Explained with ayahs 46–49
محروم اور کامران کون ؟
فرمان ہے کہ ان مخالفین اسلام سے پوچھو تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں چھین لے جیسے کہ اس نے تمہیں دیئے ہیں جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْٓ اَنْشَاَ لَـكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ) 23۔ المؤمنون :78) یعنی اللہ خالق کل وہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں سننے کو کان اور دیکھنے کو آنکھیں دیں، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراد چھین لینے سے شرعی نفع نہ پہنچانا ہو اس کی دلیل اس کے بعد کا جملہ دل پر مہر لگا دینا ہے، جیسے فرمان ہے آیت (اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
سورة الْاَنْعَام 30
یہاں دلوں پر مہر کرنے سے مراد سوچنے اور سمجھنے کی قوتیں سلب کرلینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
خلاصہ تفسیر
آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر اللہ تعالیٰ تمہاری شنوائی اور بینائی بالکل لے لے (کہ نہ تم کو کچھ سنائی دے نہ دکھائی دے) اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے (کہ تم دل سے کسی چیز کو سمجھ نہ سکو) تو اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود ہے کہ یہ (چیزیں) تم کو پھر دے دے (جب تمہارے اقرار سے بھی کوئی ایسا نہیں پھر کیسے کسی کو مستحق عبادت سمجھتے ہو) آپ دیکھئے تو کہ ہم کس (کس) طرح دلائل کو مختلف پہلوؤں سے ظاہر کر رہے ہیں (پھر بھی ان دلائل میں غور اور ان کے نتیجہ کو تسلیم کرنے سے) یہ اعراض (بےرخی) کرتے ہیں، آپ ﷺ (ان سے یہ بھی) کہئے کہ یہ بتلاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب آپڑے خواہ بیخبر ی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
48 تا 49: رسولوں کی بعثت کی اصل غایت : اب یہ اسی مطالبہ کے تعلق سے رسولوں کی بعثت کا اصل مقصد واضح فرما دیا کہ وہ عذاب کی نشانیاں دکھانے یا عذاب لانے یا خوارق و عجائب کی نمائش کرنے کے لیے نہیں بھیجے جاتے بلکہ وہ خدا کی رحمت کی خوش خبری دینے والے اور بصورت تکذیب و نافرمانی اس کے عذاب سے خبردار کردینے والے بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ خوش خبری کی وضاحت یوں فرما دی کہ فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے رویہ کی اصلاح کرلی نہ ان کے لیے مستقبل میں کوئی اندیشہ ہے اور نہ ماضی کا کوئی غم) اور انذار کی تفصیل یوں فرمائی کہ وَالَّذِيْنَ…
Read the full tafseer →48۔ 1 وہ اطاعت گزاروں کو ان نعمتوں اور اجر جلیل کی خوشخبری دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جنت کی صورت میں ان کے لئے تیار کر رکھی ہے اور نافرمانوں کو ان عذابوں سے ڈراتے ہیں جو اللہ نے ان کے لئے جہنم کی صورت میں تیار کئے ہوئے ہیں۔
48۔ 2 مستقبل (یعنی آخرت) میں پیش آنے والے حالات کا انھیں اندیشہ نہیں اور اپنے پیچھے دنیا میں جو کچھ چھوڑ آئے یا دنیا کی جو آسودگیاں وہ حاصل نہ کرسکے، اس پر مغموم نہیں ہوں گے کیونکہ دونوں جہانوں میں ان کا ولی اور کارساز وہ رب ہے جو دونوں جہانوں کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
16: کفار مکہ آنحضرت ﷺ سے یہ بھی کہتے تھے کہ اللہ کے جس عذاب سے آپ ہمیں ڈراتے ہیں تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ شاید وہ یہ سمجھتے تھے کہ اگر عذاب آیا تو مومن کافر سبھی ہلاک ہوجائیں گے، اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ ہلاک تو وہ ہوں گے جنہوں نے شرک اور ظلم کا ارتکاب کیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
(آیت) ” نمبر 48۔ 49۔
دین اسلام کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو ذہنی اور عقلی بلوغ تک پہنچائے اور انہیں اس قابل بنائے کہ وہ اس عظیم قوت کو کام میں لا کر فائدہ اٹھائیں جو اللہ نے صرف انسان کو دی ہے اور اسے پوری طرح اس سچائی کے سمجھنے میں استعمال کریں جو اس کائنات کے صفحات میں موجود ہے ۔ خود زندگی کے طور طریقوں کے اندر موجود ہے اور انسان کی تخلیق کے رازوں میں پوشیدہ ہے ۔ یہ راز قرآن مجید نے سب سے پہلے انسانوں پر کھولے اور انسان کی قوت مدرکہ کو ان کی طرف متوجہ کیا ۔
یہ وجہ ہے کہ لوگوں کو حسی خارق عادت معجزات سے نکال کر عقلی میدان میں داخل کیا گیا ۔ حسی معجزات کے نتیجے میں انسان یقین کرنے پر مجبور تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
4 یعنی تم جو عذاب الہٰی سے نہ ڈر اور بےفکر ہو کر بیہودہ فرمائشیں اور دو راز کار سوالات کر کے پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کو دق کرتے اور ان کی تصدیق کے لئے خود ساختہ معیار تراشتے ہو، خوب سمجھ لو کہ پیغمبر دنیا میں اس لئے نہیں بھیجے گئے کہ تمہاری ایسی واہی تباہی فرمائشیں پوری کرتے رہا کریں۔ ان کی بعثت کی غرض صرف " تبشیر و انذار " اور " تبلیغ وارشاد " ہے۔ وہ خدا کی طرف سے اس لئے بھیجے جاتے ہیں کہ فرما نبرداروں کو بشارات سنائیں اور نافرمانوں کو ان کے انجام بد پر متنبہ کردیں، آگے ہر شخص کی کمائی اس کے ساتھ ہے۔ جس نے انبیاء (علیہم السلام) کی باتوں پر یقین کیا اور اعتقادا و عملا اپنی حالت درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
آیت 48 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ الاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ ج فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ
یعنی تمام انبیاء و رسل اہل حق کے لیے بشارت دینے والے اور اہل باطل کے لیے خبردار کرنے والے تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
50 یکدم سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے مطلقاً ظاہر نہ ہوں اور جہرۃ یا علانیہ سے مراد ایسا عذاب ہے جس کی علامات پہلے سے ظاہر ہونا شروع ہوجائیں۔
51 اس جملہ کے کئی مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ عذاب آنے کی اطلاع اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذریعہ وحی دیتا ہے اور انہیں ہدایت کردی جاتی ہے کہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ساتھ لے کر اس مقام سے نکل جائیں جہاں عذاب آنے والا ہو۔ اس طرح عذاب کی زد میں صرف ظالم ہی آتے ہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ چونکہ عذاب ظالموں کے ظلم کی وجہ سے ہی آتا ہے۔ لہذا ظالموں کو چاہیے کہ بلاتاخیر توبہ کرلیں۔ اور عذاب الٰہی سے خود بھی بچ جائیں اور دوسروں کی ہلاکت کا بھی سبب نہ بنیں۔ اور تیسرا…
Read the full tafseer →73 ۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اور حزن ماضی پر ہوتا ہے۔ (آیت) ” لاخوف علیھم “۔ یہاں یہ نہیں ارشاد ہوا ہے کہ بہ اقتضائے ایمان، وہ اللہ کا طبعی خوف بھی نہ رکھتے ہوں گے، بلکہ ارشاد صرف یہ ہے کہ واقعۃ ان کے لئے کوئی اندیشہ ناک بات نہ ہوگی (آیت) ” وما نرسل۔۔۔ منذرین “۔ یعنی پیغمبروں کی بعثت کی غرض تمامتر یہ ترغیب وترہیب ہوتی ہے یہ کچھ اپنی پوجا کرانے کے لئے نہیں آتے، نہ اس لئے کہ خارق عادت عجائبات دکھایا کریں۔ والمقصود ھنا ان الانبیاء والرسل بعثوا مبشرین ومنذرین ولا قدرۃ لھم علی اظھار الایات وانزال المعجزات بل ذاک مفوض الی مشیۃ اللہ تعالیٰ وکلمتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
فلَمّا نَسُوا مَا ذکّروا بہٖ فَتَحنا عَلَیْھم ابوابَ کلِّ شیّٔ (الآیۃ) اس آیت میں خدا فراموش قوموں کی بابت اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم بعض دفعہ وقتی طور پر ایسی قوموں پر دنیا کی آسائشوں اور فراوانیوں کے دروازے کھول دیتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ اس میں خوب مگن مست ہوجاتی ہیں اور مادی خوشحالی و ترقی پر اترانے لگتی ہیں تو پھر ہم اچانک انہیں اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں، اور ان کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دیتے ہیں، حدیث میں بھی وارد ہوا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا، کہ جب تم دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نافرمانیوں کے باوجود کسی کو اس کی خواہشات کے مطابق دنیا دے رہا ہے تو یہ استدراج (ڈھیل) ہے، پھر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔…
Read the full tafseer →وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین اور ہم پیغمبروں کو صرف اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ (اہل ایمان کو جنت کی) بشارت دیں اور (کافروں کو دوزخ سے) ڈرائیں۔ یعنی کافروں کے مطلوبہ معجزات کو پیش کرنا اور جس کو اللہ ہدایت یاب نہ بنانا چاہے اس کو ہدایت یاب بنانا ان کی قدرت میں نہیں ہوتا نہ پیغمبر ان صفات کے حامل ہوتے ہیں جن سے متصف ہونا کافروں کے نزدیک ضروری ہے (مثلاً فرشتہ ہونا کھانے پینے کا ضرورتمند نہ ہونا کوئی عجیب مافوق الفطرت ہستی ہونا وغیرہ وغیرہ)
فمن امن واصلح فلا خوف علیہم ولا ہم یحزنون۔ پس جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے درستی کرلی (یعنی پیغمبروں کی پیش کردہ تعلیم کو سچا مان لیا اور جنت کی…
Read the full tafseer →(48) اور انبیاء کرام مومنین کو جنت کی بشارت دینے والے اور کافروں کو جہنم سے ڈرانے والے ہیں، لہٰذا جو شخص رسولوں اور کتابوں پر ایمان لایا اور حقوق اللہ کو ادا کیا تو جس وقت دوزخ والوں کو ڈرایا جائے گا اور اہل دوزخ غمگین ہوں گے تو ان کے مقابلے میں اہل ایمان پر کسی قسم کا خوف وحزن نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
قُلْ اَرَءَيْتَكُمْ اِنْ اَتٰىكُمْ۔۔ : ”بَغْتَةً“ اچانک، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، یعنی رات کو اور ”جَهْرَةً“ کھلم کھلا، سب کے دیکھتے ہوئے، یعنی دن کو، جیسا کہ سورة یونس کی آیت (50) میں ہے : (ٗ بَيَاتًا اَوْ نَهَارًا) ”رات کو یا دن کو۔“ پہلی آیت میں صرف ان کے کانوں، آنکھوں اور دلوں کو لے جانے یا مہر لگا کر بند کردینے کی بات کی تھی، اب اس آیت میں عام عذاب کے ساتھ ڈرایا جا رہا ہے، یعنی اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا تو تم کسی صورت بچ نہیں سکو گے۔ باقی رہے رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھی تو اللہ تعالیٰ انھیں ضرور بچائے گا، کیونکہ پہلے جتنی بھی قومیں تباہ کی گئیں ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا مستقل طریقہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 48 :۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آیت : وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین یعنی مرسلین ترغیب و ترہیب کرتے ہیں۔ حسن نے کہا : دنیا میں رزق کی وسعت کی بشارت دیتے ہیں اور آخرت میں ثواب کی بشارت دیتے ہیں اس پر دلیل یہ ارشاد ہے : آیت : و لو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکت منالسماء ولارض (الاعراف : 96) منذرین کا معنی اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں، یعنی ہم نے رسولوں کو ترغیب وہ ترہیب کی غرض سے بھیجا نہ کہ اس لیے کہ جو مطالبہ ان سے کسی نشانی کا کیا جائے وہ دکھائیں وہ تو ایسی آیات لیکر آتے ہیں جن کے ساتھ ان کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔ فرمایا : آیت : فمن امن و اصلح فلا خوف علیھم ولا ھم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت یصدفون سے مراد ہے وہ لوگ اعراض کرتے ہیں۔
(2) امام طستی سے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ نافع بن ازرق (رح) نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لفظ آیت یصدفون کے بارے میں پوچھا کہ مجھے اس کے بارے میں بتایئے تو انہوں نے فرمایا اس کا معنی ہے کہ وہ حق سے اعراض کرتے ہیں۔ عرض کیا گیا کیا عرب کے لوگ اس سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے سفیان بن حارث کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔
عجبت لحکم اللہ فینا وقد بدا لہ صدفنا عن کل حق منزل
ترجمہ : میں نے تعجب کیا اللہ کے حکم کے لئے جو ہمارے بارے میں ہوا حالانکہ اس پر یہ امر…
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ [ اور ہم نہیں بھیجتے ] الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں کو ] اِلَّا [ مگر ] مُبَشِّرِيْنَ [ بشارت دینے والا ] وَمُنْذِرِيْنَ ۚ [ اور خبردار کرنے والا ہوتے ہوئے ] فَمَنْ [ پھر جو ] اٰمَنَ [ ایمان لایا ] وَاَصْلَحَ [ اور اس نے اصلاح کی (اپنی ) ] فَلَا خَوْفٌ [ تو کوئی خوف نہیں ہے ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] وَلَا [ اور نہ ہی ] هُمْ [ وہ لوگ ] يَحْزَنُوْنَ [ غمگین ہوتے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
اگر اللہ تعالیٰ سننے اور دیکھنے کی قوت سلب فرما لے تو کون دینے والا ہے
ان آیات میں انذار اور تبشیر ہے۔ اوّل تو یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری سننے اور دیکھنے کی قوت کو ختم کر دے اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دے جس سے نہ دیکھ سکو نہ سن سکو نہ سمجھ سکو تو بتاؤ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو یہ چیزیں تمہیں دیدے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا ایسا کوئی نہیں۔ پھر اللہ کو چھوڑ کر کسی غیر کو معبود بناناکہاں کی عقلمندی ہے ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کا عذاب اچانک بیخبر ی میں بھی آسکتا ہے اور خبر داری میں بھی۔ اگر عذاب آجائے تو ظالم ہی ہلاک ہوں گے لہٰذا ظلم کرنے والے ظلم سے باز آجائیں۔ سب سے بڑا ظلم شرک اور کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
اثبات توحید۔
قال اللہ تعالی، قل ارئیتکم۔۔۔ الی۔۔۔ ماتشرکون۔
ربط) ۔ ابتداء سورت سے اثبات توحید اور ابطال شرک کا مضمون چلا آرہا ہے اب ان آیات میں ایک خاص طریقہ پر اثبات توحید فرماتے ہیں مشرکین عرب بتوں کو خدائی کا کارکن سمجھتے تھے مگر جب کوئی مصیبت آن پڑتی تو اللہ ہی کو پکار تے تھے اور اسی سے دعا مانگتے تھے مقصود یہ ہے کہ جب یہ جانتے ہو کہ نفع ونقصان سب ہمارے ہی اختیار میں ہے اور تمہارے ان بتوں کا کوئی اختیار ہیں تو پھر کیوں ان کی عبادت کرتے ہو صرف ہماری پرستش کیوں نہیں کرتے چناچہ فرماتے ہیں اے نبی آپ ان مشرکین سے کہہ دیجئے کہ بھلا مجھ کو یہ بتلاؤ کہ اگر تم پر اللہ کا عذاب آوے یا تم پر قیامت ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–49
55 یہ سوال مقدر کا جواب ہے سوال پہلے گزر چکا ہے کہ اگر یہ اللہ کا سچا رسول ہوتا تو ہمیں معجزات مطلوبہ دکھاتا وَ قَالُوْا لَوْلَا نُزِّلَ عَلیہ ایۃ الخ۔
56 ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا یہ نہ ماننے والوں کیلئے تخویف اخروی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہات کا ذکر فرمایا کہ اگر کسی فرد یا قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجائے تو اس کا فرض ہے کہ ابتدائی پکڑ پر ہی تو بہ کرلے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے ‘ عاجزی کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے نہ کہ کسی بڑی افتاد کا منتظر رہے۔ فرمایا معمولی تنبیہ پر ہی توبہ کر لینی چاہئے تا کہ اللہ کے بڑے عذاب سے بچ جائے۔ پھر جب اس کی سخت گرفت آجاتی ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سوا مصیبت کو دور کرسکے ‘ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کا حال بھی بیان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاشی اور جسمانی تنگی میں مبتلا کیا تا کہ وہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں ‘…
Read the full tafseer →وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ 0ۚ فَمَنْ اٰمَنَ وَاَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ہُمْ يَحْزَنُوْنَ 48
رسل
أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144]
( ر س ل ) الرسل
الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–50
ترکیب : ان اخذ اللّٰہ شرط من الہ جملہ جواب ارایتکم میں کاف کوئی اسم مستقل نہیں جس کو ارایت کا معمول بنایا جاوے بلکہ وہ حرف خطاب ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کا مفعول محذوف ہے ارایتکم عبادتکم الاصنام۔
تفسیر : وہ ملحد جو کامیابی اور ناکامی کو اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہیں ان کا جواب دیتا ہے کیونکہ ارضی و سماوی بلیات میں تو کسی کو کلام ہی نہیں کہ وہ عالم غیب سے ہیں۔ وہ یہ کہ انسان کی تمام صنعت اور دانش اور تدابیر کے آلات کان اور آنکھ اور دل ہے۔ اگر ان میں فتور ہے تو پھر کچھ نہیں
1 ؎ بابل اور نینوا گو اس وقت کی ترقی اور ترفہ میں لندن اور پیرس سے کچھ کم نہ تھے مگر ان پر کیا موقوف ہے۔ ہزاروں جگہ زمین…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَج فَمَنْ اٰمَنَ وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌعَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا یَمَسُّھُمُ الْعَذَابُ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (الانعام : 48۔ 49)
(اور ہم رسولوں کو تو صرف خوشخبری دینے والے اور خبردار کرنے والے ہی بنا کر بھیجتے ہیں۔ تو جو ایمان لائے اور جنھوں نے اصلاح کرلی ‘ ان کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ کوئی غم ہوگا ‘ اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ‘ ان کی نافرمانی کی پاداش میں ‘ ان کو عذاب پکڑے گا)
انبیاء و رسل کی اصل حیثیت
جب بھی اللہ کا کوئی رسول کسی قوم کی طرف ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
فہم القرآن
ربط کلام : سلب شدہ نعمتوں کو بحال کرنا عذاب کو ٹالنا اور کفار کے مطالبے کو پورا کرنا عام شخص تو درکنار کسی رسول کے بس میں بھی نہیں۔
قرآن مجید نے ہر نبی کے بارے میں یہ حقیقت منکشف فرمائی ہے کہ وہ فرشتہ اور کوئی دوسری جنس ہونے کے بجائے بنی نوع انسان میں سے ہی ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اہل کفر ان سے ایسے مطالبات کرتے جنھیں پورا کرنا یا ان چیزوں پر اختیار رکھنے کا دعویٰ کسی نبی نے نہیں کیا تھا۔ انبیائے عظام (علیہ السلام) تو صرف وہی بات کرتے تھے جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ انھیں حکم دیتا تھا۔ لیکن اس کے باوجود لوگ انھیں پریشان اور لاجواب کرنے کے لیے ایسے مطالبات کرتے تھے جن کا پاکباز…
Read the full tafseer →انبیاء ( علیہ السلام) مبشر و منذر ہیں منہ مانگی آیات کے لئے نہیں :
آیت 48 : وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلاَّ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ بشارت دینے والے جنتوں کی اور ڈرانے والے آگ سے ایمان والوں اور کفار کو روشن دلائل اور واضح براہین کے بعد ہم انبیاء کو اس لیے نہیں بھیجتے کہ ان سے آیات کا مطالبہ کیا جائے۔ فَمَنْ ٰامَنَ وَاَصْلَحَپس جو شخص ایمان لایا اور اس نے درستگی کرلی۔ یعنی ایمان لانے پر ہمیشگی اختیار کی۔ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَا ہُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ قراءت : یعقوب نے فلا خوف پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →-48 (وما نرسل المرسلین الامبشرین و منذرین فمن امن واصلح) عمل فلاخوف جس وقت جہنم والے ڈر رہے ہوں گے (علیم ولا ھم یخزنون) جب وہ جہنم والے غمگین ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
(40 ۔ 49) ۔ اوپر ذکر تھا کہ مکہ کے بت پرست لوگ مصیبت کے وقت بتوں کو چھوڑ کر خالص دل سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ الٰہی میں رفع مصیبت کی التجا پیش کیا کرتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی اوپر کی مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لا شریک نے تم لوگوں کو کان سننے کے لئے آنکھیں دیکھنے کے لئے دل بھلی بری بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں اگر وہ وحدہ لا شریک تم لوگوں کو پھر اندھا کردیوے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنا دیوے تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کر دیویں مکہ کے قحط کی اوپری میں تو تم اپنے بتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
آیت 48
اللہ تبارک و تعالیٰ اس چیز کا خلاصہ بیان فرماتا ہے جس کے ساتھ اس نے رسولوں کو بھیجا اور وہ ہے تبشیر اور انداز، یہ چیز مبشر، مبشربہ اور ان اعمال کے بیان کو مستلزم ہے کہ جب بندہ ان کو بجا لاتا ہے تو اسے بشارت حاصل ہوتی ہے۔ اسی طرحیہ منذر، منذربہ اور ایسے اعمال کے بیان کو لازم قرار دیتی ہے کہ بندہ جب ان اعمال کا ارتکاب کرتا ہے تو انداز کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ لوگ انبیاء ومرسلین کی دعوت پر لبیک کہنے یا ان کی دعوت کا جواب نہ دینے کے اعتبار سے دو اقسام میں منقسم ہیں (فمن امن و اصلح) ” پھر جو شخص ایمان لائے اور اصلاح کرے یعنی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور یوم آخرت…
Read the full tafseer →73 پیغمبروں کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ صرف اسی لیے بھیجتے ہیں کہ وہ لوگوں کو خوشخبری دیں اور ان کو خبردار کریں۔ یعنی ان کا کام تو صرف اتنا ہے کہ حق قبول کرنے والوں کو حقیقی سعادت اور دائمی کامیابی کی خوشخبری سنا دیں۔ اور اس سے منہ موڑنے والوں کو اس کے برے انجام سے ڈرائیں اور خبردار کریں۔ باقی اس سے آگے نافرمانوں پر عذاب لے آنا یا ان کی نت نئی فرمائشوں کو پورا کرنا نہ تو ان کی ذمہ داری ہے اور نہ ہی ان کے بس اور اختیار میں۔ پس جو لوگ حضرات انبیائے کرام سے ایسے سوالات کرتے یا اس طرح کی توقعات رکھتے ہیں وہ ان کی اپنی قلب و نظر کی خرابی اور مت ماری کا نتیجہ ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
قادر مطلق کون ؟
تشریح : ان آیات میں اللہ کی زبردست قوت، طاقت اور شفقت کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس نے پیدا کیا اور ہدایت کے لیے رسول بھیجے ہیں اور اسی لیے وہ بندوں کا حساب کتاب ضرور لے گا اور سز ا و جزا ضرور دے گا۔ اس بات کو ہر وقت دھیان میں رکھنا چاہیے، اسی میں سکون، اطمینان، خوشی اور نجات ہے، جو اس سے لاپرواہ ہیں وہ بےسکون رہیں گے اور آخرت میں عذاب پائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–50
رکوع نمبر 5 آیات 42 تا 50:
اسرار و معارف :
اس کے باوجود دل کی تاریکی اور سختی ایسا شدید مرض ہے کہ وہ اپنی اس بات پہ بھی قائم نہیں رہ سکتے اور پھر کفر و شرک کی دلدل میں گر جاتے ہیں ان لوگوں اور پہلی امتوں کے حالات بھی اس پہ گواہ ہیں جو آپ سے پہلے دنیا میں تھیں ہم نے ان کی طرف رسول بھیجے ان کے انکار پر انہیں مختلف مصائب میں گرفتار کیا کبھی بھوک اور افلاس یا فصلوں وغیرہ کی بربادی کا شکار ہوئے کبھی مختلف امراض میں مبتلا کئے گئے یہ بھی ان کے حق میں رحمت ہی کا ایک کرشمہ تھا مراد یہ تھی کہ اس طرح سے ان کی وہ فطری صلاحیت بیدار ہو اور وہ اللہ کے سامنے گڑ گڑائیں مگر وہ اس مقصد کو حاصل نہ کرسکے اور کیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
ف 1 آنحضرت ﷺ سے وہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ کے پیغمبر ہو تو اللہ تعالیٰ سے مطالبہ کرو کہ ہمیں دنیا سازو سامان اور فراوانی حاصل ہوجائے اس آیت میں اس مطا لعہ کا جواب دی گیا اس سے معلوم ہوا کہ اگر یہ اعتقاد رکھا جائے کہ فلاں مرید کو فلاں پیر نے ایک خزانہ بخش دیا مالدار کردیا تو یہ عقیدہ شرک کی ذیل میں آئے گا (کذافی السلفیہ)2 کہ آئندہ کی جو بات مجھ پو چھتے جا و میں تمہیں بتلاتاجاوں۔ غیب کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ مجھے جو اور جتنا علم ہے اس کی نے اطلاع دی ہے وہ چاہتا تو مجھے اتبا علم بھی دیتا اور چاہتا تو اس سے بھی زیادہ دے دیتا اس سے ثابت ہوا کہ جس کا یہ عقیدہ ہو کہ انبیا کو علم غیب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–51
(6:46) ارء یتم۔ ملاحظہ ہو 6:40 ۔
نصرف۔ مضارع جمع متکلم تصریف مصدر۔ (باب تفعیل) ہم پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہم کھول کھول کر ہر پہلو سے بیان کرتے ہیں۔ یصدفون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ صدف مصدر (باب ضرب) اعراض کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
لغات القرآن : آیت نمبر 48 تا 50 :
مبشرین (خوش خبری دینے والے) منذرین (ڈرانے والے۔ آگاہ کرنے والے) ‘ یمسھم ( وہ ان کو چھوئے گی۔ پہنچے گی) لا اقول ( میں نہیں کہتا) اعلم الغیب ( میں غیبت جانتا ہوں) اتبع ( میں پیروی کرتا ہوں۔ پیچھے چلتا ہوں) یستوی (برابر ہے) ‘ الاعمی ( اندھا) البصیر ( دیکھنے والا) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 48 تا 50 :
ان آیات میں منصب رسالت کو اچھی طرح سمجھا دیا گیا ہے۔ پیغمبر کا کام اسی قدر ہے کہ ایمان لانے والوں کو جنت کی بشارت دیں اور دوسروں کو عذاب الٰہی سے ڈرائیں۔ ایمان کی سرحد محض دعوے پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ آگے بڑ ھ کر وحی جلی اور وحی خفی کی تعمیل بھی ضروری ہے۔ اب جو لوگ ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–49
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان مشرک بت پرستوں کو یوں سمجھایا ہے کہ وہ کبھی کبھی کی اوپری مصیبتیں تو درکنار جس وحدہ لاشریک نے ت لوگوں کان سننے کے لئے، آنکھیں دیکھنے، دل بری بھلی بات سمجھنے کے لئے یہ سب اپنی نعمتیں عنایت فرمائی ہیں، اگر وہ وحدہ لاشریک تم لوگوں کو اندھا کردے یا تمہارا دل الٹ کر تمہیں دیوانہ بنادے، تو کیا تمہارے بتوں میں اتنی قدرت ہے کہ وہ تم کو پھر اصلی حالت پر کردیں، باوجود اس پوری فہمائش کے جو تم حق سے پھرجاتے ہو تو یہ تمہارا ایک قابل سزا جرم ہے، جو وقت مقررہ آنے پر رات کو غفلت کی حالت میں یا دن کو کھلم کھلا اس جرم کی سزا میں اگر تم پو عذاب الہی آگیا تو اس وقت تمہارا بچنا مشکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–53
[21] یعنی خوشحال کافروں کو بدحال مومنوں کے ذریعے سے۔ شروع میں اسلام لانے والوں میں زیادہ تر لوگ غریب اور مفلس تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
(ف 2) غرض یہ ہے کہ تم ہر وقت غیر محفوظ ہو تم نہیں جانتجے کب اللہ کا غصہ بھڑکے اور کب تم کو جوارح سے محروم کردیا جائے ۔
اس لئے ہر آن غوروفکر سے کام لو ، اور عقل وہوش کو سنبھالو ، خدا کے دین کو سمجھنے کی کوشش کرو ، ورنہ یاد رہے تباہی اور ہلاکت دور نہیں ۔
حل لغات :
دابر : اصل ، جڑھ پیٹھ ،
یصدفون : مادہ صدف یعنی روگردانی کرنا ۔
Read the full tafseer →-48 اور ہم پیغمبروں کو محض اس لئے بھیجا کرتے ہیں کہ وہ فرماں برداروں اور اطاعت گذاروں کو رضائے الٰہی کی بشارتدیں اور نافرمانوں اور منکرین دعوت حق کو غضب خداوندی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرائیں پھر اس کے بعد جو شخص ایمان لے آئے اور پیغمبر کی بات مان لے اور اپنے اعتقاد و عمل درست کرے اور سنوار لے تو ایسے لوگوں ک و قیامت کے دن نہ کسی قسم کا خوف و ہراس ہوگا اور نہ وہ مغموم ہوں گے اور نہ آزردہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
ف 5۔ یعنی وہ عذاب ہوگا بوجہ ظلم کے جیسا امم سابقہ پر بھی اسی وجہ سے ہوا سولامحالہ ظالموں ہی کے ساتھ خاص ہوگا اور ظالم تم ہو پس خاص تم پر ہی پڑے گا اور مومنین بچے رہیں گے سو تم کو متنبہ کیا جاتا ہے اور مراگ نبوہ جشنے دارد کا سہارا بھی چھوڑ دینا چاہیے۔
Read the full tafseer →انبیائے کرام (رح) کا کام پیغام پہنچانا تھا کسی کو سنوارنا ان کے ذمہ کی بات نہ تھی :
74: نبی و رسول کیا تھا ؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک برگزیدہ انسان جو اللہ کا پیغام اللہ کے بندوں تک پہنچانے والا ہوتا تھا اور صحیح راستہ بتانا اس کے ذمہ کی بات تھی۔ کسی انسان کو سیدھی راہ چلانا اور اس راہ پر اس کو قائم رکھنا اس کے ذمہ ہرگز نہ تھا ذمہ داری کیا ہے ؟ ذمہ داری وہ چیز ہے جس کو فرائض سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جس کے متعلق اس سے سوال کیا جاسکے کہ تم نے اسکو کیا یا نہیں ؟ جس طرح وہ کام جو اپنی ذمہ داری کا نہ ہو اپنے ذمہ لے لینا ناانصافی ہے بالکل اسی طرح جو کام کسی کی ذمہ داری کا نہ ہو اس کے ذمہ ڈال دینا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–50
In the last verse (45), it was said that, when the mass punishment of Allah Ta` ala came, the people who did wrong were uprooted to the last man. Said immediately after was: وَالْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (And praise be to Allah, the Lord of the worlds) where the hint given is: Whenever the wrongdoers and the unjust are visited by some punishment or calamity, that is a blessing for the whole world for which people should be grateful.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
29. Attention is now drawn towards another sign - one observable even in the lives of those who deny the Truth. When either some great calamity befalls a man or when death starkly stares him in the face, it is only to God that he turns for refuge. On such occasions even the staunchest polytheists forget their false gods and cry out to the One True God, and even the most rabid atheists stretch out their hands in prayer to Him. This phenomenon is mentioned here in order to draw an instructive lesson. It shows that devotion to God and monotheism are ingrained in the human soul. No matter how…
Read the full tafseer →