعث اور کفر کی وجہ سے اطاعت سے خارج ہوجانے کے سبب۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

-49 (والذین کذبوا بایتنا بمسنھم العذاب) کس سے مراد پہنچنا ۔ بما کانوا یفسقون یعنی کفر کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 40–49

(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 48–50

آیت 48 اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انداز، یہ چیز مبشر، مبشربہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرحیہ منذر، منذربہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انداز کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیاء ومرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں (فمن امن و اصلح) ” پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کرے یعنی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

75 مکذبین کے لیے ہولناک عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ تکذیب آیات کے مجرموں کو وہ ہولناک عذاب پہنچ کر رہے گا جس کو یہ جھٹلا رہے ہیں اور جو ان کے کرتوتوں کی بنا پر ان کے لئے مقدر ہوچکا ہے۔ لیکن کب اور کس شکل میں ؟ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں۔ بہرکیف ایسے لوگوں کو ان کے اس جرم کی سزا اس دنیا میں بھی ملے گی لیکن اس کی اصل اور پوری سزا ان کو آخرت میں ملے گی جہاں کی سزا اصل اور حقیقی سزا ہوگی اور جہاں انسان کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ ملے گا۔ اور جہاں کا عذاب بڑا ہی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ پاک کی آیتوں کی تکذیب کا جرم بڑا ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 46–49

قادر مطلق کون ؟ تشریح : ان آیات میں اللہ کی زبردست قوت، طاقت اور شفقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نے پیدا کیا اور ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اسی لیے وہ بندوں کا حساب کتاب ضرور لے گا اور سز ا و جزا ضرور دے گا۔ اس بات کو ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے، اسی میں سکون، اطمینان، خوشی اور نجات ہے، جو اس سے لاپرواہ ہیں وہ بےسکون رہیں گے اور آخرت میں عذاب پائیں گے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 42–50

رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50: اسرار و معارف : اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 48–50

ف 1 آنحضرت ﷺ سے وہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا سازو سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے اس آیت میں اس مطا لعہ کا جواب دی گیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا مالدار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کی ذیل میں آئے گا (کذافی السلفیہ)2 کہ آئندہ کی جو بات مجھ پو چھتے جا و میں تمہیں بتلاتاجاوں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی نے اطلاع دی ہے وہ چاہتا تو مجھے اتبا علم بھی دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیا کو علم غیب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 46–51

(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔ نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 48–50

لغات القرآن : آیت نمبر 48 تا 50 : مبشرین (خوش خبری دینے والے) منذرین (ڈرانے والے۔ آگاہ کرنے والے) ‘ یمسھم ( وہ ان کو چھوئے گی۔ پہنچے گی) لا اقول ( میں نہیں کہتا) اعلم الغیب ( میں غیبت جانتا ہوں) اتبع ( میں پیروی کرتا ہوں۔ پیچھے چلتا ہوں) یستوی (برابر ہے) ‘ الاعمی ( اندھا) البصیر ( دیکھنے والا) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 48 تا 50 : ان آیات میں منصب رسالت کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام اسی قدر ہے کہ ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور دوسروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔ ایمان کی سرحد محض دعوے پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑ ھ کر وحی جلی اور وحی خفی کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ اب جو لوگ ایمان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 40–49

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 47–53

[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 47–49

(ف 2) غرض یہ ہے کہ تم ہر وقت غیر محفوظ ہو تم نہیں جانتجے کب اللہ کا غصہ بھڑکے اور کب تم کو جوارح سے محروم کردیا جائے ۔ اس لئے ہر آن غوروفکر سے کام لو ، اور عقل وہوش کو سنبھالو ، خدا کے دین کو سمجھنے کی کوشش کرو ، ورنہ یاد رہے تباہی اور ہلاکت دور نہیں ۔ حل لغات : دابر : اصل ، جڑھ پیٹھ ، یصدفون : مادہ صدف یعنی روگردانی کرنا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

-49 اور جو لوگ ہماری آیتوں کو جھٹلائیں گے اور تکذیب کی خواختیار کریں گے تو ان کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب لپٹ کر رہے گا اور وہ عذاب کی لپیٹ میں ضرور آ کر رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی اصل کام پیغمبروں کا اور اس کام کا نتیجہ یہ ہے نہ کہ تمام فرمائشوں کو پورا کرنا اس اسی قاعدے کے موافق یہ رسول بھی ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آیات الٰہی کو جھٹلانے والے عذاب الٰہی کی لپیٹ سے نہیں بچ سکیں گے : 75: اس آیت میں انبیائے کرام کی ذمہ داری کی دوسری ” شق “ یعنی تکذیب ونافرمانی کرنے والوں کو نذارت کی وضاحت اس طرح کردی گئی کہ ” جن لوگوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو اپنی بدعملیوں کی وجہ سے ضروری ہے کہ ہمارے عذاب کی لپیٹ میں آجائیں۔ “ جن انبیائے کرام کا ذکر قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اور ان کے قصے سنائے گئے ہیں انکو بغور پڑھو آپ یقیناً اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ وہی کچھ ہوا جو کچھ اس آیت میں بتایا گیا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ خوارق عادات عجائبات دکھانا انبیائے کرام اور رسل عظام کے فرائض میں سے تھا ؟ نہیں اور یقیناً نہیں۔ بس ! یہی وجہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–50

In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 41–49

29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…

Read the full tafseer →